Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 3 جولائی، 2022

میں پرانے پاکستان میں جانا چاہتا ہوں ۔

ایک فوجی سینئر  میجر (ریٹائر ) احمد سرفراز اللہ ( پی ایس سی ، پی ٹی ایس سی  ، اور جی) نے، حنا ربّانی کھر کی قسط وار بجلی کی ادائیگی  کی پوسٹ ، وٹس ایپ کی ۔میں نے جواب دیا ۔

سر ۔ آپ ایک نیک دل اور محبت کرنے والے ویٹرن ہیں ۔
لہذا ماضی کو بھول جائیں۔
اب کی بات کریں شکریہ۔
اُنہوں نے جواباً یہ پوسٹ کی ۔

 پوسٹ پڑھتے ہی توانائی کے بلبلے، اِس بوڑھے کو  کھینچ کر پرانے پاکستان لے گئے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 

سر ! اِس بوڑھے 1999 کے ریٹائرڈ فوجی پنشنر نے  بجلی کا استعمال کم سے کم کردیا ہے ۔ بوڑھا   ، برامدے میں کرسیاں ڈالے بیٹھا رہتا ہے  ،  کیوں کہ پرانے پاکستان میں جانا چاھتا ہوں اپنے بچپن کے پاکستان میں ، جہاں نفرت ، عداوت اور دشمنی کم ، اور محبت زیادہ تھی ، جہاں سیاسی زہر ہماری رگوں میں جھوٹ کے انجکشنوں سے نہیں ڈالا گیا تھا ، پرانا دوست یہ نہیں کہتا تھا کہ:۔
٭- تم اگر پی ٹی آئی کے نہیں تو میرے گروپ سے نکل جاؤ۔

 ٭- تم ہمارے فرقےسے نہیں ، تو ہماری مسجد میں مت آؤ ۔

 ٭- انگریزی پڑھنے والے ، انگریزی سکول میں بنچوں اور کرسیوں پر بیٹھتے تھے ۔

 ٭- اردو پڑھنے والے ، ٹاٹ پر بیٹھتے تھے ، جن میں غریب و امیر ہر طبقے کے بچے ہوتے تھے ۔ ٭- جب فریج نہیں ہوتے تھے ۔ مٹکے کا پانی پیتے اور روزانہ کی سبزی یا گوشت ابا ،لاتے یا ہم ۔

 ٭- جب کوئی مہنگائی کارونا نہیں روتا تھا ۔مہنگائی کا جن قابو میں تھا ۔ پھر 

پرانے پاکستان میں پہلے بار۔

٭- سرسوں کے تیل اور بھینس کے دودھ سے نکلے ہوئے مکھن سے خالص گھی کے بدلی توانائی سے بھرپور بناسپتی گھی بننے لگا !۔

٭۔شربت کی جگہ چائے نے لے لی ۔

٭۔بیماریاں پھیلانے والے گڑ کی جگہ چینی نے لے لی ۔

٭۔ دیسی گندم کی جگہ۔ میکسی پاک گندم نے لے لی ۔

بتیس   سالہ ابّا فوج میں حوالدار تھے۔ اپنی پیدائش سے چھوٹے بھائی کی پیدائش تک کسی نے ڈبّے کا دودھ نہیں پیا ۔ امی نے کبھی شکوہ نہیں کیا کہ سات بچوں میں کم تنخواہ میں گذارہ نہیں ہوتا ۔امی ، ابّا خوش ، ہم بچے خوش ، محلے والے پرسکون ، رشتہ دار امن سے ۔

امی ہر روٹی کے پاؤ ٹکڑے کے حساب سے ، شام کو ، اللہ کے نام پر نعرہ لگانے والے کو آدھی آدھی روٹی دیتیں اور مسجد کا روٹی لاؤ جی کی آواز لگانے والے طالب کو ایک روٹی اور سالن کی پلیٹ اُس کے کنستر میں ، نمّو سے ڈلواتیں ، جس میں ہر قسم کا سالن  پڑا ہوتا تھا ۔

پھر بھیک منگوں نے نیا طریقہ نکالا ، جسے مٹھی آٹا سکیم کہتے تھے ۔ 

پھر چینی بڑھی اور اچانک امیر و کبیر  سیاست دانوں  اور بھیک منگوں کے بغل بچوں نے ، حکومت کو صلوٰتیں سنانی شروع کر دیں ۔وہ دن اور آج کا دن۔

ہر نوجوان جو ھذا من فضلِ ربی ۔ کے گھر میں پل کر بڑھا ہے۔ صلواتیں سنانے میں ڈاکٹر آف گالم گلوچ و فحش تصاویر ہے ، مگر نماز بھی پڑھتا ہے اور  إياك نعبد وإياك نستعين  کا نعرہ بھی لگاتا ہے ۔ یہ نعرہ صرف نعرہ ایجاد کرنے والے زمینی  بھکاری خداؤں  کے لئے ہے ۔     

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


بدھ، 29 جون، 2022

گھڑا کہانی

کہا جاتا ہے کہ کسی بادشاہ کا گزر اپنی سلطنت کے  ایک ایسے علاقے  سے ہوا جہاں کے لوگ سیدھا  نہر سے  ہی پانی لیکر پیتے تھے۔  بادشاہ نے حکم دیا کہ عوام الناس کی سہولت کیلیئے یہاں ایک گھڑا  بھر کر رکھ دیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا اور ہر چھوٹا بڑا  سہولت کے ساتھ پانی  پی سکے گا۔ بادشاہ یہ کہتے ہوئے اپنی باقی کے سفر پر آگے کی طرف بڑھ گیا۔

