Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 18 فروری، 2024

سلائی مشینوں کی خریداری

 
چار سلائی مشینیں  لے کر وقار کھنہ پل  پہنچ گیا ،اسرار  نے مشینوں کو چیک کیا اور اوکے رپورٹ دی ، چنانچہ بوڑھے نے 47 ہزار روپے وقار کے بھائی شیراز کو ایزی پیسہ کردئے ۔ یہ مائکروفنانس بینکنگ میں  ٹیلینور والوں نے اپنا سکہ بٹھالیا ہے ۔ اب بنکوں  نے بھی راست کے نام سے ایزی پیسہ بینکنگ کو سپورٹ کیا ہے ۔
پہلا پراجیکٹ۔کھنّہ پل کے پاس بلال ٹاؤن میں شروع کردیا ہے ۔جس میں چار سلائی مشینیں  پراجیکٹ ڈائریکٹر علی ابراہیم  کو مہیا کر دی ہیں  ، جن میں دو نئی قیمت فی سلائی مشین مبلغ 16 ہزار روپے ۔(10 سال فری سروس ) دو ری فربش فی سلائی مشین   مبلغ 9ہزار روپے۔
 اگر مشینوں کے صرف خراب پارٹس تبدیل کئے جائیں اور رنگ نہ کروایا جائے ، تو قیمت  فی مشین  مبلغ 6 ہزار روپے میں ملتی ہے ۔
دوسرا  پراجیکٹ ۔ میرپوخاص  (سندھ)میں۔ 
تیسرا پراجیکٹ ۔شجاع آباد  ۔
چوتھا پراجیکٹ :اڈیالہ روڈ راولپنڈی ۔
 پانچواں  پراجیکٹ: تربت (بلوچستان) اور 
چھٹا  پراجیکٹ :گوادر میں  عنقریب ترتیب وار شروع کرنے کا پروگرام ہے ۔دعا کریں کے بے وسائل خواتین کا روزگار شروع ہو جائے ۔

کیا اِس پراجیکٹ میں  بے وسیلہ خواتین اور بچوں کو اتنا منافع ہوگا کہ وہ گھر بیٹھے  اپنا روزانہ کے اخراجات  کو سہارا دے  سکیں  ؟

 ٭٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭٭

 

 

 

 

ملت ابراھیم حنیف پراجیکٹس

بوڑھے کے اِس نئے سوشل ورک کی طرف ، گوادر، تربت،مانسہرہ اور نوشہرہ میں کسی نے پذیرائی نہیں کی۔ میرپورخاص کے رہنے والے ایک نوجوان، علی منور نے جو میرے محلے سیٹلائیٹ ٹاؤن    میں ٹیلرنگ کا کام کرتا ہے اور ریڈیو کا آر جے بھی سوشل ورک میں کافی ایکٹو بھی ، اُس سے    ، بے وسیلہ خواتین اور بچیوں کو ٹیلرنگ کا کام سکھا کراُن کی مالی سپورٹ سے متعلق  رائے پوچھی ، اُس نے جواب دیا بہترین کام ہے لیکن اُن کے وسائل نہیں کہ وہ سلائی مشین خرید سکیں ۔اگر اُن کو سلائی مشین خرید کر دی جائے تو پھر اُن کی مدد ہو جائے ۔ بوڑھے نے پوچھا ۔ نئی سلائی مشین کی کیا قیمت ہے ۔ اُس نے کہا ، پرانی سلائی مشینوں سے بھی اُن کا کام چل سکتا ہے ۔ اگر اُن میں نئے پرذے ڈلوادئے جائیں ۔  بڑھیا سے مشوریٰ لیا اُس نے قبول کر لیا ۔ 

جنوری میں قران فہم مکتب کے ، ملت ابراہیم حنیف گروپ کے دوست میرے گھر پر اکٹھے ہوئے ۔ نوجوان سلیمان ایسے نظام کا دلدادہ تھا جو  علامہ پرویز احمد کے نظام  (سوشل کمیونسٹ) سے مطابقت رکھتا تھا ۔ جس  کے فلسفے سے میں متفق نہیں ۔

بوڑھے کو  علم تھا کہ علی ابراہیم کا ایک بھائی ٹیلرنگ کا کام کرتا ہے ۔ میں نے اُس کو  علی منور کا آئیڈیاپیش کیا ، اُس نے بتایا کہ اُس کی چھوٹی بہن بھی سلائی کرتی ہے وہ عورتوں اور لڑکیوں کو ٹریننگ دے سکتی ہے ۔ اور اُس کے گھر میں ایک کمرہ خالی بھی ہے وہاں یہ کام کیا جاسکتا ہے ۔ بوڑھے نے کہا الحمد للہ ۔

 بوڑھے نے علی  ابراہیم سے معلومات لیں ۔ 

ایک ٹیلر ، دن میں کتنے لباس تیار کر سکتا ہے ؟

کام پر منحصر، ایک دن میں 5 لباس اور اگر کام کم ہو تو 2 لباس ایک ٹیلر تیار کرسکتا ہے ۔ ہاتھ کی مشین میں یہ کم ہو جاتے ہیں ۔  1000 روپے  فی سوٹ لیا جاتا ہے ۔  270 روپےکل خرچ آتا ہے  ۔ اگر سینے والے کو 300 روپے دیا جائے تو 430 روپے منافع بنتا ہے ۔جس میں لازمی اخراجات  نکالنے کے باوجود مزید   بچت ہو سکتی ہے ۔یوں مشین اپنی قیمت خود ادا کر سکتی ۔ اور اُس قیمت سے ایک مشین اور خریدی جا سکتی ہے یا اگر بجلی ہو تو بجلی کی موٹر  تربیت یافتہ  خواتین کو دی جاسکتی ہے یوں سلائی کی رفتار تیز ہوجائے گی اور اضافی سوٹ سے بجلی کا خرچہ نکالا جاسکتا ہے ۔ اگر ایک گھر میں تین سلائی مشینیں ہوں تو اُس گھر کی ماہانہ آمدنی  بڑھ سکتی ہے ۔

 چنانچہ یہ چارٹر بنایا گیا ۔

 

