Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
‏رعنائیءِ خیال لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏رعنائیءِ خیال لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 4 اکتوبر، 2019

ہیپی ٹیچرز ڈے

  ننکانہ صاحب میں ابا کی پوسٹنگ ہوئی . چھوٹی سی خوبصورت آفیسرز کالونی تھی جس میں تمام ایک سے ڈیزائن کے گھر پہلو بہ پہلو ایستادہ تھے. ہمارا گھر قطار میں پہلا تھا یعنی کارنر پلاٹ . ان گھروں کے سامنے ہرے بھرے کھیت تھے . جن میں کہیں کہیں اکا دکا درخت کھڑے ہوتے. گھر اور سامنے کے کھیتوں کے درمیان صاف نہری پانی کا ایک کھالا بہتا .گھروں کے عقب میں وسیع میدان تھا جس میں بڑے بڑے گڑھے پڑے تھے . یہ گڑھے اینٹیں بنانے کے لیے مٹی نکالنے کی وجہ سے وجود میں آئے تھے. اسی میدان کے پرلے کنارے اینٹوں کا بھٹا تھا جس کے عقب میں بھٹا مزدوروں کی جھونپڑیاں ہوتی تھیں. ہمیں عام طور پر اس طرف جانے کی اجازت نہ تھی۔
گھر کے سامنے سے گزرنے والی سڑک بائیں طرف ذرا آگے جا کر دائیں ہاتھ مڑتی اور نیم قصباتی کیفیت کے حامل شہر کی طرف بڑھ جاتی. یہ شہر سکھوں کے مقدس گردواروں کی وجہ سے تاریخی اہمیت کا حامل ہے . اس سڑک کے دائیں ہاتھ پر مالٹوں کا باغ تھا اور بائیں ہاتھ پر آٹا اور گندم پیکنگ فیکٹری تھی. اس طرف بھی ہم کم ہی جاتے.
 ننکانہ صاحب پہنچنے کے پہلے روز ، ہمارے ہم عمر لڑکا اور لڑکی ساتھ والے گھر سے ہمارے گھر آئے . امی سے ملے اور کہنے لگے آنٹی ہم آپ کے ساتھ والے گھر سے آئے ہیں امی کہہ رہی ہیں آپ تھکے ہوں گے اور سامان بھی سیٹ کرنا ہوگا سو آپ کا کھانا ہماری طرف سے آ جائے گا آپ آرام سے باقی کام سمیٹ لیں. جو اصحاب ٹرانسفرز کے عادی ہیں وہی اس دعوت شیراز کی اہمیت سمجھ سکتے ہیں. دوپہر میں مزیدار گھر کا بنا کھانا آ گیا جس سے خوب انصاف کیا گیا. برتن واپس کرنے کے لیے میں اور بھیا گئے. یہ انکل شاہ ،آنٹی سیدہ اور ان کے تین بچوں سے ہماری پہلی ملاقات تھی. یہ خوبصورت اور خوب سیرت خاندان اہل تشیع سید ہیں. آنٹی ہمیں آواز دیتیں بچو ٹھوٹھیاں کھا لو اور ہم بھاگے جاتے. ٹھنڈی ٹھار گیلی سرخ مٹی کی ٹھوٹھیاں میں جمی برف سی سفید میٹھی کھیر سے تو محبت پونی ہی تھی اس کھیر کے بنانے والوں سے آج بھی ایسی انسیت ہے جیسی اپنے والدین سے ہوتی ہے. ان تینوں بچوں سے بچپن کی بےفکر دوستی اور انسیت ویسی ہی ہے جیسی اپنے ماں جائے ہوں. اسی گھر سے اہل تشیع کا حسن جانا اور اس خاندان کی اہل بیت سے محبت کا مشاہدہ کیا. دونوں طرف کے ابو اور ڈیڈی بہترین دوست ٹھہرے .مائیں جلد ہی گہری سہیلیاں بن گئیں .ہم عمر بچے دوست ہوئے . لڑکیاں اکٹھے تختی مارکہ گورنمنٹ سکول میں جایا کرتیں. میں درجہ چہارم میں تھی اور آنٹی فاخرہ کی بڑی بیٹی درجہ پنجم میں . آنٹی کا بڑا بیٹا بھی چہارم میں اور چھوٹا منا میرے چھوٹے بھیا کی طرح سکول نہیں جاتا تھا. یہ دونوں چھوٹے کاکے تمام دن کبھی اس گھر اور کبھی اس گھر گھومتے پائے جاتے اور اگر گھروں میں نہ ملتے تو گھر کے سامنے بہتے کھالے سے ننھے ننھے مینڈک کے بچے پکڑا کرتے۔ دو ہاتھوں کی پاکٹ سی بنا کر مینڈکوں کو گھر لے آتے جنہیں بعد میں ہم پر اچھال کر ہمیں ڈرایا کرتے۔
  انگریزی میڈیم سکول سے ٹرانسفر ہو کر اردو تختی مارکہ سکول جس کی مس ، استانی کہلاتیں اور پنجابی میں اردو پڑھایا کرتیں ۔ایسی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے ،    انکل نور حسین شاہ صاحب کے مشورے سے ابا نے ایک پرائمری سکول ٹیچر ،محترم جناب سر نسیم صاحب سے بات کی اور یوں وہ شام کے وقت ہمیں ٹیوشن پڑھانے کے لیے آنے لگے."مار نہیں پیار" تو بعد کی بات ہے. مجھے ابا اور سر نسیم کا مکالمہ یاد ہے ابا نے ہمیں سر کے حوالے کرتے ہوئے کہا 
" سر کھال آپ کی ہے۔ہڈی میری ہے" 

اس جملے کے بعد آنے والے دن خاصے سخت ثابت ہوئے. مولا بخش تو پرائمری اسکول کے اساتذہ کا اصولی ساتھی ہوتا تھا. جس کو ہاتھ میں پکڑنے کی ان کی عادت اتنی پختہ ہو چکی ہوتی ہے کہ اگر کبھی کہیں اس اس کے بغیر جانا پڑے تو انہیں اپنا آپ ادھورا لگتا ہو گا. والدہ نے ہمیں سمجھا رکھا تھا کہ سر کے ساتھ ایک صوفے پر نہیں بیٹھنا . اس لیے ہماری کرسیاں صوفے کے مقابل درمیانی میز کے دوسری طرف ہوتیں. عموما کتاب پر الفاظ کی نشاندہی کے لیے بھی مولابخش کی نوک استعمال ہوتی اور کتاب پر جھکے ہمارے سر سے جڑی ریڑھ کی ہڈی میں مولابخش کی پہلی دید سے ہی پھریری دوڑ جایا کرتی.

 لیکن مولا بخش ہی واحد تعلیمی ہتھیار نہ تھا. یہ صرف پہلا ہتھیار تھا. سرکنڈے سے بنا قلم یا پنج پہلو پیلا پیانو بال پوائنٹ دو انگلیوں کے درمیانی جوڑ کے درمیان دبا کر انگلیوں کے ناخن والے سرے دبا کر پکڑ لیے جاتے اور قلم کو یوں گھمایا جاتا جیسے کیسٹ کی ریل ٹائٹ کی جا رہی ہو . قلم گھومتا تھا اور اذیت ناک درد کے ساتھ انگلیاں سرخ ہوتی جاتیں. لگتا ابھی ٹوٹی کہ تبھی. لیکن ٹوٹی کبھی نہیں. ٹوٹ جاتیں تو سر استاد نہ کہلاتے پولیس کے حوالاتی ڈرائنگ روم کے تفتیشی افسر کہلاتے. بس ان دو عہدوں میں اتنا فرق ہے کہ ہڈی توڑ دینے والا "نالائق" پولیس میں اور ہڈی بچا کر تشدد کر سکنے والا "ماہر" پرائمری اسکول کا ٹیچر بھرتی ہو جایا کرتا تھا۔
 مثل مشہور ہے کہ پرائمری اسکول ٹیچر کی مار ہاتھی سے بھی چوہا ہونے کا اقرار کروا سکتی ہے. اور جہاں سی آئی اے موساد یا را ،کی تفتیش ناکام ہو جائے وہاں پاکستانی پرائمری اسکول ٹیچر کی پانچ منٹ کی تفتیش سارے راز اگلوا سکتی ہے . ہم بےچارے بھلا کس کھیت کی مولی تھے۔

