Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
‏طنزو مزاح لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏طنزو مزاح لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 23 جولائی، 2024

ملکی معیشت میں چوروں کی اہمیت

استاد نے طلباء سے کہا کہ "چور" پر ایک مضمون لکھیں۔ ساتویں جماعت کے طالب علم  نے مضمون لکھا:۔

چور ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ ایک مذاق ہے یا یہ غلط ہو سکتا ہے، لیکن یہ حقیقت میں قابل غور موضوع ہے۔

چوروں کی وجہ سے سیف، الماری اور تالے درکار ہیں۔ یہ ان کمپنیوں کو کام دیتا ہے جو انہیں بناتے ہیں. چوروں کی وجہ سے گھروں کی کھڑکیوں میں گرلز اور دروازے ہیں جو بند رکھے جاتے ہیں۔ یہی نہیں، باہر سیکیورٹی کے لیے اضافی دروازے بھی ہیں۔ اتنے لوگوں کو کام مل جاتا ہے۔

چوروں کی وجہ سے گھروں، دکانوں اور سوسائٹیوں کے ارد گرد حفاظتی دیواریں اور سیکورٹی کمپاؤنڈ بنائے گئے ہیں اور گیٹ لگائے گئے ہیں۔ گیٹ پر 24 گھنٹے گارڈ تعینات رہتے ہیں اور گارڈز کے لئے یونیفارمز بھی ہیں۔ اتنے لوگوں کو کام مل جاتا ہے۔

چوروں کی وجہ سے صرف سی سی ٹی وی کیمرے اور میٹل ڈیٹیکٹر ہی نہیں بلکہ سائبر سیل بھی معرض وجود میں آئے ہیں۔ چوروں کی وجہ سے پولیس، تھانے، پولیس چوکیاں، گشتی کاریں، لاٹھیاں، رائفلیں، ریوالور اور گولیاں ہیں۔ اتنے لوگوں کو کام مل جاتا ہے۔

چوروں کی وجہ سے عدالتوں میں عدالتیں، جج، وکیل، کلرک اور ضمانتی بندے ہیں۔ تو بہت سے لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔ چوروں کی وجہ سے جیلوں کےلئے سپرنٹنڈنٹ اور جیل پولیس کا عملہ رکھا جاتا ھے۔ اس لیے روزگار کے بہت سے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

جب موبائل فون، لیپ ٹاپ، الیکٹرانک ڈیوائسز، سائیکلیں اور گاڑیاں چوری ہوتی ہیں تو لوگ نئی خریدتے ہیں۔ اس خرید و فروخت سے ملک کی معیشت مضبوط ہوتی ہے اور بہت سے لوگوں کو کام ملتا ہے۔

بین الاقوامی سطح کے چوروں سے متعلق خبروں کے ذریعے اندرون و بیرون ملک کا میڈیا بھی روزی روٹی حاصل کرتا ہے۔
یہ سب پڑھنے کے بعد آپ کو بھی یقین ہو جائے گا کہ چور معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور کروڑوں لوگوں کو روزگار مہیا کرنے کا ذریعہ ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بدھ، 29 جون، 2022

گھڑا کہانی

کہا جاتا ہے کہ کسی بادشاہ کا گزر اپنی سلطنت کے  ایک ایسے علاقے  سے ہوا جہاں کے لوگ سیدھا  نہر سے  ہی پانی لیکر پیتے تھے۔  بادشاہ نے حکم دیا کہ عوام الناس کی سہولت کیلیئے یہاں ایک گھڑا  بھر کر رکھ دیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا اور ہر چھوٹا بڑا  سہولت کے ساتھ پانی  پی سکے گا۔ بادشاہ یہ کہتے ہوئے اپنی باقی کے سفر پر آگے کی طرف بڑھ گیا۔

شاہی حکم پر ایک گھڑا خرید کر نہر کے کنارے رکھا  جانے لگا تو ایک اہلکار نے مشورہ دیا یہ گھڑا عوامی دولت سے خرید کر شاہی حکم پر یہاں نصب کیا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے اور  ایک سنتری کو چوکیداری کیلیئے مقرر کیا جائے۔

سنتری کی تعیناتی کا حکم ملنے پر یہ قباحت بھی سامنے آئی کہ گھڑا بھر نے کیلیئے کسی ماشکی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اور ہفتے کے ساتوں دن صرف ایک ماشکی یا ایک سنتری کو نہیں پابند کیا جا سکتا ، بہتر ہوگا کہ سات سنتری اور سات ہی ماشکی ملازم رکھے جائیں تاکہ باری باری کے ساتھ بلا تعطل یہ کام چلتا  رہے۔

ایک اور محنتی اہلکار نے رائے دی کہ نہر سے گھڑا بھرا ہوا اٹھا کر لانا نہ تو ماشکی کا کام بنتا ہے اور نہ ہی سنتری کا۔ اس محنت طلب کام کیلیئے سات باربردار بھی رکھے جانے چاہیئں جو باری باری روزانہ  بھرے ہوئے گھڑے کو احتیاط سے اٹھا کر لائیں اور اچھے طریقے سے ڈھکنا لگا کر بند کر کے رکھیں۔ ۔

ایک اور دور اندیش مصاحب نے مشورہ دیا کہ اتنے لوگوں کو  رکھ کر کام کو منظم طریقے سے چلانے کیلیئے   ان سب اہلکاروں کا حساب کتاب اور تنخواہوں کا نظام چلانے کیلیئے منشی محاسب رکھنے ضروری ہونگے، اکاؤنٹنگ کا ادارہ بنانا ہوگا، اکاؤنٹنٹ متعیین کرنا ہونگے۔

ایک اور ذو فہم و فراست اہلکار نے مشورہ دیا کہ   یہ اسی صورت میں ہی یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ ہر کام اچھے طریقے سے چل رہا ہے  تو  ان سارے  ماشکیوں، سنتریوں اور باربرداروں سے بہتر طریقے سے کام لینے کیلیئے  ایک ذاتی معاملات کا ایک شعبہ قائم کرنا پڑے گا۔

ایک اور مشورہ آیا کہ یہ سب کچھ ٹھیک ہو رہا ہے مگر ملازمین کے درمیان میں لڑائی جھگڑا یا کوئی زیادتی ہو جاتی ہے تو ان کا تصفیہ اور ان کے درمیان میں صلح صفائی کون کرائے گا؟  تاکہ کام بلاتعطل چلا رہے، اس لیئے   میری رائے میں خلاف ورزی کرنے والوں اور اختلاف کرنے والوں کی تفتیش کے لیے ایک قانونی امور کا محکمہ قائم کیا جانا چاہیے۔

ان سارے محکموں کی انشاء کے بعد ایک صاحب کا یہ مشورہ آیا کہ اس سارے انتظام پر کوئی ہیڈ بھی مقرر ہونا چاہیئے۔  ایک  ڈائریکٹر بھی تعیینات کر دیا گیا۔

سال کے بعد حسب روایت بادشاہ کا اپنی رعایا کے دورے کے دوران اس مقام سے گزر ہوا تو اس نے دیکھا کہ نہرکے کنارے کئی کنال رقبے پر ایک عظیم الشان عمارت کا وجود آ چکا ہے جس پر لگی ہوئی روشنیاں دور سے نظر آتی ہیں اور عمارت کا دبدبہ آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے۔ عمارت  کی پیشانی پر  نمایاں کر کے "وزارت انتظامی امور  برائے گھڑا " کا بورڈ لگا ہوا ہے۔

