Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 7 جولائی، 2026

والدین اور افق کے پار بس جانے والے

میری امّی ستر برس کی ہیں۔
اور لاہور کے اُس گھر میں اکیلی رہتی ہیں۔
 جہاں کبھی ہم تین  ایک دوسرے کی آوازوں میں جیا کرتے تھے ابا ، امی اور میں ۔ امی کی شادی  23 سال کی عمر میں ہوئی ، ابا کی عمر تیس سال تھی ۔
تعلیم کے بعد امی گورنمنٹ  گرلز سکول میں ٹیچر ہوگئیں  ۔ جو ہمارے گھر سے  5 منٹ  کی واک پر تھا با پہلے سے ٹیچر تھے   ۔
ہمارا    5 مرلے  کا   دو کمروں   کا گھر  کرشن نگر میں  تھا ۔
میں 20 سال کی عمر میں 27  سال پہلے امریکہ گیا تھا۔
پہلے تعلیم مکمل کی ۔پھر نوکری مل گئی۔پھر گرین کارڈ۔ پانچ سال بعد مہینے کی چھٹی آیا ۔
 امی ابا نے شادی کروادی  ۔ شادی ہمارے ہی محلے  میں ابا کے دوست کی  یتیم بیٹی سے ہوئی  ۔جوخالہ کے ہاں   پرورش  پا رہی تھی ۔ پانچ سال بعد امریکہ 
 بیوی حاملہ تھی  ،اُس کو لے کر امریکہ آگیا ۔ ہمارے  امریکہ پہنچتے ہی ابا کا انتقال ہوگیا  ۔
 تین ماہ ماہ بعد  گھر بات کی تو صدمہ ہوا  ۔ امّی  سے بات ہوئی ۔ اُنہوں  بس یہ کہا ، بیٹا جو اللہ کی مرضی ۔
بس  اپنی بیوی  کا خیال رکھا کرو  ۔یوں پہلا بچہ  پیدا ہوتے ہیں گرین کارڈ ہولڈر ہو گیا  5 سال بعد بیٹی ہوئی ۔ 
امی سے  ہم ٹیلیفون پر بات کرتے ۔ نہ بیوی کو پاکستان جانے کا شوق   اور  میرے پاس بھی فرصت نہیں ۔
اور پھر زندگی اتنی تیز ہو گئی کہ وقت صرف کلینڈر کی تاریخوں میں رہ گیا۔
شروع شروع میں امّی روز فون کرتی تھیں۔
“کھانا وقت پر کھا لینا…”
“اتنی برف میں باہر نہ نکلا کرو…”
“اپنی بیوی کو میرے لیے سلام کہنا…”
پھر آہستہ آہستہ اُنہوں نے کالز کم کر دیں۔
کیونکہ بوڑھے والدین ایک وقت کے بعد اپنی محبت بھی دھیمی کر دیتے ہیں… تاکہ اولاد کو بوجھ محسوس نہ ہو۔
ہم ہر ہفتے ویڈیو کال کر لیتے تھے۔امّی ہمیشہ ٹھیک لگتیں۔بالوں میں سفیدی بڑھتی جا رہی تھی۔
آواز پہلے سے ہلکی ہو گئی تھی۔مگر وہ ہمیشہ یہی کہتیں:“میں بالکل ٹھیک ہوں بیٹا۔
بس خوش رہا کرو۔”اور ہم یقین کر لیتے۔
پچھلے مہینے دفتر کے کام سے اچانک گلف جانا پڑا تو پاکستان چکر لگانے کا فیصلہ بھی کر لیا۔
میں نے امّی کو نہیں بتایا۔سوچا امّی کو حیران کردوں گا۔
رات تقریباً گیارہ بجے میں گلی میں داخل ہوا تو پورا محلہ ویسا ہی تھا۔
وہی پکوڑوں والے کی خوشبو۔
وہی دور کسی گھر سے آتی نیوز کی آواز۔
وہی بجلی کے تاروں پر بیٹھے پرندے۔
صرف ایک چیز بدلی تھی۔
میرا اپنا گھر اب پہلے سے بہت چھوٹا لگ رہا تھا۔
میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
کافی دیر بعد اندر سے چپل گھسیٹنے کی آواز آئی۔
پھر کنڈی کھلی۔
اور امّی سامنے کھڑی تھیں۔
چند سیکنڈ تک وہ صرف مجھے دیکھتی رہیں۔
جیسے آنکھیں یقین اور خواب کے درمیان پھنس گئی ہوں۔
پھر اُنہوں نے کانپتے ہوئے ہاتھ سے میرا چہرہ چھوا۔
“سچ میں تم ہو…؟”بس اتنا کہا۔
اور میری ساری کامیابیاں اُس ایک جملے کے سامنے چھوٹی پڑ گئیں۔
