Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
شگفتہ گوئی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
شگفتہ گوئی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 10 جون، 2024

فوجیانہ مزاح اور ایک جدی پشتی فوجی

 ڈاکٹر محمد اسماعیل جوئیہ  ۔ ہمارے شگفتہ گو  محفل کے  شگفتہ دوستوں میں سے ہیں ۔ آپ کہیں  گے بھائی  ضرور ہوں گے ۔ بڑھاپے میں ہمارے بھی کئی ڈاکٹر  دوست ہیں ۔ جیسے دانتوں کا ڈاکٹر ، آنکھوں کا ڈاکٹر ۔ کان ، ناک اور گلے کا ڈاکٹر ۔پھیڑوں کا ڈاکٹر ۔ذیابیطس کا ڈاکٹر اور اب قلب کا ڈاکٹر  ، وغیرہ وغیرہ ، ارےارےبھائی ذرا صبریہ سب ڈاکٹر تو ہمارے بھی دوست  ہیں ۔ لیکن یہ ادب کے ڈاکٹر ہیں اور مزے کی بات فوجیانہ مزاح کے باوردی ڈاکٹر بھی ہیں ۔

 شگفتہ گو  محفل  کا آغاز 28 ستمبر 2018 میں اللہ کی امان میں جانے والے ہنس مکھ دوست انجینئر آصف اکبر  اور ڈاکٹر عزیز فیصل نے شروع کیا ۔شائد دونوں شعر سنا سنا  کر  بور ہوچکے تھے۔ چنانچہ  مزاح میں نثر   کے لئے   مزاح کے نئے پودوں کی  آبیاری     کی کوشش میں اُنہوں نے اپنے باغیچہ میں ہمارا  بوٹا  بھی چن لیا ۔ گو یا ۔

 پتہ پتہ بوٹا   بوٹا  حال ہمارا    ۔۔۔۔

معذرت! یہ کیا بھیانکر غلطی سرزد ہونے لگی تھی ، اپنی یا اشعارِ اغیار کا اِس محفل میں قطعی داخلہ ممنوع  قرار دیا گیا تھا  ۔

پہلی محفل   مناثرہ کا آغاز  ۔ جناب آصف اکبر کے   دولت کدے سے  ہوا ،   پھر  ہر ماہ کے پہلے ہفتے کو متواترقہقہوں بھری یہ محفل لائن حاضر ہوتی   اور پھر کرونا نے سب کو آن لائن کردیا  ۔ کرونا کے اختتام  پر کبھی لائن حاضر اور کبھی آن لائن گھروں سے قہقہے بکھیرے جاتے ۔ لیکن 28 ستمبر کو جو سالگرہ منائی جاتی وہ آصف اکبر کی یاد میں منائی جاتی ، پہلے  شگفتہ گویاؤں  کی یہ محفل محدود تھی لیکن آہستہ آہستہ اِس میں حسب ذوق شگفتگین دوستوں کا اِس شرط پر اضافہ  کیا گیا ۔ کہ نثری ادبی حدود  میں رہنے والے  احباب کا انتخاب کیا جائے  یوں، ڈاکٹر محمد اسماعیل جوئیہ       کابوٹا  نہیں بلکہ  شجرِ سایہ دار بھی  اِس باغ میں لگا دیا  گیا  ۔

اور پھر نیوٹن کے سیب کی مانند ایک زناٹے  سے ، دو کٹھل  شجر مزاح سے 26 مئی 2025  کے گرم دن  میرے سر پر گرے۔

اِس بانگ کے ساتھ ۔"سر برائے تبصر ہ و تنقید"۔

باوردی/فوجیانہ مزاح ۔ ھو ھو اور ھاھا ۔یہ بھی کوئی بات ہوئی کبھی مزاح کو آپ نے فوجی وردی میں ملبوس دیکھا کے ۔ نہیں نہ کیسے دیکھا ہوگا ؟ کیوں کہ آپ یا آپ کے جد باوردی نہیں تھے ، ممکن ہے کہ چچا ، تایا یا بھائی ہوں گے تو آپ کو کیا لینا ۔ خیر میرا بچپن جب لڑکپن میں داخل ہوا ، تو ہمارے گورنمنٹ برکی مڈل سکول ایبٹ آباد  کے پیچھے ایک ڈرامہ ھال میں والد اپنے دوستوں کے ساتھ لے گئے جہاں بہت سارے فوجی مَفتی پہنے پہنے بنچوں پر  بیٹھے تھے ۔اور تمام جے جی اوز سرخ بلیذر اور ٹائی لگائے       کرسیوں پر اور سب سے آگے ایک لائن میں آفیسرز جو سارے ڈاکٹر تھے  سوٹ پہنے بیٹھے تھے  کہ بگل بجا اور  آرمی میڈیکل کو ر سنٹر کے کمانڈنٹ صاحب ، سیکنڈ اِن کمانڈ ، ایڈجوٹنٹ ، کواٹر ماسٹر کے ہمراہ ھال میں داخل ہوئے ، سب حاضرین کھڑے ہوئے ۔ سنٹر صوبیدار میجر نے سلیوٹ مارا  اور مہمانِ خصوصی   اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہوگئے ۔
سامنے سٹیج تھا جس پرمختلف پروگرام شروع ہوئے ، اُس کے بعد ھال کے تمام نوجوانوں نے زور زور سے قہقہے لگانے شروع کردیئے۔ اباکی طرف دیکھا تو وہ بس مسکرا رہے تھے۔ گھر آکر معلوم ہواکہ وہ سب سینیئر کی نقلیں اتار کر مذاق اُڑا رہے تھے ۔ اور سب ہنس رہے تھے ۔ یہ مذاق یا مزاح سے ہمارا پہلا تعارف تھا یہ کوئی 1962 کی بات ہے     ۔

سویلئن مزاح سے ہماراتعارف بچوں کے رسالوں کی حد تک تھا ۔ لیکن فوجی مزاح  چارلی چپلن  کی فلموں تک محدود ، جو اِسی ڈرامہ ھال میں اتوار کو دکھائی جاتی ، یاجب ہم سنٹر کے پریڈ گراونڈ میں پریڈ کرتے دیکھتے۔ جب   غور کیا تو   یہ انکشاف ہوا  کہ فوجی باوردی  مزاح تو ہمارے چاروں طرف بکھرا ہوا ہے ۔ جو ہمارے  والد کے بیٹ مین  سے شروع ہوتا  اور پھیلتا ہوا دوسرے  بیٹ مینوں تک چلا جاتا ۔ کیوں کہ یہ کلّی اِن پڑھ ہوتے ۔ اِن سے جو احمقانہ حرکات سرزد ہوتیں وہ مزاح کے طور پر محفلوں کی جان بن جاتیں ۔

