Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 30 نومبر، 2021

بوڑھے کے پنشنرز میں شامل ہونے کا 20 واں سال

   30 نومبر 2021 بوڑھے کا یادگار دن ، پنشنر بننے کی 20 ویں سالگرہ اور قومی اسمبلی کے سامنے ، پنشنرز اور ملازمین کے احتجاج میں قیادت ۔


اپنے لئے نہیں پاکستان کے تمام 1 تا گریڈ 14 کے پنشنرز کے لئے ، جن کا مہنگائی کے اِس دور میں گذارہ مشکل سے ہوتا ہے ۔
حکومت پاکستان کو چاھئیے کہ مہنگائی سلیب (انڈکسشن ) برائے فیڈرل و صوبائی ریٹائرڈ ملازمین اِس طرح مقرر کرے ۔ کہ کم از کم پنشن نئے بھرتی/ملازم ہونے والے گریڈ 1 کے برابر ہوجائے ۔ اور ہر سال مہنگائی کے تناسب سے ، ملازمین کی ہر سال بجٹ میں مہنگائی کی وجہ سے بڑھنے والی تنخواہ میں اضافے کا 50٪ کے برابر پنشن میں اضافہ کیا جائے۔
آج جب میں نے سٹیج سے ملازمین کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا ، کہ آپ یہاں اِس لئے جمع ہوئے ہو کہ آپ کا گذارہ نہیں ہو رہا ، لہذا حکومت 10 فروری 2021 کو ملازمین سے کئے گئے ، وزراء کے تحریری معاہدے پر عمل کرے ۔
اگر آپ آج ریٹائر ہوجائیں تو کیا آپ کا گذارہ ہوجائے گا ؟
سب کا جواب تھا نہیں ۔
میں نے کہا کہ آپ نے 60 سال کی عمر پر پہنچ کر لازمی ریٹائر ہونا ہے ۔ آپ پنشنرز کی آواز نہ بنیں ۔ بلکہ اپنی آواز خود بنیں ، کہ ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کو مہنگائی کے جن سے لڑنے کے لئے ، خود اپنے حاضر سروس ملازمین اور اپنے منتخب کئے وزراء سے احتجاج نہ کرنا پڑے ۔
اور زندہ رہنے کے لئے روٹی کپڑا اور مکان میسر ہو ۔
تو پھر آپ 10 فروری 2022 کو اپنے احتجاج کی سالگرہ ، اِس شان سے منائیں ، کہ سڑکیں اور جیلیں بھر دیں ۔تاکہ حکومتِ وقت آپ کی آواز پر آپ کی ڈیمانڈ کے مطابق تحریری فیصلہ دینے پر مجبور ہوجائے ۔  
٭٭٭٭٭٭٭٭
 

ہفتہ، 6 نومبر، 2021

تو کتنا بد نصیب ظفر دفن کے لئے

 بہادر شاہ ظفر کی غیر معمولی شہرت کی وجہ 1857 کا انقلاب ہے، تاہم ان کی ہمہ گیر شخصیت میں اس بات کا بڑا دخل ہے کہ وہ اودھ کے ایک اہم شاعر تھے۔ بہادر شاہ ظفر جس طرح بادشاہ کی حیثیت سے انگریزوں کی چالوں کا شکار ہوئے۔ اسی طرح ایک شاعر کی حیثیت سے بھی ان کے سر سے سخن وری کا تاج چھیننے کی کوشش کی گئی اور کہا گیا کہ ظفر کی شاعری میں جو خوبیاں ہیں وہ ان کے استاد ذوقؔ کی دین ہیں۔ 

سرسید کے سامنے جب اس خیال کا اظہار کیا گیا تووہ بھڑک اٹھے تھے اور کہا تھا کہ، ’’ذوق ان کو لکھ کر کیا دیتے اس نے تو خود زبان قلعہ معلیٰ سے سیکھی تھی۔‘‘ اس میں شک نہیں کہ ظفر ان شاعروں میں ہیں جنہوں نے شعری اظہار میں اردو پن کو فروغ دیا اور یہی اردو پن ظفر کے ساتھ ذو قؔ اور داغؔ کے وسیلے سے بیسویں صدی کے عام شاعروں تک پہچا۔

 مولانا حالیؔ نے کہا کہ ’’ظفر کا تمام دیوان زبان کی صفائی اور روزمرہ کی خوبی ہیں، اول تا آخر یکساں ہے‘‘ 

آب بقا کے مصنف خواجہ عبد الرؤف عشرت کا کہنا ہے کہ ’’اگر ظفر کے کلام پر اس اعتبار سے نظر ڈالی جائے کہ اس میں محاورہ کس طرح ادا ہوا ہے، روزمرہ کیسا ہے، اثر کتنا ہے اور زبان کس قدر مستند ہے تو ان کا مثل و نظیر آپ کو نہ ملے گا۔ ظفر بطور شاعر اپنے زمانہ میں مشہور اور مقبول تھے۔‘‘  

منشی کریم الدین’’طبقات شعرائے ہند‘‘ میں لکھتے ہیں، ’’شعر ایسا کہتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں ان کے برابر کوئی نہیں کہہ سکتا۔ تمام ہندوستان میں اکثر قوالی اور رنڈیاں ان کی غزلیں، گیت اور ٹھمریاں گاتے ہیں۔‘‘

جب7 نومبر 1862 کو بہادر شاہ ظفر نے میانمار کے شہر رنگون (حالیہ نام ینگون) کے ایک خستہ حال چوبی مکان میں آخری سانس لی تو ان کے خاندان کے گنے چنے افراد ہی ان کے سرہانے موجود تھے۔ 

اسی دن برطانوی افسران نے انھیں رنگون کے مشہور شویداگون پیگوڈا کے قریب ایک بےنشان قبر میں دفن کر دیا۔ یہ ایک ایسے شہنشاہ کا تلخ، حوصلہ شکن اور خجالت آمیز انجام تھا جس کے پرکھوں نے آج کے انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے وسیع علاقوں پر صدیوں تک شان و شوکت سے راج کیا تھا۔ یہ بات درست ہے کہ بہادر شاہ ظفر کے پاس وہ سلطنت نہیں رہی تھی جو ان کے آبا اکبرِ اعظم یا اورنگ زیب عالمگیر کے پاس تھی، لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ 1857 کی جنگِ آزادی میں ان کی پکار پر ہندوستان کے طول و عرض سے لوگ انگریزوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔

اس جنگ میں شکست کے بعد مغل شہنشاہ پر غداری کا مقدمہ چلایا گیا، اور انھیں قید کر کے برما جلاوطن کر دیا گیا۔

  19 مارچ 1858 کو عدالت نے بہادر شاہ ظفر کو ان تمام جرائم کا مرتکب ٹھہرایا جن کا ان پر الزام لگایا گیا تھا۔ 7 اکتوبر 1858 کو سابق شہنشاہ دہلی اور مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار ابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ثانی نے دہلی کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ دیا اور رنگون میں جلا وطنی کے دن گزارتے ہوئے 7 نومبر 1882 کو صبح پانچ بجے قید حیات و بند غم سے چھوٹ گئے۔

  ان کی موت کے ساتھ ہی دنیا کے عظیم شاہی خاندانوں میں سے ایک کا اختتام ہو گیا۔ لیکن ان کا نام اور ان کی تحریر کردہ اردو شاعری زندہ رہی۔

شمع جلتی ہے پر اس طرح کہاں جلتی ہے

 ہڈی ہڈی مری اے سوز نہاں چلتی ہے۔

 1837 میں جب ظفر نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت عظیم مغلیہ سلطنت سکڑ کر دہلی کے گرد و نواح تک محدود ہو گئی تھی۔ لیکن اس کے باوجود وہ ہمیشہ اپنی رعایا کے لیے شہنشاہ ہی رہے۔ انگریزوں نے پیروکاروں کے اٹھ کھڑے ہونے کے خطرے کے پیشِ نظر ان کی قبر کو بےنشان رکھا تھا۔ حتیٰ کہ ان کے مرنے کی خبر کو بھی ہندوستان پہنچتے پہنچتے دو ہفتے لگ گئے۔ 

اس کے بعد ایک سو برس تک ان کی قبر کا کسی کو پتہ نہیں تھا۔ لوگ ان کا نام بھی بھولنے لگے، لیکن پھر رفتہ رفتہ ان کا دوبارہ ذکر ہونے لگا۔ دہلی اور کراچی میں ان کے نام پر سڑکوں کے نام رکھے گئے اور ڈھاکہ میں ایک پارک ان سے موسوم کیا گیا۔ 'دا لاسٹ مغل' نامی کتاب کے مصنف اور مشہور تاریخ دان ولیم ڈیلرمپل نے بی بی سی کو بتایا: 

وہ خطاط، نامور شاعر اور صوفی پیر ہونے کے ساتھ ساتھ ایسے شخص تھے جو ہندوؤں اور مسلمانوں کے اتحاد میں یقین رکھتا تھا۔ وہ کوئی ہیرو یا انقلابی رہنما نہیں تھے، لیکن وہ اپنے جدِ امجد اکبرِ اعظم کی طرح مسلم ہندوستانی تہذیب کی برداشت اور کثیر القومیت کی علامت ہیں۔

 ہندوستان کے دو بڑے مذاہب کے اتحاد کی طرف ظفر کے جھکاؤ کی ایک وجہ خود ان کا خاندان تھا۔ ان کے والد اکبر شاہ ثانی مسلمان جب کہ والدہ لال بائی ہندو راجپوت شہزادی تھیں۔ 

رنگون کے ایک پرسکون علاقے میں واقع بہادر شاہ ظفر کا مقبرہ ہندوستانی تاریخ کے ایک جذباتی اور متلاطم دور کی یاد دلاتا ہے۔ رنگون کے باسیوں کو یہ تو معلوم تھا کہ آخری مغل شہنشاہ ان کے شہر میں واقع چھاؤنی کے اندر کہیں نہ کہیں دفن ہیں، لیکن درست جگہ کا کسی کا علم نہیں تھا۔

 آخر 1991 میں مزدوروں کو ایک نالی کھودتے کھودتے اینٹوں کا چبوترہ ملا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ دراصل بہادر شاہ ظفر کی قبر ہے۔ بعد میں عطیات کی مدد سے یہاں مقبرہ تعمیر کیا گیا۔ ہندوستان میں قائم دوسرے مغل بادشاہوں کے عالی شان مقبروں کی نسبت یہ مقبرہ بہت معمولی ہے۔ ایک آہنی محراب پر ان کا نام اور خطاب رقم ہے۔ نچلی منزل پر ان کی ملکہ زینت محل اور پوتی رونق زمانی کی قبر ہے۔

  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پہلا مضمون ۔

٭۔شہنشاہِ ہند بہادر شاہ ظفر 

اگلے مضامین ۔
٭- کالا پانی اور شہنشاہ ہند بہادر شاہ ظفر 


اندرونی اور بیرونی دنیا کی کشمکش۔5

تو اُفق کے پاربسنے والے پیارے دوستو!    ۔ 
اندرونی دنیا کا بیرونی دنیا سے رابطے پر آپ کا مکمل صوابدیدی اختیار ہے ۔ کہ مثبت راہ چنی جائے یا منفی ۔ بس آپ نے اپنے سر میں موجود دماغ (ہارڈڈسک) کے نیچے واقع ،مڈ برین  میں موجود ،  چپ سیٹس کوخود  ایڈجسٹ کرنا یا کسی ماہر  سے  ایڈجسٹ کروانا  ہے ۔ جو اتنا آسان تو نہیں لیکن وقت کے ساتھ ہوجاتا ہے ۔کیوں  کہ آپ کا دماغ آپ کے ذہن کے تابع ہے۔ خواہ یہ اجتماعی شعور ،سےتبدیل ہو یا آپ کے ذاتی شعور سے اپنی سمت تبدیل  کرے۔ اجتماعی شعور کے لئے آپ کو ایسی محفلیں چننا پڑیں گی جن میں مقرر یا عالم مثبت آفاقی سوچ کا درس دیں ۔آفاقی سوچ سب انسانوں کے لئے ایک ہوتی ہے ۔ لیکن مذاہب اُن میں تفریق کر دیتے ہیں ۔   

  انسان کو تخلیق کرنے سے پہلے انسان کے خالق نے   مکمل انسانی پلاننگ کرلی تھی ۔ انسانی دماغ کا گرے میٹر اور وھائیٹ میٹر  اِن کے اور  حرام مغز  ( سپائنل کارڈ) کے درمیان چھوٹے چھوٹے  اجسام  جو مکمل  خودکار اور اپنے اندر بہترین انتظام کے ساتھ  وسطی دماغ  کے ساتھ جس میں پونز اور میڈولاجیسے منتظم لئے ہوتی ہے۔جس کی حفاظت کا انتظام جسم کے مکمل صحتمند ہونے پر منحصر ہے ۔ جس کے منتظم آپ ہیں۔
   بہت سے دوستوں نے فیس بُک اور وٹس ایپ پر پرسنل میسج میں پوچھا کہ اِن دماغی وضاحت کا مقصد کیا ہے ؟ اتنا تو ہم کو بھی معلوم ہے ۔
میں نے سوال کیا کہ آپ گاڑی یا موٹر سائیکل چلاتے ہیں کیا آپ کو کاربوریٹر کا پورا فنکشن معلوم ہے ؟
گاڑی کے انجن کی سپیڈ اُس کی صحت کا انحصار کاربوریٹر پر ہے ۔ کیوں کہ کاربوریٹر میں دو چیزیں نہایت اہم ہیں ۔ ایک پیٹرول اور دوسرا اُس کے اندر جانے والی ہوا ۔یہ دونوں صاف ہونا چاھئیں ۔تو انجن کو لمبے عرصے تک اوور ھال کروانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور انجن کی غذا ( انجن آئیل) ۔اگر آپ اِن پر توجہ دیں گے تو آپ فخر سے کہیں گے کہ میری گاڑی  اتنے لاکھ کلومیٹر چل چکی ہے اور اب تک اوور ھال نہیں ہوئی ۔
      ہسپتال اوور ھالنگ کے لئے انسانی گاڑیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ کیوں ؟
تمام انسانی بیماریاں حواسِ خمسہ سے انسانی انجن میں جاتی ہیں ۔    حواسِ خمسہ پر اپنا مکمل کنٹرول رکھیں، تو  بیماریوں کو راستہ نہیں ملے گا ۔انشاء اللہ
اپنی اندرونی اور بیرونی دنیا کے درمیان، آفاقی سچائیوں  کا  ایک فلٹر لگا لیں ۔ تو ہر قسم کے خوف سے بے نیاز ہو کر امن کی زندگی گذاریں گے ۔
یاد رکھیں !۔
انسان ایک آدم کی اولاد ہیں ۔ اُن میں تمام  اچھائیاں اورکمزوریاں ۔ آدم کی تخلیق کے وقت سے موجود ہیں ۔اور یہی بنی آدم  کو وراثت میں ملی ہیں ۔ ہر انسان اپنے فعل کو اچھا اور دوسرے کے فعل کو برا اسمجھتا ہے اور اپنی کمزوریوں کو ورق الجنۃ سے ڈھانپتا ہے ۔     جن میں ناشکرا پن، تکبّر ، ضد ،    ضعیف ۔ عجلت پسند۔ جلد باز ۔اپنے لئے بھلائی اور دوسرے کے لئے برائی ۔ظالم۔ فسادی ۔ فاسق۔بھلکڑ ۔جھگڑالو۔عزم کی کمی  ۔یاسیت پسندی ۔کنجوس۔ بخیل۔ہر راحت اپنے لئے ۔
ساری عمر ساتھ رہنے کے باوجود کوئی انسان یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ دوسرے انسان کو 100 فیصد پہچانتا ہے ۔ دوسرے انسان کا 100 فیصد اُس کے وہ افعال ہیں جو اُس نے ظاہر کئے ہیں جو پہلے شخص نے  دیکھے ہیں  اور جو اُس نے نہیں ظاہر کئے وہ وہی کمزوریاں ہیں جن کا اوپر ذکر کیا ہے ۔ ایک شعر ہے ۔
گو شیخ صاحب خلافِ شرع تھوکتے نہیں ۔
لیکن کبھی کبھی رات کو،  وہ چُوکتے نہیں ۔
   اِسے الکتاب کے الفاظ میں انسانی قول و فعل کا تضاد کہتے ہیں جو تکبّر کی نشانی ہے ۔
ایک بچے  کی اندرونی دنیاجسے ہم معصوم کہتے ہیں وہ بیرونی دنیا سے رابطے کے بعدمعصوم نہیں رہتی۔ اُسے معصوم رکھنے کے لئے۔ اُس کے سامنے سے  ماں باپ ، دادا/ دادی یا نانا/ نانی  کے ذاتی قول و فعل کے تضاد کو لازمی  روکنا  ہوگا، خواہ یہ  تضاد مذاق میں ہوں یا  فطرتاً ۔