گھر میں داخل ہوا تو عجیب خاموشی تھی۔
وہی فرنیچر۔وہی پردے۔وہی ابو کی پرانی کرسی۔مگر گھر میں “رہنا” ختم ہو چکا تھا۔
اب وہاں صرف “وقت گزر” رہا تھا۔
امّی فوراً کچن میں چلی گئیں۔
میں نے کہا:“امّی رہنے دیں، میں باہر سے کچھ منگوا لیتا ہوں۔”
وہ ہنس پڑیں۔
“ستائیس سال امریکہ رہ کر بھی تمہیں یہ نہیں سمجھ آئی کہ ماں کے گھر میں کھانا منگوایا نہیں جاتا؟”
چند منٹ بعد وہ چائے لے آئیں۔دو کپ۔
بالکل ویسے ہی جیسے ابو کے زندہ ہونے کے زمانے میں بنایا کرتی تھیں۔
ہم دونوں اُس پرانی میز کے پاس بیٹھ گئے… جس کے ایک کونے کی لکڑی اب بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔
میں نے پہلی بار غور سے گھر کو دیکھا۔
دیوار پر ہمارا پرانا اسکول گروپ فوٹو اب بھی لگا تھا۔
میرے کمرے کے دروازے پر آج بھی میرا نام اسٹیکر سے چپکا ہوا تھا۔
اور کچن کے کیلنڈر پر امریکہ اور پاکستان کے وقت لکھے ہوئے تھے۔
نیویارک۔لاہور۔فرق: دس گھنٹے۔
مجھے عجیب سا احساس ہوا۔
امّی نے اپنی زندگی دو Time Zone میں تقسیم کر رکھی تھی۔
ایک اپنے لیے۔اور ایک ہمارے لیے۔
چائے پیتے ہوئے وہ چھوٹی چھوٹی باتیں کرتی رہیں۔
محلے کے اشفاق انکل فوت ہو گئے۔سامنے والے گھر میں نئی فیملی آ گئی۔
اور اس سال آم بہت میٹھے آئے ہیں۔
پھر اچانک وہ خاموش ہو گئیں۔
کافی دیر تک کپ کے کنارے پر انگلی پھیرتی رہیں۔
پھر بولیں:“تمہیں پتا ہے…میں اب بھی رات کو تمہارے کمرے کی لائٹ جلا دیتی ہوں کبھی کبھی۔”
میں چونکا۔“کیوں؟”
وہ ہلکا سا مسکرائیں۔“عادت ہے نا۔پہلے تم دیر تک پڑھتے رہتے تھے۔
اب کبھی کبھی لگتا ہے شاید تم لوگ اچانک واپس آ جاؤ گے۔”
خدا گواہ ہے…
اُس لمحے مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ ہجرت صرف اُن لوگوں کی نہیں ہوتی جو ملک چھوڑتے ہیں۔
اصل ہجرت اُن ماں باپ کی ہوتی ہے…
جو اپنی اولاد کے بعد اُسی گھر میں رہ جاتے ہیں۔
اگلی صبح جب میں اٹھا تو امّی پہلے ہی جاگ رہی تھیں۔
فجر کے بعد کا وقت تھا۔
وہ صحن میں پودوں کو پانی دے رہی تھیں۔
میں دروازے کے ساتھ کھڑا اُنہیں دیکھتا رہا۔
پہلے کبھی غور نہیں کیا تھا…
بوڑھے لوگ چلتے نہیں، اپنی یادوں کو آہستہ آہستہ اٹھائے پھرتے ہیں۔
میں نے کہا:“امّی، اتنی صبح کیوں اٹھ گئی ہیں؟”
وہ مسکرائیں۔
“بڑھاپے میں نیند بھی انسان سے پہلے بوڑھی ہو جاتی ہے۔”
پھر میرے پاس بیٹھ گئیں۔
کافی دیر خاموش رہیں۔
پھر آہستہ سے بولیں:“تمہیں پتا ہے…میں اب بھی شام کو دو کپ چائے بنا لیتی ہوں کبھی کبھی۔”
“دو کپ؟” میں نے حیرانی سے پوچھا
وہ ہنسیں۔
“پھر یاد آتا ہے تم لوگ تو یہاں نہیں ہوتے۔”
اُن کی ہنسی ختم ہوتے ہوتے آواز بھیگ گئی۔
اور اُس لمحے مجھے محسوس ہوا…
تنہائی شور نہیں کرتی۔
وہ انسان کی عادتوں میں آ کر رہنے لگتی ہے۔
میں نے وہیں فیصلہ کر لیا۔میں اگلے دن واپس نہیں گیا۔
دفتر میں چھٹی بڑھا دی۔ٹکٹ آگے کر دی۔
اور کئی برسوں بعد پہلی بار گھڑی دیکھنا چھوڑ دیا۔
