Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 17 جون، 2021

ایک پنشنر کے سوالات کے حل کا، دوسرا راستہ

  ملازمین نے ، اپنے زورِ بازو پر ،یکم مارچ 2021 میں 25 ٪ تفاوت الاؤنس اور ڈیفنس فورسز کے لئے 15٪ الاونس ، نیز حکومت  سے پنشنر اور ملازمین کے اتحاد نے  3 جون 2021  نے بجٹ 2021/2022 میں پنشنرز کی پنشن اور ملازمین کی تنخواہوں میں 10٪ فیصد اضافہ کروالیا ۔

 یعنی  حکومت نے ، گریڈ 1 کے 10 ہزار  روپے ماہانہ پنشن پانے والے کو 1000 روپیہ ماہانہ اور گریڈ 22 کے ڈھائی لاکھ روپے ماہانہ پنشن پانےوالے کو 25 ہزار روپے ماہانہ اور گھریلوملازم کے لئے 17000 روپے ماہانہ دینا منظور کر لیا ہے ۔کیف تحکمونک ۔ 

گویا وفاقی سیکٹریز نے اپنے ہی قبیلے کے پنشنرز کو فائدہ پہنچایا ۔

 جبکہ میری رائے میں یہ سلائیڈنگ سکیل کے مطابق گریڈ 1 تا 10 کے ملازمین کو 25٪ اور باقیوں کو 10 ٪ ہونا چاھئیے تھا – تب کہیں اُس معاشی تفاوت میں کمی آتی جو بتدریج بڑھتا جارہا ہے ۔

 میں نے آج صبح اپنے گالف کے دوست 10 سال پہلے ریٹائر ہونے والے ملٹری اکاونٹ کے ایک اہم آفیسر ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل جناب راجہ گل  ،سے موبائل پر پنشن کے قوانین ۔ کے بارے میں مندرجہ سوالات کئے۔جن کے جوابات کے لئے اُنہوں نے مجھے حاضر سروس    ڈپٹی  ملٹری اکاونٹ( پنشن)  جناب رانا محمد جمیل کے پاس بھجوادیا۔ 11:00 سے 13:30 بجے تک میں اُن کے پاس رہا    اور سوالات کئے جن کے جواب  حاضر ہیں۔

٭۔کیا پنشن ایک ملازم کا حق ہے یا حکومت کا ریٹائرڈ ملازمین  پر کیا جانے والا احسان ہے ؟

 جواب۔ جس طرح ایک ملازم مہینے کے 30 دن کام کرکے تنخواہ کا حقدار بن جاتا ہے ۔بالکل اسی طرح ایک سرکاری ملازم اپنی مدتِ ملازمت پوری کرنے کے بعد پنشن کا حقدار کہلاتا ہے ۔جو اُسے حکومت کی طرف سے ملتی ہے ۔

٭۔ کیا پنشن کی بنیاد، ملازم ہونے سے ریٹائر ہونے تک ، اُس کی تنخواہ سے ، پراویڈنٹ فنڈ کی طرح شراکتی بنیاد پر ہوتی ہے ؟

جواب۔ نہیں ۔ سنا ہے کہ اِس پر سوچا جارہا ہے لیکن تفصیل معلوم نہیں ۔

٭-   کیا ہر سال ایڈھاک پنشن (ہر سال پنشن کا مہنگائی کےتناسب سے بڑھانا) پاکستان کے تمام ریٹائر ڈسرکاری ملازمین کا حق ہےیا حکومت کا ریٹائرڈ ملازمین  پر کیا جانے والا احسان ہے ؟

جواب۔ یہ حکومت  یعنی   صدر پاکستان کے حکم سے فنانس منسٹر کی مرضی ہے ، کہ وہ اپنے بجٹ میں    ملازمین اور پنشنرز کو مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لئے  کتنی ریلیف دینے کا حکم دیتے ہیں  اور اُسی حساب سے تنخواہیں اور پنشن بڑھاتی ہے جیسے موجودہ بجٹ میں 10فیصد ، بڑھائی گئیں ۔


٭۔  ملازمت کی مدت پوری کرنے کے بعد جو پنشن بطور کمیوٹیشن بنتی ہے ۔اُس کی تقسیم 35٪ اور65٪ کے تناسب سے کس قانون کے تحت ہوتی ہے ؟ نیز کیا یہ 100 ٪ کمیوٹڈ ویلیو ملازمین کو کیوں نہیں دی جاتی ؟

جواب۔ حقیقت میں حکومت کے پاس ملازمین کی کوئی رقم نہیں ہوتی ۔مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد اُس کی آخری تنخوا ہ کو بنیاد بنا کر اُس کی 100 ٪  پنشن نکالی جاتی ہے  ۔جس کا 35٪ حصہ اُسے ایڈوانس پنشن (کمیوٹیشن ) کے طور پر دیا جاتا ہے اور 65٪ حصے سے اُسے  پنشن دی جاتی ہے-