 تیسرا ہتھیار چمڑے کا کھسہ نما جوتا تھا جس کا تلوا بھی لچکدار ربڑ اور چمڑے کے ملاپ سے تیار کیا جاتا یا جوتا پنجے کی طرف سے بوٹ نما اور ایڑھی کی طرف سے چپل ہوتا اور " پولا " کہلاتا . سرخی مائل براؤن رنگ کا یہ جوتا استاد کے جوتے کی حیثیت سے بصد احترام سر آنکھوں پر لیکن اس پولےکی چوٹ بڑی ظالم تھی. جہاں پڑتا یونہی لگتا کہ جلد اتر گئی ہے اور گرما گرم مرچیلی سرخی نمودار ہوتی جو بالکل ایسی حساس ہوتی جیسے متاثرہ جگہ جل گئی ہو. ایسا نہیں تھا کہ ہم ایسے تابعدار شاگرد تھے جو چپ کر کے مار کھا لیتے . ہائے وائے، سی سی، تو کرتے ہی تھے اور اونچی آواز میں کیا کرتے کہ گھر کے اندر کچن میں مصروف امی تک آواز چلی جائے. لیکن امی بھی ابا کی بات کا ایسا احترام کرتیں کہ مجال ہے کبھی ایسے وقت میں ڈرائینگ روم میں داخل ہوں ہاں خاموشی چھانے کے بعد سر کے لیے چائے اور ہمارے لیے شربت بھجوا دیا کرتیں. ملازم چائے کی ٹرے لے کر اندر آتا تو کھلے دروازے سے ہمارے حالات کا جائزہ لیتیں کہ اب ٹیوشن کے بعد کس بچے کو کتنا بہلانا اور کسے کتنی ٹکور کرنی پڑے گی. ساتھ ہی ساتھ ہماری آنسو بھری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنا چہرا ایسے سخت بنا لیا کرتیں کہ ہمیں سر کی شکایت لگانے کی ہمت ہی نہ رہتی. لیکن راتوں کو جب ذرا نیند میں کسمساتی آنکھ کھولتی تو امی کو ہم بہن بھائیوں میں سے کسی نہ کسی کی ٹکور کرتے پاتی۔
 ایک روز حساب کا سوال حل کرنے میں غلطی پر میری" پولا افزائی" ہو رہی تھی۔بہن بھائی چونکہ اس وقت سزا یافتگان میں شامل نہ تھے ،سو وہ بھی اس پولا افزائی سے لطف اندوز ہو رہے تھے. اپنی غلطی کو مجھے تسلیم کرنے سے انکار تھا کیونکہ میں سر کی لکھائی سمجھ نہیں پائی تھی جو سمجھا تھا اس کے مطابق سوال درست حل کیا تھا. لیکن سر میرے بحث کرنے پر مزید سیخ پا ہو رہے تھے. اکیلے پن کی کیفیت اور خود کو غلط نہ سمجھنے پر اصرار مجھے باغی کر رہا تھا .جو سر کو مزید غیض میں مبتلا کر رہا تھا .اس روز استادانہ تشدد کا اگلا لیول دیکھا۔
 دورانِ مار، ابا ڈرائینگ روم کے بیرونی دروازے سے اندر داخل ہوئے. ڈیوٹی سے جلد واپسی ہو گئی تھی یا تشدد کا دورانیہ طویل ہونے کی وجہ سے ابا کی واپسی کا وقت ہو گیا تھا. بہرحال میرے اندر کی بغاوت، بہن بھائیوں کی چھیڑ چھاڑ اور استاد کی مار نے مجھے حوصلہ دیا .امید بھی تھی . کہ ابا کی لاڈلی ہوں .میری جان بخشی کروائینگے. بلکہ آب تو سر کو ڈانٹ پڑتے دیکھنا چاہتی تھی . میں ابا سے سر کی شکایت لگا بیٹھی.
"ابو جی دیکھیں اتنی سی غلطی ہوئی تھی اور سر اتنی بڑی سزا دے رہے ہیں"۔
سر بھی سہم سے گئے تھے کہ آج تو خیر نہیں شاید درانی صاحب کو برا لگے . ابا کا رسپانس میرے لیے اس وقت مایوس کن تھا،اور سر کے لیے حوصلہ افزا. ابا نے مجھے جواب نہیں دیا بلکہ سر سے کہا ،

" سر اس نے آپ کی شکایت کیسے لگائی ہے اسے اور سزا دیں " ۔
سر کِھل سے گئے اور میں مرجھا سی گئی۔
سر نے میرے بڑے بھیا سے گھر سے ایک رسی لانے کا کہا. بھیا نے امی سے ڈوری مانگی. امی نے وجہ پوچھی تو بس اتنا جواب دیا ،
" سر منگوا رہے ہیں !"
امی نے اسٹور سے ڈوری نکال کر تھما دی. ڈرائینگ روم میں ، میں مولا بخش کے بعد پولے کے نشانے پر تھی. کہ ڈوری آ گئی. اب سر نے میرے دونوں ہاتھ دونوں کندھوں پر اس طرح رکھوائے کہ دایاں ہاتھ بائیں کندھے پر اور بایاں دائیں پر. بھیا سے میرے ہاتھ میرے سر کے پیچھے پکڑ کر رکھنے کو کہا اور ڈوری سے کس کر میرے ہاتھ میرے سر کے پیچھے باندھ دیے. فورا سے تو کچھ نہ ہوا زرا دیر میں مسلسل کھنچاؤ سے کندھے کے جوڑ سے اکھڑنے والے ہو گئے..
 سر نے جانے سے پہلے میرے بہن بھائیوں کو میری رسی کھولنے سے منع کیا. اسی دم گھوٹتی درد سے بےحال حالت میں امی کے پاس پہنچی . امی نے میری جان رسی سے چھڑوائی  ،بہن  بھائیوں کو ڈانٹا ،
" تم لوگوں نے بہنا کا خیال نہیں کیا"۔

 ابا سے گلہ کیا تو ابا کا جواب تھا.
"آج اگر میں رابعہ کو حوصلہ دیتا تو تمام عمر میرے بچے میرے دیے غلط حوصلے کی وجہ سے استاد کی عزت نہ کرتے . میں مانتا ہوں کہ بچی کی غلطی کی سزا بڑی تھی لیکن استاد کی شکایت کر کے اس نے بڑی غلطی کر لی تھی"۔

امی نے اپنے طور پر سر کو سمجھا دیا تھا کہ بیٹیوں پر اتنی سختی نامناسب ہے۔
 سر نے بھی بعد میں ہاتھ ہولا ہی رکھا . بہت مشکل سے بہت عرصے بعد ابا کا یہ سبق سمجھ پائی۔
 کئی ٹرانسفرز اور کتنے ہی سالوں کے بعد جب میرے ابا کی وفات کی خبر ٹی وی پر سن کر سر نسیم اپنی بیٹی کے ساتھ ابو کے جنازے پر ہمارے گھر تعزیت کے لیے آئے. اس روز ان کی زبان پر ابا کی تعریفیں تھیں اور اپنی بیٹی کو پڑھنے کی تلقین وہ میری مثالیں دے کر کہا ۔
"دیکھو میری شاگرد ڈاکٹر بن گئی ہے . دیکھو تم بھی رابعہ کی طرح پڑھو"۔
 نومبر 12 میں ابا کو دنیا سے پردہ کئے آٹھ سال مکمل ہو جائیں گے۔


 سر نسیم سے تبھی ملاقات ہوئی تھی. اللہ سے امید ہے کہ سر ابھی صحت مند اور مقید حیات ہوں۔
 اگر ننکانہ صاحب کا کوئی قاری اس تحریر کو پڑھ رہا ہے اور سر تک میرا سلام پہنچا سکتا ہے تو پلیز میرا شکریہ اور سلام ان تک پہنچا دے ۔
سر ،کی " پولا فیکیشن " نے میری ڈاکٹری کی بنیاد بہت مضبوطی سے بھری ہے .

