Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
‏خواب جزیرے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏خواب جزیرے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 26 جون، 2022

اگر ایسا ہوتا ۔ ۔ ۔!

 آج یہ تصویر ، بوڑھے کے ذہن میں کچھ  سوچیں بیدا ر کر گئی ۔

اب احساس ہوتا ہے کہ اگر پاکستان نہ بنتا ،۔ تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
17 کروڑ مسلمان بزدل ہندوؤں کے رحم کو کرم پر نہ ہوتے۔ اور ۔ ۔ ۔
39 کروڑ مسلمان متحدہ ہندوستان کے حاکم ہوتے !

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

ھ 

 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بدھ، 9 مارچ، 2022

خوابی مفلوجیت

انسانی سوچیں انسان کے دماغ کے گلیشئر کی تاریک گزرگاہوں سے کچی نیند کے دوران ، بلبلوں کی طرح ابھرتی ہیں اور آہستہ آہستہ ذہن کے دریچوں پرآکر دس، تک دیتی ہیں ، اِن کا کُلّی تعلق ، جاگتی آنکھوں سے یا سماعت سے دماغ میں گھونسلے بنانا ہے ۔ 

بچپن سے لے کر دماغ میں یہ گھونسلے بنتے جاتے ہیں ۔ بچپن میں ماں ، بہنوںاور دیگر داستان گو کے بنائے ہوئے یہ ننھے منے گھونسلےدماغ کے مختلف خانوں میں جاکر اپنا قبضہ جماتے جاتے ہیں ۔      اِن میں زیادہ تر   لذت کے لئے ،کھانے پینے ، آسیبی یا ماورائی کہانیوں، یا حقیقی داستانوں کے تنکوں سے بنائے ہوئے ہوتے ہیں ۔

احسن الخالقین نے انسان کی پانچوں حسوں سے دماغ میں جانے والی معلومات ، اِن گھونسلوں میں پلنے والے تخیلاتی پرندے اُڑاتی رہتی ہیں ۔ لیکن گھونسلے برقرار رہتے ہیں ۔ 

  باہر کی دنیا سے  ،انسانی حسوں  سے ،  دماغ  کی اندورنی دنیا سے    اُٹھنے والی سوچیں ،  چشم زدن میں ذہن  میں چھلانگ لگاتی ہیں جن سے مختلف گھونسلوں میں بیٹھے  ،  خیالات کے پرندے ، ذہن  سے نکل کر ،ہوا میں اُڑنے لگتے ہیں ۔جو سامنے دیکھنے والوں کو مختف حرکات و تاثرات سے دکھائی دیتے ہیں۔

نیند کے دوران، یہ پرندے اُڑتے ہیں لیکن اِن کی اُڑان زیادہ تر ذہن کی فضاؤں میں رہتی ہے اور صرف دس سے بیس فیصد ، دوسروں کو محسوس ہوتا ہے ۔ جیسے بچوں کا نیند میں ہاتھ یا لاتیں مارنا ، ماں کے اوپر یا ساتھ سونے والے بھائی بہن ، باپ ، دادا دادی ،نانا  نانی کا شکایت کرنا کہ یہ رات کو بہت تنگ کرتا ہے یا کرتی ہے۔ جوانی سے لے کر بڑھاپے تک انسانی خواب میں اُڑنے والے     پرندے ، انسان کو تنگ کرتے ہیں ، جن کی وجہ سے اُس کی حرکات ، ساتھ سونے والا  انسان ہی محسوس کر سکتا ہے ، کیوں کہ اُس وقت کہ سونے والے انسان کے اعصاب پر حاوی ہوتے ہیں ۔

مثلاً  بوڑھے کا بچپن میں نیند میں اُڑنا ، اُس کا اکثر معمول رہا ہے کیوں کہ وہ دیومالائی کہانیوں کے زیر اثر اُڑتا  اور گرنے کی صورت میں خود کو بچانے کی کوشش کرتا اور اب تو سُپر مین ، سپائڈر مین  ، بھیانک کردار ، بچوں کے دماغ میں گھونسلے بناتے رہتے ہیں۔ جو نیند میں ، خوابی مفلوجیت کی کیفیت پیدا کرتے ہیں اور آپ قوت رکھتے ہوئے اُس بلا سے بپچھا نہیں چھڑا سکتے جب تک آپ کی آنکھ نہ کھلے ۔
ماہرینِ طب نے اِس خوابی مفلوجیت کو ختم کرنے کے لئے مختلف دوائیاں ایجاد کی ہیں ، تا کہ   آپ کچی نیند کر پرندوں سے پریشان نہ ہوں اور گہری نیند سوئیں ۔

٭٭٭٭٭٭

 

اتوار، 6 فروری، 2022

خواب جزیرے نہیں بلکہ عملی دنیا کے باسی

    اِس جگ بیتی میں سب سے اہم نکتہ 

 سست مگر درست‘ کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے ۔ تم کامیابی کے سب سے بلند زینہ پر پہنچ  سکتے ہو   ۔

دنیا کی امیر اور کامیاب ترین شخصیات میں سے ایک وارن بفٹ صرف 11 برس کے تھے، جب انہوں نے اپنا پہلا شیئر 38 ڈالر میں خریدا۔

 ایک دن بفٹ نے خود سے وعدہ کیا کہ 30 برس کی عمر میں انہوں نے کسی طرح کروڑ پتی بننا ہے اور اگر وہ اپنے اِس مشن   میں ناکام ہوا۔ تووہ  اوماہا کی سب سے  اونچی بلڈنگ سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لے گا ۔

 وارن بفٹ نے معاشیات کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہاورڈ یونیورسٹی میں داخلے کےلئے اپلائے کیا، لیکن ان کی درخواست رد کر دی گئی، لیکن اس  نے ہمت نہ ہاری اور بعدازاں اپنی محنت اور ٹیلنٹ کے بل بوتے پر دنیا کی 10 امیر اور کامیاب شخصیات کی فہرست میں شامل ہوا، ہاورڈ یونیورسٹی آج بھی اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ وارن بفٹ کو داخلہ نہ دے کر انہوں نے یونیورسٹی کی تاریخ کا سب سے غلط فیصلہ کیا تھا۔