بادشاہ اپنے مصاحبین کے ساتھ اندر داخل ہوا تو ایک علیحدہ ہی جہان پایا۔ عمارت میں کئی کمرے، میٹنگ روم اور دفاتر قائم تھے۔ ایک بڑے سے دفتر میں ، آرام کرسی پر عظیم الشان چوبی میز کے پیچھے سرمئی بالوں  والا ایک  پر وقار معزز شخص بیٹھا ہوا  تھا  جس کے سامنے تختی پر اس کے القابات  "پروفیسر ڈاکٹر دو جنگوں کا فاتح فلان بن فلان ڈائریکٹر جنرل برائے معاملات سرکاری گھڑا"  لکھا ہوا تھا۔

بادشاہ نے حیرت کے ساتھ اپنے وزیر سے اس عمارت کا سبب پوچھا، اور ساتھ ہی اس  عجیب و غریب محکمہ کے بارے میں پوچھا جس کا اس نے اپنی زندگی میں کبھی نام بھی نہیں سنا تھا۔

بادشاہ کے وزیر نے   جواب دیا: حضور والا، یہ سب کچھ آپ ہی کے حکم پر ہی تو ہوا ہے جو آپ نے پچھلے سال عوام الناس کی فلاح  اور آسانی کیلیئے یہاں پر گھڑا نصب کرنے کا حکم دیا تھا۔

بادشاہ   مزید حیرت کے ساتھ باہر نکل کر اس گھڑے کو دیکھنے گیا جس کو لگانے کا  اس نے  حکم دیا تھا۔ بادشاہ نے دیکھا کہ گھڑا   نہ صرف خالی اور ٹوٹا  ہوا ہے بلکہ اس کے اندر ایک مرا ہوا پرندہ بھی پڑا ہوا ہے۔ گھڑے کے اطراف میں بیشمار لوگ آرام کرتے اور سوئے  ہوئے پڑے ہیں اور  سامنے ایک بڑا بورڈ لگا  ہوا ہے:

"گھڑے کی مرمت اور بحالی کے لئے  اپنے عطیات جمع کرائیں۔ منجانب   وزارت انتظامی
امور  برائے گھڑا"
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

جمعرات، 26 مئی، 2022

ابا جی ڈیڈی اور پاپا

جب میں نے ہوش سنبھالا اس وقت تمام گھروں میں والد کو اباجی کہا جاتا تھا۔ اُس دور میں اباجی صرف بچوں کے لیے ہی نہیں بلکہ بچوں کی ماں کے لیے بھی خوف کی علامت ہُوا کرتے تھے، ادھر ابا جی گھر پہنچتے اور اُدھر گھر کے صحن پر سناٹا چھا جاتا۔ جیسے  ٹرین سٹیشن سے نکل گئی ہو ۔ بچے گھر کے کونوں کُھدروں میں دبک جاتے اور بچوں کی اماں سر پر دوپٹہ اوڑھ لیتی۔
ابا جی کے ہاتھ سے تھیلا وغیرہ پکڑ کر مقررہ جگہ پر رکھ دیا جاتا اور ابا جی چارپائی پر بیٹھ کر جُوتے اُتارتے جنہیں فوراً ایک طرف اُٹھا کر رکھا جاتا۔

 پھر ابا جی کوئی بھی حُکم جاری کرتے تو فوراً اُس کی تعمیل ہوتی، پھر ابا جی کو کھانا پیش کیا جاتا اور امی جان اُنہیں قریب بیٹھ کر کھانا کھلاتیں اور سب بہن بھائی بھاگ بھاگ کر اُنہیں کبھی نمک اور کبھی چٹنی مہیا کیا کرتے تھے۔
ابا جی کے غُسل سے پہلے امی جان غُسل خانے کا معائینہ کرتیں اور وہاں ڈبہ تولیہ صابن وغیرہ ہر چیز رکھ دیتیں اور پھر ابا جی کے کپڑے استری ہوتے، ابا جی جب دفتر جاتے تو امی اُن کو دروازے تک رخصت کرنے جاتیں اور ابا جی کے روانہ ہوتے ہی گھر میں چھائی خاموشی کے بند ٹُوٹتے اور بچوں کی شرارتیں اور امی جان کی دھمکیاں شروع ہوجاتیں کے شام کو تمہارے ابا آئیں گے تو تمہاری شکایت لگاؤں گی۔
اُس دور میں ابا جی کی دہشت ہر وقت بچوں پر چھائی رہتی تھی، مُجھے اچھی طرح یاد ہے کے سکول کی پراگرس رپورٹ پر ابا جی سے دستخط کروانا ایک مشکل ترین مرحلہ ہوتا تھا۔
پھر زمانہ بدلا تو بچے ابا جی کو ڈیڈی اور ماں جی کو ممی کہنے لگے ، ڈیڈی کہلوانے والوں کا وہ رعب اور دہشت نہیں ہوتی تھی جو ابا جی کہلوانے والوں کی ہوتی تھی، ڈیڈی وہ حضرات تھے جو عورت اور مرد کی برابری پر یقین رکھتے تھے اوران کا خیال تھا کہ بیوی اور بچوں کو ڈرا کر رکھنے کی بجائے ان سے دوستانہ تعلقات ہونے چاہیے، چنانچہ ڈیڈی حضرات حکم آخر جاری کرنے کی بجائے مشاورت پر یقین رکھتے تھے اور گھروں میں ان کا طرز عمل ابا صاحبان سے کافی بہتر ہوتا تھا جو مخاطب کی پُوری بات سُنے بغیر ہی جوتا اُتار لیا کرتے تھے۔
ڈیڈی کہلوانے والے صاحبان کو اگر کھانے میں کوئی نقص نظر آتا تو وہ انتہائی شائستگی سےاُس کی نشاندہی کرتے اور ابا صاحبان کی طرح کھانا صحن میں اُٹھا کر نہیں پھینکتے تھے، ڈیڈی کہلوانے والے بچوں کے سوالات کے جوابات انتہائی پیار و محبت سے دیتے اور بیوی کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات و مطالبات کے جواب بھی خندہ پیشانی اور دلبری سے دیتے اور گھروں میں توازن کی فضا برقرار رکھتے تھے۔
زمانہ اور اور آگے بڑھا اور ابا صاحبان کو پاپا اور والدہ کو ماما کہا جانے لگا، یہاں سے گھروں میں ایک بڑی تبدیلی آنی شروع ہُوئی اور گھر میں حکمرانی کا تاج پاپا کی بجائے ماما کے سر پر سجایا جانے لگا اور پاپا کی حثیت گھر میں ایک عام شہری جیسی ہو گئی، پاپا صاحبا ن جب دفتر سے گھر واپس آتے ہیں تو اُن کی طرف کوئی متوجہ نہ ہوتا، ماما ٹی وی دیکھتی رہتی ہیں اور بچے موبائل فون پر ایس ایم ایس کرتے رہتے ہیں ، پاپا حضرات کپڑے وغیرہ تبدیل کرکے کھانا مانگتے ہیں تو ماما کہتی ہیں ذرا صبر کریں ڈرامے میں وقفہ آتا ہے تو کھانا دے دیتی ہُوں ، اگر پاپا موصوف زیادہ بھوک لگی ہونے کی شکایت کرتے ہیں تو ماما کہتی ہیں کے دفتر سے نکلتے ہی فون کر دیا کریں میں کھانا گیٹ پر ہی رکھ دیا کروں گی۔
اس جواب کے بعد پاپا دبک کر بیٹھ جاتے ہیں اور ڈرامے میں وقفے کا انتظار کرتے ہیں، خُدا خُدا کر کے ڈرامے میں کمرشل بریک آتا ہےتو ماما بھاگ کر کچن میں جاتی ہیں اور کھانا لاکر شوہر کے سامنے یُوں رکھتی ہیں جیسے وہ پیش نہ کیا جارہا ہو بلکہ اُسے ڈالا جارہا ہو اور شوہر کے ہاتھ سے ٹی وی کا ریموٹ جسے شوہر نے بیوی کی غیر موجودگی میں اُٹھا لیا ہوتا ہےواپس جھپٹ لیتی ہیں اور بولتی ہیں ابھی تو بڑا بھوک بھوک کا شور مچایا ہُوا تھا اور اب خبریں سُننے کی پڑ گئی ہے چُپ کر کے کھانا کھاؤ اور اگر پاپا کھانے کے بعد ٹی وی کا ریموٹ دوبارہ مانگتے ہیں تو ماما کہتی ہیں کہ چُپ کر کے جا کر سو جائیں اور یُوں پاپا حضرات دُم دبا کر سونے چلے جاتے ہیں۔
آج کے پاپا کی حثیت اے ٹی ایم مشین سے زیادہ نہیں رہ گئی اور میں یہ سوچتا ہُوں کہ کہاں وہ کل
کے ابا جان اور کہاں آج کے پاپا، زمانہ کیا سے کیا ہوگیا۔

