Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 30 جنوری، 2022

جو بچھڑ گئے !

 ڈرامہ ٹی وی سیریل۔  جو بچھڑ گئے ۔دیکھ رہا تھا۔ 

ایک واقع یاد آیا سوچا شئیر کرلوں۔
انفنٹری سکول میںOfficers' Basic Course کر رہا تھا۔ جناح روڈ پر کھڑے رکشے کا انتظار کر رہا تھا کہ  میجر جاوید اقبال  ایف ایف ، کہیں سے نکل آئے اور ساتھ پیدل چلنے کو کہا۔ فوراً  ساتھ چل دیا۔  راستے میں بات چیت کے دوران ہمارے علاقے کا ذکر ہوا۔
پھر انتہائی بوجھل دل کے ساتھ ایک کہانی سنائی۔
 گاؤں کی ایک بڑھیا نے رات کو اپنی بہو سے کہا،

 صبح سویرے  ڈھیر سارے پراٹھے اور بڑی کیتلی میں چائے تیار کرنا۔
 بہو نے پوچھا، چاچی کس کے لئے ؟
پر چاچی نے جواب نہیں دیا۔
صبح ہوئی اور چاچی پراٹھوں بھرا چنگیر اور کیتلی لے کر پگڈنڈیوں پر چلتی ہوئی سیدھی فوجی کیمپ پہنچ گئی۔
 یہ 18 ایف ایف کا کیمپ ایریا تھا۔ راستے میں رجمنٹل پولیس کے جوان  نے روکنے کی کوشش کی لیکن بے سود۔
کمانڈنگ آفیسر  نےناراض ہو کر  ایڈجوٹنٹ کو بھیجا۔ وہ ناکام ۔
مگر کیا معلوم  چاچی نے کیا کہا کہ وہ بھی ساتھ چل دیئے اور یوں چاچی سیدھی کمانڈنگ آفیسر کے آفس  میں  پہنچ گئی۔کمانڈنگ آفیسر آفس سے باہر  نکلے ، چاچی نے  کیتلی زمین پر رکھی اور  پراٹھوں بھرا چنگیر سر سے اتارا اور   بولی ۔

 کرنل ساب ،بیٹا یہ آپ  لوگوں کے لیے ہے ۔
کمانڈنگ آفیسر ناراض ہو گئے اور زور زور سے بولے۔
  چاچی ہم فقیر نہیں فوج کے آفیسر ہیں لے جاؤ یہ سب کچھ اور غریبوں میں بانٹ دو ۔
آر پی والے کی مدد سے چاچی نے چنگیر سر پر رکھوائی ۔ اور مین گیٹ کی مخاف سمت چل پڑی
کرنل نے عمر رسیدہ  بڑھیا سے  کہا، 

چاچی  راستہ اس طرف ہے۔
چاچی نے دور درختوں کے درمیان لہراتے ہوئے پاکستان کے جھنڈے کی طرف اشارہ کیا   اور چنگیر سمیت مڑ کر کہا۔  صاحب میں اپنے بیٹے کے پاس جارہی ہوں ، اُسے یہ کہنے کہ تمھارے آفیسر اتنے بڑے ہوگئے ہیں کہ ایک شہید کی والدہ اور  شہید کی بیوہ کے ہاتھوں کے پکائے ہوئے پراٹھے نہیں کھاتے۔
کرنل چکرا گیا ۔فورا آگے بڑا اور پوچھا
" چاچی تمھارا بیٹا ۔۔۔
 ہاں وہ سامنے قبرستان میں سو رہا ہے۔65 کی  جنگ میں شہید ہوا تھا بلوچ پلٹن میں نائیک تھا گل محمد۔ !
چاچی نے  اپنی آنکھوں میں بہنے والے آنسو کو صاف کرتے ہوئے  روہانسی آواز میں کہا ۔
کمانڈنگ آفیسر یک دم جھک گیا ۔ چاچی کے پیروں کو چھوآ اُس کے سر سے ٹوکرا اتار اور چاچی کا ہاتھ پکڑ کر میس کی طرف بڑھا ۔ میس میں  ڈائینگ ٹیبل پر اپنی کرسی پر بٹھایا اور خود سیکنڈ اِن کمانڈ کی کرسی پر بیٹھا ۔
 میس والوں نے پراٹھے میز پر لگائے اور  سی او نے چاچی کو اپنے ہاتھوں سے ناشتہ کرایا۔
یہ تھی ہمارے گاؤں کی چاچی اکبری ۔ نائک گل محمد شھید 43 بلوچ کی ماں-