نوجوانی میں کرنل محمد خان کی کتابیں سٹیشن لائبریری سے لے کر پڑھیں جو خالصتاً افسرانہ روئدادِ مزاح تھیں ۔اکیڈمی گئے تو پہلے مزاح پر مضمون  بقلم خود  فرسٹ ٹرم میں لکھا اور قیادت میگزین کی زینت بنا ۔ اُس کے بعد کئی مضامین لکھے ، کورس میٹس کے مطابق اُن میں مزاح ہوتا اور ہمارے خیال میں وہ آپ بیتی یا جگ بیتی ہوتی۔ اور   تنقید تو دور کی بات دیگر مضامین پر تبصرہ کرنے کی ہمت نہیں ہوتی ۔کیوں؟ ۔ کہ ایک گولہ فائر کرنے کے بعد دشمن کی طرف سے فی توپ 6 گولے کیسے بھگتے جاتے جب کہ مخالفین کے پاس دو یا تین نہیں بلکہ پوری  18 توپیں ہوں ؟

   لہذا ۔   ڈاکٹر محمد اسماعیل جوئیہ کےحکم پر کان لپیٹ  لئے وجہ کہ ڈاکٹر صاحب کو جو پہلا تراشا بھیجا اُسے  مزاح سمجھنا، توہینِ مزاح ہے ۔ 

جس پر جو کمنٹ ہم نے لکھا وہ ناقابلَ اشاعت تھا ۔ 

آج 10 جون کو ، میں نے غلطی سے ایک پوسٹ نیوز فیڈ میں ڈالی اور اُس نے ڈاکٹر صاحب کے دروازے پر دستک دی ۔ ڈاکٹر صاحب نے کواڑ کھولے بغیر وائس میسج بھیجا ۔ کہ آپ کے تبصرہ و تنقید کا انتظار ہے بے شک کتابیں  تھوڑا پڑھ کر تبصرہ لکھیں اور جہاں تنقید کی ضرورت ہو وہاں تنقید لکھیں شکریہ  
میں نے جواب دیا ۔

آج موڈ ہے شائد شام تک کتاب لکھ دوں وہاں سے اپنے مطلب کی لائنیں کشید کر لینا ۔ شکریہ

اب یہاں تک پہنچ کر میری سائیکل کے  کنگریاں اِس ناقابلِ عبور چڑھائی پر فیل ہونے لگیں  ۔ ڈاکٹر صاحب کے مشورے پر اب پیدل اِس چڑھائی کو چڑھنا پڑے گا ۔ دعا کریں کہ کامیابی ہو ۔

پہلی چڑھائی ۔ 

٭-باوردی مزاح ۔ڈاکٹر محمد اسماعیل جوئیہ ۔188 صفحات

دوسری چڑھائی ۔ 

٭-فوجیانہ  مزاح ۔ڈاکٹر محمد اسماعیل جوئیہ ۔135 صفحات

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 

 

 

 

 

