Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 8 جولائی، 2026

ٹوکن ٹیکس رام پیاری کا

  بوڑھے کی گاڑی بہت پرانی ہے ۔1989 ماڈل ہے اور نام  کرینہ رام پیاری ۔ اس کا کپور فیملی سے کوئی تعلق  نہیں ۔  2000  میں پھیلنے والی مہلک بیماری  کرونا   کی بہن  ہے اور بھاری بھرکم  سیلون  کار ہے لہذا ایک لٹر میں 5 کلومیٹر  چلتی  ہے   کیوں کہ 1600 سی سی ہے۔  2005  میں دوست اکبر (مرحوم)    سے میرے پاس آئی  ۔ اور  ٹوکن ٹیکس ہر سال  بڑھتے بڑھتے  4000 روپے سالانہ تک جا پہنچا۔

پچھلے سال  اکتوبر 2005  میں یاد آیا ۔او ہو  ۔ بوڑھا   2024 کا  ٹوکن ٹیکس تو جمع کروانا بھول گیا  ۔ ابوسعید کے ساتھ پروگرام بنایا کہ سیشن کورٹ جائیں گے تو وہاں ایچ 9 میں یہ کام بھی کر دیں گے۔ ابو سعید نے بتایا کہ اسلام آباد کا ٹوکن ٹیکس آن لائن بھی ادا کیا جا سکتا ہے ۔

گاڑی کا نمبر لے کر اُس نے  12اکتوبر کو بتایا کہ ۔ جناب آپ کا پچھلا دو سال کا  ٹوکن ٹیکس ادا نہیں ہوا۔
بتایا   جولائی 2025 میں پوسٹ آفس جاکر ادا کر دیا تھا ۔
خیر اُسی دن ایزی پیسہ سے مبلغ-/ 12،010 روپے ۔جمع کروایا ۔ اور سکون کا سانس لیا ۔

کیونکہ پچھلے سال کا تجربہ تھا تو  3 جولائی سے پاک آئی ڈی پر گاڑی کاICT Vehicle Token TAX       نہیں ملا تو سوچا کہ اسلام آبادآفس جایا جائے ،

 سات بجے گھر سے نواسی کے ساتھ نکلا ، اُسے دادا کے گھر چھوڑا اور واپسی پر ایچ 9 آگیا ۔ گاڑی پارک کی تو دو ایجنٹ لپک کر آئے ۔

ایک بولا۔ سر جی ٹوکن بنوانا ہے دوسرے نے کہا گاڑی ٹرانسفر کروانی ہے ۔ 
اُن سے معذرت کرکے ۔ایکسائز آفس میں داخل ہوا ۔ کھڑکیا ں بند تھیں لیکن ہر کھڑکی پر 10 سے 15 افراد کھڑے تھے ۔      

سینیئر سٹیزن و خواتین کی کھڑکی خالی تھی ۔وہاں اپنی گاڑی کا سمارٹ کارڈ دکھایا۔

 نوجوان نے کہا : آپ ساتھ والی بلڈنگ کی پہلی منزل پر ابراھیم صاحب سے ملیں وہ آپ کو گاڑی کی اوریجنل قیمت لکھ کر دیں گے تو آپ سے ہم اُس کے مطابق ٹیکس لیں گے ۔

لیکن پچھلے سالوں میں تو انجن  کے مطابق ٹیکس لیا تھا۔ یعنی 1600  سی سی کار  کا 4000 ہزار ۔ 

نوجوان بولا ۔"جناب اب گاڑی کی اوریجنل  قیمت خرید کے مطابق ٹوکن ٹیکس لیا جائے گا  ۔ اَسی لئے اب آن لائن  سسٹم بند کر دیا گیا ہے"۔ ،
بوڑھا پریشان ہو گیا کہ 2004 کی پرانی رجسٹر گاڑی کا تو ٹیکس معاف ہو جانا چاھئیے ۔ معلوم نہیں حکومت وقت کون سی دو دھاری تلوار بنائی ہے ؟

خیر بوڑھا دوسری بلڈنگ کی طرف بڑھا ۔ 


اور سیڑھیاں چڑھ کر بلڈنگ  کے گراونڈ فلور پر پہنچا     اور گیٹ سے اندر  داخل ہوا ۔ کوریڈور کے آخر تک گیا جہاں مزید سیڑھیاں  اوپر جا رہی تھیں  ، آہستہ آہستہ ریلنگ کو پکڑتا  بوڑھا  پہلی منزل پہنچا ۔

 بائیں طرف مزید سیڑھیاں تھیں۔  لہذا دائیں طرف گیلری کی طرف مڑا۔ اور دائیں طرف تالا بند دروازے   دیکھتا   آخری دروازے کی طرف گیا۔وہ بھی بند تھا ۔ اُس کے ساتھ پی اے کا دروازہ تھا ۔ اُسے کھولا   ۔ خالی کمرہ تھا ۔  صبح 9 بجے کا وقت تھا ۔لہذا ابھی ڈیوٹی شروع نہیں ہوئی  ۔  واپس ہوا۔ سامنے 6 سیڑھیاں اوپرجا رہی تھیں ۔ 3 افراد کھڑے تھے ۔ بوڑھا بھی اوپر گیا اور بائیں طرف کے دروازے کو کھولا ۔