٭٭٭٭٭٭٭

پیر، 31 جنوری، 2022

ٹھرک

٭ٹھرک کی اقسام – ایک تحقیقی و تفریحی جائزہ

ٹھرک، جسے جدید اردو میں رومانی بےچینی بھی کہا جا سکتا ہے، وہ کیفیت ہے جو اکثر حضرات (اور بعض خواتین) کو جوانی کے آغاز سے لے کر بڑھاپے کے اختتام تک لاحق رہتی ہے۔ ٹھرک ایک ایسی بیماری ہے جس کا علاج تاحال دریافت نہیں ہوسکا ۔ آئیے اس نازک و لطیف جذباتی مسئلے کی اقسام کا جائزہ لیتے ہیں:

1. معصوم ٹھرکی
یہ وہ حضرات ہوتے ہیں جو صرف "لڑکیاں دیکھنے" پر اکتفا کرتے ہیں۔اکثر لڑکیوں کی تصاویر پر سرد آہیں بھرتے پائے جاتے ہیں ۔ اگر کوئی لڑکی ہنس دے تو انہیں لگتا ہے وہ انہی پر مر مٹی ہے۔ ان کا پسندیدہ جملہ:
“یار، آنکھوں میں کچھ تو تھا اُس کے!”

2. شاعرانہ ٹھرکی
یہ حضرات عشق و ٹھرک کو غالب، فیض اور جون ایلیا کی شاعری سے جوڑتے ہیں۔ کسی بھی لڑکی کی تصویر پر فوراً کوئی اداس شعر کمنٹ کریں گے:
“تیرا چہرہ نظر آئے، تو زمانہ رُک جائے!”(حالانکہ لڑکی نے صرف سینڈوچ کی تصویر ڈالی ہوتی ہے)۔

3. آن لائن ٹھرکی
یہ انٹرنیٹ کے سپاہی ہیں۔ ہر پوسٹ پر “ہیلو ڈیئر”، “آپ کی سادگی نے مار ڈالا” اور "فرینڈشپ کروگی؟" جیسے تبصرے ان کا تکیہ کلام ہیں۔ ان کے انباکس میں صرف سین (Seen) ہوتا ہے، ریپلائی کبھی نہیں۔اگر کوئی لڑکی پوسٹ پر کہہ دے کہ ”بھوک لگی ہے“تو ان کا بس نہیں چلتا کہ کسی طرح کمنٹ میں پیزا رکھ دیں ۔

4. پروفیسر ٹھرکی
یہ خود کو "خواتین کے حقوق" کے علمبردار سمجھتے ہیں، لیکن مقصد صرف عورتوں سے بات کرنے کا بہانہ ہوتا ہے۔
“میڈم، آپ کی سوچ بہت انقلابی ہے، کیا ہم اس  پر بات کر سکتے ہیں؟”

5. روحانی ٹھرکی
یہ صاحب داڑھی والے، وضو کے پابند اور ہر بات میں "اللہ کے خوف" کا ذکر کرتے ہیں۔ لیکن دل میں دعا کرتے ہیں کہ کوئی نیک، باپردہ لڑکی انہیں خود "پرپوز" کر لے۔ ویسے نیک نہ بھی ہو تو بھی چلتی ہے  ویسے بھی اسے دینی تعلیم دینے کا بہانہ تو ہے ہی ۔
“سنیے! آپ سے صرف نکاح کی نیت ہے، حرام رشتے سے پناہ!”

6. بینچ ٹھرکی
یہ حضرات پارک، کالج، بس اسٹاپ کے بنچ پر مستقل قیام کرتے ہیں۔ ہر گزرنے والی لڑکی کو گھورنا ان کا مشغلہ ہے۔
“یار، آج والی نیلی کرتی میں تھی، دِل لے گئی!”

7. خفیہ ٹھرکی
یہ شادی شدہ ہوتے ہیں، لیکن دل میں اب بھی "محبت کے نئے امکانات" زندہ رکھتے ہیں۔ بیوی کے سوتے ہی فیس بک پر ایکٹو ہو جاتے ہیں، اور ہر پرانی کلاس فیلو کو “ہیلو” مارنے لگتے ہیں۔ہر نئی لڑکی کا اکاونٹ تاڑ کر ریکویسٹ بھیجتے اور ریسپانس کا انتظار کرتے ہیں

8. موسمی ٹھرکی
بارش ہو، چاندنی رات ہو یا کوئی رومانوی گانا، ان کا ٹھرکی دل فوراً جاگ جاتا ہے۔دکھی گانے سننے لگتے ہیں ۔اکثر شام کو انھیں پرانی محبوباؤں کے غم کے تدارک کے لیے نئے چہروں کی تلاش رہتی ہے
“یار، ایسے موسم میں تو محبت خودبخود ہونے لگتی ہے…”

9.میسنے بزدل ٹھرکی
یہ شریفڑو سے ہوتے ہیں ۔لڑکیوں سے تھوڑا ڈر کر بات کرتے ہیں اور لڑکی کے ان باکس میں السلام عليكم  کہہ کر داخل ہوتے ہیں ۔ایک آدھ بات کرکے چپ ہوجاتے ہیں اور اگر لڑکی کا ریسپانس آجائے تو بات ہولے ہولے آگے بڑھاتے ہیں ۔یہ بہت میسنے ہوتے ہیں اندرواندر اپنا کام چلا لیتے ہیں ۔

نتیجہ:
ٹھرک ایک عالمی جذبہ ہے، جس پر نہ عمر کی قید ہے، نہ ذات،رنگ و نسل یا  زبان کی۔ بس فرق اتنا ہے کہ کوئی اسے چھپاتا ہے، کوئی ظاہر کرتا ہے، اور کوئی میسنا بن کے سب کرتا ہے

آپ کون سے ٹھرکی ہیں؟
سچ بولیے !