٭ ٭٭٭٭جاری ہے ۔٭٭٭٭٭

٭٭٭٭مزیدمضامین  پڑھنے کے لئے  فہرست پر واپس  جائیں ۔ شکریہ ٭٭٭٭


بدھ، 3 نومبر، 2021

اقبال اپنے اقوال و افعال کی روشنی میں ۔

سر اقبال، جنہیں پاکستان میں علامہ اقبال کہا جاتا ھے، انکی شاعری اور انکے نثری خیالات کے حوالے سے پاکستان میں کافی گفتگو ھوتی ھے،اور اس گفتگو کو جاری رکھنے کے لئے اقبال اکیڈمی کا قیام حکومت عمل میں لائی۔
اقبال اکیڈمی نے حکومت کی منشا اور ارادے کے تحت اقبال کی زندگی ، حالاتِ زندگی ، شاعری اور نثری بیانات و تقاریر کی روشنی میں سر محمد اقبال (علامہ اقبال) کی کُل شخصیت کے خدوخال ایسے بنائے یا بنانے کے لئے معاون معلومات و واقعات و تحاریر کو پیش کیا جن کے ذریعے سر اقبال ایک نہایت متقی،مومن، بزرگ،دانشمند، فلسفی، شاعر، ادیب،انقلابی اور جینیوئن ھیرو ثابت ھوسکیں۔ 
جہاں جہاں ایسے واقعات، تحاریر، شاعری ، نثریات و شواھدات ایسے مِلیں جو اوپر بیان کردہ تخلصات و تعاریف کے مخالف کچھ مواد ملے اُسے یا تو چھپا دیا جائے یا تبدیل کیا جائے یا اُس کے خلاف بظاھر دانشمند لکھاریوں سے کچھ کہلوایا جائے تاکہ ایک قومی یا ریاستی ھیرو کے تصوراتی خاکے میں کوئی کجی یا کمی نہ معلوم ھو۔ اس ارادی سہوِ نظر نے ایسے مواد کو نظر انداز کرنے اور کروانے کا حق ایسا ادا کیا کہ بیچارے سر محمد اقبال کو علامہ اقبال رحمہ اللہ بنا کر پیش کرنے میں مکمل کامیابی ھوئی۔
 نوجوان تو کیا 60 سال تک کے پیٹے کے لوگ بھی اس گمراھی میں صراطِ مستقیم ڈھونڈنے کی کوشش میں مگن رھے۔ مثلاً مندرجہ ذیل پیراگراف کا نتیجہ ایک مکمل دلیل ھے لیکن یہ اقبال اکیڈمی کے ڈسے معصوم لوگوں کے اُس خیال یا عقیدے کو توڑ پھوڑ دے گا جو انہیں زبردستی فوجی مزاج لوگوں کے رٹایا ھوا ھے۔
 ” صوبے کے قیام کا مقصد اقبال کے نزدیک یہ ہے کہ اس طرح اس دستوری ڈیڈ لاک سے نکلنے کا راستہ نکل آئے گا۔ چنانچہ کہتے ہیں۔ 
صوبوں کی مناسب تقسیم سے مخلوط اور جداگانہ انتخاب کا مسئلہ ہندوستان کے آئین کے بارے میں نزاع کو خود بخود ختم کر دے گا۔ اس نزاع کا باعث بڑی حد تک صوبوں کی موجودہ تقسیم ہے…. اگر صوبوں کی تقسیم اس طور پرہو جائے کہ ہر صوبے میں کم و بیش ایسے گروہ بستے ہوں جن میں لسانی، نسلی، تمدنی، اور مذہبی اتحاد پایا جاتا ہو تو مسلمانوں کو علاقہ وارانہ انتخاب پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا“۔
  اس بات سے اقبالیات کے بڑے بڑے ماہرین کے اس دعویٰ کی تردید ہو جاتی ہے کہ اقبال زندگی کے کسی بھی مرحلے پر جداگانہ انتخاب سے دست برداری پر آمادہ نہیں ہوئے تھے۔ اقبال کی اس بات سے یہ نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں کہ جداگانہ انتخاب مذہبی نہیں سیاسی مسئلہ تھا۔
 جہاں کہیں کسی حق گو نے سچائی کا رستہ پکڑا اور مظلوم سر اقبال کو ایک مجبور انسان کی صورت میں پیش کیا اور انکے ذاتی و خانگی و شعری و فلسفیانہ خیالات کی اصل ماخذات کی جانب توجہ دلائی وھاں وُہ حق گولکھاری و تحقیق کار، کافر، غدار، حاسد ، کہلائے۔
 جبکہ سر اقبال ایک نہایت اعلی درجے کےشاعر، ترجمہ کار شاعر، ترجمہ کار فلسفی ، جسمانی و شہوانی حسن سے مرعوب ، مالی غربت و وقتی فوائد کے متلاشی ھماری ھی طرح کے انسان تھے۔ جن کی شخصیت و شاعری میں ھندوستان کے غریب الوطن و غریب الذھن لوگوں نے خیالی عافیت و تلذّذ پایا۔ عوام الناس، جن کے لئے قرآن میں بھی ایک الگ گروپ یا کیٹیگری بنائی گئی  ہے ۔
  کہیں اقبال ، کی طرف سے  ایمان لانے والوں سے خطاب ھے تو کہیں، مومنوں سے تو کہیں کُل عوام الناس سے خطاب کی آیات بنائی گئیں ھیں۔ تاکہ عوام کے بارے میں یہ حقیقت سمجھ آتی رھے کہ عوام الناس ہمیشہ بھیڑ چال کی طرح چال چلتے ہیں یعنی بےتحقیق جس جانب مجمع چلے اس جانب چل پڑتے ھیں۔ 
بالکل اسی طرح پاکستانی ریاست میں پچھلے ستّر سالوں میں اقبال کے بارے اس عوام الناسی بھیڑ چال کے سفر میں سر شیخ محمد اقبال پر نہایت ظلم ہوا کہ اِس موسیقی کی سمجھ اور حُسن و رقص کے بہترین شائق کو ، مذھبی مولوی ذھن شاعر متعارف کروایا گیا۔ جو قرآن ھاتھ میں پکڑے روتا رھتا تھا۔ اس مقصد کے لئے جعلی تصاویر بنائی گئیں جن میں سر شیخ محمد اقبال کے ھاتھ قرآن ھے اور وہ تدبّر فرمارھا ھے۔
 ایسی کوئی اصلی تصویر نہ ھے نہ ھونی چاھئیے کیونکہ حقیقت سے اسکا کوئی تعلق ھی نہیں ھے۔ سر اقبال ، بالکل ھماری طرح ایک دل پھینک حُسن پرست شاعر تھے اور عملی زندگی میں سُست الوجود ھونے کے ساتھ ساتھ حقّے کی عادتِ غیر سُنت کے ایسے عادی تھے کہ تمام عُمر حّقے کی عادتِ قبیحہ و غیر مُسنون (یعنی جو محمدﷺ نہ کبھی نہ اختیار کی) ترک نہ کی، جو مذھبی مومن اور اھلِ سنت ھونے کے الزام کیخلاف ثبوت ھے۔
 تاہم اپنی ذاتی زندگی سے باھر انکے خانگی معاملات اور شعری و فلسفیانہ اکتساب پر ہم گفتگو کرتے رھیں گے۔ جن میں انکی کثرتِ ازدواج کی ناکامی، پہلی باشرع بیوی سے علیحدگی، پہلی اولاد بیٹے اور بیٹی سے علیحدگی ، اور انگریزی و پشتو ، و سنسکرت شُعرا کے خیالات و نظم سے اکتباسات و ترجمہ کاری شامل ھے۔
 ٭- سب سے پہلے اس خیال یا ارادے کی جانب دیکھتے ہیں جس کے ذریعے بیچارے اقبال کو معاملہِ پدری میں حق پر اور اپنے ہی بڑے بیٹے کو بُرا ثابت کرنے کی مسلسل کو نظر آتی ھے۔۔ اور یاد رہے   کہ  اس سے پہلے آپ نے کبھی اس زاوئیے سے کسی کی کوئی تحریر نہ پڑھی ھوگی۔ 
  پروفیسر ڈاکٹر رفیع الدین ھاشمی لکھتے ھیں :۔
 اقبال  کی بیوی سردار بیگم اتنی نیک تھیں کہ جب اقبال کے  پہلی بیوی  کے  فرزند نے اقبال سے کسی ضرورت پر رقم کا مطالبہ کیا تو اقبال نے  نہ کر دیا مگر سردار بیگم نے وہ اپنا کوئی زیور بیچ کر بیٹے کو پیسے دئیے۔
 آفتاب اقبال جو کہ اقبال کے پہلے بیٹے تھے۔ انہوں نے دوران تعلیم ضرورت پڑنے پر سر اکبر سے 190 پونڈ مانگے تاکہ تعلیم جاری رکھیں۔۔اور سر اکبر نے اقبال سے کہا کہ اپنے بیٹے کو خرچہ دیں۔۔تو اقبال نے انکار کی وجوھات بتائیں۔۔۔وغیرہ وغیرہ
اب اس پیرا گراف سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ھے۔۔کہ ایک تو اقبال کی بیگم بہت نیک رحم دل تھیں۔ سوتیلے بیٹے کی مدد کی، جو اچھی بات معلوم ہوتی ھے۔ دوسری یہ بات کہ اقبال ، اپنے بیٹے کی مالی مدد نہ کرنے کے معاملے میں حق بجانب تھے۔
 یعنی ملّت کا پاسباں ، مسلمان اُمّت کا بڑا فلسفی شاعر اپنےہی بیٹے کی امداد سے مونہہ موڑتا ھے کیونکہ اپنی بیوی اور اس بیٹے کی ماں سے اقبال علیحدگی اختیار کر چکے ھیں۔ اور خود کو پابند نہیں سمجھتے کہ تعلیم کا خرچہ وہ اپنے بیٹے کو دیں۔(جبکہ اقبال خود تمام عُمر اپنے بڑے بھائی شیخ عطا سے مالی امداد لیتے تھے۔ یعنی۔۔ ڈاکٹر رفیع الدین ھاشمی سمیت سب اقبال نگار ہر معاملے پر اقبال کو راہ راست پر ثابت کرنے میں کوشاں رھے، جبکہ مجھے سر اقبال کی اس ترکِ اولاد کی روش پر کافی اعتراضات ھیں۔) 
سوال یہ ھے کہ اقبال جب خودتین  شادیاں  :۔
پہلی شادی ۔ 4 مئی 1893۔ کریم بی بی 1874-1947 بنت خان بہادر عطا محمد(1850-1922) فزیشن برٹش گورنمنٹ ۔ طلاق۔ 1913۔
دوسری شادی مختار بیگم  ۔1913۔ وفات 1924 وجہ زچگی ۔مختار بیگم لدھیانہ  کی ایک امیر ،فیملی کی ایک لے پالک بچی تھی ۔ لیکن اقبال کی فیملی کو یہ بات معلوم نہ تھی ۔
تیسری شادی  سرداربیگم  ۔1910۔کشمیری خاندان کی فیملی وفات 1935 ، اولاد -جاوید اقبال  (پیدائش 1924) اور منیرہ بیگم ۔ جاوید منزل  سردار بیگم نے اپنے زیورات بیچ کر اور  زمین خرید کربنایا ، جسے اپنی  وفات سے پہلے اپنے بیٹے جاوید اقبال کے نام کر گئیں ۔     ،   
کرچکے تو اپنے 
٭۔  اپنے معاملاتِ خانگی کے لئے اپنے بڑے بھائی سے ہی کیوں تمام عمر رجوع کیا؟
 ٭- اور اگر اس میں کوئی مضائقہ نہیں تو پھر اپنےہی بڑے بیٹے کی امداد کرنے میں کیوں بخل سے کام لیتے رھے؟ 
٭- کیوں اقبال کے دوسرے  بیٹے جاوید اقبال نے کبھی اپنے بڑے بھائی کو زندگی بھر نہ دیکھا؟ 
جبکہ جاوید اقبال لکھتے ھیں انہوں نے اپنے بڑے بھائی آفتاب اقبال کو پہلی بار اقبال کی موت کے وقت دیکھا ۔جو اپنے باپ سر شیخ محمد اقبال کی لاش کے پاوں کی جانب بیٹھے تھے اور زار و قطار رو رھے تھے۔
 خانگی ادوار کی جانب ہم بار بار اس لئے آئیں گے کہ بیچارے سر اقبال پر جو مومنانہ تہمتِ بزرگانہ لگائی گئی ہے اُس کو ھٹانے کی کوشش کی جائے اور سر اقبال کو علامہ نہیں سَر اقبال  ہی کہا اور لکھا جائے کیونکہ آنجناب نے سِر کے خطاب کو ھرگز ھرگز واپس کرنے سے اُس وقت بھی انکار کردیا تھا ۔
جب تحریکِ موالات چلی تھی۔۔۔ اس تحریک میں انگریزی سرکار کے تمام انعامات و ایوارڈز کو احتجاجاً واپس کرنے کی مہم چلائی گئی تھی۔۔
  اُس سے پہلے جلیانوالہ باغ کے قتال پر احتجاج کرتے ھوئے بنگالی شاعر ، نثر نگار و فلسفی رابندر ناتھ ٹیگور نے اپنا سَر کا خطاب واپس کردیا تھا ۔
لیکن اقبال پنجابی ھونے کے باوجود اس روش پر چلنے سے انکاری رھے بلکہ مزید انعامات و اعزازات کی کوشش میں انہوں نے بار بار انگریز سرکار کی مدح میں قصیدے لکھے جو اس مضمون کے ساتھ تصویر شکل میں شامل کرتا جاوں گا۔۔
 چونکہ اقبال نے اپنا سَِر کا خطاب انگریز کو واپس کرنے کا کبھی اعلان نہ کیا اس لئے ھمیں بھی اقبال سے یہ خطاب نہین چھیننا چاھئیے انہیں سَر اقبال کہنا چاھئیے۔۔علامہ کوئی ڈگری نہیں اور  نہ انعام ھے۔۔۔اسے چھوڑ دینا چاھئیے۔۔
 اقبال چونکہ ایک نہایت مذھبی گھرانے سے وابستہ تھے تو انکے والد اور بڑے بیٹے نے احمدیت کی کٹڑ اسلامی خصوصیات کو پسند کرتے ھوئے اسی کی جانب رجوع کیا اور انکے والد گرامی شیخ نُور محمد نے احمدیت قبول کی اور پھر انکے بیٹے بیٹے بھی مشرف بہ احمدیت (قادیانیت) ھوئے۔۔ اسی طرح بعد میں انکی تمام اولاد بھی احمدی ھی رھی اور اب بھی احمدی ھے۔ 
اقبال چونکہ ذاتی طور پر ھرگز ویسے سخت مذھبی نہ تھے جیسے کہ اقبال اکیڈمی نامی نام نہاد ادارے نے بنا کر پاکستان میں انکو پیش کیا ھے۔۔اس لئے وہ جماعت احمدیہ کے بارے میں کبھی کبھار اچھے تعاریف بھرے کلمات کہتے رھتے تھے۔۔مثلاً اقبال نے ۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ایک تقریر میں یوں اظہار خیال کیا’’پنجاب میں اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ اس جماعت کی شکل میں ظاہر ہوا جسے فرقہ قادیانی کہتے ہیں‘‘۔
  اس سے معلوم ھوتا ھے کہ بلا شبہ مرزا غلام احمد صاحب نے 1901 میں ظلّی نبی اور مجدد اور مہدی ھونے کا جو دعوی کیا تھا وہ اقبال کو اپنے والد بڑے بھائی اور جماعت احمدیہ کے ذریعے اچھی طرح معلوم تھا۔ سر اقبال کو معلوم تھا کہ جماعت احمدیہ کس مذھب پر قائم ھے اور کیسے جماعت عمل پیرا ھے۔ کیسے انکے والد اور انکے بڑے بھائی جنکے وظیفوں اور مالی امداد سے اقبال نے زندگی گزاری ،احمدیہ جماعت کو ٹھیٹھ اسلامی سیرت کا نمونہ جانتے ھیں۔ اور اقبال کو تیس سال تک جماعت پر کوئی اعترآض نہ ھُوا۔۔ جب انکے بڑے بھائی ، والد کا انتقال  ھوچکا تو اقبال کو اپنی سوچ وقتی ضروریات کے تحت بدلنے میں دیر نہ لگی اور اپنے والد کے عقیدے سے اور بڑے بھائی کی مالی امدادی  قید  سے ھٹ گئے۔
 خواجہ نذیر احمد دیتے ہیں ’’1931ء میں مرزابشیرالدین محمود سے اختلاف پیدا ہونے کے بعد جب ڈاکٹر اقبال نے احمدیوں کے خلاف کتاب لکھی تو میرے والد خواجہ کمال الدین نے اس سے پوچھا کہ ’’اویار تیری بیعت دا کی ہویا‘‘۔ اس پر علامہ کا جواب یہ تھا کہ ’’اوہ ویلا ہور سی ایہہ ویلا ہور اے‘‘ 
چنانچہ علامہ اقبال نے مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کے تقریباً 33 سال بعد ایک طویل مضمون میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ 
یہ جولائی 1934ء کا ذکر ہے جب وزیر ہند لارڈ زئلینڈ نے سر ظفر اللہ خان (پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ) کی کارکردگی سے متاثر ہو کر انہیں سر فضل حسین کی جگہ وائسرے کی ایگزیکٹو کونسل کی مستقل رکنیت کی پیشکش کی۔  چونکہ اقبال خود اس نشست کے امیدوار تھے لہذا معترضین کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ اس موقع پر قادیانیوں کی مخالفت مذہبی بنیاد پر نہیں بلکہ سیاسی مفاد کی وجہ سے تھی۔ اور اس مضمون کا مطلب یہی نکلتا تھا کہ ظفر اللہ خان مسلمانوں کا نمائندہ نہیں ہے۔ (حوالہ کے لئے ’’مسلم پنجاب کا سیاسی ارتقاء۔ ص 272-73)  
 اقبال سے سے بہت پہلے نوجوانی میں قادیانی یا احمدی جماعت کے بانی مرزا غلام احمد کے حق میں نظم لکھ اور پڑھ چکے تھے۔۔۔ یاد رھے کہ۔۔ مرزا غلام احمد نے جب سیالکوٹ کا دورہ کیا تھا اُس دوران انکے مذھبی مخالفین نے بھی خوب ھرزہ سرائی کی جس کے جواب میں جماعت کے حق میں اور مرزا غلام احمد کے حق میں اور مخالف مُلاں مولوی سعد اللہ سعدی کے خلاف نام لیکر اقبال نے جو نظم لکھی وہ یہاں حوالے کے لئے پیش ھے۔۔ جو کہ اقبال اکیڈمی نے چھپا رکھی ھے۔ تاکہ کہیں اقبال کے والدین ، بھائی اور باقی خاندان کی احمدیت ظاھر نہ ھو جائے۔۔۔ لدھیانہ کےمولوی سعد اللہ سعدی صاحب نے کی زھر فشانیاں جناب سَراقبال کی طبیعت پر گراں گزریں تو آپ نے20 اشعار پر مبنی ایک نظم لکھ دی جسے 1912 میں شیخ یعقوب علی صاحبؓ مرحوم نے اپنی کتاب آئینہ حق نما میں شائع کر کے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا ہے- وہ پوری نظم پیش ہے ۔
واہ رے سعدیؔ دیکھ لی گندہ دہانی آپ کی ۔
خوب ہو گی مہتروں میں قدر دانی آپ کی
 بیت ساری آپ کی بیت الخلا سے کم نہیں
 ہے پسندِ خاکروباں شعر خوانی آپ کی
 تیلیاں جاروب کی لیتے وہ خامہ کے عوض
 کھینچتے تصویر گر بہزاد و دمانی آپ کی
 ان دنوں کو فصلِ گُل کہیئے کہ فصلِ بھول چُوک
 ہر طرف ہوتی ہے سعدی گلفشانی آپ کی
 آپ کے اشعار ہوتی ہیں مگر ی کے بغیر 
کوشِ عالَم تک یہ پہنچے ہیں زبانی آپ کی
گوہر بے راء جھڑے ہیں آپ کے مُنہ سے سبھی 
جان سے تنگ آ گئی ہے مہترانی آپ کی
 ہر طرف سے آ رہی ہے یوں دُر دُر کی صدا 
بھا گئی اہلِ سخن کو دُر نشانی آپ کی 
آپ سے بڑھ کر عروضی کوئی دنیا میں نہیں
 واہ صاحب شعر خوانی شعر دانی آپ کی
 خاک کو ہم چاٹ کر یہ بات کہہ دیتے ہیں آج
 تلخ کامی ہو گی یہ شیریں دہانی آپ کی 
جب ادھر سے بھی پڑیں گے آپ کو صابن کے مول
 آپ پر کھُل جائے گی رنگیں بیانی آپ کی 
کھاؤ گے فرمائشی سر پلپلا ہو جائے گا 
پُھر نکل جائے گی سر سے شعر خوانی آپ کی 
دین اور ایمان کی دُم میں واہ نمدہ دے دیا 
سارے عالم کی زباں پر ہے کہانی آپ کی
 آفتابِ صدق کی گرمی سے گھبراؤ نہیں 
حضرتِ شیطاں کریں گے سائبانی آپ کی
 اشتہارِ آخری اک آنت ہے شیطان کی
 سر بسر جس سے عیاں ہے خوش بیانی آپ کی
 وہ مثل یعنی طویلے کی بلا بندر کے سر ہو گیا 
ہم کویقین شامت ہے آنی آپ کی 
خر گمہاروں کا مُوا دھو بن ستی ہوتی ہے مفت
 ہے مگر قومِ انصارے یارجانی آپ کی 
رانڈ کے چرغے کی صورت کیوں چلے جاتے ہیں آپ 
اہل عالم نے یہ سب بکواس جانی آپ کی
 نیلے پیلے یوں نہ ہو پھر کیا کرو گے اس گھڑی 
جب خبر لیوے گا قہرِ آسمانی آپ کی
 بات رہ جاتی ہے دنیا میں نہیں رہتا ھے وقت
 آپ کو نادم کرے گی بد زبانی آپ کی 
قوم عیسائی کے بھائی بن گئے پگڑی بدل 
واہ کیا اسلام پر ہے مہربانی آپ کی
 الراقم شیخ محمد اقبال- ایف اے کلاس مسکاچ مشن سکول سیالکوٹ ( آئینہ حق نما صفحہ ۱۰۷ شائع شدہ ستمبر ۱۹۱۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ اس مندرجہ بالا نطم سے صاف اور بالصاف ظاھر ھے کہ سر اقبال ، اپنے خاندانی عقیدے کے ماتحت ایف اے کی عُمر میں مرزا غلام احمد قادیانی کو سچ پر سمجھتے تھے ۔۔اس بارے ھرگز کوئی اور خیال مکمل رد متصور ھوگا۔۔ جتنی دلیلیں چاھیں دیجاویں یہ عیاں ھے کہ سر اقبال ایف اے کی عمر میں یونہی احمدیت اور بانی احمدیت کی تعریف نہ کرتے جبتک یہ خیال و عقیدہ انکے والدین میں رائج نہ ھوتا۔کیونکہ اس نظم میں مولوی سعد اللہ سعدی کی اُس اشتہاری مہم کے خلاف اشعار موجود ھیں جن میں مرزا غلام احمد کے خلاف مواد شائع ھوا تھا۔ یہ نظم ایک حتمی دلیل ھے کہ اقبال کے والدین ، نے مرزا صاحب کے ھاتھ پر بیعت کی تھی۔ اور اسی لئے انکے بڑے بیٹے علی الاعلان جماعت احمدیہ سے جُڑے رھے۔۔اور انکی اولاد بھی اسی طرح عمل پیرا رھی ۔۔
 اب اقبال کب جماعت سے علیحدہ ھوئے؟
 تیس سال کے بعد انہیں کیسے اپنا نظریہ بدلنا پڑا؟ 
یا ان میں یہ جرات کیسے پیدا ھوئی کہ اپنے باپ اور بڑے بھائی کے مذھبی عقیدے کے خلاد زبان درازی فرمائیں؟
 یہ بحث ھم بعد میں کریں گے۔۔ اصل مقصد یہ ثابت کرنا ھے کہ اقبال جماعت سے متاثر تھے۔۔۔جماعت احمدیہ قادیانیہ کے حق میں لکھا۔۔اور چونکہ وہ شدید مذھبی سوچ نہیں رکھتے تھے اس لئے اتنے باعمل احمدی یا قادیانی یا مسلمان نہیں تھے کہ مذھبی معاملات میں جماعت کے شانہ بشانہ چلتے رھتے۔۔ بالکہ وہ غیر احمدی مذھبی مجمعوں سے بھی زیادہ رغبت نہیں رکھتے تھے۔۔۔
 سعید ابراھیم بحوالہ زاھد چوھدری لکھتے ھیں کہ میڈیا سے ایک بات کا تواتر سے (پراپیگنڈے کی حد تک) ذکر کیا جاتا ہے کہ علامہ تصور پاکستان کے خالق تھے۔ اس بات کا جواب ہمیں علامہ کے اس خط سے باآسانی مل جاتا ہے جو انہوں نے 4 مارچ 1934ء کو ای جے تھامپسن کے نام لکھا جس میں انہوں نے شدت سے چودھری رحمت علی کی ’’پاکستان سکیم‘‘ سے لاتعلقی بلکہ برات کا اظہار کیا۔ لکھتے ہیں:۔
مائی ڈیر مسٹر تھامپسن مجھے اپنی کتاب پر آپ کا ریویو ابھی ابھی موصول ہوا ہے۔ یہ بہت عمدہ ہے اور میں ان باتوں کے لئے آپ کا بہت ممنون ہوں جو آپ نے اس میں میرے متعلق بیان کی ہیں۔ لیکن آپ نے ایک غلطی کی ہے جس کی میں فوری نشاندہی کرنا ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ یہ ایک فاش غلطی ہے۔ آپ نے میرے بارے میں کہا ہے کہ میں اس سکیم کا حامی ہوں جسے ’’پاکستان‘‘ کہا جاتا ہے جبکہ پاکستان میری سکیم نہیں ہے۔ میں نے اپنے خطبے میں جو تجویز پیش کی تھی وہ ایک مسلم صوبہ کے بارے میں تھی جو شمالی مغربی ہندوستان کے مسلم اکثریتی آبادی پر مشتمل تھا۔ میری سکیم کے مطابق یہ نیا صوبہ مجوزہ انڈین فیڈریشن کاحصہ ہوگا۔ پاکستان سکیم میں مسلم صوبوں پر مشتمل ایک علیحدہ فیڈریشن کا قیام تجویز کیا گیا ہے جو ایک علیحدہ ڈومینین کی حیثیت سے انگلستان کے ساتھ براہ راست تعلق رکھے گی۔ اس سکیم نے کیمبرج میں جنم لیا ہے۔ اس سکیم کے مصنفین کا خیال ہے کہ ہم جو گول میز کانفرنس کے مندوبین ہیں‘ ہم نے مسلم قوم کو ہندوؤں یا نام نہاد انڈین نیشنلزم کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ خیراندیش محمد اقبال (پاکستان کی سیاسی تاریخ جلد۵، مسلم پنجاب کا سیاسی ارتقا، زاہد چوہدری، صفحہ 418  و 261 )
 دلچسپ بات یہ ہے کہ علامہ پاکستان سکیم کی مخالفت 1934ء میں کر رہے ہیں اور وہ بھی انتہائی شدت سے جبکہ ان وہ مشہور و معروف خطبہ الہٰ باد جس سے تصور پاکستان اخذ کیا جاتا ہے وہ انہوں نے اُنیس سو تیس میں یعنی 4 سال پہلے دیا تھا۔
 اب اقبال کی اس سوچ پر بات کی جائے جو  ہمہ وقت موقع کی مناسبت سے یا انکے کُل علم کی بنیاد پر بدلتی رھتی تھی۔۔
 اقبال اور محمد علی جناح کے بارے میں پاکستان میں یہ گمراہ کُن تاثر دیا جاتا ھے کہ دونوں ، ایک الگ ملک بنانے والے رھنما ھیں۔ ان دونوں کی فکری اور سیاسی جدو جہد سے پاکستان بنا جو ایک ھنسانے والی گمراہ کن بات ھے۔۔ 
پاکستان کے اقبالیات کے شعبے کے ڈسے شہری اس متذکرہ صورتِ حال کو برداشت کرنے سُننے سے شدید کرب و طیش میں مبتلا ھونگے کہ اقبال نے جناح کا اپنی نظموں میں مزاق اُڑایا۔۔۔ اور اسی طرح اقبال کا مذاق ظفر علی خان سمیت بیشتر شعرا ور مفکرین نے اُڑایا۔  
بدلتی صورتِ حال میں مسلمانوں کے نمائندگان نے ھندوستان میں ایک دوسرے کے خیالات اور سیاسی وابستگیوں کی وجہ سے ایک دوسرے سے دشمنی کی اور تکفیر و منافق و غدار کے نعرے لگائے۔۔۔ جنکی زد میں  جناح بھی آئے اقبال بھی ۔۔اور مرزا غلام احمد قادیانی بھی۔۔۔! مثلاً مکاتیب اقبال میں سے ایک مختصر بیان پڑھئیے:۔
مَیں جنگ کا حامی نہیں نہ کوئی مسلمان ھو سکتا ھے۔دین کی اشاعت کے لئے بھی تلوار اٹھانا حرام ھے۔(مکاتیب اقبال حصہ اول ۔۔۔صفحہ 203 اور 204 ) 
اب آپ ایماندارانہ طور پر بتائیں کہ آپ کوسَِر شیخ محمد اقبال کیسے سمجھ آئے ھیں؟
٭- اُن کی نثر سے َ؟ ان کے  خطبات سے ؟ ان کےخطوط سے؟ یا ان کے اشعار سے ؟ یا پاکستانی اقبالیاتی اکیڈمی کی جعلی یکطرفہ تصویر سے جس میں وہ قرآن اُٹھائے بیٹھے ھیں ؟
 