بوڑھے  کی ایک کمپنی کی رقم  کے مبلغ  84 ہزار روپے ایک بنک کے کرنٹ  اکاونٹ میں  2011 سے پڑے تھے ، جن کے لئے  بنک اکاونٹ ایکٹو کروا کر نکلوانے تھے ، وہ بوڑھے نے ملت ابراہیم حنیف پراجیکٹ کو دینے کا ارادہ ظاہر کیا ۔ جب بنک جا کر اکاونٹ ایکٹو کرواناچاہا تو معلوم ہو کہ وہ بوڑھے اور اُس کے بڑے بیٹے کا جائینٹ اکاونٹ ہے اور وہ بڑی عید پر اپنے بچوں کے ساتھ آئے گا ۔

  30 جنوری 2024 کو بڑھیا شدید بیمار ہوگئی، چلنے سے قاصر ، درد ریح نے بے حال کردیا ۔ بوڑھے نے یکم فروری کوائر جناح سے  کوئیٹہ جانا تھا ، 31 تاریخ  کو وہ 12 فروری کی تاریخ   کروائی۔ شعبان کا مہینہ، لگنے والا تھا ، بوڑھے کو خیال آیا  کہ سلائی کا کام عید کی وجہ سے زیادہ ہوجائے گا لہذا پراجیکٹ کو شروع کردینا چاھئیے ،

  9 فروری کو علی ابراہیم سے بات ہوئی اور اُسے  تین نئی مشینیں خریدے کے لئے  کہا ۔11 فروری کو  اُس کا بھائی اسرار   مشین محلہ راجہ بازار  گیا  ۔وہاں اُس کی ملاقات، وقار سے ہوئی ۔ جس نے کل مشینیں دینے کاوعدہ کیا۔ اور 12 تاریخ کو بوڑھا ، کوئٹہ جا پہنچا ۔

٭٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭٭



 

 

ماضی کے دیو قامت انسان!

  کیا انسان پہلے بندر تھا ؟

ڈارون کی تھیوری نے ۔ افریقہ کی لوسی کو جنم دیا جس سے بوڑھے کی ملاقات عدیس ابابا (ایتھوپیا) کے نیشنل میوزیم میں ہوئی ، بوڑھے نے اپنی محدود معلومات کے مطابق مسجد ذوالقبلتین کی طرح اِسے  بھی مسترد کردیا ۔  کیوں کہ جھوٹ پھیلانے سے کئی سوالات اُٹھتے ہیں ۔کیوں حق کا ایک گھونسہ جھوٹ کے اُس بُت کو پاش پاش کردیتا ، جو جاہل اپنے سر پر اُٹھائے پھرتے ہیں ۔

بوڑھے کو بچپن سے ماضی کے قرستان میں جھانکنے کا بہت شوق تھا ۔ سب سے پہلے بوڑھے نے ، نڑیا میں اپنے سکول کے پیچھے جھانکا ۔ جہاں  قبروں پر کتبےایستادہ تھے۔ لیکن اُسے سب سے اچھا قبرستان۔ایف ایف سنٹر کے ساتھ برٹش سپاہیوں اور افسروں کا ہے اُس کے نزدیک ایف ایف کے گورکھا سپاہیوں /افسروں کے لئے ایک ٹمپل بھی ہے۔ اِس قبرستان میں ایک سگنل آفیسر کی قبر بھی تھی ۔ جس کے اوپر سگنل بیج  کا مجسمہ آویزاں تھا۔

تو اُفق کے پار بسنے والے بوڑھے کے ذہین دوستو: انٹر نیٹ پر تاریخ کا قبراستا ڈھونڈھتے ہوئے بوڑھے کو ایک عجیب تصویرملی ۔ پہلے تو بوڑھا یہ سمجھا کہ یہ فوٹو شاپ کا کرشمہ ہے لیکن بھر کئی تصاویر ڈھونڈھنے کے بعد ۔احسن الخالقین کی تخلیق کے بعد  ڈارون کی تھیوری فرسودہ لگی ۔

 زمین میں کھدائی سے نکلنے والی ایک کھوپڑی ، جس کا اندازً قد کم و بیش 400 انچ یا 133 گز ہو سکتا ہے ۔
کیا ڈارون کی تھیوری کے مطابق:۔
اِس سے پہلے کےبندر کیا ، اِس سے بھی قد میں بڑے تھے ؟
 کیا 133 گز قد کے انسان کے لئے ، اہرام مصر کے پتھر اٹھانا مشکل ہو سکتا تھا؟ 
سامنے تصویر میں بنایا گئے مصنوعی مجسمے کا قد ، اُس کے پاس کھڑے ہوئے انسانوں کے مقابلے  میں اندازاً  کم از کم 40 گز ہوسکتا ہے ۔ اِ قدہ کے انسان کے سامنے ، اہرام مصر کی چٹانیں ، سیمنٹ کی بلاک کی طرح ہو سکتے ہیں ۔ اور ہاں یہ صرف ایک کھوپڑی نہیں ۔ 
ماہر آثار قدیمہ نے زمین کے مختلف علاقوں سے کئی کھوپڑیاں  نکالی ہیں ۔ جو وہاں کے کسانوں نے کھدائی کے دوران اتفاقاً دریافت کیں ۔ 
 
کسی نے گلیور ٹریول بچپن میں پڑھی ہے ؟؟
 
٭٭٭٭٭٭٭

 

 

 

جمعرات، 8 فروری، 2024

الیکشن 2024 ، بوڑھا اور الیکشن کمیشن

  اُفق کے پار بسنے والے دوستو  !۔

 بوڑھے نے اپنےموبائل پر الیکشن کمیشن کو شناختی کارڈ کا نمبر بھیجا وہاں سے پیغام آیا کہ آپ اب قومی اسمبلی کے حلقہ نمبر 46کےبجائے ،حلقہ نمبر 55 اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ 15 میں ووٹ ڈالیں گے۔کیوں کے آپ اب اسلام آباد ، جی نائین ون کے  بجائے،     راولپنڈی  میں ہجرت کر کے سکونت اختیار کر چکے ہیں ۔ بوڑھے نے پہلے یہ ہجرت  2013 کے انتخابات کےبعد ،جون 2014 میں ڈی ایچ اے ون اسلام آبادمیں کی تھی اور  2018  کے انتخابات بوڑھے اور بڑھیا نے ، اسلام آباد میں زبردستی شامل کئے مورگاہ۔1 سے جاکر ، جی نائین ون سابقہ رہائش سے 100 گز دور گرلز مڈل سکول میں ڈالے     ۔جہاں 2008 کے انتخاب میں پہلی بار بوڑھے اور بڑھیا نے ووٹ ڈالا تھا۔

