Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 11 ستمبر، 2021

چم چم روم میں ۔

 چم چم اور اُس کی ماما کا پی سی آئی آر ٹیسٹ ہوا ۔ الحمد للہ منفی آیا ۔

 اب دونوں ماں بیٹی کوویڈ سیلف قرانطائن کی پابندیوں سے آزاد ۔ 

یورپ کے تمام ملکوں میں سیر کے لئے گرین ویکسینیشن کارڈ ہولڈر ۔ 

دونوں ماں بیٹی ۔ روم کے اُس تالاب پر گئیں جہاں امیدوں کا سکہ پھینکا جاتا ہے ۔

 چم چم نے آوا ، نانو اور برفی کو روم بلوانے کا سکہ پھینکا ۔ 

بوڑھے ، بڑھیا اور برفی کو لائیو دکھایا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭

اتوار، 5 ستمبر، 2021

بوڑھا ، ھارٹ اٹیک اور 2 ستمبر انجیو گرافی

٭2 ستمبر 2021  بوڑھا ۔ 11:43 پر انجیوگرافی کی میز پر لیٹا ۔تو بوڑھا  مکمل طور پر یوٹیوب ، وکی پیڈیا ۔ گوکل تصاویر کی مدد سے  صاحبِ علم ہو چکا تھا ۔ کہ اب آگے کیا پروسیجر ہو گا ۔

کیتھ لیب سٹاف نے بوڑھے کا حال پوچھا ۔

نوجوان غلام عباس نے بوڑھے کو مکمل آرام دہ اور پرسکون پوزیشن پر سرجیکل میز پر لٹایا ۔

بوڑھے نے نظر ڈالی ، سفیدروشن چھت۔ بائیں طرف  دو سکرینز، چھت سے زمین تک فکس سٹینڈ پر آویزاں تھیں ۔کیتھ لیب جدید مشینوں سے آراستہ تھی ۔ پیروں کی طرف سامنے شیشے کے پیچھے ۔ میجر جنرل فرحان طیب ،     ڈاکٹر لیفٹننٹ کرنل اظہر  علی چوہدری ۔ اور لیب میں ڈاکٹرز ، نرسز اور سٹاف موجود تھے ۔

  

ایک  مہربان   نے کہا ، سر آپ کی انجیو گرافی ہوگی آپ کی طبیعت کسی ہے ؟

میم اللہ کا احسان ہے ۔ لیکن میری ایک درخواست ہے ۔ بوڑھا بولا ۔

جی سر ۔ میجر صاحبہ بولیں۔

آپ جو بھی انجیو گرافی کے لیئے پروسیجر کریں مجھے بتائیں ، بوڑھا بولا 

جی سر ضرور ، وہ مہربان بولی ۔

اتنے میں   ڈاکٹر لیفٹننٹ کرنل اظہر  علی چوہدری کا چہرہ نظر آیا ۔ جی سر اب ہم پروسیجر شروع کریں ۔

جی سر                                                                  ۔ بوڑھا بولا۔ 

انجیکشن لگائیں ۔کرنل اظہر بولے ۔

سر ہم نے کینولالگاناہے یہ عام کینولا سے بڑا ہے ۔ لیکن ہم آپ کوسن کرنے والا انجیکش لگائیں گے۔ایک مردانہ آواز آئی ۔ شاید انیتھیٹسٹ ہے ۔

انجیکشن لگایا گیا ۔ تھوڑی دیر بعد ۔ سر آپ کو ہم اب کینولا لگائیں گے ۔کینولا لگایاگیا ۔

   درد تو نہیں ہوا سر ۔ آواز آئی ۔

نہیں ، محسوس ہی نہیں ہوا ۔ بوڑھا بولا ۔

گڈ ۔ آواز آئی ۔

کیتھ پاس کریں، آواز آئی۔

سرہم کیتھ گا رہے ہیں آپ کوبازو میں تھوڑی جلن ہو گی۔ یہ نارمل ہے ۔ 

جی بوڑھا بولا۔اتنے میں آواز آئی اور ایک بڑی ہے مشین بوڑھے کے سینے پر آگئی۔

سرآپ کو اپنے بائیں جانب جوسکرین نظر آرہی ہے ۔ اُس پر اپنے دل کو دیکھیں ۔ انجیو گرافی کا پوراپرو سیجر آپ کی آنکھوں کے سامنے ہوگا ۔