شاہی حکم پر ایک گھڑا خرید کر نہر کے کنارے رکھا  جانے لگا تو ایک اہلکار نے مشورہ دیا یہ گھڑا عوامی دولت سے خرید کر شاہی حکم پر یہاں نصب کیا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے اور  ایک سنتری کو چوکیداری کیلیئے مقرر کیا جائے۔

سنتری کی تعیناتی کا حکم ملنے پر یہ قباحت بھی سامنے آئی کہ گھڑا بھر نے کیلیئے کسی ماشکی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اور ہفتے کے ساتوں دن صرف ایک ماشکی یا ایک سنتری کو نہیں پابند کیا جا سکتا ، بہتر ہوگا کہ سات سنتری اور سات ہی ماشکی ملازم رکھے جائیں تاکہ باری باری کے ساتھ بلا تعطل یہ کام چلتا  رہے۔

ایک اور محنتی اہلکار نے رائے دی کہ نہر سے گھڑا بھرا ہوا اٹھا کر لانا نہ تو ماشکی کا کام بنتا ہے اور نہ ہی سنتری کا۔ اس محنت طلب کام کیلیئے سات باربردار بھی رکھے جانے چاہیئں جو باری باری روزانہ  بھرے ہوئے گھڑے کو احتیاط سے اٹھا کر لائیں اور اچھے طریقے سے ڈھکنا لگا کر بند کر کے رکھیں۔ ۔

ایک اور دور اندیش مصاحب نے مشورہ دیا کہ اتنے لوگوں کو  رکھ کر کام کو منظم طریقے سے چلانے کیلیئے   ان سب اہلکاروں کا حساب کتاب اور تنخواہوں کا نظام چلانے کیلیئے منشی محاسب رکھنے ضروری ہونگے، اکاؤنٹنگ کا ادارہ بنانا ہوگا، اکاؤنٹنٹ متعیین کرنا ہونگے۔

ایک اور ذو فہم و فراست اہلکار نے مشورہ دیا کہ   یہ اسی صورت میں ہی یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ ہر کام اچھے طریقے سے چل رہا ہے  تو  ان سارے  ماشکیوں، سنتریوں اور باربرداروں سے بہتر طریقے سے کام لینے کیلیئے  ایک ذاتی معاملات کا ایک شعبہ قائم کرنا پڑے گا۔

ایک اور مشورہ آیا کہ یہ سب کچھ ٹھیک ہو رہا ہے مگر ملازمین کے درمیان میں لڑائی جھگڑا یا کوئی زیادتی ہو جاتی ہے تو ان کا تصفیہ اور ان کے درمیان میں صلح صفائی کون کرائے گا؟  تاکہ کام بلاتعطل چلا رہے، اس لیئے   میری رائے میں خلاف ورزی کرنے والوں اور اختلاف کرنے والوں کی تفتیش کے لیے ایک قانونی امور کا محکمہ قائم کیا جانا چاہیے۔

ان سارے محکموں کی انشاء کے بعد ایک صاحب کا یہ مشورہ آیا کہ اس سارے انتظام پر کوئی ہیڈ بھی مقرر ہونا چاہیئے۔  ایک  ڈائریکٹر بھی تعیینات کر دیا گیا۔

سال کے بعد حسب روایت بادشاہ کا اپنی رعایا کے دورے کے دوران اس مقام سے گزر ہوا تو اس نے دیکھا کہ نہرکے کنارے کئی کنال رقبے پر ایک عظیم الشان عمارت کا وجود آ چکا ہے جس پر لگی ہوئی روشنیاں دور سے نظر آتی ہیں اور عمارت کا دبدبہ آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے۔ عمارت  کی پیشانی پر  نمایاں کر کے "وزارت انتظامی امور  برائے گھڑا " کا بورڈ لگا ہوا ہے۔

بادشاہ اپنے مصاحبین کے ساتھ اندر داخل ہوا تو ایک علیحدہ ہی جہان پایا۔ عمارت میں کئی کمرے، میٹنگ روم اور دفاتر قائم تھے۔ ایک بڑے سے دفتر میں ، آرام کرسی پر عظیم الشان چوبی میز کے پیچھے سرمئی بالوں  والا ایک  پر وقار معزز شخص بیٹھا ہوا  تھا  جس کے سامنے تختی پر اس کے القابات  "پروفیسر ڈاکٹر دو جنگوں کا فاتح فلان بن فلان ڈائریکٹر جنرل برائے معاملات سرکاری گھڑا"  لکھا ہوا تھا۔

بادشاہ نے حیرت کے ساتھ اپنے وزیر سے اس عمارت کا سبب پوچھا، اور ساتھ ہی اس  عجیب و غریب محکمہ کے بارے میں پوچھا جس کا اس نے اپنی زندگی میں کبھی نام بھی نہیں سنا تھا۔

بادشاہ کے وزیر نے   جواب دیا: حضور والا، یہ سب کچھ آپ ہی کے حکم پر ہی تو ہوا ہے جو آپ نے پچھلے سال عوام الناس کی فلاح  اور آسانی کیلیئے یہاں پر گھڑا نصب کرنے کا حکم دیا تھا۔

بادشاہ   مزید حیرت کے ساتھ باہر نکل کر اس گھڑے کو دیکھنے گیا جس کو لگانے کا  اس نے  حکم دیا تھا۔ بادشاہ نے دیکھا کہ گھڑا   نہ صرف خالی اور ٹوٹا  ہوا ہے بلکہ اس کے اندر ایک مرا ہوا پرندہ بھی پڑا ہوا ہے۔ گھڑے کے اطراف میں بیشمار لوگ آرام کرتے اور سوئے  ہوئے پڑے ہیں اور  سامنے ایک بڑا بورڈ لگا  ہوا ہے:

"گھڑے کی مرمت اور بحالی کے لئے  اپنے عطیات جمع کرائیں۔ منجانب   وزارت انتظامی
امور  برائے گھڑا"
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اتوار، 26 جون، 2022

اگر ایسا ہوتا ۔ ۔ ۔!