 ٭

اتوار، 1 اکتوبر، 2023

پرچونی والی کہانی

"آوا ہمیں پرچونی والی کہانی سنائیں "۔ لڈو اور برفی کے ساتھ دادی ماں کے پاس بیٹھی  ہوئی چم چم نے کہا۔ جو آپ نے ماما ، ششی مو اور مانی مو کو لے کر دی ۔
بوڑھے نے کہانی شروع کی ۔ چم چم ، ڈو اور برفی آپ کے ماما اور بابا آپ کی عمر کے تھے ، نہیں بلکہ آپ سے بڑے تھے ۔یہ  مئی 1990 کا ذکر ہے بڑھیا ، چھوٹی کو لے کر اپنے بابا کے ساتھ شور کورٹ اپنی بہن کی بیٹے کی ولادت پر ملنے گئی ، چم چم کی ماما ، ،ڈو کا بابا اور برفی کا بابا ، بوڑھے کے پاس رہ گئے ، اُن کی موجیں۔
ایک ہفتے کو چم چم کی ماما  نے اپنے پپا سے پوچھا  " پپا آپ بچپن میں کیا کھایا کرتے تھے "۔ 
بوڑھے نے کہا ،"جو ہم کھاتے تھے وہ آپ لوگ نہیں کھا سکتے "۔ 
برفی کے بابا نے پوچھا،"کیا وہ چیزیں اب بھی ملتی ہیں "۔ 
بوڑھے نے کہا جی بالکل ملتی ہیں ، 
برفی کے بابا نے کہا ، ہمیں دکھائیں ، وہ کیسی ہوتی ہیں ؟ 
بوڑھا اُن دنوں ، 3 سال کم 40 کا تھا ، چنانچہ اپنے تینوں بچوں کو اپنی ماضی کے دیس میں لے گیا ، جو حیدر آباد میں گھنٹہ گھر کے پاس تھا ۔ تینوں بچے حیران ، دکانوں پر ٹوکریوں میں پہاڑیوں کے ڈھیر کی طرح بوڑھے کا بچپن بکھرا ہوا تھا ۔بوڑھے نے اپنے بچپن کے دیس کے پہاڑوں کا تعارف کروانا شروع کردیا ۔
 یہ بتاشے ہیں ، وہ ریوڑیاں ، وہ کھٹی میٹھی گولیاں ، اور یہ تل پٹی۔
 وہ گول اور چپٹے مرونڈے ۔ یہ میوے کی چاکلیٹ ۔ 
یہ چھوٹے پیکٹوں میں مولی کا نمک ، کالا نمک ، یہ املی کے پیکٹ ۔چورن
وہ سفیدسفید  مخانے ، اُن کے ساتھ گجک اور  مونگ پھلی کی گڑ پٹی ۔
اِن پر مکھیاں بیٹھی ہیں ۔ یہ گندی ہیں ۔چم چم کی 10 سالہ ماما نے ناک چڑھاتے پوچھا۔ پپا آپ کیسے کھاتے تھے ؟
بوڑھے نے ایک بتاشہ اُٹھایا منہ میں ڈالا  اور کہا۔ ایسے ۔ 
میں ماما کو بتاؤں گی کہ آپ گندی چیزیں کھاتے تھے ۔چم چم کی ماما بولی
پپا میں کھالوں ۔ برفی کے بابا نے پوچھا۔ 
بوڑھے نے تین بتاشے اٹھائے اور تینوں بچوں کو دیئے ۔ چم چم کی ماما نے لینے سے انکار کر دیا ۔ لڈو کے بابا نے بوڑھے کی طرف دیکھا اورہاتھ میں پکڑ لیا۔ برفی کے بابا نے لیا اور منہ میں ڈالا ۔
گندے بچے ، منہ سے نکالو" چم چم کی ماما نے 8 سالہ برفی کے بابا پر حکم چلایا ۔
 لڈو کا بابا ابھی سوچ رہا تھا ۔کہ کھائے یا نہ کھائے  ، " اپیا یہ میٹھا ہے" ۔ برفی کا بابا چلایا ۔ "مزیدار بھی ۔ پپا ایک اور کھاؤں گا "۔
 بوڑھے نے چم چم کی ماما کا بتاشہ ، برفی کے بابا کو دے دیا اُس نے وہ بھی منہ میں ڈال لیا۔
 بھائی آپ بھی کھاؤ" برفی کے بابا نے ، لڈو کے بابا کو مشورہ دیا ،"ورنہ مجھے دے دو" ۔ 
لڈو کے بابا نے بتاشے کو غور سے دیکھا ۔الٹا اور پلٹا ۔ابھی کھانے کا ارادہ کر ہی رہا تھا ۔
 " ثانی مت کھاؤ" ۔ چم چم کی ماما چلائی ۔ "مانی گندہ  بچہ ہے ۔ تم اچھے بچے ہو ۔ میں ماما کو بتاؤں گی "۔ 
لڈو کے بابا نے بڑی بہن کی طرف دیکھا۔ 
چھوٹے بھائی کی طرف دیکھ۔ 
بوڑھے کی طرف سوالیہ نظروں دیکھا ۔
 تمھاری مرضی ، بوڑھے نے چار مخانے اُٹھائے  ایک برفی کے بابا کو دیا جو اُس نے فوراً منہ میں ڈال لیا ۔ 
"ثانی یہ بھی میٹھا ہے  اور مزیدار بھی" برفی کا بابا بولا  ۔
لڈو کے بابا نے بتاشہ منہ میں ڈالا ۔ 
"ہاں اپیا یہ میٹھا  ہے  "وہ بولا ۔" پپا اپیا کو بھی دیں ۔
بوڑھے نے  مخانا  چم چم کی ماما کی طرف بڑھایا وہ دوسری طرف منہ کرکے ناراضگی میں کھڑی ہو گئی ۔
" میں آپ سب سے نہیں بولتی ۔ ثانی مانی آپ نے ماما کا حکم نہیں مانا کہ بازار سے کوئی گدی چیزیں لے کر مت کھانا بیمار پڑ جاؤ گے "۔چم چم کی ماما نے اپنے کمانڈنگ آفیسر کا بطورسیکنڈ اِن کمانڈ آرڈر بتایا اور خاموش کھڑی ہوگئی ۔
بوڑھے نے پاؤ پاؤ تمام مٹھائیاں سوئیٹس خریدیں ۔ ہر مٹھائی کے لئے برنیاں خریدیں ۔ ناراض چم چم کی ماما اور خوشی میں چہکتے برفی کے بابا اور مستقبل میں ماما کے روئیے پر سوچتا ہوا لڈو کے بابا سمیت گھر آگئے ۔
ساری چیزیں برنیوں میں ڈالیں۔ ہر پر اُس کا نام  اور فی بچہ ایک دن میں کتنی کھا سکتا ہے لکھا  اور ڈائینگ ٹیبل کے کونے پر سجا دیں ۔ برفی کے بابا کو انچارج بنایا گیا ۔کیوں کہ چھوٹی یعنی ایجوٹنٹ اپنی ماما کے ساتھ گئی ہوئی تھی ۔
     برفی کے بابا نے  چار  پلیٹوں  میں ، راشن کارڈ کے مطابق چیزیں نکالیں   ۔  تمام سوئیٹس ایک ایک ، کرکے نکالیں ۔ہر پلیٹ بتاشے  ، ریوڑیوں ، کھٹی میٹھی گولیوں،تل پٹی، گول اور چپٹے مرونڈے ۔  میوے کی چاکلیٹ ۔ مولی کا نمک ، کالا نمک ، املی کا پیکٹ ۔چورن۔  مخانے۔ گجک اور  مونگ پھلی کی گڑ پٹی سے   بھر گئی ۔
پپا یہ آپ کی ،  یہ ڈولی ، ثانی اور میری ۔ برفی کے بابا نے تقسیم بتائی ۔
یہ ایک دن میں کھا کر آپ سب بیمار پڑو گے پھر دیکھنا ۔ چم چم کی ماما بولی۔
اپیا ، میں نے کافی دیر پہلے میٹھی چیزیں کھائیں کوئی بیمار پڑا "۔برفی کا بابا بولا ۔" ثانی بھی ٹھیک ہے۔
"صبح دیکھنا  تم دونوں پیٹ پکڑے ہو  گے" ۔چم چم کی ماما  نے رائے دی ۔"پپا کا کچھ نہیں ہوگا ، وہ یہ گندی چیزیں کھا چکے ہیں" ۔
چم چم کی ماما نے وہ گندی چیزیں نہیں کھائیں۔ برفی کے بابا نے، لڈو کے بابا نے اور بوڑھے نے وہ چیزیں مزے سے کھائیں ۔ بوڑھا سو گیا ۔ شام کو اُٹھا تو دیکھا کہ چم چم کی ماما کی پلیٹ خالی ہے ۔ 
تو دوستو۔ ماماکی حکم عدولی میں چم چم کی ماما بھی شامل ہوگئی۔ 
مہینے کا سٹاک  ، ایک ہفتے میں ختم ،    اگلے اتوار ، بوڑھا ، چم چم کی ماما ، لڈو کا بابا اوربرفی کا بابا  دوبارہ  بوڑھے کے دیس گئے ۔چم چم کی مام نے لیڈر بن کر ،وہاں سے اور چیزیں لیں ۔
بڑھیا کے آنے کا پیغام ملا ۔بوڑھے نے تینوں بچوں کے ساتھ مل کر وہ سب جار بچوں کی الماری میں چھپا دیئے ۔ پھر بڑھیا ، چھوٹی کے ساتھ پہنچ گئی  ۔
لیکن چھوٹی نے الماری سے خزانہ دریافت کر لیا ۔
یہ کیا آپ نے پرچونی سجائی ہے ؟"   بڑھیا بولی " کوئی بیمار تو نہیں پڑا ۔
ماما ، پپا تو اپنے بچپن میں بڑی مزیدار چیزیں کھاتے تھے۔چم چم کی ماما بولی ۔
چھوٹی نے لپک   مخانے کی برنی اُٹھائی ۔ ماما یہ وہ سوئیٹ ہے نا جو میں وہاں کھاتی تھی     اور مٹھی بھر کر مخانے نکال لئے ۔ 
پنکی ، صرف ایک مخانا لینا ہے ۔ چم چم کا بابا چلایا ۔
یہ کیسی شاپ ہے ؟ بڑھیا نے چار بتاشے نکالتے ہوئے کہا ۔
بیگم یہ  Honour Shopہے اور اِس کا انچارج مانی ہے ۔
٭٭٭٭٭٭