 بفٹ کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ وہ اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اُس وقت کے امریکا کے سب سے کامیاب سرمایہ کار بنجامن گراہم سے سرمایہ کاری کا علم حاصل کرے۔ اس  نے بنجامن کے ساتھ مفت میں کام کرنے کی درخواست بھی کی، لیکن وہ بھی رد کر دی گئی۔ 

بفٹ نے ہمت نہ ہاری اور جدوجہد جاری رکھی، اس  نے سرمایہ کاری کے مختلف آئیڈیاز خود سے تخلیق کرنا شروع کر دئیے اور اُنہیں باقاعدگی سے بنجامن کو بھیجنا شروع کر دیا۔ بفٹ کے نئے خیالات اور سرمایہ کاری میں رجحان سے متاثر ہو کر بنجامن نے بفٹ کو 12 ہزار ڈالر سالانہ تنخواہ پر نوکری پر رکھ لیا۔ یہ تنخواہ 1954ء میں کسی بھی اوسط درجے کے ملازم کی تنخواہ سے چار گنا زیادہ تھی۔بفٹ کو نوکری پر رکھنے کے صرف دو برس بعد بنجامن نے ریٹائرمنٹ لے لی۔ جبکہ بفٹ نے عملی طور پر سرمایہ کاری کے وہ تمام گُر استعمال کرنا شروع کردئیے جو اس  نے بنجامن سے سیکھے تھے۔

 بفٹ جب 26 برس کی عمر کو پہنچا تو اُس کی دولت ایک لاکھ چالیس ہزار ڈالر تھی۔ یعنی تیس برس کا ہونے میں ابھی صرف چار برس باقی رہ گئے تھے اور بفٹ ملین ایئر کا سٹیٹس حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔

٭۔ 1962ء میں ’سست مگر درست‘ کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے آخر وہ ساڑھے چار لاکھ ڈالر کا مالک بن گیا۔ صرف دو برس میں  بفٹ کی پارٹنر شپ کامیابی کی بلندیوں پر پہنچ گئی اور اُس کی کمپنی کی قدر 17 ملین ڈالر ہو گئی، جس میں بفٹ کی حصے داری 1.8 ملین ڈالر تھی۔ یوں وارن صرف 28 برس کی عمر میں کمپاؤنڈ افیکٹ کا استعمال کرتے ہوئے ملین ایئر کا سٹیٹس حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اور ایک وقت وہ بھی آیا کہ اُس  کی دولت کی کل مالیت 115 ارب ڈالر تک پہنچی گئی ۔

٭٭٭٭٭٭

اُفق کے پار بسنے والے باہمت اور نیک دل دوستو !۔کبھی آپ نے سوچا کہ جب آپ نے تعلیم چھوڑی اُس کے بعد چالیس سال کی عمر پر پہنچنے کے بعد آپ کی ذھانت ، لیاقت  تجربے  اور آمدنی میں اضعافہ  ہوا    یا آپ وہیں کے وہیں تھے جہاں سے آپ نے اپنا رزقِ کے حصول کا سفر شروع کیا ۔ 

یاد رکھیں ایک انمٹ داستانِ ہمت کا ایک سنہری اصول ۔

پریشانی اور رکاوٹیں انسانی ہمت کا راستہ نہیں روک سکتیں اگر وہ اپنے ارادے میں پختہ اور کامل یقین رکھتا ہو۔

رحمة للعالمين نے اِن عربی الفاظ میں انسانوں کو بشارت دی :۔

وَلاَ تَهِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ [3:139]  

٭٭٭٭٭٭٭

  

