Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
ادب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
ادب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 16 فروری، 2020

جامن کا پیڑ - کرشن چندر


رات کو بڑے زور کا جھکڑ چلا۔ سکریٹریٹ کے لان میں جامن کا ایک درخت گرپڑا۔ صبح جب مالی نے دیکھا تو اسے معلوم پڑا کہ درخت کے نیچے ایک آدمی دبا پڑاہے۔
مالی دوڑا-دوڑا چپراسی کے پاس گیا۔ چپراسی دوڑا-دوڑا کلرک کے پاس گیا۔کلرک دوڑا-دوڑا سپرنٹنڈنٹ کے پاس گیا۔ سپرنٹنڈنٹ دوڑا-دوڑا باہر لان میں آیا۔منٹوں میں گرے ہوئے درخت کے نیچے دبے ہوئے آدمی کے گرد مجمع ‘ اکٹھا ہو گیا-

بیچارا! جامن کا درخت کتنا پھل دارتھا۔ ایک کلرک بولا۔
اس کی جامن کتنی رسیلی ہوتی تھیں۔دوسرا کلرک بولا۔
میں پھلوں کے موسم میں جھولی بھر‌کےلے جاتا تھا۔ میرے بچے اس کی جامنیں کتنی خوشی سے کھاتے تھے۔تیسرے کلرک نے تقریباً آبدیدہ ہوکر کہا۔
مگر یہ آدمی؟مالی نے دبےہوئے آدمی کی طرف اشارہ کیا۔
ہاں، یہ آدمی! سپرنٹنڈنٹ سوچ میں پڑ گیا۔
پتہ نہیں زندہ ہے کہ مر گیا! ایک چپراسی نے پوچھا۔
مر گیا ہوگا۔ اتنا بھاری تنا جن کی پیٹھ پر گرے، وہ بچ کیسے سکتا ہے! دوسرا چپراسی بولا۔
نہیں میں زندہ ہوں! دبےہوئے آدمی نے بہ مشکل، کراہتے ہوئے کہا۔
زندہ ہے! ایک کلرک نے حیرت سے کہا۔
درخت کو ہٹاکر اس کو نکال لیناچاہیے۔ مالی نے مشورہ دیا۔
مشکل معلوم ہوتا ہے۔ایک کاہل اور موٹا چپراسی بولا۔درخت کا تنا بہت بھاری اور وزنی ہے۔
کیا مشکل ہے؟ مالی بولا۔ اگر سپرنٹنڈنٹ صاحب حکم دے تو ابھی پندرہ-بیس مالی، چپراسی اور کلرک زور لگاکردرخت کے نیچے سے دبے آدمی کو نکال سکتے ہیں۔
مالی ٹھیک کہتا ہے۔بہت-سےکلرک ایک ساتھ بول پڑے۔ لگاؤ زور، ہم تیار ہیں۔
ایک دم بہت سے لوگ درخت کو کاٹنے پر تیار ہو گئے۔
ٹھہرو!، سپرنٹنڈنٹ بولا،میں انڈر-سکریٹری سے مشورہ کر لوں۔
سپرنٹنڈنٹ انڈر-سکریٹری کے پاس گیا۔ انڈر-سکریٹری ڈپٹی سکریٹری کے پاس گیا۔ ڈپٹی سکریٹری جوائنٹ سکریٹری کے پاس گیا۔ جوائنٹ سکریٹری چیف سکریٹری کے پاس گیا۔
چیف سکریٹری نے جوائنٹ سکریٹری سے کچھ کہا۔ جوائنٹ سکریٹری نے ڈپٹی سکریٹری سے کچھ کہا۔ ڈپٹی سکریٹری نےانڈر سکریٹری سے کچھ کہا۔ ایک فائل بن گئی۔
فائل چلنے لگی۔ فائل چلتی رہی۔ اسی میں آدھا دن گزر گیا۔دوپہر کو کھانے پر دبے ہوئے آدمی کے گرد بہت بھیڑ ہو گئی تھی۔ لوگ طرح-طرح کی باتیں کر رہے تھے۔ کچھ من چلے کلرکوں نے معاملے کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہا۔
وہ حکومت کے فیصلے کا انتظار کئے بغیر درخت کو خود سے ہٹانے کا تہیہ کر رہے تھے کہ اتنےمیں سپرنٹنڈنٹ فائل لئے بھاگا-بھاگا آیا، بولا-ہم لوگ خود سے اس درخت کو یہاں سے ہٹا نہیں سکتے۔ ہم لوگ محکمہ تجارت سے متعلق ہیں اور یہ درخت کا معاملہ ہے جو محکمہ زراعت کی تحویل میں ہے۔ اس لئے میں اس فائل کو ارجنٹ مارک کرکے محکمہ زراعت میں بھیج رہا ہوں۔ وہاں سے جواب آتے ہی اس کو ہٹوا دیا جائے‌گا۔