ہفتہ، 11 جون، 2022

شگفتہ گوئی ۔ بوڑھے کی ڈائری ۔ بگھارے بینگن ۔

  اُفق کے پار بسنے والے میرے شگفتہ گو دوستو !  آج ماہ جون کا دوسرا ہفتہ ، تین بجے دوپہر یاد آیا کہ آج ، گھر بیٹھے محفلِ  مناثرہ سجائی جائے گی۔ وٹس ایپ کھولا تو نیا وقت 17:30 تھا جو چمک رہا تھا ۔ 
پروگرام کی ترتیب کے ساتھ :لہذا صوفے پر سو گیا کیوں کہ    ،  بجلی چلی گئی تھی ۔اٹھا تو نئی ترتیب آویزاں تھی ۔نذارت کے ساتھ ۔
 تمام ارکان سے گزارش ہے کہ شگفتگو کے ضابطے کا خیال رکھیں اور یہاں صرف اپنی تحریریں پیش کریں۔
بڑۓ مزاح نگاروں کی تحریریں ہم اور کئی جگہ پڑھ لیا کرتے ہیں۔۔
پروگرام کی ترتیب
5:30 بسم اللہ سے آغاز
5:35 - خالد مہاجر زادہ
5:50 - عاطف مرزا
6:05 - ڈاکٹر عزیز فیصل
6:20 - سید سبطین رضوی
6:35 - خادم حسین مجاہد
6:50 - ڈاکٹر محمد کلیم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
  ۔ بوڑھے کی ڈائری۔  بگھارے بینگن
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بیگن کے بارے میں ہم بچپن میں اتنا جانتے تھے ، کہ اِسے "بتاؤں " بھی کہا جاتا ہے ۔  بتاؤں غالباً لمبے ہوتے اور بیگن گول ۔
تو بس بچپن سے ہی "بتاؤں و بیگن و بتنگڑ" ہمارے رقیب تھے ۔ نہ صرف ہمارے نہیں بلکہ سب بہن بھائیوں کے بھی بلکہ  اُفق کے پار بسنے والے میرے شگفتہ گو دوستو !
آپ بھی اِس اجتماعی گروپِ رقیبانِ بینگن میں یقیناً شامل ہوں گے، جس کا سرپرستِ اعلیٰ تو نہیں البتہ سرپرستِ شور و غوغاؤں میں شامل ضرور رہا ۔
ایک دفعہ نصف صدی سے بھی پہلے کا ذکر ہے، بوڑھے کو اچھی طرح یاد ہے کہ دادی اور چچا ہمارے پاس لاہور آئے ۔
 رات کو آٹے کے کنستر پر  شراشرتیں کرتے چوہوں میں سے ایک شامت کا مارا ، چچا کے ہاتھوں اسیرِ موت ہوا ۔
وہ اسے دم سے پکڑ کر لٹکائے ہوئے ۔ ہمیں ڈرانے لگے ۔ کبھی پنڈولم کی طرح ھلاتے اور کبھی گھڑیال کی سوئیوں کی طرح ۔ میں اور آپا چادر میں منہ چھپائے چینخیں مارتے ۔

کوئی دوسرا یا تیسرا دن تھا ۔ امی نے "بینگن" بنائے ۔
امی چونکہ اجمیر کی رہنے والی یوسف زئی پٹھان تھیں لیکن مختلف ہندوستانی کھانے پکانے میں ید طولیٰ رکھتیں تھیں ۔ لہذا مصالحے دار بینگن، بگھارے بیگن ، بینگن کا بھرتہ ، بینگن بھرے پراٹھے اور تلے ہوئے بیگن بنا کر ابا کے دل میں اترنے کا راستہ بناتیں ۔ بلکہ ٹنڈے ، لوکی ، کدّو ، کے خاندان کی تمام سبزیاں وہ مٹی کی ہانڈی میں ایسے گھماتیں کہ اُن کے بلبلانے کی آواز ہمیں صحن کے دروازے کے باہر سنائی دیتی۔ ہمیں یعنی مجھے اور آپا کو پوری آزادی تھی کہ وہ الٹے توّے کی روٹی پر دیسی گھی چپڑ کر اُس میں حسبِ ذائقہ سے بھرپور چینی ڈالیں اور رول پراٹھا بنا کر کھائیں ۔ جو بعد میں ہمارے بچوں کے لئے اگلو قرار پایا ۔ کیوں کہ اُن کے مطابق پراٹھا توے پر تلا ہوتا اور یہ سادہ روٹی خیر ۔
اُس دن میں اور آپا رول پراٹھا کھا رہے تھے ، کہ چچا نے ، سالن میں لتھڑے کالے رنگ کے بتاؤں کو اُٹھایا اور منہ میں ڈالتے ہوئے کہا ،
"بھابی ! آج تو کھانے کا مزہ آگیا " ۔
" تتا، تتا ، توہا توہا '' چھوٹا بھائی چلایا ۔
میں نے نظریں اٹھا کر دیکھا ، اور رات کا منظر میری آنکھوں کے سامنے گھوم گیا ۔ بینگن، چوہے کی طرح جھولتا ہوا ، چچا کے منہ میں غائب ہو رہا تھا ۔
اُف ، یہ منظر ذہن پر نقش ہو گیا ۔جونہی گھر میں بگھارے بینگن پکتے ، میں کھانا کھانے سے انکار کر دیتا ۔ ہاں البتہ بینگن کا بھرتہ چکھ لیا کرتا ۔
اللہ تعالیٰ جنت میں اونچا مقام عطا فرمائے ۔ والد کا ایک ہی شوق تھا ، گھر کے سامنے خالی جگہ پر سبزیوں کا کھیت  لگانا ۔ فوج میں گھروں کے پیچھے کافی جگہ ہوتی تھی ، یہ 1957 کا دور تھا ۔ کنال سے لے کر چار کنال تک آپ کاشت کر سکتے تھے ۔ ورکنگ مل جاتی ، پانی بے تحاشا ، کھاد ڈیری فارم سے مل جاتی ۔ یوں کچن فارمنگ بوڑھے کی گھٹی میں پڑ گئی جہاں خالی زمین گھر کے ساتھ دیکھی وہیں ۔ باغیچہ بنا دیا ۔
پانچ دس گھروں میں سبزیاں بھیجنا روزانہ جانا معمول ہوتا ، اور بچے ہم سے جھگڑتے ، لیکن ہم خود مظلومین میں شامل تھے ۔  
نواب شاہ میں ہم ، ماموں کے گھر میں  1960" بیگن" سے متعارف ہوئے ، وہاں بتاؤں ، کو کوئی نہیں پہچانتا تھا ۔ بس لمبے بینگن اور گول بینگ ۔  پتلے بینگن اور موٹے بینگن ، میرپورخاص اور حیدر آباد میں بھی بیگنوں کی حکومت تھی ۔ ہاں البتہ بہاولپور میں بتاؤں اور بیگن دونوں چلتے تھے ۔
آج کل ہم دونوں میاں اور بیوی ، وزن کم کرنے کے لئے ، روزانہ واک پر نکلتے ہیں - لمبا چکر کاٹ کر مارکیٹ پیدل جاتے ہیں ۔ کچھ چیزیں خرید لیتے ہیں ۔
 بیگم سبزی کی دکان میں گئی کہ فرج میں سبزیاں ختم ہو گئی ہیں وہ خرید لیتے ہیں ۔ سبزی کی دکان موسمِ سرما کی سبزیوں سے بھری ہوئی تھی ۔
بیگم نے پوچھا ، " کیا سبزی لی جائے؟"
 ہم نے کہا ، " آلو، اروی ، گوبھی اور پالک لے لو " ،
بیگم  نے اروی کو آلو کی قبیل کا بتاتے ہوئے ، آلو کو ترجیح دی ۔ پالک بھی لی ۔
اُن کی شدت سے خواہش تھی کہ کدو یا گھیا توری لی جائے ۔ اِس سے پہلے ہمیں غَش آجاتا، ہماری نظریں ، بیگن پر پڑی ۔ ہم نے کہا
" جس طرح اروی اور آلو زمین کے نیچے اُگنے کی وجہ سے ایک قبیلہ بنتا ہے اِس طرح ، زمین کے اوپر اُگنے کی وجہ سے ، کدّو اور گھیاتوری کا بڑا بھائی بیگن اہمیت رکھتا ہے جب بگھارا جائے"۔
تو قارئین ، بیگن کے ڈھیر میں سے اُنہوں نے فقط چار بیگن چنے ، متناسبُ الاعضا و رنگت اور سر پر سبز رنگ کا تاج ۔
ہم نے کہا،
"بیگم بزگوں نے کہا ہے کہ بلا شبہ ، شہنشاہ کی موجودگی میں ۔ چوبداروں اور دربانوں کو دسترخوان کی زینت بنانا گناہ کبیرہ ہے ۔ "
اُنہوں نے گھیا توری اُٹھاتے ہوئے کہا،
" اکثر بیویاں چونکہ خاندانِ غلاماں سے تعلق رکھتی ہیں ، لہذا انہیں چوبداروں سے بھی ہمدردی ہوتی ہے "