اتوار، 16 فروری، 2020

خواب جزیروں کے دولتمند۔ طاہر القادری

طاہر القادری
19 فروری 1951ء کو جھنگ کے فرید الدین قادری سیال گھرانے میں پیدا ہوے۔
1975 میں 24 سال کی عمر میں پہلی شادی کی۔ اس کے بعد  2 مزید شادیاں کیں. پہلی شادی جھنگ، دوسری ناروے اور تیسری اہلیہ کا تعلق کراچی سے ہے۔
1966ء میں میڑک 1969ء میں انٹرمیڈیٹ 1970ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے اور 1973ء میں علوم اسلامیہ میں ایم اے کیا۔ طاہر القادری صاحب کا کہنا ہے:
" میں نے 1963ء سے 1970 تک جامعہ قطبیہ رضویہ، جھنگ سے درس نظامی بھی کیا یعنی بیک وقت دینی و دنیاوی دونوں علوم حاصل کئیے"
 1975ء میں ایل ایل بی کیا۔ 1986ء میں انہیں پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے اسلامی سزاؤں میں قانون کی ڈگری دی گئی۔ موضوع کا عنوان  تھا "اسلام میں سزائیں، ان کی درجہ بندی اور فلسفہ"
(Punishment in Islam, Their Classification and Philosophy)
بڑے صاحبزادہ کا نام حسن محی الدین قادری, تحریک منہاج القرآن کی مجلس شوریٰ کے صدر, منہاج یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ اور عربیہ میں ایم اے، پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی اور مصر سے میثاق مدینہ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی۔
چھوٹے صاحبزادہ حسین محی الدین قادری، فرانس کی پیرس یونیورسٹی سے ایم بی اے، آسٹریلیا یونیورسٹی سے گلوبل اکنامکس میں ڈاکٹریٹ کیا۔
1980ء کی دہائی میں ڈاکٹر طاہر القادری نے نواز شریف کے والد میاں شریف سے تعلقات بناے، اتفاق سٹیل ملز کی مسجد میں بطور پیش امام بھرتی ہوے. مطالبہ کیا کہ انہیں کو تنخواہ کے بدلے ان کی تقاریر کی کیسٹس ریکارڈ کی جائیں اور سارے ملک میں پھیلائی جائیں، یوں طاہر القادری نے میاں شریف کو شیشے میں اتارا اور تنخواہ اور اس سے کئی گنا زیادہ مراعات وصول کرتے رہے. طاہر القادری میاں شریف کے خرچے پر عمرے پر گئے، راستے بھر میاں شریف کی جوتیاں اٹھاتے رہے. غار حرا پر چڑھتے میاں شریف کو کاندھے پر اٹھا لیا. ایک مرتبہ میاں شہباز شریف کو بھی ایسے ہی اٹھا چکے ہیں.
ایک خطبے میں رسول کے پاکستان آنے کی خوشخبری سنائی  پڑھیں (مہمان اور قادری میزبان)اور پھر منہاج القرآن بنانے کا اعلان کر دیا. میاں شریف اور ضیاء الحق کی مدد سے 200 کنال حکومتی اراضی منہاج القرآن کے لیے منظور کروائی، حج کرنے کا ٹکٹ خریدنے کے لئیے پورے ملک سے کروڑوں روپے چندہ اکٹھا کیا.
اسی کی دہائی میں اتفاق مسجد میں امام بھرتی ہوئے جب سائیکل پر سفر کرتے تھے، آج ان کے پاس ڈھائی کروڑ روپے مالیت کی بلٹ پروف گاڑیاں کھڑی ہیں. بیوی بچوں کے نام اربوں روپے کی جائیدادیں ہیں. بچوں کو دنیا بھر کی عیاشی کرائی، لاکھوں روپے خرچ کر کے دنیا کی بہترین یونیورسٹیز میں تعلیم دلوائی. خود بھی دنیا بھر کی سیر کی، خاندان کو بھی کرائی. کینیڈا سے وفاداری کا حلف اٹھا کے کینیڈین شہریت حاصل کی. انقلاب لانے کے لیے اسلام آباد میں دھرنا دیا تو اعلان کیا:
" ڈرتا نہیں ہوں. جس نے مارنا ہے جان سے مار لے"
دوسری جانب لاہور میں قادری صاحب کا طیارہ روکا گیا تو آپ نے اترنے سے انکار کر دیا جب تک وزیر قانون رانا مشہود نے بلٹ پروف گاڑیوں کا انتظام نہ کر دیا. دھرنے میں بھی لاکھوں روپے مالیت کے بلٹ پروف کنٹینر میں رہتے تھے. عمران خان کے منہ بولے کزن، کروڑوں اربوں روپے کی جائیداد، غیر ملکی شہریت، عیاشی کی زندگی اور یہ سب کچھ بغیر کسی نوکری یا کاروبار کے. قادری صاحب کے اندھے مرید ان کی ہر بات کو وحی سمجھتے یقین کرتے ہیں. طاہر القادری نے دعویٰ کیا تھا کہ رسول اللہ کی طرح وہ 63 برس کی عمر میں انتقال کر جایں گے۔   آج قادری صاحب 69 برس کے ہو چکے ہیں  ۔
طاہر القادری پر کوئی نیب کیس نہیں. چندہ کہاں سے آیا، کس نے دیا، کہاں گیا، زمین و جائیداد کہاں سے آئی، کوئی پوچھتا نہیں. طاہر القادری  قوم سے بٹورے گئے اربوں روپے کا حساب دینے کو تیار نہیں۔
دینا تو پڑے گا، آج نہیں تو کل، بروز قیامت. دینا تو پڑے گا----٭

پیر، 25 جون، 2018

پچیس جولائی کو رات بارہ بجے کا آنکھوں دیکھا حال !

 پچیس جولائی کو رات بارہ بجے پورے پاکستان کو پتہ چل گیا کہ عمران خان وزیراعظم  کا انتخاب جیت چکا ہے !
نہ زرداری کی ضرورت پڑی نہ کسی آزاد امیدواران کی ۔ 

بنی گالہ سے کراچی تک ایک جشن کا سا سماں تھا پورے پاکستان سے صرف سیٹوں کے انبار تھے جس پر لال ہرا رنگوں سے آراستہ مفلر پہنے لوگ بیٹھے تھے ۔ تحریک انصاف کے کارکنان بالکل بھی نہیں رک رہے تھے ۔