اس ماں کا یہ جذبہ تھا جب کہ  اس وقت ہم 71 کی جنگ کے بعد ملک کا ایک بازو ہندو سازش کے ہاتھوں گنوا چکے تھے۔
آج بھی کتنی مائیں ہیں جن کے نور نظر  اس دھرتی پر قربان ہوگئے ہیں اور ہورہےہیں۔  
ابھی کل ہی کی تو بات ہے  10 کڑیل جوان کیچ بلوچستان میں شھادت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوئے۔
فیصلہ سازوں کو سوچنا چاہیے۔ اب نہیں تو پھر کبھی نہیں۔
افواج پاکستان زندہ باد۔

کرنل (ر) واجد علی بنگش
 

(منقول)٭٭٭٭٭٭٭٭

 

 

جمعہ، 21 جنوری، 2022

لا رسول ولا نبي بعد محمد رسول الله وخاتم النبيين

  ! اُفق کے بار بسنے والے ، نیک دل  دوستو 

مضمون کا ٹائٹل یقیناً آپ کو چونکا دینے والا ہوگا ۔ وٹس ایپ کی  دیگر مساجد للہ کی طرح  ایک مسجد حریّتِ افکار پر  فجر کے وقت کل کی ایک پوسٹ پڑھی ۔ جس میں ایک نوجوان محمد بندھانی نے اپنا فہم پوسٹ کیا :۔   

نیک دل انسان ، کائینات کے خالق کے، کُن کے اَمرکی لہریں، کائینات میں روزِ اوّل سے گردش کر رہی ہیں- جو انسانی فہم کائینات میں موجود ، کُن سے تخلیق ہونے والی آیات کے متعلق بناتی ہیں ۔ آیات محکمات ہیں اور حواسِ خمسہ سے بننے والے انسانی ذہن میں مفہوم متشھابھات۔ 

 آپ کے فہم کو تقویت دینے کے لئے خَاتَمَ النَّبِيِّينَ نے اللہ کا یہ حکم پھیلایا :

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ [22:52]

لہذا ۔   بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سے مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ تک القرآن عربی کے الفاظ  جو حفّاظ  کے دماغ  (صدر) میں محفوظ ہیں ، خَاتَمَ النَّبِيِّينَ سے لے کر اب تک کسی  الشَّيْطَانُ کا القاء نہیں ۔

   بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سے مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ سے باہر کیا ہیں ؟
وہ سب انسانی مفہوم ہیں جو القرآن کی عربی آیات سے پھیلے ، میرے فہم کے مطابق  ، " لا نبی بعدی " کا فہم ہے ۔
لیکن مجھے حیرانگی ہوتی ہے کہ "  لَا رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ مِن بَعْدِي " کا فہم کیوں  نہیں پھیلایا گیا ؟؟
شائد  ایک چور دروازہ ، ماہرین لَغویات نے اپنے لئے کُھلا رکھنا تھا۔

وہ چور دوازہ کھولنے کا واحد راستہ ۔
رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ۔ مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ القرآن کے پہلے حافظ کو درمیان سے ہٹا کر ، إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ کا خَاتَمَ النَّبِيِّينَ کو دیا گیا حکم، تمام
لَغویات   کے ماہر : اپنی طرف اللہ کا اشارہ لیتے ہیں ۔ القرآن کی ایک  آیت سے اپنا فہم بنا کر نکالتے ہیں ۔

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ فَيُضِلُّ اللّهُ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [14:4]
اور اپنے سامنے بیٹھے ہوئے ، سننے یا پڑھنے والے بشر کو قائل کرنے کے لئے، بشیر بنتے ہوئے،  یہ آیت پیش کرتے ہیں۔
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ  [42:51]