تو یوں ہمارے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ۔ جس کے مطابق ، اگر ہمارا دل چاہے تو ہم ، گھیا توری پر بھی مہربان ہوسکتے ہیں ، ورنہ ۔ ۔ ۔ ۔
ہمیں اتوار کے پکے ہوئے ، بیسن کے قتلے کھانے پڑیں گے ۔ المعروف کھنڈویوں کا رشتہءِ کبیر و لذیذ ۔
کبھی کھائے ہیں آپ نے فرج میں رکھے ہوئے ، تین دن پرانے بیسن کے قتلے ؟
نہیں نا !
یہ بوڑھا باسی کڑی کی طرح بیسن کے پرانے قتلوں کا بھی شوقین ہے ۔
اللہ آپ سب کو اپنی امان میں رکھے مکمل جزائے خیر کے ساتھ ، اگلے مناثرے تک ، شکریہ

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


جمعہ، 1 اپریل، 2022

کمیشن کا نوجوان امیدوار اور بوڑھی کتھا

جنٹلمین کیڈٹ ۔ محمد نعیم الدین خالد ۔ فرسٹ ٹرم اور رنگ زیب کمپنی پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول ایبٹ آباد ۔
معلوم نہیں کہ ماضی  کے  بعیدی  واقعات  کیوں چشمِ زدن میں   دماغ کی اتھاہ گہرائیوں کسی ڈولفن مچھلی کی طرح  اُفق کے پردے پر پوری جزئیات سے  نمودار ہوتے ہیں ۔
سر میں نے ریکروٹنگ آفس جانا ہے تاکہ 150 لانگ کورس کے بارے معلومات حاصل کرو ں۔
"واہ زبردست"   بوڑھا بولا ، شاندار آئیڈیا   ۔ ضرور کوشش کرو ۔ نوجوان حافظ حمزہ ریاض کو بوڑھے نے تھپکی دی ۔ کوئی مدد چاھئیے تو ضرور بتانا ۔  ابھی تھوڑی دیر پہلے حمزہ نمل یونیورسٹی سے لینگوئج کورس کی کلاس اٹینڈ کرکے آیا ۔حافظ حمزہ ریاض بوڑھے کی پوتی  برفی کو سپارہ پڑھاتا  ہے ، آج جمعہ کی چھٹی تھی   تو بوڑھے نے اُسے ، فوج میں کمیشن لینے کے گُُر پڑھا دیئے  اور بوڑھا اُس کے جانے کے بعد ،  اپنے ماضی میں گم ہوگیا ۔    بوڑھی داستان جوان ہو کر سامنے آگئی  ۔
 یہ  1974 اپریل کی ہی  بات ہے کہ تحریری  امتحان  کے  ڈیڑھ ماہ بعد ہمیں یہ مژدہ پڑھنے کو ملا کہ۔ میڈیکل بورڈ کے سامنے سی ایم ایچ ملیر کینٹ میں پیش ہوں۔ اِس کا مطلب تھا کہ ہم تحریری امتحان میں پاس ہوگئے ہیں۔
 بس کیا تھا ہم تیسرے مرحلے کے لئے تیار ہونا شروع ہوئے۔ ارسطو اور افلاطون نے ہمیں ایک کام کی بات بتائی کہ،
 ”کھانسنے کے بعد ڈاکٹر یک دم  امیدوار کا پیٹ پکڑ کر زور سے دباتا ہے اور اُس کے بعد ٹونٹی لگا کر دل کی دھڑکنیں گنتا ہے۔ بس وہاں تیار رہنا  وہ سب سے خوفناک مرحلہ ہوتا ہے“
 ہم میڈیکل کے لئے پہنچے وہاں بھانت بھانت کے لوگ آئے تھے۔ 
ہم  میڈیکل میں کامیاب ہوگئےاور آئی ایس ایس بی ،کے آخری مرحلے کی تیاری میں مصروف ہونا پڑا ۔  تیاری کیا تھی بس اپنی انگریزی کو انگلش میں تبدیل کرنا تھا۔ 
افلاطون نے کہا ،" انگلش فلمیں دیکھو ، انگلش "
ارسطو نے کہا ، "ابے ، اُس  کی انگلش ٹھیک کروانے کا بول کردار خراب  کروانے کا نہیں "  

