Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 18 جولائی، 2021

۔ مرزا اسلم بیگ ۔ سابق چیف آف دی آرمی سٹاف

‏سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ نے اپنی سوانح عمری کا نام ''اقتدار کی مجبوریاں‘‘ رکھا ہے اور شاید انہیں مجبوریوں کی وجہ سے انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد تیس سال تک کچھ اہم معاملات پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔
 

بقول مصنف ،’’یہ کتاب جنرل بیگ کی مخصوص سوچ و فکر اور ان کے ایمان و ایقان کی دلچسپ داستان ہے‘‘

  جنرل صاحب نے جس راز سے پردہ اٹھایا ہے اگر یہ راز دس سال پہلے سامنے آ جاتا تو شاید ملک کے حالات آج ایسے نہ ہوتے
کٹھ پتلی حکومت  موجود نہ ہوتی معیشت تباہ  نہ ہوتی
 مہنگائی کا طوفان  نہ آتا
 بیروزگاری عام نہ ہوتی
 عوام خوار نہ ہو رہی ہوتی
جنرل مرزا اسلم بیگ نے سوانح عمری میں  یہ اعتراف کیا کہ سن 1964ء میں جنرل ایوب خان کے مقابلے میں محترمہ فاطمہ جناح کو زیادہ مقبولیت حاصل تھی لیکن انہیں دھاندلی کے ذریعے ہرا دیا گیا، جس سے مشرقی پاکستان کے عوام میں بددلی پھیلی۔
 1971ء تک فوج نے مشرقی پاکستان میں حالات کنٹرول کر لیے تھے، جس کے بعد لیفٹیننٹ کرنل مرزا اسلم بیگ نے تحریری طور پر لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ نیازی کو کہا کہ اب اقتدار سول انتظامیہ کے سپرد کر کے سیاسی عمل شروع کیا جائے۔
 یہ بات جنرل نیازی کو پسند نہ آئی کیوں کہ وہ طاقت کے نشے میں چور تھے۔ انہوں نے ایسے ریمارکس پاس کیے، جو ہمارے جنرل آفیسر کمانڈنگ کو پسند نہ آئے اور تلخ کلامی ہو گئی۔ تین دن کے اندر اندر کمانڈ تبدیل ہو گئی اور مرزا اسلم بیگ زیرعتاب آ گئے۔ انہیں واپس راولپنڈی بھیج دیا گیا۔

   جنرل اسلم بیگ ایک صوبیدار میجر کے بیٹے ہیں۔ ان کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ وہ پاکستانی فوج کے پہلے آرمی چیف ہیں جن کی تربیت پی ایم اے میں ہوئی، ان سے پہلے تمام آرمی سربراہ برطانیہ کی رائل اکیڈمی سینڈہرسٹ کے تربیت یافتہ تھے۔ 

 وہ کہتے ہیں کہ حکمرانوں کو اقتدار اس حد تک بے بس کر دیتا ہے کہ وہ قومی غیرت کو بھی دا پر لگا دیتے ہیں۔جنرل بیگ کا کہنا ہے کہ جب اس کتاب کے عنوان کو تلاش کر رہے تھے تو ان کے ذہن میں سابق صدر جنرل محمد ضیا الحق کے یہ الفاظ بارہا گونجتے کہ ’’اقتدار کی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں‘‘۔ جنرل بیگ نے اس کتاب میں ان مجبوریوں کا ذکر اس طرح کیا ہے۔

 ٭۔ جنرل ایوب خان کی مجبوری تھی کہ انھوں نے اقتدار جنرل یحییٰ کے حوالے کر دیا۔

 ٭۔جنرل یحییٰ کی مجبوری تھی کہ وہ تین مارچ 1971 کو ڈھاکا میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا اعلان کر کے اپنے وعدے سے منحرف ہوگئے۔ 

٭۔ جنرل ضیاالحق کی مجبوری تھی کہ انھوں نے اپنے وعدے کے خلاف بھٹو کی موت کے پروانے پر دستخط کر دیے۔

٭۔ جنرل پرویز مشرف کی مجبوری تھی کہ وہ غیروں کے ساتھ مل کر افغانستان کے خلاف جنگ میں شامل ہو گئے۔

 جنرل بیگ کا کہنا ہے کہ اقتدار کی ہوس میں ہمارے ارباب فکر ونظر اندیشہ سود و زیاں(آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 )  کے تحت اپنی زبان بند رکھتے ہیں۔ حکمرانوں کوٹوکتے نہیں۔

یہ ہمارا المیہ ہے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کتاب میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ میرے علم ( یعنی اسلم بیگ) کی حد تک سچ اور صرف سچ پر مبنی ہے اور سچائی کی وجہ سے میں نے کئی بار نقصان بھی اٹھایا۔ (سچ بولنے والے میجر تک پہنچ پاتے ہیں ۔ مہاجرزادہ)