٭٭٭٭٭٭٭

جمعرات، 18 جون، 2020

معاشرے کو تیزاب سے غسل کی ضرورت ہے!

ایک شادی پر جانا ہوا،ھال کے ایک کونے پر نظر گئی تو ایک جان پہچان والے شخص پر نظر پڑی،جو اکیلا ھی بیٹھا تھا، اس کے ساتھ جاکر میں بھی بیٹھ گیا-
بڑی گرمجوشی سے ملا -
وہ شخص گاڑیوں کے پرزے اور انجن آئل وغیرہ کا ماہر ہے -
حال احوال پوچھنے کے بعد،وہی عام طور پر کی جانے والی باتیں شروع ہوگئیں- 
یعنی مہنگائی اور کاروباری مندےو کا رنا. 
کہنے لگا-آج کل کام کوئی نہیں چل رہا. ابھی پرسوں کی بات ہے،ایک بندے نے گاڑی کا آئل تبدیل کروایا .-پچیس سو روپے بل بنا، اُس نے پیسے دیئے اور چلا گیا-
بعد میں پتا چلا کہ ایک ہزار کا نوٹ جعلی دے گیا-
اوہ..میرے منہ سے نکلا- تمھارا کو نقصان ہو گیا  ۔  پھر ؟؟؟ 
پھر کیا جی !!بڑی گالیاں نکالی اسے!
پتا نھیں کون دھوکے باز تھا، پہلی بار آیا تھا اور اعتماد ہی توڑ گیا کسٹمر پر ،
وہ تو شکر ھے میں نے آئل بھی" جعلی" ڈالا، 
کیوں کہ شکل سے وہ مشکوک لگ رہا تھا ، ورنہ میں تو مارا جاتا !!! 
اسی دوران “کھانا کھل گیا” کا نعرہ لگا اور پورے ھال میں گویا بھونچال آگیا-
وہ مرغی کے قورمے کا ڈھیر پلیٹ میں لئے فاتحانہ انداز لیے واپس آگیا-
میں سمجھا شاید میرے لئے بھی لے آیا کھانا-کہنے لگا،
بھاجی لے آؤ آپ بھی !بعد میں تو شادی ہال والے خراب کھانا دینا شروع کر دیتے ہیں!
میں اٹھا اور بریانی لے کر واپس آگیا!
 اور اس سے پوچھا، " اس جعلی ہزار کے نوٹ کا کیا کیا تم نے؟؟ "
کرنا کیا ھے جی ۔ دلہے کے والد کو سلامی میں دے دیا !
 اور میز کے نیچے چھپائی، چار بوتلوں سے ایک نکال کر دو گھونٹ میں خالی کر دیاور چھے سیکنڈ دورانیے کا لمبا ڈکار لینے کے بعد دونوں ہاتھ جوڑے-
عقیدت سے آنکھیں بند کیں اور بولا.... شکر الحمداللہ - آج حلال رزق دیا -
 اور میں نے سوچا،دولہا کے والد نے ، تسبیح گھماتے ہوئے جعلی نوٹ دیکھ کر بولا ہوگا،  

شکر ہے مردہ مرغیاں پکوائی تھیں- زیادہ نقصان نہیں ہوا ۔یہ نوٹ آگے چلا دوں گا --
٭٭٭٭٭٭٭٭

پیر، 18 مئی، 2020

نکما وائرس -

ایک بات تو طے ہے کہ کورونا وائرس خواہ قدرتی ہو یا مصنوعی ۔ لیکن ہے بالکل نکما ۔
اسے وبا کا نام ضرور دیا گیا ہے لیکن اس میں وبا والی کوئی خصوصیت نہیں پائی جاتی ۔
میری جتنی عمر ہو چکی ہے اس میں میں نے کئی وبائی امراض دیکھے ہیں ۔
اس کرونا وائرس سے پہلے کبھی کوئی وبا ایسی نہیں گزری جس سے متعلق جاننے کے لیے ہمیں ٹی وی لگانا پڑے یا کوئی انٹرنیشنل ویب سائٹ کھولنی پڑے ۔

وبا گھر گھر جاتی ہے اور اپنا تعارف خود کرواتی ہے ۔ لوگوں کو اپنے دوست احباب پڑوسی رشتے دار یا اپنے اہل خانہ سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ یہ وبائی مرض پھیلا ہوا ہے ۔
آشوب چشم پھیلتا ہے تو آپ کو بس دو ہی قسم کے لوگ نظر آتے ہیں ۔ یا سوجی ہوئی آنکھ والے یا کالے چشمے والے ۔

ڈینگی کی وبا آئی تھی تو شائد ہی کوئی گھر بچا ہو جسے اس نے متاثر نہ کیا ۔
وبا اسی طرح کام کرتی ہے ۔ وبا اگر باصلاحیت ہو تو اس کو اس بات کی کوئی حاجت نہیں ہوتی کہ اس کی میڈیا پر ایڈورٹائزنگ کی جائے ۔
لیکن کرونا وائرس کا معاملہ ایسا نہیں ہے ۔ یقین کریں اب تو کرونا وائرس کی مسکینیت اور لاچارگی پر ترس آنے لگ گیا ہے ۔
ایک طرف کرونا وائرس کی خطرناکی سے متعلق خبریں چل رہی ہیں ۔ دوسری طرف ڈاکٹروں کے ساتھ لڈیاں ڈالتے، کرونا وائرس کے مریضوں کی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں ۔
عام طور پر جب بندہ بیمار ہو تو وہ ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے ۔ طبیعت زیادہ خراب ہو اور خود جانے کے قابل نہ ہو تو گھر والے لے جاتے ہیں ۔
لیکن کرونا وائرس کا معاملہ اس سے قطعی مختلف ہے ۔ آج اگر کسی کو خدشہ ہو کہ اسے کرونا وائرس ہو گیا ہے تو اس کے گھر والے بجائے اسے ڈاکٹر کے پاس لے جا کر علاج کروانے کے اسے مشورہ دیتے ہیں کہ آپ کچھ عرصے کے لیئے انڈر گراؤنڈ ہو جائیں ۔ معاملہ دبنے کے بعد منظر عام پر آجایئے گا ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ
WHO نے کرونا وائرس کے مریضوں کے سر کی قیمت مقرر کر دی ہے ۔ اور یہ قیمت اتنی زیادہ ہے کہ اگر خذانخواستہ محض 25 فیصد پاکستانیوں کو ہی یہ مرض لاحق ہو جائے تو پاکستان کا سارا قرضہ اتر سکتا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ جنوری کے مہینے سے لے کر مارچ تک ہم اس انتظار میں رہے کہ لکشمی کی یہ دیوی ہمارے گھر کب آئے گی ۔ پھر جب ہمارے انتظار کی اخیر ہو گئی اور
WHOنے ڈالر بانٹنا شروع کر دئے ،تو ہمارے صبر کا پیمانہ چھلک گیا اور ہمیں ایمرجنسی میں ایران سے وائرس متاثرہ زائرین امپورٹ کرنے پڑے ۔
اس کے بعد ہم سکون میں آگئے کہ اب باقی کام یہ وائرس خود کر لے گا ۔ لیکن ہمیں اندازہ نہ تھا کہ یہ وائرس انتہا درجے کا ہڈ حرام ہے ۔
ظاہر ہے وائرس کی یہ شہرت ہے کہ یہ ایک سے دو دو سے چار چار سے آٹھ یعنی روز افزوں دگنا ہوتا چلا جاتا ہے ۔
ہم نے احتیاطاً لاک ڈاؤن بھی کر دیا تاکہ جہاں ہماری مطلوبہ تعداد پوری ہو جائے وہیں وائرس کو بریک ماری جا سکے ۔
لیکن یہ نگوڑ مارا وائرس پاکستان میں اس رفتار سے پھیلا ہی نہیں جس رفتار میں امریکہ چائنا اسپین اور اٹلی میں پھیل رہا تھا ۔
گویا یہ لاٹری صرف انہی ملکوں کی لگی جہاں پہلے ہی مال کی بہتات ہے ۔
پھر مجبوراً ہمیں لوگوں کو پابند کرنا پڑا کہ وہ آٹھ بجے کے بجائے اب پانچ بجے ہی دکانیں بند کر دیا کریں ۔ دکانوں پر جو لوگ سکون سے خرید و فروخت کرتے تھے ان میں ایک بھگدڑ مچ گئی ۔ دکانوں پر چار بجے سے پانچ بجے تک رش لگ گیا ۔ہمیں یقین تھا کہ ہمارے اِس اقدام کی وجہ سے ، رش کھڑکیاں توڑ ہفتہ لے گا اور ہر دُکان سے لدے پھندے لوگ کرونا بغل میں دبائے گھر جائیں گے ۔