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بدھ، 16 اگست، 2017

ڈاکٹر رابعہ- اردو improve کرنے کے طریقے



 ایک  ماہر نبّاض کی طرح ، دوائیوں ، آپریشن  اور علاج کی وادیوں میں ڈوبنے کے بجائے ،  انسانوں کی دماغی جھنجلاہٹ کو پرسکون کرنے اور ہونٹوں پر مسکراہٹ   سجانے کے لئے ،   اردو ادب  و شاعری کی وسیع جھیل  کا طول و عرض ماپنے والی  ، ہونہار اور لائق بھتیجی رابعہ درانی    نے ،  اپنے پیج   " رعنائی ءِ خیال  " پر بے شمار تخلیقات کو جگہ دی ہے ۔ جو اپنی مقبولیت کی وجہ سے ، روزناموں ، اور اخبارات میں جگہ پا کر ، رابعہ بیٹی کو صحافت کے میدان میں لے آئے ہیں ۔ بس یہی کہہ سکتا ہوں کہ اللہ کرے زورِ قلم اور بھی زیادہ ۔ (مہاجرزادہ)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


ہمم ۔ اوکے let's see اردو بہتر کرنے کے لیے what can we do؟
اب اتنیtough language تو نہیں ہے اردو کہ کوئیlearn ہی نہ کر سکے بس تھوڑی practice کی ضرورت ہے اورvocabulary بہتر کرنے کے لیے books اور news papers پڑھنے کے علاوہ dictionay consult کرنی چاہئے ..
اردو
slowly improve ہو ہی جائے گی ..
بس
remember one thing that , work hard میں ہی کامیابی کیkey ہے. بنا struggle کے ہم کبھی بھی اپنی destiny تک نہیں پہنچ سکتے.
اپنی
daily routine میں اگر ہم اردو language کو use کرنا شروع کر دیں تو کافی benificial ہو گا اور اردو easily learn ہو جائے گی .. مجھے امید ہے and I wish too کہ میرا message اچھے سے convey ہو گیا ہو گا اور آپ سب friends n fellows آج سے hard work کرنے لگیں گے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 
رعنائی خیال  :  انگلش برداشت  ہے  . بس ہندی کی آمیزش اچھی نہیں لگتی خصوصا جب بولنے والے کو احساس بھی نہ ہو کہ کب و ہندی کی ملاوٹ کر بیٹھا؟

نوٹ: ڈاکٹر رابعہ  ،کے مضمون پر ، میرا کمنٹ :
اردو نے ہندی کے بطن سے جنم لیا ،
فارسی کی گود میں پروان چڑھی ،
عربی نے پاؤں چلنا سکھایا اور
انگریزی نے معاشرے میں ممتاز کیا !



جمعہ، 18 نومبر، 2016

ڈاکٹر رابعہ- انسانی جسم کے راز ۔ میڈیکل اسٹوڈنٹس

میڈیکل پرافس (سالانہ امتحانات ) اور میڈیکل اسٹوڈنٹس.

امتحانات میں میڈیکل اسٹوڈنٹس روبوٹس کی طرح آن اور آف ہوتے ہیں. سونا جاگنا کھانا پینا سب گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ ساتھ چلتا ہے
ہم لوگ جاگنے کے لیے پ....ایکسٹرا نکوٹین یا کیفین اور سونے کے لیے خواب آور دوائیں( سلیپ انڈیوسر) استعمال کرتے تھے. اسباق یاد کرتے ہوئے بون بون کینڈیز ساتھ رکھی ہوتی تھیں. تاکہ دماغ کے خلیوں کو شوگر کی سپلائی رکنے نہ پائے . یادداشت بڑھانے کی ادویات کے اشتہارات بہت للچایا کرتے لیکن جیب خرچ اس کی اجازت نہ دیتا تھا.

سارا سال ماڈلز کو شرما دینے والی لڑکیاں ''ماسیاں'' اور لڑکے کسی مزار پر دھمال ڈالتے بےترتیب جھاڑجھنکار بالوں والے'' نشئی ملنگ'' کی تصویر پیش کرتے ہیں۔

ہر مضمون کی پہلی ریڈنگ کے لیے ہفتوں کا وقت مختص کیا جاتا . دوسری ریڈنگ دنوں میں اور تیسری ریڈنگ کے لیے گھنٹے رکھے جاتے .. آخری ریڈنگ پیپرز کے درمیانی وقفے میں کی جاتی .. جو دنوں کا کام منٹوں اور سیکنڈوں میں کر نے کا نام ہے.

کوئی ہتھکڑی نظر نہیں آتی . کال کوٹھری کی سلاخیں بھی دکھائی نہیں دیتیں لیکن میڈیکل اسٹوڈنٹ قیدی ہوتا ہے. گویا جادو سے پتھرایا بت ہو . کھانے کا وقفہ وقت کا ضیاع لگتا ہے. نہانا دھونا صرف نیند بھگانے کے لیے ضروری ہوتا ہے ورنہ ''اب بال بنائیں کس کے لیے'' والی صورتحال ہوتی ہے گریز Grey's اناٹومی ,گائٹن( gyton ) ،گےنانگ( ganong ) اور پی جے کمار ( PJ Kumar) میں آنکھیں تو ہیں نہیں جسے ہم نے اچھا لگنا ہے. .

گھر میں کون آیا گیا .. کسی کے ہاں کیسا مرن جیون بیاہ شادی ..ان سب سے امتحان کے چند مہینے میں میڈیکل اسٹوڈنٹ اس طرح لاتعلق ہوتا ہے جیسے قبر کا مردہ زندوں سے. . بس کورس کی کتاب کو نامہ اعمال سمجھ لیجیے اور اسٹوڈنٹ (مردے) کو منتظر حشر.

سوچ کا پہیہ کبھی سرجری کے میدانوں میں دوڑتا ہے اور کبھی یادداشت کا گھوڑا میڈیسن کے میدانوں میں بگٹٹ بھاگتا ہے. کہیں بائیوکیمسٹری کے ایکشنز اور ری ایکشنز میں کھویا ہوتا ہے تو کبھی پیتھالوجی کے جراثیموں کا خوردبینی پیچھا کرتے واپسی کا رستہ فراموش کر بیٹھتا ہے. کمیونٹی ہیلتھ کے ٹوائلیٹس کا ڈیزائن سمجھنے سے فرصت ملے تو فارماکالوجی لیب میں دوا کی پڑیا باندھنا سیکھے یا فورینزک میڈیسن میں لاشوں کے پوسٹ مارٹم کے ساتھ رتی کے سرخ بیجوں سے زہریلا ہار بنانا سیکھے. اور کچھ نہیں تو سفید پاوڈر اور براون شوگر کا فرق جانے. . چرس حشیش کی بدبو سے واقفیت حاصل کرتے کرتے انسانی اور حیوانی خون کے نمونوں کا فرق سیکھنے نکل کھڑا ہو.
جیسے ہی ایک پرچے سے فراغت نصیب ہوتی ہے اگلے مضمون کے سمندر میں غوطہ زن ہونا پڑتا ہے ..بقول
منیر نیازی
ے
ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا.

اگر سرجری سے جان چھٹ گئی ہے اور پرچے میں تمام میجر اور مائنر آپریشن کامیابی سےکر لیے ہیں تو مریض کو آئی سی یو میں سانس کی نالیوں کے ساتھ '' پھونک مشین (ventilator ) '' سے برسر پیکار چھوڑ کر میڈیسن کے میدان خار زار میں سرجری کے کانٹے چھریوں سے لیس دماغ لے کر گھسیں اور جب باہر نکلیں تو دماغ کا گودام انواع و اقسام کی بیماریوں اور ادویات سے بھرا ہو گا. . ان بیماریوں اور دوایوں کو پرچے پر منتقل کر کے مریض کو ٹیسٹ ایڈوائز کر کے اگلے وزٹ کا ٹائم دیجیے یا اسپتال میں داخل کروایے. .اور اپنے قید خانے میں پہنچ کر نئی سزا کی چکی پیسنا شروع کیجیے.

نئی سزا '' آنکھ '' ہے تو ٹارچ لیجیے اور آنکھ کی سرخی (Red Eye ) کی وجوہات تلاش کیجیے .. آنکھ کی بیرونی ساخت سے آگے چلیے اور آئرس کے دہانے سے گزر کر عدسے کے درے کو پار کیجیے تا کہ ریٹینا ( پردہ ء بصارت) کی وادی میں بہتے خون اور رگوں کے ندی نالوں میں آنے والے فشار اور جوار بھاٹا کا معائنہ اور روک تھام تجویز کر سکیں.. پرچے میں دائیں آنکھ کے سفید موتیے کو بائیں آنکھ کے کالے موتیے سے کنفیوژ کیجیے. قریب کی عینک کو اندھراتا ( night blindness ) میں اور دور کی عینک کلربلائنڈ کے لیے تجویز کر کے '' جل تو جلال تو آئی بلا کو ٹال تو '' کا ورد کرتے گھر( ہاسٹل) اوہ سوری قید خانے میں واپس لوٹیے. آتے آتے بھینگے پن کے لیے سن گلاسز ایڈوائزکرنا مت بھولیے ..

آج قید خانے میں '' گائنی'' کی ٹکٹکی پر آپ کو چڑھایاجانے والاہے..تیار رہیے . جس مضمون کو آپ سب اسٹوڈنٹس نے یکساں دلچسپی اور تجسس سے پڑھا تھا روز امتحان سب سے مشکل ثابت ہونے والا ہے. کیونکہ پڑھا کم تھا دیکھتے زیادہ رہے تھے ;-)
بس خیال رکھیے گا کہ کینسر کی مریض کی ڈلیوری مت کروا آئیں اور سیزیرین کی مریضہ کو بانجھ پن کا علاج نہ لکھ دیں. . آخری علاج تمام گائنی کے مریضوں کا ایک ہی ہے. . اگر آپ نے بوجھ لیا تو آپ نے گائنی کو خوب سمجھ کر پڑھا ہے ورنہ ابھی آپ خام ہیں .