پھر بوڑھا 2020 میں برفی کے بابا کےہاں شفٹ ھو گیا ۔ 2023 میں الیکشن کمیشن سرگرم ہوا اُس کے نمائیندے ہاتھ میں لیپ ٹاپ اٹھائے گھر گھر جانا شروع ہوگئے ۔ بوڑھے کا شناختی کارڈ ڈالا اور بتایا کہ کیا آپ اپنا حلقہءِ انتخاب   پرانا رکھیں گے یا تبدیل کریں گے کیوں کہ شناختی کارڈ کے مطابق آپ کا عارضی ایڈریس ڈی ایچ اے ون یعنی مورگاہ 1 کا ہے ۔ لیکن آپ کی رہائش یہاں یعنی طارق آباد کی ہے اور یہ قومی اسمبلی کے حلقہ  55میں آتا ہے ۔ بوڑھےنے سوچا ، چلو اب حلقہ 46 کے بجائے حقلہ 55 میں ووٹ ڈالتے ہیں ۔

آج صبح جب بوڑھا ، الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے لئے عسکری 14 سے نکلا ،  تو اڈیالہ روڈ پر موجود پولنگایجنٹ سے جاکر پوچھے کہ اُس کا پولنگ سٹیشن کسِ علاقے میں ہے تاکہ وہاں جا کر بڑھیا کے ساتھ جاکر ووٹ ڈالا جائے ۔

وہاں ایک نوجوان نے پوچھا کہ کیا آپ نے 8300 پر اپنا شناختی کارڈ نمبر ڈال  کر وہاں سے چیک کیا ہے ۔ 

بوڑھے  نے اپنے موبائل سے الیکشن کمیشن سے آیا ہوا ایس ایم ایس دکھایا ۔

شماریاتی بلاک کوڈ: 111030301
سلسلہ نمبر: 349
گھرانہ نمبر: 218
قومی اسمبلی حلقہ نمبر: 55 - راولپنڈی
صوبائی اسمبلی حلقہ نمبر: 15 - راولپنڈی
انتخابی علاقہ: راجہ اکرم روڈ ریس کورس    حاجی روڈ      اکبر روڈ      عسکری14     ٹریفک کالونی،تحصیل راولپنڈی کینٹ،ضلع راولپنڈی۔

 وہ انتخابی علاقہ دیکھ کرپریشان ہو گیا    ۔ بولا  حلقہ نمبر 55 لال کرتی کا علاقہ ہے ۔ آپ وہاں جاکر معلوم کریں بوڑھا ، بھٹہ چوک پر پہنچا وہاں سینٹ کیتھرین گرلز سکول کے سامنے پولنگ ایجنٹ بیٹھے   تھے اُنہوں نے بڑی کوشش کی لیکن   پولنگ سٹیشن کا معلوم نہیں ہورہا تھا ۔ خیر ایک نوجوان نے بتایا کہ لال کرتی بازار کے شروع میں لیپ ٹاپ سے پرنٹ لے کر آئیں ، بوڑھا وہاں پہنچا ، اُس نے بتایا کہ آپ کا پولنگ سٹیشن ایف جی بوائز سیکنڈری  سکول    محفوظ شہید روڈ پر ہے ۔جو جیٹی روڈ سے  ملٹری ہسپتال کے سامنے ریلوے سٹیشن کو جاتی ہے ۔ 

بوڑھا حیدر روڈ سے  بتائی ہوئی جگہ پہنچا ۔ پولنگ سٹیشن میں داخل ہوااور    11:30 پرپولنگ بوتھ 301 سے سامنے جاکر لائن میں کھڑا ہو گیا ۔12:00 بجے ووٹ ڈالا ، جس نوجوان نے پولنگ سٹیشن میں ھاتھ پر سیاہی کا نشان لگایا اُس کو بتایا کہ اب وہ عسکری 14 سے اپنی بڑھیا کو لے کر آئے گا۔ لیکن بہتر یہ ہوتا کہ  طارق آبادکے علاقے میں پولنگ بوتھ دیا جاتا ۔
اُس نوجوان نے مشورہ دیا کہ کئی لوگوں کا ووٹ درست معلومات نہ ہونے کی وجہ سے دور کے پولنگ سٹیشن کا انتخاب کر دیا گیا لیکن حلقہ وہی ہے آپ باہر چیک کر لیں ۔ 

بوڑھا، ایک سنسان پولنگ کیمپ کے پاس پہنچا ۔ جس کی جماعت کو بڑھیا کا ووٹ ڈالنے کا پکا ارادہ ہے ، ویسے بھی   بڑھیا گذشتہ ، تین انتخابات میں اپنا ووٹ اِس سنسان  ، جماعت کے سربراہ کو ڈال کر ضائع کر چکی ہے ۔ خیر ۔ وہاں ایجنٹ نے کاپیاں کھنگالیں     ، جو نام، اُن میں بڑھیا کا نام نہیں ۔ بوڑھا واپس لاکرتی پہنچا لیپ ٹاپ والے نوجوان کو شناختی کارڈ نمبر بتایا ، اُس نے کہا کہ یہ پی پی 10 کا حلقہ میں پولنگ بوتھ ہے ۔ لیکن یہ کہاں ہے ؟
بولا شائد اسلام آباد ۔

لیکن وہاں تو پی پی نہیں صرف این اے ہے ۔

معلوم نہیں کیا کہہ سکتا ہوں ۔ نوجوان بولا ۔بوڑھا اداس گھر آگیا کہ بڑھیا اپنا ووٹ پھر ضائع نہ کر سکی ۔ 

بوڑھے نے نیٹ سروس بحال ہونے کے بعد ، گوگل آنٹی سے پوچھا کہ یہ پی پی 10 کہاں ہے اُس  نے ٹھک سے جواب دیا ۔ راولپنڈی۔IV۔
آہ، بوڑھے نے مزید چیک کیا تو معلوم ہوا کی 1 سے لیکر 7تک ضلع راولپنڈی سے  کل 13 ایم این اے منتخب ہوں گے ، یعنی 51، 52، 53، 54  ،55، 56 اور 57  ۔ گویا پی پی -10 حلقہ 53 یا 54 میں ہو سکتی ہے ۔یوں پی پی 5 سے پی پی 19 تک پنجاب اسمبلیوں26 ایم پی اے راولپنڈی ڈویژن سے منتخب ہوں گے ۔
بیلٹ پیپر کا سفر پولنگ سٹیشن  سے ، فارم 45 سے فارم 47  الیکشن کمیشن حتمی نتیجہ تک
 

