Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
‏سائینس اور دنیا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏سائینس اور دنیا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 25 ستمبر، 2025

23 ہزار سال پرانی انسانی تعمیر




  گیزا کے اہراموں کو الوداع - دنیا کا قدیم ترین انسانی تعمیر 23,000 سال پرانی ہے اور جس نے مصر کے اہراموں کو پیچھے چھوڑ دیا۔

یونان وہ جگہ ہے جہاں یہ دریافت ہوئی تھی، خاص طور پر تھیوپیٹرا نامی غار میں، جہاں سائنسدانوں نے دنیا میں انسانوں کا بنائی ہوئی  ایک  قدیم ترین تعمیر دریافت کی ۔ یہ ایک پتھر کی دیوار تھی جو 23,000 سال پہلے، اہرام مصر کے وجود سے 16000 سال پہلے بنائی گئی تھی۔
  تھیوپیٹرا غار ہے جو تھیسالی کے علاقے میں واقع ہے۔ اس جگہ نے سائنس دانوں اور ماہرین آثار قدیمہ کی توجہ انسانوں کے بنائی ہوئی تعمیر کی وجہ سے حاصل کی ہے، لیکن کسی ڈھانچے کی نہیں… تاریخ میں سب سے قدیم  تعمیر ملی ہے  وہ صرف پتھروں کا باقاعدہ ڈھیر نہیں  بلکہ ایک دیوار ہے ، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ دیوار ایک خاص وجہ سے بنائی گئی تھی: غار کے داخلی دروازے کو جزوی طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ کیوں؟ کیونکہ یہ ممکن ہے کہ اُس وقت کے انسان برفانی دور کے دوران جمنے والی سردی سے خود کو بچانا چاہتے تھے۔
سائنسدانوں نے ایک طریقہ استعمال کیا جس کا نام آپٹکی اسٹیملیٹڈ لومینیسینس   ہے۔  اس بات کا اندازہ لگانے کے لیے کہ آخری بار کب معدنی اناج، جیسے دھول یا ریت، سورج کی روشنی کے سامنے آئے تھے۔ اس سے یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ دفن شدہ اشیاء یا سورج کی روشنی سے محفوظ رہنے والی چیزیں کتنی پرانی ہیں، اس طرح سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ دیوار  تقریباً 23,000 سال پہلے بنائی گئی تھی ۔یہ غار نہ صرف اس کے اندر پائی جانے والی قدیم  دیوار  کی وجہ سے اہم ہے،
 ماہرین آثار قدیمہ نے  دریافت کیا کہ  تھیوپیٹرا 13000 سال سے زیادہ عرصے  پہلے آباد تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان وہاں اتنے لمبے عرصے تک مقیم رہے۔ 

آثار قدیمہ کے ماہرین کو غار کی زمین پر مختلف اوقات کی باقیات بھی ملی ہیں، جیسے: کیمپ فائر، پتھر کے اوزار اور بچوں کے قدموں کے نشان۔
پتھر کی دیوار کے ہزاروں سال بعد تک انسانی ساختہ کوئی دوسری تعمیر  نہیں تھی۔ اس کے بعد جو پایا گیا وہ ترکی میں واقع تھا، جو کہ 7,400 قبل مسیح میں آباد ایک بستی تھی۔ اسے منظم ہونے والے اولین شہروں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔
اس مقام سے، یورپ میں دیگر قدین ترین  تعمیرات  پائی گئیں  جو 5,000 اور 3,000   قبل مسیح کے درمیان تعمیر کیے گئے تھے، جیسے انگلینڈ میں دنیا بھر میں مشہور پتھر کے زمانے کی تعمیرات ۔
جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس تعمیر نے اس سوچ  کو تبدیل کر دیا ہے جو آثار قدیمہ کے ماہرین نے  دیواریں تراشنے  کی پہلی کوششوں کے بارے میں سوچا تھا۔ اب، وہ جانتے ہیں کہ، ان کے یقین سے بھی پہلے، انسان ذہین، تخلیقی اور سماجی طور پر منظم تھے تاکہ اپنے ماحول کو تبدیل کر سکیں اور زندہ رہنے کے لیے پناہ گاہیں بنائیں۔ (منقول)

