میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 30 ستمبر، 2020

حیدر آباد دکن کا طرّم خان

  طوری باز خان، دکن کی تاریخ کی ایک بہادر شخصیت تھے ، جو اپنی بہادری اور جرات کے لئے مشہور تھے۔


حیدرآباد کی لوک داستانوں میں ایک نام استعمال ہوتا ہے "طرّم خان"۔ جب آپ کسی کو کہتے ہیں تم بڑے طرّم خان ہو ؟
تو ، آپ اسے بہادر قرار دیتے ہیں۔ یہ طوری باز خان کا نام ہے۔

 وہ ایک انقلابی شخصیت آزادی پسند جنگجو تھا ، جس نے چوتھے نظام حیدرآباد اور انگریز کے حکمران سسٹم کے خلاف بغاوت کی تھی۔

٭1857 کی جنگِ آزادی کے تناظر میں ، دہلی ، میرٹھ ، لکھنؤ ، جھانسی اور میسور میں ہونے والی سرگرمیوں کی دستاویزی دستاویزی دستاویزات ہیں ، لیکن حیدرآباد میں آزادی کی سرگرمیوں نے شائد اس زور نہیں پکڑا کہ نظام حیدرآباد انگریزوں کے اتحادی تھے۔ 

طورباز خان، کا جنگ آزادی کا دورانیہ مختصر تھا، جب حیدر آباد کے عوام برٹش اور نظام راج سے آزادی کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے۔

٭17 جولائی ، 1857 کو ، طورباز خان نے برطانوی آندھرا اور  ’نظام آندھرا‘ کے خلاف میں کالونی ازم سے ناامید عوام کی ایک بہت بڑی فوج کی قیادت کی اور حیدر آباد دکن کے آزادی کے 6،000 متوالوں کےساتھ  برٹش ریذیڈنسی پر حملہ  کیا۔

حیدرآباد میں برٹش ریزیڈنسی رہائش گاہ  مصور جان رسل (1744-1806) کے بیٹے سموئیل رسل نے تیار کیا تھا اور اسے 1803 اور 1806 کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا۔ اس عمارت کی قیمت حیدرآباد کے نظام نے ادا کی تھی۔ یہ عمارت کے سامنے کا ایک نظارہ ہے جس کے ساتھ اس کے کورینشین پورٹیکو کا تاج تاج پہنایا گیا ہے جس پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا بازو دکھایا گیا ہے۔  شیر ​​مجسمے داخلی دروازے تک ایستادہ  ہیں
 طوری باز خان نے برطانوی رہائش گاہ پر حملہ کیا ، جو اب حیدرآباد کے کوٹی میں خواتین کے کالج میں واقع ہے-اس کالج کا آغاز 1924 میں ہوا۔ اسے 1949 میں جیمز اچیلز کرک پیٹرک کی حویلی کوٹی ریذیڈنسی سے منسلک اس کے موجودہ مقام پر منتقل کردیا گیا۔
 اپنے ساتھیوں کو رہا کرنے کے لئے جسے انگریزوں کے ذریعہ منصفانہ مقدمہ چلائے بغیر غداری کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔

طوری باز خان اپنے ساتھیوں سمیت ایک مقابلے کے بعد گرفتار ہوا اور حراست میں لے کراسے جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ ایک سال کے بعد ، وہ فرار ہوگیا ، اور پھر حیدرآبادسے 60 کلومیٹردور، طوپران کے جنگل سےوہاں کے تعلقہ دار  قربان علی بیگ ، کے ھاتھوں مخبری پر  پکڑا گیا۔ 
طوری باز سے پوچھا گیا کہ کیا اُس کی بوڑھی ماں کی اُس کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ؟
طوری باز نے جواب دیا،  مادر ملت اُس کی والدہ سے زیادہ اہم ہے۔ اگر وہ مارا گیا تو دنیا اسے یاد رکھے گی۔  قربان علی بیگ کو کوئی بھی یاد نہیں کرے گا۔  

طوری باز خان کو قید میں رکھا گیا 

 پھر اسے گولی مار کر اُس کی لاش کو شہر کے وسط میں لٹکا دیا گیا تاکہ مزید سرکشی کو روکا جاسکے۔

تیلگو زبان میں اِس پر ایک فلم طرّم خان بھی بنی ہے ۔


٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

 

 

 

 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