 یوں سمجھیں کہ ایک ملازم کی  آخری تنخواہ  کو بنیاد بنا کر 100 ٪ پنشن ، 1000 روپے    ماہانہ بنتی ہے ۔72 سال تک کی عمر  تک اُس کی کل  پنشن  14،40،000      روپے بنتی ہے ، جس کا وہ 35٪ حصہ  یعنی 3،500 روپے کمیوٹ کروا  کر ایڈوانس لے لیتا ہے یعنی5،04،000  روپے ۔ اب اُس کو ہر ماہ 6،500 روپے پنشن ملے گی ۔ 72 سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد اُسے  10،000/ جمع ایڈھاک پنشن   ملے گی ۔اب اِس 100 فیصد پنشن کو  یا اِس کا کوئی حصہ وہ کمیوٹ نہیں کرواسکتا ۔(یہ سمجھانے کے لئے رَف کیلکولیشن  دی ہے   ۔) 

٭-  ایک ملازم جب 35٪ فیصد کمیوٹڈ ویلیو ریٹائرمنٹ پرلے چکاہوتا ہے اگر واپس جمع کروادے تو کیا اُس کی 100٪ ماہانہ پنشن بحال ہو سکتی ہے ؟

جواب۔ایسا کوئی قانون نہیں ۔اگر ہوا بھی تو کمیوٹڈ ویلیو وہ نہیں ہوگی بلکہ  اُس سے زیادہ ہوگی جو اُس نے لی تھی ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اُس کے بعد میں نے اپنے کورس میٹ لیفٹنٹ کرنل (ر) عظیم اللہ راجہ  سےموبائل پر ،  اِنہی سوالات پر بات کی، جو سردار صاحبان اور جوانوں کی پنشن  سے متعلق  ہیں ۔  اُس کا جواب وہی تھا جو رانا محمد جمیل کا تھا ۔  درج ذیل سوالات کا جواب حاضر ہے ۔      

٭- سرکاری ملازمین ( وفاقی اور صوبائی) کے پنشن قوانین میں جو تضاد یا اونچ نیچ ہے اُس کو کیسے دور کیا جاسکتا ہے ؟

جواب۔یہ تو  پنشن کے قوانین بنانے والی اتھارٹی ہی  بہتر بتا سکتی ہے ۔   

٭- 20 سال پہلے ریٹائر ہونے والے اُسی گریڈ کے ملازم اور آج ریٹائر ہونے والے ملازم کی پنشن کے تضاد کو دور کیسے کیا جاسکتا ہے ؟

 جواب۔یہ تو  پنشن کے قوانین بنانے والی اتھارٹی ہی دور کر  سکتی ہے ۔

٭- کیا پاکستان کی معیشت اور ملازمین کی تنخواہوں کے ہر سال اضافے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ، پنشن جو ایک خطیّر رقم کی صورت میں 1947، سے وجود میں آنے والی حکومت پر ایک مسلسل بوجھ ہے ، یکسر ختم کیا جاسکتا ہے ؟

جواب۔ممکن نہیں ہاں آئیندہ ، سرکاری ملازمت میں آنے والے افراد کے لئے ایسا ہوسکتا ہے ۔ لیکن جب اُن ملازمین کو سرکاری ملازمت سے زیادہ تنخوا اور دیگر سہولتیں باہر ملیں گی تو وہ ملازمت چھوڑ کر وہاں چلے جائیں گے ۔جو سرکار کے لئے مناسب نہیں ہوگا ۔

میجر صاحب آپ کو یاد ہوگا کہ جنرل مشرف کے دور میں آئی ایم ایف کے کہنے پر ، فوجی آفیسروں کے  فوجی آرڈلی ، ختم کردیئے گئے اور اُن کی جگہ سویلین آرڈلی  (یعنی این سی بی۔نان کمبٹ بیٹ مین) رکھے گئے یوں فوجیوں کی تعداد کم ہو گئی ۔ لیکن اُس کے نقصانات آپ بہتر جان سکتے ہیں ۔  

وہ ایک  ماہ یادو  ماہ بعد چھوڑ کر جانے لگے ۔ پھر اُن کی لازمی، مدتِ ملازمت بنائی گئی  ۔   فیملی کا سی ایم ایچ  ہسپتال میں علاج و معالجے کی سہولت  فراہم کی گئی ۔ پھر بھی کام نہیں بنا تو اُن کی پنشن ایبل سروس قرار دی گئی ۔ جس کی وجہ سے اُن  کے چھوڑ کر جانے کی تعداد کم ہو گئی ۔   

٭- کیا پنشن کے نظام کو یکسر ختم کرنے سے حکومتی اداروں ، بشمول ڈیفنس فورسز میں ایکٹو سروس میں ملازمت اختیار کرنے والوں پر کیا اثرات ہوں گے ؟