 آج یہ تصویر ، بوڑھے کے ذہن میں کچھ  سوچیں بیدا ر کر گئی ۔

اب احساس ہوتا ہے کہ اگر پاکستان نہ بنتا ،۔ تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
17 کروڑ مسلمان بزدل ہندوؤں کے رحم کو کرم پر نہ ہوتے۔ اور ۔ ۔ ۔
39 کروڑ مسلمان متحدہ ہندوستان کے حاکم ہوتے !

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

ھ 

 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پروگرام ۔ گروپ لائف انشورنس کی جمع کروائی گئی رقوم کی پنشنرز کوواپسی ۔

اُفق کے پار بسنے والے  میرے پنشنرز   دوستو۔

آپ سب کے علم میں ہے کہ ،  ہائیکورٹس ، خیبر پختون خواہ ، بلوچستان اور سندھ کے فیصلے کے مطابق ۔

گروپ لائف انشورنس کی جمع کروائی گئی رقوم کی پنشنرز کو منافع کے ساتھ واپس کی جائیں  ۔

سپریم کورٹ آف پاکستا ن  کا آرڈر ۔ صوبوں کی ہائی کورٹس کا فیصلہ

 9 جون کے گرینڈ الائنس  ملازمین و پنشنرز کے احتجاج میں جو، تنخواہیں اور  پنشن  میں اضافہ کروانے کے لئے بجٹ  2022-2023  پاکستان قومی اسمبلی میں پیش ہونے سے پہلے ، فنانس منسٹری کے  سامنے ہوا ، میں سول آرمڈ فورس کے ایک   صوبیدار (ر) شمس چترالی نے پوچھا ، کہ جناب  گروپ لائف انشورنس  کی  ریٹائرڈ ملازمین کی واپسی کا کیا ہوا ۔ جس پر میں نے  ایک بیان دیا کہ ، 10 جون کے بعد ہم اب    GLI کے کیس کو دیکھیں گے۔ آپ اپنی درخواستیں ہمیں بھجوانا شروع کر دیں ۔

پہلی درخواست  آل پاکستان پنشنرز کے آفس میں ٍسی اینڈ ڈبلیو کے ریٹائرڈ ہیڈ کلرک مہر نبی ولد نوروز علی پارا چنار سے 10 جون شام کو  وٹس ایپ پر وصول ہو ئی ۔  

 میں نے ابھی تک یہ معاملہ چیئرمین سے ڈسکس نہیں کیا تھا ۔ سوچا کہ ایک ہفتے کے آرام کے بعد اِس معاملے کے خدو خال سنورتے ہیں کہ اِس حکامِ بالا تک پہنچانے کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ اکتوبر 2021 سے  غور و خوض تو کیا مگر سرا پکڑائی نہیں دے رہا تھا ۔  اِس درخواست  کے بعد لگاتار 10 درخواستیں اور پارا چنار سےوٹس ایپ ہوئیں   اور یہ سول آرمڈ فورسز  کے گریڈ 14 تک کی ملازمین کی تھیں  اور دو ٹیچرز بھی شامل تھے ۔ 17 جون 2022 کو مجھے ایک نوجوان محمد حسنین کا فون آیا ۔
" سر میں نے اپنے والد کی جی ایل آئی کی واپسی کی درخواست۔ آپ کے آفس بھجوادی ہے ۔ کب تک پیسے مل جائیں گے ۔ مجھے پڑھائی کے سلسلے میں ضرورت ہیں " ۔ 

جس پر بوڑھے کو وقت کی نزاکت کا احساس ہو ا ۔ لہذا ایمرجنسی بنیاد پر  کام شروع کردیا ۔ اپنے ملازمین ساتھیوں سے رابطہ کیا ۔  ابھی کچھ پلاننگ کر رہا تھا کہ ایک پنشنر کا فون آیا ۔

" سر میں 2000 میں ریٹائر ہوا تھا ۔ میری 100 فیصد پنشن کب ہو گی "
آپ کی پنشن 74 سال کی عمر میں 100 فیصد ہو گی لیکن ، اُس کے لئے آپ کو درخواست دینا ہوگی "
سر درخواست کیوں ؟ میری پنشن تو آرہی ہے ، اکاؤنٹ والوں کو تو خود بخود 100 فیصد کرنا چاھئیے "

" تاکہ اُنہیں یقین آجائے کہ آپ  ، حیات ہیں ، میں آپ کو درخواست وٹس ایپ کر دیتا ہوں وہ بھر کر دیگر کاغذات کے ساتھ ۔ اپنی 74 ویں سالگرہ کے بعد بھجوا دینا ، پہلے نہیں ، ورنہ ردّی کی ٹوکری میں ڈال دی جائے گی ۔

سر آپ مدد نہیں کر سکتے ؟
میں یہ مدد کرسکتا ہوں کہ آپ کی درخواست ، کلرک کو ذاتی طور پر وصول کرواؤں  اور وصولی کے دستخط لوں ۔ آپ کو بھجوا دوں ، لیکن اگر آپ اسے پاکستان پوسٹ سے اکنالج منٹ کے ساتھ بھجوائیں تو وہ زیادہ بہتر ہو گا ۔ 

موبائل بند کرنے کے بعد میرے ذہن میں گھنٹی بجی ،
درخواست ۔ آپ کی حیات کا ثبوت ہوتی ہے !!