بھٹو کی پھانسی کے پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے جنرل بیگ کہتے ہیں، پھانسی کی سزا دینے سے پہلے جنرل ضیا الحق نے آفیسرز اور جوانوں کا ردعمل معلوم کرنے کے لیے تمام کور کمانڈرز کو جائزہ لینے کا کہا۔ کور کمانڈروں کے اجلاس میں، میں نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ بھٹو کو پھانسی دینا نہایت ہی غلط فیصلہ ہوگا۔ اس کے نتائج سنگین ہوں گے، ایسی پیچیدگیاں پیدا ہو گی جنھیں سنبھالنا مشکل ہو گا۔ اس سے پنجاب اور سندھ کے لوگوں کے درمیان نفرتیں بڑھیں گی۔ بہتر ہوگا کہ بھٹو کو جلاوطن کر دیا جائے۔ان کے مطابق فلسطین کے یاسر عرفات، سعودی عرب کے شاہ فیصل ، لیبیا کے کرنل قذافی اور متحدہ عرب امارات کے حکمران یہ ذمے داری لینے کے لیے تیار تھے۔ میری اس بات سے کورکمانڈر ناراض ہوگئے۔ کانفرنس ختم کردی گئی۔ میری رائے چیف تک پہنچا دی گئی۔ میں انتظار میں تھا کہ میرے ساتھ اب کیا ہوگا۔ لیکن کوئی رد عمل سامنے نہ آیا۔

1987ء میں جنرل ضیا نے جنرل زاہد علی اکبر کو وائس چیف آف دی آرمی اسٹاف بنانے کا فیصلہ کیا لیکن وزیراعظم جونیجو نے جنرل مرزا اسلم بیگ کا نام تجویز کیا، جسے جنرل ضیا نے قبول کر لیا۔

 مجھے اس وقت بڑی حیرانی ہوئی جب چند روز بعد مجھے چیف آف جنرل اسٹاف تعینات کر دیا گیا۔ جنرل بیگ کا کہنا ہے کہ ’’ جنرل ضیا الحق نپولین جیسی فہم و فراست کے مالک تھے جو تنقید کرنے والوں کو اپنے ساتھ رکھتے تھے، وہ بے لاگ ، مخلصانہ اور حقیقت پسندانہ رائے سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔‘‘ 

اسلم بیگ صدر جنرل محمد ضیا الحق کے سیاسی نظام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ضیا الحق نے ملک کے لیے نیا سیاسی نظام تشکیل دینے کا ارادہ کیا، ان کی حکومت کو نو سال ہو چکے تھے۔ مجھے اور جنرل حمید گل کو یہ ذمے داری دی گئی کہ ہم تفصیلی جائزہ لینے کے بعد رپورٹ پیش کریں۔ہماری سفارشات پڑھنے کے بعد ضیا الحق نے بحث کے لیے ہمیں بلایا۔ 

ہماری رائے تھی کہ ’’اب وقت آگیا ہے کہ صاف ستھرے الیکشن کرا کے اقتدار عوامی نمایندوں کو منتقل کر دیا جائے، اس سے قوم آپ کواچھے الفاظ سے یاد رکھے گی‘‘۔ ضیا الحق کچھ دیر سوچتے رہے، پھر بولے،’’چاہتے ہو کہ پھانسی کا پھندا میرے گلے میں ہو‘‘۔ میں نے کچھ معروضات پیش کرنا چاہیں لیکن اجازت نہ ملی۔ ہم خاموش ہوگئے۔

جنرل ضیا الحق نے غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرا دیے اور محمد خان جونیجو کی حکومت قائم ہوگئی۔ افغان مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے جنرل اسلم بیگ اس کتاب میں کہتے ہیں۔

٭۔ سوویت یونین کی دائمی خواہش تھی کہ وہ افغانستان کے ذریعے ، پاکستان کے راستے گوادر کے گرم پانیوں تک پہنچے۔

٭۔ دوسری طرف امریکی گیم پلان تھا کہ وہ یوریشیا پر کنٹرول حاصل کرے تاکہ پوری دنیا اس کی دسترس میں ہو۔ 

امریکا کو اس منصوبے پر عمل کرنے کے لیے افغانستان کی ضرورت تھی۔ افغانستان میں امریکا اور سوویت یونین کی اس متصادم پالیسی میں پاکستان نے امریکی جارحیت کا ساتھ دیا۔اس جنگ کی اصل قوت افغانستان اور پاکستان کے پختونوں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے ستر ممالک سے آئے ہوئے سرفروش جہادی تھے جنھوں نے سوویت یونین کو شکست دی ۔دس سال کی طویل جنگ کے بعد روس کو احساس ہوا کہ وہ یہ جنگ نہیں جیت سکتا، بالآخر روس بے بس ہو گیا اور اپنی فوجیں نکالنے پر مجبور ہوا۔افغانستان سے روس کے نکلنے کے بعد امریکا نے بھارت کے ساتھ مل کر چین کا گھراؤ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس عمل میں پاکستان کو بھی دباؤ کا شکار کیاَ۔

