آج یہ تصویر ، بوڑھے کے ذہن میں کچھ سوچیں بیدا ر کر گئی ۔
اب احساس ہوتا ہے کہ اگر پاکستان نہ بنتا ،۔ تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
17 کروڑ مسلمان بزدل ہندوؤں کے رحم کو کرم پر نہ ہوتے۔ اور ۔ ۔ ۔
39 کروڑ مسلمان متحدہ ہندوستان کے حاکم ہوتے !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ھ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آج یہ تصویر ، بوڑھے کے ذہن میں کچھ سوچیں بیدا ر کر گئی ۔
اب احساس ہوتا ہے کہ اگر پاکستان نہ بنتا ،۔ تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ھ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
انسانی سوچیں انسان کے دماغ کے گلیشئر کی تاریک گزرگاہوں سے کچی نیند کے دوران ، بلبلوں کی طرح ابھرتی ہیں اور آہستہ آہستہ ذہن کے دریچوں پرآکر دس، تک دیتی ہیں ، اِن کا کُلّی تعلق ، جاگتی آنکھوں سے یا سماعت سے دماغ میں گھونسلے بنانا ہے ۔
بچپن سے لے کر دماغ میں یہ گھونسلے بنتے جاتے ہیں ۔ بچپن میں ماں ، بہنوںاور دیگر داستان گو کے بنائے ہوئے یہ ننھے منے گھونسلےدماغ کے مختلف خانوں میں جاکر اپنا قبضہ جماتے جاتے ہیں ۔ اِن میں زیادہ تر لذت کے لئے ،کھانے پینے ، آسیبی یا ماورائی کہانیوں، یا حقیقی داستانوں کے تنکوں سے بنائے ہوئے ہوتے ہیں ۔
احسن الخالقین نے انسان کی پانچوں حسوں سے دماغ میں جانے والی معلومات ، اِن گھونسلوں میں پلنے والے تخیلاتی پرندے اُڑاتی رہتی ہیں ۔ لیکن گھونسلے برقرار رہتے ہیں ۔
باہر کی دنیا سے ،انسانی حسوں سے ، دماغ کی اندورنی دنیا سے اُٹھنے والی سوچیں ، چشم زدن میں ذہن میں چھلانگ لگاتی ہیں جن سے مختلف گھونسلوں میں بیٹھے ، خیالات کے پرندے ، ذہن سے نکل کر ،ہوا میں اُڑنے لگتے ہیں ۔جو سامنے دیکھنے والوں کو مختف حرکات و تاثرات سے دکھائی دیتے ہیں۔
نیند کے دوران، یہ پرندے اُڑتے ہیں لیکن اِن کی اُڑان زیادہ تر ذہن کی فضاؤں میں رہتی ہے اور صرف دس سے بیس فیصد ، دوسروں کو محسوس ہوتا ہے ۔ جیسے بچوں کا نیند میں ہاتھ یا لاتیں مارنا ، ماں کے اوپر یا ساتھ سونے والے بھائی بہن ، باپ ، دادا دادی ،نانا نانی کا شکایت کرنا کہ یہ رات کو بہت تنگ کرتا ہے یا کرتی ہے۔ جوانی سے لے کر بڑھاپے تک انسانی خواب میں اُڑنے والے پرندے ، انسان کو تنگ کرتے ہیں ، جن کی وجہ سے اُس کی حرکات ، ساتھ سونے والا انسان ہی محسوس کر سکتا ہے ، کیوں کہ اُس وقت کہ سونے والے انسان کے اعصاب پر حاوی ہوتے ہیں ۔
مثلاً بوڑھے کا بچپن میں نیند میں اُڑنا ، اُس کا اکثر معمول رہا ہے کیوں کہ وہ دیومالائی کہانیوں کے زیر اثر اُڑتا اور گرنے کی صورت میں خود کو بچانے کی کوشش کرتا اور اب تو سُپر مین ، سپائڈر مین ، بھیانک کردار ، بچوں کے دماغ میں گھونسلے بناتے رہتے ہیں۔ جو نیند میں ، خوابی مفلوجیت کی کیفیت پیدا کرتے ہیں اور آپ قوت رکھتے ہوئے اُس بلا سے بپچھا نہیں چھڑا سکتے جب تک آپ کی آنکھ نہ کھلے ۔
ماہرینِ طب نے اِس خوابی مفلوجیت کو ختم کرنے کے لئے مختلف دوائیاں ایجاد کی ہیں ، تا کہ آپ کچی نیند کر پرندوں سے پریشان نہ ہوں اور گہری نیند سوئیں ۔
٭٭٭٭٭٭
اِس جگ بیتی میں سب سے اہم نکتہ
سست مگر درست‘ کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے ۔ تم کامیابی کے سب سے بلند زینہ پر پہنچ سکتے ہو ۔
دنیا کی امیر اور کامیاب ترین شخصیات میں سے ایک وارن بفٹ صرف 11 برس کے تھے، جب انہوں نے اپنا پہلا شیئر 38 ڈالر میں خریدا۔