٭٭٭٭٭

بدھ، 10 ستمبر، 2025

دنیا سے پولیو کا خاتمہ

سنہ 1950 میں، پولیو ویکسین کے معجزے سے پہلے، بچے لوہے کے پھیپھڑوں کی بکس میں قطار در قطار میں پڑے رہتے تھے - جو اپنی بھنبھناہٹ کے ساتھ ہسپتال نما جیل میں مشینی زندگی کی ڈور کے سہارے جینے لگے۔ پولیو خوفناک رفتار کے ساتھ آبادی میں پھیل گیا تھا، جس نے سب سے زیادہ بچوں کو مارا تھا۔ ایک دن، ایک بچہ صحن میں بھاگ رہا ہو سکتا ہےاگلے دن اُن کے پھیپھڑے مزید سانس لینے کے قابل نہیں رہنے دیا ۔

لوہے کے پھیپھڑوں کے چیمبرمیں بند، صرف ان کے سر ہی نظر آتے ہیں، مشین کی سانسوں کی ہچکی اور آوازیں انہیں زندہ رکھتے ہوئے ہوا کو اِن کے پھیپڑوں کے اندر اور باہر کرتی تھیں ۔ کچھ بچوں کے لیے، یہ عارضی تھا، بحالی کے لیے ایک ہفتہ یا مہینہ ۔ دوسروں کے لیے، یہ مہینوں، یہاں تک کہ سالوں کے لیے گھر بن گیا۔

ان مشینوں میں بچوں کی تصویراُس وقت کی یاد دہانی جب ایک وائرس نہ صرف صحت بلکہ سانس لینے کا آسان ترین عمل بھی چھین سکتا تھا۔ والدین چوکس رہتے، ڈاکٹروں اور نرسوں نے بڑے پیمانے پر پمپوں کو ایڈجسٹ کیا، اور پورے وارڈز کو زندہ رہنے کے میکانکی دل کی دھڑکن کے ساتھ استوار کیا گیا۔

پولیو کی ابتدا پولیو وائرس سے ہوتی ہے، جو قدرتی طور پر صرف انسانوں میں پایا جاتا ہے اور ہزاروں سالوں سے موجود ہے، جس کی ابتدائی تصویریں قدیم آرٹ میں پائی جاتی ہیں۔ یہ وائرس فیکل اورل ٹرانسمیشن یا سانس کی بوندوں کے ذریعے پھیلتا ہے، خوراک، پانی یا سطحوں کو آلودہ کرتا ہے اور انسانوں میں بیماری کا باعث بنتا ہے۔ اگرچہ یہ وائرس قدیم ہے، یورپ اور ریاستہائے متحدہ میں بڑے پھیلاؤ 19ویں صدی کے آخر تک نہیں ہوئے، جس کی وجہ سے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا ۔
تاہم، 1949 میں جان اینڈرز، فریڈرک رابنز، اور تھامس ویلر نے لیبارٹری کی ترتیب میں انسانی پٹھوں اور بافتوں میں پولیو کا سبب بننے والے وائرس کو کلچر کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ پولیو کے خلاف ویکسین کی راہ میں ایک اہم قدم بن گیا۔
سنہ 1950 کی دہائی میں اس بیماری پر قابو پانے کے لیے ویکسین کی تیاری شروع کی گئی ۔ 

پھر، 1955 میں، جوناس سالک کی ویکسین آ گئی۔ اس کے ساتھ لوہے کے پھیپھڑوں کے دور کا سست اختتام ہوا۔ ابھی تک پیدا ہونے والے لاکھوں بچوں کے لیے، ویکسین کا مطلب آزادی ہے بغیر خوف کے ہنسنے، دوڑنے اور سانس لینے کی صلاحیت ویکسین کی بدولت قائم ہے ۔
ویکسین کے وسیع پیمانے پر دستیاب ہونے سے پہلے دو سالوں میں، امریکہ میں پولیو کے کیسز کی اوسط تعداد 45,000 سے زیادہ تھی۔ 1962 تک، یہ تعداد کم ہو کر 910 تک پہنچ گئی تھی۔ ایک معجزاتی کارکن کے طور پر سراہا جانے والے، سالک نے کبھی بھی ویکسین کو پیٹنٹ نہیں کیا اور نہ ہی اپنی دریافت سے کوئی پیسہ کمایا، اس بات کو ترجیح دی کہ اسے زیادہ سے زیادہ وسیع پیمانے پر تقسیم کیا جائے۔