٭۔ دوسری طرف افغان قوم اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کرنا چاہتی تھی۔امریکا نے افغانستان پر کنٹرول کرنے کے لیے طالبان پر تمام حربے استعمال کیے لیکن وہ اپنے موقف سے نہ ہٹے۔ طالبان کا موقف تھا کہ امریکا افغانستان سے نکل جائے اور افغانی عوام اپنی قسمت کا فیصلہ خود کریں۔امریکا اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود افغان نوجوان قیادت کو زیر نہ کرسکا ۔امریکا نے یوٹرن لیا اور طالبان کو دہشت گرد قرار دینا شروع کر دیا۔

٭۔  جنرل اسلم بیگ کا کہنا ہے کہ طالبان افغانستان کی اجتماعی مدافعتی قو ت کا نام ہے جس کے سامنے دنیا کی دو سپر پاور شکست کھا چکی ہیں۔ 

 اس کے علاوہ اس کتاب میں جنرل محمد ضیاالحق کے C-130 جہاز کے حادثے میں جاں بحق ہونے کے حوالے سے اسلم بیگ کا نقطہ نظر واضح طور پر بیان کیا ہے۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور ڈاکٹر قدیر خان کے خلاف الزامات کی نوعیت کا تذکرہ بھی ہے۔

جنرل مرزا اسلم بیگ نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والی پانچ شخصیات کے ساتھ اس ملک میں بہت ظلم ہوا۔
 جنرل صاحب نے ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں کہا ہے، ''انہیں عدالتی قتل کے ذریعے ختم کیا گیا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان بدترین تضحیک کا نشانہ بنائے گئے۔
 محترمہ بے نظیر بھٹو نے ہماری ایٹمی قوت میں منطق اور ٹھہراؤ کا عنصر شامل کیا لیکن دہشت گردی کا شکار ہو گئیں۔
 میاں محمد نواز شریف کے بارے میں جنرل بیگ نے صفحہ 245 پر کہا ہے، ''انہوں نے امریکی دباؤ  اور ڈالروں کی لالچ کو پس پشت ڈال کر ایٹمی دھماکے کر کے بھارت کو موثر جواب دیا لیکن آٹھ سال جلاوطن رہے۔ دوبارہ وزیراعظم بنے لیکن پھر سازش کے تحت انہیں کرسی اقتدار سے الگ کر دیا گیا
ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل اور نواز شریف کے خلاف عدالتی فیصلے کو سازش قرار دے دیا۔

1988ء کے انتخابات کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم بن گئیں۔ مرزا اسلم بیگ نے محترمہ کے ساتھ اپنے ذاتی اختلافات کو پس پشت ڈال کر اعتراف کیا ہے کہ 1990 کے اوائل میں بھارت نے ہماری ایٹمی تنصیبات تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا تو محترمہ نے صاحب زادہ یعقوب علی خان کو دہلی بھیجا اور بھارت کو پیغام دیا کہ باز آ جاؤ ورنہ تمہاری تنصیبات تباہ کر کے رکھ دیں گے
 محترمہ بے نظیر بھٹو نے بڑی دانشمندی سے نیوکلیئر پالیسی آگے بڑھائی۔ اس دور میں محترمہ کی اجازت سے بھارت کے خلاف لائن آف کنٹرول پر ایک کامیاب سرجیکل اسٹرائیک کی گئی۔
محترمہ بے نظیر بھٹو پہلی وزیراعظم تھیں، جو سیاچین کے بلند ترین محاذ کے دورے پر گئیں۔
فوج کے ایک سابق سربراہ کے خیال میں نہ تو ذوالفقار علی بھٹو غدار تھے، نہ ہی محترمہ بے نظیر بھٹو سکیورٹی رسک تھیں اور جو کچھ نواز شریف کے ساتھ ہوا، وہ سب ایک سازش تھی۔
جنرل اسلم بیگ نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا اور ساتھ میں یہ بھی بتا دیا کہ پاکستان کی ترقی کی راہ میں اصل رکاوٹ کون لوگ ہیں
 جو اپنے مفاد کے لیے ملک کے وزیراعظم کو پھانسی بھی دیتے ہیں
ملک کے وزیراعظم کے خلاف بہت سے کیسز بنا کر اس کو وزیراعظم ہاؤس سے بھی نکلوا دیتے ہیں
 اس کو سزا بھی دلوا دیتے ہیں اور صرف اور صرف سوئس  بینکوں میں اپنے اکاؤنٹ بھرنے کے لئے۔ پاپا جان پیزا بنانے کے لیے ۔آسٹریلیا میں جزیرہ خریدنے کے لئے   ملک جائے بھاڑ میں ان کے اکاؤنٹ ڈالروں سے ہونے چاہیے۔

٭٭٭٭٭

مزید پڑھیں  :۔

٭۔ جنٹلمین محترمہ فاطمہ جناح

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