لیں جی سرنگوں والی اسپیشئیلٹی'' ای این ٹی''( ناک کان گلا) کی باری آ گئی. انسانی جسم کی یہ تین مختلف سرنگیں ہیں جو نہ صرف تنگ و تاریک ہیں بلکہ انتہائی پیچ دار اور خوفناک بھی .. ان کی بھول بلیوں میں کئی ای این ٹی پروفیسرز بھی کھو چکے اور باہر نہ آ پائے . زرا سنبھل کر جانا ہے. .
لو جی پرچے ختم ہوئے لیکن ''عشق کے امتحان ابھی باقی ہیں دوستو'' وائیوا ،میجر اور مائنر کیس . بس ''جہاں نیا ڈولی ، وہیں قصہ پار''
وارڈ کے جونیئر ڈاکٹرز سے بنا کر رکھیں اور وارڈ بوائز تو آپ کے پے رول پر ہونے ہی چاہیے. . آخر آپ کے وائیوا میں آنے والے ممکنہ لانگ اور شارٹ کیس ..اسپاٹنگ (spotting ) کے لیے کون سے سیمپل فائنل کیے گئے ہیں اس کا علم تو انہی سے ہو گا.

مریض کے معائنہ کے لیے پروفیسر کے احترام کے باوجود مریض کے رائٹ (دائیں)سائڈ پر ہی کھڑے ہونے پر اصرار کریں تاوقتیکہ پروفیسر صاحب خود آپ کو دوسری طرف کھڑا ہونے کو کہیں .
پروفیسر صاحب کی آپ کو پکڑائی جانے والی اسٹیتھ اسکوپ کو چیک کر لیں کہ آواز بند تو نہیں کر دی . کچھ ستم ظریف پروفیسر ہماری معصومیت کا ناجائز فائدہ اسطرح بھی اٹھاتے ہیں کہ بند اسٹیتھ ( locked stethoscope ) سے دل کی دھڑکن کا معائنہ کروا دیتے ہیں. بھیا زرا سنبھل کے. ورنہ روتے پھرو گے کہ
'' پروفیسر چال قیامت کی چل گیا ''..

سرجری میں شارٹ کٹ کوئی نہیں سو اس ہنر کو سیکھ ہی لیا جائے تو کام بنے گا . ورنہ اپنڈکس کے مریض کا ہرنیا اور پتے کے مریض کے گردے سے پتھری نکال آئے تو سرجن صاحب بلاٹکٹ گھر کی گاڑی پر سوار کروا دینگے

. ناک کان گلے کا وائیوا دینے کے لیے ہیڈ لائٹ فوکس کرنا سیکھ لیں ورنہ کان کی روشنی اگر ناک پر پڑ گئی تو سپلی یقینی ہے. . وارڈ بوائے سے اگر دوستی پکی ہے تو آپ نے بس جا کر اسٹول پر سیدھا بیٹھنا ہے وارڈ بوائے خود آپ کے سر پر لیمپ اس طرح سیٹ کرے گا کہ روشنی درست سمت میں ٹارگٹ پر پڑ رہی ہو گی. روشنی درست پڑ گئی تو آدھا میدان مار لیا باقی آدھا آپ کی یادداشت کا کام ہے

آنکھ کے وائیوا میں یادداشت سے زیادہ دعائیں کام آتی ہیں کیونکہ اتنے میجر سبجیکٹس میں آنکھوں کا سب سے زیادہ استعمال کر کے بھی انہیں پڑھتے وقت پس پشت ڈال دیا جاتا ہے.
'' گویا چراغ تلے اندھیرا''.

گائنی میں آپ کو اتنی اسپاٹنگ ( دیکھ کر سیمپل پہچاننا) ضرور آنا چاہیے کہ الٹے اور سیدھے بچے میں یا انڈہ اور بچہ دانی میں تمیز کر سکیں. حاضر سروس پروفیسر کی کتاب سے وائیوا کی تیاری کیجیے اور سوال کے جواب میں پروفیسر کی کتاب کا نام کوٹ کرنا مت بھولیے.

وائیوا آپ کے اعصاب کی مضبوطی کا امتحان ہوتا ہے اور اعصاب کی مضبوطی بیک گراونڈ نالج سے آتی ہے آپ کسی بھی سپلی والے سے پوچھ لیجیے اس کے اعصاب سپلی میں زیادہ مضبوط تھے کیونکہ سپلی میں تو
'' پڑھنا پڑتا ہی ہے '' ;-)

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی
ایکس میڈیکل اسٹوڈنٹ ;-)
کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج ..

ہفتہ، 15 اکتوبر، 2016

ڈاکٹر رابعہ ... انتظار...

مستنصر حسین تارڑ کی کتاب ''قربت مرگ میں محبت '' تو پڑھی نہیں لیکن اس کا تعارف ہی زندگی کی تنہائیوں اور مرگ کی قربت کے سکون کا احساس دلانے کے لیے کافی ہے.

ایک " مڈیاکر انسان " کی زندگی کولہو کے بیل کے جیسی ہے جس میں اگر کامیابی ہے تو وہ بھی محض پرانے سے نئے کولہو تک کا سفر ہی ہے.
انجام کار یہی ہے کہ کولہو کی چوں چرخ میں لپٹے بے مقصد گول دائروں میں کبھی مکمل نہ ہونے والا سفر کتنا بے معنی تھا . آنکھوں پر چڑھے کھوپے درحقیقت اس میڈیوکر بیل کی عقل پر چڑھے ہوتے ہیں . وہ اپنا اسٹیٹس بدلنے کی تگ و دو میں جینا بھول جاتا ہے .

محبت نام کا پنچھی گھر کی دیوار پر چہچہا کر رزق کی تلاش میں کسی اور سمت اڑان بھر لیتا ہے ..بالوں کا کالا کلف دھوپ کی عطا کردہ برف میں بدل جاتا ہے. چیتے جیسے چست کمر خمیدہ سے خمیدہ تر ہو جاتی ہے . دنیا کے جو کام ایک مڈیاکر کے بغیر ہو نہیں سکتے تھے وہ بنا کسی تعطل کے جاری رہتے ہیں.

وقت کے گدلے دریا میں کسی کسی لمحے کوئی تازہ چشمہ اپنا سفید یخ بستہ پانی شامل کرتا ہے تو کچھ دیر کے لیے سکون آور کامیابی کا احساس ہوتا ہے لیکن کیا کہیے کہ ایک مڈیاکر کی زندگی میں کامیابی عارضی اور جدوجہد مسلسل کیفیت کا نام ہے .

زندگی کی ریس میں ایک خیال اسے دوڑائے رکھتا ہے کہ بس ان ذمہ داریوں سے فارغ ہو لوں پھر اپنی زندگی جینا ہے.
اس دوڑ بھاگ میں وہ اپنے اور اپنے ہمسفر کی زندگی کو اولاد کے مستقبل کی نظر کر دیتا ہے . ضروریات خواہشات کو نگل جاتی ہیں دن رات تھکن آلود اور جذبات منجمد، بچوں کا مستقبل، مستقل رہائش کا ٹھکانہ بناتے بناتے جسم جواب دیتا چلا جاتا ہے، جوڑ کراہنے اور قوی چٹخنے لگتے ہیں. جسم کا سونا ، وقت کی ریت میں جذب ہو جاتا ہے .

ہمسفر کی آنکھوں میں چمکتے ستارے کی جگہ نظر کی عینک لے لیتی ہے . اس کی آواز کی نغمگی حالات کی بھٹی میں پک کر پختہ اور کھرکھری ٹھیکری بن جاتی ہے.
گھونسلے سے چوزے پر سنبھالتے ہی آزاد فضاؤں میں اپنا رزق تلاش کرنے جا نکلتے ہیں اور گھر کی تنہائی مڈیاکر کی زندگی کا استعارہ بن جاتی ہے

زندگی میں اگر کوئی آب جو کھلے تو اس سے گھونٹ دو گھونٹ چوری چھپے بھر لو جس سے سیرابی تو کیا ہو تشنگی سوا ہو جائے . گھر کی نیم پلیٹ بنواتے بنواتے قبر کا کتبہ مل جاتا ہے. اور ایک غیریقینی طویل سفر کا آغاز پھر سے ہو جاتا ہے

رابعہ خرم درانی

جمعہ، 7 اکتوبر، 2016

ڈاکٹر رابعہ- بچوں کی حفاظت کیسے کریں؟

شش و پنج کی کیفیت ہے، لکھوں یا نہیں. اضطراب لکھنے پر اکساتا ہے. احتیاط ٹھہرنے کا مشورہ دیتی ہے. قلب و ذہن میں جاری کشمکش کو کیا نام دوں؟
کسی کے کردار پر بات کرنے سے کیا حاصل؟
تہمت و بہتان کی مرتکب ہونا نہیں چاہتی، ہاں کسی کو تہمت سے بچانا ضرور چاہتی ہوں.
کسی کی زندگی میں زبردستی در آنے والی تلخیوں سے محتاط ضرور رہنے کا مشورہ دینا چاہتی ہوں.