! اُفق کے بار بسنے والے ، نیک دل  دوستو  

 یہ فہم اپنے دماغ میں پختہ (سدید) کر لیں کہ  
" لا رسول ولا نبي بعد محمد  رسول الله وخاتم النبيين  "

لہذا ،
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سے مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ  تک عربی کے الفاظ کے علاوہ سارے اعمال و افعال انسانی فہم کا نتیجہ ہیں کو ایک انسان اپنے نفس کو فجور اور تقوا کے ذہنی اوزان کو أفلح (محکمات) یا  خاب (متشابھات ) کے اوزان سے متوازن رکھنے کے لئے ، بناتا ہے ۔

اُفق کے بار رہنے والے  دوستو ، یہ میرا فہم ہے جو میں آپ سے شیئر کرتا ہوں ۔
آپ بھی اللہ کے انسان کے لئے امر ، جو
خَاتَمَ النَّبِيِّينَکے نشریاتی رابطے سے انسان کے لئے کائینات میں پھیل رہا ہے اور رہتا رہے گا کو بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سے مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ  کے درمیان ٹیون کرکے کے ، اِسی کے درمیان رہتے ہوئے ،
 آپ کے اردگرد پھیلی ہوئی کائینات( جس کا مرکز آپ ہیں ) سے اپنا فہم اخذ کریں ، عمل کریں اور افعال ہو ہوبہو شیئر کریں
اللہ ہم سب کو شیطانی  نشریاتی رابطے سے محفوظ رکھے ، آمین ثم آمین شکریہ

 

٭٭٭٭٭٭

منگل، 11 جنوری، 2022

ایک الذی آمنا بالغیب کا پیغام الذین یومنون کے لئے

  میں تمھارہ چہرہ یاد رکھنا چاھتا ہوں ۔جب میری تم سے جنت میں ملاقات ہو تو میں پہچان سکوں اور وہاں بھی تمھارا شکریہ ادا کروں۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
إياك نعبد وإياك نستعين  کا، ہوائی دعویٰ کرنے والوں کے لئے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

فیمی اوتی دولہ  ،  نائجیریا کا رہنے والا ، پورے افریقہ میں 90 فیصد ڈیزل سپلائی کرنے والا ایک ارب پتی شخص ۔ جس کا سب سے بڑا تیل سپلائی کرنے والا  بحری بیڑہ۔دولت جمع کرنا ۔ ہیرے جواہرات اور نایاب قیمتی اشیاء جمع کرنا اور جائداد بنانا اُس کے لئے سب سے بڑا خوشی کا مقام تھا ۔

اپنے ریڈیو پروگرام کے لئے لائف   انٹرویو لیتے ہوئے ،  ٹیلیفون پر انٹرویو لینے والے نے پوچھا۔

 جناب آپ کے لئے پوری زندگی میں محسوس کئے جانے والے خوشی کے کسی ایک لمحے کو یہ پروگرام سننے والوں  کے لئے  بتا سکتے ہیں ؟

   فیمی اوتودا  نے بغیر جھجکےیا سوچے بتایا ۔

وہ میرے بچپن کا دوست تھا ۔ ہم ایک دیہات کے رہنے والے تھے ، وہ اپنے علاقے کے لوگوں کے لئے سوشل ورک کا کام کرتا تھا ۔ایک دن اُس نے فون کیا اور پوچھا کہ کیا میں  معذور بچوں کے لئے وہیل چیئر تحفے میں دے سکتا ہوں ؟
دوست کی درخواست پر میں نے 200 ، انٹرکام پر اپنے پی اے کو   وہیل چیئرز کا آرڈر دیا اوردوست سے پوچھا کہاں بھجواؤں ؟