 چھ سال پہلے عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے لیے بنایا گیا ترانہ جو محفوظ رکھا گیا تھا آن ائیر کردیا گیا ۔ 
پاکستان کے تمام چینلز کی محنت رنگ لائی انہوں نے بھی اپنے لوگو لال ہرے کردیے ، بنی گالہ کے باہر کروڑوں عوام جمع تھے صرف چینلز کی گاڑیاں تھیں کیمرے تھے ، اخباری رپورٹرز تھے ، مٹھائیوں کی دوکانیں خالی ہوچکی تھیں ، وہ مٹھائی بھی بک گئی جس کو ہم عام زندگی میں دیکھتے بھی نہیں تھے ۔
 پہلی دفعہ جی ایچ کیو اور کنٹونمنٹ ایریاز میں جشن کا سماں تھا چراغاں تھا ۔ نوجوان اور آفیسرز خوشی سے پاگل ہو رہے تھے ۔
ورلڈ کپ نائنٹی ٹو کے بعد پہلی دفعہ پٹاخے اور پھلجڑیاں چھوڑی گئیں ۔ جس نےبرج خلیفہ کے چکا چوند کو پیچھے  چھوڑ دیا تھا ۔
 عمران خان شیروانی میں بہت حسین لگ رہے تھے ، مشرف کے ریفرنڈم کے زمانے میں سلوائی رکھی تھی ۔
 کافی دنوں کے بعد صدر ممنون حسین کو اسکرین پر دیکھا وہ ایسی  حلف برداریوں  یا  تئیس مارچ کو نظر آتے ہیں  اور باقی وقت ریمورٹ سے چینل بدلتے نظر آتے تھے ۔ انہوں نے عمران خان سے حلف لیا اور ساتھ میں مختصر سی کابینہ تھی ، جس میں ایک بھی ایلیکٹیبل نہیں تھا ۔
 پہلی دفعہ وہ لوگ نظر آئے جن کو کوئی بھی نہیں جانتا تھا ایک انقلاب آچکا تھا ، پاکستان کے اوپر فلک نے یہ منظر پہلی بار دیکھا کہ وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی میں تبدیل کردیا گیا ، صدراتی محل کالج بن گیا ، وزراء سے مراعات واپس لے لی گئیں  اُنہیں سائیکلوں پر آفس جانے کا حکم ہوا ، جن کو سائیکل چلانا نہیں آتی تھی وہ حکمِ حاکم مرگِ مفاجات کے تحت سائیکل ساتھ لے کر چلتے ، گلی محلے کےشریر لونڈے اُن کے پیچھے ہوتے  اور خوشی سے  ہمارا وزیر ہمارا وزیر کہتے تالیاں بجاتے چلتے   ۔
وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا کہ میرا دفتر اب عوامی ہوگا ۔چنانچہ  اسمبلی کی سامنے پرانے پریڈ گراونڈ  پر اُسی سلامی کے چبوترے پر  جہاں  پرویز مشرف نے جرنیلی  سلیوٹ مار کر  عمران خان کے ساتھ یکّی کی اور خالص پاکستانی کوک پر ٹال دیا ، وہاں  ایک شامیانے کے نیچے عمران خان کا دفتر سجا دیا گیا ، سارے عوامی لوگ  سڑک کے دونوں طرف بنی ہوئی سیڑھیوں پر اپنی اپنی چھتری اور پانی کی بوتل لے کر بیٹھ گئے ، یہ وہی جگہ تھی جہاں عمران خان نے پہلی مرتبہ عوامی اژدھام  کو اسمبلی پر قبضہ کرتے  بڑھتے ہوئے دیکھا تھا ۔
عمران خان نے عوامی دفتر سے ، اعلان کردیا گیا کہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف یہاں سے بوریا بستر سمیٹیں اور کبھی شکل نہ دکھائیں ، 
حلف اٹھاتے ہی وزیراعظم نے انجینئرز اور ماہرین کو بلایا اور ڈیم بنانے کا حکم دیا ، سب نے کہا رقم کہاں سے آئے گی ؟
 اسی وقت خان نے اعلان کیا اور بیرون ملک میں بیٹھے پاکستانیوں نے ایک گھنٹے میں پچاس ارب ڈالر کی رقم بھجوادی ۔
 بجلی کے منصوبے شروع ہوگئے ، نیب حرکت میں آگئی ، پرانے سیاستدانوں ، افسران ، بزنس ٹائیکونز کی شامت آگئی ایک ہفتے میں بیرون ملک سے لوٹی گئی رقم واپس آگئی ، تمام کرپشن کی جائیدادیں ضبط ہوگئیں ۔
 پاکستان میں دولت کے ذخائر ، امریکہ ، چین اور جاپان سے کئی گنا ہو گئے ۔ عالمی ماہرین اُنگشتِ بدنداں تھے۔
نئی یونیورسٹیز ، کالجز ، اسکولز ، ہسپتال کی ہنگامی تعمیر شروع ہوگئی ۔
برین ڈرین کی وجہ سے  بیرون ملک میں  رہائش اپنائے دماغ ، ماہرین جوق در جوق واپس آنے لگے ، شہروں کے شہر اور  سڑکوں کی  سڑکیں تعمیر ہونے لگیں ، ٹرانسپورٹ کے نئے آئیڈیاز جنم لینے لگے ۔ 
ملک سے پرچیوں ، سفارش کا کلچر ختم ہوگیا تھا ۔
نواز شریف ،شہباز شریف ، حمزہ شہباز اور ان کا پورا خاندان براستہ ایران فرار  ہوتے ہوئے  سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارا جاچکا تھا ۔ ان کے گھروں فیکٹریوں پر حکومت کا قبضہ ہوچکا تھا ۔
 مولانا فضل الرحمٰن کے تمام مدارس محکمہ اوقاف کے پاس چلے گئے ، کشمیر کمیٹی مفتی قوی کے پاس تھی وازرتِ مذہبی امور کا قلمدان عام لیاقت ہاتھ میں تھامے ، تیار بیٹھا تھا ۔
سراج الحق ، لیاقت بلوچ ، حافظ نعیم الرحمن ، دیگر قائدین کو پھانسی کی سزا سنائی جاچکی تھی ان کے دفاتر ، اسکولز ، ہسپتال ، یتیم خانوں ، قرآن مرکز پر حکومت کا انتظام تھا ۔
 زرداری اور اس کے حواریوں کو گرفتار کیا جاچکا تھا ، زرداری کی تمام دولت  جو اُن نے بے نظیر کی حکومت سے زیادہ اپنی حکومت میں بنائی تھیی اُس کی پائی پائی  وصول کر لی گئی ،  اب وہ  بمبینوسینما کے باہر ٹکٹیں بیچ رہا تھا ۔
بلاول اور بھٹو جو زندہ تھے ، پچھلی گلی سے لندن فرار ہوچکے تھے ۔ 
عمران خان کا سب سے سخت مقابلہ  اب ، اُن لوگوں  سے ہونا تھا  جو پہلے نون لیگ میں تھے ، پھر ق لیگ میں آئے ، پھر پی پی پی میں گئے ، پھر نون لیگ میں آئے اور  پھر پی ٹی آئی میں  آکر عمران خان کی سپریم کورٹ سے بخشی گئی  صداقت  اور امانت  کے سرٹیفکیٹ  پر بٹا لگا دیا تھا ۔ جس کا ملک مخلاف قوتوں نے انتخاب میں خوب فائدہ اُٹھایا ، لیکن وہ تو بھلا ہو خلائی مخلوق کا                                               اُس نے عین موقع پر ایمپائر کو بلا لیا ۔  جس نے جے آئی ٹی کو حکم دیا کہ  ملک دشمن عناصروں کی طرف سے دیئے گئے کسی بھی بوگس سرٹیفکیٹ کی تصدیق کی ضرورت نہیں ۔
اب عمران خان نے  اِن ابن الوقت ، گندم نما جو فروش   کے خلاف مہا ئدھ کا آغاز کرتے ہوئے طبل جنگ بجایا :
اپنی تلاشی دو !
 یہ خبر تو جیسے ان پر بجلی بن کر گری،  فردوس عاشق اعوان نے آسمان سر پر اٹھا لیا ، نذر گوندل ، افضل ساہی جیسے نیزے لے کر باہر آگئے اور اسی دن تحریک عدم اعتماد پیش ہوگئی  ۔
وہ عمران خان جو 20 سال اکیلا استعماریت کا مقابلہ  کرتا رہا ، عوام کی قوت کے سر چشمے سے  وزیر اعظم کے تخت پر اِس طرح براجمان ہوا کہ اُس کے دائیں جانب  برقعے میں ملبوس پنکی ، پنکی کے ساتھ اُس کے بچے  ، عمران خان کے دائیں جانب عمران خان کے دو سگے بیٹے اور ایک محبت کی نشانی  ، عمران خان کے قدموں میں وہ ناہنجار بیورکریٹ بیٹھا تھا  ، جس نے بڑی مشکل سے چار سال کی جد و جہد کے بعد ،  پنکی اُس کے حوالے کی تھی ۔
و ہ بہادر عمران خان ،    اِس عظیم الشان فتح کے بعد ایک بند کمرے میں جو پر اُس نے کئی بار لعنت بھیجی    ۔ آج  شرمسار تھا کیوں کہ  الیکٹیبلز  کی تحریک کامیاب ہوگئی ۔