دوسرے دن محکمہ زراعت سے جواب آیا کہ درخت ہٹوانے کی ذمہ داری محکمہ تجارت پر عائد ہوتی ہے۔یہ جواب پڑھ‌کر محکمہ تجارت کو غصہ آ گیا۔ انہوں نے فوراً لکھا کہ درختوں کو ہٹوانے یا نہ ہٹوانے کی ذمہ داری محکمہ زراعت پر عائد ہوتی ہے۔ محکمہ تجارت کااس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
دوسرے دن بھی فائل چلتی رہی۔ شام کو جواب بھی آ گیا۔ ہم اس معاملےکو ہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ کے سپرد کر رہے ہیں کیونکہ یہ ایک پھل دار درخت کا معاملہ ہے اور ایگریکلچرل ڈپارٹمنٹ صرف اناج اور کھیتی باڑی کے معاملوں میں فیصلہ کرنے کامجاز ہے۔ جامن کا درخت ایک پھل دار درخت ہے اس لئے درخت ہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ کےدائرہ اختیار میں آتا ہے۔
رات کو مالی نے دبے ہوئے آدمی کو دال-بھات کھلایا حالانکہ لان کے چاروں طرف پولیس کا پہرا تھا کہ کہیں لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لےکر درخت کو خود سےہٹوانے کی کوشش نہ کریں۔ مگر ایک پولیس کانسٹبل کو رحم آ گیا اور اس نے مالی کودبے ہوئے آدمی کو کھانا کھلانے کی اجازت دے دی۔
مالی نے دبے ہوئے آدمی سے کہا،تمہاری فائل چل رہی ہے۔ امید ہے کہ کل تک فیصلہ ہو جائے‌گا۔
دبا ہوا آدمی کچھ نہ بولا۔
مالی نے درخت کے تنے کو غور سے دیکھ‌کر کہا،حیرت گزری کہ تناتمہارے کولہے پر گرا۔ اگر کمر پر گرتا تو ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جاتی۔
دبا ہوا آدمی پھر بھی کچھ نہ بولا۔
مالی نے پھر کہا،تمہارا یہاں کوئی وارث ہو تو مجھے اس کا اتہ پتہ بتاؤ۔ میں اس کو خبر دینے کی کوشش کروں‌گا۔
میں لاوارث ہوں۔دبے ہوئےآدمی نے بڑی مشکل سے کہا۔
مالی افسوس ظاہر کرتا ہوا وہاں سے ہٹ گیا۔
تیسرے دن ہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ سے جواب آ گیا۔ بڑا کڑا جواب تھا، اورطنز آمیز۔ ہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ کا سکریٹری ادبی مزاج کا آدمی معلوم ہوتا تھا۔
اس نےلکھا تھا ؛حیرت ہے، اس وقت جب ‘ درخت اگاؤ ‘ اسکیم بڑے پیمانے پر چل رہی ہیں، ہمارے ملک میں ایسے سرکاری افسر موجود ہیں جو درخت کاٹنے کا مشورہ دیتے ہیں،وہ بھی ایک پھل دار درخت کو!اور پھر جامن کے درخت کو! جس کا پھل عوام بڑی رغبت سےکھاتے ہیں!! ہمارا محکمہ کسی حالت میں اس پھل دار درخت کو کاٹنے کی اجازت نہیں دےسکتا۔
اب کیا کیا جائے؟ ایک منچلے نے کہا۔اگر درخت کاٹا نہیں جا سکتا تو اس آدمی کو کاٹ‌کر نکال لیاجائے! یہ دیکھیے، اسی آدمی نے اشارے سے بتایا۔ اگر اس آدمی کو بیچ میں سے یعنی دھڑ کے مقام سے کاٹا جائے تو آدھا آدمی ادھر سے نکل آئے‌گا اور آدھا آدمی ادھر سےباہر آ جائے‌گا، اور درخت وہیں کا وہیں رہے‌گا۔
مگر اس طرح سے تو میں مر جاؤں‌گا! دبے ہوئے آدمی نے احتجاج کیا۔
یہ بھی ٹھیک کہتا ہے! ایک کلرک بولا۔
آدمی کو کاٹنے والی تجویز پیش کرنے والے نے پرزور احتجاج کیا،آپ جانتے نہیں ہیں۔ آج کل پلاسٹک سرجری کے ذریعے دھڑ کے مقام پر اس آدمی کو پھر سےجوڑا جا سکتا ہے۔
اب فائل کو میڈیکل ڈپارٹمنٹ میں بھیج دیا گیا۔ میڈیکل ڈپارٹمنٹ نے فوراًاس پر ایکشن لیا اور جس دن فائل ملی اس نے اسی دن اس محکمے کا سب سے قابل پلاسٹک سرجن تحقیقات کےلئے بھیج دیا۔