اُس نے کہا بھجوانی نہیں آپ نے خود آخر تقسیم کرنا ہیں ۔ میں نے حامی بھر لی ۔ وہ اتوار کی  روشن صبح تھی میں چرچ سے سیدھا ،دوست  کو لیتے ہوئے ، شہر سے باہر  ایک میدان  میں پہنچ گیا ، جہاں بہت سے لوگ جمع تھے اور ایک طرف افریقی بچے خود ساختہ بنچوں پر بیٹھے تھے ۔ میں نے ہر بچے کو وہیل چیر دی ۔ وہیل چیئر پر بیٹھتے ہوئے ، ہر بچے کی خوشی میرے ذہن میں بنی مصنوعی خوشی کے بلند و بالا محل کی ہر اینٹ گراتی جارہی تھی ۔

ٹانگوں سے  معذور بچے ، گروانڈ میں ایسے وہیل چیر چلا رہے تھے جیسے ٹانگوں والا بچہ میدان میں خوشی سے چمکتے چہرے کے ساتھ بھاگتا ہے۔اُن کے ماں باپ میدان کے کنارے کھڑے تالیاں بجا رہے تھے اور بچوں کی خوشی کا نور اُن کے چہروں سے کائینات میں منعکس ہورہا تھا ۔  میں واپس جانے کے لئے مڑا تو ایک نہایت کمزور بچہ وھیل چیر چلا کر میرے سامنے آکر میری ٹانگوں کو نرمی سے اپنے بازو کے حلقے میں پکڑ لیں۔ میں سمجھا کہ شاید وہ کچھ  اور مانگنا چاہتا ہے ۔ میں اُس کی طرف جھکا ۔ اور پوچھا ۔

 " بولو کیا چاھئیے ؟"     

اُس کا  نحیف   مگر ٹھوس آواز میں بولنا میرے وجود میں مسرّت و خوشی کی آفاقی لہر دوڑا گیا ۔

میں تمھارہ چہرہ یاد رکھنا چاھتا ہوں ۔جب میری تم سے جنت میں ملاقات ہو تو میں پہچان سکوں اور وہاں بھی تمھارا شکریہ ادا کروں۔

٭٭٭٭٭٭٭

 



پیر، 10 جنوری، 2022

ایک مسلم لیگی کی سافٹ وئر اَپ ڈیشن

سب سے پہلے تو میں اپنا تعارف کروا دوں۔ میرا نام چوہدری امیر علی ورک ہے۔ فیصل آباد شہر میں رہائش ہے۔ پچھلے 32 سال سے میاں نواز شریف کا کارکن، دوست اور عہدیدار ہوں۔ چھوٹا بھائ فیصل آباد کا ناظم رہا ہے۔ بیوی فوت ہو چکی ہے۔ اکیلا گھر میں بچوں کے ساتھ رہتا ہوں۔ دونوں بیٹوں کی شادی ہو چکی ہے اور ساتھ رہتے ہیں۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اب آتے ہیں جمعہ\ ہفتہ کی قیامت رات کی طرف۔
میں،بڑا بیٹا، بہو اور ان کے دو بچے بدھ کی رات نتھیا گلی پہنچ گئے۔ جمعرات اور جمعہ کو بچوں نے خوب انجوائے کیا۔ ارادہ تھا کے جمعہ کے دن رش بڑھ جائے گا ۔تو ہم جمعہ شام کو واپس اسلام آباد اپنی بہن کے گھر چلے جائیں گے۔ 2 بجے چیک آوٹ کیا اور واپسی کی تیاری شروع کی۔

 ہوٹل سے نکلے اور تھوڑی دور جا کر ایک گراونڈ آتا ہے جس میں سینکڑوں بچے، مرد اور خواتین برف میں انجوائے کر رہے تھے۔ اقرا اور حمزہ دونوں نے شور مچایا کے کھیلنا ہے برف میں۔ حالانکہ دل میں یہی چاہتا  تھا کہ جلدی نکلیں ،مگر بچوں کے دمکتے چہرے دیکھ کر بیٹے کو کہا ،" بچوں کو کھیلنے دو" ۔