ہر سال ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن پولیو کے جراثیم کو ندی نالوں سیوریج لائن سے ڈھونڈھ کر تلف کرواتی ہے اور نومود بچوں کو، ملکی ہیلتھ آرگنائزشنوں کی مدد سے مفت ویکسین پلواتی ہے۔ 21 اگست 2026 تک پاکستان میں پولیو کے 21 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ کیسز بنیادی طور پر صوبہ خیبر پختونخواہ میں رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ 2024 میں 72 کیسز رجسٹر ہوئے تھے ۔


جوناس سالک نے 1955 میں پہلی کامیاب غیر فعال پولیو ویکسین (آئی پی وی) ایجاد کی، جس کے بعد البرٹ سبین کی طرف سے تیار کردہ ایک کامیاب زبانی لائیو ٹینیویٹ ویکسین جو 1961 میں تجارتی استعمال میں آئی۔

اس کے اہم کام کے باوجود، سالک کو امریکن اکیڈمی آف سائنسز کی رکنیت کے لیے واضح طور پر روکا گیا اور اسے کبھی نوبل انعام نہیں دیا گیا۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے سے پہلے کے دوسرے سائنس دانوں کی شراکت کو معمولی سمجھا اور یہاں تک کہ اس نے اپنی ہی ریسرچ ٹیم کی کوششوں کو بھی کم کیا۔

 ٭٭٭٭٭

ہفتہ، 24 مئی، 2025

پاکستان میں خاموش ماہرین کا سائنسی انقلاب

 1998 میں پاکستان نے امریکی کروز میزائل کو صحیح سلامت زمین پر اُتارا تھا، یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک خاموش انقلاب تھا۔ ایک ایسا واقعہ کہ جس نے امریکی انٹیلیجنس کو بھی حیران کر کے رکھ دیا۔ اُس وقت امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرتے ہوئے درجنوں "ٹوماہاک کروز میزائل" فائر کیے، جن میں سے چند پاکستان کی فضائی حدود سے گزرے۔ 

پاکستانی ایئر ڈیفنس سسٹم نے فوری ردعمل دیا اور ایک میزائل کو بغیر کسی تباہی کے زمین پر اُتار لیا۔ یہ میزائل اپنی مکمل ساخت میں تھا، جس نے پاکستان کو پہلی بار دنیا کی جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی کے قریب لا کھڑا کیا۔ ماہرین نے اس میزائل کو تفصیل سے سمجھا، اس کی ساخت، نیویگیشن سسٹم، وار ہیڈ اور ایندھن کی اقسام کا مطالعہ کیا، اور یہی بنیاد بنی پاکستان کے اپنے "بابر کروز میزائل" کی۔

 آج اگر پاکستان دنیا کے چند بہترین کروز میزائل بنانے والے ممالک میں شامل ہے، تو اس کی بنیاد اسی لمحے میں رکھی گئی تھی ۔
دوسری بار جب امریکہ نے پاکستان کے سارے ریڈار سسٹم کو جام کرکے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کیا جسکا دوران آپریشن پاکستان کو پتہ بھی نہیں چل سکا اور آپریشن کے بعد امریکہ نے پاکستان کو اس کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا۔

لیکن دوران آپریشن قدرت ایک بار پھر پاکستان پر مہربان ہوئی امریکہ کا ایک جدید ترین ہیلی کاپٹر دیوار سے ٹکرا کر کریش ہوگیا اور امریکی فوجی اسے بم سے اڑا کر چلے گئے لیکن پاکستان کے سائینس دان اس تباہ شدہ ہیلی کاپٹرکے ملبے سے اس جدید ٹیکنالوجی کی کھوج لگانےمیں کامیاب گئے اور ملنے والے کچھ شواہد نے پاکستان اور چائینہ کو ملکر جدید ترین ریڈار جامع کرنے کی صلاحیت بنانے کے قابل بنا دیا جسکی بدولت پاکستان نے آج دنیا کی سب سے جدید ٹیکنالوجی کی لڑائی میں ایسی عظیم فتح حاصل کی کہ دنیا کے ہوش اڑ گئے۔