پھر ارسطو نے ہمیں اپنے گھر سے ، آئی ایس ایس بی کی تیاری کی کتابیں لا کر دیں ۔   جو بقول اُس کے نئی نکور تھیں ۔ کیوں کہ اُس نے اُنہیں چُھوا تک نہیں ۔ہمارے پاس بھی وہ تقریباً نئی نکور ہی رہیں ۔

 ستمبر  1974 کے آخری دن ہمیں لیٹر ملا کہ 27 اکتوبر سے 31 اکتوبر کے درمیان   ، ہمیں کوہاٹ میں انٹر سروسز سلیکشن بورڈ کر روبرو پیش ہونا ہے ۔
 لہذا  ہم 27 اکتوبر 1974 کے دن 1500 بجے سے پہلے پہلے ، ڈپٹی اسسٹنٹ  ایڈجوٹنٹ جنرل کے پاس رپورٹ کریں ۔
    ریل سے راولپنڈی کا  عوامی میل میں سفر  ، دو دن چچا کے ہاں قیام اور پھر وہاں سے   بس  اڈے پر پہنچے جہاں ، سے آدھی بس  " فیوچر کمیشنڈ آفیسراں " کی تھی ، بس میں نوجوانوں کی موجودگی کے باوجود پراسرار ، خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔ جن کے جلو میں  کوہاٹ  پہنچے۔
  " فیوچر کمیشنڈ آفیسراں " کا یہ قافلہ ،  بس اڈے پر آئی  ہوئی ،ایس ایس بی کی بس میں بیٹھ کر ، منزلِ مقصود  پہنچا ، جہاں اپنے کاغذات دیئے ، ایک چٹ دی جس میں کمرے کا نمبر اور چیسٹ نمبر لکھا تھا ، ویٹرز نے سامان اٹھایا ، کمرے میں پہنچے ، خودکو تازہ دم کیا اور میس پہنچ گئے۔ جہاں ہمیں بریفنگ دی گئی اور فارم بھروائے گئے اور اگلے دن ہمیں ٹیسٹوں کے رولر میں سے گذارا جانے لگا اور یوں چوتھا دن آگیا۔ گو کہ ہمیں تقریباً   آئی ایس ایس بی  کی کٹھالی سے گذرے نصف صدی گذر گئی  لیکن کل کا واقعہ لگتا ہے ۔تین دن آئی ایس ایس بی میں گذار کر  چوتھے دن   ہمیں  دن ہمیں نامہ اعمال ملنا تھا۔ سب ایک دوسرے سے اپنی پرفارمنس کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔  اپنی پرفارمنس کے بارے میں ہر امید وار ، پُر امید تھا۔کہ وہ یقیناً منتخب ہوجائے گا ۔
سوائے ہمارے  ،وہ یوں کہ جب ڈپٹی  پریذیڈنٹ نے اپنے انٹرویو میں پوچھا،
”اخبار پڑھتے ہو؟“
 ہم نے جواب دیا،”نہیں“ ۔ 
”کیوں؟“ اُنہوں نے پوچھا۔
”سر ! میں  بی اے فائینل ائر کے امتحان دے رہا ہوں، وقت نہیں ملتا“  ہم نے جواب دیا۔
”آج اینٹی روم میں اخبار تو دیکھا ہوگا؟“ سوال ہوا۔
”جی سر!“  ہم نے جواب دیا۔
”اُس میں سے کیا پڑھا؟“ انہوں نے پھر پوچھا۔
 ”سر جو صفحہ میرے ہاتھ آیا اُس میں سے صرف ٹارزن کی کہانی پڑی“  ہم نے جواب دیا۔
 ”ہوں ں ں ں،" ایک لمبا ہنکارا  بھر کر پوچھا ،
"  کیا تھا اُس میں؟“
ہم  وہ قسط سنا دی جو اخبار میں تھی۔
”تمھیں ٹارزن کی کیا بات پسند ہے؟“ پھر سوال ہوا  ۔ 
”سر، ٹارزن مضبوط کردار کا ایک ہمدرد انسان ہے جو مصیبت میں گھرے لوگوں کی مدد کرتا ہے“۔ہم نے جواب دیا ۔ 
اُنہوں نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے،  مسکرا کر پوچھا،
”اور اُس کی بیوی جین تمھیں کیسی لگتی ہے؟“۔
 ”سرو ہ بھی ٹارزن کی طرح ایک بہادر اور ہمدرد عورت ہے“ ہم نے جواب دیا ۔ 
”اچھا اگر تم نہ سلیکٹ ہوئے تو آئیندہ کیا کروگے؟“  انہوں نے پوچھا۔ دل میں سوچا سر غلیل تو ہر حالت میں بنانی ہے ۔ خوا ہ سائیکل کی ٹیوب سے بنے یا  ۔ ۔ ۔ ۔  !
 ”سر میں اکنامکس میں ماسٹر کرنے کے بعد ایجوکیشن کور کے لئے ایپلائی کروں گا“ میں نے جواب دیا۔ 
”گڈ ٹھیک ہے۔ ایجو کیشن آفیسر، تم جاسکتے ہو، وش یو گڈ لک“  انہوں نے مستقبل بعید کی امید دلائی ۔
یوں  آفس سے کشتیاں جلا کر باہر نکل آیا۔ سب اینٹی روم میں بیٹھے ہوئے ، ایک بجے کھانا کھایا ، کھانے کے بعد میس کے سامنے  جمع ہونے  کا حکم ملا ،  تھوڑی دیر بعد ایک سٹاف آیا اور بولا،
”جن صاحب کے میں نام پکاروں وہ سب پریزیڈنٹ صاحب کے انٹرویو کے لئے رک جائیں گے اور باقی تمام صاحب ،اپنی کلیرینس کروا کر گھر جائیں۔ لیٹر اُن کے گھر آجائیں گے"۔
 کوئی پندرہ امیدواروں کے نام پکارے گئے۔ اُن میں سے ایک ہمارا بھی تھا۔  وقار، ذوالفقار، فاروق،طغرل،   وغیرہ کے نام یاد   ہیں ۔ کیوں کہ ہم سب ساتھ پی ایم اے  گئے تھے۔
 ہم سب کو سلیکشن کا مژدہ سنایا گیا اور کچھ فارم بھروائے گئے اورعصر کے بعد   " فیوچر کمیشنڈ آفیسراں " نے  آئی ایس ایس بی سے گھر اور پھر اکیڈمی جانے  کے لئے خوشی خوشی  رختِ سفر باندھا۔
اِس خوشی کے عالم کا لمحہ، شگفتہ گوئی کے  جناب مرزا صاحب سے   پوچھا جاسکتا ہے ۔