"سلام علیکم "کہا اور پوچھا" ابراہیم صاحب          تشریف رکھتے ہیں " ۔ 

جواب ملا ۔ آپ کی گاڑی کا نمبر،  اگر آئی ڈی کے ہے تو اسی کمرے کے پیچھے جائیے  وہاں ابراہیم صاحب مل جائیں گے "۔

  شکریہ ادا کر کےواپس نکلا اور اِسی فلور پر دائیں طرف پتلی گلی میں مڑا دیکھا تو کوئی کمرا نہیں تھا ۔ لیکن بائیں طرف  نیچے کی طرف جانے والی سیڑھیوں    کے خاتمے پر ایک کنٹینر نماکمرہ تھا  ۔اُسے کھولا۔ 

 سلام کرکے پوچھا ۔" ابراہیم صاحب ہیں" ۔
جواب ملا "ابراہیم صاحب تو نہیں آپ اندر اتر آئیں"۔
  اتر کر اندر گیا خالی کرسی پر بیٹھا اپنے ہاتھ میں پکڑی بوتل  سے پیاس بجھائی ۔  
بو لا : گاڑی کا ٹوکن ٹیکس بھرنا ہے ، نیچے سے آپ کے پاس بھیجا گیا ہوں۔ کہ آئی ڈی کے۔8021  سیریل نمبر کی  گاڑی کی قیمت خرید لکھوا کر لائیں۔ 
ایک نوجوان اندرگیا اور گاڑی کی فائل نکال کر لایا۔بوسیدہ   کاغذات   الٹے ۔ بولا ۔جناب اِس میں قیمت خرید نہیں لکھی ۔

بتایا  : نیلامی میں دوست نے خریدی تھی ۔ نیلامی کا کاغذات میں دیکھیں ۔چالان فارم 32 اے        ضرور لگا ہوگا ۔ 
نوجوان نے دوبارہ کاغذات الٹے ۔  چالان فارم  32 اے  ۔ سے گاڑی کی قیمت دیکھی اور ایک کاغذ پر لکھ کر دے دی  ۔ کہا : یہ جمع کروادیں ۔

لکھا ہو کاغذ لے کر واپس نیچے گیا ۔ کھڑکی سے کاغذ اور گاڑی کا سمارٹ کارڈ   نوجوان کو دیا ، اُس نے کمپیوٹر پر نمبر ڈالے  اور کہا :۔ 

جناب 640 روپے دے دیں ؟ 
وہ کس لئے:  بوڑھے نے پوچھا ؟۔ 
جی ٹوکن ٹیکس ہے ۔ جواب ملا ۔ 
بوڑھے نے 640 روپے بڑھائے اُس نے رسید اور سمارٹ کارڈ تھما دیا 

بوڑھے نے پوچھا ۔ اب کہاں جاؤں ؟
جی اپنے گھرجایئے ۔ وہ خوش دلی سے بولا۔اب یہی ٹوکن ٹیکس ہو گا  
 بوڑھا بولا ۔ پاکستان زندہ باد اور موجودہ حکومت پائندہ باد۔ 