سچ تو یہ ھےکہ جب کسی کو مسلسل جھوٹ کئی پشتوں تک پڑھا دیا جائے تو اُسے یہ سچ لگنے لگتا ھے۔۔۔ اگر اسے سچ ھی لگنے دیا جائے تو اس کے مضمرات و نقصانات کا اندازہ لگانا بہت آسان ھے ۔۔ایسا کرنے سے ایک ریاست جنم لیتی ھے جو اپنی ھی شناخت سے محروم ھوتی ھے اُسے یہ سمجھ نہیں آتی کہ وہ عرب ھے؟ کہ فارسی؟ کہ ھندی، کہ پنجابی کہ چینی کہ مسلمان کہ تُرکش۔۔۔۔
! یعنی چین و عرب ھمارا، ھندوستاں ھمارا۔
 اسی لئے حکمرانوں کے بیانات مین کبھی آسٹریلیا کے نظام کو سراھا جاتا ھے کبھی چین کی حکمرانی کو۔۔کبھی افسانوی ماضی کی ریاستِ مدینہ کا ذکر کیا جاتا ھے۔اور کبھی عربی فارسی کو ھندی سے پرے ھٹا کر ایک ختنہ شُدہ زبان اردو کو پیش کیا جاتا ھے جس کے دُرست تلّفظ سے 90 فیصد پڑھے لکھے پنجابی بھی عاری ھوتے ھیں۔۔
 کیا آپ کو ، اپنے گرد معاشرے اور میڈیا میں اوپر کے تجزئیے کی زندہ امثال روز جا بجا نظر نہیں آتیں؟ 
کیا عام الفاظ خودکُشی کو خود کَشی۔۔۔یعنی کاف پر زبر کے ساتھ بولنے والوں کی کثرت معلوم نہیں؟ 
جب کسی ریاست میں ریاستی ادارے ، ماضی کے اپنے ھی خطے پر حملہ آور جنگجووں کو اپنے ھیرو بنادے اور اپنی اولادوں کے نام ، محمد بن قاسم ، طارق بن زیاد، نادر شاہ، محمود غزنوی رکھنا شروع کردے تو معاشرہ نفسیاتی ، شناختی، جنسی، گُھٹن کا شکار ھو جاتا ھے ۔۔جیسے کہ اب پاکستان میں آئے روز ایسے معاملات خبروں میں ھمارے سامنے آتے جا رھے ھیں.
 واپس اقبال اور جناح کی جانب چلتے ھیں، سَراقبال چونکہ انگریز کے زیر تسلط ہی کسی کنفیڈریش کے حامی تھے اس لئے وہ کسی ایسی سوچ کے ساتھ نہ تھے جس میں انگریز کا سایہ شامل نہ ھو۔ اس حوالے سے ان کا جناح کے اختلاف تھا۔۔ اسی لئے اقبال نے محمد علی جناح کے خلاف نظمیہ نفرت کا اظہار بھی کیا۔ نہ صرف جناح بلکہ دوسرے مسلمان رھنماوں کے خلاف بھی اقبال نے نظمیں لکھیں ڈاکٹر صابر کلورُوی لکھتے ہیں کہ ” ملکہ وکٹوریہ کی وفات پر ایک دوست کی فرمائش پر نظم لکھی، اور گورنر پنجاب مائیکل اڈوائر کی فرمائش پر بھی“ پنجاب کا خواب ”کے عنوان سے ایک نظم لکھی“ مگر انہیں کسی مجموعہ کلام میں شامل نہیں کیا اور اس جیسی کچھ نظمیں اور اشعار وہ تھے جو علامہ اقبال نے کسی خاص موضوع و شخصیت پر لکھے ضرور مگر معاملے کی حقیقت پتہ لگنے اور دوستوں کے مشوررے پر اپنی زندگی میں ہی ترک کردیے۔
 ڈاکٹر محمد اقبال کی پہلی تصنیف اسرار خودی 1916 میں شائع ہوئی تھی۔ اس میں صوفیاء کرام اور حافظ شیرازی پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ صوفیا کرام پر جو تنقید کی گئی تھی اس کا جواب خواجہ حسن نظامی نے اپنے رسالہ ”ماہنامہ نظام الشیخ“ میں صراحت کے ساتھ دیا۔ جس کا جواب علامہ اقبال نے ”اخبار وکیل امرتسر“ میں دیا۔ اس طرح خواجہ حسن نظامی اور علامہ اقبال میں جواب در جواب کا سلسلہ ایک عرصہ تک چلتا رہا۔ جبکہ حافظ شیرازی پر جو تنقید کی گئی تھی اس پر علامہ اقبال کو ہند اور بیرون ہند سے سینکڑوں خطوط مصول ہوئے۔ کیونکہ اسرار خودی میں اقبال نے ایک دو نہیں بلکہ پینتیس عدد اشعار میں حافظ شیرازی پر سخت طنز اور تنقید کی تھی جنہیں بعد میں دوست احباب کے مشورے پر ترک کردیا۔ اس کے چند اشعار یہ ہیں ۔
ہوشیار از حافظ صہبا گسار 
جامش از زہر اجل سرمایہ دار 
رہن ساقی خرقہ پرہیزاو 
مے علاجِ ہولِ رسرا خیزاو
 محفل او در خورِ ابرار نیست
ساغرِ اوقابل احرارِ نیست 
بے نیاز از محفل حافظ گزر
 الحذر از گو سفنداں الحذر
 اسی طرح تین فروری 1938 کو مسلم اخبارات (زمیندار، احسان اور انقلاب) نے علامہ اقبال کے مولانا سید حسین احمد مدنی کے خلاف یہ اشعار شائع کیے۔
 عجم ہنوز نداند رموز دیں ورنہ
 ز دیوبند حُسین احمد! ایں چہ بوالعجبی است
 سرود بر سرِ ممبر کہ مِلّت از وطن است
 چہ بے خبر ز مقامِ محمدِؐ عربی است 
بہ مصطفیٰؐ بہ رساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
 اگر بہ او نہ رسیدی، تمام بولہبی است
 ان اشعار میں آزادی برصغیر کے عظیم راہنما   پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ اس کا جواب جناب احمد سہیل نے سید حسین احمد مدنی کے حق میں طویل فارسی نظم لکھ کر دیا اور اس سے اسلامیان ہند میں نہ صرف قلمی بحث چھڑ گئی بلکہ بات تکرار تک بھی آن پہنچی اور مسلمان دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایسے موقع پر مولانا عبدالرشید نسیم (علامہ طالوت) آگے بڑھے اور علامہ اقبال اور سید حسین احمد مدنی سے طویل خط و کتابت کے بعد ان کی غلط فہمیاں دور کیں۔ علامہ اقبال نے اختلافات و غلط فہمیاں دور ہونے کے بعد اپنا تردیدی بیان شائع کیا جو ”روزنامہ احسان“ میں 28 مارچ 1938 کو شائع ہوا۔
 مگر بدقسمتی سے ارمغان حجاز علامہ اقبال کی وفات کے بعد شائع ہوئی جس میں اس کلام کو باقی رکھا گیا اور اب تک یہ کلام کتاب میں موجود ہے اور وجہ اختلاف بنتا ہے۔ ایسے ہی کچھ طنزیہ اشعار علامہ اقبال نے محمد علی جناح صاحب کے بارے میں بھی کہے تھے اور یہ اس زمانے کی بات ہے جب جناح صاحب ”قائد اعظم“ کے رتبے پر فائز نہیں ہوئے تھے۔ ۔ پھر اقبال جیسی شخصیت نے اگر کسی زمانے میں جناح صاحب جیسے قائد کے بارے میں کچھ لکھا تو یہ دو قد آور شخصیات کا نقطہ نظر کا اختلاف تھا۔ اور یہ اختلاف ایک سے زیادہ مواقع پر ہوا جیسے مسلم لیگ میں دھڑے بندی کے وقت علامہ اقبال نے جناح صاحب بجائے لیگ کے شفیع گروپ کی حمایت کی۔ اور سب سے بڑھ کر جناح و اقبال دونوں ہی بشر تھے اور پیغمبروں کے سوا کوئی بشر بھی معصوم عن الخطا نہیں۔ 
چناچہ 9 نومبر 1921 کو روزنامہ زمیندار میں جناح صاحب کے طرز سیاست پر علامہ اقبال کی طنزیہ نظم ”صدائے لیگ“ کے عنوان سے شائع ہوئی۔ جو درجہ ذیل اشعار پر مشتمل تھی ۔
 لندن کے چرخ نادرہ فن سے پہاڑ پر
 اترے مسیح بن کرمحمد علی جناح
 نکلے گی تن سے تو کہ کرے گی تباہ ہمیں
 اے جان برلب آمدہ اب تیری کیا صلاح
 دل سے خیال دشت و بیاباں نکال دے
 مجنوں کے واسطے ہے یہی جادہ فلاح
 آغا امام اور محمد علی ہے باب
 اس دین میں ہے ترک سوادِ حرم مباح
 بَشریٰ لکم کہ منتظر مارسیدہ ہست 
یعنی حجابِ غیرتِ کبریٰ دریدہ ہست
 (روزنامہ زمیندار 9 نومبر 1921 ) نظم کی تشریح: ان اشعار کا معنی و تشریح تو کوئی اقبال شناس ہی بہتر انداز میں کرسکتا ہے مگر میرے ناقص علم کے مطابق اس کی تشریح کچھ یوں بنتی ہے۔
 پہلے شعر میں اقبال نے جناح صاحب کو طنز کرتے ہوئے مسیح  سے تشبیہ دی کے کہ جناح صاحب خود ساختہ مسیح کی مانند لندن سے (بغیر کسی بشارت کہ) اچانک ہم پر نازل ہوئے ہیں ۔
دوسرے شعر میں اقبال کا مطلب یہ ہے کہ تم ہمیں یعنی ملت کو تباہ کرنے کے واسطے آئے ہو کہ اس وقت کم و پیش تمام مسلمان تحریک خلافت کے پلیٹ فارم پر متحد تھے اور جناح صاحب کا لیگ کو دوبارہ زندہ کرنا اقبال کی نظر میں فتنہ و تقسیم کا موجب تھا۔ 
تیسرے شعر میں علامہ اقبال نے جناح صاحب کو بھٹکے ہوئے مجنوں سے تشبیہ دی ہے کہ مجنوں لیلا کے عشق کے جنون میں مبتلا ہوکر دشت میں بھٹکتا رہتا تھا اور اس کی زندگی سعی لاحاصل تھی۔
 اقبال نے جناح صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے دل سے خیال دشت و بیاباں نکال دے یعنی لیگ کو جو دوبارہ زندہ کرنے کا عزم کیا ہے اسے ختم کردیں۔
 چوتھے شعر میں علامہ اقبال نے آغا خان اور جناح صاحب پر شدید طنز کرتے ہوئے ذومعنی بات کی ہے۔ اقبال جناح صاحب کو اپنے مرکز سے نہ ہٹنے کی تلقین کرتے ہیں اور جناح صاحب کو محمد علی باب جبکہ آغا خان کو ان کے مسلک کے امام سے سے تشبیہ دی ہے۔ محمد علی باب ایران کا اسماعیلی فرقے کی ایک ذیلی شاخ کا مبلغ تھا اور اس نے دعویٰ مہدویت کیا تھا۔ جسے بعدازاں شاہ ایران ناصر الدین قاچار کے حکم سے تبریز شہر کے چوراہے میں گولی مار کر اس کی نعش شہر سے باہر پھینک دی گئی تھی۔ اس کے پیروکار بابی کہلاتے ہیں۔  
 ڈاکٹر ساجد علی لکھتے ھیں۔ کہ اقبال کی شاعری کو احراری و دائیں بازو کے کٹڑ مسلمان لے اُڑے اور انکی اصلی فکر یعنی نثر و خطبہ جات کو بھی انکی رجائی شاعری کے تناظر میں دیکھنے لگے جبکہ اصل طریق تو انکی نثر و خطبات و خطوط کے ذریعے انکی شاعری کی تاویل تھی۔۔۔ یعنی پاکستانی ریاست اور ریاستی اقبالی اکیڈمی نے سر اقبال کو علامہ اقبال عربی بنا دیا۔۔۔ جو وہ کبھی نہیں تھے۔
ڈاکٹر ساجد علی لکھتے ھیں۔ ۔علامہ اقبال کے ساتھ المیہ یہ ہوا کہ قیام پاکستان کے بعد ان کی تشریح و تفسیر کا کام ان لوگوں نے سنبھال لیا جو قیام پاکستان سے قبل کانگرس اور احرار سے وابستہ تھے۔ انہوں نے اقبال کے چند مخصوص اشعار کا انتخاب کرکے ان کی نثری تحریروں کو یک سر نظر انداز کر دیا یا ان کی من مانی تاویلیں شروع کر دیں۔ بہت چالاکی سے کام لیتے ہوئے اقبال کی نثر کو اس کے شعر کے تابع کردیا۔
 حالانکہ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ شعر کو علمی اور منطقی دلیل کی جگہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
  رشید احمد صدیقی صاحب نے ایک مرتبہ قوم کی بدمذاقی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ،
دلیل کی جگہ شعر پڑھ کر ایسا سمجھتے ہیں کہ بڑا علمی کارنامہ سرانجام دے دیا ہے۔
 اگر علم اور خبر کی بات ہو گی تو نثر میں کہی ہوئی بات کو شعر پر ترجیح حاصل ہو گی۔ لفظوں کی معنوی تراش خراش کا ایک عبرت ناک مظہر اقبال کے خطبہ الہ آباد میں استعمال ہونے والی ایک ترکیب ہے۔
 اقبال نے جہاں شمال مغربی ہندوستان کو ایک مربوط صوبہ بنانے کے لیے بہت سے سیاسی دلائل دیے ہیں اور کہا ہے کہ ہندوؤں کو اس سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے وہاں اس صوبے کے قیام کے حق میں ایک اور دلیل بھی دی ہے۔ فرماتے ہیں: ”میں صرف ہندوستان اور اسلام کے فلاح و بہبود کے خیال سے ایک منظم اسلامی ریاست کے قیام کا مطالبہ کر رہا ہوں۔ اس سے ہندوستان کے اندر توازن قوت کی بدولت امن و امان قائم ہو جائے گا۔ اور اسلام کو اس امر کا موقع ملے گا کہ وہ ان اثرات سے آزاد ہو کر جو عربی شہنشاہیت کی وجہ سے اب تک اس پر قائم ہیں، اس جمود کو توڑ ڈالے جو اس کی تہذیب و تمدن، شریعت اور تعلیم پر صدیوں سے طاری ہے۔ اس سے نہ صرف ان کے صحیح معانی کی تجدید ہو سکے گی بلکہ وہ زمانہ حال کی روح سے بھی قریب تر ہو جائیں گے۔( خطبہ الہ آباد۔ اردو ترجمہ از سید نذیر نیازی) 
اس میں سید نذیر نیازی صاحب نے ”عربی شہنشاہیت“ کی ترکیب اقبال کے الفاظ ”عرب امپیریل ازم“ کے ترجمے کے طور پر استعمال کی ہے۔
 ڈاکٹر ندیم شفیق ملک صاحب نے بھی یہی ترکیب استعمال کی ہے مگر جب اقبال ”برٹش امپیریل ازم“ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں تو ندیم شفیق ملک صاحب اس کا ترجمہ برطانوی سامراج کرتے ہیں۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک ہی لفظ کے یہ دو متفاوت معنی کس طرح مراد لیے جا سکتے ہیں۔
  اقبال نے جب ”عرب امپیریل ازم“ کے الفاظ استعمال کیے تو یقینا وہ ان کے مضمرات سے بھی واقف ہوں گے۔ اقبال نثر لکھ رہے تھے اس لیے شعر کی طرح وزن کی کوئی مجبوری حائل نہ ہو سکتی تھی۔ایسا بھی نہیں ہے کہ اقبال نے بے دھیانی میں یہ الفاظ استعمال کر لیے ہوں۔ اس خطبے سے کوئی ایک دہائی پیشتر وہ نکلسن کے نام اپنے خط میں مسلم تاریخ کے متعلق اپنے نقطہءنظر کو واشگاف انداز میں بیان کر چکے تھے: ”مجھے اس حقیقت سے انکار نہیں کہ مسلمان بھی دوسری قوموں کی طرح جنگ کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے فتوحات بھی کی ہیں۔ مجھے اس امر کابھی اعتراف ہے کہ ان کے بعض قافلہ سالار ذاتی خواہشات کو دین و مذہب کے لباس میں جلوہ گر کرتے رہے ہیں لیکن مجھے پوری طرح یقین ہے کہ کشور کشائی اور ملک گیری ابتداً اسلام کے مقاصد میں داخل نہیں تھی۔ ’اسلام کو جہاںستانی اور کشورکشائی میں جو کامیابی حاصل ہوئی ہے میرے نزدیک وہ اس کے مقاصد کے حق میں بے حد مضر تھی۔ اس طرح وہ اقتصادی اور جمہوری اصول نشو و نما نہ پا سکے جن کا ذکر قرآن کریم اور احادیث نبوی میں جا بجا آیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ مسلمانوں نے عظیم الشان سلطنت قائم کر لی لیکن اس کے ساتھ ہی ان کے سیاسی نصب العین پر غیر اسلامی رنگ چڑھ گیا اور انہوں نے اس حقیقت کی طرف سے آنکھیں بند کر لیں کہ اسلامی اصولوں کی گیرائی کا دائرہ کس قدر وسیع ہے۔“ (اردو ترجمہ از چراغ حسن حسرت)
 مندرجہ بالا اقتباس یہ بات واضح کر دیتا ہے کہ اقبال نے وہ لفظ خوب سوچ سمجھ کر استعمال کیا تھا مگر ہماری حساسیت اس لفظ اور اس کے مضمرات کو قبول کرنے سے انکاری ہے اور ترجمے میں اس کا دف مار دیا جاتا ہے۔ خود حسرت صاحب نے جن الفاظ کا یہ ترجمہ ”ان کے سیاسی نصب العین پرغیر اسلامی رنگ چڑھ گیا“ کیا ہے اصل میں یہ ہیں: they largely repaganized their political ideals گویا اقبال یہ کہہ رہے ہیں کہ ملوکیت دور جاہلیت کی طرف رجعت کا نام ہے۔ چنانچہ مسلمانوں میں خلافت کے نام پر جس ملوکیت نے رواج پایا تھا اقبال اس کے سخت خلاف تھے۔
 خطبہ الہ آباد کے تقریبا سات برس بعد پنڈت نہرو کے جواب میں، اقبال نے اتا ترک کے تنسیخ خلافت کے فیصلے کی ان الفاظ میں تائید کی تھی: ”کیا تنسیخ خلافت یا مذہب و سلطنت کی علیحدگی منافی اسلام ہے؟ اسلام اپنی اصلی روح کے لحاظ سے شہنشاہیت نہیں ہے۔ اس خلافت کی تنسیخ میں جو بنو امیہ کے زمانہ سے عملًا ایک سلطنت بن گئی تھی اسلام کی روح اتا ترک کے ذریعے کارفرما ہو رہی ہے۔ “ (ترجمہ میر حسن الدین) 
خطبہ الہ آباد میں ایک اور لفظ کی تبدیلی بہت دوررس اثرات کی حامل ہے۔ اس خطبہ میں انہوں نے صرف دو جگہ اسلامک کا لفظ استعمال کیا ہے [[ Islamic principle of solidarity,Islamic solidarity لیکن انہوں نے کسی جگہ سٹیٹ یا ریاست کے لیے یہ لفظ استعمال نہیں کیا۔ مگر سید نذیر نیازی صاحب نے ترجمے میں جہاں بھی مسلم کا لفظ استعمال ہوا ہے اسے اسلامی سے ترجمہ کیا ہے۔ خطبہ میں ایک ذیلی عنوان ہے: [Muslim India within India ] نیازی صاحب نے اور ندیم ملک صاحب نے بھی اس کا ترجمہ کیا ہے ”ہندوستان کے اندر ایک اسلامی ہندوستان“۔ جہاں جہاں اقبال نے مسلم سٹیٹ یا سٹیٹس کا لفظ استعمال کیا ہے اسے نیازی صاحب نے اسلامی ریاست یا ریاستوں سے ہی ادا کیا ہے۔ یہی وہ مغالطہ آفرینی ہے جس نے تحریک پاکستان میں راہ پائی اور مسلمانوں کے سیاسی اور دستوری مطالبات کو اسلامی مطالبات بنا دیا۔
 تحریک پاکستان کے دنوں میں مذہبی مخالفین بالخصوص جماعت اسلامی کا یہی موقف تھا کہ مسلم لیگ کے مطالبات قومی مطالبات ہیں۔ جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں مگر پاکستان کے وجود میں آنے بعد یہی لوگ تھے جنہوں نے یہ راگ الاپنا شروع کر دیا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا ہے اس لیے اسے اسلامی ریاست بنایا جائے۔
 اب سوچنے کی بات ہے کہ مسلم ریاست سے اسلامی ریاست کی طرف سفر خبط معنی کا نتیجہ ہے یا اس میں کچھ نیتوں کے فتور کو بھی دخل ہے؟ 
 پاکستان میں یہ بات ایک سرکاری عقیدے کا درجہ حاصل کر چکی ہے کہ علامہ اقبال نے خطبہ الہ آباد میں پاکستان کا تصور پیش کیا تھا۔ ایک بار نظریہ پاکستان کے علم بردار اخبار کے ایڈیٹوریل میں یہ جملہ پڑھنے کا اتفاق ہوا کہ ”پاکستان علامہ اقبال کے تصور اور قائد اعظم کی جدوجہد کے نتیجے میں قائم ہوا“۔ ایک بزرگ کالم نویس نے تو یہ لکھ کر حد ہی کر دی کہ قائد اعظم نے علامہ اقبال کے حکم پر پاکستان بنانے کی تحریک کا آغاز کیا تھا۔  
تاریخ میں ایسا شاید کوئی اور واقعہ نہ ہوا ہو جب ایک جماعت کا ایک صوبائی صدر مرکزی صدر کو حکم دے رہا ہو۔ خامہ بگوش کے الفاظ میں یہ تاریخ نویسی نہیں بلکہ ٹلہ نویسی ہے۔ علامہ اقبال کا خطبہ مطبوعہ صورت میں موجود ہے اس لیے بہتر یہی ہو گا کہ اسی سے رجوع کیا جائے اور یہ سمجھنےکی کوشش کی جائے کہ وہ اس میں کیا ارشاد فرما رہے ہیں۔ مولوی حضرات ایک بات کا بہت کا ذکرکیا کرتے ہیں کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو لا تقربوا الصلوٰة پڑھ کر ہی رک جاتے ہیں اور اس کو مفید مطلب حکم سمجھ لیتے ہیں۔
 مولوی صاحبان کی بات کو تو شاید ایک لطیفہ سمجھا جائے مگر اقبال کے ساتھ تو واقعی یہ سلوک کیا گیا ہے کہ یار لوگ ایک جملہ پڑھ کر ہی فرط جذبات میں دھمال ڈالنا شروع کر دیتے ہیں۔پورے خطبے میں انہیں صرف یہ جملہ پسند آیا ہے: میری خواہش ہے کہ پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبہ ، سندھ اور بلوچستان کوملا کر ایک ریاست بنادیا جائے۔ مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ کم از کم ہندوستان کے شمال مغرب میں ایک مربوط ہندوستانی مسلم ریاست ، خواہ یہ ریاست سلطنت برطانیہ کے اندر حکومت خود اختیاری حاصل کرے، یا اس کے باہر،ہندوستان کے شمال مغربی مسلمانوں کا آخر کار مقدر ہے۔ (اردو ترجمہ از ڈاکٹر ندیم شفیق ملک۔ علامہ اقبال کا خطبہء الہٰ آباد 1930ئ۔ ص 111) اس جملے سے دو اہم نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔
 پہلا یہ کہ اس میں اقبال نے ایک آزاد اور خود مختار مملکت کے قیام کا مطالبہ کیا ہے جسے بعد میں پاکستان کا نام دیا گیا۔ 
دوسرا نتیجہ یہ نکالا گیا کہ اقبال نے خطبہ الہ آباد میں بنگال کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔ 
چنانچہ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد مغربی حصے کے دانشوروں نے دھڑا دھڑ اخباری مضامین لکھے تھے جن کا لب لباب یہ تھا کہ چونکہ اقبال نے بنگال کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا اور قرارداد لاہور میں بھی ریاستوں کا ذکر تھا اس لیے مشرقی پاکستان کو الگ کرکے اس تاریخی غلطی کو درست کر دیا گیا ہے۔ 
کیا اقبال کے اس خطبے سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ وہ ہندوستان کو تقسیم کرکے ایک آزاد اور خود مختار مملکت کے قیام کا مطالبہ کر رہے تھے؟
 اس سوال کا جواب دینے سے پیش تر یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس کے مندرجات کا سرسری سا جائزہ لے لیا جائے اور اس پس منظر پر بھی غور کر لیا جائے جو اس خطبے کا محرک بنا۔(ڈاکٹر ساجد علی)
 اقبال کی فکر، نثر، خطبات اور شاعری کی روشنی میں ایک نہایت ھی مظلوم بیچارہ اقبال سامنے آتا ھے جس پر اسکے ھی بظاھر چاھنے والوں نے شدید ظلم کر کے اسکو صرف مقامی علاقائی اور مذھبی شاعر بنا کر پیش کردیا۔
 جس کی شاعری فارسی میں طبع ھوکر کچھ لوگوں کو ایران میں ملی اور باقی اس سے منسوب جھوٹے عقیدوں، اور خیالات کی روشنی میں ایک اچھے شاعر کو آسمانِ مذھب و ملت پر چڑھا کر مصلوب کردیا گیا۔ وہ جو رنگ وحسن کا حیرتی تھا۔ جسے رقص و موسیقی سے رغبت تھی جو نسوانی حسن کے خیالی وجدانی تلذّذ کی تلاش میں عطیہ فیضی ، اور ایما کی محبت میں گرفتار تھا۔ 