لہذا ، تمام پنشنرز اپنی درخواستیں ، متعلقہ   محکمے کے اکاؤنٹ کے شعبے  کو بھجوائیں  ۔
لیکن کیا یقین ہے کہ اِن پر عمل کرتے ہوئے ، ہر یکم جولائی کو ، زندہ رہ جانے والے ملازمین   کی جی ایل آئی کی رقوم   کے اپنی صوابدید کے مطابق  ،استعمال کرنے والے ہائی کورٹس کے احکام کے مطابق منافع سمیت واپس    کرنا تو دور کی بات ، اصل زر ہی واپس کرنے کے روادار  نہیں ہوں گے !

اُن کی تو ، ہر سال زندہ رہ جانے والے  ،1  تا 16 کے 80 فیصد ملازمین   کر بچ جانے والی رقوم  سے کھڑی کی جانے والی  لنکا  ڈھے جائے گی !

تو اُفق کے پار بسنے والے ، پیارے  جی ایل آئی کی  اپنی رقوم واپس مانگنے  پنشنرز  ! آپ کا کیا خیال ہے ؟؟

 تو مجھے ، جو فون آیا  وہ صوبیدار (ر) جلال خان  ، محسود سکاؤٹ  کا آیا جس نے مجھے پریشان کر دیا ۔

"  آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن کے اِس فارم کے راستے میں کسی نے پکٹ لگا لی تھی۔ پکٹ سمجھتے ہیں آپ ؟؟ نہیں کوئی بات نہیں یہ خالصتاً سول آرمڈ فورسز کا کوڈ ورڈ ہے ۔ جو سڑک پر لگائی گئی سیکیورٹی چیک پوسٹ کے لئے بولا جاتا  ہے ۔

جس میں    رنگین تصویر ۔بجلی کے   جنریٹر سے ،فارم کی رنگین فوٹو سٹیٹ    کیوں کہ پارا چنار میں نہ بجلی آتی ہے اور نہ ہی انٹر نیٹ    مبلغ   300 روپے سکہ رائج الوقت مانگا جارہا تھا              اور بذریعہ ٹی سی ایس ۔ آل پاکستان پنشنرز کے آفس، بذریعہ ٹی سی ایس بھجوانے کی قیمت   الگ ، اگر پنشنرز چاھے تو خود پاکستان پوسٹ سے بھجوادے ۔ جس کے جواب میں اُسے 3 سے پانچ لاکھ جی ایل آئی ملے گا ۔ 

بوڑھے نے فوجی تربیت کے مطابق ، پکٹ لگانے والوں کی جنم پتری کھوجنا شروع کر دی ، جس پر تین نام سامنے آئے ۔  تینوں سے موبائل پر بات کی ۔ پھر پارا چنار میں موجود سول آرمڈ فورسز ، فرنٹیئر کور اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  کے لوگوں سے وٹس ایپ کئے ہوئے  فارم پر دیئے گئے نمبروں سے بات کی ، اُنہیں بتایا کہ فوراً  ، پکٹ لگانے والوں کے پاس جائیں اور اُنہیں خبردار کریں کہ ، کہ فارم پر لکھے ہوئے موبائل نمبر سے فون آیا ہے ۔ کہ یہ غیر اخلاقی اور غیر اسلامی حرکت فوراً بند کی جائے ورنہ ۔ تمام نتائج کی ذمہ داری اُن پر آئے گی ۔

پھر بوڑھے  نے  فوراً چیئرمین ، انجنیئر بشیر احمد بلوچ  کو حقیقت حال سے آگاہ کیا  اور اُن کے  مشورے سے ،پنشنرز کے نام سے ،  ایک  درخواست بنائی اور تمام رجسٹرڈ و غیر رجسٹرڈ پنشنرز کو ، وٹس ایپ کردی ۔ 

کہتے ہیں نا سفر وسیلہءِ ظفر ہے ، درخواست  ، پنشنرز کو ملتے ہی ، بوڑھے کا وٹس ایپ  دونوں اقسام کے کمنٹس سے بیدار ہو گیا ۔
  بوڑھے نے چپ کرکے  منفی کمنٹس کرنےوالوں کو یہ پوسٹ بھجوادی ۔ 
اُفق کے پار بسنے والے میرے نیک دل پنشنر دوست !
میں نے رفاع یونیورسٹی اسلام آباد میں ، بی بی اے اور ایم بی اے کے سٹوڈنٹس کوPersonality Development  اور  OSHA بطور وزٹنگ فیکلٹی پڑھایا تھا۔
 یہ 50 کریڈٹ گھنٹوں کے کورس ہوتے تھے اور میں نے یہ فوجی تربیت کے مطابق پڑھایا ۔
جب میں آخری نکتے، RESULTS DEPICTS PERSONALITY " کو سمجھاتا تھا تو بس یہ ایک جملہ بولتا تھا ،
کسی بھی برائی کو ختم کرنے کے لئے ، انسان میں  جو   ENERGY بیدار ہوتی ہے ۔اُس کا خاتمہ اُس کی۔   یعنیشخصیت  (منفی یا مثبت) پر ہوتا ہے !