آج کے دور میں تعلیم ہر انسان کے لیے ازبس ضروری ہے. دینی و دنیاوی ہر دو طرح کی تعلیم. بدلتے دور نے جس طرح بچوں کی تربیت کے انداز بدلے ہیں، اسی طرح ان بچوں کی حفاظت کے آداب بھی نئے سرے سے طے کر دیے ہیں. اب بحیثیت والدین آپ کے پاس دو آپشنز ہیں.
بچے کی حفاظت کے لیے اسے گھر میں قید کر لیجیے، اور تعلیم و تربیت اور دنیاداری سے مکمل بےبہرہ رکھیے، اس صورت میں یقینی طور پر ”غلام فرشتے“ یا ”ذہنی معذور“ اور ”دولے شاہ کے چوہے“ پیدا ہوں گے.
یا
اپنے بچے کو نئے دور کے تمام تر خطرات کا سامنا کرنے کے لیے تیار کر کے میدان عمل میں اتارا جائے.
آپ کی چند احتیاطی تدابیر معاشرے میں گھومتے انسان نما بھیڑیوں سے آپ کے بچے کو مامون رکھ سکتی ہیں.

اسکول کا انتخاب
اپنے گھر کے قریبی اسکول کا انتخاب کیجیے جہاں روزانہ کی بنیاد پر آپ خود بچے کو پک اینڈ ڈراپ کر سکیں. پبلک ٹرانسپورٹ، ویگن ، بس، ٹیکسی یا ڈرائیور ہائر کرنے سے جان چھڑائیں.
اسکول کے انتخاب کے لیے نہ صرف بورڈ کے امتحانات میں اسکول کا رزلٹ دیکھیں بلکہ اس کے ساتھ اسکول کی ریپوٹیشن پر بھی دھیان دیں. مار کٹائی، بچوں کے ساتھ اساتذہ اور انتظامیہ کا سلوک، اسکول کے پرانے طالب علم آج کی دنیا میں کن عہدوں پر کام کر رہے ہیں. اسکول میں فزیکل ٹریننگ کے لیے باغات اور گیمز کا انتظام کیسا ہے؟
اساتذہ یا انتظامیہ میں اگر آپ کا کوئی تعلق دار ہو تو اسے اسکول میں بچے کا خیال رکھنے کا کہیں.
ہر ماہ اپنے بچے کی پیرنٹس ٹیچر میٹنگ میں ضرور شریک ہوں. بچے کے کلاس ٹیچر سے رابطے میں رہیں.
اپنے بچے کا اسکول اور ہوم ورک خود چیک کریں.

بچوں کے دوست.
بچوں کے دوستوں سے دوستی کیجیے.
فیس بک اور سوشل میڈیا پر بھی اپنے بچوں کو اپنی فرینڈ لسٹ میں شامل رکھیے اور ان کے نیٹ فرینڈز کو بھی چیک کرتے رہیے.
جس دوست کے حوالے سے ذہن میں ہلکی سی لال بتی بھی جلے، اس کو اچھی طرح کھنگال لیجیے اور اگر دل مطمئن نہ ہو تو دوستی ہی دوستی میں اپنے بچے کو اس مشکوک دوست سے دور کر دیجیے.
بچوں کی دوستی کو ان کے ہم عمر دوستوں تک محدود کیجیے. بڑی عمر کے دوست، اساتذہ، کزنز، محلےدار، گیمز، اکیڈمی فیلوز سے محتاط رہیے.

سوشل نیٹ ورکنگ کے ضوابط
بچے کو نیٹ کا واضح اصول بتا دیجیے کہ
بیٹا/بیٹی آپ کا پاسورڈ ہر صورت میں میرے علم میں رہنا چاہیے.
نیٹ /موبائل کے غلط استعمال پر بطور سبق/سزا/وارننگ کچھ عرصے کے لیے فون/ٹیبلٹ ضبط کر لیجیے.
سنٹرل وائی فائی پر چائلڈ لاک لگائیے.
بچے کی پسندیدہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کو اپنے موبائل/ٹیبلٹ پر سنک کر لیجیے یعنی بچہ اپنی ٹیبلٹ پر جو کچھ کرے اسے آپ اپنے سیل پر دیکھ سکیں.

دینی تعلیم
بچے مثال سے سیکھتے ہیں اور سب سے پہلی مثال آپ ہیں.
اپنے ساتھ نماز اور تلاوت قرآن کی عادت بنوائیے
رات کی کہانی/لوری میں اسلامی واقعات اور دنیا کے متفرق عظیم ہیروز کی داستانیں سنائیے مثلا صحابہ کرام، صحابیات، مسلم فاتحین، سائنسدان، اس سے بچہ نہ صرف تاریخ سے واقف ہوگا بلکہ اپنے لیے ایک عمدہ آئیڈیل بھی تراشے گا.
اگر آپ خود ان واقعات سے واقف نہیں تو متعلقہ کتب کا انتظام کیجیے یا کسی مستند ویب سائٹ سے فری ڈاؤن لوڈ کیجیے.
قرآن کی تعلیم کے لیے گھر پر انتظام کیجیے تاکہ اپنی نگرانی میں بچے کو تعلیم دلوائی جا سکے. اب تو آن لائن ٹیچنگ کی سہولت بھی موجود ہے. بس تعلیم بچہ جس بھی ذریعے سے حاصل کر رہا ہے، آپ ساتھ موجود رہیے.
بچوں کو مناسب انداز میں سمجھا دیجیے کہ استاد/قاری صاحب سے کتنا فاصلہ رکھ کر بیٹھنا ہے.
بچے کو علم ہونا چاہیے کہ استاد اسے کہاں ٹچ کر سکتا ہے (مثلا سر یا کاپی کتاب پر) اور کہاں نہیں ( باقی جسم)

بچے کو سمجھائیے
اسکول میں یا معاشرے میں کسی کے ساتھ ویران یا تنہا جگہ پر مت جائے. بےشک وہ دوسرا استاد ہو یا دوست.
پرانی اور مجرب نصیحت. اجنبی سے بات مت کرے اور کسی سے کوئی چیز لے کر مت کھائے.
بچے کے رازدار دوست بنیے جس سے وہ بلاجھجھک اپنے دل کی ہر بات کہہ سکے تاکہ وہ والدین سے راز چھپانے کی قیمت پر کسی کے ہاتھوں بلیک میل نہ ہو.
تمام دن رات کے لیے بچوں کو کسی اسکول یا مدرسہ کے حوالے مت کیجیے. کم از کم جب تک بچہ ناسمجھ ہو. ورنہ وہ جو تعلیم اور تربیت حاصل کرے گا، وہ والدین کے وہم و گمان سے بھی زیادہ میچور اور خطرناک ہو سکتی ہے

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی





جمعہ، 3 جون، 2016

ڈاکٹر رابعہ- رعنائی خیال کا جنم


رعنائی خیال ...
آج 12 مارچ 2016 کو رعنائی خیال کو جنم لیے ایک سال مکمل ہو گیا. .
رعنائی خیال کا آغاز کیسے ہوا. .

وہ ایک خواب کہ تعمیر آپ ہے اپنی 
میں کیا حقیتِ رعنائیِ خیال کہوں
( روش صدیقی)

میرے دل میں بےشمار خیالات انگڑائی لیتے تھے جنہیں زبان پر لانے کے لیے جو حوصلہ درکار تھا وہ معاشرے کے رسوم و رواج میں گھری ایک خاتون کے پاس نہ تھا..
رابعہ ایسا سوچتی ہے .. یہ خیالات .. اتنا رومانس .اتنا تخیل . تصوف اور مسیحائی .. میرے اخلاص اظہار پر میرا پروفیشن ایک سوالیہ نشان کی طرح ایستادہ تھا. .
لوگ کیا کہیں گے.؟
. معاشرہ اسے کیسے قبول کرے گا .. ؟
میرے لکھے الفاظ کس پر کیا اثر چھوڑیں گے ..؟

یہ سب اور بہت سی ''ان کہی باتیں'''.. کچھ چھپے اوہام نے مل جل کر ایک قلمی نام اپنانے پر مجبور کیا .. اس قلمی نام نے مجھے لکھنے کی آذادی دی .. اظہار کا حوصلہ اور اپنے اندر کی گھٹن کو باہر نکالنے کا ذریعہ .
.
اگر میں نہ لکھتی تو کیا ہوتا ؟

.. یہ بالکل ایسی صورتحال ہوتی جیسے ایک پریشر ککر میں بھاپ کا دباؤ بڑھتا چلا جائے لیکن اس کے سیفٹی والو سے سیٹی کی آواز کے ساتھ بھاپ کا اخراج نہ ہو پائے اور آخر کار پریشر ککر پھٹ جائے. ..