ایک دن بفٹ نے خود سے وعدہ کیا کہ 30 برس کی عمر میں انہوں نے کسی طرح کروڑ پتی بننا ہے اور اگر وہ اپنے اِس مشن میں ناکام ہوا۔ تووہ اوماہا کی سب سے اونچی بلڈنگ سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لے گا ۔
وارن بفٹ نے معاشیات کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہاورڈ یونیورسٹی میں داخلے کےلئے اپلائے کیا، لیکن ان کی درخواست رد کر دی گئی، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اور بعدازاں اپنی محنت اور ٹیلنٹ کے بل بوتے پر دنیا کی 10 امیر اور کامیاب شخصیات کی فہرست میں شامل ہوا، ہاورڈ یونیورسٹی آج بھی اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ وارن بفٹ کو داخلہ نہ دے کر انہوں نے یونیورسٹی کی تاریخ کا سب سے غلط فیصلہ کیا تھا۔
بفٹ کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ وہ اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اُس وقت کے امریکا کے سب سے کامیاب سرمایہ کار بنجامن گراہم سے سرمایہ کاری کا علم حاصل کرے۔ اس نے بنجامن کے ساتھ مفت میں کام کرنے کی درخواست بھی کی، لیکن وہ بھی رد کر دی گئی۔
بفٹ نے ہمت نہ ہاری اور جدوجہد جاری رکھی، اس نے سرمایہ کاری کے مختلف آئیڈیاز خود سے تخلیق کرنا شروع کر دئیے اور اُنہیں باقاعدگی سے بنجامن کو بھیجنا شروع کر دیا۔ بفٹ کے نئے خیالات اور سرمایہ کاری میں رجحان سے متاثر ہو کر بنجامن نے بفٹ کو 12 ہزار ڈالر سالانہ تنخواہ پر نوکری پر رکھ لیا۔ یہ تنخواہ 1954ء میں کسی بھی اوسط درجے کے ملازم کی تنخواہ سے چار گنا زیادہ تھی۔بفٹ کو نوکری پر رکھنے کے صرف دو برس بعد بنجامن نے ریٹائرمنٹ لے لی۔ جبکہ بفٹ نے عملی طور پر سرمایہ کاری کے وہ تمام گُر استعمال کرنا شروع کردئیے جو اس نے بنجامن سے سیکھے تھے۔
بفٹ جب 26 برس کی عمر کو پہنچا تو اُس کی دولت ایک لاکھ چالیس ہزار ڈالر تھی۔ یعنی تیس برس کا ہونے میں ابھی صرف چار برس باقی رہ گئے تھے اور بفٹ ملین ایئر کا سٹیٹس حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔
٭۔ 1962ء میں ’سست مگر درست‘ کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے آخر وہ ساڑھے چار لاکھ ڈالر کا مالک بن گیا۔ صرف دو برس میں بفٹ کی پارٹنر شپ کامیابی کی بلندیوں پر پہنچ گئی اور اُس کی کمپنی کی قدر 17 ملین ڈالر ہو گئی، جس میں بفٹ کی حصے داری 1.8 ملین ڈالر تھی۔ یوں وارن صرف 28 برس کی عمر میں کمپاؤنڈ افیکٹ کا استعمال کرتے ہوئے ملین ایئر کا سٹیٹس حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اور ایک وقت وہ بھی آیا کہ اُس کی دولت کی کل مالیت 115 ارب ڈالر تک پہنچی گئی ۔
٭٭٭٭٭٭
اُفق کے پار بسنے والے باہمت اور نیک دل دوستو !۔کبھی آپ نے سوچا کہ جب آپ نے تعلیم چھوڑی اُس کے بعد چالیس سال کی عمر پر پہنچنے کے بعد آپ کی ذھانت ، لیاقت تجربے اور آمدنی میں اضعافہ ہوا یا آپ وہیں کے وہیں تھے جہاں سے آپ نے اپنا رزقِ کے حصول کا سفر شروع کیا ۔
یاد رکھیں ایک انمٹ داستانِ ہمت کا ایک سنہری اصول ۔
پریشانی اور رکاوٹیں انسانی ہمت کا راستہ نہیں روک سکتیں اگر وہ اپنے ارادے میں پختہ اور کامل یقین رکھتا ہو۔
رحمة للعالمين نے اِن عربی الفاظ میں انسانوں کو بشارت دی :۔
وَلاَ تَهِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ [3:139]
٭٭٭٭٭٭٭
بار
بار فرماتے ہیں ،کہ "نہیں میں واپس جانے کا فیصلہ کر چکا ہوں ۔ ۔۔ ۔ ،
مجھے بڑا دکھ دیا ہے ، اِنہیں نے "
نوجوان کون سی کلاس میں پڑھتے ہو ؟