یوں  نتائج  ، انسانی شخصیت کا آئینہ بن جاتے  ہیں ۔

 اوریہ اِس آفاقی سچ کی بنیاد پر ہوتا تھا ۔

 وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ۔ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا۔ قَدْ أَفْلَحَ مَن
زَكَّاهَا۔ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا ۔

آپ سب دوستوں کا شکریہ ❤️🌹😍🥰🍬🍩

 پنشنر دوستو !

 درخواست فارم اتنا مشکل نہ تھا ۔ لیکن لکھنے والوں کے لئے  بہت مشکل  گریڈ 1 تا 11 کے پنشنرز  کی مجبوری کہ اُنہیں گروپ انشورنس  کے سلسلے میں آخری  ادا کردہ    رقم یاد نہیں تھی  اور وہ پنشنرز جو 10 سال پہلے ریٹائر ہوگئے وہ بھی اِن میں شامل ہیں ۔ اُس وقت یہ رقم اُنہیں تھوڑی لگتی تھی ۔ لیکن اگر اب یہ حکومت واپس کرے تو یہ اُن کی غربت میں سہارا ہے ۔ آپ سوچ رہے ہوں گے یہ رقم تھوڑی ہو گی ۔ تو ماضی کا یہ خط پڑھیں جو ایسے ہی ایک درخواست گذار نے سندھ ہائی کورٹ سے کیس جیتنے کے بعد ، 26 نومبر 2021 کو  بالا حکام کو اپنے گروپ انشورنس کے ملازمت کے دوران جمع کروائے رقم اور منافع جو مبلغ 21 لاکھ روپے بنتا ہے ۔ لکھا ۔ کیا سمجھے ؟؟

 

  تو پنشنر دوستو ، آپ  کی آسانی کے لئے ، درخواست میں تبدیلی کی ۔تصویر کی شرط ہٹا دی ۔ تاکہ پنشنر  کا خرچہ نہ ہو ۔ نام ، پنشنر نمبر یعنی  پی پی او  نمبر  یا سول آرمڈ فورسزکا سروس نمبر   اور جس محکمے سے ملازمت کے بعد ریٹائر ہوا ۔ اور نیا فارم     گرینڈ الائنس  ایمپلائز اور پنشنرز کے لوگو کے ساتھ وٹس ایپ کر دیا ۔

اب اِس  ، بلیک  اینڈ وہائٹ   ،درخواست   کی قیمت ، شناختی کارڈ کے فرنٹ کی فوٹو کاپی کی قیمت کی وجہ سے یہ  ایک پنشنر کے لئے نہایت سستی ہو گئی ۔ لیکن اِس کے باوجود  ہدایت میں صاحب ثروت پنشنر سے درخواست کی کہ وہ گریڈ ایک سے 11 تک کے پنشنرز  کی مدد کریں  اوراُن کے  محکمے کے حساب سے لسٹ بنا کر  اکٹھی درخواست پوسٹ آفس سے  ، اس ناموں کی لسٹ کے حساب سے  بھجوائیں ۔

 فرد واحد درخواست نہ بھجوائے اور نہ وٹس ایپ کرے ۔

 


مزید مضامین  پڑھیں :

 

ہفتہ، 11 جون، 2022

شگفتہ گوئی ۔ بوڑھے کی ڈائری ۔ بگھارے بینگن ۔

  اُفق کے پار بسنے والے میرے شگفتہ گو دوستو !  آج ماہ جون کا دوسرا ہفتہ ، تین بجے دوپہر یاد آیا کہ آج ، گھر بیٹھے محفلِ  مناثرہ سجائی جائے گی۔ وٹس ایپ کھولا تو نیا وقت 17:30 تھا جو چمک رہا تھا ۔ 
پروگرام کی ترتیب کے ساتھ :لہذا صوفے پر سو گیا کیوں کہ    ،  بجلی چلی گئی تھی ۔اٹھا تو نئی ترتیب آویزاں تھی ۔نذارت کے ساتھ ۔
 تمام ارکان سے گزارش ہے کہ شگفتگو کے ضابطے کا خیال رکھیں اور یہاں صرف اپنی تحریریں پیش کریں۔
بڑۓ مزاح نگاروں کی تحریریں ہم اور کئی جگہ پڑھ لیا کرتے ہیں۔۔
پروگرام کی ترتیب
5:30 بسم اللہ سے آغاز
5:35 - خالد مہاجر زادہ
5:50 - عاطف مرزا
6:05 - ڈاکٹر عزیز فیصل
6:20 - سید سبطین رضوی
6:35 - خادم حسین مجاہد
6:50 - ڈاکٹر محمد کلیم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
  ۔ بوڑھے کی ڈائری۔  بگھارے بینگن
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بیگن کے بارے میں ہم بچپن میں اتنا جانتے تھے ، کہ اِسے "بتاؤں " بھی کہا جاتا ہے ۔  بتاؤں غالباً لمبے ہوتے اور بیگن گول ۔
تو بس بچپن سے ہی "بتاؤں و بیگن و بتنگڑ" ہمارے رقیب تھے ۔ نہ صرف ہمارے نہیں بلکہ سب بہن بھائیوں کے بھی بلکہ  اُفق کے پار بسنے والے میرے شگفتہ گو دوستو !
آپ بھی اِس اجتماعی گروپِ رقیبانِ بینگن میں یقیناً شامل ہوں گے، جس کا سرپرستِ اعلیٰ تو نہیں البتہ سرپرستِ شور و غوغاؤں میں شامل ضرور رہا ۔
ایک دفعہ نصف صدی سے بھی پہلے کا ذکر ہے، بوڑھے کو اچھی طرح یاد ہے کہ دادی اور چچا ہمارے پاس لاہور آئے ۔
 رات کو آٹے کے کنستر پر  شراشرتیں کرتے چوہوں میں سے ایک شامت کا مارا ، چچا کے ہاتھوں اسیرِ موت ہوا ۔
وہ اسے دم سے پکڑ کر لٹکائے ہوئے ۔ ہمیں ڈرانے لگے ۔ کبھی پنڈولم کی طرح ھلاتے اور کبھی گھڑیال کی سوئیوں کی طرح ۔ میں اور آپا چادر میں منہ چھپائے چینخیں مارتے ۔