 بس اسی فیصلے نے زندگی کی بھیانک رات دکھائی۔

 بیٹا اور بہو بھی بچوں کے ساتھ انجوائے کرنے لگے۔ برف تیزی سے گرنا شروع ہو چکی تھی۔ مغرب ہونے لگی تو میں کہا ، "اب نکلو"۔ 

باڑیاں سے آگے کلڈنہ سے تھوڑا پہلے پہنچے  تو گاڑیاں سست ہو گئیں۔ اس وقت اندھیرا ہو چکا تھا اور برف تیز ہو چکی تھی۔ اب میں پریشان ہو رہا تھا۔ بیٹا کہہ رہا تھا ،"ابو پریشان نہ ہوں نکل جائیں گے"۔ 

اس وقت سوزوکیوں والے اور مزدا والے جاہلوں کی طرح لائینیں توڑ کے آگے رستہ بلاک کر رہے تھے۔ 

اچانک شدید قسم ک برف کا طوفان شروع ہو گیا اور گاڑیاں بالکل رک گئیں۔رات 12 بجے ہماری گاڑی پہ تقریبا 3 فٹ برف پڑچکی تھی۔ بچوں کو بھوک لگی تھی۔

 اچانک پیچھے سے کچھ آوازیں آئیں تو بیٹا اترا تو  پانچ یا چھ ، مری والے  لوکل پراڈو سے پٹرول کا کین اتارنے کی کوشش کر رہے تھے۔ روکنے پہ بیٹے کو چھتری کی نوکیں ماریں اور زبردستی اتار کر لے گئے۔

 پوری رات ایک بھیانک قیامت کی طرح گذری۔ عورتوں بچوں کے چیخنے کی آوازیں اتنی خوفناک تھیں کی کلیجہ پھٹتا تھا۔

صبح سات بجے بچوں کو 800, 800 روپے کی دو روٹیاں اور ہم سب نے 1200 فی کپ چائے کے حساب سے ناشتہ کیا۔ ابھی بھی طوفان جاری تھا اور اندھیرا تھا۔ تقریبا 9 بجے پٹرول ختم ہو گیا۔ بچے ٹھٹھرنے لگے۔ انہی لوکل سے 3000 ہزار روپے لٹر پہ پٹرول لیا۔

 اب لوگوں کے مرنے سے ایک خوف کی فضا بن چکی تھی۔  مری کے لوکل لوگ ،  اب بھی اسی طرح ہزار   روپے کا  ایک    ابلا  انڈہ دے رہے تھے۔  

اچانک سامنے سے کچھ فوجی جوان آتے دکھائی دئیے۔

اُنہیں  دیکھتے ہی 2018 کا الیکشن ذہن میں آ گیا جب میں نے ایک فوجی جوان کو تھپڑ مارا تھا تو مجھے گھسیٹتے ہوئے لے گئے تھے اور ایم۔پی۔او کے تحت 2 ہفتے حوالات میں گذارےپڑے تھے۔ 

 آتے ہی انہوں نے بسکٹ اور پانی دیا۔ تھوڑی دیر بعد پراٹھا اور چائے دی۔ مگر اس وقت وہ فرشتے لگ رہے تھے۔

  ایک جوان جس کی عمر بمشکل 20 سال ہو گی بھاگ بھاگ کر ہر گاڑی کے پاس جا رہا تھا۔اس پر مجھے بہت پیار آ رہا تھا۔

 انہوں نے قریب ایک مسجد۔ایک سکول۔ ایک مدرسہ اور ایک خالی پولٹری شیڈ میں سینکڑوں لوگوں کو شفٹ کیا۔ مٹی تیل کے چولہے، لکڑیاں، کریٹوں کی پھٹیاں جلا کر ماحول گرم کیا اور کھانے کی چیزیں دینے لگے۔

 میجر ایک کرنل، خود اپنے ہاتھوں میں بوڑھوں کو اٹھا کر اندر لا رہے تھے۔

 بوڑھے مرد اور عورتیں بلا بلا کر ان کے ماتھے چوم رہے تھے اور۔ ۔ ۔ 

 میں، میرا بیٹا اور بہو ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے کہ ان کو پچھلے 5 سال سے گالیاں دے رہے تھے اور ہر محفل میں ذلیل کر رہے تھے۔