الیکشن کی سرگرمیوں کی معلومات کے لئے ڈویژنل کمیٹی۔
الیکشن میں  ووٹ ڈلوانے کی پولنگ بوتھ کے اندر کلّی ذمہ داری ، پولنگ بوتھ میں موجود الیکشن کے عملے کی ہوتی ہے  ۔ جو  ڈارفٹ فارم 45  اپنے بوتھ کا  پریزائیڈنگ آفیسر کو بھیجتا ہے ۔ اِن ڈرافٹ فارم 45 کی مدد سے پریذائیڈنگ آفیسر ، صرف ایک فارم 45 بناتا ہے جو ریٹرننگ آفیسر کو بھجوادیا جاتا ہے  ۔
الیکشن میں دھاندلی کئے جانے والے پولنگ بوتھ کو پریزائیڈنگ آفیسر کی شکایت پر ڈپٹی کمشنر یعنی آر او کی مدد سے، امن ہونے تک روکا یا بند کروایا جا سکتا ہے ۔ کمشنر کا پورے الیکشن کے نظام میں کوئی کردار نہیں ہوتا، سوائے اِس کے کہ وہ ڈپٹی کمشنر سے معلومات لے ۔ تمام ایڈمنسٹریشن کی ذمہ داری ڈپٹی کمشنر یعنی ریٹرنگ آفیسر کی ہوتی ہے ۔ 
آزاد امیدواروں کے لئے الیکشن کمیشن کے حتمی رزلٹ اناونسمنٹ کے بعد 72 گھنٹوں تک آزاد رہنے کا حق ہے پھر وہ اپنی مرضی کے مطابق کسی پارٹی میں شامل ہو سکتے ہیں ۔
اب صورت حال یہ ہے ، کہ  کہ 20 دنوں تک یعنی 29 فروری  کو یا اِس سے پہلے ، صدر پاکستان کے حکم کے مطابق،  سابقہ سپیکر ،قومی اسمبلی کا اجلاس بلائے گا۔ممبران قومی اسمبلی حلف لیں گے ۔  سابقہ سپیکرتمام ممبروں سے نئے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کا کہے گا ، اُس کے بعد نیا سپیکر ممبران قومی اسمبلی سے قائد حزبِ اقتدار منتخب کرنے کا کہے گا ، اُس کے قائدِ حزب مخالف کا انتخاب ہوگا ۔ پھر نئے صدر کا انتخاب ہوگا ۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

  

ہفتہ، 30 دسمبر، 2023

زمین میں چُھپے خزانے

 پاکستان زیرِ زمین پانی کی ایکوئفر کے لحاظ سے دُنیا کی سپر پاور ہے۔ دنیا کے 193 ممالک میں سے صرف تین ممالک چین، انڈیا اور امریکہ پاکستان سے بڑی ایکوئفر رکھتے ہیں۔دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے میدانی علاقوں کے نیچے یہ ایکوئفر 5 کروڑ ایکڑ رقبے پر سے زیادہ علاقے پر پنجاب اور سندھ میں پھیلی ہوئی ہے۔

 در حقیقت پاکستان کے مردہ ہوتے دریاؤں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آنے والے سیلابوں یا قحط کے خطرے کے سامنے یہ ایکوئفر ہی ہماری آخری قابلِ بھروسہ ڈھال ہے جس کے سینے میں ہم نے دس لاکھ سے زیادہ چھید (ٹیوب ویل ) کر رکھے ہیں اور ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

 یہ ایکوئفر اتنی بڑی ہے کہ پاکستان کے سارے دریاؤں کا پانی اپنے اندر سما سکتی ہے۔ یہ آپ کے تربیلا ڈیم جتنی ایک درجن جھیلوں سے زیادہ پانی چُوس لے گی اور اسے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

 پاکستان اس وقت دُنیا میں زمینی پانی کو زراعت کے لئے استعمال کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ آپ کی زراعت میں آدھے سے زیادہ پانی (50ملئین ایکڑ فٹ) اس ایکوئفر سے کھینچا جارہا ہے۔دریائے سندھ کے نہری نظام سے کبھی سال میں ایک فصل لی جاتی تھی ، آج ہم تین تین فصلیں لے رہے ہیں۔

 آبادی کے دباؤ کی وجہ سے زرعی اور صنعتی مقاصد کے لئے بے تحاشا پانی ٹیوب ویلوں سے کھینچنے کی وجہ سے یہ ایکوئفر نیچے جانا شروع ہوچکی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بنک کے مطابق پاکستان تقریباً 500 کیوبک میٹر پانی فی بندہ کے حساب سے زمین سے کھینچ رہا ہے جو کہ پورے ایشیا میں بہت زیادہ ہے۔

 اس ایکوئفر کے اوپر سندھ اور پنجاب کے علاقے میں صرف مون سون کے تین مہینوں میں 100 ملئین ایکڑ فٹ تک پانی برس جاتا ہے۔ یہ ایکوئفر ہزاروں سال سے قدرتی طور پر ری چارج ہورہی تھی لیکن ہم نے کنکریٹ کے گھر اور اسفالٹ کی سڑکیں بناکر پانی کے زمین میں جانے کا قدرتی راستہ کم سے کم کردیا ہے۔ 

بارش کا پانی سب سے صاف پانی ہوتا ہے لیکن یہ ری چارج ہونے کی بجائے فوری طور پر سڑکوں ، سیوریج لائنوں اور گندے نالوں کے ذریعے گٹر والے پانی میں بدل جاتا ہے جس سے نہ صرف اس کی کوالٹی بدتر ہوجاتی ہے بلکہ یہ سیلابی پانی بن کر شہروں کے انفراسٹرکچر اور دیہاتوں کو فلیش فلڈنگ سے نقصان پہنچاتا ہے۔

 تاہم اگر اس پانی کو اکٹھا کرکے زیرزمین پانی کوری چارج کرنے کا بندوبست کیا جائے تو نہ صرف اربن فلڈنگ اور فلیش فلڈنگ پر قابو پایا جاسکتا ہے بلکہ بڑے بڑے ڈیم بنائے بغیر بہت زیادہ پانی بھی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔

 لہٰذا فوری طور پر آبادی والے علاقوں میں ری چارج کنویں، ڈونگی گراونڈز، ری چارج خندقیں ، تالاب، جوہڑ بنانے پر زور دیا جائے جب کہ نالوں اور دریاؤں میں ربڑ ڈیم اور زیرزمین ڈیم بنا کر مون سون کے دوران بارش اور سیلاب کے پانی کو زیرِزمین ری چارج کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے راوی اور ستلج دریا کے سارا سال خشک رہنے والے حصے، پرانے دریائے بیاس کے سارے راستے اور نہروں اور دوآبوں کے زیریں علاقے انتہائی موزوں جگہیں ہیں۔ 