کوئی دوسرا یا تیسرا دن تھا ۔ امی نے "بینگن" بنائے ۔
امی چونکہ اجمیر کی رہنے والی یوسف زئی پٹھان تھیں لیکن مختلف ہندوستانی کھانے پکانے میں ید طولیٰ رکھتیں تھیں ۔ لہذا مصالحے دار بینگن، بگھارے بیگن ، بینگن کا بھرتہ ، بینگن بھرے پراٹھے اور تلے ہوئے بیگن بنا کر ابا کے دل میں اترنے کا راستہ بناتیں ۔ بلکہ ٹنڈے ، لوکی ، کدّو ، کے خاندان کی تمام سبزیاں وہ مٹی کی ہانڈی میں ایسے گھماتیں کہ اُن کے بلبلانے کی آواز ہمیں صحن کے دروازے کے باہر سنائی دیتی۔ ہمیں یعنی مجھے اور آپا کو پوری آزادی تھی کہ وہ الٹے توّے کی روٹی پر دیسی گھی چپڑ کر اُس میں حسبِ ذائقہ سے بھرپور چینی ڈالیں اور رول پراٹھا بنا کر کھائیں ۔ جو بعد میں ہمارے بچوں کے لئے اگلو قرار پایا ۔ کیوں کہ اُن کے مطابق پراٹھا توے پر تلا ہوتا اور یہ سادہ روٹی خیر ۔
اُس دن میں اور آپا رول پراٹھا کھا رہے تھے ، کہ چچا نے ، سالن میں لتھڑے کالے رنگ کے بتاؤں کو اُٹھایا اور منہ میں ڈالتے ہوئے کہا ،
"بھابی ! آج تو کھانے کا مزہ آگیا " ۔
" تتا، تتا ، توہا توہا '' چھوٹا بھائی چلایا ۔
میں نے نظریں اٹھا کر دیکھا ، اور رات کا منظر میری آنکھوں کے سامنے گھوم گیا ۔ بینگن، چوہے کی طرح جھولتا ہوا ، چچا کے منہ میں غائب ہو رہا تھا ۔
اُف ، یہ منظر ذہن پر نقش ہو گیا ۔جونہی گھر میں بگھارے بینگن پکتے ، میں کھانا کھانے سے انکار کر دیتا ۔ ہاں البتہ بینگن کا بھرتہ چکھ لیا کرتا ۔
اللہ تعالیٰ جنت میں اونچا مقام عطا فرمائے ۔ والد کا ایک ہی شوق تھا ، گھر کے سامنے خالی جگہ پر سبزیوں کا کھیت  لگانا ۔ فوج میں گھروں کے پیچھے کافی جگہ ہوتی تھی ، یہ 1957 کا دور تھا ۔ کنال سے لے کر چار کنال تک آپ کاشت کر سکتے تھے ۔ ورکنگ مل جاتی ، پانی بے تحاشا ، کھاد ڈیری فارم سے مل جاتی ۔ یوں کچن فارمنگ بوڑھے کی گھٹی میں پڑ گئی جہاں خالی زمین گھر کے ساتھ دیکھی وہیں ۔ باغیچہ بنا دیا ۔
پانچ دس گھروں میں سبزیاں بھیجنا روزانہ جانا معمول ہوتا ، اور بچے ہم سے جھگڑتے ، لیکن ہم خود مظلومین میں شامل تھے ۔  
نواب شاہ میں ہم ، ماموں کے گھر میں  1960" بیگن" سے متعارف ہوئے ، وہاں بتاؤں ، کو کوئی نہیں پہچانتا تھا ۔ بس لمبے بینگن اور گول بینگ ۔  پتلے بینگن اور موٹے بینگن ، میرپورخاص اور حیدر آباد میں بھی بیگنوں کی حکومت تھی ۔ ہاں البتہ بہاولپور میں بتاؤں اور بیگن دونوں چلتے تھے ۔
آج کل ہم دونوں میاں اور بیوی ، وزن کم کرنے کے لئے ، روزانہ واک پر نکلتے ہیں - لمبا چکر کاٹ کر مارکیٹ پیدل جاتے ہیں ۔ کچھ چیزیں خرید لیتے ہیں ۔
 بیگم سبزی کی دکان میں گئی کہ فرج میں سبزیاں ختم ہو گئی ہیں وہ خرید لیتے ہیں ۔ سبزی کی دکان موسمِ سرما کی سبزیوں سے بھری ہوئی تھی ۔
بیگم نے پوچھا ، " کیا سبزی لی جائے؟"
 ہم نے کہا ، " آلو، اروی ، گوبھی اور پالک لے لو " ،
بیگم  نے اروی کو آلو کی قبیل کا بتاتے ہوئے ، آلو کو ترجیح دی ۔ پالک بھی لی ۔
اُن کی شدت سے خواہش تھی کہ کدو یا گھیا توری لی جائے ۔ اِس سے پہلے ہمیں غَش آجاتا، ہماری نظریں ، بیگن پر پڑی ۔ ہم نے کہا
" جس طرح اروی اور آلو زمین کے نیچے اُگنے کی وجہ سے ایک قبیلہ بنتا ہے اِس طرح ، زمین کے اوپر اُگنے کی وجہ سے ، کدّو اور گھیاتوری کا بڑا بھائی بیگن اہمیت رکھتا ہے جب بگھارا جائے"۔
تو قارئین ، بیگن کے ڈھیر میں سے اُنہوں نے فقط چار بیگن چنے ، متناسبُ الاعضا و رنگت اور سر پر سبز رنگ کا تاج ۔
ہم نے کہا،
"بیگم بزگوں نے کہا ہے کہ بلا شبہ ، شہنشاہ کی موجودگی میں ۔ چوبداروں اور دربانوں کو دسترخوان کی زینت بنانا گناہ کبیرہ ہے ۔ "
اُنہوں نے گھیا توری اُٹھاتے ہوئے کہا،
" اکثر بیویاں چونکہ خاندانِ غلاماں سے تعلق رکھتی ہیں ، لہذا انہیں چوبداروں سے بھی ہمدردی ہوتی ہے "