اگلے چند دنوں میں میں نے ایک عجیب تبدیلی دیکھی۔
امّی بدلنے لگیں۔
آہستہ آہستہ۔
جیسے کسی سوکھے پودے کو دوبارہ پانی مل جائے۔
وہ صبح ناشتہ بناتے ہوئے گنگنانے لگتیں۔
پرانے صندوق کھول کر ہماری بچپن کی چیزیں نکالتیں۔
محلے والی خالہ کو فخر سے بتاتیں:“میرا بیٹا آیا ہوا ہے امریکہ سے…”
اور ہر رات سونے سے پہلے پوچھتیں:“کل کہیں باہر چلیں؟”
ایک دن میں اُنہیں انارکلی لے گیا۔
وہی بازار جہاں بچپن میں وہ میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑتی تھیں کہ کہیں رش میں کھو نہ جاؤں۔
اُس دن وہ میرا بازو پکڑ کر چل رہی تھیں۔وقت شاید اسی کو کہتے ہیں۔
راستے میں انہوں نے ایک چھوٹی سی دکان سے میرے لیے کھسہ خریدنے کی ضد کی۔
میں ہنس پڑا۔“امّی، میں امریکہ میں یہ کہاں پہنوں گا؟”
وہ چند لمحے خاموش رہیں۔
ھر بولیں:“پتہ نہیں بیٹا…ماں کو بس یہ لگتا ہے کہ بچہ کچھ لے کر جائے۔”
اُس رات میں بہت دیر تک سو نہیں سکا۔
میں سوچتا رہا…
ہم امریکہ جا کر بڑے گھر خرید لیتے ہیں۔بڑی گاڑیاں۔بڑی تنخواہیں۔بڑی مصروفیات۔
مگر ہمارے ماں باپ اُسی پرانے گھر میں ہماری چھوٹی چھوٹی عادتوں کے ساتھ رہ جاتے ہیں۔
میرے واپس آنے سے ایک رات پہلے امّی میرے کمرے میں آئیں۔
میں کپڑے پیک کر رہا تھا۔وہ دروازے پر کافی دیر کھڑی رہیں۔
پھر بولیں:“ایک بات پوچھوں؟”
“جی امّی۔”
“تم خوش ہو وہاں؟”
میں جواب نہ دے سکا۔
کیونکہ پہلی بار مجھے لگا…
سکون اور کامیابی ایک چیز نہیں ہوتے۔
میں نے اُن کا ہاتھ پکڑ لیا۔
وہ بہت ہلکا ہو چکا تھا۔
جیسے وقت آہستہ آہستہ اُنہیں دنیا سے کم کرتا جا رہا ہو۔
پھر وہ مسکرائیں اور بولیں:“فکر نہ کرو۔میں ٹھیک ہوں"۔
یہ دنیا کا سب سے جھوٹا جملہ ہے۔
اگلی صبح جب میں ایئرپورٹ کے لیے نکلا تو امّی ہمیشہ کی طرح دروازے تک آئیں۔
میں گاڑی میں بیٹھا تو وہ کافی دیر تک دروازے کے پاس کھڑی رہیں۔
بالکل ویسے ہی… جیسے بچپن میں اسکول جاتے وقت کھڑی رہا کرتی تھیں۔
میں ایئر پورٹ کے آدھے راستے تک پہنچا تو محسوس ہوا کہ چہرہ آنسووں سے بھیگ چکا ہے ۔
میں نے  ڈرائیور  سے کہا گاڑی واپس موڑ لو گھر چلنا ہے ۔
گھر پہنچا ڈرائیور کو پیسے دے کر رخصت کیا ۔
 بیگ سائیڈ پر رکھے خاموشی سے دبے پاؤں امی کے کمرے میں آیا ۔
 امی کروٹ سے بستر پر لیٹی تھیں جسم ہل رہا تھا وہ ہچکیوں سے رو رہی تھیں۔
 میں نے آہستگی سے ان کے پیروں پر ہاتھ رکھا ، ایک دم ڈر کر اٹھ بیٹھیں ۔
چہرے پر حیرت " تم گئے نہیں ، فلائٹ نکل ۔جائے گی ۔
میں نے کہا ، کہیں نہیں جا رہا نکل جانے دیں فلائٹ ۔
میں فیصلہ کر چکا تھا جب تک امی ہیں میں اب یہیں ہوں۔
 چلا گیا تو اس بوجھ تلے امی سے پہلے مر جاؤں گا کہ جب امی کو میری ضرورت تھی میں نہیں تھا۔
 پیسہ اور سکون اکثر دونوں ساتھ نہیں ملتے ، میں نے سکون کو چن لیا تھا ۔
  والدین کبھی مرتے نہیں بلکہ وہ لوگ مر جاتے ہیں جو انہیں بھول جاتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭

