Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 26 مئی، 2022

ابا جی ڈیڈی اور پاپا

جب میں نے ہوش سنبھالا اس وقت تمام گھروں میں والد کو اباجی کہا جاتا تھا۔ اُس دور میں اباجی صرف بچوں کے لیے ہی نہیں بلکہ بچوں کی ماں کے لیے بھی خوف کی علامت ہُوا کرتے تھے، ادھر ابا جی گھر پہنچتے اور اُدھر گھر کے صحن پر سناٹا چھا جاتا۔ جیسے  ٹرین سٹیشن سے نکل گئی ہو ۔ بچے گھر کے کونوں کُھدروں میں دبک جاتے اور بچوں کی اماں سر پر دوپٹہ اوڑھ لیتی۔
ابا جی کے ہاتھ سے تھیلا وغیرہ پکڑ کر مقررہ جگہ پر رکھ دیا جاتا اور ابا جی چارپائی پر بیٹھ کر جُوتے اُتارتے جنہیں فوراً ایک طرف اُٹھا کر رکھا جاتا۔

 پھر ابا جی کوئی بھی حُکم جاری کرتے تو فوراً اُس کی تعمیل ہوتی، پھر ابا جی کو کھانا پیش کیا جاتا اور امی جان اُنہیں قریب بیٹھ کر کھانا کھلاتیں اور سب بہن بھائی بھاگ بھاگ کر اُنہیں کبھی نمک اور کبھی چٹنی مہیا کیا کرتے تھے۔
ابا جی کے غُسل سے پہلے امی جان غُسل خانے کا معائینہ کرتیں اور وہاں ڈبہ تولیہ صابن وغیرہ ہر چیز رکھ دیتیں اور پھر ابا جی کے کپڑے استری ہوتے، ابا جی جب دفتر جاتے تو امی اُن کو دروازے تک رخصت کرنے جاتیں اور ابا جی کے روانہ ہوتے ہی گھر میں چھائی خاموشی کے بند ٹُوٹتے اور بچوں کی شرارتیں اور امی جان کی دھمکیاں شروع ہوجاتیں کے شام کو تمہارے ابا آئیں گے تو تمہاری شکایت لگاؤں گی۔
اُس دور میں ابا جی کی دہشت ہر وقت بچوں پر چھائی رہتی تھی، مُجھے اچھی طرح یاد ہے کے سکول کی پراگرس رپورٹ پر ابا جی سے دستخط کروانا ایک مشکل ترین مرحلہ ہوتا تھا۔
پھر زمانہ بدلا تو بچے ابا جی کو ڈیڈی اور ماں جی کو ممی کہنے لگے ، ڈیڈی کہلوانے والوں کا وہ رعب اور دہشت نہیں ہوتی تھی جو ابا جی کہلوانے والوں کی ہوتی تھی، ڈیڈی وہ حضرات تھے جو عورت اور مرد کی برابری پر یقین رکھتے تھے اوران کا خیال تھا کہ بیوی اور بچوں کو ڈرا کر رکھنے کی بجائے ان سے دوستانہ تعلقات ہونے چاہیے، چنانچہ ڈیڈی حضرات حکم آخر جاری کرنے کی بجائے مشاورت پر یقین رکھتے تھے اور گھروں میں ان کا طرز عمل ابا صاحبان سے کافی بہتر ہوتا تھا جو مخاطب کی پُوری بات سُنے بغیر ہی جوتا اُتار لیا کرتے تھے۔
ڈیڈی کہلوانے والے صاحبان کو اگر کھانے میں کوئی نقص نظر آتا تو وہ انتہائی شائستگی سےاُس کی نشاندہی کرتے اور ابا صاحبان کی طرح کھانا صحن میں اُٹھا کر نہیں پھینکتے تھے، ڈیڈی کہلوانے والے بچوں کے سوالات کے جوابات انتہائی پیار و محبت سے دیتے اور بیوی کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات و مطالبات کے جواب بھی خندہ پیشانی اور دلبری سے دیتے اور گھروں میں توازن کی فضا برقرار رکھتے تھے۔
زمانہ اور اور آگے بڑھا اور ابا صاحبان کو پاپا اور والدہ کو ماما کہا جانے لگا، یہاں سے گھروں میں ایک بڑی تبدیلی آنی شروع ہُوئی اور گھر میں حکمرانی کا تاج پاپا کی بجائے ماما کے سر پر سجایا جانے لگا اور پاپا کی حثیت گھر میں ایک عام شہری جیسی ہو گئی، پاپا صاحبا ن جب دفتر سے گھر واپس آتے ہیں تو اُن کی طرف کوئی متوجہ نہ ہوتا، ماما ٹی وی دیکھتی رہتی ہیں اور بچے موبائل فون پر ایس ایم ایس کرتے رہتے ہیں ، پاپا حضرات کپڑے وغیرہ تبدیل کرکے کھانا مانگتے ہیں تو ماما کہتی ہیں ذرا صبر کریں ڈرامے میں وقفہ آتا ہے تو کھانا دے دیتی ہُوں ، اگر پاپا موصوف زیادہ بھوک لگی ہونے کی شکایت کرتے ہیں تو ماما کہتی ہیں کے دفتر سے نکلتے ہی فون کر دیا کریں میں کھانا گیٹ پر ہی رکھ دیا کروں گی۔
اس جواب کے بعد پاپا دبک کر بیٹھ جاتے ہیں اور ڈرامے میں وقفے کا انتظار کرتے ہیں، خُدا خُدا کر کے ڈرامے میں کمرشل بریک آتا ہےتو ماما بھاگ کر کچن میں جاتی ہیں اور کھانا لاکر شوہر کے سامنے یُوں رکھتی ہیں جیسے وہ پیش نہ کیا جارہا ہو بلکہ اُسے ڈالا جارہا ہو اور شوہر کے ہاتھ سے ٹی وی کا ریموٹ جسے شوہر نے بیوی کی غیر موجودگی میں اُٹھا لیا ہوتا ہےواپس جھپٹ لیتی ہیں اور بولتی ہیں ابھی تو بڑا بھوک بھوک کا شور مچایا ہُوا تھا اور اب خبریں سُننے کی پڑ گئی ہے چُپ کر کے کھانا کھاؤ اور اگر پاپا کھانے کے بعد ٹی وی کا ریموٹ دوبارہ مانگتے ہیں تو ماما کہتی ہیں کہ چُپ کر کے جا کر سو جائیں اور یُوں پاپا حضرات دُم دبا کر سونے چلے جاتے ہیں۔
آج کے پاپا کی حثیت اے ٹی ایم مشین سے زیادہ نہیں رہ گئی اور میں یہ سوچتا ہُوں کہ کہاں وہ کل
کے ابا جان اور کہاں آج کے پاپا، زمانہ کیا سے کیا ہوگیا۔