...یا ساون کی موسلا دھار بارش کے پانی سے بھری چھت کا پرنالہ اگر رک جائے تو چھت بیٹھ جائے. . سو چلتا پرنالہ زندگی اور رکا پرنالہ موت ہے. .

مشہور شاعر گلزار اس کیفیت کو ابلتی ہانڈی سے تشبیہ دیتے ہیں. .
بس میرے اندر بھی خیالات کی بھاپ کچھ اسی طرح بڑھتی جا رہی تھی. .

پچھلے دنوں میری ایک پوسٹ'' وجد'' کے نام سے آپ احباب کی نظر سے گزری ہو گی .. بس وہی میری کیفیت تھی جس سے رعنائی خیال ظاہر ہوئی. .

میں اپنے لکھے الفاظ کو اپنے نام سے قبول کرنے میں دقت کا شکار تھی . لیکن اللہ کے کرم نے اپنے الفاظ کو اون کرنے کا حوصلہ بخشا. . میری پہلی پوسٹ ''محبت کی شادی کے بعد کی صورتحال '' وائرل ہوئی تو خیال آیا کہ اس طرح تو میرے خیالات چرا لیے جائیں گے .(. فیس بک پر تحریر کے کاپی رائٹس ہونا چاہئیں). . جب میں خود اپنے لکھے کو اپنا نام نہیں دوں گی تو پھر ہر قبضہ گروپ آزاد ہو جائے گا وہ وقت تھا جب میں نے رعنائی خیال کے نام سے پیج کا آغاز کیا .. اس وقت میرا اکاونٹ پہلی دفعہ بلاک ہوا لیکن چند گھنٹو ں میں واپس مل گیا . اسی زمانے میں میرا اوریجنل اکاونٹ اور اس سے متعلقہ بلاگ اور پیج ''رعنائی خیال -رابعہ خرم درانی کے نام سے چل رہے تھے وہ بھی ہیک ہو گئے اور آج تک واپسی نہیں ہوئی . یہ 13 ستمبر 2015 کا واقعہ ہے ..اللہ کریم نے لکھنے کا جذبہ قلم اور الفاظ دیے آپ احباب کی پزیرائی نے لکھنے کی خواہش کو ایڑ دی .. اور قلم کا گھوڑا دلکی چال چلنے لگا..

آج رعنائی خیال فیس بک پر اپنی پہلی سال گرہ مناتے ہوئے بے حد مطمئن ہے اور آپ سب کی شکر گزار بھی جن کی حوصلہ افزائی نے میرے خیالات کی رعنائی کو اظہار کا حوصلہ بخشا. .

آپ سب کی دعاوں کی طالب
ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

نوٹ یہ تحریر 12 مارچ 2016 کو لکھ چکی تھی لیکن پبلک آج (28 مئی 2016 ) کی ہے.



٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


جمعرات، 5 مئی، 2016

ڈاکٹر رابعہ- سموسہ چنے اور لال چٹنی ..

آج ایک تصویر پر نظر پڑی ایک پلاسٹک پلیٹ میں سموسہ چنے اور لال چٹنی .. ایک چمچ کے ساتھ ساتھ رکھے ہوئے دیکھا تو کالج کا زمانہ یاد آ گیا .
ویسے تو سموسہ ہر کالج کینٹین کا اہم ترین آئٹم ہوتا ہے .. لیکن '' کنگز اینڈ کوئنز ان ''کے آلو سموسوں کی تازگی مہک اور ذائقہ بے مثال تھا. .
ہاف بریک میں کینٹین پر انڈر پراسیس ڈاکٹرز کی یلغار ہوتی اور فی کس دو دو سموسے اور ایک ٹھنڈی ٹھار بوتل اکثر ہونہار ڈاکٹروں کا من بھاتا ناشتہ ہوتا کچھ انٹلکچوئلز چائے کافی یا دودھ پتی سے بھی شغل کیا کرتے. .
کینٹین کے دو الگ الگ کمرے تھے . بڑا ہال کمرہ ''کنگز ان '' کہلاتا جہاں لکڑی کی کرسیاں اور چوکور میز دھرے ہوتے .. یہاں کے ای کے شہزادوں کا راج ہوتا .. کوئی کوئی ہاوس آفیسر یا اکا دکا ایم او (میڈیکل آفیسر) بھی پایا جاتا .. میو اسپتال کے گھڑی وارڈ کے سامنے ہونے کی وجہ سے مریض اور ان کے تیمار دار بھی یہیں سے اپنی پیٹ پوجا کا انتظام کیا کرتے. .
کنگز ہال کے دروازے کی دائیں جانب نسبتا چھوٹے کمرے میں دیوار گیر صوفے دھرے ہوتے تھے اور درمیان میں دو لمبی لکڑی کے میز جوڑ کر ایک سینٹرل ٹیبل کا کام لیا جاتا. . یہ کمرہ ''کوئینز ان '' کہلاتا .. یہاں صرف مستقبل کی ہونہار لیڈی ڈاکٹرز کا راج ہوتا کبھی کبھار کوئی پردہ دار تیماردار خاتون بھی ادھر سموسے یا برگر کھاتی پائی جاتی. .
روایتی کینٹین والی مہک ادھر بھی ہوتی لیکن اس مہک پر تازہ سموسوں, گرما گرم برگر , سینڈوچز, بھاپ اڑاتی چائے یا برف جیسی ٹھنڈی کولڈ ڈرنک کی خوشبو غالب آ جاتی. .. .

اسی کینٹین کی ایک بغلی گلی سے اوپر کو ایک زینہ چڑھتا جو اوپر ریڈنگ روم میں لے جاتا. . اصولی طور پر یہ ریڈنگ روم تمام اسٹوڈنٹس کے لیے تھا لیکن عملی طور پر اس میں کلاسز بنک کرنے والے بوائز یا وائیوا کی تیاری کرتے کتابی کیڑوں کا قبضہ ہوتا تھا. .
اگر کوئی خاتون اسٹوڈنٹ اوپر چلی جاتی تو اسے اتنا عجیب رسپانس ملتا کہ وہ خود ہی خفیف ہو کر اتر آتی ..

جب کالج سے نکل کر میو ہسپتال کی لمبی غلام گردشوں اور تھکا دینے والے وارڈ میں کھپنے لگے تو کینٹین بھی بدل گئی .. اب بی وی ایچ (بلاول وکٹوریہ بلاک) المعروف گورا وارڈ کی پرائیویٹ کینٹین کے نسبتا آزاد ماحول میں چائے برگرز اڑانے لگے .
کنگز اینڈ کوئینز ان کے برعکس یہاں دونوں اصناف کے اسٹوڈنٹس اکٹھے ایک ہی میز پر بیٹھ سکتے تھے .. آٹومیٹکلی اس ٹرانزیشن کا مقصد صرف یہی سمجھ آتا تھا کہ یہ کینٹین کالج انتظامیہ کے زیر اثر نہ تھی. . اور مکمل طور پر کمرشل بنیادوں پر چلائی جا رہی تھی. .

اسٹوڈنٹس تو سستے کھانے کا متلاشی ہوتا ہے.. اس کینٹین سے بھی اکتائے تو میو اسپتال گھری وارڈ کی پارکنگ سے دھنی رام روڈ کی طرف کھلنے والے دروازے سے باہر نکل جاتے .. سامنے ہی ایک قدیمی دیسی بیکری تھی .. جس کے تازہ تازہ بن میں اسی بیکری کے دیسی مکھن کی ٹکیہ لگوا کر شامی کباب ڈلوا لیا جاتا اور مزیدار برنچ تیار. . چکن شامی کباب میں چند ریشے چکن اور باقی تمام چنے کی دال ہوتی لیکن ذائقہ پورے چکن کا ملتا. .
بیکری میں بہت اندھیرا تھا جسے سیاہ چھت سے ٹنگا پیلا یرقان زدہ بلب بھگانے کی ناکام سی کوشش کیا کرتا. .
بیکری کے مالک نے ایک لمبی سی تلوار نما چھری رکھی ہوتی تھی جو ڈبل روٹی بن کاٹنے کے ساتھ ساتھ مکھن اور کباب کو پھیلانے کا کام بھی کرتی . ہر بن کباب بنانے کے بعد بیکری مالک ایک بد رنگے کپڑے سے اس تلوار کو صاف کرتا. .اور اگلا آرڈر تیار کرنے لگتا . ..
کبھی بند یا کباب مزید منگوانا ہوتے تو ایک اونچی آواز دی جاتی اور بیکری کی نیم چھتی یا عقبی کمرے سے بنیان شلوار میں ملبوس کوئی کاریگر مطلوبہ آئٹم پکڑا جاتا..
گرمی , حبس , اندھیرے اور گھٹن سے عبارت اس بیکری کے بن کباب بہت روشن اور تازہ ہوتے . کبھی کوئی اسٹوڈنٹ فوڈ پوائزننگ کا شکار نہ ہوا. .