 جس کے خواب اُن حوالوں سے پورے نہ ھوئے جس نے اپنی پہلی مذھبی بیوی میں عطیہ فیضی جیسی کُھلی لبرل نسوانی شخصیت نہ ملی۔جسے اسی تلاش میں مزید تین شادیاں کرنی پڑیں۔۔۔ جس سے دھوکہ کیا گیا اور دکھائی کوئی اور شادی کسی اور سے کردی گئی اور پھر جسے طلاق دی گئی۔۔۔اور پھر اسی سے رجوع بھی کرنا پڑا۔۔۔جس کے لئے اقبال کو قادیان سے فتوی منگوانا پڑا۔۔۔۔۔ جس کا پانا بڑا بیٹا اور بیٹی اس سے خرچے کے طالب ھوئے اور جس نے اپنی بیٹی کو کالج جانے سے روکا اور گھر میں اتالیق لگوایا کہ باھر جانا پردے کی بےحرمتی ھے۔۔۔ ایسی مذھبی و خاندانی کشمکش کے گرفتار کو ملتِ اسلامیہ کا شاعری بنا کر پیش کرنا بیچارے سر اقبال سے سراسر زیادتی ھے۔۔ کیونکہ اقبال کے بارے قائد اعظم کے دستِ راست اے ایچ اصفہانی کا بیان ھے کہ ”اس بات سے بلاشبہ انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ڈاکٹر اقبال کا فکر، شاعری اور خطبات بھی اسی سمت میں اشارہ کرتے تھے (یعنی مسلم ریاست کے قیام کی طرف) لیکن یہ کہنا کہ وہ مسلم ریاست کے تصور کے خالق تھے، تاریخ کو مسخ کرنا ہے۔“ (زندہ رود، جلد سوم، ص 389) اسی حوالے سے ڈآکٹر ساجد علی نے بہت اچھا لکھا کہ۔۔۔ ،،، مایوسی کے عالم میں مسلمانان ہند کو جناح کی صورت میں ایک ایسا لیڈر نظر آیا جو جدید زمانے کے تقاضوں کو خوب سمجھتا تھا، جو انگریزوں اور ہندووں کی چالوں کو سمجھنے اور ان کا توڑ کر نے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ وہ دیانت و امانت میں بے مثال کردار کا مالک تھا کیونکہ اس سے قبل جو بھی قیادت تھی اس پر تحریک کے بعد چندے کھانے کا الزام عائد کیا جاتا تھا۔ جو مذہبی طبقہ کانگرس کے جارحانہ رویے سے دل برداشتہ ہوا اس کے لیے جناح کی قیادت کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہ رہا۔ تاہم وہ اس باب میں نفسیاتی الجھن کا شکار رہے اس لیے انہیں اپنے فیصلے کے جواز میں کبھی خوابوں کا سہارا لینا پڑتا تھا اور کبھی دیگر عذر تراشنے پڑتے تھے۔ خورشید ندیم اپنے آج ( 30 اپریل، 2016) کے کالم میں لکھتے ہیں: \”اگر اہل مذہب کے ایک بڑے طبقے نے قائد اعظم کو اپنی سیاسی قیادت کے لیے منتخب کیا تو کیوں؟ اس کا جواب جماعت علی شاہ صاحب نے دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مسلمان قوم کو ایک مقدمہ درپیش ہے اور اسے ایک وکیل کی ضرورت ہے۔ وکیل میں یہ صفات ہونی چاہییں کہ وہ دیانت دار ہو اور اہل ہو۔ قائداعظم میں یہ دونوں خصوصیات موجود ہیں۔ “ پیر جماعت علی شاہ صاحب کا یہ جواب بہت معنی خیزہے اور زیادہ تر مذہبی طبقے کا شاید یہی رویہ تھا کہ ان کے نزدیک جناح کی حیثیت بس مقدمے کے وکیل کی تھی۔ یہ بات ہر ایک پر عیاں ہے کہ وکیل کا مال مقدمہ پر کوئی حق نہیں ہوتا۔ مقدمہ آپ نے جیت لیا اور وکیل کا کردار ختم ہو گیا۔ اب یہ مدعیان مقدمہ کا استحقاق ہے کہ وہ مال مقدمہ کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ اسی بات میں اس سوال کا جواب مضمر ہے کہ تصور پاکستان کا خالق علامہ اقبال کو کیوں قرار دیا جا رہاہے۔ اقبال اگرچہ تمام عمر دین ملا کے خلاف نغمہ سنج رہا تاہم اس کی شاعری کا کچھ حصہ ایسا ہے جسے مولوی لوگ اپنے من پسند معنی پہنا سکتے ہیں اور پہنا رہے ہیں۔ اب یہ اس کی شاعرانہ عظمت کا کمال ہے کہ اس پر کفر کے فتوے لگانے والوں کا بھی اس کے اشعار پڑھے بغیر گزارہ نہیں ہوتا۔ اس ساری گفتگو کا ماحصل یہی ہے کہ اقبال کو تصور پاکستان کا خالق قرار دینے کے دعوے کی کوئی بنیاد نہیں۔ اس سارے افسانے کا اصل مقصد قائد اعظم کے کردار کو کم کرنا ہے اور ایسا کرنے کا سبب اقبال سے محبت نہیں بلکہ جناح سے بغض ہے۔اگرچہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بعض خوش فہم لوگ، جو اقبال اور جناح دونوں سے عقیدت رکھتے ہیں، نادانستگی میں اس دام پر فریب کا شکار ہو گئے ہیں۔ اقبال کے بارے میں جب بھی پاکستانی درسی کتب سے پرے پوری سچائی کی بات تحریر میں لائی جاوے تو وُہ لوگ جو اقبال کا رُوحانی و فلسفی بُت بنائے بیٹھے ھوتے ھیں انہیں بہت تکلیف ھوتی ھے۔ جس کے جواب میں انہیں کہتا ھُوں کہ پگھلا ھُوا سیسہ تیرے کانوں میں گیا ھے تکلیف تو ھو گی کہ مَیں سچ بول رھا ھُوں رفیع رضا ۔۔۔۔۔ اقبال کے بارے میں آدھا سچ لکھتے ھوئے بھی مزید بندر بانٹ کرنے والوں کی تحریر دیکھیں تو یہ شرمناک طریق واضح ھوتا ھے کہ اللہ ، مذھب ، دُعا ، عطا کے الفاظ کے استعمال سے برائی کو ملفوف کردیا جاتا ھے۔۔ مثلا۔۔ پہلی بیوی کے بارے اور پہلے دو بچوں کے بارے اقبال کا ذکر ھوتا ھے تو اقبال کے پہلی بیوی سے دو بچے پیدا ھوئے بڑا لڑکا اور پھر لڑکی، بعد میں اقبال کریم بیبی سے الگ ھوگئے۔۔۔۔(نوٹ کریں یہاں، اقبال کی پہلی بیوی سے دو بچے پیدا ھوئے اور بس) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسرا ذکر ۔۔۔اقبال کی تیسری بیوی سے اللہ نے ایک بیٹا عطا فرمایا جو جاوید اقبال تھے۔ (نوٹ کیا؟۔۔۔ پہلی سے دو بچے پیدا ھوئے۔۔اللہ کا ذکر غٓائب۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ اقبال کو دینی اخلاق والی بیوی پسند نہ تھی ۔ وُہ عطیہ فیضی جیسی کھلی آزاد عورت سے متاثر ھو چکے تھے۔۔۔) سچ تو یہ ھے کہ ایسی تاریخی بددیانتی پاکستانی اقبالیات کے شعبے میں کام کرنیوالے افراد نے کثرت سے کی ھے۔ کہ اقبال کو بہرحال بزرگ، ثابت کیا جائے، جہاں اقبال کی خاندانی تاریک تاریخ راہ میں آتی ھے تو آئیں بائیں شائیں کر کے گزر جانا اختیار کیا گیا ھے۔ایسی بددیانتی کو دیکھتے ھوئے میری تحریر میں اقبال کے بارے سختی آ جاتی ھے لیکن اس کے قصور وار اقبال بہت کم ھیں ، اقبالیات کے نام نہاد شعبے والے اصل مجرم ھیں۔ آفتاب اقبال علامہ اقبال کے بڑے بیٹے تھے جو 1899ء میں پنڈدادن خان ضلع شاہ پور میں پیدا ہوئے۔ ان کی ماں علامہ کی پہلی بیوی کریم بی بی تھیں جن سے علامہ کی شادی1893ء میں ہوئی ۔ کریم بی بی علامہ کے انتقال کے آٹھ سال بعد1946ء میں گجرات میں فوت ہوئیں اور وہیں مدفون ہیں۔ کریم بی بی کے بطن سے علامہ کو ایک لڑکی معراج بیگم بھی ہوئی ہیں جو19سال کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ اگرچہ بچپن ہی سے آفتاب اور ان کی بہن معراج اپنی ماں کے ساتھ نانا کے گھر گجرات میں رہتے تھے لیکن آفتاب، اقبال کے والد نور محمد کے نور نظر تھے اور نور محمد ہی نے ان کا نام آفتاب رکھا تھا۔ آفتاب اقبال نے1916ء میں میٹرک کا امتحان درجہ اوّل میں پاس کیا۔ پھر سینٹ اسٹیفن کالج دہلی سے بی اے کا امتحان بھی فلسفہ میں آنرز کے ساتھ پاس کیا اور1921ء میں ایم اے کی ڈگری فلسفہ میں حاصل کی۔ آفتاب کے ماموں کیپٹن غلام محمد اور نانا ڈاکٹر عطا محمد نے انہیں اعلیٰ تعلیم کیلئے انگلستان روانہ کیا جہاں آفتاب نے1922ء میں لندن یونیورسٹی سے فلسفہ میں بی اے درجہ اوّل میں کامیاب کیا۔1924ء میں اسی یونیورسٹی سے ایم اے کرکے دوسال کیلئے ہندوستان آئے اور پھر انگلستان جاکر تین سال تک وہاں سکول آف اورنٹئیل اسٹڈیزمیں ملازم ہوئے۔ اسی دوران لنکن انزمیں داخلہ لے کر بارایٹ لاء میں کامیابی حاصل کی لیکن مالی مشکلات کی بنا پر وکالت نہ کرسکے سراکبر حیدری نے عثمانیہ یونیورسٹی حیدر آباد میں ملازمت دینے کی کوشش کی لیکن کوئی مناسب جگہ ان کیلئے یونیورسٹی میں نکل نہ سکی۔ آفتاب نے کچھ عرصے کیلئے اسلامیہ کالج لاہور میں بحیثیت صدر شعبہ انگریزی ملازمت کی لیکن1942ء میں بحیثیت بیرسٹر پریکٹس شروع کی اور پاکستان کے قیام کے بعد وہ مستقل طور پر کراچی منتقل ہوگئے اور بیرسٹری پریکٹس میں آخری عمر تک مصروف رہے اور یہیں پر رشیدہ بیگم سے شادی کی۔ آفتاب اقبال کا81سال کی عمر میں14 اگست 1979ء کو لندن میں انتقال ہوا ان کے جنازے کو کراچی لاکر قبرستان سخی حسن میں دفن کیا گیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ علامہ اقبال کی ازدواجی زندگی ہر گونہ مسائل سے دوچار تھی۔ علامہ اپنی پہلی شادی سے خوش نہیں تھے اور کریم بی بی کو طلاق دینا چاہتے تھے۔ لیکن کریم بی بی نے طلاق کے بدلے جدازندگی بسر کرنے کو ترجیح دی ۔ اس شادی کے بارے میں9 اپریل 1909کو عطیہ فیضی کو لکھتے ہیں ’’میری تنہا آرزویہ ہے کہ اس شہر سے کہیں باہر نکل جاؤں لیکن تم جانتی ہو کہ اپنے بھائی کا احسان مند ہوں جو میرے اس شہر سے باہر جانے کے مخالف ہیں ۔میری زندگی سخت مصیبت زدہ ہے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں کسی طرح سے کریم بی بی کے ساتھ زندگی بسرکروں جو ممکن نہیں، میں پہلے ہی سے اس شادی سے خوش نہ تھا میں حاضر ہوں کہ اخراجات کفالت برداشت کروں لیکن اس کے ساتھ زندگی بسر نہ کروں۔‘‘ اقبال کی محبوبہ ،عطیہ فیضی نے اس شادی کی شکست کی وجہ دونوں کی فکری صلاحیتوں میں شدید فرق اور طبیعتوں میں اختلاف بتایا ہے۔ اس شادی کے اختلافات اور دوری کی وجہ سے آفتاب اقبال، علامہ کی محبت اور شفقت سے محروم ہوئے اور چونکہ وہ اپنی ماں کے ہم خیال تھے اور اس شادی کی شکست کے پورے ذمہ دار علامہ کو سمجھتے تھے۔ اس لئے روز بروز ان کے اور علامہ کے درمیان تعلقات خراب ہوتے گئے۔ نذیر نیازی ’’دانائے راز‘‘ میں اس شادی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس شادی کی شکست کی وجہ کریم بی بی کے اخلاق اور ان کی خشک طبیعت تھی اس کے علاوہ خود آفتاب کی رفتار وگفتار انہیں علامہ سے دور کھینچتی جاتی تھی۔ جاوید اقبال نے خود اپنی کتاب ’’زندہ رود‘‘ میں لکھا کہ میں ان مطالب کو بیان کرتے ہوئے کوئی جھجک محسوس نہیں کرتا کہ علامہ نے جوروش اختیار کی تھی وہ عمدہ نہ تھی آفتاب اقبال اپنے انگلستان کے قیام کے دوران شدید مشکلات سے دوچار تھے چنانچہ جب انہیں معلوم ہوا کہ ریاست حیدر آباد کا وفد سراکبر حیدری کی قیادت میں انگلستان آیا ہوا ہے تو انہوں نے سراکبر حیدری سے مل کر اپنی مالی مشکلات کا ذکر کیا اور بتایا کہ امتحانی فیس نہ ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی نے انہیں سند نہیں دی ہے۔ چنانچہ اکبرحیدری نے انہیں 190پونڈ قرض دلوایا لیکن حیدر آباد میں مہاراجہ کشن پرشاد نے اس قرض کو عطیہ میں تبدیل کردیا۔ 1931ء میں آفتاب انگلستان سے لاہور آئے اور29مارچ کو سراکبر حیدری کے خط میں اپنی مالی مشکلات علامہ کی عدم التفات اور جائیداد سے محرومی کا شکوہ کچھ اس انداز میں کیا کہ سراکبر حیدری نے11اپریل 1931میں علامہ کو لکھا ’’اگرچہ مجھے آفتاب پر آپ کی خفگی کی وجہ معلوم نہیں لیکن میں یہ کہنے کی جرأت کرتا ہوں کہ آپ اس کی بحالی پر غور کریں۔‘‘ علامہ اقبال نے2مئی 1931ء کو اکبر حیدری کو لکھا۔ ’’قصہ طولانی اور اس کا بیان اذیت ناک ہے۔ دراصل میں دہلی میں آپ سے ملاقات کرنے سے بھی اس لئے کترایا کہ میں نے سو چا وہ ہماری گفتگو کا موضوع بن سکتا ہے۔ اور اس سے کچھ دیر کیلئے میرا ذہنی سکون برباد ہوگا ۔میں پہلے ہی اپنی بساط سے زیادہ اس کی مدد کر چکا ہوں اس طرز عمل کے باوجود وہ میرے ساتھ اور خاندان کے دوسرے افراد کے ساتھ کرتا رہا ہے۔ کوئی باپ تحمل کے ساتھ وہ شرارت آمیز خطوط نہیں پڑھ سکتا جو اس نے مجھے لکھے ہیں۔ اب جو کچھ وہ کر رہا ہے وہ صرف بلیک میلنگ کے منصوبے کا ایک حصہ ہے جو وہ کچھ عرصے سے کرتا آرہا ہے۔ بہرحال یہ میرے لئے ممکن نہیں کہ میں اس کی مدد کرسکوں۔ میں ایک بوڑھا آدمی ہوں جس کی صحت بھی ڈانواں ڈول رہتی ہے کسی طرف سے کوئی امید نہیں، دو چھوٹے بچے ہیں جن کی پرورش کرنا ہے۔ اگر میں کوئی مالدار آدمی ہوتا تو شاید اس کی کچھ اور مدد کردیتا اگرچہ وہ اس کا مستحق نہیں۔ میں سمجھتا ہوں میرے حالات کے بارے میں آپ کوکچھ علم نہیں۔ فطرت نے مجھ کو کچھ چیزیں دیں ہیں او رکچھ نہیں دیں میں پوری طرح قانع ہوں اور میرے لبوں پر کبھی حرف شکایت نہیں آیا۔ شاید آپ پہلے آدمی ہیں جسے میں نے یہ باتیں لکھی ہیں۔ میں جانتا ہوں آپ نے اس کی مدد کی ہے کچھ اس لئے کہ اس نے آپ کو خوب متاثر کیا ہے اور کچھ میرے تعلق سے ’’آپ کی فیاض فطرت اس کے سوا اور کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی مگر مجھے یقین ہے آپ کا اس پر اور مجھ پر بڑا کرم ہوتا اگر اس کو کوئی موزوں ملازمت جامعہ عثمانیہ میں دلاسکتے‘‘ ۔ اگرچہ کچھ اطلاعات کے مطابق اکبر حیدری اور علامہ کے درمیان اس مسئلہ پر گفتگو جاری رہی۔ چنانچہ اکبرحیدری 12 فروری 1937ء کے خط میں لکھتے ہیں۔ ’’اگر مجھے پہلے ہی سے ان ناخوشگوار حالات کا علم ہوتا جس کی آپ نے نشاندہی کی ہے تو بلاشبہ میں اس اپیل کو نظر انداز کردیتا‘‘۔ آفتاب اقبال علامہ کے انتقال کے چالیس(40) سال بعد تک زندہ رہے ۔۔ اقبال نے اپنی اولاد کو جس محرومی سے نوازا، وُہ اقبال کے قد کو بہت بونا دکھاتا ھے۔ اقبال چونکہ خود کوئی کام نہ کرتے تھے اور طبیعت کے سہل پن کی وجہ سے بڑے بھائی پر بوجھ بنے ھوئے تھے اس لئے اپنے بچوں کی مناسب امداد کے قابل ھی نہیں تھے۔ اقبال کا شاھین اپنے بچوں کا شکار کرتا رھا ، ایک ھوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے کا مصنوعی درس دینے والا عملی حالت میں ھمیشہ قرٓآن کی اس آیت کا مصداق ٹھہرا جو کہتی ھے کہ لما تقولوںَ ما لاتفعلون،، تم ایسا پرچارکیوں کرتے ھو جس پر خود عمل نہیں کرتے؟ مومن اقبال، جن کی مبینہ طور پر قران پڑھتے آنکھیں بھیگ جاتی تھیں، نے پہلی شریف بیوی کی علیحدگی کے بعد بھی اُس سے کدورت رکھی، اور طرح طرح کے الزامات اپنے ھی بڑے بیٹے اقبال پر لگائے، جنہیں اقبال کے مداحین نہایت بےشرمی اور بےحیائی سے اقبال کی طرفداری کے طور پر پیش کرتے ھیں جیسے اقبال کا بیٹا آفتاب اقبال ، اقبال سے اپنی ماں اور اپنی بہن کے لئے مالی امداد مانگ کر کوئی جُرم کر رھا تھا، اقبال کے دوسرے بیٹے جاوید اقبال نے ایک ویڈیو ریکارڈنگ میں خود کہا ھے کہ انہوں نے پہلی بار اقبال کی موت کے وقت اپنے بڑے بھائی آفاتاب اقبال کو دیکھا تھا ۔ جب جاوید اقبال خود کہہ رھے ھیں کہ پہلی بات انہون نے اپنے بڑے بھائی کو اقبال کی موت پر دیکھا تھا تو تقی عابدی سمیت باقی نام نہاد اقبال پرست جو چاھے جھوٹ بولیں وُہ ماننے کے قابل نہیں ھے۔ میرے پاس جاوید اقبال کی وہ ویڈیو موجود ھے جس میں بقائمی ھوش و حواس جاوید اقبال نے تسلیم کیا ھے کہ پہہلئ ملاقات اپنے بھائی سے اقبال کی موت پر ھوئی تھی۔ ایسے میں کسی بھی گزشتہ تنازعہ میں آفتاب اقبال اور جاوید اقبال کو اکٹھا کرنا یا حوالہ دینا نہایت بددیانتی جھوٹ اور ھرزہ سرائی ھے۔۔ اقبالیات کے نام نہاد پاکستانی حکومتی ادارے کو اقبال کے بارے میں سچ بتانا چاھئیے۔۔ ایک اچھا عمدہ شاعر ھونا اور بات ھے ایک بُرا فرسودہ خود غرض باپ ھونا ایک الگ حقیقت ھے۔ نادیہ بتول بخاری کا ویڈیو انٹرویو میرے پاس موجود ھے جس کے مطابق۔۔ وُہ لکھتی ھیں۔۔ میں تقریباً ڈیڑھ سال پہلے ٹی وی انٹرویو کے لیے ڈاکٹر علامہ اقبال کے صاحبزادے جسٹس جاوید اقبال کے گھر گئی، لیکن اس کے ایک روز قبل اپنے انٹرویو کی تیاری کے لیے ڈاکٹر خواجہ ذکریا سے ملنا مناسب سمجھا، خواجہ صاحب ڈاکٹر اقبال پر پی ایچ ڈی کر چکے ہیں،،، ملاقات میں خواجہ صاحب نے علامہ اقبال کے ایک اور صاحب زادے جسٹس آفتاب اقبال کا ذکر کیا جو ان کی پہلی بیوی سے تھے، آفتاب اقبال کا نام میرے لیے نیا تھا، اور مجھے یہ بھی پتا چلا آفتاب اقبال جسٹس جاوید اقبال کی مانند پڑھے لکھے اور زہین انسان تھے، مجھے تعجب اس بات ہوا کہ میں نے جاوید نامہ کو سنا اور پڑھا ہوا تھا لیکن آفتاب نامہ کا ذکر تک نہیں سنا تھا،،،، جب اس بھائی کا ذکر میں نے جسٹس جاوید اقبال سے کیا تو انہوں نے مجے مزید حیران کر دیا کہ،،،،،،،،،،،،،،،،،، انہوں نے بھی آفتاب اقبال کو پہلی دفعہ اس وقت دیکھا تھا جب وہ چودہ برس کے تھے جس دن علامہ کا انتقال ہوا انتقال کی خبر سنتے ہی آفتاب اقبال ہمارے گھر آگئے،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ، وہ سارا دن اپنے والد کے پاؤں سے لپٹے بیٹھے روتے رہے تھے،،،،،، یہ حقائق بتاتے ہوئے جاوید اقبال خود بھی آبدیدہ ہوگئے، اس کے بعد میرا تجسس بڑھ گیا اور میں ایک بار دوبارہ خواجہ ذکریا سے ملنے گٰئی ،، خواجہ صاحب نے بتایا کہ علامہ اقبال کی پہلی شادی انکی کم عمری میں ہی کر دی گئی تھی، جن سے آفتاب اقبال پیدا ہوئے لیکن بدقسمتی سے یہ شادی چل نہ سکی اور علیحدگی ہوگئی تھی، جس کے بعد علامہ اپنے بیٹے آفتاب اقبال سے بھی دور ہو گئے، میں سمجھتا ھُوں کہ کوئی تخلیقی ھنر اور شخصیت دونوں ساتھ ساتھ ھی دیکھے جانے چاھئیں، خاص طور پر جب تخلیقی ھنر درسی ھنر کی صورت پیش کیا جائے۔ سائینس کی بات اور ھے، تخلیقی ھنر کے ساتھ شخصیت کو نہ دیکھنے سے بعض لوگ سمجھ بھی نہیں آتے، اس بات رد کر کے بھی دیکھا جائے تو دوسری بڑی دلیل یہ بنتی ھے کہ جب کوئی شخصیت ایک مشفق، مفکر و اجتہادی و فلسفی کے طور پر پیش کی جائے تو لازمی طور پر اس کا ذاتی عمل پرکھا جائے گا۔ ایک شخص جو پیشے کے لحاظ سے شکاری یا جلاد یا قصائی ھو، اُسے کبھی آپ حیاتیات کو بچانے والے بزرگ کے طور پر پیش نہیں کریں گے۔۔ دنیا میں کبھی کوئی جلاد ، روحانیت کا گُرو، عظیم شاعر، نہیں ھُوا؟ آخر کیوں؟۔ اسی لئے نا کہ تفکر، تجہل، معصومیت اور ظلم، جہادی اور صوفی ایک ھی شخصیت نہیں ھو سکتی۔ یہ دلائل پیش کرنے کا اھتمام اسی لئے کیا گیا ھے کہ سمجھایا جائے کہ اندھا دھند تقلید کرنے سے پہلے مکمل حقائق جان لینا ضروری امر ھے۔ حقائق وُہ نہیں ھوتے جو ایک ایمان لے آنے وال تسلیم کر چکا ھوتا ھے، نہایت حیرانی کی بات ھے کہ اقبال کے اقوال تو پیش کردئیے جائیں مگر انکے اعمال کو اس لئے رد کردیا جائے کہ وُہ ذاتی افعال تھے۔۔ یعنی اگر وُہ قران پڑھتے آبدیدہ ھوجاتے تھے تو یہ ذاتی فعل بیان کیا جائے اور اسے خوب مشتہر کیا جائے ۔ جب وہ کسی قاتل کا جنازہ پڑھنے میں اور اُس قاتل کی تعریفیں کرنے میں آگے آگے ھوں تو اس کی خوب مشہوری کی جائے۔ جب وُہ گورنر، ملکہ وکٹوریہ کی تعاریف کریں تو اس شاعری کو چھپایا جائے۔ جب وُہ پہلے احمدی ھوں پھر کہیں کہ ٹھیٹھ اسلام کا بہترین نمونہ عہد رسول کے بعد قادیان میں ظاھر ھُوا تو اسے اس لئے چھپایا جائے کہ وُہ بعد میں احمدیت کے خلاف ھوگئے، کیونکہ احرار نے انہیں خرید لیا، جس کا انکے بیٹے جاوید اقبال کو بھی شدید ملال تھا لیکن اقبال کے درسی کتب اور پاکستانی حکومت کے پراپیگنڈا سے متاثر لوگوں پر کوئی اثر نہ ھوا۔ اقبال نے ھرگز کسی علیحدہ آزاد مملکت پاکستان کا خواب نہیں دیکھا تھا، لیکن یہ جھوٹ مسلسل پاکستان میں اتنا پھیلایا گیا کہ اب اقبال کو مفکر پاکستان کہتے ھیں، میں اس بات پر زور دیتا ھُوں کہ اقبال کو مکمل پیش کیا جائے، اقبال کی بیسیوں نظمیں مغرب کا ترجمہ یا چربہ ھیں یہ بتایا سمجھایا جائے، اقبال کی مشہور نظمیں اگر مغرب سے درآمد ھیں لازمی طور پر اصل شاعر کا نام ساتھ لکھا جائے۔ میرے مطالبات ھرگز غلط نہیں ھیں ، جاوید اقبال نے خود کہا ھے کئی بار کہا ھے کہ کون کہتا کہ اقبال نے علیحدہ مملکت کا خواب دیکھا تھٓا؟۔۔ اقبال کو تو وضاحتی خط لکھنے پڑے، بیان دینا پڑا تقریر کرنی پڑی کہ میں کسی الگ ملک کی بات نہیں کرتا، انگریز کے کنٹرول میں زیادہ اکثریتی علاقے کی جانب کثرت کو حصہ دینے کی بات کرتا ھُوں۔ ترکھاناں دا مُنڈا بازی لے آگیا اسیں ویکھدے ریھے جیسے کلمات ادا کرنے والا جس تشدد کو فروغ دینے کے حق میں تھا اُس سے پاکستان میں لاقانونیت اور مذھبی افلاس پیدا ھُوا ھے اس لئے یہ ضروری ھے کہ بذریعہ تاریخ و دلائل ، اقبال کے منفی اعمال کا کُھلے عام بطلان کیا جائے۔ جس تفکر و تبحر کو اقبال اپنی زندگی میں اپنا نہیں سکے ، ھم اُسے کیوں اپنائیں؟ ایک پنجابی ، عربوں کا ترجمان کیسے بن گیا ؟ اپنے بیوی بچوں کو تج دینے والا ، ایک ھوں مسلم حرم کی پاسبانی کا درس کیوں دینے لگا؟ ۔۔۔ کیا یہ کوئی اچھا نمونہ ھے؟ کیوں حرم کی پاسبانی کو اکٹھے ھو؟ اسی لئے کہ اپنی اولاد کو تج دیں؟ پیروں فقیروں کی درگاھوں پر منتیں مانیں؟ ملکہ وکٹوریہ کا نوحہ لکھیں، انگریزی گورنر کی مدح کریں، قاتل کی تعریف کریں، عطیہ فیضی سے عشق کریں، شراب میں خود کو ڈبونے کی بات کریں، اپنی بچی کو سکول نہ بھیجیں کہ بےپردگی ھوگی، کیا ھم سب اقبال کی ایسی ھی تقلید کریں؟ آخر ھم انکی شاعری یا چند خطبات کو کیوں اھمیت دیں؟۔ جبکہ شاعری اور نظریات شدید تضاد رکھتے ھوں؟ ایک جانب مرزا قادیانی کی تعریف، ایک جانب ملکہ وکٹوریہ کی تعریف، ایک جانب سپین پر مسلمانوں کے ناجائز قبضے کی تعریف، ترکی کی طرف سے آرمینیا کی نسل کشی پر خاموشی، کُردوں پر زیادہ پر خاموشی، سلطنت عثمانیہ کے گُن گائیں؟ اپنے بیٹے کے بارے کہیں کہ وُہ بلیک میل کرتا ھے۔ مفت کھانے کی مسلسل عادت، اور رھبری کا شوق، کشمیر کمیٹی کا سربراہ نہ بنائے جانے پر احمدیوں سے مخاصمت کرنا، غرض سوال تو ان گنت ھیں۔ اقبال کافی حدتک ایک اچھے شاعرمترجم تھےانھیں اسی حثیت سےجاناجائےتوسچی تاریخ مرتب ہوگی۔پاکستان میں شاعری پڑھنےوالے اس بات سےبلکل واقف نہیں ہیں وہ سمجھتےہیں یہ اشعاراورنظمیں خود اقبال کی ذاتی فکرکاپھل ہیں۔جبکہ ایساہرگزنہیں،بےشماراشعاراورنظمیں مختلف مشہوراوراہم شعراءکی اصل کاوش ہیں تاریخی سچائی کوعین پوری سچائی سے بیان کیا جائے۔اس سےاقبال سے منسوب بہت سےجھوٹےدعوےختم ہونگےاور ہم ایک اچھےشاعرکی شاعری کاماخذجان کراس کی شاعری کےھنر کی تعریف کرسکیں گے۔ لیکن عجیب قصہ ہےکہ وہ نسل جو اقبال کاسرکاری الاپ الاپتی رہتی ہے کچھ سننےکےبجائےدھمکی گالی اور فتوےپراترآتی ہے۔ لوگ خود توتحقیق کرتےنہیں اورہمیں الزام دیتےہیں کہ ہم کیوں حقائق سےپردہ اٹھارہےہیں۔ اقبال نےجہاں انگریز شعراءسے اکتساب کیاوہاں فارسی شعراءسےخیالات لاکر اپنی شاعری استوارکی۔مثلاً مشہورشاعرفخرالدین عراقی کا شعرہے بہ زمیں چوسجدہ کردم،ززمیں ندا برآمد کہ مراپلیدکردی،ازیں سجدۂ ریائی جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں اقبال عراقی کا شعرِ بےمثال ہے اس میں نماز اور صنم کااضافہ کرکے اقبال نے اپنا شعر کہہ دیا۔ اسی طرح اقبال کی کئی شہرہ آفاق نظمیں بھی غیر ملکی ادب سے اخذ شدہ ہیں۔ان میں ماں کا خواب بچے کی دعا ایک انگریزی کی شاعرہ امیٹلڈاایڈورڈ کی حمد کا ترجمہ ہے ایک مکڑی اور مکھی/ایک گائے اور بکری/پہاڑ اور گلہری/ماخوذ از ایمریسن/ہمدردی،ماخوذ ازویلم کوپر./پیام صبح لانگ فیلو/عشق اورموت از ٹینی سن)رخصت اے بزم جہاں ماخوذ از ایمریسن وغیرہ۔ اقبال سے ذاتی پرخاش نہیں صرف اس جعلی دعوےسےپرخاش ہے جو مغربی و مشرقی مشاہیر و شعراء کے کلام پر مبنی اقبال کے کلام کو اقبال کا ہی کلام کہہ کر پیش کرتےہیں۔ یعنی جیسےمغربی شعراءکی تراجم والی اقبال کی شاعری خوشحال خان خٹک رومی،حافظ اور ھندی شعراءسے اکتساب و ترجمہ یا ماخوذ ہے،اس پر مجھ سمیت کسی کو راضی نہیں ہوناچاہئیےکہ وہ اسےاقبال کی خالصتاً شاعری قراردے۔مثلاً جب اقبال کی اعلی سوچ کی تعریف کرتے ہوئے اس شعرکاحوالہ دیاجائےکہ اقبال کہتے ہیں مجھےمحبت ان جوانوں سےہے ستاروں پہ جو ڈالتےہیں کمند تویہ اقبال کا نہیں خوشحال خان خٹک کا کلام ہے۔اس گفتگوکامقصد کیا ہے؟ جواب پاکستان کی حکومتوں نے اقبال سےمنسوب شاعری فکراورفلسفےکودرسی کتابوں میں داخل کررکھاہےاورایک مخصوص زاویے سےاقبال سےایک شدت پسندانہ مذھبی سوچ منسوب کی ہوئی ہے۔اس لئیے ضروری ہےکہ اقبال سےمنسوب گمراہ اورحکومتی پراپگینڈےکےبجائےاصل اقبال اوراسکی شاعری،فکرو فلسفے کوپیش کیاجائے۔ میٹلڈا ایڈورڈ بیتھم کی حمد گرجوں میں مدت سے پڑھی جاتی تھی۔۔ اس نظم کا ترجمہ تین افراد نے اردو میں کیا تھا، شاید شاعر کا تخلص آزاد تھا جو ایک ھندو شاعر تھا۔۔۔اقبال نے بھی اسکا ترجمہ کیا۔۔۔۔لب پہ آتی ھے دُعا بن کے تمنا میری۔۔۔۔یہ زیادہ اچھا اور رواں ترجمہ تھا جو مقبولیت پا گیا۔۔ لیکن ہاکستان کے اقبالیات کے ماھرین نے جان بوجھ کر عوام سے درسی کتب میں یہ بات چھپائے رکھی کہ یہ نظم ایک منظوم آزاد ترجمہ ھے ، اور نظم کی اصل خالقہ ایک عیسائی خاتون ھیں۔ اب کیا یہ ضروری ھے کہ ترجمے کا ذکر ھر بار نظم کے ساتھ کیا جائے؟ اس سلسلے میں ایک تکلیف دہ حقیقی خبر سناتا ھُوں چار سال پہلے یوم اقبال پر ایک تقریب میں بیرونی لکھاری موجود تھے۔۔ ان مین سے انگلینڈ کے لکھاری بھی تھی۔۔ وھاں اقبال کی نظم لب پہ آتی ھے۔۔۔۔ کو پیش کر کے انگریزوں سے داد لی گئی کہ یہ اقبال کی معرکہۃ الآرا نظم ھے۔۔ لیکن یہ ایک بددیانتی تھی۔۔کیونکہ یہ نظم خود انہی انگریزوں کی شاعرہ میٹلڈا ایڈورڈ کے خیالات و کمالِ شاعری کا نمونہ تھی نہ کہ اقبال کی اوریجنل تخلیق۔ اب یہ غلطی اور گمراھی جان بوجھ کر کی گئی یا جان بوجھ کر چھپائے گئے پاکستانی اقبالیاتی محکمے کی دغٓابازی ھے؟ اب میرے قارئین کو اتنا شعور آ جانا چاھئیے کہ سچائی کو تسلیم ھی نہیں کریں اس کا پرچار بھی کریں۔۔ اقبال کا قد مصنوعی طور پر بلند کر کے طالبان ھی پیدا ھونگے۔۔۔ انسان پیدا نہین ھونگے۔۔ رفیع رضا اقبال نے انگریزی نظموں کو اردو کا قالب دیتے ہوئے حسبﹺ ذیل نظمیں لکھیں۔ ۱۔ ایک مکڑی اور مکھی ﴿۱۱:۹﴾ ماخوذ لکھا، لیکن آزاد ترجمہ ہے ۲۔ ایک پہاڑ اور گلہری ﴿ ۱۵۳:۳﴾ ماخوذ ایمرسن لکھا لیکن آزاد ترجمہ ہے۔ ۳۔ ایک گائے اور ایک بکری ﴿ ۱۷:۹﴾ ماخوذ لکھا لیکن آزاد ترجمہ ہے ۴۔ بچے کی دعا ﴿۹:۸ ﴾ ماخوذ لکھا لیکن آزاد ترجمہ ہے ۵۔ ہمدردی ﴿ ۱۹:۹ ﴾ ماخوذ از ولیم کوپر لکھا ۔ ماخو ذ ہے ۶۔ ماں کا خواب ﴿۲۲۵: ۳ ﴾ ماخوذ نہیں لکھا۔ ماخوذ ہے ۵ ۷۔ پرندے کی فریاد۔ ماخوذ نہیں لکھا لیکن ماخوذ ہے ۸۔ پیامﹺصبح ﴿۱:۹: ۱ ﴾ ماخوذ از لانگ فیلو لکھا۔ ماخوذ ہے ۹۔ عشق اور موت ﴿۲۰۵﴾ ماخوذ از ٹینی سن لکھا ہے۔ ماخوذ ہے ۱۰۔ رخصت ائے بزمﹺ جہاں ﴿۱:۵۴۱ ﴾ ماخوذ از ایمر سن لکھا لیکن کامیاب منظوم ترجمہ ہے ۱۱۔ مرثیہ داغ ۔ ماخوذ نہیں لکھا لیکن ماخوذ ہے ۱۲۔ گورستان شاہی۔ ماخوذ نہیں لکھا لیکن ماخوذ ہے ۱۳۔ ایک پرندہ اور جگنو ۔ ﴿۵۹: ۳ ﴾ ماخوذ نہیں لکھا۔ آزاد منظوم ترجمہ ہے ۱۴۔ والدہ مرحومہ کی یاد میں۔ ماخوذ نہیں لکھا لیکن ماخوذ ہے ۱۵۔ ابرکوہسار۔ ماخوذ نہیں لکھا لیکن ماخوذ ہے۔ ۱۶۔ ایک آرزو۔ ماخوذ نہیں لکھا لیکن ماخوذ ہے۔ ژباړه وګورئ پانچویں صدی میں انڈیا میں ایک فلسفی، شاعر ھو گزرا ھے، جس کو غلطی سے کچھ لوگ بُدھا سے جوڑ دیتے ھیں ۔۔اسکا نام۔۔۔۔بھارتری ھری،،،تھا بھارتری ھری کے سنسکرت پر بہت احسان ھیں۔ اور اس خطے میں شاعری پر بھی اس نے بہت کرم کیا۔۔اور بہت اعلی شاعری کی۔ اقبال نے بھارتری ھری کی شاعری سے استفادہ کرتے ھوئے بہت اچھے شعر کہے ھیں۔۔۔لیکن بنیادی خیال وھیں سے آیا ھے۔۔ جس کا زیادہ تر ذکر خؤد اقبال نے کردیا تھا۔۔ تاھم ضیا الحق کے دور کے بعد سے جان بوجھ کے اقبال کے خود دئیے گئے حوالے بھی غائب کئے گئے تاکہ ایسے اشعار کو جو مغربی شعرا ۔۔۔ ایرانی شعرا اور سنسکرت شعرا اور پشتو شُعرا کی اصل تصنیف تھے انکو اقبال سے بددیانتی سے جوڑ دیا جائے۔۔ اور اس حوالے سے اسکا قد ناجائز طور پر بلند کیا جائے۔۔ مثلآ۔۔۔۔۔ بھارتری ھری کہتا ھے Wanting to reform the wicked with nectar sweet advice, is like trying to control an elephant with the pith of a lotus stem, or cutting a diamond with delicate petals of the Shireesh flower, or sweetening the salty ocean with a drop of honey. 6. The creator has provided only one means for hiding one’s ignorance پھول کی پتی سے کٹ سکتا ھے ھیرے کا جگر مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر (بھرتری ھری) اقبال ،،،، پس اقبال کافی حد ترک ایک اچھے شاعر مترجم تھے۔۔ اور انہین اسی حیثیت سے جانا جائے تو سچی تاریخ مرتب ھوگی۔۔ پاکستان میں اقبال کی شاعری پڑھنے والے ایسی باتوں سے بالکل واقف نہیں ھیں۔ وہ سمجھتے ایسا اشعار اور نظمیں خود اقبال کی ذاتی فکر کا پھل ھیں جبکہ یہ درست نہین۔۔۔ اصل مین ایسی نظمیں اور بےشمار اشعار مختلف مشہور اور اھم شعرا و فلسفیوں کی اصل کاوشیں ھیں جنکو اقبال نے خوبی سے شاعری میں یا نثر مین ترجمہ کیا ھے۔۔جس کا انکا کریڈٹ ملنا چاھئیے۔۔ ایک سروے جو میں نے 2010 میں پاکستان میں کیا تھا ایک ھزار افراد سے پوچھا کہ اقبال کی نظم ، لب پہ آتی ھے دعا بن کے تمنـا میری۔۔۔۔ کیا اقبال کی اپنی فکری کاوش ھے یا کسی اور کی شاعری کا ترجمہ۔۔یا اکتساب؟۔۔ جواب میں پورے ایک ھزار کا یہی جواب تھا اقبال کی اپنی فکر کا پھل یہ نظم ھے۔۔ جبکہ تاریخی سچائی یہی ھے کہ اقبال نے ترجمہ و اکتساب کیا تھا۔۔۔انکی اپنی فکر صرف شعر کی بنت اور اسے خوبصورت بنانے میں صرف ھوئی۔۔۔ پس میرا اصرار ھے کہ تاریخی سچائی کو عین پوری سچائی ھی سے بیان کیا جائے۔۔ اس سے اقبال سے منسوب بہت سے جھوٹے دعوے ختم ھونگے اور ھم ایک اچھے شاعر کی شاعری کا ماخذ جان کر اسکی شاعری کے ھنر کی تعریف کر سکیں گے۔۔ لیکن عجب قصہ ھے کہ وہ نسل جو اقبال کا سرکاری الاپ الاپتی رھی ھے وہ کچھ سننے کو تیار نہیں ھے۔۔۔اور دھمکی گالی۔۔فتوی بازی۔۔ ذاتی دشنام پر اتر آتی ھے۔۔ لیکن مین ایسی باتوں سے مرعوب ھونے والا نہیں ھوں۔۔یہ مشن جایر رھے گا۔۔کتاب جلد پیش کی جائے گی۔۔۔ خیر۔۔سنسکرت کے اُس عظیم شاعر بھارتری ھری کی کچھ اور شاعر دیکھیں کیسی نئی اور خوبصورت ھے۔۔۔ آج کی اردو شاعری کیسے اسکے سامنے ماند ھے۔۔آئیے دیکھیں۔۔ The clear bright flame of a man’s discernment dies: When a girl clouds it with her lamp-black eyes. [Bhartrihari #77, tr. John Brough; poem 167] … عقل مند کے ساتھ خطرے میں کود جانا بے وقوف کے ساتھ سیر کو نکل جانے سے بہتر ھے… (بھرتری ھری ) (عقل ھے محوِ تماشائے لب بام۔۔۔۔۔کا منبع معلوم ھوگیاَ؟) دشوار گزار پہاڑوں پر درندوں کی صحبت بہتر لیکن بےوقوف کی صحبت راجہ اندر کے محل میں بھی ناقابل برداشت ھے بھرتری ھری جو شخص عورت کو کمزورکہتا ھے وہ بلاشبہ عورت کی فطرت سے ناواقف ھے.” ( بھرتری ھری ) اسی طرح ، اقبال ، خوشحال خان خٹک سے سخت متاثر تھے اور اس بات کا ثبوت ان کےکئی اشعار میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اقبال نے ان کو بہت دھیان سے پڑھا ہے اور خوشحال خان خٹک کی عظمت کی اگر بات کی جائے تو اقبال بہتر جاننے والوں میں سے ھیں، اقبال کے بہت سے اشعار دراصل خوشحال خآن خٹک کی شاعری کا ترجمہ ھیں، اقبال کہتے ھیں۔ خوش سرود آن شاعر افغان شناس آنکه بیند باز ګوید بې هراس آن حکیم ملت افغانیان آن طبیب علت افغانیان راز قومی دید و بیباکانه ګفت حرف شوخی رندانه ګفت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علامہ اقبال نے خوش حال خان کی وصیت کو اپنی زبان میں یوں پیش کیا ہے محبت مجھے ان جوانوں سے ہے ستاروں پہ جوڈالتے ہیں کمند اڑاکرنہ لائیں جہاں بادکو مغل شاہ سواروں کی گرد سمند اس طرح بہ زبان فارسی بھی علامہ اقبال نے خوش حال خان کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے خوش سروداں شاعر افغان شناس ہر چہ بیند بازگویدے ہراس آں حکیم ملت افغانیاں آں طبیب علت افغانیاں راز قوے دیدوبے باکانہ گفت حرف حق بازوخئی رندانہ گفت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اصل اقبالیات،،،، رفیع رضا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اقبال کے خط کے ایک پیرا گراف کا فورینزک تجزیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عطیہ فیضی کے نام اقبال کے خط سے اقتباس ۔۔۔ "ایک انسان کی حیثیت سے مجھے مسرت کے حصول کا حق حاصل ہے۔اگر معاشرہ یا فطرت میرے اس حق سے انکار کریں گے تو میں دونوں کے خلاف بغاوت کروں گا۔میرے لئے صرف ایک ہی چارہ ہے کہ میں اس بدبخت ملک کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ دوں یا مَے خواری (شراب نوشی) میں پناہ ڈھونڈوں جس سے خود کشی آسان ہو جاتی ہے۔ کتابوں کے یہ مردہ بے جان اور بنجر اوراق مسرت نہیں دے سکتے اور میری روح کے اعماق میں اس قدر آگ بھری ہوئی ہے کہ میں ان کتابوں کو اور ان کیساتھ ہی معاشرتی رسوم و روایات کو بھی جلا کر خاکستر بنا سکتا ہوں”- (اقبال) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اقبال اس میں اپنا استحقاق بتاتے ھیں کہ اُنہیں لذت و خوشی (جسمانی تلذذ) کی خواھش ھے جو انہیں ویسی میسر نہیں جیسی وُہ فینسٹیسائز کرتے ھیں، یعنی اقبال کو پہلی بیوی سے جسمانی جنسی تلذذ ملنے کے باوجود وہ کچھ ایسا چاھتے ھیں جو صنف مقابل کے بارے میں انکے خیالات میں موجزن ھے۔ یہاں وُہ خانگی ادب آداب کی کمی کی شکایت نہیں کرتے بلکہ اصل میں میاں بیوی کے باھمی تعلق میں جسمانی کشش اور ذھنی کم آھنگی کی شکایت کرتے ھیں۔ وہ صاف صآف کہتے ھیں وہ سرخوشی کے انسانی حق کے تحت چاھتے ھیں کہ انکی جنسی (فطری) جبلت کو ویسی تسکین ملے جیسی وہ چاھتے ھیں۔ فطرتی اعتبار سے اور سماجی پابندیوں کی وجہ سے جنسی اختلاط کی آزادی اُس وقت ھندوستان میں ایسے میسر نہ تھی کہ اقبال اُس سے متمتع ھوتے ، خاص طور پر جب وہ جرمنی میں دوران تعلیم یہ فطری آزادی دیکھ آئے تھے انہیں ھندوستان میں ایک مدقوق گھر میں اپنی بیوی سے وہ رغبت نہ تھی جو انہیں جرمنی میں بآسانی وافر میسر تھی۔۔۔ اسی لئے اقبال نے معاشرہ یا فطرت کے خلاف بغاوت کے حق کو استعمال کرنے کی دھمکی دی۔۔ وہ اپنی ذاتی ناخوشی کی وجہ سے ملک ھندوستان کو بدبخت کہنے لگے۔۔۔ یعنی جب کسی خطے میں آپ کے مطلوبہ حقوق میسر نہ ھوں تو آپ اپس خطے کو بدبخت کہنے کا حق رکھتے ھیں۔ یہ اھم نکتہ ھے کیونکہ اقبال، کہہ چکے تھے کہ سارے جہاں سے اچھا ھندوستان ھمارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ بھی کہہ چکے تھے کہ جس کھیت سے دھقاں کو میسر نہ ھو روزی اُس کھیت کے ھر خوشہِ گندم کو جلا دو۔۔۔۔۔۔ پس وہ ملک کو بدبخت کہنے پر مائل ھوگئے کیونکہ یہاں انکی ذاتی انفرادی انسانی تلذذ کی راہ بند معلوم ھوتی تھی۔۔ وہ اپنی بیوی کو چھوڑدینا چاھتے تھے لیکن انکے والد یہ نہین چاھتے تھے۔۔ جبکہ انکے دو بچے بھی تھے ۔۔۔ انہوں نے لکھا کہ اگر وہ ملک نہ چھوڑ سکے تو خود کو شراب میں اتنا غرق کر دیں گے کہ اسکا زھر ان کی جان لے لے۔۔۔ اس سے معلوم ھوتا ھے وہ کبھی شراب کثرت سے نہیں پیتے تھے کہ جسکا نقصان جگر کو ھونا شروع ھو جائے۔۔ اگر پیتے تھے تو بہت اعتدال کے ساتھ، جس میں طبی طور کوئی مضائقہ نہیں ھے۔۔ چونکہ اقبال عملی ملازمت نہیں کرتے تھے اس لئے مطالعہ اور لکھنے میں وقت صرف ھوتا ، اب اس مایوسی کی صورتِ حال میں انہین اپنا مطالعہ کا کام بھی بے معنی لگنے لگا۔۔ وہ کہتے ھیں میں ان کتابوں کو اس ملک کی روایات سمیت جلا کر راکھ کر دوں گا میرے اندر اتنی تشنگی کی آگ بھری ھوئی ھے۔۔ یاد رھے کہ یہ خظ عطیہ فیضی کے نام ھے جو جرمنی میں دوران تعلیم اقبال کے بہت قریب رھیں۔ رومانی تعلقات کے بعد وطن واپسی اور پرانے فرسودہ خاندان میں واپس آ کر رھنا اسی طرح مشکل ھوتا ھے جیسے آج بھی پاکستان سے کسی کا بیرونِ ملک رہ کر پاکستان میں واپس جا کر رھنا بہت مشکل معلوم ھوتا ھے۔۔ بالکل یہی اپ سیٹ معاملہ اقبال کو پیش آیا تھا۔ اور اس کے پیچھے عطیہ فیضی سے انکو جو جسمانی اور ذھنی امیدیں وابستہ تھیں انکو پورا کرنے کے لئے اقبال شدید ترین بیتابی کا شکار ھوگئے ۔۔۔ ایسے خطوط آج بھی عاشق کی طرف سے محبوب کو لکھے جاتے ھیں۔ میں خود ایسی کیفیات سے بار بار گزرا ھوں، بہرحال اقبال ایک انسان تھے اور ان کی ایسے ذھنی و جسمانی تلذذ کی خواھش بالکل جائز تھی’ انہی دنوں میں عطیہ فیضی کے ایک اور عاشقِ صادق شبلی نعمانی بھی عطیہ فیضی کو خط میں کہتے ھیں کہ ۔۔۔ جیسے مغلیہ شہنشاھوں کے قصیدوں میں انکو سایہ خدا کہا جاتا ھے ویسی غزلیں تو میں تمھارے لئے کہتا رھتا ھُوں ،،،تاھم۔۔۔میرے جسم کا ھر رونگٹا اور ھر موئے بدن تمھارے لئے میری طرف سے ایک شعر ھے۔۔۔۔۔ یہاں شبلی بھی شدید جنسی تشنگی سے بھرے بیٹھے ھیں۔ ۔۔۔۔ دانشور ظہور ندیم لکھتے ھیں ،، اقبال کی ازدواجی زندگی ہمیشہ ناہموار اور نا آسودہ رہی ھے ۔ ایک سے زائد شادیوں کی ایک وجہ یہ بھی تھی ۔ عطیہ فیضی نے کہیں ذکر کیا ھے کہ اقبال کی ذہنی صلاحیت اور اعتماد جو لندن کے قیام میں تھا وہ ہندوستان واپس لوٹ جانے پر ویسا نہیں رہا تھا ۔ متوسط طبقے کا کوئی شخص اگر وسیع مطالعے کی بنیاد پر اپنی فکری سطح میں کوئی غیر معمولی تبدیلی لے آئے اور اسے حسبِ منشا سماجی ماحول نہ ملے تو وہ دوبارہ قنوطیت کی طرف لوٹ جاتا ھے ۔ اقبال کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ۔ یہی وجہ ھے کہ یورپ سے واپسی کے بعد وہ ذہنی طور پر منتشر اور مایوس نظر آتے ہیں ۔ آخرکار وہ اپنی فکری سطح کو محدود کر لیتے ہیں اور پھر انہوں نے ایسے اشعار تخلیق کئے جو انکی سوچ کے تضاد کی عکاسی کرتے ہیں ۔ محدود سے محدود تر ہوتے ہوئے آخرکار وہ ایک تنگ نظر مسلمان شاعر بن کر رہ جاتے ہیں ۔” علامہ شیخ محمداقبال صاحب نے 1897 میں مرزا غلام احمد قادیانی کے ھاتھ پر برضا و رغبت خود ھی بیعت کرکے جماعت عالیہ احمدیہ مسلمہ میں شمولیت اختیار کی تھی اورپھر1935 تک احمدی رہے لیکن 1935 میں جب قائد اعظم محمد علی جناح نے گول میز کانفرنس کیلئے اپنے وفد کا سربراہ ایک دوسرے احمدی سر چوہدری محمد ظفر اللہ خان کو نامزد کیا تو اس بنا پر علامہ اقبال صاحب ناراض ہوگئے اوراپنی سیاسی وجوہات کی بنا پر جماعت سے کچھ دوری دکھائی اور کچھ مخالفانہ باتیں بھی کیں لیکن اس کے باوجود اپنے ایک بھتیجے مکرم شیخ اعجاز احمد صاحب اور ان کے بیٹے کو جماعت کی بیعت کرنے کے لئے کہا تھا اور پھر انہیں اپنے دو بچوں کا سرپرست بھی مقرر کیا تھا ۔ 1931 میں سر شیخ محمداقبال صاحب نےکشمیر کمیٹی کی صدارت کے لئے امام جماعت عالیہ احمدیہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کا نام خود پیش کیا جو کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے صاحبزادے تھے ۔ یہ تمام کاروائی آپ کتاب ‘‘ انوار بشیر ‘‘ پہلا ایڈیشن مطبوعہ 1993 از پاکستان ۔ دوسرا ایڈیشن مطبوعہ 2007 از برطانیہ ۔ تیسرا ایڈیشن مطبوعہ 2010 از جرمنی کے صفحات پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں ۔ علامہ اقبال صاحب نے اپنی تحریرات میں اپنے بھائی مکرم شیخ عطا محمد صاحب کے بارے میں بھی لکھا ہے کہ وہ احمدی تھے ۔ علامہ اقبال صاحب کے ایک بیٹے مکرم مظفر اقبال صاحب 1982 میں لندن میں فوت ہوئے ( یہ ان کی تیسری بیوی محترمہ مختار بیگم صاحبہ میں سے تھے ) جو کہ تادم حیات احمدی مسلمان رہے اور پھر یہی نہیں بلکہ خود علامہ اقبال صاحب کے والد محترم مکرم شیخ نور محمد صاحب بھی احمدی تھے ۔ یہ تمام باتیں تاریخ پاکستان کا حصہ ہیں لیکن افسوس کہ آج کا پاکستانی مورخ انہیں لکھتے ہوئے ڈرتا ہے ۔ بہرحال ” ایک روایت کے مطابق علامہ اقبال نے ….. مرزا غلام احمد قادیانی کے ھاتھ پرـ بیعت کی تھی – ” ( ” اقبال اور احمدیت ” تصنیف : بشیر احمد ڈار) 1953ء کے فسادات پنجاب کی تحقیقاتی عدالت ( منیر انکوائری رپورٹ) میں خواجہ نذیر احمد چیئرمین سول اینڈ ملٹری بورڈ آف ڈائریکٹرز نے یہ بیان ریکارڈ کروایا کہ :- ” اقبال نے 1893ء میں قادیان جا کر مولانا غلام محی الدین قصوری کے ھمراہ سلسلہ احمدیہ کے بانی مرزا غلام احمد صاحب کے ھاتھ پر بیعت کی تھی – " عدالت میں بیان دینے کے بعد جب خواجہ نذیر احمد صاحب کی بعد میں قصوری صاحب کے ساتھ ملاقات ھوئی تو انہوں نے بیعت کے سن کی تصحیح فرما دی – اور بتایا کہ علامہ اقبال نے میرے ھمراہ قادیان جا کر 1893ء میں نہیں بلکہ ــــــــــ 1897ء میں بعیت کی تھی – اس پر خواجہ نذیر احمد صاحب نے اگلے روز درخواست دیکر عدالت کے ریکارڈ میں سن کی تصحیح کرادی – ( بحوالہ: ” پاکستان ٹائمز ” لاھور 14 نومبر 1953ء) ۔ سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ آپ ادھر ادھر کے حوالہ جات تلاش کرنے کی بجائے وہ کتب پڑھیں کہ جو خود علامہ اقبال کے عزیزواقارب نے تحریر کی ہیں مثلا علامہ اقبال کے بڑے احمدی بھائی مکرم ومحترم شیخ عطا محمد صاحب کے بیٹے مکرم شیخ اعجاز احمد صاحب نے ‘‘ مظلوم اقبال ‘‘ کے نام سے ایک کتاب تحریر کی ہے ۔ یہ وہی شیخ اعجاز احمد صاحب ہیں کہ جن کو علامہ اقبال صاحب نے اپنے آخری ایام میں اپنے بچوں جناب جسٹس جاوید اقبال صاحب اور بیٹی منیرہ اقبال صاحبہ کا سرپرست مقررکیا تھا ۔ اسی طرح اس خاندان میں اور کون کون احمدی ہیں اس کا ذکر پاکستان کےجسٹس جناب جاوید اقبال صاحب نے اپنی خودنوشت حیات کتاب ‘‘ اپنا گریباں چاک ‘‘ میں کیا ہے ۔ اب لوگ خود تو کوئی تحقیق کرتے نہیں بلکہ ‘‘ اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ‘‘ کے مصداق ہمیں الزام دیتے ہیں کہ ہم لوگ کیوں حقائق سے پردہ اٹھا رہے ہیں ۔ اقبال نے جہاں انگریز شُعرا سے اکتساب کیا وھاں فارسی شعرا سے خیالات لا کر اپنی شاعری اُستوار کی۔۔۔۔ مثلا 1289 میں فوت ھونے والے مشہور شاعر فخر الدین عراقی کا شعر ھے بہ زمیں چو سجدہ کردم، ز زمیں ندا برآمد کہ مرا پلید کردی، ازیں سجدۂ ریائی (فخر الدین عراقی) کہ میں نے سجدہ کیا تو زمیں سے آواز آئی تُو نے ریاکاری سے بھر پور سجدے سے زمین کو پلید کر دیا۔۔۔۔ بالکل یہی خیال اقبال نے چُرا کر، جس کو اقبال پرست اکتساب اور نئی زبان ، مصرع مین جان ڈال دی کہہ کر ملفوف کرنے کی کوشش کرتے ھیں۔۔۔ یہ چوری ھی ھے۔۔ خیر۔۔۔اقبال نے شعر کہا۔۔ اور میں اس شعر کا کافی شائق رھا ھُوں جب تک مجھے عراقی کے اصل ماخذ کا پتہ نہین چلا تھا۔۔۔ میں جو سربسجدہ ھوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا ترا دل تو ھے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں۔۔ اقبال۔۔۔ ۔۔۔۔۔ بات یہ ھے سچ کو سچ کی طرح سے لکھیں جھوٹے مت بنیں ۔۔۔ یہ مت کہین اقبال نے دوسرے مصرعے کی تبدیلی سے شعر میں جان ڈال دی۔۔۔ فخرالدین کا شعر بے مثال ھے۔۔اور اس میں کسی خاص مذھب کی جانب اشارہ نہیں۔۔۔ اقبال کا نماز کا لفظ اور صنم کا لفظ ۔۔اسلامی مقامی خیال تک محدود ھے۔۔۔ اس لئے کم درجے کا ھے جبکہ فخر عراقی کا شعر بڑا اور خاکسساری سے پُر ھے۔۔ اور اصلی سچے خیال کا عکاس معلوم ھوتا ھے۔۔ اقبال مغربی ادبیات سے پورے طورپر آگاہ تھے۔ انھوں نے ’’بانگِ درا‘‘ میں درجن بھر امریکی اور برطانوی شعرا:جیسے لانگ فیلو، ایمرسن، ولیم کوپر، ٹینی سن، براؤننگ، سیموئیل راجرز اور دوسروں کی نظموں سے اخذ و ترجمہ کیا ہے۔ ورڈز ورتھ کا انھوں نے گہری نظر سے مطالعہ کیا تھا اور ۱۹۱۰ء میں اپنی انگریزی بیاض میں لکھا تھا کہ ورڈز ورتھ نے انھیں الحاد سے بچایا۔ اسی طرح ملٹن کا بھی ذوق و شوق سے مطالعہ کیا۔ اپنے ایک مکتوب محررہ مارچ ۱۹۱۱ء میں یہ بات درج کی کہ ’’ملٹن کی تقلید میں کچھ لکھنے کا ارادہ مدت سے ہے اور اب وہ وقت قریب معلوم ہوتا ہے کیوں کہ ان دنوں وقت کا کوئی لحظہ خالی نہیں جاتا جس میں اس کی فکر نہ ہو۔‘‘ شیکسپیئر کو انھوں نے منظوم خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ گوئٹے سے بھی اقبال کا گہرا تعلق ہے۔ کیا مغربی ادبیات کے اس حصے سے آگاہی یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ اقبال پر مغربی جدیدیت کے اثرات تھے؟ جواب ھاں اور ناں دونوں میں ہوگا۔ ۔ دراصل اقبال نے مغربی ادبیات سے اخذ و استفادے کا عمل اپنے ابتدائی دور میں شروع کیا اور ۱۹۱۰ء تک ان کا شعری مائنڈ سیٹ متشکل ہو چکا تھا۔ اپنے ابتدائی دور میں اقبال کا مغربی ادبیات سے تعلق تقلیدی ہے، انھوں نے کئی مغربی نظموں کو پورے کا پورا اور کہیں مغربی نظموں کے کچھ مصرعوں کو ترجمہ کیا ہے۔ جیسے’’کوپر‘‘ کے اس مصرعے: And, while the wings of fancy still are free کو نظم ’’مرزا غالب‘‘ کا یہ مصرع بنا دیا ہے : ہے پرِ مرغِ تخیّل کی رسائی تا کجا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اقبال نے مشرقی ادبیات کی روایت کو کھو جا ہی نہیں تھا اسے مرتّب بھی کیا اسکا بھر پور فائدہ اُٹھایا۔ مغرب کے ساتھ ساتھ مشرق کی شاعری کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بنایا۔۔۔۔۔۔۔۔ اقبال نے فارسی، عربی، اُردو، سنسکرت، ادبیات کو ایک روایت ٹھہرایا اور اسے اپنی شاعری کی روحِ رواں بنایا۔ ان کے یہاں فارسی شعرا ملّا عرشی، ابو طالب کلیم، فیضی، صائب، مرزا بیدل، عرفی، خاقانی، انوری، سنائی، حافظ، سعدی ، فخر الدین اور سب سے بڑھ کر فکر رومی کے اثرا ت بالواسطہ اور بطور تضمین ملتے ہیں۔ عربی ادبیات سے انھوں نے ہر چند کسی مخصوص شاعر کے اثرات نہیں لیے مگر عربی شعریات کے اصول سادہ بیانی اور صحرائیت پسندی ضرور قبول کیے۔ مولانا غلام رسول مہر نے جب طلوعِ اسلام پر تنقید کی تو اقبال نے جواب دیا کہ ’’میں عربی شاعری کی روش پر بالکل صاف صاف اور سیدھی سیدھی باتیں کہہ رہا ہوں۔‘‘ اردو ادب کے طالب علموں کو معلوم ہونا چاہیے کہ علامہ اقبال کی کئی شہرہ آفاق نظمیں بھی غیر ملکی ادب سے اخذ شدہ ہیں۔ ان میں \’ماں کا خواب\’، \’بچے کی دعا\’، \’ایک مکڑی اور مکھی\’، \’ایک گائے اور بکری\’، \’ایک پہاڑ اور گلہری\’ (ماخوذ ازایمرسن) \’ہم دردی(ماخوذ ازولیم کوپر)، \’آفتاب\’ (ترجمہ، گایتری) \’پیامِ صبح\’ (ماخوذ از لانگ فیلو)،\’عشق اور موت\’ (ماخوذ ازٹینی سن)ِ، \’رُخصت اے بزمِ جہاں\’ (ماخوذازایمرسن) وغیرہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اقبال کو دھریت سے کسی المشہور بہ الہامی کتاب۔۔قرآن وغیرہ نے نہین بچایا۔۔۔۔۔بلکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک انگریز شاعر نے بچایا۔۔۔۔ مخزن کے پہلے شمارہ ﴿اپریل ۱۹۰۱ء ﴾ میں اقبال کی نظم "کوہستان ہمالہ” کے عنوان سے شائع ہوئی جس پر اڈیٹر کی طرف سے یہ نوٹ ہے۔ شیخ محمد اقبال صاحب ایم اے قائم مقام پروفیسر گورنمنٹ کالج لاہور جو علوم مشرقی اور مغربی دونوں میں صاحب کمال ہیں، انگریزی خیالات کو شاعری کا لباس پہنا کر ملک الشعراانگلستان ورڈسورتھ کے رنگ میں ہمالہ کو یوں خطاب کرتے ہیں۔ اپنی ابتدائی شاعری میں اقبال نے مغربی شاعروں سے بھر پور استفادہ کیا۔ اس کے متعلق لکھتے ہیں۔ "میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے ہیگل، گوئٹے، غالب، بیدل، اور ورڈ سورتھ سے بہت استفادہ کیا ہے۔ ہیگل اور گوئٹے نے اشیاء کی باطنی حقیقت تک پہنچنے میں میری رہنمائی کی۔ غالب اور بیدل نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ مغربی شاعری کے اقدار کو سمولینے کے باوجود اپنے جذبہ اور اظہار میں مشرقیت کی روح کو کیسے زندہ رکھوں اور ورڈسورتھ نے طالب علمی کے زمانے میں مجھے دہریت سے بچالیا” اقبال پر تعمیری تنقید و گفتگو کی اصل وجہ کیا ھے؟ جواب: چونکہ پاکستان کی گزشتہ حکومتوں نے اقبال سے منسوب شاعری اور فکرو فلسفہ کو عوام کے درسی نصاب میں زبردستی شامل کر رکھا ھے،اور ایک مخصوص زاوئیے سے اقبال سے ایک خاص شدت پسندانہ مذھبی سوچ منسوب کی ھوئی ھے، جس کے انکاری خود اقبال کے قابل بیٹے جسٹس جاوید اقبال بھی ھیں، اور بے شمار مشاھیر و علماِ تاریخ نے اقبال کی شاعری اور علم و فکر کا جائزہ مختلف نتیجے پر منطبق کیا ھے تو اس لئے یہ ضروری ھے کہ اقبال سے منسوب گمراہ کُن ، اور حکومتی پراپیگنڈے کی بجائے ثبوت اور دلیل کے ساتھ اصل اقبال کو اسکی شاعری ، فکر اور فلسفے میں پیش کیا جائے۔۔ تاریخ کا پہلا حوالہ علی عباس جلالپوری جیسے عالم کا ھے جسنے اقبال کی فکر اور فلسفے کو ایک متکلم کی سوچ قرار دیا، یاد رھے متکلم ایسا سوچنے والا ھوتا ھے جو اپنے ایمان و عقیدے کی حقانیت کو اولیت دے کر سائینسی اور زمانی مشاھدوں کی تشریح اپنے اُن عقائد کے ذریعے پیش کرتا ھے جن پر اسکا ایمان ھوتا ھے۔ جہاں کہیں ایمان سے باھر کوئی مشاھدہ یا جلوہ ھو تو اُس کے بارے میں خلفشار کا شکار ھو جاتا ھے۔ اقبال کے ذھنی و فکری خلفشار کے مختلف ثبوت اور نمونہ جات، میں اپنے مختصر مضامین میں بیان کرتا رھتا ھُوں، ایسا کرنے کا مقصد ھرگز اقبال کی شخصیت، خاندان سے کوئی دشمنی نہیں بلکہ اقبال کی فکری و شاعرانہ اصلیت کا درست جائزہ سامنے لانے کی کوشش ھے، بعض نابکار میرے ایسے استنباط و دلائل کے جواب میں ذاتی رکیک حملے کرتے ھیں، کچھ کہتے ھیں، اقبال کے پیچھے کیوں پڑ گئے؟ اقبال نے تمھارا کیا بگاڑا ھے؟ کچھ کہتے ھیں تم اقبال جیسا ایک شعر کہہ کر دکھاو تو مانیں ! ایسی لایعنی باتیں اور مبازرت بھرے کلمے خود ظاھر کرتے ھیں کہ اس معاشرے کو اقبال کی اصل فکری روش سے متعارف کروانا اور بھی ضروری ھو گیا ھے کیونکہ یہ وُہ پود ھے جو مسلسل جھوٹے رُوپ کے درشن کر کے اقبال کو ناحق ایک مذھبی بزرگ قرار دینے کی کوشش کر رھی ھے اور اسکی وجہ اسکی وہ درسی معلومات ھیں جو اقبالیات کے شعبے نے خاص حکومتی شہہ پر جھوٹے طور پر اقبال سے منسوب کی ھیں۔ بعض نام نہاد پروفیسران تو ایسے آپے سے باھر ھوئے کہ اقبال کے معزز بیٹے جاوید اقبال کے ساتھ گفتگو کے دوران انکو جھٹلانے کی کوشش کرتے رھے۔ جبکہ جسٹس جاوید اقبال انتہائی لبرل سوچ کے دانشور تھے۔ انکے بقول پاکستان، ھندووں نے بنایا ھے۔ اقبال نے کبھی پاکستان بطور ایک الگ آزاد ملک کے کوئی تصور نہیں دیا تھا، افسوسناک بات یہ ھےکہ پاکستان کے ٹی وی ریڈیو اخبارات دن رات اقبال کو مفکرِ پاکستان کہتے ھیں اس طرح ایک چالیس پچاس سال کی عمر تک کی نسل کو گمراہ کر دیا گیا ھے۔ جیسے پاکستان کے عام لوگ یہ سمجھتے ھیں کہ بھارت نے پاکستان پر پہلے حملہ کیا تھا یا پاکستان نے کوئی جنگ جیتی ھے، یہ تمام باتیں سچائی کے خلاف ھیں۔ دنیا کے اھلِ علم جانتے ھیں کہ پاکستان نے خود ھندوستان پر حملہ کیا تھا۔اور شکست کھائی۔ لیکن سچ بتانے والے کو پاکستان کا غدار کہہ کر شور و غوغا کیا جاتا ھے۔۔ اقبال پر اس لئے بھی سچی تعمیری تنقید لازم ھے کہ اقبال کو ایک بزرگ و مصلح کے طور پر پیش کیا جاتا ھے پس اس حوالے سے کوئی بھی جھوٹ اُن سے منسوب کر دینے سے سننے والا اقبال کے نام سے گمراہ ھوتا ھے۔ مثلآً اقبال سے منسوب ھے کہ ایک قاتل علم دین کے ناجائز عمل کو اقبال نے خوب اچھا کہا اور کہا کہ ترکھاناں دا مُنڈا بازی لَے گیا۔۔اسیں ویکھدے رہ گئے۔۔۔ یعنی یہ بات کہنے والے یہ کہنا چاھتے ھیں کہ توھین رسول کرنے والے کو قتل کرنا اقبال کے نزدیک بہت احسن اقدام تھا۔ لیکن اصل اقبال ایسے قتال پر اسطرح اُکسانے والا معلوم نہیں ھوتا۔ اس مثال سے یہ بات واضح ھوتی ھے کہ ایسے بیانات و فکر و تشریح سے اقبال کو ایک شدت پسند، قاتل ذھن، ٹھیٹھ مسلمان ، موقع پرست انسان کے طور پر پیش کیا جاتا ھے جو ایک غلط بات ھے۔ میری تحقیق و تبصرہ، اقبال بطورِ انسان، بطورِ شاعر، بطورِ مفکر، بطورِ فلسفی یا متکلم ، بطورِ باپ، بطورِ شوھر، بطورِ نثر نگار ، ، اقبال کیسے تھے پر مشتمل ھے۔ مجھے اقبال سے پرخاش نہیں بلکہ اقبال سے منسوب پاکستان حکومتوں اور جعلی یک نظر مقالوں سے پرخاش ھے۔ اور میں ایسے تمام مقالے رد کرتا ھُوں جو اقبال کو ایک آفاقی فلسفی کے طور پر پیش کرتے ھیں۔ اور جو دوسرے مغربی و مشرقی مشاھیر و شُعرا کے کلام پر مبنی اقبال کے کلام کو اقبال کا ھی کلام کہہ کر پیش کرتے ھیں۔ یعنی جیسے مغربی شُعرا کی شاعری کے تراجم والی اقبال کی شاعری، یا مقامی شعرا خوش خان خٹک، رومی، حافظ، اور ھندی شُعرا سے اکتساب و ترجمہ۔ یہ سب باتیں خالص ادبی لوازمات ھیں۔ لیکن میں کسی طرح بھی اس بات پر راضی نہیں ھو سکتا اور نہ آپ کو ھونا چاھئیے کہ جو شاعری مغربی و مشرقی شُعرا سے اکتساب ھے یا ترجمہ ھے یا ماخوذ ھے اُسے خالصتاً اقبال کی اپنی شاعری کا درجہ دے کر مضامین میں انکے حوالے استعمال کئے جاویں۔ میں سمجھاتا ھوں، کہ جب کسی تقریر میں اقبال پر بات کرتے ھوئے اقبال کی اعلی سوچ کی تعریف کرتے ھوئے حوالہ دیا جائے کہ اقبال کہتے ھیں کہ محبت مجھے اُن جوانوں سے ھے ستاروں پہ جو ڈالتے ھین کمند تو ۔۔ قارئینِ کرام !!! ساری تقریر ھی جھوٹ پر مبنی ھے، یہ اقبال کے الفاظ نہیں ھیں ۔۔یہ خالصتاً پشتو کے شاعر خوشحال خان خٹک کا کلام ھے جس کا ھو بہو ترجمہ اقبال نے کیا ھے۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ھے کہ آئیں بائیں شائیں کر کے آپ کہہ دیں کہ تو کیا ھوا ،،دوسرے شعرا بھی اور زبانوں کے شعرا کی شاعری کا ترجمہ کرتے رھے ھیں۔۔لیکن جناب،،دوسرے ایسے شعرا پر مضامین و تقاریر کرتے ھوئے انکے تراجم کو ان کی اپنی تخلیق نہیں قرار دیا جاتا۔۔۔ ایک بار تو حد ھی ھو گئی۔ لاھور میں اقبال ڈے پر، کچھ انگریز مدعو تھے۔۔ کسی بُدھو نے جسے معلوم نہ تھا کہ بچے کی دُعا اقبال کی نظم ، اصل میں انہیں برٹش انگریزوں کی مشہور شاعرہ میٹلڈا ایڈورڈ کی حمد کا ترجمہ ھے۔ اس نظم کو اقبال کی اعلی تخلیقِ ذاتی کہہ کر پیش کیا۔ یہ اس لئے ھوا ھے کہ درسی کتاب میں واضح طور کبھی بھی یہ نہیں لکھا گیا کہ یہ نظم کس شاعرہ کی ھے اور نہ کبھی اُس شاعرہ کی تعریف کی گئی ھے۔ جو ادبی ھی نہیں اخلاقی بددیانتی ھے۔!۔ اس حوالے سے بہت سی باتیں میں شامل کرتا رھوں گا کتاب کا انتظار کیجئے۔ اور آئیندہ مجھ سے مت پوچھئیے کہ میں اقبال کے پیچھے کیوں پڑا ھُوں؟ اقبال نے قدیانیت چھوڑ دی اس لئے اُس کے دشمن ھو گئے ھو؟ یا اقبال جیسا ایک شعر تو کہہ کر دکھاو۔۔۔ اور یا کہ تم آسمان پر تھوک رھے ھو۔۔۔ ایسی لایعنی باتیں، کم پڑھے لکھے معاشروں میں ھی کی جاسکتی ھیں، میری مکمل وضاحت کے بعد بھی آپ کو میری اقبال پر گفتگو پر اعتراض ھے تو مجھے بلاک کر کے آپ تشریف لیجائیں۔۔لیکن مجھے اشتعال مت دلائیں یہ آپ کے لئے بھی بہتر ھوگا اور باقی قارئین کے لئے بھی اقبال کی شکوہ جواب شکوہ کا بنیادی تصور ملٹن کی مشہور زمانہ پیراڈائز لاسٹ اور پیراڈائز ری گین سے لیا گیا ہے ۔ اگر آپ اقبال کی شاعری پڑھ کر ملٹن کی شاعری کا پڑھیں تو آپ بلاجھجک یہ بتا سکتے ہیں کہ اقبال کی شاعری کے بنیادی خیال کہاں سے ماخوذ ہیں۔ اس لئے ہمارے محب وطن پاکستانی بڑئے فخر سے یہ کہتے ہیں کہ ملٹن مغرب کا اقبال ہے جبکہ ملٹن کا ظہور اس دنیا میں اقبال سے پہلے ہوئے لہذا یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ اقبال مشرق کا جان ملٹن ہے ۔ اسی لئے اقبال کے بارے مضامین میں کہا جاتا ھےکہ کسے خبر تھی ۹ نومبر 1877 کو ہندوستان کی سرزمین سیالکوٹ میں پیدا ہونے والا بچہ اسی زمین کو ٹکڑوں میں بانٹ کر انسان کو انسان کا دشمن بنانے کا تصور دے کر مصور پاکستان بننے کے ساتھ ساتھ فوجیوں کے پیٹ کو عوامی پیسوں سے عمر بھر بھرنے کا مکمّل انتظام بھی کرتا جائے گا ۔ کون جانتا تھا کے یہ کرامتی بچہ اپنی کرامتوں سے ہزاروں سالوں سے ایک ساتھ رہنے والے انسانوں کے درمیان مذہب اور قومی تفرقات ڈال کر نفرت کا ایسا بیج بو دے گا کے کچھ سال بعد یہی لوگ ایک دوسرے کی گردنیں اتارنے کو کار ثواب سمجھنے لگیں گے ۔ کسے خبر تھی مشرق مغرب شمال جنوب جیسی اصطلاحات کے معنی سے نابلد قوم اس شاعر کو شاعرِ مشرق کا خطاب دے کر خود اپنے ساتھ سے مشرقی پاکستان کو ہرنیا سمجھ کے پاکستان سے جدا کردے گی ۔ کسے علم تھا برطانوی ناؤل نگار کے A journey to india کے دو ادوار کے تجزیے کو کاپی پیسٹ کر کرکے کئ سال بعد خطبہ آلہ باد میں اس طرح سے توڑ مڑور کے پیش کرے گا کے اسکا معنی الٹا کرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے مسلمانوں کو بغاوت پر قائل کرلے گا ۔ کسے خبر تھی کے انسانیت سوچ سوز سے بننی والی ریاست کی اعلٰی ظرف قوم , دو قومی نظریے کو پاکستان بننے کے بعد خلیجِ بنگال میں بنگال کے وجود کے ساتھ ہی غرق کر کے پلٹن گراؤنڈ میں اپنی ہار کو تسلیم کرکے انڈین فوجیوں کے سامنے سلنڈر بھی کرچکی ہوگی جس کی ساری دکھ بھری داستان ہمہ یاراں دوزخ میں صدیق سالک لکھ کر ہر سال ماتمِ صغریٰ کا سامان کر جائے گا ۔ کون جانتا تھا کے علامہ اقبال کا یہ خطبہ کئ دہائیاں چلنے والی کشمیر بھارت اور پاک بھارت جنگ کے کالے بادلوں کی صورت کروڑوں لوگوں کے سروں پر موت بن کے منڈلاتے رہیں گے ۔ کون جانتا تھا جرمن فلاسفر نطشے کے فلسفے کو مولانا رومی کے فلسفے کے اندر ڈال کر ملک شیک کی صورت میں فلسفہ خودی دینا والا شخص بیک انگریزوں اور مسلمانوں کا قصیدہ گو اور خوشامدی ہوگا ۔ کسے خبر تھی ملکہ وکٹوریہ کی وفات پر سب سے زیادہ دکھ اقبال کو ہوگا اور وہ اسکی یاد میں ایک ایسا مرثیہ لکھے گا جس میں حمد کے اوصاف نظر آئیں گے کون جانتا تھا کے ایک طرف اسلامی حکومت کا دعوے دار ملکہ وکٹوریہ کی وفات کو ہندوستان سے خدا کا سایہ اٹھ جانے کو مترادف قرار دے کر داد بھی سمیٹے گا ۔ مرثیے کے کچھ اشعار ملاحظہ ہوں۔ آئی ادھر نشاط ادھر غم بھی آگیا کل عید تھی تو آج محرم بھی آگیا صورت وہی ہے نام میں رکھا ہوا ہے کیا دیتے ہیں نام ماہِ محرم کا ہم تجھے کہتے ہیں آج عید ہوئی ہے ہوا کرے اس عید سے تو موت ہی آئے خدا کرے توجس کی تخت گاہ تھی اے تخت گاہ دل رخصت ہوئی جہاں سے وہ تاجدارآج اے ہندتیرے سرسے اُٹھا سایہ خدا اک غمگسارتیرے مکینوں کی تھی گئی ہلتا تھا جس سے عرش یہ رونا اسی کا ہے زینت تھی جس سے تجھ کو جنازہ اسی کا ہے (باقیات اقبال صفحہ 92-74 طبع دوم ( یہ مرثیہ مطبع خادم التعلیم میں چھپ کر شائع کیا گیا تھا۔ ) ) اس میں ملکہ وکٹوریہ یعنی تاجِ برطانیہ کی ملکہ کی وفات پر اقبال فرمارہے ہیں کے تیرے مرنے سے اللہ کا سایہ ہندوستان سے اٹھ گیا ہے اب اس گستاخ پر آپ اقبال کو اقبال رحمتہ اللہ علیہ لکھا جائے یا اسکا شمار عبداللہ ابی بن ابن سرح کی طرح مرتدین کی فہرست میں ڈال کر بعد میں نکال لیا جائے اسکا بوجھ میں سر سے اتر کر قارئین و فتاوٰی گر ایجنسیوں کے ناتواں کندھوں پر آپڑتا ہے۔ اقبال کی کند ذہنی : جہاں اقبال نے اپنی ساری زندگی مطالعہ میں گزارنے کے باوجود بھی ضائع ہی کی وہیں اقبال کی شاعری یوں تو عام فہم لوگوں کے سر کے اوپر سے گزرجاتی ہے جبکہ جو لوگ اقبال کو سمجھتے ہیں انکے اندر سے ۔ آپ نے دنیا میں آج تک کوئی ایسا فلاسفر نہیں دیکھا ہوگا جو عقل کی اہمیت کو جھٹلا کے انسانوں کو دوبارہ Apes سے پیچھے والی پرجاتیوں پر منتقل کرنا چاہتا ہو۔ خیر اگر آپکا واسطہ ایسے عالم فاضل سے نہیں پڑا تو پیشِ خدمت ہے جناب حضرت مولانا سر شیخ پیر علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ آئیں انکے چند اشعار سے انکی کند ذہنی پر سند حاصل کرتے ہیں ۔ بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق عقل ہے محوِ تماشا لب بام ابھی عشق فرمودہ اے قاصد سے سبک گام عمل عقل سمجھی ہی نہیں معنی پیغام ابھی ان اشعار میں ایک تاریخی واقعے کا ذکر ہے جس میں حضرت ابراہیمؑ آتشِ نمرود میں کود گئے اور آگ میں حرارت کی صفت ختم ہوگئ اس طرح اللہ نے اپنے پیغمبر کو اس امتحان میں کامیاب کیا۔ اول تو کیا عام انسانوں کا تقابلی جائزہ پیغمبروں کی کرامات سے کرنا کوئی عقلی چیز ہے ؟ دوسرا یہ چیز قابلِ غور ہے اقبال کے نزدیک عقل کس کو کہتے ہیں چونکہ پیغمبر کو اگر اپنی حقانیت کو ثابت کرنے کیلئے کسی آگ میں کودنا پڑے تو کیا یہ فیصلہ حضرت ابراہیم کی عقل نے نہیں کیا تھا ؟ یعنی حضرت ابراہیمؑ ذہنی طور پر کیا اس آتش میں کودنے کو تیار نہیں تھے ؟ اقبال ایک اور جگہ فرماتے ہیں من بندہءِ آزادم عشق است امامِ من عشق است امامِ من عقل است غلام من اس شعر میں موصوف عقل کو من کا غلام قرار دیتے ہیں ۔ اقبال کی کم علمی کا اندازہ ادھر سے ہوجاتا ہے کے اقبال من کو عقل سے جدا جدا وجود تصور کرتے ہیں ۔ پہلے اس سے کے اقبال کے شعر کا پوسٹ مارٹم کیا جائے آئیے عقل و ذہن کی اس بحث پر نظر ڈال لی جائے ۔ انسان کے اندر شعور کا وجود یعنی سوچنے سمجھنے جیسی صفات پر تو سب کا اتفاق ہے ۔ جبکہ ایک گروہ اس شعور کو ذہن کو عقل کی پیداوار نہیں کہتا ہے بلکہ اس کو ایک الگ وجود کے طور پر جانتا ہے ۔ لیکن جدید سائنس کی روشنی میں دیکھا جائے تو شعور عقل سے ماخوذ ہے یعنی مخصوص انداز میں جب نیوٹران فائر ہوتے ہیں تو شعور کو وجود ملتا ہے ۔ اسکا سادہ سا مطلب یہ ہے کے من کا وجود بھی دماغ کے تابع ہے ۔ اور جس من کی بات اقبال کرتے ہیں اگر اسکی شرح ضمیر اور سپر ایگو کے لحاظ سے کی جائے تو تب بھی سپر ایگو من کا جز ہے جبکہ من عقل سے ماخوذ ھے اس لیے ان دونوں میں تفاوت کرنا کم علمی کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اور اگر اقبال عقل کو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو کہتے ہیں جیسا کے ہماری قوم اور اقبال کے قارئین سمجھتے ہیں تو اس مادی دنیا میں اگر نظر دوڑائی جائے تو اس جدید دنیا میں سب کچھ عقل کی بدولت ھے۔ آج سے کئ دہائیاں پہلے دماغی بیماریوں کو سایہ اور جنات سے تعبیر کیا جاتا تھا اور عضویاتی عارضوں سے ہزاروں لوگ مرتے تو دنیا اس کو روح اسکو روح کی پرواز قرار دے کر راہِ فرار لیتی آج میڈیکل سائنس نے عضویاتی عارضوں کا پتا لگا کر اسکا کامیاب علاج بھی کیا یہی وجہ ہے کے لوگ آج بیماری کی صورت میں ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں ۔ اقبال کا تصورِ خدا : یوں تو اقبال خود کو مسلمانوں کا رہنما جانتے تھے لیکن انکی قلمی اور شعری حرکتوں سے یہ دنیا کے اول مرتدین اور ملحدین میں آتے ہیں ۔ جس نے سلمان رشدی سمیت پنڈت چمپوتی کا ریکارڈ آج سے تقریباً سو سال پہلے ہی توڑ چکے تھے ۔ اقبال کا شکوہ جتنا مشہور ہے اس سے کئ گنا زیادہ بدنامِ زمانہ ہے جس میں موصوف نے ایسی گستاخیاں کیں ہے کے اس پاداش میں جناب جیل کی مقدس ہوا بھی کھا آئے لیکن باز پھر نہ آئے عدالتوں میں اقبال کے خلاف تقریباً سو کے قریب کیسز تھے جس میں قتل سے لیکر گستاخی جیسے شامل ہیں ۔ خیر ہم اقبال کے تصورِ خدا پر نظر دوڑاتے ھیں اقبال کی نظم شکوے سے ایک بند ملاحظہ ہو بت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئے , ہے خوشی ان کو کعبے کے نگہبان گئے منزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئے , اپنی بغلوں میں دبائے ہوۓ قرآن گئے خندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیں اپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیں تو جناب اقبال اللہ تعالیٰ کو کہہ رہے ہیں کے تجھے اپنی توحید کا پاس خود بھی ہے کے نہیں ؟ جبکہ سب مسلمانوں کا عقیدہ ہے خدا جو کرتا ہے وہ صحیح اور ٹھیک ہوتا ہے وہی قادرِ مطلق ہے وہ جو چاہے کرے ۔ خیر ہم اگلے شعر کی طرف چلتے ہیں ۔ یہ شعر اقبال کی کتاب بال جبریل کی ایک غزل سے ہے شعر کچھ یوں ہے فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا یا اپنا گریباں چاک یا دامن یزداں چاک قارئین کو اتنا بتانا ہی کافی ہے کے یزداں سے مراد خدا ھے۔ یعنی اقبال کہنا چاہ رہے ہیں میرے اندر کا شکوہ اور جنون اس قدر ھے کے محشر کے دن یا میں اپنا گریبان پھاڑ لوں گا یا خدا کا گریبان نعوذباللہ ۔ خیر قومی شاعر جو ہوا ایسی حرکتیں تو کرے گا ہی۔ بال جبرائیل کی دوسری غزل میں اقبال فرماتے ہیں ۔ اسے صبحِ ازل انکار کی جرأت ہوئی کیونکر مجھے معلوم کیا وہ راز داں تیرا ہے یا میرا اس شعر میں اقبال قران مجید میں بیان کردہ ایک واقعے پر سوال اٹھاتے ہیں اور اس واقعے کی حقانیت کو شکوک و شبہات کی نذر کرتے ہیں آئیے پہلے اس واقعے کے متعلق جانتے ہیں وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۤٮِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِيْسَ ۗ اَبٰى وَاسْتَكْبَرَ ۖ وَكَانَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدمؑ کے آگے جھک جاؤ، تو سب جھک گئے، مگر ابلیس نے انکار کیا وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑ گیا اور نافرمانوں میں شامل ہو گیا صبحِ ازل سے مراد وہ وقت ہے جب اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا کے آدم کو سجدہ کرو تو سوائے ابلیس کے سب نے سجدہ کیا ۔۔ اقبال مسلمانوں کے اس عقیدے پر فلسفیانہ بحث کرتے ہیں کے اگر عزازئیل یعنی ابلیس میں انکار کی جرأت آئی تو اس جرأت کو پیدا کرنا اور اس وقت فعال کرنے کا ذمہ کس کا ھے ؟ یعنی اگر ابلیس نے سجدہ نہیں کیا تو اسکا ذمہ دار بھی خدا ہے یہ بات اگرچہ بحث کے دائرے میں آتی ھے لیکن بطورِ مسلمان ہم اس عقیدے پر سوال اور شک نہیں کرسکتے۔ یہاں اقبال قرآنی آیت سے ثابت شدہ واقعے کو شکوک و شبہات میں ڈال کر مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے تھے ۔ بال جبریل کی مشہورِ زمانہ نظم , اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو کے چھٹے شعر میں مولانا اقبالؒ فرماتے ہیں حق را بسجودے , صنماں را بطوافے بہتر ہے , چراغِ دیر و حرم بجھا دو نہیں سمجھ سکے ارے سمجھے ہوتے تو اقبال کو قؤم شاعر کی بجائے قومی غدار کہتے ۔ خیر میں سمجھاتا ہوں ۔شاعر کہنا چاہ رہے ہیں خدا کو سجدے یعنی حرم کی طرف سرجھکانا اور بتوں کو پوجنا دونوں ایک ہی طرح کے کام ہیں بہتر ہے یہ دونوں کام بند کردیے جائیں ۔ واہ بھائی واہ چھا گئے ہو ۔۔۔۔!!! بہترین ۔۔۔!!! بہت اعلیٰ یہی تم نے آسان الفاظ میں لکھا ہوتا تو لوگ تمہاری زبان ضرور بند کردیتے۔ جدید تعلیم سے عداوت : علامہ اقبال نے جدید علم سے دشمنی کی وہ بنیاد رکھی کے آج بھی کند ذہن لوگ اس کام کو گناہ اور اہلِ علم لوگوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں ۔ اگر غور کیا جائے تو علامہ اقبال ایک کنفیوزڈ پرسنلٹی ہے جو کبھی افغانستان سے آئی سستی چرس پی کر سطحی شاعری کرنے لگ جاتے تھے تو کبھی اسی حصولِ علم کو غلط قرار دینے لگ جاتے تھے لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی ڈھونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ روش مغربی ہے مد نظر وضع مشرق کو جانتے ہیں گناہ یہ ڈراما دکھائے گا کیا سین پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ اچھا جی اب انگریزی پڑھنا بھی ٹھیک نہیں ہے تو آپ جو برطانیہ میں وکالت کیلئے گئے تو وہ قانون کی کتابیں شیخ نور محمد نے اردو میں ترجمہ کیں تھیں ؟ ۔ ڈاکٹر صابر کلورُوی لکھتے ہیں کہ احباب کی فرمائش بھی اقبال کو بعض اوقات شعر گوئی پر مجبور کردیتی تھی ”جیسے ملکہ وکٹوریہ کی وفات پر ایک دوست کی فرمائش پر نظم لکھی، اور گورنر پنجاب مائیکل اڈوائر کی فرمائش پر بھی“ پنجاب کا خواب ”کے عنوان سے ایک نظم لکھی“ مگر انہیں کسی مجموعہ کلام میں شامل نہیں کیا اور اس جیسی کچھ نظمیں اور اشعار وہ تھے جو علامہ اقبال نے کسی خاص موضوع و شخصیت پر لکھے ضرور مگر معاملے کی حقیقت پتہ لگنے اور دوستوں کے مشوررے پر اپنی زندگی میں ہی ترک کردیے۔ ڈاکٹر محمد اقبال کی پہلی تصنیف اسرار خودی 1916 میں شائع ہوئی تھی۔ اس میں صوفیاء کرام اور حافظ شیرازی پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ صوفیا کرام پر جو تنقید کی گئی تھی اس کا جواب خواجہ حسن نظامی نے اپنے رسالہ ”ماہنامہ نظام الشیخ“ میں صراحت کے ساتھ دیا۔ جس کا جواب علامہ اقبال نے ”اخبار وکیل امرتسر“ میں دیا۔ اس طرح خواجہ حسن نظامی اور علامہ اقبال میں جواب در جواب کا سلسلہ ایک عرصہ تک چلتا رہا۔ جبکہ حافظ شیرازی پر جو تنقید کی گئی تھی اس پر علامہ اقبال کو ہند اور بیرون ہند سے سینکڑوں خطوط مصول ہوئے۔ کیونکہ اسرار خودی میں اقبال نے ایک دو نہیں بلکہ پینتیس عدد اشعار میں حافظ شیرازی پر سخت طنز اور تنقید کی تھی جنہیں بعد میں دوست احباب کے مشورے پر ترک کردیا۔ اس کے چند اشعار یہ ہیں ہوشیار از حافظ صہبا گسار جامش از زہر اجل سرمایہ دار رہن ساقی خرقہ پرہیزاو مے علاجِ ہولِ رسرا خیزاو محفل او در خورِ ابرار نیست ساغرِ او قابل احرارِ نیست بے نیاز از محفل حافظ گزر الحذر از گو سفنداں الحذر اسی طرح تین فروری 1938 کو مسلم اخبارات (زمیندار، احسان اور انقلاب) نے علامہ اقبال کے مولانا سید حسین احمد مدنی کے خلاف یہ اشعار شائع کیے عجم ہنوز نداند رموز دیں ورنہ ز دیوبند حُسین احمد! ایں چہ بوالعجبی است سرود بر سرِ ممبر کہ مِلّت از وطن است چہ بے خبر ز مقامِ محمدِؐ عربی است بہ مصطفیٰؐ بہ رساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست اگر بہ او نہ رسیدی، تمام بولہبی است ان اشعار میں آزادی برصغیر کے عظیم راہمناء پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ اس کا جواب جناب احمد سہیل نے سید حسین احمد مدنی کے حق میں طویل فارسی نظم لکھ کر دیا اور اس سے اسلامیان ہند میں نہ صرف قلمی بحث چھڑ گئی بلکہ بات تکرار تک بھی آن پہنچی اور مسلمان دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایسے موقع پر مولانا عبدالرشید نسیم (علامہ طالوت) آگے بڑھے اور علامہ اقبال اور سید حسین احمد مدنی سے طویل خط و کتابت کے بعد ان کی غلط فہمیاں دور کیں۔ علامہ اقبال نے اختلافات و غلط فہمیاں دور ہونے کے بعد اپنا تردیدی بیان شائع کیا جو ”روزنامہ احسان“ میں 28 مارچ 1938 کو شائع ہوا۔ مگر بدقسمتی سے ارمغان حجاز علامہ اقبال کی وفات کے بعد شائع ہوئی جس میں اس کلام کو باقی رکھا گیا اور اب تک یہ کلام کتاب میں موجود ہے اور وجہ اختلاف بنتا ہے ایسے ہی کچھ طنزیہ اشعار علامہ اقبال نے محمد علی جناح صاحب کے بارے میں بھی کہے تھے اور یہ اس زمانے کی بات ہے جب جناح صاحب ”قائد اعظم“ کے رتبے پر فائز نہیں ہوئے تھے۔ ۔ پھر اقبال جیسی شخصیت نے اگر کسی زمانے میں جناح صاحب جیسے قائد کے بارے میں کچھ لکھا تو یہ دو قد آور شخصیات کا نقطہ نظر کا اختلاف تھا۔ اور یہ اختلاف ایک سے زیادہ مواقع پر ہوا جیسے مسلم لیگ میں دھڑے بندی کے وقت علامہ اقبال نے جناح صاحب بجائے لیگ کے شفیع گروپ کی حمایت کی۔ اور سب سے بڑھ کر جناح و اقبال دونوں ہی بشر تھے اور پیغمبروں کے سوا کوئی بشر بھی معصوم عن الخطا نہیں۔ چناچہ 9 نومبر 1921 کو روزنامہ زمیندار میں جناح صاحب کے طرز سیاست پر علامہ اقبال کی طنزیہ نظم ”صدائے لیگ“ کے عنوان سے شائع ہوئی۔ جو درجہ ذیل اشعار پر مشتمل تھی صدائے لیگ لندن کے چرخ نادرہ فن سے پہاڑ پر اترے مسیح بن کرمحمد علی جناح نکلے گی تن سے تو کہ کرے گی تباہ ہمیں اے جان برلب آمدہ اب تیری کیا صلاح دل سے خیال دشت و بیاباں نکال دے مجنوں کے واسطے ہے یہی جادہ فلاح آغا امام اور محمد علی ہے باب اس دین میں ہے ترک سوادِ حرم مباح بَشریٰ لکم کہ منتظر مارسیدہ ہست یعنی حجابِ غیرتِ کبریٰ دریدہ ہست (روزنامہ زمیندار 9 نومبر 1921 ) نظم کی تشریح: ان اشعار کا معنی و تشریح تو کوئی اقبال شناس ہی بہتر انداز میں کرسکتا ہے مگر میرے ناقص علم کے مطابق اس کی تشریح کچھ یوں بنتی ہے پہلے شعر میں اقبال نے جناح صاحب کو طنز کرتے ہوئے مسیح (ع) سے تشبیہ دی کے کہ جناح صاحب خود ساختہ مسیح کی مانند لندن سے (بغیر کسی بشارت کہ) اچانک ہم پر نازل ہوئے ہیں دوسرے شعر میں اقبال کا مطلب یہ ہے کہ تم ہمیں یعنی ملت کو تباہ کرنے کے واسطے آئے ہو کہ اس وقت کم و پیش تمام مسلمان تحریک خلافت کے پلیٹ فارم پر متحد تھے اور جناح صاحب کا لیگ کو دوبارہ زندہ کرنا اقبال کی نظر میں فتنہ و تقسیم کا موجب تھا۔ تیسرے شعر میں علامہ اقبال نے جناح صاحب کو بھٹکے ہوئے مجنوں سے تشبیہ دی ہے کہ مجنوں لیلا کے عشق کے جنون میں مبتلا ہوکر دشت میں بھٹکتا رہتا تھا اور اس کی زندگی سعی لاحاصل تھی۔ اقبال نے جناح صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے دل سے خیال دشت و بیاباں نکال دے یعنی لیگ کو جو دوبارہ زندہ کرنے کا عزم کیا ہے اسے ختم کردیں۔ چوتھے شعر میں علامہ اقبال نے آغا خان اور جناح صاحب پر شدید طنز کرتے ہوئے ذومعنی بات کی ہے۔ اقبال جناح صاحب کو اپنے مرکز سے نہ ہٹنے کی تلقین کرتے ییں اور جناح صاحب کو محمد علی باب جبکہ آغا خان کو ان کے مسلک کے امام سے سے تشبیہ دی ہے۔ محمد علی باب ایران کا اسماعیلی فرقے کی ایک ذیلی شاخ کا مبلغ تھا اور اس نے دعویٰ مہدویت کیا تھا۔ جسے بعدازاں شاہ ایران ناصر الدین قاچار کے حکم سے تبریز شہر کے چوراہے میں گولی مار کر اس کی نعش شہر سے باہر پھینک دی گئی تھی۔ اس کے پیروکار بابی کہلاتے ہیں۔ اسی حوالے سے جناب سعید ابراھیم نامی دانشور لکھتے ھیں کہ تاریخ بہت بے رحم ہوتی ہے یہ ان قوموں کو کبھی معاف نہیں کرتی جو اس سے تمسخر کی مرتکب ہوتی ہیں۔ جو قومیں تاریخ کو مسخ کرتی ہیں تاریخ انہیں مسخ کر دیتی ہے۔ مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک کا سفر اس بات کا بین ثبوت ہے۔ حکمران سمجھتے ہیں کہ وہ تاریخ چھپانے‘ جھٹلانے اور مسخ کرنے پر قادر ہیں مگر یہ ان کی بہت بڑی بھول ہے۔ تاریخ کو نہ چھپایا جا سکتا ہے نہ جھٹلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی مسخ کیا جا سکتا ہے۔ جن قوموں یا حکمرانوں نے ایسا کرنے کی جرات کی وہ آج تاریخ کے صفحات میں خود عبرت کے نشان کی صورت محفوظ ہیں۔ تاریخ کو مسخ کرنے کا عمل دراصل ان قوموں کا شیوہ ہے جو تاریخ کے کسی موڑ پر اپنی کمزوریوں کی بنا پر احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ برصغیر کے مسلمان اسی وقت احساس کمتری کے مرض مبتلا ہو چکے تھے جب انگریز نے طاقت سازش اور خود یہاں کے مسلمان حکمرانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر انہیں تخت حکمرانی سے اتار پھینکا تھا۔ مغلیہ دربار سے وابستہ بیکار اور عیاش جاگیردار طبقہ منہ کے بل گرا تو سب سے پہلے اس ’’مظلوم‘‘ طبقے کا درد سرسید احمد خان کے دل میں اٹھا اور انہوں نے اس طبقے کی عزت رفتہ کی بحالی کے لئے دن رات ایک کر دیا۔ اور جنگ آزادی )جسے سر سید احمد خان غدر کا نام دیتے ہیں یعنی غداری کا عمل( میں انگریز افسران کی جان بچانے کی خدمات کے عوض انہوں نے انگریز حکمرانوں سے اس طبقے کے لئے ایک طرف عزت اور عہدہ طلب کیا اور دوسری طرف انہیں انگریز کے دربار میں مغلیہ دربار والی شان و شوکت دوبارہ حاصل کرنے کے گر بتائے۔ سر سید نے 1878ء میں وائسرائے لٹن کی لجسلیٹو کونسل کارکن نامزد ہونے کے بعد کونسل میں ’’قانون جائیداد موقوفہ خاندانی اہل اسلام‘‘ کے نام سے ایک بل پیش کرنے کے لئے تیار کیا‘ جس کا مقصد مسلمان رئیسوں یعنی مغل دربار کی اشرافیہ کی باقیات کو تباہی و بربادی سے بچانا مقصود تھا۔ لیکن بوجوہ پیش نہ کر پائے۔ مندرجہ بالا حقائق کی نشاندہی کا مقصد سر سید مرحوم کی ذات کو نشانہ تنقید بنانا ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ سر سید کی ذات میں ایسی باتیں بھی شامل ہیں جن کا سامنا کرتے ہوئے ہمیں شرم محسوس ہوتی ہے اور ویسے بھی پاکستان میں رائج نظریہ حکمرانی کو یہ حقائق ’’وارہ‘‘ نہیں کھاتے۔ سو ایک خاص مقصد کے تحت انہیں عوام سے چھپا کر تاریخ کو مسخ کیا جاتا ہے۔ شبلی نعمانی جیسے جید تاریخ دان جن کا شمار سر سید کے ارکان خمسہ میں ہوتا ہے اس نظریئے کے حامی تھے کہ مسلمانوں کو جوش دلانے کے لئے اگر تاریخ میں جھوٹ کی آمیزش کر دی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ہماری تاریخ میں ایک صاحب تھے مولوی محمد باقر نامی جو دہلی سے ’’اخبار الظفر‘‘ کے نام سے ایک پرچہ نکالتے تھے۔ انہوں نے 1857ء میں حقائق کے برخلاف فتح کی بشارتیں سنانے کے لئے جھوٹی خبریں اور قصے گھڑے حتیٰ کہ ایران سے مجاہدین کے لشکر کی آمد کی جھوٹی خبریں شائع کیں۔ اسی طرح کا ایک اور کردار ’’طلسم لکھنؤ‘‘ کے مدیر مولوی یعقوب انصاری کا ہے جن کے نزدیک جہاد میں مسلمانوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے جھوٹی اور من گھڑت خبریں شائع کرنا جائز تھا۔ اسی حوالے سے ایک اور دلچسپ کردار جو سامنے آتا ہے وہ جمیل الدین خان ہجر کا ہے۔ یہ صاحب دہلی سے شائع ہونے والے ’’صادق الاخبار‘‘ کے مدیر تھے۔ انہوں نے بھی تاریخ میں جھوٹ کی آمیزش کے نظریئے کو آگے بڑھاتے ہوئے بہادر شاہ ظفر کے حق میں غیرحقیقی دعوؤں پر مبنی خبریں شائع کیں۔ انگریزوں کی شکست اور بادشاہ کی فتح کی غلط خبریں شائع کیں اور یہاں تک لکھ دیا کہ پنجاب سے تمام گوروں کا صفایا کر دیا گیا ہے۔ مزید لکھا کہ روس کی چار لاکھ فوج مجاہدین کی مدد کے لئے پہنچ رہی ہے اور ایرانی بھی ہماری مدد کو آنے والے ہیں۔ اگر ذرا غور سے دیکھیں تو تاریخ کو چھپانے اور مسخ کرنے کا یہ عمل مغلیہ دربار کے زوال سے شروع ہو کر کارگل کے معرکے تک پھیلا ہوا ہے۔ ہم نے اپنے احساس کمتری کو احساس برتری کے لبادے میں چھپانے کے لئے نہ تو واقعات کو معاف کیا اور نہ ہی شخصیات کو۔ وہ چاہے سر سید ہوں‘ اقبال ہوں‘ قائداعظم ہوں یا لیاقت علی خان ہم نے سب کا ایک ایسا غیر حقیقی تصور بنانے کی کوشش کی جس کی تاریخ تائید کرنے سے صاف قاصر ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کے سیاسی لیڈر تھے مگر پیغمبر ہرگز نہیں تھے ۔مگر ہمارا المیہ دیکھئے کہ ہم نے اپنے اجتماعی احساس کمتری سے جان چھڑانے کے لئے ان لوگوں کو ہر طرح کی انسانی غلطی اور خامی سے مبرا بنانے کی ٹھان لی۔ یہ بات ایک جانب تو عام مسلمان کی نفسیاتی تسکین کا باعث تھی اور دوسری طرف ہمارے حکمران طبقے کو بھی کچھ ایسے بت درکار تھے جن کے نام پر وہ عوام کو بیوقوف بنا سکیں اور یوں پاکستان بننے کے بعد ان زعماء کا ایک غیرحقیقی تصور اجاگر کرنے اور عوام کے ذہنوں پر مرتسم کرنے کا عمل حکمرانوں کی زیرنگرانی زوروشور سے شروع ہو گیا جو آج تک بڑی ڈھٹائی سے جاری و ساری ہے۔ ہمارے خیال میں اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنے ماضی اور حال کے حقیقی خدوخال کا پوری ایمانداری سے جائزہ لیکر خود کو جھوٹی جذباتیت سے آزاد کروائیں۔ اور اب ویسے بھی تاریخ خود کو زیادہ دیر تک چھپانے کی مہلت نہیں دیگی۔ تاریخ کے ہر نازک موڑ پر نئے جھوٹ گھڑنا اور انہیں پراپیگنڈے کی حد تک پھیلانا ہماری ایک قومی روایت رہی ہے آج پھر ہم تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں اور یہی وہ موقع ہے جہاں ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہم کب تک جھوٹی تاریخ کی کچی بنیادوں پر پاؤں جمانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا کہ ہمارے سیاسی زعماء انسان تھے پیغمبر نہیں۔ سو ہمیں تاریخ میں جھانک کر دیکھنا ہے کہ ہمارے یہ زعماء کیا ویسے ہی تھے جیسا کہ ہمیں نصاب‘ اخبارات اور ٹی وی ریڈیو پر بتایا جاتا ہے یا ان کی ذات کے بارے میں کچھ حقائق ایسے بھی ہیں جو ہمارے حکمران محض اس لئے چھپاتے ہیں کہ عوام کو ہیرو پوجا کے مقدس جال میں الجھا کر جذباتیت کے گڑھے میں گرائے رکھیں تاکہ عوام کو حکمرانوں کے اصل چہرے اور مفادات کا پتہ نہ چل سکے۔ علامہ اقبال مسلم تاریخ کا ایک محترم نام ہیں مگر کیا اقبال حقیقی معنوں میں ویسے ہی تھے جیسے ہمیں میڈیا اور نصاب میں دکھائے، بتائے اور سنائے جاتے ہیں۔ آیئے آج تاریخ کے صفحات سے اصل اقبال کو دریافت کرنے کی ایک سعی کرتے ہیں۔ اس کے لئے سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ خود اقبال اپنے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ علامہ21 مارچ 1931ء کو لاہور میں منعقد آل انڈیا مسلم کانفرنس کے اجلاس میں اپنے خطبے میں کہتے ہیں ’’میں آپ کو ایک ایسے شخص کے انتخاب پر مبارکباد نہیں دے سکتا جس کی حقیقت ایک منصوبے باندھنے والے تخئیل پسند انسان سے زیادہ نہیں۔ کسی ایسے مطمئع نظر کا انکشاف کرنا جو دنیاوی حد بندیوں سے آزاد ہو ایک کام ہے اور یہ بتانا کہ کس طرح وہ مطمئع نظر زندگی بخش حقائق میں تبدیل ہو سکتا ہے بالکل دوسرا کام ہے۔ وہ آدمی کہ جس میں یہ جرأت ہو کہ وہ اوّل الذکر کام سے موخر الذکر کام کی طرف اپنے آپ کو منتقل کرے۔ اسے بار بار ان حد بندیوں کا جائزہ لینا ہوگا اور بسا اوقات ان کے سامنے جھکنا پڑے گا جنہیں وہ اب تک نظر انداز کرنے کا عادی رہا ہے۔ ایسے آدمی کو بدقسمتی سے مسلسل ذہنی کشمکش میں زندگی بسر کرنی پڑتی ہے اور اس پر باآسانی تناقص بالذات کا الزام عائد کیا جا سکتا ہے‘‘۔ اس اقتباس کو پڑھنے کے بعد سوال اٹھتا ہے کہ کیا اقبال تناقص بالذات کا شکار تھے تو اس کا جواب ہمیں ان کی شاعری اور حقیقی زندگی سے ڈھونڈنا ہوگا۔ جہاں تک اقبال کی شاعری کا تعلق ہے وہ جگہ جگہ نظریاتی تناقصات کا شکار نظر آتی ہے۔ مذہبی نظریات کے اعتبار سے آپ کی شاعری کے تین ادوار ہیں یعنی پہلے دور میں واحد الوجود کا پرچار ملتا ہے دوسرے دور میں آپ واحد الشہودی نظریات کا پرچار کرتے ہیں اور آخری دور میں پھر سے وحدت الوجودی بن جاتے ہیں۔ وہ اپنی تمام شاعری میں ایک سیلانی الطبع شخص کے طور پر نظر آتے ہیں۔ سیاسی نظریات کے حوالے سے بھی جگہ جگہ تضادات کا شکار نظر آتے ہیں۔ ان کے نزدیک مسولینی بھی قابل تعریف ہے اور مارکس اور لینن بھی۔ مارکس کے بارے میں تو یہاں تک کہہ گزرتے ہیں کہ نیست پیغمبر و لیکن دربغل دار و کتاب اسی طرح سے کبھی جمہوریت کی تعریف کرتے ہیں اور کبھی اسے برا بھلا کہتے ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں سلطانئ جمہور کا آتاہے زمانہ جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو اور دوسری جگہ فرماتے ہیں جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے اقبال نے اپنی شاعری میں اتنے متضاد خیالات پیش کئے ہیں کہ ان کا ایک سکیچ بنانا ناممکن ہے۔ اقبال بیک وقت آمریت پسند بھی ہیں اور جمہوریت پسند بھی۔ وہ سوشلسٹ بھی ہیں اور مسلمان بھی۔ لہذا اقبال پاکستان میں بننے والی ہر حکومت کے لئے گیدڑ سنگھی کا کام دیتے رہے ہیں اور دیتے رہیں گے۔ کیونکہ ان کی شاعری سے ہر طرح کے طرز حکومت کے لئے سند دستیاب ہو جاتی ہے۔ اقبال کا المیہ یہ ہے کہ ناصرف ان کی شاعری تضادات کا شکار ہے بلکہ ان کی حقیقی زندگی اور شاعری میں بھی بے حد بعد پایا جاتا ہے۔ اور یہ شعر اس بات کی وضاحت کے لئے کافی ہے کہ اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے گفتار کا یہ غازی تو بنا کردار کا غازی بن نہ سکا اقبال نے واقعی درست فرمایا وہ لفظوں کی گھن گھرج سے تو خوب واقف تھے مگر ان کی اپنی حقیقی زندگی اس گھن گھرج سے محروم تھی اپنی پوری شاعری میں خودی کا سبق دینے والے اقبال جب 17 اکتوبر 1925ء کو گورنر پنجاب کے معاون افسر جے پی تھامسن کو مہاراجہ ہری سنگھ کے دربار میں ملازمت کے لئے درخواستی خط لکھتے ہیں توہماری نصابی کتابوں اور میڈیا پر نظر آنے والا اقبال شرم سے منہ چھپانے لگتا ہے۔ اقبال لکھتے ہیں: ’’میں آپ کو یہ خط ایک ایسی ضرورت سے لکھ رہا ہوں جس کا فوری تعلق میری اپنی ذات سے ہے اور مجھے امید ہے کہ ایسے وقت میں میری مدد فرمائیں گے جب کہ مجھے اس کی سخت ضرورت ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں جو جگہ خالی ہوئی تھی اس کے متعلق حکومت کے فیصلے کی خبر تو آپ کو مل چکی ہوگی۔ میری یہ بدقسمتی ہے کہ لوگوں نے مجھے اس سلسلہ میں ملوث کیا۔ مسلم پریس نے یہاں جتنا احتجاج کیا ہے یا آئندہ کرے گا‘ اس سے مجھے بہت زیادہ نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ چیف جج کا خیال ہے کہ چند اشخاص جن میں میرا نام بھی شامل ہے اس احتجاج کی پشت پناہی کر رہے ہیں حالانکہ میرے خیال میں ان کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ جس قسم کی سازشوں میں مجھے ملوث کیا جا رہا ہے میرا ان سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ بہرحال ان حالات میں میرے لئے یہاں پر ایک وکیل کی حیثیت سے کام کرنا بے حد مشکل ہو جائے گا‘ خاص کر جب کہ مجھے ماضی میں بھی کئی طریقوں سے نقصان پہنچ چکا ہے۔ اس کے علاوہ چند دیگر ناقابل اظہار اسباب کی بنا پر جن کا اس خط میں تذکرہ مناسب نہیں‘ میں اس ماحول سے قطعی بیزار ہو چکا ہوں اور دل چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر کہیں دور چلا جاؤں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کے قلم کی ایک جنبش مجھے ان تمام مشکلات سے نجات دلا سکتی ہے۔ اس وجہ سے اور آپ کی فیاضی اور ہمدردی پر یقین رکھتے ہوئے میں آپ کی سرپرستی کا خواہاں ہوں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ آپ مجھے کشمیر کی سٹیٹ کونسل میں کوئی منصب دلوا سکیں۔ شاید آپ کو علم ہو کہ کشمیر میرا آبائی وطن ہے اور کشمیر کے لئے میرے دل میں ایک خاص لگن موجود ہے۔ یہ ممکن ہے کہ (کشمیرکا) نیا مہاراجہ (ہری سنگھ) اپنی حکومت میں کچھ تبدیلیاں لانے کی سوچ رہا ہو۔ اگر ایسا ہے تو مجھے یقین ہے کہ اس معاملہ میں سلسلہ جنبانی کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ اگر آپ مجھے تھوڑا سا سہارا دے سکیں تو یہ میرے لئے روحانی اور دنیاوی طور پر ایک بہت بڑی نعمت ثابت ہوگی اور میں آپ کے اس لطف و کرم کا ہمیشہ ممنون رہوں گا۔۔۔ اگرچہ اس معاملہ میں مجھے آپ کی ذات پر مکمل اعتماد ہے لیکن میں یہ بات آپ تک پہنچانا ضروری سمجھتا ہوں کہ پالن پور کے نواب صاحب جو ہری سنگھ کے قریبی دوستوں میں سے ہیں میرے بھی دوست ہیں‘‘۔(پاکستان کی سیاسی تاریخ جلد۵، مسلم پنجاب کا سیاسی ارتقا، زاہد چوہدری، صفحہ 247,248) اس خط کو پڑھنے کے بعد لگا یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ وہی اقبال ہیں جنہوں نے جاوید نامہ میں اپنے بیٹے کو یہ نصیحت فرمائی تھی کہ ترا طریق امیری نہیں فقیری ہے خودی نہ پیچ غریبی میں نام پیدا کر اور مزید حیرت وہ قصیدے پڑھ کر ہوتی ہے جو انہوں نے انجمن حمائت اسلام کے سترہویں اجلاس میں لیفٹیننٹ گورنر پنجاب میکورتھ ینگ اور ڈائریکٹر ایجوکیشن ولیم بل جیسے انگریزوں کی شان میں ’’خیرمقدم‘‘ کے نام سے پڑھے۔ نمونے کے طور پر (اختصار کے لئے ) صرف ایک شعر حاضر ہے دعا نکلتی ہے دل سے حضور شاد رہیں رہیں جہان میں عظمت طراز تاج و سریر(1) ایک شعر حضرت بل کی شان میں یوں فرمایا بڑھے جہان میں قبال ان مشیروں کا کہ ان کی ذات سراپا ہے عدل کی تصویر(2) (1-2 باقیات اقبال، آئینہ ادب،لاہور، 1978) پنجاب کے بدنام ترین انگریز گورنر سر مائیکل ایڈوائر کی شان میں لکھا جانے والا قصیدہ بھی پڑھنے کے لائق ہے۔ یہ وہی شخص تھا جس نے جنگ عظیم اول کے لئے زبردستی پنجاب سے جوان بھرتی کئے جس کے خلاف پنجاب کے کئی اضلاع میں کسانوں نے بلوے اور ہنگامے کئے۔ معلوم نہیں اقبال ’’پنجاب کا جواب‘‘ نامی یہ قصیدہ نما نظم لکھ کر کن مظلوموں یا کم از کم مسلمانوں کی نمائندگی کر رہے تھے۔ اے تاجدار خطہ جنت نشان ہند روشن تجلیوں سے تری خاوران ہند محکم ترے قلم سے نظام جہان ہند تیغ جگر شکاف تری پاسبان ہند ہنگامہ وغا میں میرا سر قبول ہو اہل وفا کی نذر محقر قبول ہو تلوار تیری دہر میں نقاد خیر و شر بہروز‘ جنگ توز‘ جگر سوز‘ سیز در رایت تری سپاہ کا سرمایہ ظفر آزادہ‘ پرکشادہ‘ پری زادہ‘ یم سپر سطوت سے تیری پختہ جہاں کا نظام ہے ذرے کا آفتاب سے اونچا مقام ہے وقت آ گیا کہ گرم ہو میدان کارزار پنجاب ہے مخاطب پیغام شہریار اہل وفا کے جوہر پنہاں ہوں آشکار معمور ہو سپاہ سے پنہائے روزگار تاجر کا زر ہو اور سپاہی کا زور ہو غالب جہاں میں سطوت شاہی کا زور ہو ہندوستاں کی تیغ ہے فتاح ہشت باب خونخوار‘ لالہ بار‘ جگردار برق تاب بے باک‘ تابناک‘ گہرپاک‘ بے حجاب دلبند‘ ارجمند‘ سحرخند‘ سیم ناب یہ تیغ دل نواز اگر بے نیام ہو دشمن کا سر ہو اور نہ سودائے خام ہو اخلاص بے غرض ہے‘ صداقت بھی بے غرض خدمت بھی بے غرض ہے‘ اطاعت بھی بے غرض عہد وفا و مہر و محبت بھی بے غرض تخت شہنشہی سے عقیدت بھی بے غرض لیکن خیال فطرت انساں ضرور ہے ہندوستاں پہ لطف نمایاں ضرور ہے جب تک چمن کے جلوہ گل پر اساس ہے جب تک فروغ لالہ احمر لباس ہے جب تک نسیم صبح عنا دل کو راس ہے جب تک کلی کو قطرہ شبنم کی پیاس ہے قائم رہے حکومت آئیں اسی طرح دیتا رہے چکور سے شاہیں اسی طرح (پاکستان کی سیاسی تاریخ جلد۵، مسلم پنجاب کا سیاسی ارتقا، زاہد چوہدری، صفحہ 244,242) اقبال نے یہ نظم نواب ذوالفقار علی خان کی وساطت سے گورنر کی فرمائش پر تحریر کی تھی اور یہ وہی نواب ذوالفقار ہیں جن سے تعلق خاطر کی بنا پر اقبال کو سر کا خطاب ملا تھا۔ تاریخ بہت ظالم ہوتی ہے اسے لاکھ چھپایا جائے لیکن ایک نہ ایک دن وہ خود کو بے نقاب کرنے کا راستہ ڈھونڈ لیتی ہے اب ہم ایک ایسی بات کا تذکرہ کرنے جا رہے ہیں جو شاید بہت سے لوگوں کو (جن کاا قبال کے متعلق علم اور تصور صرف میڈیا اور نصاب کی حد تک محدود ہے) چونکا کر رکھ دے بلکہ شاید دکھ میں مبتلا کر دے مگر کیا کیا جائے تاریخ بہت ظالم ہوتی ہے اور حقائق بہت کڑوے اور تلخ۔۔۔ محض جھوٹ سننے کی خواہش سے سچ بدل نہیں جائے گا۔ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ حضرت علامہ اقبال تقریباً 1930ء تک احمدیت سے خاصے متاثر رہے بلکہ یہاں تک کہ آپ نے مرزا غلام احمد کی بیعت بھی کی۔ اور ان کے بڑے بیٹے آفتاب نے کئی سال تک قادیان میں تعلیم حاصل کی۔ ’’خواجہ نذیر احمد اور مرزا بشیر الدین محمود کے بیان کے مطابق اقبال کے والد شیخ نور محمد نے فرقہ قادیانی کے بانی مرزا غلام احمد کی بیعت کی تھی۔۔۔ خواجہ نذیر احمد کا مزید بیان یہ ہے کہ خود علامہ اقبال نے بھی 1897ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے پاس کرنے کے بعد مرزا غلام احمد کی بیعت کی تھی اور وہ 1930ء تک مرزا کو مذہبی مجدد سمجھتے رہے تھے‘‘ (مسلم پنجاب کا سیاسی ارتقاء۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ جلد نمبر5۔ زاہد چودھری( 1901ء میں انہوں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ایک تقریر میں یوں اظہار خیال کیا ’’پنجاب میں اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ اس جماعت کی شکل میں ظاہر ہوا جسے فرقہ قادیانی کہتے ہیں‘‘۔ لیکن 1930ء کے بعد علامہ کے خیالات میں تبدیلی واقع ہونا شروع ہو گئی تھی گویہ تبدیلی مذہبی سے زیادہ سیاسی تھی اور اس کے پس منظر میں ایک تو احرار کی طرف سے اٹھنے والا مخالفت کا طوفان تھا اور دوسری طرف سر ظفر اللہ خان (قادیانی) سے سیاسی مفاد کا ٹکراؤ۔۔ حالانکہ مرزا صاحب نے تو 1901ء میں ہی اپنے ظنی نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا تھا۔ تو اقبال کو اپنے خیالات بدلنے میں تیس برس کا عرصہ کیوں لگا؟ اس کا ایک جواب خواجہ نذیر احمد دیتے ہیں ’’1931ء میں مرزابشیرالدین محمود سے اختلاف پیدا ہونے کے بعد جب ڈاکٹر اقبال نے احمدیوں کے خلاف کتاب لکھی تو میرے والد خواجہ کمال الدین نے اس سے پوچھا کہ ’’اویار تیری بیعت دا کی ہویا‘‘۔ اس پر علامہ کا جواب یہ تھا کہ ’’اوہ ویلا ہور سی ایہہ ویلا ہور اے‘‘ علامہ اقبال نے مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کے تقریباً 33 سال بعد ایک طویل مضمون میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ یہ جولائی 1934ء کا ذکر ہے جب وزیر ہند لارڈ زئلینڈ نے سر ظفر اللہ خان (پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ) کی کارکردگی سے متاثر ہو کر انہیں سر فضل حسین کی جگہ وائسرے کی ایگزیکٹو کونسل کی مستقل رکنیت کی پیشکش کی۔ چونکہ اقبال خود اس نشست کے امیدوار تھے لہذا معترضین کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ اس موقع پر قادیانیوں کی مخالفت مذہبی بنیاد پر نہیں بلکہ سیاسی مفاد کی وجہ سے تھی۔ اور اس مضمون کا مطلب یہی نکلتا تھا کہ ظفر اللہ خان مسلمانوں کا نمائندہ نہیں ہے۔ (حوالہ کے لئے ’’مسلم پنجاب کا سیاسی ارتقاء۔ ص 272-73) میڈیا سے ایک بات کا تواتر سے (پراپیگنڈے کی حد تک) ذکر کیا جاتا ہے کہ علامہ تصور پاکستان کے خالق تھے۔ اس بات کا جواب ہمیں علامہ کے اس خط سے باآسانی مل جاتا ہے جو انہوں نے 4 مارچ 1934ء کو ای جے تھامپسن کے نام لکھا جس میں انہوں نے شدت سے چودھری رحمت علی کی ’’پاکستان سکیم‘‘ سے لاتعلقی بلکہ برات کا اظہار کیا۔ لکھتے ہیں ’’مائی ڈیر مسٹر تھامپسن۱ مجھے اپنی کتاب پر آپ کا ریویو ابھی ابھی موصول ہوا ہے۔ یہ بہت عمدہ ہے اور میں ان باتوں کے لئے آپ کا بہت ممنون ہوں جو آپ نے اس میں میرے متعلق بیان کی ہیں۔ لیکن آپ نے ایک غلطی کی ہے جس کی میں فوری نشاندہی کرنا ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ یہ ایک فاش غلطی ہے۔ آپ نے میرے بارے میں کہا ہے کہ میں اس سکیم کا حامی ہوں جسے ’’پاکستان‘‘ کہا جاتا ہے۔ جبکہ پاکستان میری سکیم نہیں ہے۔ میں نے اپنے خطبے میں جو تجویز پیش کی تھی وہ ایک مسلم صوبہ کے بارے میں تھی جو شمالی مغربی ہندوستان کے مسلم اکثریتی آبادی پر مشتمل تھا۔ میری سکیم کے مطابق یہ نیا صوبہ مجوزہ انڈین فیڈریشن کاحصہ ہوگا۔ پاکستان سکیم میں مسلم صوبوں پر مشتمل ایک علیحدہ فیڈریشن کا قیام تجویز کیا گیا ہے جو ایک علیحدہ ڈومینین کی حیثیت سے انگلستان کے ساتھ براہ راست تعلق رکھے گی۔ اس سکیم نے کیمبرج میں جنم لیا ہے۔ اس سکیم کے مصنفین کا خیال ہے کہ ہم جو گول میز کانفرنس کے مندوبین ہیں‘ ہم نے مسلم قوم کو ہندوؤں یا نام نہاد انڈین نیشنلزم کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ خیراندیش محمد اقبال (پاکستان کی سیاسی تاریخ جلد۵، مسلم پنجاب کا سیاسی ارتقا، زاہد چوہدری، صفحہ 418,261 ) دلچسپ بات یہ ہے کہ علامہ پاکستان سکیم کی مخالفت 1934ء میں کر رہے ہیں اور وہ بھی انتہائی شدت سے جبکہ ان وہ مشہور و معروف خطبہ الہٰ باد جس سے تصور پاکستان اخذ کیا جاتا ہے وہ انہوں نے 1930ء میں یعنی 4 سال پہلے دیا تھا۔ ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہئے اس خط سے تو صاف ظاہر ہے کہ علامہ ایک متحدہ ہندوستان کے دائرے میں رہتے ہوئے مسلمانان ہند کو زیادہ سے زیادہ خودمختاری دلوانے کے خواہش مند تھے۔ اور اس خودمختاری کے عوض متحدہ ہندوستان کے دفاع کی ذمہ داری بھی مسلمانوں کے کاندھوں میں ڈال دیتے ہیں۔ وہ انگریز اور ہندو کو بتاتے ہیں کہ اسی خودمختاری کے نتیجے میں انہیں پنجاب سرحد اور بلوچستان سے ہندوستان کی کل فوج کا 62 فیصد سے زیادہ حصہ مسلم فوج کی صورت میں دستیاب ہوگا جو تمام ہندوستان کو غیرممالک کی چیرہ دستیوں سے محفوظ رکھ سکے گا۔ مزید یہ کہ وہ ہندوؤں اور انگریزوں کو یہ یقین دہانی بھی کرواتے ہیں کہ مسلمانوں کی ریاستوں میں شرح سودپر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ کیونکہ ’’مسلم دور حکومت میں ہندوستانی مسلم ریاستوں نے شرح سود پر کوئی پابندیاں نہیں لگائیں‘‘ اقبال کا تصور پاکستان مزید ان جملوں سے واضح ہوتا ہے کہ ’’میرے نزدیک سب سے بہتر صورت یہ ہوتی کہ صرف برطانوی ہندوستان کے علاقوں پر مشتمل وفاق قائم کر کے ابتدا کی جاتی…… مسلمانوں کو اس وقت تک فائدہ نہیں ہو سکتا کہ جب تک انہیں ہندوستان کے گیارہ صوبوں میں سے پانچ میں تمام اختیارات مالبقی کے ساتھ اکثریت کے حقوق حاصل نہ ہوں اور وفاقی مجلس قانون ساز میں انھیں 33 فیصد نشستیں نہ ملیں…… ہمارا مطالبہ یہ ہونا چاہئے کہ ان مسلم ریاستوں کے علاوہ جو فیڈریشن میں شریک ہوں‘ ہمیں آل انڈل فیڈرل اسمبلی میں 33 فیصد نشستیں حاصل ہوں۔ آپ خطبہ الہٰ باد پورے کا پورا پڑھ لیجئے مجال ہے جو آپ کو آزاد اور خودمختار پاکستان کے حوالے سے ایک جملہ بھی دستیاب ہو جائے۔ مگر ہمارا یہ گلہ علامہ سے نہیں ہے بلکہ ان لوگوں سے ہے جو تسلسل کے ساتھ علامہ کا ایک غیر حقیقی اور خلاف تاریخ امیج بنانے اور قوم کو منوانے پر مصر ہیں۔ علامہ کے بارے ایک اور بات کہی جاتی ہے کہ ان کے دل میں پوری مسلم امہ کا درد تھا۔ وہ پان اسلام ازم کے حامی تھے اسی لئے انہوں ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ جیسی شاعری سے انکار کر کے وطن کو بت قرار دے دیا تھا اور مسلمانوں کی اجتمائیت کے متعلق اس خواہش کا اظہار فرمایا ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کا شغر لیکن جب ہم مسلمانوں کے اتحاد کی اس قدر شدید خواہش رکھنے والے شاعر کو سیاست کے محاذ پر یہ کہتے سنتے ہیں کہ متحدہ ہندوستان مسلمان بیرونی مسلمان حملہ آوروں سے بھی حفاظت کریں گے پان اسلام ازم کا تصور اور خواہش بغلیں جھانکنے لگتی ہے۔ اپنے خطبہ الہٰ باد میں کہتے ہیں ’’مجھے یقین ہے کہ وفاقی حکومت کے قیام کی صورت میں مسلم وفاقی ریاستیں ہندوستان کے دفاع کی خاطر غیرجانبدار بری اور بحری فوجوں کو قائم کرنے پر بخوشی رضامند ہو جائیں گی…… مجھے کامل یقین ہے کہ ہندوستان کے وفاق پر مبنی ایک غیرجانبدار ہندوستانی فوج کے قیام سے مسلمانوں کی حب الوطنی میں اضافہ ہوگا اور اس سے اس بدگمانی کا بھی ازالہ ہو جائے گا کہ بیرونی حملہ کی صورت میں مسلمان‘ حملہ آور مسلمانوں کے ساتھ مل جائیں گے‘‘ اس تمام خطبے سے ایک بات عیاں ہے کہ علامہ کے ذہن میں ایک کلی طور پر آزاد اور خودمختار پاکستان کا کوئی تصور نہیں تھا بلکہ ان کی خواش محض اتنی تھی کہ مسلمانوں کو ہندوستانی وفاق میں رہتے ہوئے اپنے ذاتی معاملات طے کرنے کی آزادی دیدی جائے اور آل انڈیا وفاقی اسمبلی میں 33 فیصد نشستیں الاٹ کر دی جائیں۔ جہاں تک فوج کا تعلق ہے وہ وفاق کی ہوگی اور مسلم ریاستیں ہندوستان کا اس حد تک دفاع کرنے پر رضا و رغبت تیار ہونگی کہ اگر حملہ آور مسلمان ہونگے تو ان سے لڑنے اور انہیں شکست دینے سے گریز نہیں کریں گی۔ اب آپ ہی بتایئے کہ اس خطبے میں سے اقبال کا ’’موجودہ تصور پاکستان‘‘ کس طرح سے دریافت کیا جائے یا ان کا پان اسلام ازم ڈھونڈا جائے۔ کہنے کو تو اور بھی بہت کچھ ہے کہ ایسی باتوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ مگر کیا کریں ہم جھوٹ کے اسقدر عادی ہو چکے ہیں کہ سچ ہماری سماعت میں خراشیں ڈال دیتا ہے اور ہم شدت درد سے چیخنے اور چلانے لگتے ہیں۔ اور ویسے بھی ایسا سچ لکھنے سے کئی لوگوں کے مفادات خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔ آخر میں یہی عرض کروں گا کہ یہ اقبال کا قصور نہیں کہ وہ ایسے کیوں تھے بلکہ یہ ہمارے مفادپرست طبقوں کا قصور ہے کہ انہوں نے اقبال کو وہ کیوں بنا دیا جو وہ نہیں تھے۔
 ہمارے لئے بہتر یہی ہوگا کہ ہم اپنے مفاد کے لئے، انسانوں اور لیڈروں کو پیغمبر بنانا چھوڑ دیں ورنہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ ہمارا انسانوں سے اعتماد اٹھ جائے گا۔
 
٭٭٭٭٭٭٭
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