 ان کمبخت الیکٹیبلز کی وجہ سے وہ  چند دن بھی یہ ملکِ پاکستان انقلاب کا سونامی   نہ دیکھ سکا ۔

 (صہیب جمال کے شہرہ آفاق ناول ۔باؤلے کے خواب۔ سے ماخوذ)  

پیر، 8 دسمبر، 2014

مہمان اور قادری میزبان

بار بار فرماتے ہیں ،کہ "نہیں میں واپس جانے کا فیصلہ کر چکا ہوں ۔ ۔۔ ۔ ، مجھے  بڑا دکھ دیا ہے ، اِنہیں نے "

یہ اصرار کے ساتھ فرما رہے ہیں ،
اور میں روتا جارہا ہوں ، روتا جا رہا ہوں ، قدم میں نے پکڑے ہوئے ہیں ۔
کہتا ہوں حضور نہیں جانے دیں گے ۔
حضور نہیں جانے دیں گے ۔
حضور آپ کرم فرمائیں ، نظر ثانی فرمائیں
بڑی دیر رونے اور التجا کرنے کے بعد
آقا کی طبیعت مقدسہ میں کچھ قرار آتاہے ، شفقت آتی ہے ،   غصہ مبارک تھوڑا ٹھنڈا ہو جاتا ہے

اور فرماتے ہیں ۔

" طاہر !  اگر مزید پاکستان میں تم مجھے ٹہرانا چاہتے ہو تو  صرف ایک شرط ،
" مجھے پاکستان میں مزید ٹہرانا چاہتے ہو،  ۔ ۔ ۔   تو   ،  ۔ ۔ ۔ ۔  تو  صرف ایک شرط !"
" تم اُس شرط کے پورا کرنے کا وعدہ کر لو ،  ۔ ۔  میں وعدہ کرتا ہوں  !

میں نے عرض کیا حضور ۔۔ وہ شرط کیا ہے؟   ۔۔۔۔  وہ شرط کیا ہے ؟
جو کچھ ہو سکا " ہم" کریں گے ۔ 

آپ فرماتے ہیں ،

" طاہر اگر چاہتے ہوووو۔۔ کہ میں ۔ پاکستان میں رُک جاؤں ۔
تو شرط صرف یہ ہے ، کہ میرے  میزبان تم بن جاؤ ،
۔ ۔ ۔  میرے  میزبان تم بن جاؤ ۔۔ "

رُکتا ہوں یہاں ،  ۔ ۔ ۔  بیان کرتا ہوں ۔  مجھے انکار نہیں ،  بڑی سعادت ہے ۔ ۔  مگر میں اِس قابل کہاں ؟
میں تو بڑا کمزور اور ناتواں آدمی ہوں ،،   حضور میں آپ کی میز بانی کیسے کر سکوں گا ؟
مجھ سے کیسے میزبانی ہو گی ؟ 

فرماتے ہیں ۔
"بس شرط ایک ہے ،  تم مجھ سے وعدہ کر لو ۔۔ ۔ مجھ سے وعدہ کر لو ۔ میری میزبانی کا ۔  تم وعدہ کر لو ۔  پھر میں رُکنے کا وعدہ   کر لیتا ہوں "

میں رو رو کر ہاتھ جوڑتا ہوں ۔ ۔ ۔ ،   ہاتھ جوڑتا ہوں۔ ۔ ۔  ،  حضور میں نے آپ سے وعدہ کر لیا ۔ ۔ ۔ ۔ ، میں میزبان بنتا ہوں حضور کا ،  فرماتے ہیں ،
" طاہر تونے وعدہ کیا ،   تو میں بھی وعدہ کرتا ہوں کہ رُک جاتا ہوں ۔۔۔۔ "

اور فرمایا  
"میں مزید ،  سات دن اپنا قیام   ، پاکستان میں تمھارے کہنے پر  کر لیتا ہوں ، ۔ ۔ ۔ ۔  سات دن مزید رہوں گا ۔ ۔ ۔ "

کتنا  ؟۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔   فرمایا ، 
" مزید سات دن یہاں رہنے کا وعدہ کر لیتا ہوں ،"

اب میں کچھ نہیں کہہ سکتا ،  سات دن سے مراد کیا ہے ؟
یہ کتنی مدت ہے ؟ ۔ ۔ ۔   یہ وہی جانتے ہیں ، اِس کی تفصیل  مجھے معلوم نہیں  ۔
سات دنوں سے مراد کتنی مدت ہے ؟ فرمایا ،
"سات دن میں رُکتا ہوں ،  تمھاری میزبانی ۔ ۔ ۔ "
میں نے کہا مجھے منظور ، اب یہ کیسے ہوگا سب کچھ ، فرمایا ،
" تم عہد کر لو ،  سب یہ انتظام ہوجائے گا ،  ۔ ۔ ۔ ۔۔  سب انتظام ہو جائے گا " ۔ ۔ ۔ ۔