بوڑھے نے بائیں جانب نظریں گھمائیں ۔

بوڑھے کو اپنا دل  کا ایکسرے نظر آیا ۔اور بذریعہ کیتھ  ،  دل کی گلیوں میں خون کے ساتھ پھینکی جانے والی دوائی کی پہلی بوچھاڑ11:58:48 پر بوڑھے نے اپنی آنکھوں سے نظر آتے اور 11:58:52 پر یعنی صرف 4 سیکنڈ سے بھی کم میں ۔تحلیل ہوتے دیکھی ۔آپ بھی دیکھیئے ۔

 فلورسنٹ دوائی کا ۔ ایک ٹیوب سے شریان میں اچھل کر  داخل ہونا ، دل کی شریانوں کو نمایاں کرنا اور  غائب ہوتا نظارہ دیکھنا ۔  جب بوڑھے کو29 اگست کو بتایا کہ آپ کی انجیوگرافی ہوگی اور بوڑھے نے یہ بریکنگ نیوز سب سے پہلے ۔ فیمیلیا وٹس ایپ چینل پر نشر کی تو ۔ ۔ !۔

بڑھیا کی آواز رُندھ گئی ۔ کہ بوڑھے کو ھارٹ اٹیک ہو گیا وہ تو سمجھ رہی تھی کہ بس صرف ای سی جی خراب آئی ہے ۔جو اکثر آتی ہے ۔ جب بوڑھا غصے میں بلند فشار خون (ھائی بلڈ پریشر )  کا شکار ہوتا ہے ۔

لیکن بڑھیاکو یہ نہیں بتایا تھا کہ دھوئیں کی گھٹن سے ہونے والے ایستھیما کے دورے نے دل کے دورے کو ٹہوکا دیا ۔ چل بھائیا بوڑھا  قابو میں آنے والا ہے ۔ اور یوں بوڑھا  کمبائینڈملڑی ہسپتال کے آئی سی یو لے جایا گیا۔

پڑھیں۔28 اگست کی ڈائری   

تو اُفق کے پار بسنے والے میرے پیارے دوستو۔ یہ پہلی بوڑھے کے دل کی شریانوں کی فلم تھی جو ۔انجیو گرافی سرجیکل میز پر لائیو بنائی گئی ۔ جس کی تصویری تشریح بوڑھے نے آپ کے لئے کی ۔ انجیوگرافی سے پہلے گوگل آنٹی کی مدد سے بوڑھے نے پوری معلومات حاصل کر لی تاکہ آپ کو انجیو گرافی کے بارے میں بتائے ۔

بوڑھا سب سے پہلے اللہ سے اُس نیک د دل انسان کے لئے دعا گو کہ جس کا نام۔ولہیلم کونراڈ رونٹجن تھا، جس نے دسمبر 1895 میں تجربے کے دوران کائینات میں پائی جانے والے ایک ایسی شعا ع کو دریافت کیاجو انسانی جسم سے گذر جاتی ۔ اب کیوں کہ اُس کو کوئی نام نہ دے سکا تو اُسے ایکس رے سے موسوم کیا۔

اُس نے اللہ کی رحمت سے ،    علم الابدان کے علماء پر اُس نے  تشخیص کا ایک نیا دروازہ کھول دیا  ۔ جس کے حالیہ  خود پر ہونے والے تجربے  کے ثمرات  سے یہ بوڑھا اب اور پہلے بھی کئی بار گذرا ۔ 

  ولہیلم کونراڈ رونٹجن اور اُس  کے قدموں کے نشانات پر چلنے والے علماء  پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہو ۔ بوڑھے کے فہم کے مطابق اللہ نے اُسے اور سب کو  یقیناً ایسی جگہ رکھا ہوگا جہاں وہ اللہ کی امان میں ہوگا ۔