جمعہ، 6 فروری، 2026

ڈگریوں کا قبرستان

ذہانت کا جلاوطن: سر کین رابنسن کے افکار اور ہماری تعلیمی فیکٹریاں 
​سر کین رابنسن (Sir Ken Robinson) کی شہرہ آفاق گفتگو صرف ایک تقریر نہیں بلکہ ہمارے بوسیدہ تعلیمی ڈھانچے کے تابوت میں آخری کیل ہے۔ پچھلی گفتگو کے تسلسل میں، ہم (بطور اساتذہ اور والدین) اس دیسی پوسٹ مارٹم کو مزید آگے بڑھاتے ہیں، کیونکہ مرض صرف پرانا نہیں، اب یہ ناسور بن چکا ہے۔
1. مضامین کی "ذات پات" کا نظام اور "سائنسی بھوت"
​رابنسن بڑی خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں کہ دنیا کے ہر تعلیمی نظام میں مضامین کی ایک ہی درجہ بندی یعنی "ہائیرارکی آف سبجیکٹس" (Hierarchy of Subjects) پائی جاتی ہے۔ سب سے اوپر ریاضی اور زبانیں، اس کے بعد انسانیات یعنی "ہیومینٹیز" (Humanities) اور سب سے نچلے درجے پر فنونِ لطیفہ۔
​ہمارے دیسی سیاق و سباق میں یہ درجہ بندی ذات پات کے نظام سے زیادہ سخت ہے۔ اگر کوئی بچہ ریاضی میں کمزور ہے تو ہم اسے "کند ذہن" کا لیبل لگا کر کسی کونے میں بٹھا دیتے ہیں۔ ہم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ رقص، ڈرامہ یا مصوری بھی اتنی ہی اہم ہو سکتی ہے جتنی کہ ریاضی۔ ہمارے ہاں آرٹس پڑھنے والے کو ایسے دیکھا جاتا ہے جیسے وہ کسی سنگین جرم کا ارتکاب کر رہا ہو یا مستقبل میں بے روزگاری کے لیے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کر رہا ہو۔ ہم میں سے اکثر اساتذہ جانتے ہیں کہ ہم بچوں کے ادھورے وجود کو پروان چڑھا رہے ہیں؛ ہم انہیں ریاضی کے سوال حل کرنا تو سکھاتے ہیں، مگر زندگی کی پہیلیوں کو حل کرنے کے لیے جس "ڈائیورجنٹ تھنکنگ" (Divergent Thinking) کی ضرورت ہے، اسے نصاب سے خارج کر چکے ہیں۔
2. شیکسپیئر، غالب اور ریاضی کی کلاس کا المیہ
​رابنسن ایک بڑا دلچسپ سوال اٹھاتے ہیں: "کیا آپ کو لگتا ہے کہ شیکسپیئر کبھی بچہ تھا؟" ظاہر ہے وہ تھا، اور شاید کسی انگریزی کی کلاس میں بیٹھا بور بھی ہو رہا ہوگا۔
​ذرا تصور کریں، ہمارے کلاس روم میں ایک ننھا "غالب" بیٹھا ہو اور استاد صاحب اسے الجبرا کے فارمولے رٹا رہے ہوں۔ اگر وہ بچہ کھڑکی سے باہر دیکھ کر کوئی شعر گنگنانے لگے تو اس کی وہ درگت بنے گی کہ شاعری تو دور، وہ عام بات کرنے سے بھی جائے گا۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر بچہ پیدائشی فنکار ہوتا ہے؛ مشکل یہ ہے کہ بڑا ہو کر فنکار کیسے رہا جائے۔ جیسا کہ پکاسو نے کہا تھا، ہم بڑے ہو کر تخلیق کار نہیں بنتے، بلکہ ہم "تخلیق سے باہر" (Grow out of creativity) ہو جاتے ہیں—یا زیادہ درست الفاظ میں، ہمیں تعلیم کے ذریعے تخلیق سے باہر کر دیا جاتا ہے۔
4. تین طرح کی ذہانت اور ہمارا "یک دِماغی" نظام
​سر کین رابنسن کے مطابق انسانی ذہانت تین طرح کی ہوتی ہے، اور بدقسمتی سے ہمارا نظام ان تینوں کا منکر ہے:
​ذہانت متنوع ہے (Diverse): ہم دنیا کا تجربہ اپنی تمام حسیات سے کرتے ہیں، صرف نصابی کتابوں سے نہیں۔ لیکن اسکولوں میں ہم بچوں کو ایسے سدھاتے ہیں جیسے وہ صرف "منطقی تجزیے" (Logical Reasoning) کی مشینیں ہوں۔
​ذہانت متحرک ہے (Dynamic): انسانی دماغ خانوں میں بٹا ہوا نہیں ہے۔ تخلیقی عمل اکثر غیر متوقع رابطوں سے جنم لیتا ہے۔ لیکن ہمارا نظام مضامین کو الگ الگ "سیلوز" (Silos) میں پڑھاتا ہے، جہاں طبیعات کا کیمیا سے اور کیمیا کا زندگی سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔
​ذہانت منفرد ہے (Distinct): ہر بچے کا ٹیلنٹ الگ ہے۔ جب ہم سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہیں اور ایک ہی پیمانے (گریڈز) پر پرکھتے ہیں، تو ہم بہت سے ہونہار بچوں کو یہ یقین دلا دیتے ہیں کہ وہ نالائق ہیں، صرف اس لیے کہ وہ ہمارے بنائے ہوئے تنگ سانچے میں فٹ نہیں آتے۔
5. تعلیمی افراطِ زر (Academic Inflation) اور ڈگریوں کا سراب
​رابنسن کا ایک اور اہم نکتہ "اکیڈمک انفلیشن" (Academic Inflation) ہے۔ گزشتہ صدی میں جو نوکری بی اے (BA) کی بنیاد پر مل جاتی تھی، آج اس کے لیے ایم اے (MA) یا پی ایچ ڈی (PhD) مانگا جا رہا ہے۔
​ہم نے تعلیم کو ایک بازار بنا دیا ہے جہاں ڈگری کی قدر کرنسی کی طرح گر رہی ہے۔ نتیجہ؟ ہم ایسے نوجوانوں کی فوج تیار کر رہے ہیں جو 30 سال کی عمر تک یونیورسٹیوں کی خاک چھانتے ہیں، ڈگریوں کے انبار لگاتے ہیں، اور پھر جب عملی زندگی میں آتے ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کا وہ "کاغذی علم" حقیقی دنیا کے مسائل حل کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ ہم میں سے جو لوگ یونیورسٹیوں میں پڑھاتے ہیں، یہ دیکھ کر کڑھتے ہیں کہ طالب علم علم کی پیاس بجھانے نہیں، بلکہ صرف اس کاغذ کے ٹکڑے (ڈگری) کو حاصل کرنے آتے ہیں جسے وہ "مستقبل کی ضمانت" سمجھتے ہیں۔
6. حتمی نکتہ: میکانکی نہیں، نامیاتی نظام کی ضرورت
​آخر میں، رابنسن تعلیم کو "مینوفیکچرنگ ماڈل"
(Manufacturing Model) سے نکال کر "ایگریکلچرل ماڈل" (Agricultural Model) پر لانے کی بات کرتے ہیں۔ فیکٹری میں چیزیں یکساں بنتی ہیں، لیکن کھیتی باڑی میں آپ پودے کو زبردستی بڑا نہیں کر سکتے؛ آپ کو صرف سازگار ماحول فراہم کرنا ہوتا ہے، پودا خود اپنی جڑیں مضبوط کرتا ہے۔
​ہمیں اپنے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو فیکٹریوں کی بجائے باغوں میں بدلنا ہوگا۔ جہاں ہر بچے کو ایک الگ قسم کا پھول سمجھا جائے، نہ کہ اینٹ جو کسی دیوار میں چن دی جائے۔ "ہم" (بطور معاشرہ) اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتے جب تک ہم اپنی "انسانی وسائل" (Human Resources) کی کان کنی بند کر کے ان کی آبیاری شروع نہیں کرتے۔
​مستقبل ان کا ہے جو لکیر کے فقیر نہیں، بلکہ نئی راہیں تراشنے والے ہیں۔ اور یہ راہیں تبھی نکلیں گی جب ہم اپنی "تخلیقی صلاحیتوں" (Creative Capacities) کو اپنی امیدوں کی طرح وسیع کریں گے۔
٭٭٭٭٭٭٭