٭٭٭٭

سینیئر سٹیزن کے لئے بہترین مشورہ ۔

  زندگی کی 44 ایسی قیمتی باتیں جو ہر شخص، خصوصاً بزرگ افراد، کے لیے مفید ہیں۔ انہیں ضرور پڑھیں اور اپنے والدین، بزرگوں اور عزیزوں کے ساتھ شیئر کریں۔
٭ 1۔ ہر روز چہل قدمی کریں، چاہے آہستہ ہی کیوں نہ ہو۔
٭ 2۔ جب غصہ یا پریشانی ہو تو گہرا سانس لیں اور خود کو پُرسکون کریں۔
٭ 3۔ جسم کو اکڑنے سے بچانے کے لیے ہلکی پھلکی ورزش کریں۔
 ٭ 4۔ گرمیوں میں اگر ایئر کنڈیشنر استعمال کرتے ہیں تو پانی زیادہ پئیں۔
 ٭ 5۔ اگر ضرورت ہو تو ڈائپر استعمال کرنے میں شرمندگی محسوس نہ کریں، یہ نقل و حرکت کو آسان بناتا ہے۔
 ٭ 6۔ اچھی طرح چبا کر کھانا کھائیں، اس سے دماغ اور جسم زیادہ متحرک رہتے ہیں۔
 ٭ 7۔ بھولنا صرف بڑھاپے کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ دماغ کو کم استعمال کرنے سے بھی ہوتا ہے۔
 ٭ 8۔ ہر بیماری کے لیے زیادہ دوائیں لینا ضروری نہیں۔
 ٭ 9۔ بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کو ضرورت سے زیادہ کم کرنے کی کوشش نہ کریں۔
 ٭ 10۔ تنہا ہونا ہمیشہ تنہائی نہیں ہوتا، بلکہ یہ سکون اور آرام کا وقت بھی ہو سکتا ہے۔
 ٭ 11۔ اگر تھکاوٹ محسوس ہو تو آرام کرنا یا سستی محسوس کرنا معمول کی بات ہے۔
 ٭ 12۔ اگر محفوظ طریقے سے گاڑی نہیں چلا سکتے تو اسے چھوڑ دینا بہتر ہے۔ 
٭ 13۔ وہ کام کریں جن سے خوشی ملتی ہو، اور ان چیزوں سے بچیں جو ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہوں۔ 
٭ 14۔ عمر بڑھنے کے باوجود فطری خواہشات باقی رہ سکتی ہیں، یہ ایک قدرتی بات ہے۔
 ٭ 15۔ صرف گھر میں نہ رہیں، باہر نکلیں، تازہ ہوا لیں اور دنیا دیکھیں۔
 ٭ 16۔ اپنی پسند کا کھانا کھائیں، لیکن اعتدال کے ساتھ۔ تھوڑا بہت وزن بڑھ جانا کوئی مسئلہ نہیں۔
 ٭ 17۔ ہر کام آہستگی اور احتیاط سے کریں۔
 ٭ 18۔ ایسے لوگوں سے دور رہیں جن کی وجہ سے آپ بے سکون رہتے ہوں۔
 ٭ 19۔ ٹی وی اور موبائل فون کے استعمال کا وقت کم کریں۔
 ٭ 20۔ بعض اوقات بیماری سے لڑنے کے بجائے اسے قبول کر کے اس کے ساتھ بہتر زندگی گزارنا زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔  
 ٭21۔ "ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہوتا ہے۔" اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں۔
 ٭ 22۔ تازہ پھل اور سبزیاں باقاعدگی سے کھائیں۔
 ٭ 23۔ نہانے کے لیے زیادہ وقت لگانے کی ضرورت نہیں، تقریباً دس منٹ کافی ہیں۔
 ٭ 24۔ اگر نیند نہ آئے تو خود کو زبردستی سونے پر مجبور نہ کریں۔ 
٭ 25۔ وہ کام کریں جو آپ کو خوشی دیں، اس سے دماغ متحرک رہتا ہے۔
 ٭ 26۔ اپنے دل کی بات کہنے سے نہ ہچکچائیں۔
 ٭27۔ کسی ایسے فیملی ڈاکٹر کا انتخاب کریں جس پر آپ اعتماد کرتے ہوں۔
 ٭ 28۔ ہر وقت دوسروں کی بات ماننا ضروری نہیں، کبھی کبھار سخت فیصلہ کرنا بھی درست ہوتا ہے۔
 ٭ 29۔ وقت کے ساتھ اپنی رائے بدل جانا بالکل فطری بات ہے۔
 ٭ 30۔ بڑھاپے میں یادداشت کی شدید کمزوری (ڈیمنشیا)  آپ پر آپ کے تخلیق کرنے والے کا احسان ہے ۔تاکہ آپ کی زندگی سکون سے گذرے ۔
 ٭ 31۔ اگر ہم سیکھنا چھوڑ دیں تو ہم وقت سے پہلے بوڑھے محسوس کرنے لگتے ہیں۔ 
٭ 32۔ عزت اور شہرت کے پیچھے بھاگنے کی ضرورت نہیں، جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس پر شکر ادا کریں۔
 ٭ 33۔ والدین کی سادگی اور خلوص ان کی خوبصورتی ہے۔ 
٭ 34۔ زندگی میں مشکلات آتی رہتی ہیں، یہی اسے معنی خیز بناتی ہیں۔
 ٭ 35۔ مناسب مقدار میں دھوپ لینا جسم اور ذہنی صحت کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔ 
٭ 36۔ دوسروں کے ساتھ بھلائی کریں، نیکی کا پھل ضرور ملتا ہے۔
 ٭ 37۔ ہر دن سکون، اطمینان اور اعتدال کے ساتھ گزاریں۔
 ٭  38۔ خواہشات اور مقاصد کا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ آپ زندگی سے بھرپور ہیں۔
 ٭39۔ ہمیشہ مثبت سوچ اپنائیں۔ 
٭ 40۔ سکون کا سانس لیں، زندگی کو جلد بازی میں گزارنے کی ضرورت نہیں۔
 ٭ 41۔ اپنی زندگی کس طرح گزارنی ہے، اس کا فیصلہ آپ خود کریں۔
 ٭ 42۔ ہر حال کو صبر اور سکونِ قلب کے ساتھ قبول کریں۔
 ٭ 43۔ خوش مزاج لوگ عموماً سب کو پسند آتے ہیں۔
 ٭ 44۔ ایک مسکراہٹ بے شمار خوشیاں اور برکتیں لا سکتی ہے۔
 براہِ کرم یہ مفید پیغام اپنے والدین، بزرگوں اور تمام عزیزوں تک ضرور پہنچائیں۔