انجیو گرافی مشین ۔ ایکس رے مشین کا نہایت جدیدسلسلہ ہے ۔ جسے کمپیوٹر کی ایجاد نے انسانیت کے لئے ایک مفید ساتھی بنا دیا ہے ۔ انجیو گرافی مشین کا تھوڑا  تصویری تعارف کروا دوں ۔

سرجیکل میز پر پشت کے بل لیٹے ہوئے مریض کے عین نیچے ایکس رے ٹیوب ہوتی ہے ۔ جس سے ایکس رے دل سے گذرتی ہوئی۔ سینے کے اوپر ایک بڑے حصے میں جاتی ہے جو دل کے عکس کو کئی گنا بڑا  کرتا ہے اور اسے مانیٹر پر منتقل کرتا ہے ۔ جس پر دل کا سارا عمل نظر آتا ہے ۔ اب چونکہ ایکس رے گوشت اور پوست سے گذر جاتی ہے لیکن ہڈیاں اُسے روکتی ہیں ۔لہذادل سے بھی بغیر واضح نشانات چھوڑے گذر جاتی ہے ۔ چنانچہ دل کی شریانوں کو دیکھنے کے لئے اُس میں فلوریسنٹ محلول ڈالا جاتا ہے ۔ جیسے بوڑھے کی دل کی شریانوں کی پہلی وڈیو کے کلپس سے ظاہر ہے جو بوڑھے نے آپ کو سمجھانے کے لئے بنائے ہیں ۔   
بائیں سے دائیں ، کلپ نمبر 1 میں ۔ شریان میں داخل کی گئی شریان کے سائز سے  پتلی ٹیوب (  نظر آرہی ہوگی۔ کلپ نمبر 2 میں جب دوائی ڈالی گئی تو اُس کا شریان میں جانا اور باقی کلپس میں دل کی شریانوں میں پھیلنا دکھایا گیاہے ۔ جیسا کہ پہلے لکھا کہ یہ دوائی 9 دفعہ  ڈالی گئی اور مختلف زاویوں سے دل کی وڈیو بنائی ۔ مشین کے زاویوں کو اِس تصویر سے سمجھا جا سکتا ہے ۔ 

دل کو مکمل دیکھنے کے لئے    یہ مزید زاویے ہیں ۔            
تو بوڑھے کا پہلا زاویہ ۔

اور وڈیو کلپ ۔
 

  اب دیکھیئے پہلی وڈیو ۔

نو وڈیو دیکھنے کے بعد قلب کے ڈاکٹر لیفٹننٹ کرنل اظہر علی  چوہدری نے بتایا ۔

٭۔سرآپ کے دل کی رگیں پھولی ہوئی ہیں ۔

٭۔ آپ  کی رگیں  جہاں  چھوٹی ہوجاتی ہیں  وہاں سے بلاک ہیں۔

٭۔ آپ کی انجیو پلاسٹی نہیں ہو سکتی ،یعنی سٹنٹ نہیں ڈالا جاسکتا ۔

٭- آپ کو دوائیاں ۔ پرھیز اور وہ تمام احتیاط کرنا پڑیں گی جو آپ کو تجویز کی جائیں گی ۔

مبارک ہو بڑے میاں ۔ آپ کو یہ دونوں دل کی داستان ،والدہ  (1930 تا 1988) اور والد  (1925 تا 2006) سے ورثے میں مل چکی ہیں ۔ ھاں 2005 سے  دماغ میں سوچوں کے بلبلے خون کے ساتھ شامل ہو کر جانا آپ کی اپنی کاوش ہے کم سوچا کرو ۔ 

خلاصہ :۔

   ٭- والدہ محترمہ جب 58 سال کی عمر میں اللہ کی امان میں گئیں تو اُسی سال ایکسرے سے معلوم ہوا کہ اُن کا دل بڑھ چکا ہے ۔

٭۔ والد محترم کو 1990 میں دل کا پہلا دورہ 60 سال کی عمر میں پڑا تھا ۔ جو بعد میں ھارٹ انفاکشن کا سبب بنا یعنی اُن کی بھی رگیں خاتمے کے نزدیک بلاک ہوچکی تھیں ۔