اتوار، 18 جنوری، 2026

آرٹیمس -2 ناسا کا خلائی مشن

  آرٹیمس II مشن NASA کے خلائی لانچ سسٹم (SLS) اور اورین خلائی جہاز کی پہلی عملہ پرواز کے طور پر ایک اہم لمحے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ستمبر 2025 کے لیے طے شدہ، آرٹیمس II تقریباً 10 دن کے مشن پر خلابازوں کو بھیجنے کے لیے تیار ہے، جو چاند کے سب سے دور انسانی سفر کا ریکارڈ قائم کر کے تاریخ رقم کرے گا۔ Artemis I مشن کی کامیابی اور جانچ کے لیے وقف کردہ ہزاروں گھنٹے کی بنیاد پر، Artemis II SLS راکٹ کے بلاک 1 کنفیگریشن پر کینیڈی اسپیس سینٹر سے چار خلابازوں کا عملہ شروع کرے گا۔ یہ پرواز ایک ہائبرڈ فری ریٹرن ٹریکٹری کا استعمال کرے گی، جس سے اورین خلائی جہاز کو زمین کے گرد اپنے مدار کو بڑھانے کے لیے متعدد تدبیریں کرنے کی اجازت دی جائے گی اور آخر کار عملے کو قمری مفت واپسی کی رفتار پر رکھا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ زمین کی کشش ثقل قدرتی طور پر چاند کے گرد پرواز کرنے کے بعد اورین کو گھر واپس لے جائے گی۔ 
آرٹیمیس II کی اہم جھلکیاں:
٭۔ 1. تاریخی مشن: خلابازوں کے ساتھ پہلی SLS اور اورین پرواز کے طور پر، یہ مشن NASA کے آرٹیمس پروگرام میں ایک اہم سنگ میل کی نمائندگی کرتا ہے۔
٭۔ 2. ریکارڈ توڑ سفر: یہ مشن خلائی تحقیق کی حدود کو آگے بڑھاتے ہوئے، چاند سے آگے انسانوں کے سب سے زیادہ فاصلے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کرے گا۔  

٭3. جدید پرواز کا راستہ: ہائبرڈ مفت واپسی کا راستہ حفاظت اور کارکردگی کو بڑھاتا ہے، جو قمری پرواز کے بعد زمین پر قدرتی واپسی کی اجازت دیتا ہے۔ Artemis II صرف ایک مشن نہیں ہے؛ یہ چاند پر پائیدار انسانی موجودگی کو قائم کرنے اور مستقبل کے مریخ کی تلاش کی تیاری کی طرف ایک بڑی چھلانگ ہے۔ جب ہم خلائی ہفتہ منا رہے ہیں، آئیے اس اہم مشن اور خلاء میں انسانیت کے مستقبل کے لیے جو دلچسپ امکانات لاتے ہیں ان پر نظر رکھیں۔



٭٭٭٭٭٭٭

پیر، 12 جنوری، 2026

سائبر سیکیورٹی - آپ کی 11 غلطیاں

    آج کی ڈیجیٹل دنیا میں، آپ کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ آپ کی سوچ سے زیادہ قیمتی ہے۔ یہ صرف تصاویر، پسند، یا فالورز نہیں ہے۔بلکہ :۔ 
آپ کا اکاؤنٹ نمائندگی کرتا ہے: ۔

    آپ کی شناخت۔آپ کی ساکھ۔آپ کا ذاتی ڈیٹا  ۔آپ کے رابطے ۔آپ کی مالی رسائی ۔
 روزانہ لاکھوں سوشل میڈیا اکاؤنٹس  کمپرومائز ہوجاتے ہیں ۔اکاونٹ ہیک کرنے والے ،  ہائی جیک کرتے ہیں ۔اپنے پاس ڈاؤن لوڈ  کر لیتے ہیں  یا خاموشی سے آپ کے اکاؤنٹ کی  نگرانی کرتے ہیں    اوراکاؤنٹ ہولڈر کو معلوم ہی نہیں ہوتا ۔ یہ ایک     چونکا دینے والا سچ ہے ؟
  زیادہ تر ہیک اس لیے نہیں ہوتے کیونکہ لوگ لاپرواہ ہوتے ہیں۔   یہ اس لیے ہوتے ہیں کیونکہ لوگ بے خبر ہوتے ہیں۔ یہ پوسٹ آپ کی آنکھیں کھولنے، آپ کی حفاظت کرنے اور ان 11 سب سے عام حفاظتی غلطیوں سے بچنے میں آپ کی مدد کرنے کے لیے بنائی گئی ہے جن کا حملہ آور روزانہ استحصال کرتے ہیں۔ اگر آپ فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، واٹس ایپ، ایکس (ٹوئٹر) یا کوئی آن لائن پلیٹ فارم استعمال کرتے ہیں تو اسے غور سے پڑھیں۔ ایک غلطی یہ سب کرتے ہیں 