جمعرات، 13 اگست، 2020

زنانہ خراٹے اور مردانہ غراٹے

آصف اکبر سے فون پر خیرو خیریت  کے لئے رابطہ کیا  حالاتِ حاضر ہ  و ناظرہ کے بعد  طبیعاتِ عمر رسیدگی و بوسیدگی کا باب کھولا ، اُنہوں نے مشورہ دیا  کہ بہتر ہے الگ کمروں میں سویا جائے ۔  تاکہ طعنے  اور غراہٹ نہ سننی پڑیں :
کیا بچوں کی طرح کان میں  ہیڈفون لگائے سن رہے ہیں ؟
آپ کے لیپ ٹاپ کی روشنی ، سے نیند خراب ہوتی ہے!
کیا آپ خاموشی سے ٹائپ نہیں  کر سکتے جو ٹائپ رائٹر کی طرح کھڑ کھڑ ا رہے ہیں ؟
یہ آدھی رات کو کِس  سے گپیں لگ رہی ہیں ؟ 
بھائی کیوں دشمنی کرنے پر تلے ہو ؟ اِس عمر میں الگ کمرے  میں سونے کا مطلب تو یہ ہے کہ صبح ہی معلوم ہو کہ بوڑھا ، دارِ فانی سے کوچ کر گیا ہے   یا بڑھیا   -
رات کو کم از کم ، ایک دوسرے پر نظر تو ڈال لیتے ہیں کہ سانس چل رہی ہے یا نہیں !
ویسے بھی اِس عمر  میں ویسے ہی سانس سے زیادہ خراٹے زندگی کا ثبوت دیتے ہیں ۔ 
ایک دفعہ چم چم کو عدیس ابابا میں بوڑھے اور بڑھیا کے ساتھ سونے کا شوق چُرایا ۔ بڑھیا نے اپنے ساتھ سُلانے سے انکار کر دیا ۔کہ تم رات کو سوتے میں بہت اچھلتی ہو ۔ بوڑھے نے اپنے بیڈ کے ساتھ نیچے میٹرس بچھا لیا  تاکہ اگر بوڑھا گرے تو زیادہ چوٹ نہ آئے ، ویسے بھی اِس عمر میں ہڈیاں گورنمنٹ کے منصوبوں کی طرح جڑتی ہیں اور پائداری بھی نہیں ہوتی -
خیر چم چم بوڑھے سے نمو کے   بچپن کے قصے سنتے سنتے سوگئی اور بوڑھا چپکے سے میٹرس پر اتر کر سو گیا۔
صبح چم چم اُٹھی ، تو شکوہ کیا کہ وہ بہت ڈسٹرب نیند سوئی ، کیوں کہ  آپ دونوں بہت زور سے سنورنگ کرتے ہیں -
ویسے آوا ، آپ نانو سے زیادہ سنورنگ کرتے ہیں  اور بابا  بہت  زو ر سے سنونگ کرتے ہیں ، کیوں؟ - چم چم نے پوچھا 
" بات یہ  مردوں کے زور سے سنورنگ کرنے کی خاص وجہ ہے " بوڑھا بولا
وہ کیا ؟ - چم چم نے پوچھا 
" آہ یہ ایک لمبی ، مزاحیہ اور درد بھری کہانی ہے ، کبھی وقت ملا تو سناؤں گا"۔ بوڑھے نے سسپنس پیدا کرتے ہوئے کہا ۔
"نہیں ابھی سنائیں " چم چم بولی ۔
" دن کو کہانی نہیں سناتے ، مسافر راستہ بھول جاتے ہیں " بوڑھا بولا
" آوا، آپ  کون سا مسافر کو کہانی سنا رہے ہیں ؟" چم چم نے جواب دیا 
" سنا دیں نا کیوں تنگ کر رہے ہیں ؟" بڑھیا بولی 
"اوکے " بوڑھابولا ۔
مائی سوئیٹ ھارٹ ، میرے جو سُپر گریٹ گرینڈ فادر تھے وہ غاروں میں رہتے تھےاور غار بھی خوفناک جنگلوں میں تھے  اور وہاں ہر قسم کے خوفناک جانور بھی تھے " 
" آر یو شیور ؟ " چم چم بے یقینی سے بولی " آپ سچ کہہ رہے ہیں ؟"
" سو فیصد " بوڑھا بولا ۔
"تو چم چم ، میری جو سُپر گریٹ گرینڈمدر تھیں وہ  بہت ڈرتی تھیں - آپ کی نانو کی طرح "
" اچھا پھر؟" چم چم بولی 
" تو ہوتا یہ تھا ، کہ رات کو غار کے دروازے کے باہر کوئی ، آواز آتی تو  میری  سُپر گریٹ گرینڈ مدر ، ڈر کرآواز نکالتیں ، آ آ آ آ ،  تو میرے  سُپر گریٹ گرینڈفادر اپنا ڈنڈا اُٹھا کر شور مچاتے باہر نکلتے اور کوئی بھی جانور وہاں ہوتا وہ ڈر کر بھاگ جاتا- " بوڑھا بولا ۔