تو اُفق کے پار رھنے والے پیارے دوستو۔ 

 بوڑھے کو اب بنیادی طور پر دل کے تین روگ لگ چکے ہیں ۔ دل کی رگوں کا پھول جانا ، خون کی چھوٹی رگوں کا بلاک ہونا شروع ہونا اور جناب سب سے آخر میں دماغ کی طرف بلبلوں کا سفر کرنا ۔اور بوڑھا اِس مہینے میں 16 ستمبر شام 5 بجے اپنی زندگی کی 68 سالگرہ انشاء اللہ،   اپنے تمام چاھنے والوں کی محبت اور دعاؤں کے ساتھ منائے گا ۔

٭٭٭جاری ہے  ٭٭٭

اللّهُ لَا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ
رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ

 

جمعہ، 3 ستمبر، 2021

تین ستمبر کی ڈائری۔ ڈھیر ساری گولیاں

 بوڑھے نے ہسپتال سے نکل ، بیٹے کو دوائیوں کی چٹ دی کہ وہ جاکر اے ایف آئی سی سے دوائیاں لے آئے ، ڈاکٹروں نے دو ماہ کی دوائیاں دیں ۔

 دوائیاں دیکھ کر برفی پریشان ہو گئی ۔

 دادا بابا یہ سب دوائیاں آپ کھائیں گے ۔ 

جی میری جان ۔ بوڑھا بولا میں آپ کو دوائیاں کھلاؤں گی ۔

برفی نے بوڑھے دادا بابا کی دوائیوں کی ڈیوٹی اپنے طاقتور کندھوں پر اُٹھا لیں ۔ 

برفی کے بابا نے ہر پیکٹ پر گولیوں کے کھانے کے اوقات لکھے ۔

 پہلے دس دن کی دوائیاں ۔

 بوڑھے کی میڈیسن ٹریلونگ کٹ بیگ میں ڈالی ، جو بڑھیا کو چم چم کی ماما نے ایسٹ تِمور میں دی تھی ۔

 پاکستان میں ،بڑھیا شاپر سے کام چلاتی ۔

 برفی نے بے کار پڑی دیکھ کر دادا بابا ہے کے لئے دادی ماں سے لے لی ۔

 جب برفی شام کی دوائیاں دینے لگی ۔تو پریشان کہ اُس کا دادا بابا ۔ 11 گولیاں کھائے گا ۔

 دادا بابا اتنی گولیاں آپ کے پیٹ میں درد نہیں کریں گی ؟

 نہیں میری جان ۔ یہ ڈاکٹر نے اِس لئے دی ہیں کہ ۔ کہ دادا بابا دوبارہ ہسپتال نہ جائیں اور برفی کے پاس رہیں ۔ 

٭٭٭٭ ٭٭

جمعرات، 2 ستمبر، 2021

پرندے انسانوں سے بہت محبت کرتے ہیں ۔

یہ حقیقت ہے پرندے انسانوں سے بہت محبت کرتے ہیں ۔ بشرطیکہ۔

 وہ انہیں بھوک میں رزق اور خوف میں امن دے ۔

ٍمیں نے ایک سری لنکن پیلی چونچ والا پیلا اورہرا طوطا پالا ۔ وہ مجھ سے بہت مانوس تھا ۔ 28