  غلطی #1: کمزور یا دوبارہ استعمال شدہ پاس ورڈ آسان پاس ورڈ استعمال کرنا: ۔

 جیسے  123456 پاس ورڈ123 • آپ کا نام یا سالگرہ • متعدد پلیٹ فارمز پر ایک ہی پاس ورڈ اکاؤنٹس کے ہیک ہونے کی یہ #1 وجہ ہے۔ حملہ آور کریڈینشل اسٹفنگ کا استعمال کرتے ہیں، جہاں ایک سائٹ سے لیک ہونے والے پاس ورڈز کو خود بخود کئی پلیٹ فارمز پر جانچا جاتا ہے۔ 

  درست کریں: ۔
  ہر اکاؤنٹ کے لیے ایک منفرد پاس ورڈ استعمال کریں۔
کم از کم 12-16 حروف   بڑے، چھوٹے، نمبر اور علامتیں مکس کریں۔جیسے

     P@A#k%i-S1T0a&n 

 ایک معروف پاس ورڈ مینیجر استعمال کریں۔

غلطی #2: ٹو فیکٹر توثیق کو فعال نہیں کرنا:۔
 (2FA) 2FA کے بغیر، آپ کا اکاؤنٹ تحفظ کی ایک پرت پر انحصار کرتا ہے — آپ کے پاس ورڈ۔ ایک بار جب اس پاس ورڈ سے سمجھوتہ ہو جاتا ہے، حملہ آور فوراً اندر چلا جاتا ہے۔   درست کریں    تمام پلیٹ فارمز پر 2FA کو فعال کریں۔   جہاں ممکن ہو SMS کے بجائے توثیق کار ایپس کا استعمال کریں۔   بیک اپ ریکوری کوڈز آف لائن محفوظ کریں۔ 

 غلطی #3: پیغامات یا ای میلز میں فشنگ لنکس پر کلک کرنا حملہ آور اکثر نقل کرتے ہیں:۔

  • فیس بک سپورٹ • Instagram کی توثیق • کاپی رائٹ یا پالیسی وارننگز • برانڈ پارٹنرشپس • "کسی نے آپ کے اکاؤنٹ میں لاگ ان کیا ہے" الرٹس وہ ایسے لنک بھیجتے ہیں جو حقیقی نظر آتے ہیں - لیکن آپ کے لاگ ان کی تفصیلات چوری کرتے ہیں۔ ✅ درست کریں: ✔ پیغامات یا ای میلز کے لاگ ان لنکس پر کبھی کلک نہ کریں۔ ✔ ہمیشہ براہ راست آفیشل ایپ یا ویب سائٹ کے ذریعے لاگ ان کریں۔ ✔ بھیجنے والے کے صارف نام کو احتیاط سے چیک کریں۔ ✔ گرامر کی غلطیاں اور فوری حکمت عملی تلاش کریں۔ 

 غلطی #4: جعلی تصدیق اور بلیو بیج آفرز پر بھروسہ کرنا

"کوئی بھی آپ کو مفت میں نیلے رنگ کا بیج نہیں دے گا۔" جعلی ایجنٹوں کا وعدہ: • تصدیقی بیجز • اکاؤنٹ کی بازیابی۔ • منیٹائزیشن تک رسائی ان کا مقصد آسان ہے: اپنا اکاؤنٹ چوری کریں۔ ✅ درست کریں: ✔ صرف آفیشل پلیٹ فارم کی تصدیق کے عمل کا استعمال کریں۔ ✔ لاگ ان کوڈز کا کبھی اشتراک نہ کریں۔ ✔ اسناد مانگنے والے DMs پر کبھی بھروسہ نہ کریں۔ 

 غلطی #5: ذاتی معلومات کو اوور شیئر کرنا آپ کی پوسٹس ظاہر کر سکتی ہیں:۔

 • سالگرہ فون نمبرز • مقامات • پالتو جانوروں کے نام • خاندانی تفصیلات حملہ آور اس ڈیٹا کو پاس ورڈ کی بازیابی کے حملوں اور سوشل انجینئرنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ✅ درست کریں: ✔ عوامی ذاتی ڈیٹا کو محدود کریں۔ ✔ سالگرہ اور فون نمبرز کو پرائیویٹ پر سیٹ کریں۔ ✔ "مجھے جانیں" کے رجحانات سے محتاط رہیں 

 غلطی #6: پبلک وائی فائی نیٹ ورکس پر لاگ ان کرنا:۔

 پبلک وائی فائی (کیفے، ہوائی اڈے، ہوٹل) کی نگرانی کی جا سکتی ہے۔ حملہ آور کر سکتے ہیں: لاگ ان کی اسناد کو روکیں۔ • ہائی جیک سیشنز • بدنیتی پر مبنی ری ڈائریکٹ انجیکشن کریں۔ ✅ درست کریں: ✔ عوامی Wi-Fi پر اکاؤنٹس میں لاگ ان کرنے سے گریز کریں۔ ✔ ایک قابل اعتماد VPN استعمال کریں۔ ✔ استعمال کے بعد لاگ آؤٹ کریں۔ 