٭٭٭٭٭

منگل، 7 جولائی، 2026

والدین اور افق کے پار بس جانے والے

میری امّی ستر برس کی ہیں۔
اور لاہور کے اُس گھر میں اکیلی رہتی ہیں۔
 جہاں کبھی ہم تین  ایک دوسرے کی آوازوں میں جیا کرتے تھے ابا ، امی اور میں ۔ امی کی شادی  23 سال کی عمر میں ہوئی ، ابا کی عمر تیس سال تھی ۔
تعلیم کے بعد امی گورنمنٹ  گرلز سکول میں ٹیچر ہوگئیں  ۔ جو ہمارے گھر سے  5 منٹ  کی واک پر تھا با پہلے سے ٹیچر تھے   ۔
ہمارا    5 مرلے  کا   دو کمروں   کا گھر  کرشن نگر میں  تھا ۔
میں 20 سال کی عمر میں 27  سال پہلے امریکہ گیا تھا۔
پہلے تعلیم مکمل کی ۔پھر نوکری مل گئی۔پھر گرین کارڈ۔ پانچ سال بعد مہینے کی چھٹی آیا ۔
 امی ابا نے شادی کروادی  ۔ شادی ہمارے ہی محلے  میں ابا کے دوست کی  یتیم بیٹی سے ہوئی  ۔جوخالہ کے ہاں   پرورش  پا رہی تھی ۔ پانچ سال بعد امریکہ 
 بیوی حاملہ تھی  ،اُس کو لے کر امریکہ آگیا ۔ ہمارے  امریکہ پہنچتے ہی ابا کا انتقال ہوگیا  ۔
 تین ماہ ماہ بعد  گھر بات کی تو صدمہ ہوا  ۔ امّی  سے بات ہوئی ۔ اُنہوں  بس یہ کہا ، بیٹا جو اللہ کی مرضی ۔
بس  اپنی بیوی  کا خیال رکھا کرو  ۔یوں پہلا بچہ  پیدا ہوتے ہیں گرین کارڈ ہولڈر ہو گیا  5 سال بعد بیٹی ہوئی ۔ 
امی سے  ہم ٹیلیفون پر بات کرتے ۔ نہ بیوی کو پاکستان جانے کا شوق   اور  میرے پاس بھی فرصت نہیں ۔
اور پھر زندگی اتنی تیز ہو گئی کہ وقت صرف کلینڈر کی تاریخوں میں رہ گیا۔
شروع شروع میں امّی روز فون کرتی تھیں۔
“کھانا وقت پر کھا لینا…”
“اتنی برف میں باہر نہ نکلا کرو…”
“اپنی بیوی کو میرے لیے سلام کہنا…”
پھر آہستہ آہستہ اُنہوں نے کالز کم کر دیں۔
کیونکہ بوڑھے والدین ایک وقت کے بعد اپنی محبت بھی دھیمی کر دیتے ہیں… تاکہ اولاد کو بوجھ محسوس نہ ہو۔
ہم ہر ہفتے ویڈیو کال کر لیتے تھے۔امّی ہمیشہ ٹھیک لگتیں۔بالوں میں سفیدی بڑھتی جا رہی تھی۔
آواز پہلے سے ہلکی ہو گئی تھی۔مگر وہ ہمیشہ یہی کہتیں:“میں بالکل ٹھیک ہوں بیٹا۔
بس خوش رہا کرو۔”اور ہم یقین کر لیتے۔
پچھلے مہینے دفتر کے کام سے اچانک گلف جانا پڑا تو پاکستان چکر لگانے کا فیصلہ بھی کر لیا۔
میں نے امّی کو نہیں بتایا۔سوچا امّی کو حیران کردوں گا۔
رات تقریباً گیارہ بجے میں گلی میں داخل ہوا تو پورا محلہ ویسا ہی تھا۔
وہی پکوڑوں والے کی خوشبو۔
وہی دور کسی گھر سے آتی نیوز کی آواز۔
وہی بجلی کے تاروں پر بیٹھے پرندے۔
صرف ایک چیز بدلی تھی۔
میرا اپنا گھر اب پہلے سے بہت چھوٹا لگ رہا تھا۔
میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
کافی دیر بعد اندر سے چپل گھسیٹنے کی آواز آئی۔
پھر کنڈی کھلی۔
اور امّی سامنے کھڑی تھیں۔
چند سیکنڈ تک وہ صرف مجھے دیکھتی رہیں۔
جیسے آنکھیں یقین اور خواب کے درمیان پھنس گئی ہوں۔
پھر اُنہوں نے کانپتے ہوئے ہاتھ سے میرا چہرہ چھوا۔
“سچ میں تم ہو…؟”بس اتنا کہا۔
اور میری ساری کامیابیاں اُس ایک جملے کے سامنے چھوٹی پڑ گئیں۔