پاکستان پر حملہ کرنے والے انڈیا نے دنیا کے 900 سو کے قریب جدید ترین اسرائیلی ساختہ ڈروان سے پاکستان پر یلغار کردی جو پاکستان کی حدود میں داخل ہوتے ہی ہیک کر لئے گئے اور انڈین فوج کے کنٹرول سے نکل گئے اور آسمان میں کٹی پتنگ کی طرح آزاد اڑنے لگے جس کی ڈور ٹوٹ جاتی ہے اور 6 گھنٹے کی بیٹری ختم ہوتے ہی زندہ سلامت پاکستان کی زمین پر جگہ جگہ گرنے لگے بعض ڈروان اڑتے اڑتے افغانستان اور ایران بھی پہنچ گئے تھے۔

 انڈیا کا مقصد تھا پاکستان ان ڈروان کو گرانے کے لئے میزائل استعمال کرے گا جس سے پاکستان کے میزائل سسٹم کہاں کہاں موجود ہے اسکا پتہ چل جائیگا لیکن پاکستان نے اس جدید ٹینکنالوجی کی بدولت ان کے اس حربے کو بھی ناکام کیا تمام ڈروان کو بھی بحفاظت اتار لیا گیا اور جواب میں اپنے ڈروان انڈیا پر چھوڑ دئیے انڈیا نے میزائلوں کی بارش کرکے وہ گرائے جس سے پاکستان کو اسکے تمام میزائل سسٹم کے اڈوں کا پتہ چل گیا جسکو بعد میں پاکستان نے میزائل حملہ اور طیاروں کے زریعے بمباری کرکے تباہ کردیا اب جب کہ اسرائیلی ساختہ ہارپون  جدید ڈرونز    پاکستانی حدود میں اتارے گئے ہیں۔

 تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ ان شاء اللہ، ان سے حاصل ہونے والا تکنیکی علم ایک اور دفاعی سنگ میل ثابت ہو گا۔

٭٭٭٭٭٭٭




جمعہ، 22 دسمبر، 2023

تاریخ کا سب سے بڑا انسانی معجزہ ۔" CERN "