جواب: یہ ممکن ہی نہیں ۔ کیوں کہ پاکستان میں لوگ، فوج میں اِس لئے ملازمت کرتے ہیں کہ یہاں  علاج معالجہ ۔ بچوں کی اچھے  سکول  میں کم فیسوں پر  پڑھائی ،   ملٹری کالج میں 1 تا گریڈ 16 کے فوجیوں کے بچوں کا ملٹری کالجوں میں 75٪ کوٹہ ، جس کی وجہ سے کئی  فوجی سپاہی اور نائیک کے بچے ، فوج میں کمیشن لے کر جنرل کے عہدوں تک پہنچے ، بعد  از ریٹائرمنٹ  پنشن اور فوجی سکیم میں پلاٹس  کی سہولت   و  دیگر   سہولتیں موجود ہیں ۔لہذا سروس کی سختی کی وجہ سے چھوڑ کر جانے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔

مجھے سویلیئن کا تو نہیں معلوم   لیکن فوجی نظام  میں بعد از ریٹائرمنٹ پنشن  کا نظام ختم نہیں کیا جاسکتا  ۔ ۔ ہاں اگر قوانین بنانے والے اِس سے بہتر متبادل نظام لے آئیں تو شاید ممکن ہے ۔اِس کے باجود فوج سے ہر سال تقریباً 3000 فوجی اپنی مدت ملازمت یعنی 18 سال پوری کرکے 36 تا 40 سال کی عمر میں  ریٹائر ہو رہے ہیں ۔( اُن کو ملکی دھارے میں بطور ٹرینڈ سولجر لانے کا انتظام کرنا پڑے گا۔ پڑھیں۔ پاکستان کی ترقی میں ریٹائر ہونے والی سپاہوں کا کردار     

٭۔  کیا ہم 1997 سے پہلے 2001 اور 2017 کے پنشنرز کے درمیان پنشن کا فرق دور کر سکتے ہیں ؟

 جواب۔یہ تو  پنشن کے قوانین بنانے والی اتھارٹی  کو سوچنا ہوگا  ۔

٭- اردلی الاؤنس جو گریڈ 20 سے زیادہ کے آفیسروں کو معاشی تفاوت دور کرنے کے لئے ملتا ہے ،کیا ایساہی لاؤنس ، سب سے کم پنشن لینے والے گریڈ 1 تا 10 کے ملازمین کو ، بھی دیا جا سکتا ہے  ؟

    جواب۔ایسا نہیں ہو سکتا ۔البتہ گریڈ 1 تا 5  کے ملازمین کا انٹیگریٹڈ الاؤنس 450 روپے ماہانہ سے 900 روپے ماہانہ اِس بجٹ میں بڑھایا گیا ہے ۔

٭-اگر گریڈ 20 کے آفیسروں کو   اردلی الاؤنس دینے کے بجائے، اُنہیں ریٹائرڈ سرکاری  والنٹیئر ملازمین،  بطور اردلی دئیے جائیں تو کیا ایسا ممکن ہے ؟  

جواب۔فوجیوں کے لئے تو شائد ممکن ہو مگر سویلئن آفیسرز کے لئے  نہیں  ۔

٭-گریڈ 1 تا 10 کے ملازم کی بیوہ جس کو شوہر کے وفات کے بعد 75٪ پنشن ملتی ہے ، جس سے وہ اپنا اور اپنے بچوں کا گذارہ بمشکل کر سکتی ہے ۔ کیا اُسے ہم قابلِ عزت زندگی گذارنے کے لئے 100 ٪ پنشن دے سکتے ہیں ؟

جواب۔  یہ یقیناً ایک بہترین سوچ ہے اِس کے لئے قانون میں بہتری لاناپڑے گی ۔

٭٭٭٭٭ 

  سوالات سننے کے بعد اُنہوں نے دو راستےبتائے ۔ پہلا راستہ جو بتایا وہ نہایت دشوار گذار اور میرے لئے ناپسندیدہ تھا ۔

  میجر صاحب آپ سیاست میں جائیں اور سینیٹر یا ایم این ے بن کر کوئی اہم عہدہ سنبھالیں اور پھر ملازمین کی بہتری کے لئے اِن سوالات کو عملی جامہ پہنائیں ۔

 دوسراراستہ : آپ سپریم کورٹ آف پاکستان میں جاکر اِ ن سوالات کا حل مانگیں

میں آپ کے لئے دُعا کروں گا ۔

 پاکستان کے پنشن لینے والے ریٹائرڈ سر کاری ملاز مین آپ کے خیال میں دونوں میں سے کون سا راستہ بہتر رہے گا ۔ 

! میرا انتخاب دوسرا راستہ ہے 


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

٭۔ پاکستان کی ترقی میں ریٹائر ہونے والی سپاہوں کا کردار       

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