گھر میں داخل ہوا تو عجیب خاموشی تھی۔
وہی فرنیچر۔وہی پردے۔وہی ابو کی پرانی کرسی۔مگر گھر میں “رہنا” ختم ہو چکا تھا۔
اب وہاں صرف “وقت گزر” رہا تھا۔
امّی فوراً کچن میں چلی گئیں۔
میں نے کہا:“امّی رہنے دیں، میں باہر سے کچھ منگوا لیتا ہوں۔”
وہ ہنس پڑیں۔
“ستائیس سال امریکہ رہ کر بھی تمہیں یہ نہیں سمجھ آئی کہ ماں کے گھر میں کھانا منگوایا نہیں جاتا؟”
چند منٹ بعد وہ چائے لے آئیں۔دو کپ۔
بالکل ویسے ہی جیسے ابو کے زندہ ہونے کے زمانے میں بنایا کرتی تھیں۔
ہم دونوں اُس پرانی میز کے پاس بیٹھ گئے… جس کے ایک کونے کی لکڑی اب بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔
میں نے پہلی بار غور سے گھر کو دیکھا۔
دیوار پر ہمارا پرانا اسکول گروپ فوٹو اب بھی لگا تھا۔
میرے کمرے کے دروازے پر آج بھی میرا نام اسٹیکر سے چپکا ہوا تھا۔
اور کچن کے کیلنڈر پر امریکہ اور پاکستان کے وقت لکھے ہوئے تھے۔
نیویارک۔لاہور۔فرق: دس گھنٹے۔
مجھے عجیب سا احساس ہوا۔
امّی نے اپنی زندگی دو Time Zone میں تقسیم کر رکھی تھی۔
ایک اپنے لیے۔اور ایک ہمارے لیے۔
چائے پیتے ہوئے وہ چھوٹی چھوٹی باتیں کرتی رہیں۔
محلے کے اشفاق انکل فوت ہو گئے۔سامنے والے گھر میں نئی فیملی آ گئی۔
اور اس سال آم بہت میٹھے آئے ہیں۔
پھر اچانک وہ خاموش ہو گئیں۔
کافی دیر تک کپ کے کنارے پر انگلی پھیرتی رہیں۔
پھر بولیں:“تمہیں پتا ہے…میں اب بھی رات کو تمہارے کمرے کی لائٹ جلا دیتی ہوں کبھی کبھی۔”
میں چونکا۔“کیوں؟”
وہ ہلکا سا مسکرائیں۔“عادت ہے نا۔پہلے تم دیر تک پڑھتے رہتے تھے۔
اب کبھی کبھی لگتا ہے شاید تم لوگ اچانک واپس آ جاؤ گے۔”
خدا گواہ ہے…
اُس لمحے مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ ہجرت صرف اُن لوگوں کی نہیں ہوتی جو ملک چھوڑتے ہیں۔
اصل ہجرت اُن ماں باپ کی ہوتی ہے…
جو اپنی اولاد کے بعد اُسی گھر میں رہ جاتے ہیں۔
اگلی صبح جب میں اٹھا تو امّی پہلے ہی جاگ رہی تھیں۔
فجر کے بعد کا وقت تھا۔
وہ صحن میں پودوں کو پانی دے رہی تھیں۔
میں دروازے کے ساتھ کھڑا اُنہیں دیکھتا رہا۔
پہلے کبھی غور نہیں کیا تھا…
بوڑھے لوگ چلتے نہیں، اپنی یادوں کو آہستہ آہستہ اٹھائے پھرتے ہیں۔
میں نے کہا:“امّی، اتنی صبح کیوں اٹھ گئی ہیں؟”
وہ مسکرائیں۔
“بڑھاپے میں نیند بھی انسان سے پہلے بوڑھی ہو جاتی ہے۔”
پھر میرے پاس بیٹھ گئیں۔
کافی دیر خاموش رہیں۔
پھر آہستہ سے بولیں:“تمہیں پتا ہے…میں اب بھی شام کو دو کپ چائے بنا لیتی ہوں کبھی کبھی۔”
“دو کپ؟” میں نے حیرانی سے پوچھا
وہ ہنسیں۔
“پھر یاد آتا ہے تم لوگ تو یہاں نہیں ہوتے۔”
اُن کی ہنسی ختم ہوتے ہوتے آواز بھیگ گئی۔
اور اُس لمحے مجھے محسوس ہوا…
تنہائی شور نہیں کرتی۔
وہ انسان کی عادتوں میں آ کر رہنے لگتی ہے۔
میں نے وہیں فیصلہ کر لیا۔میں اگلے دن واپس نہیں گیا۔
دفتر میں چھٹی بڑھا دی۔ٹکٹ آگے کر دی۔
اور کئی برسوں بعد پہلی بار گھڑی دیکھنا چھوڑ دیا۔