 سوئٹزرلینڈ اور فرانس دونوں نے مل کر لیبارٹری بنانا شروع کی‘ یہ لیبارٹری سرن کہلاتی ہے‘ یہ کام دو ملکوں اور چند سو سائنس دانوں کے بس کی بات نہیں تھی چنانچہ آہستہ آہستہ دنیا کے 38 ممالک کی 177 یونیورسٹیاں اور فزکس کے تین ہزار پروفیسر اس منصوبے میں شامل ہو گئے‘
سائنس دانوں نے پہلے حصے میں زمین سے 100 میٹر نیچے 27کلو میٹر لمبی دھاتی سرنگ بنائی۔
اس سرنگ میں ایسے مقناطیس اتارے جو کشش ثقل سے لاکھ گنا طاقتور ہیں‘
مقناطیس کے اس فیلڈ کے درمیان دھات کا 21 میٹر اونچا اور 14 ہزار ٹن وزنی چیمبر بنایا گیا‘ یہ چیمبر کتنا بھاری ہے ؟
دنیا کے سب سے بڑے دھاتی اسٹرکچر کا وزن 7 ہزار تین سوٹن ہے‘ سرن کا چیمبر اس سے دگنا بھاری ہے‘ اس چیمبر کا ایک حصہ پاکستان کے ہیوی مکینیکل کمپلیکس میں بنا اور اس پر باقاعدہ پاکستان کا جھنڈا چھاپا گیا‘
سائنس دانوں کے اس عمل میں چالیس سال لگ گئے‘
یہ چالیس سال بھی ایک عجیب تاریخ رکھتے ہیں۔
ملکوں کے درمیان اس دوران عداوتیں بھی رہیں اور جنگیں بھی ہوئیں لیکن سائنس دان دشمنی‘ عداوت‘ مذہب اور نسل سے بالاتر ہو کر سرن میں کام کرتے رہے‘ یہ دن رات اس کام میں مگن رہے‘ سائنس دانوں کے اس انہماک سے بے شمار نئی ایجادات سامنے آئیں مثلاً انٹرنیٹ سرن میں ایجاد ہوا تھا‘ سائنس دانوں کوآپس میں رابطے اور معلومات کے تبادلے میں مشکل پیش آ رہی تھی چنانچہ سرن کے ایک برطانوی سائنس دان ٹم برنرزلی نے 1989ء میں انٹرنیٹ ایجاد کر لیا یوں www(ورلڈ وائیڈ ویب) 
سرن میں ’’پیدا‘‘ ہوا اور اس نے پوری دنیا کو جوڑ دیا۔
سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی بھی اسی تجربے کے دوران ایجاد ہوئیں ‘ سرن میں اس وقت بھی ایسے سسٹم بن رہے ہیں جو اندھوں کو بینائی لوٹا دیں گے‘ ایک چھوٹی سی چپ میں پورے شہر کی آوازیں تمام تفصیلات کے ساتھ ریکارڈ ہو جائیں گی‘ ایک ایسا سپرالٹرا ساؤنڈ بھی مارکیٹ میں آرہا ہے جو موجودہ الٹرا ساؤنڈ سے ہزار گنا بہتر ہوگا ‘ ایک ایسا لیزر بھی ایجاد ہو چکا ہے جو غیر ضروری ٹشوز کو چھیڑے بغیر صرف اس ٹشو تک پہنچے گا جس کا علاج ہو نا ہے‘ ایک ایسا سسٹم بھی سامنے آ جائے گا جو پورے ملک کی بجلی اسٹور کر لے گا اور سرن کا گرڈ کمپیوٹر بھی عنقریب مارکیٹ ہو جائے گا‘ یہ کمپیوٹر پوری دنیا کا ڈیٹا جمع کرلے گا۔
یہ تمام ایجادات سرن میں ہوئیں اور یہ اس بنیادی کام کی ضمنی پیداوار ہیں‘ سرن کے سائنس دان اس ٹنل میں مختلف عناصر کو روشنی کی رفتار (ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ) سے لگ بھگ اسپیڈ سے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں اور پھر تبدیلی کا مشاہدہ کرتے ہیں‘ یہ عناصر ایٹم سے اربوں گنا چھوٹے ہوتے ہیں‘ یہ دنیا کی کسی مائیکرو اسکوپ میں دکھائی نہیں دیتے‘ سائنس دانوں نے 2013ء میں تجربے کے دوران ایک ایسا عنصر دریافت کر لیا جو تمام عناصر کو توانائی فراہم کرتا ہے‘ یہ عنصر ’’گاڈ پارٹیکل‘‘ کہلایا‘ اس دریافت پر دو سائنس دانوں پیٹر ہگس اور فرینکوئس اینگلرٹ کونوبل انعام دیا گیا‘ یہ دنیا کی آج تک کی دریافتوں میں سب سے بڑی دریافت ہے۔
سائنس دانوں کا خیال ہے مادے کی اس دنیا کا آدھا حصہ غیر مادی ہے‘ یہ غیر مادی دنیا ہماری دنیا میں توانائی کا ماخذ ہے‘ یہ لوگ اس غیر مادی دنیا کو ’’اینٹی میٹر‘‘ کہتے ہیں‘یہ اینٹی میٹر پیدا ہوتا ہے‘کائنات کو توانائی دیتا ہے اور سیکنڈ کے اربوں حصے میں فنا ہو جاتا ہے‘ سرن کے سائنس دانوں نے چند ماہ قبل اینٹی میٹر کو 17 منٹ تک قابو رکھا ‘ یہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا‘ یہ لوگ اگر ’’اینٹی میٹر‘‘ کو لمبے عرصے کے لیے قابو کر لیتے ہیں تو پھر پوری دنیا کی توانائی کی ضرورت چند سیکنڈز میں پوری ہو جائے گی‘ دنیا کو بجلی اور پٹرول کی ضرورت نہیں رہے گی‘
سرن ایک انتہائی مشکل اورمہنگا براجیکٹ ہے اور سائنس دان یہ مشکل کام65 سال سے کر رہے رہے ہیں۔
یہ لیبارٹری دنیا کے ان چند مقامات میں شامل ہے جن میں پاکستان اور پاکستانیوں کی بہت عزت کی جاتی ہے‘ اس عزت کی وجہ ڈاکٹر عبدالسلام ہیں‘ ڈاکٹر عبدالسلام کی تھیوری نے سرن میں اہم کردار ادا کیا‘ عناصر کو ٹکرانے کے عمل کا آغاز ڈاکٹر صاحب نے کیا تھا‘ ڈاکٹر صاحب کا وہ ریکٹر اس وقت بھی سرن کے لان میں نصب ہے جس کی وجہ سے انھیں نوبل انعام ملا۔
دنیا بھر کے فزکس کے ماہرین یہ سمجھتے ہیں اگر ڈاکٹر صاحب تھیوری نہ دیتے اور اگر وہ اس تھیوری کو ثابت کرنے کے لیے یہ پلانٹ نہ بناتے تو شاید سرن نہ بنتا اور شاید کائنات کو سمجھنے کا یہ عمل بھی شروع نہ ہوپاتا چنانچہ ادارے نے لیبارٹری کی ایک سڑک ڈاکٹر عبدالسلام کے نام منسوب کر رکھی ہے‘ یہ سڑک آئین سٹائن کی سڑک کے قریب ہے اور یہ اس انسان کی سائنسی خدمات کا اعتراف ہے جسے ہم نے مذہبی منافرت کی بھینٹ چڑھا دیا‘ جسے ہم نے پاکستانی ماننے سے بھی انکار کر دیا تھا۔