تو یوں ہمارے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ۔ جس کے مطابق ، اگر ہمارا دل چاہے تو ہم ، گھیا توری پر بھی مہربان ہوسکتے ہیں ، ورنہ ۔ ۔ ۔ ۔
ہمیں اتوار کے پکے ہوئے ، بیسن کے قتلے کھانے پڑیں گے ۔ المعروف کھنڈویوں کا رشتہءِ کبیر و لذیذ ۔
کبھی کھائے ہیں آپ نے فرج میں رکھے ہوئے ، تین دن پرانے بیسن کے قتلے ؟
نہیں نا !
یہ بوڑھا باسی کڑی کی طرح بیسن کے پرانے قتلوں کا بھی شوقین ہے ۔
اللہ آپ سب کو اپنی امان میں رکھے مکمل جزائے خیر کے ساتھ ، اگلے مناثرے تک ، شکریہ

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


منگل، 24 مئی، 2022

باغ والوں کا قصہ ۔

٭بلوچستان میں ژوب کے مقام پر شیرانی چلغوزے کے جنگلات میں خوفناک آگ نے تباہی مچارکھی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ دنیا کے سب سے بڑے چلغوزے کے جنگلات ہیں۔ 

ذرا سوچئے کہ ایک طرف دنیا کے سب سے بڑی چلغوزے کے جنگلات تو دوسری طرف پاکستانیوں کو چلغوزے کے ایک ایک دانے کو ترسا دیا گیا۔ 7 ہزار روپے کلو چلغوزہ اور ان جنگلات میں چلغوزوں کی فصل کی ایسے حفاظت و نگرانی کی جاتی ہے کہ ایک چلغوزہ بھی باہر نہ نکلنے پائے۔ جیسے سونے اور ہیروں کی کان میں نگرانی کی جاتی ہے۔ ( بشکریہ ثنا اللہ احسن ) 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“میرا نظریہ آگ کے معاملے میں ذرا جدا ہے یہ مسئلہ کیا ہے ؟
آپ کی سمجھ میں نہیں آرہی!
القرآن الکریم میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ،
 کچھ بھائیوں کو وراثت میں ایک ہرا بھرا میوں سے لدا باغ ملا۔ انکا باپ اس باغ سے میوہ اتارنے کے بعد سب سے پہلے ناداروں اور ضرورت مندوں کو میوہ دیتا تھا ۔۔ جب ان بھائیوں کے پاس باغ آیا تو یہ آپس میں کہنے ہمارا باپ تو بے وقوفی کرتا تھا کہ آدھا باغ خیرات کردیتا تھا تو بھائیوں ہم صبح سے پہلے حاجت مندوں کے آنے سے پہلے ہی تمام میوہ اتار لیں گیں اور زیادہ منافع کمائیں گیں ۔۔۔ مگر جب وہ صبح باغ میں پہنچے تو کہنے لگے کہ شاید ہم راستہ بھول گئے ہیں یا ہمارے نصیب ہی خراب ہوگئے کہ جہاں باغ تھا اب وہاں راکھ اور مٹی اڑ رہی ہے ۔۔ اللّٰہ تعالٰی ایسے نصیحت کرتا ہے تاکہ تم لوگ سمجھو ۔۔۔
 اپنے ملک میں بلکہ اپنے ہی قوم اور علاقے کے غرباء کو تم جنگل سے لکڑی بھی نہ اٹھانے دو اور تمہارے سردار اور ظالم لوگ دس ہزار روپے کلو چلغوزہ ایکسپورٹ کرکے اربوں روپے بناو؟
 تو اللّٰہ  کا نظام عدل کچھ تو سمجھائے گا تمہیں؟
۔ مگر ابھی بھی نہیں سمجھ رہے اور ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کررہے ہو ۔۔ یعنی آپس میں پھوٹ پڑ گئی ۔۔ یعنی عذاب پر عذاب ۔۔ توبہ استغفر اللہ العظیم وبحمدہ”
٭٭٭٭
کیا ہم یہ دعا مانگ سکتے ہیں  ۔
صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ
دوسرے وہ جن پر تیرا خصوصی غضب  (بطور آزمائش )  ہوا اور وہ  خصوصی طور پر نہیں بھٹکے   ( توبہ کرکے واپس  صراط المستقیم پر آگئے  ، کیوں کہ اُن میں اوسط فہم کا عبداللہ تھا )
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بدھ، 6 اپریل، 2022