غلطی #7: تھرڈ پارٹی ایپ کو اندھا دھند اجازت دینا بہت سی ایپس رسائی کی درخواست کرتی ہیں: ۔

• آپ کے پیغامات • آپ کا پروفائل • آپ کی پوسٹس • آپ کا اکاؤنٹ کنٹرول کرتا ہے۔ کچھ نقصان دہ یا ناقص طور پر محفوظ ہیں۔ ✅ درست کریں: ✔ منسلک ایپس کا باقاعدگی سے جائزہ لیں۔ ✔ غیر استعمال شدہ یا مشکوک ایپس کو ہٹا دیں۔ ✔ صرف بھروسہ مند خدمات کی اجازت دیں۔

 غلطی #8: سیکیورٹی الرٹس اور لاگ ان وارننگز کو نظر انداز کرنا پلیٹ فارم اکثر صارفین کو مطلع کرتے ہیں:۔

 • نیا آلہ لاگ ان • مقام کی تبدیلیاں • پاس ورڈ کی تبدیلیاں ان انتباہات کو نظر انداز کرنا حملہ آوروں کو چھپے رہنے کی اجازت دیتا ہے۔ ✅ درست کریں: ✔ سیکورٹی الرٹس پر فوری عمل کریں۔ ✔ مشتبہ سرگرمی ظاہر ہونے پر پاس ورڈ فوری طور پر تبدیل کریں۔ ✔ لاگ ان سرگرمی کا کثرت سے جائزہ لیں۔ 

 غلطی #9: پرانی ایپس یا ڈیوائسز کا استعمال پرانے سافٹ ویئر میں معلوم کمزوریاں شامل ہیں۔ حملہ آوروں کا استحصال: ۔

• بغیر پیچ والے آپریٹنگ سسٹم • پرانے براؤزرز • ایپ کے پرانے ورژن ✅ درست کریں: ✔ ایپس اور آلات کو اپ ڈیٹ رکھیں ✔ خودکار اپ ڈیٹس کو فعال کریں۔ ✔ غیر تعاون یافتہ آلات استعمال کرنے سے گریز کریں۔ 

 غلطی #10: کسی کے ساتھ لاگ ان کوڈز کا اشتراک کرنا کوئی بھی جائز سپورٹ ایجنٹ کبھی نہیں مانگے گا:ـ

 لاگ ان کوڈز • ریکوری کوڈز • تصدیقی ٹوکن ایک بار اشتراک کرنے کے بعد، آپ کا اکاؤنٹ ختم ہوجاتا ہے۔ ✅ درست کریں: ✔ کبھی بھی کسی کے ساتھ کوڈز کا اشتراک نہ کریں۔ ✔ پلیٹ فارم سپورٹ کبھی بھی صارفین سے DMs کے ذریعے رابطہ نہیں کرتا ہے۔ ✔ کوڈز کو اپنے ATM پن کی طرح سمجھیں۔ 

 غلطی #11: یہ فرض کرنا کہ "یہ میرے ساتھ نہیں ہوگا" یہ ذہنیت سب سے خطرناک ہے۔ حملہ آور صرف مشہور شخصیات کو نشانہ نہیں بناتے - وہ نشانہ بناتے ہیں: ۔

• چھوٹے تخلیق کار • کاروبار • روزمرہ استعمال کرنے والے • نئے اکاؤنٹس آٹومیشن ہر ایک کو ہدف بناتی ہے۔ ✅ درست کریں: ✔ سیکیورٹی کو سنجیدگی سے لیں۔ ✔ تعلیم یافتہ رہیں ✔ قابل اعتماد سائبر سیکیورٹی ذرائع کی پیروی کریں۔ 🔐 یہ پہلے سے کہیں زیادہ کیوں اہم ہے۔ ایک بار جب آپ کے اکاؤنٹ سے سمجھوتہ ہو جائے: • آپ مستقل طور پر رسائی سے محروم ہو سکتے ہیں۔ • آپ کے پیروکاروں کو دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔ • آپ کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ • بازیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ روک تھام ہمیشہ بحالی سے آسان ہے۔ 