 رات کو سینکڑوں کمبل اور رضائیں آ گئیں۔پتہ نہیں اس خلائی مخلوق کہ پاس ہر چیز کا حل کیسے موجود ہوتا ہے؟۔  

اور اگلے دن اتوار کو ہم نکلے اور رات تک اسلام آبادپہنچ گئے۔ 

ابھی ،  رات کے 2 بجے ہیں سب سے زندہ بچنے کی مبارکیں لے کر بہن کہ گھر بیٹھا یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔ نیند کوسوں دور ہے۔ 

میں حلفاً  کہتا ہوں کی اگر فوجی نہ آتے تو اموات تقریبا" 1000 سے ہوتیں۔

 میری جان اور میرا ووٹ آج بھی میاں صاحب کی امانت ہے۔ 

مگر میں خدا کو گواہ بنا کہ کہتا ہوں کہ آج کہ بعد فوج کے خلاف میرے دل میں رتی برابر بھی گلہ نہیں اور میں، میری فیملی فوج کہ شکر گذار ہیں جنہوں نے انسانیت کو ایک بڑی سانحے سے بچایا۔

 میری تمام لیگیوں سے اور پورے پاکستان سے گذارش ہے کہ پاک فوج کی عزت اور قدر کریں۔
 پاک فوج زندہ باد

🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰٭٭٭٭٭

ہفتہ، 1 جنوری، 2022

القرآن ، محمد رسول اللہ و خاتم النبیئن کی تلاوت کے بعد دنیا میں پھیلا

 اُفق کے پار بسنے  والے ، اللہ اور   پر ایمان لانے والے میرے  نیک دل دوستو !۔

میرے فہم کے مطابق جو شائد آپ کے فہم سے نہ ملتا ہو ۔ لہذا میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اپنا فہم لکھ دوں ۔

تاریخ کے مطابق ، اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ تا
 الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ  آیات محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب پر 23 سال کے عرصہ یعنی یکم نبوی تا 10 ذی الحج 23 نبوی کے درمیان ۔ نازل ہوئی ۔ جن کی تمام ترتیب ۔
  بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سے مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ تک عربی کے الفاظ ،  مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ نے 10 ذی الحج 23 نبوی کے بعد کی اور اُن کے بقول القرآن کا ، اُن پر نزول  مکمل ہوا ۔
اُنہوں نے اسی ترتیب میں تاریخ کے مطابق ،
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سے مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ   تک ، القرآن کو روح القدّس ( جبریل امین ) کو سنایا ۔ اور پھر اِسی ترتیب میں اللہ کے منتخب صحابہ کو حفظ کروایا ۔ نہ کہ  اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ تا
 الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ ۔
 مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ کی تلاوت کے بعد ،  حفظ کا یہ سلسلہ مسلسل بڑھتا  ہوا دنیا میں پھیلا ۔
 القرآن کو دنیا میں پھیلانے کے لئے ، اِس کی کتابت ایمان والوں نے کروائی  ۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ انسان مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ کی تلاوت کردہ آیات سے مستفید ہوں ۔جو میرے اور آپ کے پاس ہے ۔ کیوں کہ میں حافظ نہیں ۔ 