سرن میں اس وقت 10 ہزار لوگ کام کرتے ہیں‘ ان میں تین ہزار سائنس دان ہیں یوں یہ دنیا کی سب سے بڑی سائنسی تجربہ گاہ ہے‘یہ تجربہ گاہ کبھی نہ کبھی اس راز تک پہنچ جائے گی جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات تخلیق کی تھی‘ یہ راز جس دن کھل گیا اس دن کائنات کے سارے بھید کھل جائیں گے‘
ہم اس دن قدرت کو سمجھ جائیں گے۔
علامہ عنایت اللّٰہ خان المشرقی نےفرمایاتھا کہ ایک دن انسان قدرت کے تمام بھید جان لےگا اور وہ دن انسانیت کی تکمیل کا دن ہوگا اور اسکےساتھ ہی انسان کو خلیفہ بنانے کا قدرت کا مقصد پورا ہوجائیگا۔
سرن میں ایک نوجوان پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر مہر شاہ بھی کام کرتے ہیں۔‘ یہ بہت متحرک‘ کامیاب اور ایکٹیو قسم کے سائنس دان ہیں‘اللہ نے انھیں ابلاغ کی صلاحیت سے نواز رکھا ہے‘ ڈاکٹر مہر سمیت ہمیں وہاں ہزاروں درویش ملے‘ ایسے درویش جو اس راز کی کھوج میں مگن ہیں جسے آج تک مذہب نہیں کھول سکا‘
یہ لوگ اصل درویش ہیں‘ یہ انسانیت کے بہتر مستقبل کے لیے کام کر رہے ہیں‘
یہ لوگ واقعی عظیم اور قابل عزت ہیں۔
 پاکستان بھی سرن کا ممبر ہے‘ حکومت پاکستان ہر سال 22کروڑ روپے فیس ادا کرتی ہے‘ہمیں اس فیس کا فائدہ اٹھانا چاہیے ‘ڈاکٹر مہر کے بقول سرن طالب علموں کومفت تعلیم دیتا ہے‘ ہمارے نوجوانوں کو اس سہولت کا فائدہ اٹھانا چاہیے‘ ہمارے نوجوان ایف ایس سی سے لے کر پی ایچ ڈی تک کے لیے سرن سے وظائف لے سکتے ہیں ‘ دوسرا سرن ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے لیے اوپن ادارہ ہے‘ اس کا ہر ممبر کوئی بھی ٹیکنالوجی حاصل کر سکتا ہے‘ پاکستان کو اس سہولت کا بھی فائدہ اٹھانا چاہیے۔
  ہم اگر سرن سے صرف میڈیکل سائنس اور زراعت کی ٹیکنالوجی ہی لے لیں تو یہ بھی ہمارے  لیے کافی ہو گی ‘ ہمارے بے شمار مسائل حل ہو جائیں گے۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