اس طرح پانی ذخیرہ کرنے کے فوائد کیا ہوں گے؟

٭۔ بڑے ڈیموں کی جھیلیں آہستہ آہستہ مٹی اور گادھ سے بھر جاتے ہیں جب کہ زیرِ زمین ایکوئفر میں پانی فلٹر ہو کر جاتا ہے لہٰذا یہ ہمیشہ کے لئے ہیں ۔

٭۔  ایکوئفر سے پانی بخارات بن کر نہیں اڑ سکتا۔
٭۔کسی بھی قسم کی آبادی یا تنصیبات کو دوسری جگہ منتقل نہیں کرنا پڑے گا جیسا کہ پانی کے دوسرے منصوبوں میں کرنا پڑتا ہے۔
٭۔ جب اور جہاں ضرورت ہو یہ پانی نکالا جا سکے گا۔
٭۔ پانی کی کوالٹی بھی جھیل میں کھڑے پانی سے بہتر ہوگی۔ ہمارے صنعتوں میں 100 فی صد پانی زیرزمین استعمال ہوتا ہے اور پھر یہ لوگ پانی استعمال کرنے کے بعد بغیر اسے صاف کئے واپس زمین میں یا نالوں میں پانی گندا کرنے کے لئے چھوڑ دیتےہیں۔

اگر ابتدا صنعتوں سے ہی کرکے ان کو پمپ کئے گئے پانی کی مقدار کے برابر پانی ری چارج کرنے کی سہولیات بنانے کا پابند بنایا جائے تو یہ ایک اچھا آغاز ہوگا جس کے بعد میونسپیلیٹی اور ضلع کی سطح پر کام کیا جاسکتا ہے۔

 موجودہ پانی کے تناؤ کی صورت حال، بھارت کی طرف سے دریاؤں کے خشک کرنے، سیلابوں اور قحط کے سامنے نظر آتے خطروں کے خلاف زمینی پانی ہی ہمارے بچاؤ کی آخری صورت ہے۔ زمین میں چھپے اس خزانے کو ری چارج کرنا ضروری ہے۔

انجنئیر ظفر وٹو 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

جمعہ، 22 دسمبر، 2023

تاریخ کا سب سے بڑا انسانی معجزہ ۔" CERN "

 سوئٹزرلینڈ اور فرانس دونوں نے مل کر لیبارٹری بنانا شروع کی‘ یہ لیبارٹری سرن کہلاتی ہے‘ یہ کام دو ملکوں اور چند سو سائنس دانوں کے بس کی بات نہیں تھی چنانچہ آہستہ آہستہ دنیا کے 38 ممالک کی 177 یونیورسٹیاں اور فزکس کے تین ہزار پروفیسر اس منصوبے میں شامل ہو گئے‘
سائنس دانوں نے پہلے حصے میں زمین سے 100 میٹر نیچے 27کلو میٹر لمبی دھاتی سرنگ بنائی۔
اس سرنگ میں ایسے مقناطیس اتارے جو کشش ثقل سے لاکھ گنا طاقتور ہیں‘
مقناطیس کے اس فیلڈ کے درمیان دھات کا 21 میٹر اونچا اور 14 ہزار ٹن وزنی چیمبر بنایا گیا‘ یہ چیمبر کتنا بھاری ہے ؟
دنیا کے سب سے بڑے دھاتی اسٹرکچر کا وزن 7 ہزار تین سوٹن ہے‘ سرن کا چیمبر اس سے دگنا بھاری ہے‘ اس چیمبر کا ایک حصہ پاکستان کے ہیوی مکینیکل کمپلیکس میں بنا اور اس پر باقاعدہ پاکستان کا جھنڈا چھاپا گیا‘
سائنس دانوں کے اس عمل میں چالیس سال لگ گئے‘
یہ چالیس سال بھی ایک عجیب تاریخ رکھتے ہیں۔
ملکوں کے درمیان اس دوران عداوتیں بھی رہیں اور جنگیں بھی ہوئیں لیکن سائنس دان دشمنی‘ عداوت‘ مذہب اور نسل سے بالاتر ہو کر سرن میں کام کرتے رہے‘ یہ دن رات اس کام میں مگن رہے‘ سائنس دانوں کے اس انہماک سے بے شمار نئی ایجادات سامنے آئیں مثلاً انٹرنیٹ سرن میں ایجاد ہوا تھا‘ سائنس دانوں کوآپس میں رابطے اور معلومات کے تبادلے میں مشکل پیش آ رہی تھی چنانچہ سرن کے ایک برطانوی سائنس دان ٹم برنرزلی نے 1989ء میں انٹرنیٹ ایجاد کر لیا یوں www(ورلڈ وائیڈ ویب) 
سرن میں ’’پیدا‘‘ ہوا اور اس نے پوری دنیا کو جوڑ دیا۔
سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی بھی اسی تجربے کے دوران ایجاد ہوئیں ‘ سرن میں اس وقت بھی ایسے سسٹم بن رہے ہیں جو اندھوں کو بینائی لوٹا دیں گے‘ ایک چھوٹی سی چپ میں پورے شہر کی آوازیں تمام تفصیلات کے ساتھ ریکارڈ ہو جائیں گی‘ ایک ایسا سپرالٹرا ساؤنڈ بھی مارکیٹ میں آرہا ہے جو موجودہ الٹرا ساؤنڈ سے ہزار گنا بہتر ہوگا ‘ ایک ایسا لیزر بھی ایجاد ہو چکا ہے جو غیر ضروری ٹشوز کو چھیڑے بغیر صرف اس ٹشو تک پہنچے گا جس کا علاج ہو نا ہے‘ ایک ایسا سسٹم بھی سامنے آ جائے گا جو پورے ملک کی بجلی اسٹور کر لے گا اور سرن کا گرڈ کمپیوٹر بھی عنقریب مارکیٹ ہو جائے گا‘ یہ کمپیوٹر پوری دنیا کا ڈیٹا جمع کرلے گا۔
یہ تمام ایجادات سرن میں ہوئیں اور یہ اس بنیادی کام کی ضمنی پیداوار ہیں‘ سرن کے سائنس دان اس ٹنل میں مختلف عناصر کو روشنی کی رفتار (ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ) سے لگ بھگ اسپیڈ سے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں اور پھر تبدیلی کا مشاہدہ کرتے ہیں‘ یہ عناصر ایٹم سے اربوں گنا چھوٹے ہوتے ہیں‘ یہ دنیا کی کسی مائیکرو اسکوپ میں دکھائی نہیں دیتے‘ سائنس دانوں نے 2013ء میں تجربے کے دوران ایک ایسا عنصر دریافت کر لیا جو تمام عناصر کو توانائی فراہم کرتا ہے‘ یہ عنصر ’’گاڈ پارٹیکل‘‘ کہلایا‘ اس دریافت پر دو سائنس دانوں پیٹر ہگس اور فرینکوئس اینگلرٹ کونوبل انعام دیا گیا‘ یہ دنیا کی آج تک کی دریافتوں میں سب سے بڑی دریافت ہے۔
سائنس دانوں کا خیال ہے مادے کی اس دنیا کا آدھا حصہ غیر مادی ہے‘ یہ غیر مادی دنیا ہماری دنیا میں توانائی کا ماخذ ہے‘ یہ لوگ اس غیر مادی دنیا کو ’’اینٹی میٹر‘‘ کہتے ہیں‘یہ اینٹی میٹر پیدا ہوتا ہے‘کائنات کو توانائی دیتا ہے اور سیکنڈ کے اربوں حصے میں فنا ہو جاتا ہے‘ سرن کے سائنس دانوں نے چند ماہ قبل اینٹی میٹر کو 17 منٹ تک قابو رکھا ‘ یہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا‘ یہ لوگ اگر ’’اینٹی میٹر‘‘ کو لمبے عرصے کے لیے قابو کر لیتے ہیں تو پھر پوری دنیا کی توانائی کی ضرورت چند سیکنڈز میں پوری ہو جائے گی‘ دنیا کو بجلی اور پٹرول کی ضرورت نہیں رہے گی‘
سرن ایک انتہائی مشکل اورمہنگا براجیکٹ ہے اور سائنس دان یہ مشکل کام65 سال سے کر رہے رہے ہیں۔
یہ لیبارٹری دنیا کے ان چند مقامات میں شامل ہے جن میں پاکستان اور پاکستانیوں کی بہت عزت کی جاتی ہے‘ اس عزت کی وجہ ڈاکٹر عبدالسلام ہیں‘ ڈاکٹر عبدالسلام کی تھیوری نے سرن میں اہم کردار ادا کیا‘ عناصر کو ٹکرانے کے عمل کا آغاز ڈاکٹر صاحب نے کیا تھا‘ ڈاکٹر صاحب کا وہ ریکٹر اس وقت بھی سرن کے لان میں نصب ہے جس کی وجہ سے انھیں نوبل انعام ملا۔
دنیا بھر کے فزکس کے ماہرین یہ سمجھتے ہیں اگر ڈاکٹر صاحب تھیوری نہ دیتے اور اگر وہ اس تھیوری کو ثابت کرنے کے لیے یہ پلانٹ نہ بناتے تو شاید سرن نہ بنتا اور شاید کائنات کو سمجھنے کا یہ عمل بھی شروع نہ ہوپاتا چنانچہ ادارے نے لیبارٹری کی ایک سڑک ڈاکٹر عبدالسلام کے نام منسوب کر رکھی ہے‘ یہ سڑک آئین سٹائن کی سڑک کے قریب ہے اور یہ اس انسان کی سائنسی خدمات کا اعتراف ہے جسے ہم نے مذہبی منافرت کی بھینٹ چڑھا دیا‘ جسے ہم نے پاکستانی ماننے سے بھی انکار کر دیا تھا۔