کلاسز بڑی ہوئیں تو کے ای کی پہچان ''پٹیالہ بلاک''میں لیکچرز ہونے لگے .. وہی بلاک جہاں مشہور زمانہ فلم جناح کی عکس بندی بھی کی گئی تھی .. اس روز تمام انار کلی بازار قائد اعظم کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے کالج میں امنڈ آیا تھا. .

خیر اب پٹیالہ بلاک سے لنچ بریک میں کنگز اینڈ کوئنز ان یا گورا وارڈ کی کینٹین اور دھنی رام روڈ والی بیکری بہت دور پڑتی تھی سو اس دفعہ نظر انتخاب انار کلی میں موجود برگر شاپس پر جا ٹکی. . ''پوپسیز '' کا آملیٹ برگر ذائقے میں بےمثال تھا .. پوپسیز کی چھوٹی سی دکان کے اندر کارڈبورڈ سے دو کیبنز بنا دیے گے تھے. دل چاہے تو برگر پیک کروا لیں اور انارکلی میں ونڈو شاپنگ کے ساتھ ساتھ ایک ہاتھ سے برگر اور دوسرے ہاتھ سے کوک کے چسکے لیتے چلیں. . ورنہ ڈائن ان کیجیے. .

اگر جیب خرچ اجازت دے تو آملیٹ برگر میں شامی بھی ڈلوا لیں .. برگر والے کاریگر نے ایک سلور کی بڑی سی کیتلی میں ڈھیر سارے انڈے پھینٹ کر آملیٹ کا ملغوبہ تیار کر رکھا ہوتا. . آرڈر کے مطابق کیتلی کی ٹونٹی سے لمبی دھار مین آملیٹ بڑے سے توے پر گراتا. .اور لمبے برگر بن کے سائز کا مزیدار پھولاپھولا سنہرا آملیٹ تیار ہو جاتا . اب بن کو بھی اسی توے پر سینکتا آملیٹ اٹھا کر بن پر رکھتا . بند گوبھی اور پیاز کے لچھے چھڑکتا اور دیسی کیچ اپ کی دھار سلاد کے اوپر ڈالتا .. اب بن کے تل والے حصے سے اسے ڈھک دیتا .. اپنی لمبی چھری جو کفگیر کا کام بھی دیتی اس سے برگر کمال مہارت سے اٹھاتا اور ایک خاکی لفافے میں کھسکا دیتا. . خاکی لفافے کی گرمی اور برگر کی نرمی .. املیٹ کی چکنائی اور کیچ آپ کی سرخی سب مل کر ایک سگنیچر اروما signature aroma تیار کرتے . جو بھوکے پیٹ میں'' ھل من مزید'' کی تڑپ پیدا کرتی. .

زیادہ بھوک لگی ہے تو برگر والے کے پیچھے ہی پوپسیز کا تندور لگا ہے جہاں میلی بنیان اور شلوار میں ملبوس نانبائی دھڑا دھڑ تازہ تازہ خستہ نان نکال رہا ہے .چاہیں تو چکن نان لیں یا مٹن ..چوائس از یورز. ..

پٹیالہ کا ایک دروازہ انار کلی کی طرف کھلتا تھا.. بڑے گیٹ پر تو عموما تالا لگا رہتا تھا. .لیکن چھوٹا گیٹ زنجیر سے اڑا کر اتنا کھول دیا جاتا تھا کہ مشکل سے ہی سہی لیکن ایک بندہ گزر سکے. .
اس گیٹ کے باہر کالج سے نیلا گنبد کی سمت میں دیکھیں تو گنے کے جوس والے اپنے اسٹال سجائے کھڑے ہیں . . گنے کا جوس مشہور تھا شیشے کا بڑا گلاس لیں یا چھوٹا . جوس میں ادرک, کالا نمک یا لیموں ڈلوانا چاہتے ہیں تو اس کا بھی انتظام ہے. .
ہاں اگر موڈ بدل جائے تو موسمی سیب یا انار کا جوس بھی مل سکتا ہے. . ..

یہیں ایک فرنچ فرائز والے نے بھی اپنا ساز وسامان سیٹ کر لیا .. بھائی سچ کہوں تو میں نے بہترین سائز اور شیپ کے عمدہ چپس کاٹنے کا طریقہ اس سے سیکھا. . اور برگر بنانا پوپسیز والے سے. .
اب جوس کے ساتھ ساتھ نان برگر یا فرنچ فرائز بھی لذت کام دہن کا انتظام کرنے لگے. . .

پھر ایک دن اس نان بائی پر قسمت مہربان ہوئی تو مال روڈ کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل والے اسے لے گئے اور ہم اس نان سے محروم ہو گے. .. کبھی کبھار وہ نانبائی چمکتے سفید کلف زدہ عوامی سوٹ میں سنہری ڈائل والی گھڑی کلائی پر سجائے اپنی نئی موٹر سائیکل پر پرانے دوستوں سے ملنے آتا تو سمجھ آتی. .'' بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے'' ..

یہیں سامنے ایک پان والا تھا. . ایک روز شوق میں پان کھا لیا بتایا بھی کہ بھیا سادہ پان چاہیے خدا جانے پان والا شرارت کے موڈ میں تھا یا ڈاکٹروں پر کوئی غصہ تھا ایسا پان کھلایا کہ سارا دن سر چکراتا رہا خدا جانے کیسا پان تھا. .

وقت کے ساتھ ساتھ کھانے کی تلاش ہمارے گروپ کو مال پر بندو خان , سالٹ اینڈ پیپر . پیزا ہٹ . شیزان. اور پی سی کی ہائی ٹی تک لے گئی ..
پر خدا لگتی کہوں .. کنگز کوئنز اِن کا سموسہ اور پوپسیز کا برگر کبھی نہیں بھول پائی.

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی .
زیر نظر تصویر. .
پٹیالہ بلاک کے ای ایم یو. ...

ہفتہ، 16 اپریل، 2016

ڈاکٹر رابعہ- رسول اللہ سے حیض کی بابت سوال

  وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَ‌بُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْ‌نَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْ‌نَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَ‌كُمُ اللَّـهُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِ‌ينَ ﴿2/222﴾


 بیکن ہاوس یونیورسٹی لاہور کے طلبہ و طالبات کی طرف سے ایام حیض اور اس سے جڑے "ٹےبوز" ( taboos ) پر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے موافقت اور مخالفت کا بازار گرم ہے. میں ایک ڈاکٹر اور ایک عورت اور ایک سماجی مصنفہ کی حیثیت سے اس معاملے کو دیکھنا چاہتی ہوں.( ڈاکٹر رابعہ خرم درانی )
***************************************