ربّ العالمین کون ہے ؟

ربّ العالمین کون ہے ؟  اُس کا ہماری زندگی سے کیا تعلق ہے ؟     
ایسے کئی سوالات ہیں جن کے جوابات ، ہر 
صاحبِ عقل و دانش ، فہم و فکر ، شعور و تدبّر ۔کے ذہن میں مچلتے ہیں ۔
موجودہ سائینس نے کائینات کی ہر شئے ، بشمول انسان سب کو آٹومیٹڈ نظام میں ڈال دیا ہے اور ایسا ہی ہے ۔ انسان کے سامنے ہر شئے خودکار طریقے سے وجود میں آرہی ہے ۔ اور یہ  انسانی فہم 100 فیصد درست ہے ۔ 

اِس آٹومیٹڈ نظام  کی ابتداء کیسے ہوئی ؟
سائینس  یہ بتانے سے قاصر ہے ۔ اُس کے نزدیک  یہ سب غالباً کسی بِگ بینگ کا نتیجہ ہے جو ارب ھا سال پہلے  ہوا   اور یہ کائینات وجود میں آئی ۔ اور خودکار طریقے سے  آتی چلی جارہی ہے ۔
اِس خود کار طریقے کا  مؤجد کون ہے ؟
سائینس  یہ بھی  بتانے سے قاصر ہے ۔لیکن وہ اصولِ واحد  (Single Principle) کو مانتی ہے ، جس کی بنیاد    کائینات کی تمام تخلیقات ہیں ۔وہ اصول واحد، سائنس کے مطابق ، ایک یا ایک سے زیادہ اشیاء کے ملاپ کے کائینات کی چیزوں کو تخلیق کئے جارہا ہے ۔اور انسانی نظروں سے اوجھل(غائب) ہے   اور ابھی تک کسی انسانی آنکھ نے اُسے دیکھنے کا دعویٰ نہیں کیا ۔

لہذا تمام سائنس پر  یقین کرنے والے لوگ   ، غیبی قوتِ تخلیق پر ایمان رکھتے ہیں ۔ اور وہ تمام جدید ترین انسانی تخلیق کردہ اشیاء جو اُن کی زندگی میں صدیوں سے شامل ہو رہی ہیں وہ اُن کے خالق سے نا آشنا ء ہیں ۔ لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ کسی انسان کی تخلیق نہیں ، بلکہ مشینوں کی ہے ۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں  کہ یہ مشین بھی کسی انسانی ہاتھ کی ایجاد ہے ۔ 

انسان کی زندگی کو آسان بنانے کے لئے جو بھی ایجادات ہوئی ہیں وہ سب ، ایجاد کرنے والے انسان نے ، اپنے ارد گرد کی اشیاء  کی مشاہدے کے بعد  اتفاقاً نئی شئے  غیب سے ظہور میں آنے کے بعد عقل و دانش ، فہم و فکر ، شعور و تدبّر کے بعد اُس کی مشابہ چیز اپنے تخیّل میں اَخذکی اور اِسے انسانوں کو بتایا  کہ ، انسانی بھلائی کے لئے ،ایسا بھی ہو سکتا ہے ۔ اُسے عملاً ڈھالا جسے اُس کے ارد گرد موجود انسانوں نے دیکھا ۔

اگلے دانشمند انسان نے اپنے صلاحیتوں کی بنیاد پر اُسے ایجاد کر لیا ۔اِس طرح کئی اشیاء ہیں جو انسان نے حادثاتی طور پر دریافت کیں ۔ جس کو سن کر ہم سب خوشی سے کہتے ہیں ۔

  واہ 

 صدیوں پہلے ایک ہماری طرح کے انسان نے  ، کلمہءِ تحسین بلند کیا ۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۔ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔

او ر خود کو  رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ  کالقب  یہ کہہ کر  دیا  ۔ 

 إِنَّ فِي هَذَا لَبَلَاغًا لِّقَوْمٍ عَابِدِينَ ۔ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ۔ قُلْ إِنَّمَا يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَهَلْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ ۔ ۔  ۔

جس کو الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ    نے  صدق دل سے قبول کر لیا  کہ یہ انسانی نہیں بلکہ

  إِلَهٌ وَاحِدٌ۔ کی طرف سے وحی ہے ۔ جس سے اُن کا پہلے سے کوئی تعارف نہیں ہے ۔  چنانچہ  الَّذِينَ ،    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سےمِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ   تک يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ     بن گئے   ۔  

کیا آپ بھی اِن میں شامل ہیں ؟؟ 

 

پڑھیں : آٹومیٹڈ نظام   نظامِ فطرت-

 ٭٭٭٭

 
 


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