میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 23 جون، 2020

أحسن الحديث كتابا متشابها مثاني

روح القدّس نے  مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ کو اللہ کا ناقابلِ تبدیل حکم ، إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ  ، کا نعرہ لگانے والوں کے لئے  ، آيات الكتاب المبين،   میں  کتاب اللہ  سے مثال دیتے ہوئے  بتایا  ، کہأُولِي الْأَلْبَابِ  پر تلاوت کر دو!:
 أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَكَهُ يَنَابِيعَ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهُ حُطَامًا ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ ﴿39:21﴾

 فہم مہاجرزادہ:
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً
 کیا تجھے  ( رسول اللہ ) نظر آتا ہے ،   صرف اللَّـهَ  نے، نازل کیا ، السَّمَاءِمیں سے ، مَاءً-
 فَسَلَكَهُ يَنَابِيعَ فِي الْأَرْضِ
 پس اُس میں    ڈالے        اُس کے،         يَنَابِيعَ (جاری رہنے والے  چشمے )،    اُس   الْأَرْضِ  میں،
  ثُمَّ يُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ
 پھر وہ اخراج کرتا  رہتا ہے ، اِس   (مَاءً) کے ساتھ، زَرْعًا(  زراعت)،         مُّخْتَلِفًا(مختلف)،  أَلْوَانُهُ (اس زراعت کےخصوصی رنگ )
  ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا
  پھر وہ    يَهِيجُ  ( پک  )جاتی رہتی ہے ،پس تو انہیں دیکھتا ہے  ،   مُصْفَرًّا(زرد  کیا گیا )، 
  ثُمَّ يَجْعَلُهُ حُطَامًا ۚ 
 پھر وہ اسے   قرار دیتا رہتا ہے  ، حُطَامًا  (چورا چورا )،

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ
صرف اِس میں ،  وہ        ، ذکر کے لئے ۔   أُولِي الْأَلْبَابِ کے لئے ہے
  نوٹ: اگر ہم اِس آیت پر تدبّر کریں ۔ تو یہ   کائینا ت ( کتاب اللہ )  سے ایسی  مثال ہے جو ہم سب انسانوں  کی ،  آنکھوں کے سامنے  واقع  ہوتی رہتی ہے !پانی ہر جاندار کی بقاء کے لئے ضروری ہے ۔ اگر  پانی نہ ہو تو زمین پر  کو ئی زراعت نہ ہو ،یہاں تک کہ زیر زمین نمکین  رکھنے والی زمینوں پر بھی کچھ نہ کچھ  نباتات اُگتی ہے ۔ سوائےسیم و  تھور زدہ زمینوں کے -  


 أَفَمَن شَرَحَ اللَّـهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ ۚ فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللَّـهِ ۚ أُولَـٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿39:22﴾ 

 فہم مہاجرزادہ:
 أَفَمَن شَرَحَ اللَّـهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ ۚ 
 کیا پس جو  ، جس کا، صَدْرَ   ( دماغ )   اللہ نے اسلام کے لئے   شَرَحَ کر دیا ہو ؟
 فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ ۚ
پس وہ اپنے رَبّ  میں سےنُورٍ  پر ہے ! 

فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللَّـهِ ۚ
پس افسوس ہے ،اُن کی الْقَاسِيَةِ  (خصوصی سختی )  کے لئے ،    اُن کے قُلُوبُ  (ذہنوں )   میں     ہے ، ذِكْرِ اللَّـهِ   میں سے ۔
  أُولَـٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
 و ہ سب  ضَلَالٍ مُّبِينٍمیں ہیں ۔
نوٹ: اِس آیت کو    اوپر والی آیت   میں دی گئی مثال کے ساتھ  اپنے  ذہن میں تصریف کر کے دونوں کی مطابقت  سمجھیں ۔  تو آپ کو الْأَرْضِ (زمین )   اور صَدْرَ   ( دماغ )    میں مطابقت ملے گی اور   مَاءً (پانی ) اور نُورٍ مِّن رَّبِّهِ       ( ربّ  کی طرف سے نور)   میں مطابقت ملے گی- 
کتاب اللہ - جو ہمارے چاروں طرف بکھری ہوئی ہے  ۔ جس میں کُن سے تخلیق ہونے والی اللہ کی ہر آیت موجود  ہے ، اُس کے مطابق ،      قُلُوبُ  (ذہنوں ) ، صَدْرَ   ( دماغ ) میں ہوتے ہیں - کیوں کہ  حواسِ خمسہ ، دماغ میں ،ذہن کو جنم دیتے ہیں  اور دل کا کام صرف  خون کو جسم میں پہنچانا ہے ۔ دل کا تعلق حیات سے  ہے   ۔


اللَّـهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّـهِ ۚ ذَٰلِكَ هُدَى اللَّـهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ﴿39:23﴾

 فہم مہاجرزادہ:
 اللَّـهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ
 اللہ نےأَحْسَنَ الْحَدِيثِ ( خاص حدیث میں  بہتر)   نازل  کی !
كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ 
ایک کتاب ،مُّتَشَابِهًا (تیرے لئے وہ  شبہ کر دی  گئی )    ، مَّثَانِيَ(   جڑواں  کر دی گئی )-
 تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ 
 تُو    قْشَعِرّ(ٹھنڈی-Chill)کر دیتا ہے اُس میں  سے     جُلُودُ(جلدیں )   ۔اُن  لوگوں  (کی)   يَخْشَوْنَ (خشی رہتے ہیں )    اُن کے رَبَّ  سے-

ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّـهِ ۚ 
پھر   تُو،   لِينُ  (نرم کرتا ہے )  ، اُن کی  جُلُودُ ( جلدیں ) اور اُن  کے  قُلُوبُ (ذہن)  ، ذِكْرِ اللَّـهِ    کی طرف !
 ذَٰلِكَ هُدَى اللَّـهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاءُ ۚ 
وہ      (أَحْسَنَ الْحَدِيثِ) هُدَى اللَّـهِ ہے  ، جس کے ساتھ وہ  ھدایت کرتا رہتا ہے  اپنی      شَاءُمیں سے ،
 وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ
 اور جو، ضْلِلِ (    گمراہ ) ہوتا رہتا ہے   ، اللہ سے ، پس کوئی      نہیں ، اُس کے لئے  ، هَادٍ    (ھدایت دینے والا)    میں سے ۔

نوٹ : اب آپ  پہلی دونوں آیت کی تصریف  سے تیسری آیا ت کےفہم پر تدبّر کریں ۔ 

پہلی آیت :   میں الارض پر  کتاب اللہ میں ہونے والا عمل وفعل ،  

دوسری آیت: میں ہونے والے انسان کے قلوب   میں کے  ،    مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ کتاب(لکھائی )  ہیں ۔
جو صرف اُس وقت   أَحْسَنَ الْحَدِيثِ بنیں گی -جب اُن کےقلب (ذہن)  پر ذکر اللہ  ، بالارض پر پڑنے والے ، پانی کی طرح اثر کرے گا اور ذہن میں فعلی اور عملی تبدیلی آئے گی ۔

انتباۃ ( وارننگ) :  

 ٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