    ویب پر  اور کتاب کی صورت میں میرے پاس موجود۔ ، 
 الکتاب سے ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سے مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ تک آیات پڑھتا ہوں اور سمجھتا ہوں ۔
 اور یہ ایمان کامل رکھتا ہوں ، کہ یہی وحی ءِ متلو ،    روح القدّس کے ذریعے اللہ کے ،   مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ  تک پہنچائی گئی ہیں اور یہی اُنہوں   نے انسانوں پر تلاوت کی  ۔ جس سے انسانوں کو عربی میں الْكِتَاب  کا علم آیا  اور ایمان والوں نے الْقُرْآنَ   پر عمل کیا ۔
الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ وَقُرْآنٍ مُّبِينٍ[15:1]
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اُفق کے پار بسنے والے ، نیک دل نوجوانو  آپ کو اللہ اِس دنیا میں اپنی امان میں رکھے ۔
اِس 68 سالہ بوڑھے کے فہم کے مطابق ، محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب نے اپنے دھانِ مبارک سے ، 
الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ   کو بتایا :۔
٭۔  القرآن اُن پر روح القدس (جبریل)  نے نازل کیا ۔
٭۔روح القدس (جبریل) نے بتایا کہ یہ اللہ کی طرف سے  کلام ہے اور نباء الغیب ہے ۔ اور سو فیصد الحق ہے  ۔   اللہ نے نازل کیا ۔
٭۔  اِس نزول کو محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب کے علاوہ روح القدس (جبریل)   سے اُن کے کسی ساتھی  نے نہیں سنا ۔ 
٭۔ وہ  مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ہیں ۔
٭۔   اُن پر نازل ہونے والی اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ تا
 الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ ۔جس کی وہ 
اپنے دھانِ مبارک سے ،الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ   کے سامنے  تاریخ کے مطابق 23 برس تک ،  تلاوت کرچکے ہیں ،   پر ایمان لانا ضروری ہے  ۔
   ٭۔ القرآن (الکتاب) کے حفّاظ کو
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سے مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ تک حفظ کرنا لازمی ہے ۔ اور یہ سلسلہ مسلسل چلتا رہے گا ۔ 
٭۔  خَاتَمَ النَّبِيِّينَ   سے قبل رسول و نبی بھیجے گئے ۔
 ٭۔
خَاتَمَ النَّبِيِّينَ  ، کے  بعد کوئی نبی یا رسول نہیں ۔
  ٭۔ جس نے
خَاتَمَ النَّبِيِّينَ کے  اوپر ، اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سے مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ   تک کی وحی سے متعلق کوئی کذب بیان کیا وہ سیدھا جہنم میں جائے گا۔
  اگر میرا بالا فہم آپ کے فہم کے مطابق ہے ، تو سبحان اللہ ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
لیکن سوال پیدا ہوتا ہے  ، کہ ہمارا اختلاف کیوں ہے ؟ 
٭۔ عمل کے فرق سے ۔
٭۔  علم کے فرق سے ۔
تو اِس میں کوئی حرج نہیں۔
 
لیکن اگر ۔   جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ کے بعد بَغْيًا بَيْنَهُمْ کی بنیاد پر  ہے ۔
تو ہمارے اختلاف کو ختم ۔بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سے مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ تک عربی کی آیات ہی کر سکتی ہیں ۔ جومُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ کے دھانِ مبارک سے تلاوت ہونے کے بعد اللہ کے منتخب حفّاظ کے ذریعے ہم تک پہنچیں ۔
٭٭٭۔ یہ بات یاد رہے کہ اللہ کے منتخب حفّاظ، اللہ کے حافظون کی ٹیم کا اہم حصہ ہیں اور رہیں گے ، جب بھی اُنہوں نےاللہ کی آیات سے کذب کرتے ہوئے ،  الکتاب کا علم ، القرآن کے علاوہ دینے کی کوشش کی تو اللہ اُن سے اپنی آیات  سَلَخَ کر لے گا اور وہ  مَثَلِ الْكَلْبِ ہوجائے گا         ۔ایسے لوگ اللہ کی طرف سے سب سے بُری مثال ہیں ۔
لہذا۔ میری حافظون سے درخواست ہے کہ وہ  ترجموں   اور من دون اللہ الہٰوں کا تفاسیری اور فتاوی  علم مت حاصل کریں۔ شکریہ 

(محمد نعیم الدین خالد۔  1 جنوری  2022)
 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کیا ،من دون اللہ الہٰوں کی تاریخی کتابوں  کے مطابق ، محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب پر  اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ تا     لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ  تک نازل ہونے والا قرآن ، واقعی محفوظ ہے ؟
پڑھیں ، تاریخ سے ایک  ہوش رُبا ریسرچ ۔تصویر پر کلک کریں شکریہ 
 مزید پڑھیں
  
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