سن بلوغت کو پہنچتے ہی ہر لڑکی میں مختلف بیرونی اور اندرونی تبدیلیوں کا آغاز ہوتا ہے .. اس کی نشانی جسمانی ظاہری تبدیلیوں کے ساتھ ہر ماہ رحم سے کچھ مقدار میں خون کا اخراج بھی ہے. یہ خون کیوں آتا ہے. .
ہر ماہ عورت کی دو انڈے دانیوں (بیضہ دانی) میں انڈے تیار ہوتے ہیں. .اور عموما ایک ماہ میں ایک انڈا خارج ہوتا ہے. اس انڈے سے فرٹیلائزیشن (عمل تولید) کے زریعے سے ایمبریو بنتا ہے. یہ عمل تولید رحم اور بیضہ دانی کو ملانے والی ٹیوب (fallopian tube ) میں سر انجام پاتا ہے. اس دوران فرٹیلائزڈ اووم (fertilized ovum/egg ) کو سنبھالنے اور آنے والے دنوں میں خوراک مہیا کرنے کے لیے قدرت رحم کی اندرونی جھلی (endometrium ) کو بڑھاتی ہے اور اس کی موٹائی (thickness ) زیادہ کرتی ہے
اس جھلی میں سپرنگ کی شکل (spiral arterioles )کی باریک خون کی نالیوں کا جال بچھ جاتا ہے جو آکسیجن اور خوراک سے بھرپور خون سے لدا ہوتا ہے ..
یہ اسپنج سے ملتے جلتے کنیکٹو ٹشو (connective tissue ) میں ادھر سے ادھر آ جا رہی ہوتی ہیں
یہ خون ایمبریو کے لیے آب حیات کا کام کرتا ہے اور دبیز جھلی ایک نرم گرم بستر کا ..جہاں کا موزوں ماحول ایمبریو کو بڑھنے پھولنے کے لیے سازگار ہوتا ہے .
اب اگر فرٹیلائزیشن نہ ہو یا ایمبریو نارمل نہ ہو تو یہ انڈہ/ایمبریو ٹھہرتا نہیں ضائع ہو جاتا ہے . اور رحم کی اندرونی جھلی کی بڑھوتری رک جاتی ہے .. اندرونی غدود (ہارمونز) کا نظام اب ایسے کام کرتا ہے کہ خون کی نالیاں سکڑنے لگتی ہیں اور جھلی جھڑنے لگتی ہے . جھلی کے جھڑنے سے خون کی نالیاں کھل جاتی ہیں جن سے خون جاری ہوتا ہے. غیر ضروری مردہ جھلی , مردہ انڈے اور اضافی ڈیڈ سیلز خون کے بہاو کے ساتھ جسم سے خارج ہو جاتے ہیں. . اس دوران رحم کی ہلکی پھلکی دردیں (contractions ) بھی اس جھلی اور خون کو خارج کرنے میں ویسے ہی مددگار ثابت ہوتی ہیں. جیسے بچہ پیدا کرنے میں .  

سو حیض کا آنا ایک عورت کے لیے خوش بختی اور صحت مندی کی علامت ہے کہ وہ ایک عمدہ کار آمد تولیدی نظام کی مالک ہے.

ہمارا مشرقی معاشرہ اس کو کس نظر سے دیکھتا ہے   ؟

شرم و حیا ہمارے معاشرے کی بنیادی اقدار ہیں بالکل محبت اور خلوص کی مانند.
حیض ایک سو فیصد نارمل فزیالوجیکل عمل ہے ایسے ہی جیسے تھوک کا بننا .. پیشاب پاخانے اور گیس کا بننا . مرد کو احتلام ہونا.
لیکن کیا ہم اپنے تھوک آلود نیپکن سینے پر سجاتے ہیں کہ یہ ایک نارمل بات ہے اس لیے میں اس پر شرمندہ نہیں . . یا پیشاب آلود گیلی شلوار لیے گھومتے ہیں .

کیا قضائے حاجت کے لیے ہم اوٹ تلاش نہیں کرتے . جبکہ یہ اس قدرتی عمل سے مرد و زن میں سے کوئی بھی مبرا نہیں.
اگر معمولی ترین مقدار میں پاخانہ لباس پر لگ جائے تو اللہ یا اللہ کے بندوں کے سامنے با اعتماد طور پر کھڑے رہ سکتے ہیں . جبکہ یہ قدرتی چیز ہے اس کا آنا نعمت اور نہ آنا زحمت ہے.

تو ماہواری پر بھی تو یہی اصول و قواعد لاگو ہیں نا . . یہ تھوک بلغم پیشاب پاخانہ تو ماہواری یا احتلام سے بہت پہلے سے ہمارے ساتھ ہوتے ہیں نا تو صرف آپ کو مہینے میں ایک بار ہونے والا عمل ہی احتجاج کے لیے کیوں یاد آیا. ..؟

اب اس کا جواب بھی دیے دیتی ہوں

ہمارا معاشرہ مرد کا معاشرہ کہلاتا ہے.. بےشک لیکن پردہ تو مرد بھی رکھتے ہیں. اپنے گندے کپڑے لے کر وہ بھی معاشرے کے سامنے نہیں آتے.
ایک جگہ پڑھا تھا. کہ بیٹے کے جوان ہونے کا پتا تب چلتا ہے جب وہ غسل کے ساتھ اپنی شلوار بھی خود ہی دھو دیتا ہے ..
اس معاشرے میں مرد کو بھی بہت کچھ چھپانا پڑتا ہے. . صرف عورت کو ہی نہیں. کچھ مسائل جو اس پردہ پوشی کی وجہ سے عورتوں کو بھگتنے پڑتے ہیں وہ یہ ہیں..

1. عورت کی تربیت اور فطری جھجھک کی وجہ سے وہ حیض سے متعلق مسائل پر بات کرتے ہچکچاتی ہے
2. بےشمار عورتیں شدید ترین مرض کا شکار ہو کر بھی اپنی شرمیلی زبان بندی کی عادت کے ہاتھوں شدید اینیمیا کا شکار ہو جاتی ہیں

3. ماہواری میں استعمال ہونے والا سینٹری پیڈ/کپڑا چھپا کر پھینکنے کی کوشش میں اپنے گھر کے مرد کی نظر میں مشکوک ٹھہرتی ہیں. . ایک خاتون اس مقصد کے لیے گہرے رنگ کے لفافے منگوانے کی گناہگار ٹھہری اور طلاق ہوتے ہوتے بچی .

اس معاملے میں ماں/ساس کا کردار یہ ہے کہ وہ بیٹی اور بہو کے معاملے کو سلجھائے اور بیویاں اپنے شوہر سے اس چیز کا پردہ نہ رکھیں. یاد رکھیں آپ کا شوہر آپ کا لباس ہے ..

4..... جیسے غیر مسلم معاشرے میں مسلمانوں کے لیے نماز کا کمرہ مختص کیا جاتا ہے اسی طرح ہر معاشرے میں ورک پلیس /کالج /یونیورسٹی میں گرلز روم کا قیام ازبس ضروری ہے.

5. حیض نفاس احتلام اور طہارت کو ایک مضمون کی طرح نصاب میں شامل کیا جائے.
تاکہ یہ دوستوں سہیلیوں کے سینہ گزٹ سے سیکھنے سمجھنے کی چیز نہ بنے.

6. ماؤں کی تربیت کی جائے تاکہ وہ اپنی اولاد (لڑکا/لڑکی) کے مسائل کو سمجھ کر انہیں سمجھا سکیں ۔

7. ہر علاقے میں ہیلتھ ایجوکیشن کو فروغ دیا جائے اس کام کے لیے سرکاری اور نیم سرکاری ادارے مل کر کام کریں

8. سینٹری پیڈ ایجیٹیشن غلط نہیں صرف اس کا طریقہ اظہار نامناسب ہے.

9.  جب ہم اپنے بچوں کو تعلیم مغربی اداروں سے دلوا رہے ہیں تو ان سے مشرقی اقدار کی توقع صرف تبھی کی جائے اگر گھر میں والدین نے ان کی تربیت ان اقدار پر کی ہو

10 آفاقی سچ . . حیض اور مباشرت

 وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَ‌بُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْ‌نَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْ‌نَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَ‌كُمُ اللَّـهُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِ‌ينَ ﴿2/222﴾
اور یہ لوگ تجھ سے ایام حیض کے متعلق سوال کرتے ہیں تو کہہ :
وہ اذیت ہے، پس حائضہ عورتوں سے
(اِن ایام میں) عارضی اختیار کرو !
اور جب تک وہ (الحیض سے) پاک نہ ہو جائیں تو تم اُن کی قربت اختیار مت کرو!
جب وہ
وہ (الحیض سے) پاک ہوجائیں تو اُن کے پاس آؤ جیسا
أَمَرَ‌اللَّـهُ تم کو ہے!
بے شک اللہ
التَّوَّابِينَ اورالْمُتَطَهِّرِ‌ينَ سے محبت کرتا رہے گا!

دوران حیض اگر خواہش (libido ...horny ) زیادہ بھی ہے تب بھی یہ صریح غیر اسلامی اور گناہ کبیرہ ہے، اس سے اجتناب فرمایے.

یہ میڈیکلی بھی شدید خطرناک ثابت ہو سکتا ہے جس سے آپ پی آئی ڈی, اینڈومیٹریوسس اور انفرٹیلیٹی جیسی خطرناک بیماری کا شکار ہو سکتی ہیں.

11. حائضہ عورت کو گھریلو کام کاج کے لیے ناپاک تصور کرنا غلط ہے. آپ دل اور زبان سے آیات و اذکار بھی پڑھ سکتی ہیں اور کھانا بھی پکا سکتی ہیں

12. بس نماز روزہ حج اور قرآن کے لیے طے شدہ پروٹوکول کے مطابق ان مخصوص دنوں میں آپ ان عبادات سے مستثنی ہیں. اور ان دنوں کی نماز کا ثواب بغیر نماز ادا کئے ملے گا ..



Why do women have periods?(see TED-Ed Original lessons)

 

طالب دعا .

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی .

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