پھر مجھ سے فرماتے ہیں کہ ، 
" ایک وعدہ اور مجھ سے کرو  ،  ۔ ۔ ۔ ۔ میرا ٹہرنے کا انتظام بھی تم نے کرنا ہوگا ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔   میرے کھانے پینے کا انتظام بھی تمھارے سپرد ہوگا ۔ ۔  پاکستان میں کہیں آؤں گا،  جاؤں گا ، ۔۔۔۔۔۔وہ  ٹکٹ اور انتظام اور آمد و رفت بھی تمھارے ذمے ، سپرد ہو گی ، ۔ ۔ ۔ ۔  اور  واپس جب مدینہ جانا ہوگا تو  مدینے تک کا ٹکٹ تم لے کر دو گے ،   ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سارا انتظام تمھارے سپرد ہو گا ۔۔ ۔ ۔ ۔  یہ وعدہ کر لو  ۔ ۔ ۔۔ ۔  ، "
میں نے
(ہاتھ جوڑتے ہوئے ) عرض کیا حضور یہ سارا وعدہ ہو گیا  ۔

  فرماتے ہیں ،
: پھر میرا وعدہ ہے کہ میں سات دن یہاں رک جاتا ہوں ، "
اور پھر آقا نے فرمایا ،
" تم اپنا ادارہ ، منہاج القرآن بناؤ ۔۔۔۔۔میں تم  سے وعدہ کرتا ہوں میں تمھارے ادارے میں آؤں گا ۔ "

( آہ و بکا کا شور بلند ہوتا ہے اور کافی دیر رہتا ہے )

حاضرین ، اب آپ خود ہی فیصلہ کر سکتے ہیں ، کہ جو شخص اِس طرح کا وعدہ کر چکا ہو ، اُسے سفر تنہائی  کیوں نہ کرنا پڑے وہ کیسے کر سکتا ہے ؟ میرا تو ایمان جاتا ہے ، ۔ ۔  ایمان کا مسئلہ ہے ،  اور یہ جو کچھ پاکستان میں ہو گیا ہے دین کے ساتھ ، یہ کیا ؟ ۔ ۔ ۔ ۔
 سب  اس اَمر کی طرف اشارہ نہیں سمجھتے ؟ سب اہل پاکستان ۔ ۔ ۔ ۔  سب کچھ آقا نے فرمایا ۔ ۔ ۔ اللہ نے مجھے موقع دیا ہے ۔

دوستو ! مبارک ہو آپ کو ،  (خیر مبارک کی آواز بلند ہوتی ہے )

کہ اِن سب کے اِس   کے بعد، میزبانی حضور نے آپ کے سپرد کی تھی ،
منہاج القرآن کے سپرد کی ہے
 میزبانی اور وعدہ لیا ہے آپ کی طرف سے وعدہ لیا ہے ، کہ میزبانی ، ۔ ۔ ۔ ۔ایام آگئے میزبانی ۔ ۔ ۔کیا اسلام کا نفاذ ، مراد نہیں ہے ؟ ۔۔۔ یا اِس  سے مراد اسلام کا نفاذ نہیں ہے ؟ اسلامی انقلاب نہیں ہے ؟ 

یا اِس کے علاوہ کچھ ،۔۔۔۔ اس لئے دوستو  ، ہم اپنا تن من دھن اسلامی انقلاب کے لئے نہیں لُٹاتے تو ہمارا ایمان جاتا ہے  ،
 (رونا مچتا ہے )
سب کچھ لُٹا دینا ہے ۔   میں تو آقا سے وعدہ کر چکا ہوں آپ وعدہ کرتے ہیں ؟
(رونا مچتا ہے )
دوستو ! یہ سات دن کا اشارہ ،  اِس کا مفہوم واضح طور پر تو ، ۔ ۔ ۔ ۔  میں نہیں کہ سکتا کہ اس سے مراد کتنی مدت ہے ؟

مگر یہ قیام مشروط ہے ۔  یہ قیام مشروط فرمایا ہے سات دنوں سے ،  چاہیں تو بڑھا دیں چاھیں گھٹا دیں ۔  کیا معلوم میزبانی بھی پسند آئے نہ آئے ۔
ڈر لگتا ہے کہ  اتنا اونچا مہمان ہے کہیں ناراض نہ ہو جائے ۔

یہ مشروط وعدہ ہے ،  اِس لئے ہم طویل وقت  (رقم آنے  ) کے انتظار کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔  

کہیں ایسا نہ ہو کہ اِس کرم سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں ۔ - - - -کرم سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں ،
 پھر منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے ۔ اب ہمیں اُٹھ کھڑا ہونا چاھئیے ۔ اُٹھ کھڑا ہونا چاھئیے ۔   اسلامی انقلاب لانے کے لئے ۔  باطل ، طاغوتی اور مفاد پرست منافق قوتوں کے خلاف ، سینہ سپر ہو جانے کے لئے ۔ سیاسی انقلاب کےلئے اُٹھ کھڑا ہونا چاھئیے ۔  


اس کے بعد ، عورتوں نے میزبانی میں فرق نہ آئے ، اپنے زیورات اتار کر دئے مردوں نے پرس سے نوٹوں کی بارش اور چیکوں کی بارش کر دی ۔
اور قادری صاحب، اس دولت کی یاد پر کینڈا کی شہرت لینے کے قابل ہو گئے ۔
 

بدھ، 2 جولائی، 2014

میں ڈاکٹر بنوں گا !




نوجوان کون سی کلاس میں پڑھتے ہو ؟
"جی آٹھویں کلاس میں "اُس چودہ سالہ بچے نے میرے سوال کا جواب ججھکتے ہوئے دیا
"کیا بنو گے بڑھے ہوکر ؟" میں نے پوچھا
"ڈاکٹر" اُس نے یک دم جواب دیا
میں نے اُس کی طرف غور سے دیکھا ،
"آٹھویں میں کتنے نمبر آئے ہیں ؟"
" دوسو پینتیس " اُس نے جواب دیا
" کیوں ، 480 کیوں نہیں ؟" میں نے پوچھا 