سرن میں اس وقت 10 ہزار لوگ کام کرتے ہیں‘ ان میں تین ہزار سائنس دان ہیں یوں یہ دنیا کی سب سے بڑی سائنسی تجربہ گاہ ہے‘یہ تجربہ گاہ کبھی نہ کبھی اس راز تک پہنچ جائے گی جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات تخلیق کی تھی‘ یہ راز جس دن کھل گیا اس دن کائنات کے سارے بھید کھل جائیں گے‘
ہم اس دن قدرت کو سمجھ جائیں گے۔
علامہ عنایت اللّٰہ خان المشرقی نےفرمایاتھا کہ ایک دن انسان قدرت کے تمام بھید جان لےگا اور وہ دن انسانیت کی تکمیل کا دن ہوگا اور اسکےساتھ ہی انسان کو خلیفہ بنانے کا قدرت کا مقصد پورا ہوجائیگا۔
سرن میں ایک نوجوان پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر مہر شاہ بھی کام کرتے ہیں۔‘ یہ بہت متحرک‘ کامیاب اور ایکٹیو قسم کے سائنس دان ہیں‘اللہ نے انھیں ابلاغ کی صلاحیت سے نواز رکھا ہے‘ ڈاکٹر مہر سمیت ہمیں وہاں ہزاروں درویش ملے‘ ایسے درویش جو اس راز کی کھوج میں مگن ہیں جسے آج تک مذہب نہیں کھول سکا‘
یہ لوگ اصل درویش ہیں‘ یہ انسانیت کے بہتر مستقبل کے لیے کام کر رہے ہیں‘
یہ لوگ واقعی عظیم اور قابل عزت ہیں۔
 پاکستان بھی سرن کا ممبر ہے‘ حکومت پاکستان ہر سال 22کروڑ روپے فیس ادا کرتی ہے‘ہمیں اس فیس کا فائدہ اٹھانا چاہیے ‘ڈاکٹر مہر کے بقول سرن طالب علموں کومفت تعلیم دیتا ہے‘ ہمارے نوجوانوں کو اس سہولت کا فائدہ اٹھانا چاہیے‘ ہمارے نوجوان ایف ایس سی سے لے کر پی ایچ ڈی تک کے لیے سرن سے وظائف لے سکتے ہیں ‘ دوسرا سرن ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے لیے اوپن ادارہ ہے‘ اس کا ہر ممبر کوئی بھی ٹیکنالوجی حاصل کر سکتا ہے‘ پاکستان کو اس سہولت کا بھی فائدہ اٹھانا چاہیے۔
  ہم اگر سرن سے صرف میڈیکل سائنس اور زراعت کی ٹیکنالوجی ہی لے لیں تو یہ بھی ہمارے  لیے کافی ہو گی ‘ ہمارے بے شمار مسائل حل ہو جائیں گے۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭

اتوار، 3 دسمبر، 2023

فوج کا فوجی پنشنرز کے لئے ایک اقدام

  فوجیوں کا ڈسٹرکٹ لیول تک سول اداروں میں 10 فیصد ہر بھرتی میں  کوٹہ دیا گیا ہے ۔ جو صرف آفیسروں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔

اِسی لئے آپ پولیس اور ڈسٹرکٹ منیجمنٹ گروپس میں   ، کمشنر یا انسپکٹر جنرل آف پولیس کیپٹن  ۔ میجر  اور کرنل  کے ناموں کا لاحقہ لگا دیکھتے ہیں ، یہ سب فوج کے برگزیدہ لوگ ہوتے ہیں اور جو مار گزیدہ ہوتے ہیں وہ صرف اپنے نام کے ساتھ ریٹائرڈ لکھتے ہیں ۔  مجھے امید ہے کہ اب یقیناً فوج کی کوششوں سے  سولجرز کی متوازی بھرتیاں اُن کے 10 فیصد کوٹے میں شروع ہو جائیں گی۔ لیکن اِن 10 فیصد بھرتیوں کے بجائے جو مضمون میں نے لکھا تھا ۔پر لازمی عمل کیا جائے ۔کیوں کہ سرکاری ملازم ہڈ حرام ہوتے ہیں اور پنشن ملنے کے بعد اگر سرکاری ملازمت ملے تو مزید ھڈ حرام ہو جاتے ہیں۔

    ۔ پاکستان کی ترقی میں نان ایکٹو سولجر کا شمول

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مجھے وٹس ایپ پر ایک فارم ملا جو میں نے اپنے تمام پنشنرز دوستوں کو ذاتی طور پر نیوز براڈ کاسٹ میں ڈال دیا ۔کہ اسے دوسرے فوجی پنشنرز کو شیئر کردیں۔ یہ بالکل ماضی بعید  کی حکومت  کے ایمپلائمنٹ ایکسچینج  کی طرح ہے ۔جو ماضی بعید میں میٹرک پاس کرنے کے بعد ملازمت  حاصل کرنے والوں کے لئے بنایا گیا تھا ۔ جس میں میرٹ ،میٹرک سائنس ۔میٹرک کامرس ۔ میٹرک آرٹس اور نان میٹرک طالبعلموں کے لئےشروع کیا تھا ۔ اگر آپ نے پِٹ مین ٹائپنگ انسٹیوٹ سے ٹائپنگ کا کورس کیا ہے تو آپ کا میرٹ سائنس والے سے کلیریکل جاب میں اوپر چلا جاتا تھا اور اگر آپ نے شارٹ ہینڈ کا کورس بھی کیا ہے تو آپ کا میرٹ سب سے اوپر میٹرک پاس والوں میں ہوتا ۔ سرکاری ملازمت حاصل کرنے کی دھکم پیل ہمیشہ رہی ہے کہ پکی  60 سالہ ملازمت ہوتی اور ریٹائرمنٹ پر پنشن ملتی ۔ لیکن ڈیفنس فورسز (آرمی ، نیوی اور ائر فورس)میں ایسا نہیں ہوتا۔ جن میں پہلی کلر سروس  مکمل کرنے کے بعد  38 سال اور 43 سال کی عمر میں ، پھر ملازمت کی لائن میں کھڑا ہونا پڑتا ہے ۔پاکستان آرمی کی۔

W&R Directorate

 ایک ایسا ادارہ ہے جوفوجیوں اور ریٹائر ہوجانے والے فوجیوں  کی  دوبارہ ۔ پاکستان  آرمی کے دو بڑے ویلفیئر اداروں ۔ فوجی فاونڈیشن  اور آرمی ویلفیئر ٹرسٹ میں ۔ملازمت دلواتا ہے۔ یہ ایجوٹنٹ جنرل (یفٹننٹ جنرل)کے ماتحت ہوتی ہے ، جس کا ڈائریکٹر جنرل ۔ میجر جنرل ہوتا ہے۔ اصولاً یہ فارم ریٹائرمنٹ کے وقت تمام رینکس سے بھرواکر  ڈبلیو اینڈ آر ڈاریکٹوریٹ ۔جی ایچ کیو    بھجوانا چاھئیے ۔ لیکن کئی پنشنرز جو فوجی نوکری سے اتنے تنگ ہوتے ہیں کہ وہ دوبارہ فوج میں ریٹائرمنٹ کے بعد ملازمت نہیں کرنا چاھتےاور اپنی بچوں کے پاس رہ کر کاروبار یا وہیں ملازمت کرنا چاھتے ہیں ۔ بزنس کے تھپیڑوں میں اپنی پنشن گنوا کر دوبارہ ، ملازمت کے خوہش مند ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ گیٹ پر کھڑے چوکیدار کی کیوں نہ ہو ۔ اُن کو دوبارہ موقع مشکل سے ملتا ہے ۔ لیکن اگر فوج میں اُن کا ٹریڈ اچھا ہو تو، اُنہیں 50 سال کی عمر تک دوبارہ ملازمت کا چانس ہوتا ہے ۔ جن میں ٹیکنیکل ٹریڈ۔ کلیریکل ٹریڈ اور سیکیورٹی کی ڈیوٹی کے لئے جاب مل جاتی ہے ۔ جس کے لئے اُن کا تجربہ اور اضافی تعلیم یا سرٹیفکیشن اہمیت رکھتی ہے ۔

وہ تمام فوجی جن کی عمر  31 دسمبر 2023  کو 50سال سے کم ہے ،  جو دوبارہ ملازمت پر جو نان پنشن  ایبل  ہوگی     ۔ اُس کے لئے درج ذیل فارم بھر کر لازمی ۔ اِس ایڈیس پر بھجوائیں ۔ممکن ہے کہ آپ مہنگائی کے اِس دور میں دوبارہ روزگار حاصل کر سکیں ۔اگر آپ نے پہلے کوئی درخواست دی ہے تب  بھی یہ فارم بھر کر بھجوائیں کیوں کہ آپ کی معلومات اِسی ترتیب سے کمپیوٹر میں ڈالی جائے گی ۔

آپ کی یہ درخواستیں تصدیق کے لئے آپ کے ریکارڈ آفس بھجوائی جائیں گی ، لہذا  تمام معلومات درست دیں ۔ آگر آپ نے ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی تعلیم حاصل کی تو اُس کے سرٹیفکیٹ کی کاپی لگائیں شکریہ