سرجن نے دبے ہوئے آدمی کو اچھی طرح ٹٹول‌کر، اس کی صحت دیکھ‌کر، خون کا دباؤ، سانس کی آمد و رفت، دل اور پھیپھڑوں کی جانچ‌کر کے رپورٹ بھیج دی کہ، اس آدمی کا پلاسٹک سرجری کا آپریشن تو ہو سکتا ہے، اور آپریشن کامیاب بھی ہو جائے‌گا،مگر آدمی مر جائے‌گا۔
لہذا یہ تجویز بھی رد کر دی گئی۔
رات کو مالی نے دبے ہوئے آدمی کے منھ میں کھچڑی کے لقمے ڈالتے ہوئے اس کوبتایا،اب معاملہ اوپر چلا گیا ہے۔ سنا ہے کہ سکریٹریٹ کے سارے سکریٹریوں کی میٹنگ ہوگی۔ اس میں تمہارا کیس رکھا جائے‌گا۔ امید ہے سب کام ٹھیک ہو جائے‌گا۔
دبا ہوا آدمی ایک آہ بھر‌کر آہستہ سے بولا- ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو‌گے لیکن خاک ہو جائیں‌گے ہم، تم کو خبر ہونے تک!
مالی نے اچنبھے سے منھ میں انگلی دبائی۔ حیرت سے بولا، کیا تم شاعرہو؟
دبے ہوئے آدمی نے آہستہ سے سر ہلا دیا۔
دوسرے دن مالی نے چپراسی کو بتایا۔ چپراسی نے کلرک کو، اور کلرک نےہیڈکلرک کو۔ تھوڑے ہی عرصے میں سکریٹریٹ میں یہ افواہ پھیل گئی کہ دبا ہوا آدمی شاعر ہے۔
بس پھر کیا تھا۔ لوگ جوق-در-جوق شاعر کو دیکھنے کے لئے آنے لگے۔ اس کی خبر شہر میں پھیل گئی۔ اور شام تک محلے-محلے سے شاعر جمع ہونا شروع ہو گئے۔سکریٹریٹ کا لان بھانت-بھانت کے شاعروں سے بھر گیا۔ سکریٹریٹ کے کئی کلرک اورانڈر-سکریٹری تک، جن کو ادب اور شاعری سے لگاؤ تھا، رک گئے۔
کچھ شاعر دبے ہوئےآدمی کو اپنی غزلیں اور نظمیں سنانے لگے۔ کئی کلرک اس سے اپنی غزلوں پر اصلاح لینےکے لئے مصر ہونے لگے۔
جب یہ پتہ چلا کہ دبا ہوا آدمی شاعر ہے تو سکریٹریٹ کی سب-کمیٹی نےفیصلہ کیا کہ چونکہ دبا ہوا آدمی ایک شاعر ہے لہذا اس فائل کا تعلق نہ ایگریکلچرل ڈپارٹمنٹ سے ہے، نہ ہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ سے بلکہ صرف اور صرف کلچرل ڈپارٹمنٹ سےہے۔
پہلے کلچرل ڈپارٹمنٹ سے استدعا کی گئی کہ جلد سے جلد اس معاملے کا فیصلہ کرکےبدنصیب شاعر کو اس شجرسایہ دار سے رہائی دلائی جائے۔
فائل کلچرل ڈپارٹمنٹ کے مختلف شعبوں سے گزرتی ہوئی ادبی اکادمی کے سکریٹری کے پاس پہنچی۔ بیچارا سکریٹری اسی وقت اپنی گاڑی میں سوار ہوکر سکریٹریٹ پہنچااور دبے ہوئے آدمی سے انٹرویو لینے لگا۔
تم شاعر ہو؟اس نے پوچھا۔
جی ہاں۔دبے ہوئے آدمی نےجواب دیا۔
کیا تخلص کرتے ہو؟
عبث۔
عبث! سکریٹری زور سے چیخا۔کیا تم وہی ہو جس کا مجموعہ کلام عبث کے پھول حال ہی میں شائع ہوا ہے؟
دبے ہوئے شاعر نے اثبات میں سر ہلایا۔
کیا تم ہماری اکادمی کے ممبر ہو؟ سکریٹری نے پوچھا۔
نہیں!
حیرت ہے! سکریٹری زور سےچیخا۔اتنا بڑا شاعر!’عبث کے پھول ‘ کا مصنف!! اور ہماری اکادمی کا ممبرنہیں ہے! اف، اف کیسی غلطی ہو گئی ہم سے! کتنا بڑا شاعر اور کیسے گوشہ گمنامی میں دبا پڑا ہے!
گوشہ گمنامی میں نہیں بلکہ ایک درخت کے نیچے دبا ہوا…براہ کرم مجھے اس درخت کے نیچے سے نکالیے۔
ابھی بندوبست کرتا ہوں۔ سکریٹری فوراً بولا اور فوراً جاکر اس نے اپنے محکمہ میں رپورٹ پیش کی۔