اس پالیسی نے  وہ کام  نہ کیا جس کی توقع کی جا رہی تھی ۔
اب انتہائی مجبوری اور بے کسی کے عالم میں یہ فیصلہ لیا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن ختم کر دیا جائے ۔ بازار کھول دیئے جائیں ۔ لیکن اس پابندی کے ساتھ کہ ہفتے میں صرف چار دن یعنی پیر منگل بدھ اور جمعرات کو دکانیں کھلیں گی وہ بھی صرف شام پانچ بجے تک ۔ 
یہ شائد کرونا وائرس کے آرام کے  ایام ہوتے ہیں یا ممکن ہے کہ ان دنوں کرونا وائرس شام کی ڈیوٹی کرتا ہو ۔
بازاروں کے داخلی راستوں پر گیٹ لگا کر راستہ تنگ بھی کیا گیا ہے۔ تاکہ جو خواتین بازاروں میں سوشل ڈسٹینسنگ کی وجہ سے کسی سے ہاتھ بھی نہ ملائیں انہیں اس گیٹ پر پرائے مردوں سے زبردستی گلے ملوایا جا سکے ۔
آپ نے ایسے ناکے لاک ڈاؤن کے دوران سڑکوں پر بھی جگہ جگہ لگے دیکھے ہوں گے ۔ اچھی بھلی کھلی ڈلی سڑک پر بندہ پوری رفتار سے ڈرائیو کرتا جا رہا ہوتا ہے کہ اچانک آگے ٹریفک جام ہو جاتا ہے ۔ بندہ حیران ہوتا ہے کہ اتنے سخت لاک ڈاؤن میں ٹریفک کیوں جام ہے ۔ پتہ چلتا ہے کہ پولیس نے وائرس کے خدشے کے پیش نظر پوری سڑک بلاک کر کے صرف ایک گاڑی کا راستہ کھلا چھوڑا ہے ۔ جہاں سے ایک ایک کر کے صرف گاڑیاں ہی گزر سکتی ہیں ۔ وائرس اتنے تنگ راستے سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو پھنس جائے گا اور اسے پولیس ہتھکڑیاں لگا کر گرفتار کر لے گی ۔
بعض موٹر سائیکل سواروں کر روک کر ان کی جامہ تلاشی بھی لی جاتی رہی ۔ اللہ جانے اس تلاشی کے دوران ان میں سے کسی کی جیب سے کرونا وائرس برامد ہوا یا نہیں ۔
بحرحال حفاظتی انتظامات بہت اعلیٰ نوعیت کے تھے ۔ خصوصاً WHO کی طرف سے امداد کے اعلان کے بعد تو ان میں مزید بہتری آگئی ۔
اس دوران ہمارے محلے میں دو وفاتیں ہوئیں ۔ دونوں کی میتوں کے لئے اہل خانہ کو ہسپتال والوں سے جھگڑا کرنا پڑا ۔ ہسپتال والے چاہتے تھے کہ مرنے والے کی وفات کی وجہ کرونا ڈیکلیئر کر کے میت ہسپتال کو ہی الاٹ کر دی جائے ۔ تاکہ ہسپتال والے اسے کرونا کے روایتی انداز میں دفنا سکیں ۔ اس سے فائدہ یہ ہوتا کہ ایک ہارٹ فیل سے مرنے والا شخص کرونا ڈیکلیئر ہونے سے شہادت کا درجہ پا لیتا ۔ لیکن گھر والوں کو یہ جھوٹی شہادت منظور نہ تھی ۔ پھر ہسپتال والوں نے ایک خطیر رقم کی آفر بھی دی ۔ ساتھ سمجھایا بھی کہ دیکھو ٹھیک ہے وہ تمہارا ابا تھا مگر اب تو مر گیا ۔ تم دفناؤ یا ہم دفنائیں بات تو ایک ہی ہے ۔ تم کون سا اسے نیپال کے جنگل میں  دفنا آؤ گے جہاں سے  وہ زندہ ہو کر ہشاش بشاش  گھر  لوٹ آئے گا ۔ سو ہمیں دے دو ۔ ہم اسے اعزاز کے ساتھ دفنائیں گے ۔
لیکن گھر والے بھی جانے کس مٹی سے بنے تھے ۔ اتنی اچھی   آفرز ٹھکرا دیں ۔
میں نے پہلے عرض کی کہ جتنی رقم
WHO کرونا وائرس متاثرین کے عوض اداروں کو دے رہی ہے اگر پاکستان کے پچیس فیصد لوگوں کو یہ مرض لاحق ہو جائے تو پاکستان کا سارا قرضہ اتر جائے ۔ اور پاکستان کو در در جاکر بھیک نہ مانگنا پڑے ۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ کرونا وائرس سے مرنے والوں کی جو آخری رسومات ویڈیوز کی شکل میں وائرل ہو رہی ہیں وہ کسی بھی شخص کو موت سے تائب کرنے کے لیے کافی ہیں ۔