" جی محنت نہیں کی تھی " اُس نے جواب دیا ۔
"والد کیا کرتے ہیں ؟" میں نے پوچھا
" جی قاصد ہیں " اُس نے بتایا ۔
" یہاں کس لئے آئے ہو ؟" میں نے پوچھا
" جی میری بہن یہاں کمپیوٹر کا کورس کرنے آئی ہے " اُس نے جواب دیا
میں سکستھ روڈ راولپنڈی پرپچھلےجمعہ کو ایک کالج میں گیا تھا ، وہ بچہ ، استقبالیہ میں کرسی پر بیٹھا تھا  اور اپنی سوچوں میں مگن تھا ، پندرہ منٹ بعد اپنے کام سے فارغ ہو کر اُسے دیکھا تو وہ اُسی طرح بیٹھا تھا ، لہذا میں نے حسبِ عادت اُس کے ذہن کو جانچنے اور اور اُس کے   مستقبل لائحہ عمل جانچنے کے لئے میں نے اُس سے باتیں شروع کیں ۔تو اُس نے مجھے جو باتیں بتائیں اُس سے مجھے اندازہ ہو گیا ، کہ یہ اُن خوش فہم بچوں میں سے ہے ، جس کی آنکھوں میں ڈراموں ، فلموں اور قصے کہانیوں نے خوش کُن خوابوں کے جزیرے بسا دئیے ہیں ۔اور مجھے اندازہ تھا کہ یہ بچہ نجانے کتنے بچوں کی طرح بلند اُڑان کے خواب دیکھتے ہوئے ، شاید اُڑنا ہی بھول جائے ۔ اور شاید میٹرک کر لے یا 55 فیصد بچوں کی طرح ہمت ہار بیٹھے اور ڈراپ آوٹ  ، فہرست میں شامل ہو کر والدین پر بیٹیوں سمیت بوجھ بن جائے ۔
غالباً دس سال ہو گئے ہیں ، کہ میں اپنے فالتو وقت میں کسی سکول یا کالج میں اُن کے تین گھنٹے لیتا ہوں اور بچوں کو سمجھاتا ہوں ، کہ وہ اتنا ہی وزن اُٹھا سکیں گے ، جتنا کہ اُن کی ہمت ہے ۔ اِس میں بچہ خود ، سکول ، والدین اور سوسائیٹی اُس کی ہمت کو سہارا دے سکتے ہیں ۔ کچھ ذہانت کے ٹیسٹ بھی میں نے بنائے ہیں جن سے بچے کی تعلیمی قابلیت کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے ۔ جب میں اُن کی کونسلنگ کرتا ہوں تو  مجھے اندازہ ہو جاتا ہے ۔ کہ وہ:ـ
 ریس کا گھوڑا بنیں گے یا پولو کا اور یا پھر وہ تانگے میں جُت جائیں گے
یہ بچہ بھی میرے نزدیک ایک تانگے کا گھوڑا تھا ، جس نے ساری عمر  اپنے باپ کی طرح سواریاں کھینچنی تھیں، اُس کو خوابوں کی دنیا سے نکالنے کا ایک ہی طریقہ تھا ۔ چنانچہ میں نے وہ آزمایا اور اُسے بتایا ، کہ تین بہنوں کا یہ اکلوتا بھائی  ، یقیناً ڈاکٹر بن سکتا ہے اگر :-
1- یہ میٹرک میں 85 فیصد سے اوپر نمبر لے ابھی وہ 47 فیصد پر ہے ۔  یہ 38 فیصد کا فرق مٹانے کے لئے   76 فیصد محنت کرنا پڑے گی ۔ورنہ اُسے میڈیکل کالج میں داخلہ نہیں ملے گا
2- لیکن اگر وہ 15 سے 20 لاکھ کا انتظام کر سکتا ہے تو پھر شائد اُسے 65 فیصد نمبر پر میڈیکل کالج میں داخلہ مل جائے ۔
اگر تم واقعی  ڈاکٹر بننا چاھتے ہو تو ہم ، دوسری آپشن کو ختم کرتے ہیں کیوں کہ تمھارے والد نے بہنوں کی شادیاںکرنا ہیں اور اُس کے بعد رقم کا انتظام  4 سالوں میں ممکن نہیں ۔
تو پہلے آپشن پر عمل کرنے کے لئے ، تم کل جب بہن کے ساتھ آؤ تو اپنی ، کتابیں ساتھ لیتے آؤ ۔ یہ میڈم تمھیں چیک کریں گی ، کہ جو کام میں تمھیں دوں ، وہ تم کرتے ہو یا نہیں ۔
اگلے دن ، جب میں دوبارہ کالج میں گیا ، تو ریسیپشنسٹ سے معلوم ہوا ، کہ وہ بچہ نہیں آیا ۔ میں نے اُس کی بہن کو بلایا اور اُس کے بھائی کے متعلق پوچھا ، تو اُس  نے بتایا  کہ معلوم نہیں کیوں وہ اب اسے گیٹ سے باہر چھوڑ کر چلا جاتا ہے ، اندر نہیں آتا ، شاید یہاں اُسے کسی نے کچھ کہا ہے ۔ جس پر میں نے اُسے ساری بات بتائی  تو اُس بچی کے چہرے پر دکھ کی ایک لہر گذر گئی ۔

دکھ کی یہ لہریں میں نے بے شمار ماؤں اور بہنوں کے چہروں پر دیکھی ہیں کیوں کہ وہ سب  ، سپنوں میں اپنے لاڈلے بھائیوں  اور بیٹوں کو ، ایسی کرسیوں پر بیٹھا دیکھتی ہیں ، کہ جس پر بیٹھنے کے لئے ، ماؤں اور بہنوں کی دعاؤں کی نہیں ، بلکہ ایسی دواؤں کی ضرورت ہوتے ہے ، جن  سے بننے والے کے کشتے کا نام محنت ہے ۔
 کیا اِس کا علاج ہے ؟


 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 

میں مکینک بننا چاھتا تھا

 

 

 

 

جمعہ، 20 جون، 2014

خواب جزیرے

"کائینات  کا وجود اور لاوجود" ، کے مصنف ،   بوآغا چنگوژی ، بغدادی  المعروف ابودوسامہ ،باب "تاویل الخواب" میں  رقم طراز ہیں ۔