دوسرے دن سکریٹری بھاگا-بھاگا شاعر کے پاس آیا اور بولا، مبارک ہو،مٹھائی کھلاؤ، ہماری سرکاری اکادمی نے تم کو اپنی مرکزی کمیٹی کا ممبر چن لیا ہے۔یہ لو پروانہ انتخاب!
مگر مجھے اس درخت کے نیچے سے تونکالو۔دبے ہوئے آدمی نے کراہ کر کہا۔ اس کی سانس بڑی مشکل سے چل رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ شدید تشنج اور کرب میں مبتلا ہے۔
یہ ہم نہیں کر سکتے۔سکریٹری نے کہا۔جو ہم کر سکتے تھے وہ ہم نے کر دیا ہے۔ بلکہ ہم تو یہاں تک کر سکتےہیں کہ اگر تم مر جاؤ تو تمہاری بیوی کو وظیفہ دلا سکتے ہیں۔ اگر تم درخواست دوتو ہم یہ بھی کر سکتے ہیں۔
میں ابھی زندہ ہوں۔شاعررک رک کر بولا۔مجھے زندہ رکھو۔
مصیبت یہ ہے، سرکاری اکادمی کا سکریٹری ہاتھ ملتے ہوئے بولا، ہمارا محکمہ صرف کلچر سے متعلق ہے۔اس کے لئے ہم نے ‘ فاریسٹ ڈپارٹمنٹ ‘ کو لکھ دیا ہے۔ ‘ ارجنٹ ‘ لکھا ہے۔
شام کو مالی نے آکر دبے ہوئے آدمی کو بتایا کہ کل فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کے آدمی آکر اس درخت کو کاٹ دیں‌گے اور تمہاری جان بچ جائے‌گی۔
مالی بہت خوش تھا کہ گو دبے ہوئے آدمی کی صحت جواب دے رہی تھی مگر وہ کسی نہ کسی طرح اپنی زندگی کے لئے لڑے جا رہا ہے۔ کل تک…صبح تک…کسی نہ کسی طرح اس کو زندہ رہنا ہے۔
دوسرے دن جب فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کے آدمی آری-کلہاڑی لےکر پہنچے تو ان کو درخت کاٹنے سے روک دیا گیا۔ معلوم یہ ہوا کہ محکمہ خارجہ سے حکم آیا کہ اس درخت کو نہ کاٹا جائے، وجہ یہ تھی کہ اس درخت کو دس سال پہلے حکومت پی ٹونیا کے وزیراعظم نےسکریٹریٹ کے لان میں لگایا تھا۔ اب یہ درخت اگر کاٹا گیا تو اس امر کا شدیداندیشہ تھا کہ حکومت پی ٹونیا سے ہمارے تعلقات ہمیشہ کے لئے بگڑ جائیں‌گے۔
مگر ایک آدمی کی جان کا سوال ہے! ایک کلرک غصے سے چلایا۔
دوسری طرف دو حکومتوں کے تعلقات کا سوال ہے۔ دوسرے کلرک نے پہلے کلرک کو سمجھایا۔ اور یہ بھی توسمجھو کہ حکومت پی ٹونیا ہماری حکومت کو کتنی امداد دیتی ہے۔ کیا ہم ان کی دوستی کی خاطر ایک آدمی کی زندگی کو بھی قربان نہیں کر سکتے؟
شاعر کو مر جانا چاہیے۔
بلاشبہ۔
انڈر سکریٹری نے سپرنٹنڈنٹ کو بتایا۔آج صبح وزیراعظم باہر-ملکوں کے دورے سے واپس آ گئے ہیں۔ آج چار بجے محکمہ خارجہ اس درخت کی فائل ان کے سامنےپیش کرے‌گا۔ جو وہ فیصلہ دیں‌گے وہی سب کو منظور ہوگا۔
شام پانچ بجے خود سپرنٹنڈنٹ شاعر کی فائل لےکر اس کے پاس آیا۔ سنتےہو؟ آتے ہی خوشی سے فائل ہلاتے ہوئے چلایا، وزیراعظم نے درخت کوکاٹنے کا حکم دے دیا ہے اور اس واقعہ کی ساری بین الاقوامی ذمہ داری اپنے سر پر لےلی ہے۔ کل وہ درخت کاٹ دیا جائے‌گا اور تم اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کر لو‌گے۔
سنتے ہو؟ آج تمہاری فائل مکمل ہوگئی! سپرنٹنڈنٹ نے شاعر کے بازو کو ہلاکر کہا۔ مگر شاعر کا ہاتھ سرد تھا۔آنکھوں کی پتلیاں بے جان تھیں اور چیونٹیوں کی ایک لمبی قطار اس کے منھ میں جا رہی تھی۔ اس کی زندگی کی فائل بھی مکمل ہو چکی تھی۔
کرشن چندر
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منگل، 4 ستمبر، 2018