لوگ جب ایک تابوت میں بند میت کے سامنے ،خلائی لباس پہنے ڈاکٹرز کو اس کی نماز جنازہ پڑھتے دیکھتے ہیں تو مرنے سے تو کیا بیمار ہونے تک سے توبہ کر لیتے ہیں ۔
کئی ایسے عمر رسیدہ بزرگ ہیں جن کا اس سال مرنا طے شدہ تھا ۔لیکن حالات کے پیش نظر انہوں نے ایک سال کی ایکسٹینشن لے لی ہے ۔اب اُن کا مقدمہ شائد ڈاکٹرز لے کر ، بارگاہِ تخلیقانِ کرونا  جائیں ۔
لوگوں کا خیال ہے کہ اس قسم کی آخری رسومات سے اللہ جانے ہماری آتما کو شانتی ملے گی بھی یا نہیں ۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ فی الحال مرنا کینسل کر دیا جائے ۔ آج کل مر صرف وہ رہا ہے جس کی کوئی انتہائی مجبوری ہو ۔
میرے ایک ڈاکٹر دوست بتاتے ہیں کہ ہم ایک مریض کی اوپن ہارٹ سرجری کر رہے تھے ۔ سینہ چاک کیا جا چکا تھا ۔ دل کی دھڑکن مشین کی مدد سے جاری تھی ۔ مریض کے بچنے کے امکانات صفر ہو چکے تھے ۔ مشین کی ٹونٹ ٹونٹ کو ایک لمبی سی ٹونٹ میں بدلنے میں بس چند ہی سیکنڈز باقی تھے ۔ ایسے میں ہمارے ایک سینئر ڈاکٹر آپریشن روم میں داخل ہوئے اور بولے ذرا چیک کر لو اسے کرونا بھی نہ ہو ۔ یہ سننا تھا کہ مریض جو تقریباً مر چکا تھا ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور رونی صورت بنا کر ڈاکٹر سے بولا ۔
ڈاکٹر صاحب خدا دا واسطہ جے ۔ میرے کولوں قسم لے لوو جے کدی مینوں نزلہ زکام وی ہویا ہووے ۔ تسی سدھا ای کرونا پا دتا جے میرے تے ۔
 اس کے بعد کہتے ہیں کہ وہ مریض اتنی جلدی صحتیاب ہوا کہ میڈیکل سائنس بھی حیران رہ گئی ۔
حالانکہ ایسا ہونا نہیں چاہیئے ۔ حب الوطنی بھی کوئی چیز ہوتی ہے ۔ یقین کریں اگر مجھ ناچیز کو بھروسہ ہو کہ میری میت کے عوض ملنے والی رقم کو ہماری حکومت پاکستان کا قرضہ اتارنے میں صرف کرے گی، تو میں اپنی میت اس کارخیر کے لئے وقف کر جاؤں ۔ بے شک میری قسمت میں ٹرک کی ٹکر سے مرنا لکھا ہو ۔ 

مگر مجھے اپنے حکمرانوں کی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ ہے ۔ یہ کسی نہ کسی طرح یہ ثابت کر ہی لیں گے کہ ایکسیڈنٹ سے ایک لمحہ پہلے متوفی کرونا وائرس کا شکار ہوا جس کی وجہ سے اس کی وفات ہو گئی ۔ وفات پا جانے کی وجہ سے متوفی سامنے سے آتے ٹرک کو نہ دیکھ پایا اور  ایکسیڈنٹ ہو گیا اور پھر میت ٹرک کے نیچے آگئی ۔
(منقول)
(نوٹ: محررکا پتہ ہو تو ،اِسمِ گرامی کومنٹس میں لکھ دیں)

اُسے 32 توپوں کی سلامی دینے کو دل کرتا ہے ۔ ہر توپ کے سامنے باندھ کر !
٭٭٭٭٭٭
اگلا مضمون : کرونا پلازما - کرونا مریضوں کا علاج
٭٭٭٭٭٭٭
  پچھلےمضامین : 

 

بدھ، 19 فروری، 2020

مارکیٹنگ کا سنہری گُر-حاضر جوابی

 مارکیٹنگ آفیسر کے لئے انٹرویو ہورہا تھا۔ لیکن کمپنی کے باس  کے سالے کو پہلے ہی منتخب کر لیا گیا تھا ۔ مگر  دوسروں کو دکھانے کے لئے انٹرویو  لینے ضروری تھا ، اخبار میں اشتہار دیا گیا ،۔ مقررہ تاریخ پر امیدوار پہنچے ، اُن سے  باس نے ، ایسے سوالات پوچھے کہ جن کے جوابات  کسی کتاب میں نہیں لکھے تھے ۔
 لیکن بہرحال تھے تو سوال !
ایک میمن بھی انٹرویو کے لئے پہنچا ۔
باس :میں  ایک ندی کے درمیان ایک کشتی پر ہوں  اورمیرے پاس  دو سگریٹ  کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔مجھے ایک سگریٹ جلانی ہے ۔بتاؤ  کیسے جلاؤ ں گا  ؟؟؟
میمن : یہ تو کافی مشکل ہے ۔ جناب
لیکن اِس کے تین طریقے ہیں ۔

باس :😳(حیرانی سے ) ، بتاؤ ، بتاؤ  !
 میمن: آپ  ایک سگریٹ کو پانی میں پھینک دیں، یو ں کشتی لائٹر ہو جائے گی ۔
اور سر آپ کو معلوم ہے کہ لائیٹر سے سگریٹ تو کیا ہر چیز جلائی جاسکتی ہے !

😁😁

باس : (کی حالت )😳😳😳😳،  دوسرا طریقہ !
میمن:جناب ، آپ   ایک سگریٹ کو ہوا میں اچھالیں گا  اور اُسے کیچ کرلیں!
اور جناب آپ کو معلوم ہے  کہ کیچ سے میچ جیتا جاتا ہے !
جناب  جیتنے والی میچ  سے آپ  سگریٹ جلا لیں۔

باس : 😁😁😁😁،  تیسرا طریقہ !
 میمن:جناب، پانی کو اپنی ہتھیلی میں  لیں   اور اُسے قطرہ قطرہ گرائیں،
 آواز آئے گی ۔ ٹِپ ، ٹِپ -ٹِپ، ٹِپ ۔ ٹِپ ، ٹِپ -ٹِپ، ٹِپ ۔

باس : 😫😫😫،  اُس   ٹِپ ، ٹِپ سے کیا ہوگا ؟
  میمن:جناب، آپ نے وہ گانا سنا ہے ؟
ٹِپ ، ٹِپ برسا پانی  ،
 پانی نے آگ لگائی ۔
 بس جناب اُس آگ سے  سگریٹ  جلالیں۔
   میمن:جناب، اگر یہ کافی نہیں تو میرے پاس ایک چوتھا طریقہ بھی ہے ، وہ بتاؤں ؟ 

باس : 😫😫😫، ارےبتا  نا ،میرے باپ وہ بھی بتا دے !
    میمن:جناب،آپ   ایک سگریٹ سے محبت کرنا شروع کر دوں گا  ، دوسری خود بخود جل اُٹھے گی ۔ 😜😜😜😜😜😜

 باس :  سالے کو مارو گولی،
نوکری اِس میمن بھائی کی پکی ہوئی   !
یہ تو کسی کو کچھ بھی بیچ سکتا ہے ۔
٭٭٭٭

 

 