WR - 7 (RE-EMP RANKS) . W&R DTE .GHQ RAWALPINDI

صبح اٹھا موبائل کھولا تو ، جوانوں کے پیغامات سے بھرا ہوا تھا کہ سر یہ کیسے بھرا جائے؟۔

فارم دیکھے بغیر پنشنرز نے سوال پوچھے ۔
٭۔ یہ فیک تو نہیں ؟
٭۔ تنخواہ کیا ہوگی ؟
٭- ڈیوٹی کس شہر میں ہو گی ؟

٭۔ فوج دوبارہ بھرتی کر رہی ہے ؟

٭۔ گھر ملے گا ؟ وغیرہ وغیرہ

 ٭٭٭٭واپس ٭٭٭ ٭

 

جمعرات، 9 نومبر، 2023

بوڑھے کا ایک اور سوشل ورک

بوڑھا ، بڑھیا کے ساتھ گھر سے فلیٹ میں شفٹ ہوا ،  گھریلو ملازم ، تنخواہ ، کھانا ،  رہائش  ،صابن تولیہ ، ٹوتھ برش و پیسٹ مُفت    ہر مہینے تین دن کی چھٹی ، کی  وجہ سے سکون سے رہنے لگا ۔ 6 اگست تا 11 اگست گوادر میں گذارنے کے بعد  بوڑھا واپس آیا ۔ کیوں کہ بیٹے کے اگلے رینک میں پروموشن کو یادگار بنانے کے لئے 8 اگست 2013 کی تاریخ منتخب کی جو اُس کی ماما یعنی بڑھیا کی پیدائش کا دن تھا ۔
تو بڑھیا نے بتایا کہ ملازم  تنخواہ کی کمی  کی وجہ   کڑکڑانا   شروع ہو گیا ہے۔
 جس کی مہینے میں تین دن چھٹیوں اور مزید اضافے کی وجہ سے بڑھیا اور بوڑھے کو کچن کا اضافی  کام کرنا پڑتا ۔ یہاں تک کہ تیسرے ماہ  یعنی ستمبر میں بڑھیا کے علیل ہوجانے کے بعد  کام کا بوجھ مکمل بوڑھے کے کندھوں پر پڑ گیا ۔ تو بوڑھے کو سنت یاد آئی مگر اب پل کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا تھا ، فرض نبھانا مشکل لگتا تھا ۔تو بوڑھے   کو خیال آیا اور یہ خیال اپنے کورس میٹ قاضی فواد کے گھر آیا ،جہاں امریکہ پلٹ میاں اور بیوی ڈالروں سے گلچھرے اُڑانے کے باوجود ،  گھر میں ملازم افورڈ نہیں کرسکتے ، وجہ اُس کی تنخواہ نہیں بلکہ  خواہ مخواہ  دو افراد کے لئے  ماھانہ اضافی اخراجات جو  بلا مبالغہ 35 ہزار روپے سے زیادہ بن جاتے ہیں ۔
بوڑھے  نے حساب لگایا تو احساس ہوا کہ بوڑھا اور بڑھیا دن کا کھانا کھائیں یا نہ کھائیں ۔ ہر دو دن بعد کھانا بنانا پڑتا ہے ۔ مہمان آئیں تو سیور ، فاسٹ فوڈ یا گاف کلب سے کھانا ۔  ملازم جب چھٹی جاتا تو دو دن کے بجائے کھانا  تین سے چار دن چلتا کیوں کی دو مہینے  بعد، ایک سے تین دن لیٹ آنا ، نوجوان نے اپنی طرفسے والد کی فالج کی بیماری کی وجہ سے کر لیا ۔ یہاں تک کہ اکتوبر میں اُس نے پورا ایک ہفتہ اپنے علیل والد کی خدمت میں گذارا، یو ں بوڑھا اور بڑھیا گھر میں کھانے سے بے نیاز ہوگئے ۔ فروٹ چاٹ ، جسے دیگر  چیزوں    پر توجہ دی اور سب سے بہتر کہ روزانہ گھر کی صفائی کے لئے آنے والی ملازمہ کو اضافی رقم دے کر بڑھیا نے کچن کا اضافی کام جیسے پیاز، لہسن ، سبزی وغیرہ کاٹنے پر رکھ لیا ۔ نوجوان جب واپس آیا تو اُس نے اپنی مجبوری کی وجہ سے معذرت کر لی ، کیوں کہ اُس کا والد مزید علیل ہو چکا تھا ۔ تو بوڑھے نے شکریہ  کے ساتھ نصف تنخواہ دے کر اُسے رخصت کر دیا ۔
اب کیا کیا جائے ، بڑھیا کا خیا ل تھا ، کہ اُسے ملازم کی ضرورت نہیں ، دونوں بیٹیوں کا خیال تھا کہ ملازم لازمی رکھیں ۔ بوڑھے نے سوچا کیوں نہ عمران جو بوڑھے  کے پاس 2017 میں 17 سال کا آیا تھا اور بہترین گھریلو ملازم بن کر 2019 میں فوج میں بطور  این سی بی ملازم ہو گیا ۔
لیکن بڑھیا نے صاف انکار کر دیا کہ اُس میں ہمت نہیں کہ وہ ملازم کو کھانے پکانے کی تربیت دے ۔ چنانچہ بوڑھے نے اک نئے سوشل ورک کی طرف سوچنا شروع کر دیا ۔ 
 جس کے لئے گوادر کے ایک استاد  قاری سے رابطہ کیا جو اُس نے  منظور کر دیا وہ یہ کہ گوادر کے  ایک یتیم بچے کو بوڑھا ، اپنے گھر میں رکھ کر اُسے تربیت دے  ۔ جس کے لئے بڑھیا کی یہ شرط تھی کہ وہ  حفاظ ہو ہا کم از کم ناظرہ القرآن پڑھ چکا ہو ۔ 
لیکن قاری صاحب کی تلاش بسیار کے باوجود کو ئی بلوچی  یتیم بچہ گوادر  تا  تربت  نہ ملا ۔ 
چنانچہ اِس پروگرام میں مزید وسعت دینے کے لئے ۔ ملت ابراھیم حنیف پراجیکٹس کا آغاز کیا ۔
بوڑھے کو یہاں بھی ناکامی ہوئی ۔لہذا اِس پراجیکٹ کو دوسری سمت لے جانے کی کوشش  کرنے کا  پروگرام بنایا ۔
٭٭٭٭واپس ٭٭٭٭٭


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