مالِ حرام بُود ۔ جائے حرام رفت

کہا جاتا ہے، کہ ایک شہر میں دودھ فروشوں کی  دو دکانیں کچھ فاصلے پر تھیں ۔ ان میں سے ایک انتہائی ایماندار تھا جو دودھ میں ملاوٹ بالکل نہیں کر تا تھا اور خالص دودھ بیچتا تھا۔ جبکہ دوسرا دکاندار  دودھ میں پانی کی ملاوٹ کرتا تھا ، جھوٹ   اور بے ایمانی اُس کا اوڑھنا بچھونا تھی اور بات بات پر قسم کھانا اُس کی عادت ۔
  خالص دودھ بیچنے والے کے پاس  بہت کم گاہک آتے جس سے وہ بمشکل اپنا اور اپنے جانوروں کا رزق خرید پاتا  جب کہ  اِس کے برعکس پانی ملا دودھ بیچنے والے پر لوگوں کا تانتا بندھا ہوتا تھا ۔ یہ معلوم ہونے کے باوجود  کہ دودھ میں ملاوٹ کی جاتی ہے ۔  دونوں کے دن گذر رہے تھے ۔
ایک دن ایک فقیر کا وہاں سے گزر ہوا ، اُس نے  خالص دود ھ بیچنے والے سے دودھ مانگا  ، پیا اور آگے چل پڑا جب وہ دوسرے دودھ کی دکان کے پاس سے گذرا ، وہاں زیادہ گاہک دیکھے  تو واپس پہلے دکاندار کے پاس آیا، اور بولا ،
" میں نے تمھاری دکان کا دودھ لے کے پیا ، نہایت مزیدار اور خالص ہے ۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ تم  گاہکوں  سے محروم ہو اور اگلے دکاندا ر کے پاس فراوانی ہے" ۔