٭٭٭٭٭٭٭

منگل، 24 مئی، 2022

باغ والوں کا قصہ ۔

٭بلوچستان میں ژوب کے مقام پر شیرانی چلغوزے کے جنگلات میں خوفناک آگ نے تباہی مچارکھی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ دنیا کے سب سے بڑے چلغوزے کے جنگلات ہیں۔ 

ذرا سوچئے کہ ایک طرف دنیا کے سب سے بڑی چلغوزے کے جنگلات تو دوسری طرف پاکستانیوں کو چلغوزے کے ایک ایک دانے کو ترسا دیا گیا۔ 7 ہزار روپے کلو چلغوزہ اور ان جنگلات میں چلغوزوں کی فصل کی ایسے حفاظت و نگرانی کی جاتی ہے کہ ایک چلغوزہ بھی باہر نہ نکلنے پائے۔ جیسے سونے اور ہیروں کی کان میں نگرانی کی جاتی ہے۔ ( بشکریہ ثنا اللہ احسن ) 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“میرا نظریہ آگ کے معاملے میں ذرا جدا ہے یہ مسئلہ کیا ہے ؟
آپ کی سمجھ میں نہیں آرہی!
القرآن الکریم میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ،
 کچھ بھائیوں کو وراثت میں ایک ہرا بھرا میوں سے لدا باغ ملا۔ انکا باپ اس باغ سے میوہ اتارنے کے بعد سب سے پہلے ناداروں اور ضرورت مندوں کو میوہ دیتا تھا ۔۔ جب ان بھائیوں کے پاس باغ آیا تو یہ آپس میں کہنے ہمارا باپ تو بے وقوفی کرتا تھا کہ آدھا باغ خیرات کردیتا تھا تو بھائیوں ہم صبح سے پہلے حاجت مندوں کے آنے سے پہلے ہی تمام میوہ اتار لیں گیں اور زیادہ منافع کمائیں گیں ۔۔۔ مگر جب وہ صبح باغ میں پہنچے تو کہنے لگے کہ شاید ہم راستہ بھول گئے ہیں یا ہمارے نصیب ہی خراب ہوگئے کہ جہاں باغ تھا اب وہاں راکھ اور مٹی اڑ رہی ہے ۔۔ اللّٰہ تعالٰی ایسے نصیحت کرتا ہے تاکہ تم لوگ سمجھو ۔۔۔
 اپنے ملک میں بلکہ اپنے ہی قوم اور علاقے کے غرباء کو تم جنگل سے لکڑی بھی نہ اٹھانے دو اور تمہارے سردار اور ظالم لوگ دس ہزار روپے کلو چلغوزہ ایکسپورٹ کرکے اربوں روپے بناو؟
 تو اللّٰہ  کا نظام عدل کچھ تو سمجھائے گا تمہیں؟
۔ مگر ابھی بھی نہیں سمجھ رہے اور ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کررہے ہو ۔۔ یعنی آپس میں پھوٹ پڑ گئی ۔۔ یعنی عذاب پر عذاب ۔۔ توبہ استغفر اللہ العظیم وبحمدہ”
٭٭٭٭
کیا ہم یہ دعا مانگ سکتے ہیں  ۔
صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ
دوسرے وہ جن پر تیرا خصوصی غضب  (بطور آزمائش )  ہوا اور وہ  خصوصی طور پر نہیں بھٹکے   ( توبہ کرکے واپس  صراط المستقیم پر آگئے  ، کیوں کہ اُن میں اوسط فہم کا عبداللہ تھا )
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