 اگست کو وہ میرے ہسپتال جانےسے تنہا ہو گیا ۔ گو کہ بڑھیا اس کا خیال رکھتی مگر زیادہ وقت نہ دے سکتی۔
30 اگست کو میں تین گھنٹوں کے لیئے گھر آیا میں نے مخصوص سیٹی  بجائی ہ بے چین ہو گیا اور آوازیں نکالنے لگ  میں اسے کندھے پر بٹھا کر کرسی پر بیٹھ کیا اس نے اپنی عادت مطابق میرے بائیں کان کی لو پر پیار سے کاٹی کاٹی کرکے زچ کر دیا  پھر میں نے اسے پنجرے میں ڈال دیا ۔ اور کمرے میں آگیا ۔
اگلے دن میں چم چم اور اس کی ماما کو روم کے لیئے الوداع کہنے دوبارہ آیا ۔ تو طوطو مجھ سےسخت ناراض تھا ۔ میں نے سیٹی بجائی اس نے جواب نہیں دیا ۔ میں نے کندھے پر بٹھایا وہ خاموش پیٹھا رھا ۔
میں عزیزوں سے ملنے ڈرائینگ روم میں گیا ۔ اسے اس کی مخصوص جگہ بٹھایا وہ بار پر چلتا ہوا اپنے پنجرے میں چلا گیا ۔ میں نے پنجرہ بند کیا اور ڈرائینگ روم میں آگیا ۔
صبح بڑھیا نے بتایا کہ طوطو سست لگ رہا ہے ۔ پبجرے سے باہر نہیں آیا ۔
شام کو بڑھیا اسے چھوٹے پنچرے میں ڈال کر بیڈ روم میں لے آئی ۔
مجھ سے وڈیو چیٹنگ کروانا چاہی ۔
میں نے مخصوص سیٹی بجائی ۔ اس نے آنکھیں کھولیں اور موندھ لیں ۔

 اگلے دن یعنی 2 ستمبر 2021 کو  میری انجیوگرافی تھی ۔بڑھیا نے شام کو بتایا ۔ کہ صبح وہ پنجرے میں مرا پایا ۔ آپ کو اس لئے نہیں بتایا کہ آپ پریشان ہوں گے ۔

یوں طوطو نے کہاوت کے مطابق میرے سر پر آنے والی بلاء اپنے سر لے لی۔

٭٭٭٭٭٭

مغرب سے درآمد شدہ۔

بستر پر لیٹا یہ سینئر سٹیزن ، روزانہ پارک میں کبوتروں کو دانہ ڈالتا۔ جب یہ ہسپتال میں داخل ہوا ۔ تو تصویر کھینچنے والی نرس کے مطابق ، تین دن بعد آنے والا یہ پہلا ملاقاتی تھا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

بدھ، 1 ستمبر، 2021

یکم ستمبر کی ڈائری ۔ دادا بابا میں آپ کو کیوٹ بناؤں

 برفی :دادا بابا میں آپ کو کیوٹ بناؤں آپ ٹھیک ہو کر جلدی گھر آجائیں گے ۔

 اور جناب برفی نے ، اپنے میک اپ بکس نکالا۔ 

دادا بابا کے ہوش اُڑ گئے ۔کیوں کہ وہ دادی ماں کا میک اپ دیکھ چکا تھا ۔
انابیہ (برفی) بیٹے میری جان یہ ہسپتال ہے۔ ڈاکٹر کیاکہیں گے ؟ 

کہ نمنا کا دادا بابا بیمار نہیں ۔ویسے ہی ہسپتال آیا ہے۔ 

خیر برفی مان گئی۔

لیکن دادا بابا کو کیوٹ بنا کر ہی چھوڑا ۔ 

آپ بھی دیکھیں برفی کے دادا بابا کو کیوٹ بنانے کے ۔ طریقے ۔

دادا ، دادی اور نانا ، نانی ۔ پوتے پوتیوں اورنواسے نواسیوں کے کھلونے ہوتے ہیں۔ اور یہ نوجوان بوڑھے بھی اگر بچوں کی شرارتوں اور سرگرمیوں میں حصہ لیں تو اِس دنیا میں جنت کا ماحول بن جاتا ہے ۔


چم چم اور برفی کے سپتال میں آنے سے بوڑھے کی تمام بیماری اور پریشانی ہوا ھوجاتی ہے۔

اور افق کے پار بسنے والے ۔ میری فیس بک اور وٹس ایپ کے پیارےا ور محبت کرنے والےدوستو۔ آپکی محبتیں اور خلوص میرا سرمایہ ہے۔

 اُفق کے پار بسنے والے ایک دوست  سلیم رضا نے  پیاری بھتیجی رابعہ خرم کی وال پر لکھا    :۔

کتنے پیارے دوست ہیں جو فیس بُک اور وٹس ایپ پر ہیں ۔ آپ سے بحث بھی کرتے ہیں اور پیار ۔ اللہ اِن سب کو آبادرکھے ۔ 


 

٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