"ان پر وہ جانور حملہ نہیں کرتا؟" چم چم بولی 
" ارے نہیں ، پہلے تو وہ جانور سُپر گریٹ گرینڈ مدر کی آواز سے دبک جاتا اور پھر  سُپر گریٹ گرینڈفادر کے شور مچانے  اور ڈنڈے کے خوف سے بھاگ جاتا " بوڑھا بولا ۔
" اُس کے بعد وہ پھر آتا " چم چم نے پوچھا ۔
" بالکل " بوڑھا بولا " ساری رات  یہ تماشا جاری رہتا " 
" لیکن اِس کا آپ کے سنورنگ سے کیا تعلق ؟؟" چم چم نے پوچھا 
"بتاتا ہوں ، بتاتا ہوں "  بوڑھا بو لا -" اِسی لئے تو میں نے کہا تھا -یہ ایک لمبی ، مزاحیہ اور درد بھری کہانی ہے "
 " اچھا ، آگے سنائیں؟" چم چم بولی
" ہاں ، تو چم چم ۔ سُپر گریٹ گرینڈ مدر اور فادر کے بچے بڑے ہوتے گئے ، اُنہوں نے بھی رات کو یہ شور مچانا جاری رکھا -پھر اُن بچوں کے بچے ہوئے ،اُنہوں نے بھی رات کو یہ شور مچانا جاری رکھا -"
" یہ کتنے سال پہلے کی بات ہے ؟" چم چم نے پوچھا -
" تقریباً دس ہزار، چھ سوپینتیس سال ، آٹھ مہینے اور 15 دن پہلے  " بوڑھے نے بتایا -
" آوا ، آپ جوک کر رہے ہیں " چم چم بولی " میں نے آپ کے سنورنگ کا پوچھا ہے ۔ آپ کے سپر گریٹ گرینڈ فادر کی شاوٹنگ کا نہیں ، اُس سے کیا تعلق ہے ؟ "
" چم چم میں نے کہا ہے نا کہ یہ بہت لمبی ، مزاحیہ اور درد بھری کہانی ہے "بوڑھا بولا " اگر یہ کہانی سننا ہے تو صبر سے بیٹھنا ہوگا- ورنہ میں بوڑھا آدمی ہوں اور دماغ کمزور ہے کہانی بھول جاؤں گا  "
 " اوکے اب نہیں بولوں گی آپ سنائیں "چم چم بولی
" ہاں تو میں کیا کہہ رہا تھا؟ " بوڑھے نے چم چم سے پوچھا ۔
" آپ کے  گرینڈ فادر، شاوٹنگ کرتے تھے ؟" چم چم بولی
" میں نے ایسا تو نہیں کہا " بوڑھا بولا " میرے   گرینڈ فادر بالکل شور نہی ںکرتے تھے "
" اوہ سوری  سپر گریٹ گرینڈ فادر" چم چم بولی
" نہیں ، چم چم  میں نے شاید کہا تھا، سُپر گریٹ گرینڈ مدر اور فادر کے بچے بڑے ہوتے گئے ، اُنہوں نے بھی رات کو یہ شور مچانا جاری رکھا -پھر اُن بچوں کے بچے ہوئے ،اُنہوں نے بھی رات کو یہ شور مچانا جاری رکھا -"
" اوہ ، یس " چم چم بولی -
" ہاں تو پھر اُن کے بچوں ، کے بچوں ، پھر اُن بچوں کے بچوں   نے بھی رات کو شور مچانا شروع کیا اور یہ اُن کی عادت بن گئی۔  غاروں سے وہ درختوں پر سونے لگے ، لیکن  جب بھی رات کو گریٹ گرینڈ مدر ڈر کر شور مچاتی اور گریٹ گرینڈ فادر  نیند سے شور مچاتے اٹھتے  اور بعض دفعہ زمین پر گر جاتے اور ٹانگ ، ہاتھ ، بازو اور کبھی تو، اگر زیادہ اونچے درخت پر سوتے تو گردن تڑوا لیتے"
" اوہ مائی گاڈ ، وہ اپنے آپ کو باندھ کیوں نہیں لیتے ، تاکہ گریں نہیں" چم چم بولی 
" سو انٹیلیجنٹ آئیڈیا چم چم  سو انٹیلیجنٹ"بوڑھا بولا " مجھے معلوم ہے کہ آپ جینئیس ہو ، شاباش ۔ تو گریٹ گر ینڈفادر  کی گریٹ گرینڈ ڈاٹر نے یہی مشورہ دیا - اُس کے بعد  ۔ گریٹ گر ینڈفادر نے یہ مشورہ سب قبیلے کو بتایا اور سب مردوں نے خود کو  رات کو درختوں سے خود کو باندھنا  شروع کر دیا -لیکن ایک پرابلم پیدا ہو گئی "
" وہ کیا ؟" چم چم نے پوچھا ۔

" صبح کے وقت کوئی گریٹ گر ینڈفادر ،   درخت سے الٹا لٹکا ملتا ، اور کبھی کمر کے بل بندھا لٹکا ہوتا "  بوڑھا  بولا -
" امیزنگ ، پھر تو بچے خوب ہنستے ہوں گے " چم چم ہنستے ہوئے بولی  " بڑا مزہ آتا ہوگا "
" وہ تو ٹھیک ہے " بوڑھا بولا " لیکن سب روتے بھی تھے ، جب کوئی گریٹ گر ینڈفادرگردن سے لٹکا ملتا"
" اوہ ، سو سیڈ ، تو وہ درخت پر گھر کیوں نہیں بنا لیتے " چم چم بولی " تاکہ ایکسیڈنٹس نہ ہوں " 

" ایسا ہی ہوا " بوڑھا بولا " اُنہوں نے درختوں پر اپنی ہٹس بنانا شروع کر دیں "
" گریٹ ، اب تو وہ سیف ہو گئے ، تو پھر بھی شور مچاتے ؟" چم چم بولی 
" یقیناً کیوں کہ ، پینتھرز اور چیتا تو درخت پرچڑھ سکتے ہیں " بوڑھا بولا " لہذا اِن درندوں کو ڈرانے کے لئے شور کا سلسلہ جاری رہا ۔ یعنی عورتیں ڈر کر چلاتیں اور مرد شور مچاتے "
" آوا ، جب لوگوں نے زمین پر گھر بنائے ، تو پھر اُنہوں نے درندوں کو بھگانے کے لئے شور مچانے کا سلسلہ ختم کر دیا ؟" چم چم نے پوچھا -
" چم چم، یہ بتاؤ کہ کیا یہاں کوئی شیر یا چیتا ہے " بوڑھے نے پوچھا -
" نہیں ، وہ تو  زو میں ہوتے ہیں " چم چم بولی
" تو تمھاری نانو ، ڈر کر کیوں چینختی ہیں ؟"بوڑھے نے پوچھا 
" وہ تو ، کسی بھی چیز سے ڈر کرچینختی ہیں ؟ چم چم بولی " لیکن اِس کا سنورنگ سے کیا تعلق ؟" 
" بہت گہرا تعلق ہے ، میری   جینئیس چم چم " بوڑھا بولا " آپ سوچو ؟" 
" کیا ڈرنا ، نانو کی عادت بن چکی ہے ؟ " چم چم بولی 
" نہیں رات کو سوتے میں ڈر کر شور مچانا " بوڑھا بولا -
" آپ کا مطلب رات کو سنورنگ کرنا " چم چم بولی 
" ایگزیکٹلی ، یہ سنورنگ ہی  وہ عادت ہے جو تمھاری نانو کی گریٹ گر ینڈمدر سے آرہی ہے" بوڑھے نے جواب دیا

" لیکن آپ کے خراٹے ، نانو سے زیادہ  لاؤڈ ہوتے ہیں " چم چم بولی ۔
" مائی سوئیٹ ہارٹ، مردوں خراٹے نہیں ، بلکہ غراٹے  ہوتے ہیں " بوڑھا بولا -
" اوہ تھینکس گاڈ ،  میں رات کو سنورنگ نہیں کرتی ، مجھ پر یہ ٹریڈیشن ختم ہو گئی ہے " چم چم  بولی -
اور پھر بوڑھے نے چم چم کو اُس کے غراٹے لینے کی وڈیو دکھائی تو اُسے یقین ہو گیا ، کہ خراٹوں اور غراٹوں کی یہ ٹریڈیشن کبھی ختم نہیں ہوسکتی -
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