اتوار، 1 دسمبر، 2019

بغیر عینک دنیا خوبصورت




بڑھیا  کچھ پڑھ رہی تھی  موبائل پر آئی ہوئی  یہ تصویر ۔ اُس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا یہ دیکھو :
"پوچھا یہ کیا ہے ؟"
"ایک تصویر ہے" ، بوڑھے نےکہا : موبائل پر ابھی کسی دوست نے بھیجی ہے ۔
بڑھیا  بولی ، " شائد کسی   نے لاش کو ڈراؤنا روپ دیا ہے  " اور موبائل رکھ دیا ۔
بوڑھے نے کہا ،: بھئی عینک  اتار کر  دیکھو !"
بڑھیا نے عینک اتاری  دیکھا اور 
  مسکراتے  ہوئے بولی ،
"میں سوچتی تھی کہ عینک کے بغیر ، آج کل آپ،  نوجوان  کیوں نظر آتے ہو ؟
 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

جمعرات، 3 اکتوبر، 2019

آئین سٹائن اور پاکستانی بیوی

سابقہ سے پیوستہ ۔ آئن سٹائن کی بیوی 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭ 
 اگر آئن سٹائن اور اُس کی بیوی کے درمیان شادی سے پہلے یہ معاہدہ نہ ہوا ہوتا ، تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !
 بیوی : اِنّو ،  اجی میں نے کہا سنتے ہو ؟
(ایک منٹ بعد)
 بیوی : اِنّو و و وو  و ،   (چمٹے کی میز پر لگنے کی آواز ۔ اور آئین سٹائن کا چوکنا )
کیا کانوں میں روئی ڈال رکھی ہے ۔
میں گھنٹے سے آوازیں دے رہی ہوں ،
 آئن سٹائن: جی جان۔۔۔کیاہوا؟ کیا ہوا  ؟ مم مم ، 
میں ایک مسئلہ کا حل ڈھونڈھ رہا تھا ۔ 
بیوی :  مسئلوں کے حل سے پیٹ نہیں بھرتا ،  یہ لو ڈبہ ،کوکنگ آئل ختم ہوگیا ہے ، اتنا ہی بڑا لے کر آنا !!!
آئن سٹائن: اوہو۔۔۔جان ، ابھی دو دن پہلے تو لایا تھا۔
بیوی: او میرے بھلکڑ شوہر ۔۔۔ پانچ کلو کاڈبہ لانے بھیجا تھا اور تُو کلو والا پیکٹ لے آیا تھا۔
آئن سٹائن: اچھا تھوڑی دیر تک لادیتا ہوں، ذرا ایک سائنسی تھیوری لکھ لوں۔
بیوی:آگ لگے تیری سائنس کو۔۔۔
آئل لے کے آ ، ۔ ۔ 
اور ہاں ایک پیکٹ ماچسوں کا اور  ہنسو ( ہینس 5 سالہ بیٹا) کے لئے کر کرے کا پیکٹ بھی لانا  اور   ’’اسبغول کا چھلکا‘‘ بھی لیتے آنا - تاکہ تمھاری قبض دور ہو ۔
آئن سٹائن : پلیز جان۔۔۔
بس صر ف آدھے گھنٹے کی مہلت دے دو،میری ریسرچ مکمل ہونے والی ہے۔
بیوی: دفع کرو اِس سائینس سوتن کو ۔۔۔
جب دیکھو سائنس۔
جب دیکھو سائنس۔۔۔
صبح سائنس ، دوپہر سائینس ، شام سائنس ، بستر پر سائنس ۔۔ 
یہاں تک کموڈ  پر سائنس ، 
 تونے اتنی سائنس پڑھ کے کون سا فواد چوہدری بن جانا ہے ؟؟؟
آئن سٹائن: پلیز جان ایسا مت کہو۔۔۔
سائنس میری زندگی ہے، میں ہر وقت سائنس کے حصار میں رہتا ہوں۔
بیوی: ہا۔۔۔ہائے۔۔۔آگیا نا سچ زبان پر ، شادی سے پہلے تو تم نے کہا تھا کہ میں ڈیفنس  میں رہتا ہوں؟؟؟
آئن سٹائن: اوہو جان، میرا مطلب ہے کہ میں ہروقت سائنس میں گم رہتا ہوں، سائنس میرا عشق ہے، میرا پیار ہے۔
بیوی: لخ لعنت ہے بھئی تیرے عشق پر۔۔۔ ہنسو ، کو ہوا  میں اچھال کر تو سائینس کے پیچھے بھاگ جاتا ہے ۔ ۔ ۔ 
چل اُٹھ ، مانے کر کٹر کی دوکان پر جا اور جلدی سے سامان لا ۔۔۔!!!
آئن سٹائن: پپ۔۔۔پلیز جان۔۔۔اگر اجازت ہو تو تھوڑا کام کرلوں؟؟؟
بیوی: یہ کام ہے ؟؟
 کام تونے کیا کرنا ہے؟؟
ہڈ حرام مُفت کی روٹیاں توڑتا ہے ، میں لوگوں کے گھر کام کرتی ہوں ، ہزار دفعہ کہا ہے ۔ 
میرے بھائی کے ساتھ سبزی منڈی چلا جایا کر، وہ بھی بہت
بڑا سائنسدان ہے۔۔۔!!!
آئن سٹائن: وہ کیا کرتاہے جان؟؟؟
بیوی: وہ اپنی سائنس  سے ، سبزی منڈی میں بڑے اور چھوٹے پیاز الگ الگ کرتاہے۔۔۔!!!
آئن سٹائن: لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔۔۔جان کہاں وہ ، کہاں میں۔۔۔!!!
بیوی: ظاہری بات ہے کہاں وہ روز کا دو سوروپیہ کمانے والا اور کہاں تُو۔ ۔  ۔ ۔! بیوی اور سسرالیوں کے ٹکڑوں پر پلنے والا۔۔۔ اگر میرے ابّا مدد نہ کریں تو گھر میں فاقے ہوں فاقے !!!
آئن سٹائن : پلیز جان۔۔۔ایسے تو نہ کہو۔۔۔میرے سسرالی تو خود داتا  دربار  پر گذارہ کرتے ہیں۔۔۔
خود، بھی کھاتے ہیں اور ہمارے لئے بھی چاول لے آتے ہیں، اور تیرا بھائی  سبزی مارکیٹ سے بچی ہوئی سبزیاں  !!!
بیوی: کیا کہا؟۔۔۔وے تیرا بیڑا غرق۔۔۔تیری ریسرچ میں کیڑے پڑیں۔۔۔وہ نہ مدد کریں تو تُو بھوکا مرجائے۔۔۔!!!
آئن سٹائن: اچھا پلیز جان۔۔۔یہ لڑائی بعد میں کرلینا۔۔۔میرا ذہن کسی اور طرف ہے۔۔۔!!
بیوی: مجھے پہلے ہی شک تھا، سامنے والی ہمسائی کی کھڑکی بھی تھوڑی سی کھلی ہوئی ہے، سچ سچ بتا آئن سٹائن۔۔۔تیرا ذہن کس کی طرف ہے؟جھوٹ بولا تو میں تیرا سانس بند کردوں گی۔
آئن سٹائن: فار گاڈ سیک جان۔۔۔میرے پاس ایسے کاموں کے لیے وقت نہیں، میرا دماغ تو ہر وقت اپنے سائنسی کام میں مگن رہتا ہے۔
بیوی: سب جانتی ہوں میں تیرے نکمے سائنسی دماغ کو۔۔۔
ٹی وی کا ریموٹ تو تجھ سے ٹھیک ہوتا نہیں، بڑا آیا سائنسدان۔۔۔!!!
آئن سٹائن: (آہ بھر کر) ٹھیک ہے میری جان۔۔۔آج سے سائنس ختم، کل سے میں بھی سبزی منڈی جایا کروں گا۔۔۔!!!
بیوی: (خوشی سے) واقعی؟۔۔۔ہائے آئن سٹائن۔۔۔تم کتنے جینئس ہو۔۔۔!!!
اور آئن سٹائن دروازے کے پیچھے لٹکا ہوا ، کپڑے کا شاپنگ بیگ اُٹھا کر  چیزیں لینے مارکیٹ جاتا ہے ۔ 
اور پاکستانی بیوی فاتحانہ انداز میں کھڑی ، اپنی تصویر کی طرف دیکھ کر ،گنگنا نے لگتی ہے  ۔ ۔ ۔ ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭

پیر، 23 ستمبر، 2019

لاہوریوں کا پُھدکنا

سوشل میڈیا نے پاکستان میں ہر طرف تھر تھلی مچائی ہوئی ہے ۔
اِس تھرتھلی کا سہرا، 2014 کے دھرنوں سے شروع ہوتا ہے ۔ جب اتنی کثرت سے جھوٹ بولا گیا کہ اب سچ خال خال سنائی دیتا ہے ۔
 دو یا تین دن پہلے ایک تصویر نے  پاکستان میں ریکارڈ توڑا  اور بہت اونچی ریٹنگ لے گئی ۔ اُس کے ساتھ جو خبر تھی اُس نے  ہوٹلنگ کے شوقین  کو یقیناً پریشان کیا ہوگا ۔ 
اور ہمیں بھی لاہوریوں کا پُھدکنا سمجھ  آیا ۔ 
ویسے ایک بات یاد آئی ، کہ ،
کھانے والے مینڈک صرف بنّوں میں 1978 میں پائے جاتے تھے  ۔  جب بارش ہوتی تو  بلاشبہ   باڈی بلڈر ٹائپ  مینڈک سڑکوں پر اچھلتے پھرتے اور بالآخر کسی کار کے نیچے آکر کچلے جاتے ۔ 
شائد اب بھی ہوتے ہوں ؟
 ٭٭٭٭٭٭٭

جمعہ، 20 ستمبر، 2019

قصبے کی بوڑھی گواہ

کیس بہت پرانا تھا ۔ گواہ کوئی نہیں !
لہذا  وکیلِ صفائی نے اِس امید پر کہ قصبے کے بوڑھے لوگوں کو شاید واقعہ یاد ہو ۔ تو ایک سب سے طویل العمر  ناکتخدا ، مائی   کا نام  بطور گواہ دے دیا   کیوں کہ وہ  قصبے کی  سب 
سے قدیمی مائی تھی۔ 
 وہ اِس واقعے  کو اِس طرح جانتی تھی جیسے یہ اُس کی آنکھوں کے سامنے کل ہوا ہو !
قصبے  کی عدالت  میں  آواز لگی !
 مائی  مارتھا ،   حاضر ہو و و و و و و و!
وکیل صفائی ِ مدعی  ، مائی مارتھا کا  ہاتھ پکڑ کر کٹہرے میں لایا   اور تعظیم سے کُرسی پر بٹھا دیا۔

وکیل استغاثہ  ، بھرپور اعتماد سے مائی کی طرف بڑھا اور  گواہ پر جرح شروع  کرتے ہوئے پہلا سوال پوچھا:وکیل استغاثہ  : مائی مارتھا ،  کیا تم مجھے جانتی ہو؟
مائی مارتھا : ہاں ڈیوڈ ۔ میں تمہیں اس وقت سے اچھِی طرح جانتی ہوں ،  جب تم ایک بچے تھے۔
 اور سچ پوچھو تو تم نے مجھے شدید مایوس کیا ہے۔ تم جھوٹ بولتے ہو۔ اپنی بیوی کو دھوکہ دیتے ہو۔ تم لوگوں کو استعمال کر کے پھینک دیتے ہو۔ اور پیٹھ پیچھے ان کی برائیاں کرتے نہیں تھکتے۔
 تمہارا خیال ہے کہ تم بہت ذہین ہو حالانکہ تمہاری کھوپڑی میں مینڈک جتنا دماغ بھی نہیں ہے۔

 ہاں میں تمہیں بہت اچھی طرح جانتی ہوں۔
وکیل ہکا بکا رہ گیا۔

 اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اب کیا پوچھے۔ گھبراہٹ میں اس نے وکیل دفاع کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا: 
وکیل استغاثہ  :    مائی مارتھا تم اس شخص کو جانتی ہو؟
مائی مارتھا :اوہ مسٹر اینڈریو  ، اینڈی  کو  میں ، اُس وقت سے جانتی ہوں جب یہ ڈائپر میں گھومتا تھا اور سارا محلہ ناک پر ہاتھ رکھ کر اس سے دور بھاگتا تھا۔ یہ یہاں کا سست ترین بندہ ہے اور ہر ایک کی برائی ہی کرتا ہے۔ اوپر سے یہ ہیروئنچی بھی ہے۔ کسی بندے سے یہ تعلقات نہیں بنا کر رکھ سکتا۔ اور شہر کا سب سے نکما اور ناکام وکیل یہی ہے۔
 چار بندیوں سے اس کا افئیر چل رہا ہے۔ جن میں سے ایک تمہاری بیوی بھی ہے۔
 ہاں اس بندے کو میں اچھی طرح جانتی ہوں!

جج نے دونوں وکیلوں کو اپنے پاس بلایا اور آہستہ سے بولا: 

اگر تم دونوں احمقوں میں سے کسی نے مائی بشیراں سے یہ پوچھا کہ،  وہ مجھے جانتی ہے ؟
 تو میں تم دونوں کو  پھانسی دے دوں گا ۔
(انگلش  سے ماخوذ )
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

جمعہ، 14 جون، 2019

پیر کی دُعا ۔

پیر   کی شادی تھی:
جب لاگ لینے نائی آیا تو پیر بولا:" او بتا شکور، پیسے لینے یا دعا ؟؟"
نائی بولا: " مرشد میں تو دعا ہی لوں گا. پیسے آپ سے لے کہ کیا کرنے؟؟"


کمہار آیا، پیر بولا،" اؤے بتا اشرف تو نے بھی دعا لینی ہے یا پیسے؟؟"
کمہار:"  باوا جی میں نے بھی دعا ہی لینی ہے "

مراثی کی باری آئی تو پیر بولا:   
" او ئے ڈوم بتا اوئے پیسے چاہیئے   یا دعا ؟؟"
مراثی : " باوا جی 50 روپے  دعا دے دیں  اور   500 نقد دے دیں  " 
ہوں ں ں ں ں ں  ں  " ۔  پير نے لمبی سے ہوں بھری !

اور دعا دى اور تھوڑى دير بعد بولا،
 " مجھے سے غلطی ہوگئی, ميں 500 کی  دعا دے دی ,تو ایسا کر اپنے 50 روپے کاٹ کر باقی 450 روپے مجھے واپس کر دے ۔""
بجٹ 2019
سرکاری ملازمین کیلیے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