 " واللہ علم ،  جو مالک کی مرضی "دکاندار بولا
" کیا اُس کا دودھ تمھارے دودھ سے بھی 
مزیدار اور خالص ہے ؟" فقیر نے پوچھا
" سنا ہے کہ وہ پانی ملاتا ہے  " دکاندار بولا ۔
فقیر نے آسما ن کی طرف دیکھا  اور  نعرہ مستانہ بلند کیا ، "اللہ اکبر ! اللہ اکبر " پھر دکاندار سے مخاطب ہوا ۔
" تم بھی تھوڑا سا پانی ملا کر بیچو اور پھر دیکھو کیا ہوتا ہے "
" نا ممکن ، حضرت ناممکن ، میں ایسا نہیں کر سکتا، ملاوٹ کر کے میں جہنم کا ایندھن نہیں بننا چاہتا " دکاندار بولا ۔
" ایسا کرو کہ جتنا پانی ملاؤ ، اُس کی قیمت الگ  برتن  میں ڈالتے رہو ، ہفتہ بھر یہ کوشش کر کے دیکھو  ، پھر قدرت  کی کارکردگی دیکھو " فقیر بولا ۔ یہ کہہ کر فقیر نے پاس پڑا ہوا پانی کا برتن اٹھایا اور  دودھ میں ڈال کر ، نعرہ مستانہ بلند کرتا روانہ ہو ا اور سامنے درخت کے نیچے جا کر بیٹھ گیا ۔
ابھی کچھ لمحے گذرے تھے ، کی ایک بگھی آکر رکی ، جس میں شہر کا بدنام ترین شخص کوتوال بیٹھا تھا ۔  جس کے ساتھ اُس کے ہرکارے بھی تھے ۔ سب نے دکان سے دودھ خریدا اور پی گئے ۔ دکاندار نے دیکھا ایک ہرکارہ جو صرف اُس سے دودھ لے کر جاتا تھا ، اُس نے اصرار کے باوجود دودھ نہیں پیا ۔ 

اُن کے جانے کے بعد کئی نئے گاہک آئے  اور پانی ملا دودھ لے کر چلے گئے دودھ ختم ہو گیا ۔ دکاندار نے خلاص دودھ کابرتن ، بیچنے کے لئے رکھ دیا ۔
فقیر دور بیٹھا یہ تماشا دیکھ رہا تھا ۔ اُٹھ کر دودھ والے کے پاس آیا ۔
" یا حضرت یہ سب کیا میں سمجھا نہیں ؟"  دکاندار بولا 

" پہلے تم خالص دودھ بیچ رہے تھے ، میں نے پانی ملایا وہ ناخالص ہو گیا " فقیر بولا 
"خالص دودھ اللہ کا عطیہ  ہے اللہ کو کیسے گوارہ ہو کہ  حرام  مال سے حلال مال کی تجارت ہو !"
" مالِ حرام بود ، جائے حرام رفت ( حرام مال تھا ، حرام جگہ چلا گیا ) ۔
اللہ اکبر !
اللہ اکبر !  فقیر نعرہءِ مستانہ بلند کرتا آگے بڑھ گیا ۔

 قارئین ! حرام ہمیشہ ہمیشہ حرام پرخرچ ہو  گا اور وہ   آدمی کے لئے کبھی  نافع نہیں ہوسکتا۔
(ماخوذ)
ہاں دوستو ! اُن دنو   ں حج   کا سفر بہت مشکل تھا ، لوگ سفر کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بجائے ، کم گناہ کرتے تھے  اور ایماندار تھے ۔ جمہوریت آنے سے پہلے اِس بوڑھے نے بھی ملاوٹ کا نام نہیں سنا تھا ۔

بوڑھے نے ریٹائر منٹ کے بعد ، فوج کے کسی بھی ادارے میں نوکری نہ ملنے کی وجہ سے بزنس شروع کیا ، بزنس کی موجوں میں بڑے تلاطم دیکھے۔
یہاں تک کہ  2012 میں جائنٹ سیکرٹری حج  کے ریمارک ،" میجر صاحب ! آپ کو بزنس کرنا نہیں آتا !"
بالآخر 60 سال کی عمر پر پہنچتے ہی بزنس چھوڑ دیا ۔
کیوں کہ بقول اولاد بھی ، بوڑھے کو بزنس کرنا نہیں آتا ۔