اگلے چند دنوں میں میں نے ایک عجیب تبدیلی دیکھی۔
امّی بدلنے لگیں۔
آہستہ آہستہ۔
جیسے کسی سوکھے پودے کو دوبارہ پانی مل جائے۔
وہ صبح ناشتہ بناتے ہوئے گنگنانے لگتیں۔
پرانے صندوق کھول کر ہماری بچپن کی چیزیں نکالتیں۔
محلے والی خالہ کو فخر سے بتاتیں:“میرا بیٹا آیا ہوا ہے امریکہ سے…”
اور ہر رات سونے سے پہلے پوچھتیں:“کل کہیں باہر چلیں؟”
ایک دن میں اُنہیں انارکلی لے گیا۔
وہی بازار جہاں بچپن میں وہ میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑتی تھیں کہ کہیں رش میں کھو نہ جاؤں۔
اُس دن وہ میرا بازو پکڑ کر چل رہی تھیں۔وقت شاید اسی کو کہتے ہیں۔
راستے میں انہوں نے ایک چھوٹی سی دکان سے میرے لیے کھسہ خریدنے کی ضد کی۔
میں ہنس پڑا۔“امّی، میں امریکہ میں یہ کہاں پہنوں گا؟”
وہ چند لمحے خاموش رہیں۔
ھر بولیں:“پتہ نہیں بیٹا…ماں کو بس یہ لگتا ہے کہ بچہ کچھ لے کر جائے۔”
اُس رات میں بہت دیر تک سو نہیں سکا۔
میں سوچتا رہا…
ہم امریکہ جا کر بڑے گھر خرید لیتے ہیں۔بڑی گاڑیاں۔بڑی تنخواہیں۔بڑی مصروفیات۔
مگر ہمارے ماں باپ اُسی پرانے گھر میں ہماری چھوٹی چھوٹی عادتوں کے ساتھ رہ جاتے ہیں۔
میرے واپس آنے سے ایک رات پہلے امّی میرے کمرے میں آئیں۔
میں کپڑے پیک کر رہا تھا۔وہ دروازے پر کافی دیر کھڑی رہیں۔
پھر بولیں:“ایک بات پوچھوں؟”
“جی امّی۔”
“تم خوش ہو وہاں؟”
میں جواب نہ دے سکا۔
کیونکہ پہلی بار مجھے لگا…
سکون اور کامیابی ایک چیز نہیں ہوتے۔
میں نے اُن کا ہاتھ پکڑ لیا۔
وہ بہت ہلکا ہو چکا تھا۔
جیسے وقت آہستہ آہستہ اُنہیں دنیا سے کم کرتا جا رہا ہو۔
پھر وہ مسکرائیں اور بولیں:“فکر نہ کرو۔میں ٹھیک ہوں"۔
یہ دنیا کا سب سے جھوٹا جملہ ہے۔
اگلی صبح جب میں ایئرپورٹ کے لیے نکلا تو امّی ہمیشہ کی طرح دروازے تک آئیں۔
میں گاڑی میں بیٹھا تو وہ کافی دیر تک دروازے کے پاس کھڑی رہیں۔
بالکل ویسے ہی… جیسے بچپن میں اسکول جاتے وقت کھڑی رہا کرتی تھیں۔
میں ایئر پورٹ کے آدھے راستے تک پہنچا تو محسوس ہوا کہ چہرہ آنسووں سے بھیگ چکا ہے ۔
میں نے  ڈرائیور  سے کہا گاڑی واپس موڑ لو گھر چلنا ہے ۔
گھر پہنچا ڈرائیور کو پیسے دے کر رخصت کیا ۔
 بیگ سائیڈ پر رکھے خاموشی سے دبے پاؤں امی کے کمرے میں آیا ۔
 امی کروٹ سے بستر پر لیٹی تھیں جسم ہل رہا تھا وہ ہچکیوں سے رو رہی تھیں۔
 میں نے آہستگی سے ان کے پیروں پر ہاتھ رکھا ، ایک دم ڈر کر اٹھ بیٹھیں ۔
چہرے پر حیرت " تم گئے نہیں ، فلائٹ نکل ۔جائے گی ۔
میں نے کہا ، کہیں نہیں جا رہا نکل جانے دیں فلائٹ ۔
میں فیصلہ کر چکا تھا جب تک امی ہیں میں اب یہیں ہوں۔
 چلا گیا تو اس بوجھ تلے امی سے پہلے مر جاؤں گا کہ جب امی کو میری ضرورت تھی میں نہیں تھا۔
 پیسہ اور سکون اکثر دونوں ساتھ نہیں ملتے ، میں نے سکون کو چن لیا تھا ۔
  والدین کبھی مرتے نہیں بلکہ وہ لوگ مر جاتے ہیں جو انہیں بھول جاتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭

جمعہ، 6 فروری، 2026

ڈگریوں کا قبرستان

ذہانت کا جلاوطن: سر کین رابنسن کے افکار اور ہماری تعلیمی فیکٹریاں 
​سر کین رابنسن (Sir Ken Robinson) کی شہرہ آفاق گفتگو صرف ایک تقریر نہیں بلکہ ہمارے بوسیدہ تعلیمی ڈھانچے کے تابوت میں آخری کیل ہے۔ پچھلی گفتگو کے تسلسل میں، ہم (بطور اساتذہ اور والدین) اس دیسی پوسٹ مارٹم کو مزید آگے بڑھاتے ہیں، کیونکہ مرض صرف پرانا نہیں، اب یہ ناسور بن چکا ہے۔
1. مضامین کی "ذات پات" کا نظام اور "سائنسی بھوت"
​رابنسن بڑی خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں کہ دنیا کے ہر تعلیمی نظام میں مضامین کی ایک ہی درجہ بندی یعنی "ہائیرارکی آف سبجیکٹس" (Hierarchy of Subjects) پائی جاتی ہے۔ سب سے اوپر ریاضی اور زبانیں، اس کے بعد انسانیات یعنی "ہیومینٹیز" (Humanities) اور سب سے نچلے درجے پر فنونِ لطیفہ۔
​ہمارے دیسی سیاق و سباق میں یہ درجہ بندی ذات پات کے نظام سے زیادہ سخت ہے۔ اگر کوئی بچہ ریاضی میں کمزور ہے تو ہم اسے "کند ذہن" کا لیبل لگا کر کسی کونے میں بٹھا دیتے ہیں۔ ہم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ رقص، ڈرامہ یا مصوری بھی اتنی ہی اہم ہو سکتی ہے جتنی کہ ریاضی۔ ہمارے ہاں آرٹس پڑھنے والے کو ایسے دیکھا جاتا ہے جیسے وہ کسی سنگین جرم کا ارتکاب کر رہا ہو یا مستقبل میں بے روزگاری کے لیے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کر رہا ہو۔ ہم میں سے اکثر اساتذہ جانتے ہیں کہ ہم بچوں کے ادھورے وجود کو پروان چڑھا رہے ہیں؛ ہم انہیں ریاضی کے سوال حل کرنا تو سکھاتے ہیں، مگر زندگی کی پہیلیوں کو حل کرنے کے لیے جس "ڈائیورجنٹ تھنکنگ" (Divergent Thinking) کی ضرورت ہے، اسے نصاب سے خارج کر چکے ہیں۔
2. شیکسپیئر، غالب اور ریاضی کی کلاس کا المیہ
​رابنسن ایک بڑا دلچسپ سوال اٹھاتے ہیں: "کیا آپ کو لگتا ہے کہ شیکسپیئر کبھی بچہ تھا؟" ظاہر ہے وہ تھا، اور شاید کسی انگریزی کی کلاس میں بیٹھا بور بھی ہو رہا ہوگا۔
​ذرا تصور کریں، ہمارے کلاس روم میں ایک ننھا "غالب" بیٹھا ہو اور استاد صاحب اسے الجبرا کے فارمولے رٹا رہے ہوں۔ اگر وہ بچہ کھڑکی سے باہر دیکھ کر کوئی شعر گنگنانے لگے تو اس کی وہ درگت بنے گی کہ شاعری تو دور، وہ عام بات کرنے سے بھی جائے گا۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر بچہ پیدائشی فنکار ہوتا ہے؛ مشکل یہ ہے کہ بڑا ہو کر فنکار کیسے رہا جائے۔ جیسا کہ پکاسو نے کہا تھا، ہم بڑے ہو کر تخلیق کار نہیں بنتے، بلکہ ہم "تخلیق سے باہر" (Grow out of creativity) ہو جاتے ہیں—یا زیادہ درست الفاظ میں، ہمیں تعلیم کے ذریعے تخلیق سے باہر کر دیا جاتا ہے۔
4. تین طرح کی ذہانت اور ہمارا "یک دِماغی" نظام
​سر کین رابنسن کے مطابق انسانی ذہانت تین طرح کی ہوتی ہے، اور بدقسمتی سے ہمارا نظام ان تینوں کا منکر ہے:
​ذہانت متنوع ہے (Diverse): ہم دنیا کا تجربہ اپنی تمام حسیات سے کرتے ہیں، صرف نصابی کتابوں سے نہیں۔ لیکن اسکولوں میں ہم بچوں کو ایسے سدھاتے ہیں جیسے وہ صرف "منطقی تجزیے" (Logical Reasoning) کی مشینیں ہوں۔
​ذہانت متحرک ہے (Dynamic): انسانی دماغ خانوں میں بٹا ہوا نہیں ہے۔ تخلیقی عمل اکثر غیر متوقع رابطوں سے جنم لیتا ہے۔ لیکن ہمارا نظام مضامین کو الگ الگ "سیلوز" (Silos) میں پڑھاتا ہے، جہاں طبیعات کا کیمیا سے اور کیمیا کا زندگی سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔
​ذہانت منفرد ہے (Distinct): ہر بچے کا ٹیلنٹ الگ ہے۔ جب ہم سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہیں اور ایک ہی پیمانے (گریڈز) پر پرکھتے ہیں، تو ہم بہت سے ہونہار بچوں کو یہ یقین دلا دیتے ہیں کہ وہ نالائق ہیں، صرف اس لیے کہ وہ ہمارے بنائے ہوئے تنگ سانچے میں فٹ نہیں آتے۔
5. تعلیمی افراطِ زر (Academic Inflation) اور ڈگریوں کا سراب
​رابنسن کا ایک اور اہم نکتہ "اکیڈمک انفلیشن" (Academic Inflation) ہے۔ گزشتہ صدی میں جو نوکری بی اے (BA) کی بنیاد پر مل جاتی تھی، آج اس کے لیے ایم اے (MA) یا پی ایچ ڈی (PhD) مانگا جا رہا ہے۔
​ہم نے تعلیم کو ایک بازار بنا دیا ہے جہاں ڈگری کی قدر کرنسی کی طرح گر رہی ہے۔ نتیجہ؟ ہم ایسے نوجوانوں کی فوج تیار کر رہے ہیں جو 30 سال کی عمر تک یونیورسٹیوں کی خاک چھانتے ہیں، ڈگریوں کے انبار لگاتے ہیں، اور پھر جب عملی زندگی میں آتے ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کا وہ "کاغذی علم" حقیقی دنیا کے مسائل حل کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ ہم میں سے جو لوگ یونیورسٹیوں میں پڑھاتے ہیں، یہ دیکھ کر کڑھتے ہیں کہ طالب علم علم کی پیاس بجھانے نہیں، بلکہ صرف اس کاغذ کے ٹکڑے (ڈگری) کو حاصل کرنے آتے ہیں جسے وہ "مستقبل کی ضمانت" سمجھتے ہیں۔
6. حتمی نکتہ: میکانکی نہیں، نامیاتی نظام کی ضرورت
​آخر میں، رابنسن تعلیم کو "مینوفیکچرنگ ماڈل"
(Manufacturing Model) سے نکال کر "ایگریکلچرل ماڈل" (Agricultural Model) پر لانے کی بات کرتے ہیں۔ فیکٹری میں چیزیں یکساں بنتی ہیں، لیکن کھیتی باڑی میں آپ پودے کو زبردستی بڑا نہیں کر سکتے؛ آپ کو صرف سازگار ماحول فراہم کرنا ہوتا ہے، پودا خود اپنی جڑیں مضبوط کرتا ہے۔
​ہمیں اپنے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو فیکٹریوں کی بجائے باغوں میں بدلنا ہوگا۔ جہاں ہر بچے کو ایک الگ قسم کا پھول سمجھا جائے، نہ کہ اینٹ جو کسی دیوار میں چن دی جائے۔ "ہم" (بطور معاشرہ) اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتے جب تک ہم اپنی "انسانی وسائل" (Human Resources) کی کان کنی بند کر کے ان کی آبیاری شروع نہیں کرتے۔
​مستقبل ان کا ہے جو لکیر کے فقیر نہیں، بلکہ نئی راہیں تراشنے والے ہیں۔ اور یہ راہیں تبھی نکلیں گی جب ہم اپنی "تخلیقی صلاحیتوں" (Creative Capacities) کو اپنی امیدوں کی طرح وسیع کریں گے۔
٭٭٭٭٭٭٭