خواب ، انسانی" کاش " کا حصول ۔
خوابوں کا تعلق  دو اقسام کی آوازوں سے ہوتا ہے ، جنھیں ہم پیغامات  سے موسوم کرتے ہیں ، یہ پیغامات اِ س کائینات میں آواز کی طرح  گردش کرتے ہیں ، ہماری آوازیں ، جونہی ہمارے دماغ میں پیدا ہوتی ہیں ، اُن کا خارجی سفر شروع ہوجاتا ہے ،  یہ سفر دو اطراف میں ہوتا ہے ، ایک  کائینات کے اطراف میں اور دوسرا انسانی جسم کے اطراف میں ، گو اِس کا ظہور ہماری لسان کی حرکت کا مظہر ہے ،لیکن ہمارا جسم بھی اِس کے سفر میں ساتھ دیتا ہے ۔  
ہمارے دماغ سے پیدا ہونے والی ، اِن آوازوں میں ہماری تمام زندگی کا حسن بنتا ہے ، اور اِن کی راہنمائی میں کام کرتے ہیں ، مثلاً ایک شخص نے عمدہ خوراک سے لطف اندوز ہونا ہے  ، لیکن اُس کی ایسا کرنے کی بساط نہیں ۔ اُس کے دماغ سے نکلنے والی یہ آواز ، یقیناً اُسے اِس عمدہ کھانے کی لذت سے لطف و اندوز کروا سکتی ہے ، اور وہ اتنا ہی لطف اُٹھا سکتا ہے ۔ کیسے ؟ خوابوں کی دنیا میں جاکر  ، اچھا کھانا ، اچھا پہنا ، اچھے گھوڑے کی سواری کرنا ، ماہر تیر انداز بننا  اور سب سے حسین عورت کی قربت سے لطف اُٹھانا ۔اُن آوازوں کی وجہ سے ہوتا ہے جو اُس کے دماغ سے کسی "حاضر و موجود "شئے  کو دیکھ کر پیدا ہوتی ہیں اور  کاش بن کر اِس کائینات میں پھیل جاتی ہیں اور پھر یہ کاش خواب میں ڈھل کر  اُسے حاصل ہوجاتی ہے ۔ یہ کاش کسی گذرے ہوئے  یا آنے والے  کی محفل سے بھی لطف اندوز کروا سکتی ہے ۔ لیکن اِس کاش میں وہ پوری قوت ہونا چاہئیے ، جو کسی "حاضر   و موجود" کے لئے اتنی درکار نہیں ۔

دوسری آواز کو ، کائینات کے مرکز ِ واحد ،  حتمی مرکز ، آواز کے نقطہ ء آغاز سے اول ،  جو لا مکاں ہے لا زوال ہے ، جو وجود نہیں اور لاوجود بھی نہیں ، لیکن ظاہر بھی ہے اور باطن بھی ، اُسے لفظوں سے حتمی طور پر سمجھا نہیں جاسکتا  لیکن الفاظ اُس کی  آواز (کُن)کو اپنے اوپر سوار کرکے  چہار  سو مہمیز کر دیتی ہے اور جہاں بھی کاش کی شدت موجود ہوتی ہے اُس میں جذب ہو کر  اُس کے خمیر کو لا مکاں  سے مکاں  میں لے آتی ہے ، اور ضروری نہیں کہ یہ مکاں ہماری آنکھوں کے سامنے ہو یہ اوجھل بھی ہوسکتا ہے ۔ لیکن اِس کا ظہور  حتمی ہے ۔

بشری زندگی میں ، اِس ماوائی آواز  کے اِس دنیا کے لئے دو اہم نقاط ہیں نقطہ ء آغاز اور نقطہ ءاختتام ، روح موجود ہے جو مرکز واحد کی کل  آواز  کا حصہ ہے ، اُس کا "سفر  ِ کُن " ( اِس دنیا میں خالد نعیم الدین ، کے لئے ایک معین وقت پر شروع ہوا اور ایک معین وقت پر، اِ س دنیا سے اُس کی واپسی ہے یعنی  جسم کی پیدائش و موت، روح کی نہیں  ) یعنی  " جا اور آ "     ۔
"جا "تو نہیں لیکن   "آ"  ، اُن سب ارواح کو معلوم تھا  جو کُن سےوجود ( لامکاں سے مکاں)  میں آئیں ۔ 

خواب اور تعبیریں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔
خواب میں یہ دیکھنا کہ میں فلاں وقت اِس دنیا سے واپس چلا جاؤں گا :
اِس دنیا سے واپسی کے لئے دماغ  میں  پیدا ہونے والی ، آوازِ کاش  کی شدت ، جب اِسے کائینات کے چاروں اطراف میں پھیلا دیتی ہے تو وہ  بشری زندگی میں کہیں  نہ کہیں اُس   آفاقی آواز کی ہم رکاب ہو کر ، اُس بشر کو اُ س آواز "کُن "کے دوسرے حصے  آگاہ کرتی ہے جو روح کو واپسی کا پیغام ہے ۔ ایسے بہت سے اِنسان ہیں جنھیں اپنی روح کی معین واپسی کی اطلاع ، بذریعہ خواب ہوجاتی ہے اور وہ لازماً واپس جاتی ہے ۔ لیکن اگر وہ واپس نہ جائے تو  ، پھر کیا ہوگا ؟ 
جس طرح جن شیاطین ہوتے ہیں اِسی طرح اِنس شیاطین بھی ہوتے ہیں۔
 
"جن شیاطین" ، اُن انسانوں کو منتخب کرتے ہیں جن سے اُنہوں نے اِنسانوں کو بہکانے کا کام لینا ہوتا ہے ، وہ اُن کی کاش میں اپنی آواز یعنی " وسوس"   شامل کر دیتے ہیں ،  اُن کو یقین دلاتے ہیں کہ ، اُن کی روح کی واپسی کا یہ وقت معین ہے ، لیکن جب اُن کی روح واپس نہیں ہوتی تو پھر وہ ،  ایک اور آواز اُن کے ہم رکاب کرتے ہیں ،

" تمھیں منتخب  کیا جاتا ہے ، اِس دنیا میں انسانوں کی ہدایت  کے لئے ,  جاؤ دنیا کے اِنسانوں کے دکھوں کے بوجھ کو اُن کے کندھوں سے اتارو ۔"

   اور پھر خوابوں میں  اُن کی  تربیت کروائی جاتی ہے ۔  



 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