  علم = طاقت | آگاہی = تحفظ سائبر سیکیورٹی خوف کے بارے میں نہیں ہے  

 خود  کو سائبر خطرات سے ایک قدم آگے رکھیں ۔

 ٭٭٭٭٭٭٭٭ 

منگل، 6 جنوری، 2026

قائدِاعظم اور ایک سنتری


قانون، وقار اور اعتماد کی ایک لازوال مثال

یہ منفرد اور تاریخی تصویر 1948ء کے ایک ایسے واقعے کی یادگار ہے جو قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کے قانون کی بالادستی، عسکری نظم و ضبط اور اخلاقی عظمت کو بے مثال انداز میں اجاگر کرتا ہے۔
یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب شہر میں کرفیو نافذ تھا۔ قائدِاعظم کا قافلہ ایک لنک روڈ کے ذریعے سفر کر رہا تھا جو کینٹونمنٹ کے علاقے سے گزرتی تھی۔ یہ راستہ عام طور پر قائدِاعظم استعمال نہیں کیا کرتے تھے، مگر کرفیو کی وجہ سے اسی سڑک سے گزرنا ضروری ہو گیا۔
راستے میں ایک پاک فوج کے سنتری نے قافلے کو روک لیا اور بیرئیر کھولنے سے انکار کر دیا۔ سنتری کو علم تھا کہ گاڑی میں خود بانیٔ پاکستان موجود ہیں، مگر قائد سے بے پناہ محبت اور احترام کے باوجود اس نے ڈیوٹی اور قانون کو فوقیت دی۔
سنتری نے قائدِاعظم کو سلیوٹ کیا اور نہایت ادب سے سوال کیا:۔
  "سر! کیا آپ کے پاس کرفیو کے دوران سفر کی اجازت ہے؟"
یہ سوال سن کر قائدِاعظم لمحہ بھر کے لیے حیران ہوئے، پھر ایک شفیق باپ کی طرح مسکراتے ہوئے فرمایا:۔
 "نہیں بیٹے، میرے پاس اجازت نہیں ہے۔"
یہ جواب سنتے ہی سنتری نے خوش دلی سے قائدِاعظم کو ایک معاہدہ  پیش کیا کہ اگر وہ ان کی یونٹ کا دورہ کرنے پر آمادہ ہو جائیں تو انہیں راستہ دے دیا جائے گا۔
قائدِاعظم نے اس پیشکش کو فوراً قبول کر لیا۔
وہ یونٹ 5 ہیوی اینٹی ایئر کرافٹ رجمنٹ تھی، جو آج 5 لائٹ   (سام) رجمنٹ کے نام سے جانی جاتی ہے۔
فوجی قیادت کی آمد اور قائد کا اصولی فیصلہ

کینٹونمنٹ میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ اعلیٰ فوجی افسران فوراً 5 ہیوی اے ڈی رجمنٹ پہنچے تاکہ قائدِاعظم کو اس "صورتِ حال" سے نکالا جا سکے۔
جب پریشان حال بریگیڈیئر کمانڈر (بریگیڈیئر اکبر) وہاں پہنچے تو انہوں نے مؤدبانہ درخواست کی کہ قائدِاعظم اپنا سفر جاری رکھیں۔
قائدِاعظم نے مسکراتے ہوئے سنتری کی طرف دیکھا اور فرمایا:۔
 "نہیں، ہمارا معاہدہ ہو چکا ہے۔"
یہ الفاظ دراصل اس بات کا اعلان تھے کہ:۔
 پاکستان میں کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں—حتیٰ کہ بانیٔ پاکستان بھی نہیں۔
تاریخی دورہ: ۔ یوں 21 فروری 1948ء کو قائدِاعظم نے 5 ہیوی اینٹی ایئر کرافٹ رجمنٹ کا دورہ کیا۔ اسی موقع پر وہ تاریخی تصویر لی گئی جس میں:۔
دائیں جانب بریگیڈیئر اکبر کھڑے ہیں۔محترمہ فاطمہ جناحؒ بھی موجود ہیں۔رجمنٹ کے کمانڈنگ آفیسر قائدِاعظم کو اینٹی ایئر کرافٹ گن کے بارے میں بریفنگ دے رہے ہیں۔یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا فوجی یونٹ تھا جسے قائدِاعظم نے باضابطہ طور پر وزٹ کیا۔

ایک منفرد اعزاز اسی منفرد اعزاز کی بنا پر 5 لائٹ SAM رجمنٹ پاکستان آرمی کی وہ واحد یونٹ ہےجس کا ریویو سلام فنگ (Salaam Fung) پوزیشن میں لیا جاتا ہےنہ کہ بازو فنگ (Bazu Fung) میں، جیسا کہ آرمی، نیوی اور ایئر فورس کی دیگر تمام یونٹس میں ہوتا ہےیہ روایت آج بھی اس یونٹ کے لیے قائدِاعظم کی یاد اور اعتماد کی علامت ہے۔


---

ایک زندہ گواہ

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ:

وہ نوجوان کیپٹن (جو بعد میں کرنل بنے)

جنہوں نے ملیر بیس پر قائدِاعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا

اور پریڈ کی قیادت کی

وہ آج بھی حیات ہیں، تقریباً سو برس کی عمر میں، مکمل ہوش و حواس، پورے دانت اور سر پر بالوں کے ساتھ—گویا تاریخ خود سانس لے رہی ہو۔


(بشکریہ: لیفٹیننٹ کرنل (ر) عبدالباسط)

قائد اور فوج: محبت اور اعتماد کا رشتہ

یہ واقعہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ قائدِاعظم ۔پاکستان کے کمانڈر ان چیف تھے۔مگر خود کو ایک قانون پسند شہری سمجھتے تھےاور پاک فوج:۔
نظم و ضبط
آئین کی پاسداری
اور فرض شناسی
کی عملی مثال تھی۔
یہ رشتہ خوف کا نہیں، اعتماد کا تھا
یہ اطاعت اندھی نہیں، اصولی تھی
اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک مضبوط ریاست کھڑی ہوتی ہے۔

---

اختتامی کلمات

یہ محض ایک تصویر نہیں،
یہ ایک نظریہ ہے
یہ ایک ریاستی اصول ہے
اور یہ ایک سبق ہے:

> قانون اگر سنتری کے ہاتھ میں بھی ہو
اور سربراہِ مملکت بھی اس کے سامنے سر جھکا دے
تو وہ قوم کبھی تباہ نہیں ہوتی

یہی قائدِاعظم کا پاکستان تھا—
اور یہی وہ پاکستان ہے جس کی ہمیں آج بھی ضرورت ہے۔٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