اتوار، 18 جنوری، 2026

آرٹیمس -2 ناسا کا خلائی مشن

  آرٹیمس II مشن NASA کے خلائی لانچ سسٹم (SLS) اور اورین خلائی جہاز کی پہلی عملہ پرواز کے طور پر ایک اہم لمحے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ستمبر 2025 کے لیے طے شدہ، آرٹیمس II تقریباً 10 دن کے مشن پر خلابازوں کو بھیجنے کے لیے تیار ہے، جو چاند کے سب سے دور انسانی سفر کا ریکارڈ قائم کر کے تاریخ رقم کرے گا۔ Artemis I مشن کی کامیابی اور جانچ کے لیے وقف کردہ ہزاروں گھنٹے کی بنیاد پر، Artemis II SLS راکٹ کے بلاک 1 کنفیگریشن پر کینیڈی اسپیس سینٹر سے چار خلابازوں کا عملہ شروع کرے گا۔ یہ پرواز ایک ہائبرڈ فری ریٹرن ٹریکٹری کا استعمال کرے گی، جس سے اورین خلائی جہاز کو زمین کے گرد اپنے مدار کو بڑھانے کے لیے متعدد تدبیریں کرنے کی اجازت دی جائے گی اور آخر کار عملے کو قمری مفت واپسی کی رفتار پر رکھا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ زمین کی کشش ثقل قدرتی طور پر چاند کے گرد پرواز کرنے کے بعد اورین کو گھر واپس لے جائے گی۔ 
آرٹیمیس II کی اہم جھلکیاں:
٭۔ 1. تاریخی مشن: خلابازوں کے ساتھ پہلی SLS اور اورین پرواز کے طور پر، یہ مشن NASA کے آرٹیمس پروگرام میں ایک اہم سنگ میل کی نمائندگی کرتا ہے۔
٭۔ 2. ریکارڈ توڑ سفر: یہ مشن خلائی تحقیق کی حدود کو آگے بڑھاتے ہوئے، چاند سے آگے انسانوں کے سب سے زیادہ فاصلے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کرے گا۔  

٭3. جدید پرواز کا راستہ: ہائبرڈ مفت واپسی کا راستہ حفاظت اور کارکردگی کو بڑھاتا ہے، جو قمری پرواز کے بعد زمین پر قدرتی واپسی کی اجازت دیتا ہے۔ Artemis II صرف ایک مشن نہیں ہے؛ یہ چاند پر پائیدار انسانی موجودگی کو قائم کرنے اور مستقبل کے مریخ کی تلاش کی تیاری کی طرف ایک بڑی چھلانگ ہے۔ جب ہم خلائی ہفتہ منا رہے ہیں، آئیے اس اہم مشن اور خلاء میں انسانیت کے مستقبل کے لیے جو دلچسپ امکانات لاتے ہیں ان پر نظر رکھیں۔



٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