جمعرات، 1 مارچ، 2018

دل پر لگنے والی تحریر


  جب ابّا کی تنخواہ کے ساڑھے تین سو روپے پورے خرچ ہو جاتے تب امّاں ہمارا پسندیدہ پکوان تیار کرتیں۔ ترکیب یہ تھی کہ سوکھی روٹیوں کے ٹکڑے کپڑے کے پرانے تھیلے میں جمع ہوتے رہتے اور مہینے کے آخری دنوں میں ان ٹکڑوں کی قسمت کھلتی۔ پانی میں بھگو کر نرم کر کے ان کے ساتھ ایک دو مٹھی بچی ہوئی دالیں سل بٹے پر پسے مصالحے کے ساتھ دیگچی میں ڈال کر پکنے چھوڑ دیا جاتا۔ حتیٰ کہ مزے دار حلیم سا بن جاتا اور ہم سب بچے وہ حلیم انگلیاں چاٹ کر ختم کر جاتے۔ امّاں کے لیے صرف دیگچی کی تہہ میں لگے کچھ ٹکڑے ہی بچتے۔ امّاں کا کہنا تھا کہ کھرچن کا مزہ تم لوگ کیا جانو۔ 
امّاں ایسی سگھڑ تھیں کہ ایک دن گوبھی پکتی اور اگلے دن اسی گوبھی کے پتوں اور ڈنٹھلوں کی سبزی بنتی اور یہ کہنا مشکل ہوجاتا کہ گوبھی زیادہ مزے کی تھی یا اس کے ڈنٹھلوں کی سبزی۔ 
امّاں جب بھی بازار جاتیں تو غفور درزی کی دکان کے کونے میں پڑی کترنوں کی پوٹلی بنا کے لے آتیں۔ کچھ عرصے بعد یہ کترنیں تکئے کے نئے غلافوں میں بھر دی جاتیں۔ کیونکہ امّاں کے بقول ایک تو مہنگی روئی خریدو اور پھر روئی کے تکیوں میں جراثیم بسیرا کر لیتے ہیں۔ اور پھر کترنوں سے بھرے تکیوں پر امّاں رنگ برنگے دھاگوں سے شعر کاڑھ دیتیں۔ کبھی لاڈ آجاتا تو ہنستے ہوئے کہتیں، 
"تم شہزادے شہزادیوں کے تو نخرے ہی نہیں سماتے جی، سوتے بھی شاعری پر سر رکھ کے ہو۔" 
عید کے موقع پر محلے بھر کے بچے غفور درزی سے کپڑے سلواتے۔ ہم ضد کرتے تو امّاں کہتیں وہ تو مجبوری میں سلواتے ہیں کیونکہ ان کے گھروں میں کسی کو سینا پرونا نہیں آتا۔ میں تو اپنے شہزادے شہزادیوں کے لیے ہاتھ سے کپڑے سیئوں گی۔ جمعۃ الوداع کے مبارک دن ابّا لٹھے اور پھول دار چھینٹ کے دو آدھے آدھے تھان جانے کہاں سے خرید کر گھر لاتے۔ لٹھے کے تھان میں سے ابّا اور تینوں لڑکوں کے اور چھینٹ کے تھان میں سے دونوں لڑکیوں اور امّاں کے جوڑے کٹتے اور پھر امّاں ہم سب کو سلانے کے بعد سہری تک آپا نصیبن کے دیوار ملے کوارٹر سے لائی گئی سلائی مشین پر سب کے جوڑے سیتیں۔
 آپا نصیبن سال کے سال اس شرط پر مشین دیتیں کہ ان کا اور ان کے میاں کا جوڑا بھی امّاں سی کے دیں گی۔ ہم بہن بھائی جب ذرا ذرا سیانے ہوئے تو ہمیں عجیب سا لگنے لگا کہ محلے کے باقی بچے بچیاں تو نئے نئے رنگوں کے الگ الگ چمکیلے سے کپڑے پہنتے ہیں مگر ہمارے گھر میں سب ایک ہی طرح کے کپڑے پہنتے ہیں۔ مگر امّاں کے اس جواب سے ہم مطمئن ہوجاتے کہ ایک سے کپڑے پہننے سے کنبے میں محبت قائم رہتی ہے۔ اور پھر ایسے چٹک مٹک کپڑے بنانے کا آخر کیا فائدہ جنھیں تم عید کے بعد استعمال ہی نہ کر سکو۔
 چھوٹی عید یوں بھی واحد تہوار تھا جس پر سب بچوں کو ابّا ایک ایک روپے کا چاند تارے والا بڑا سکہ دیتے تھے۔ اس کے انتظار اور خرچ کرنے کی منصوبہ بندی میں چاند رات آنکھوں میں ہی کٹ جاتی۔ صبح صبح نماز کے بعد ہم بچوں کی شاپنگ شروع ہوجاتی۔ سب سے پہلے ہر بہن بھائی کوڈو کے ٹھیلے سے ایک ایک پنی والی گول عینک خریدتا جسے پہن کر چال میں اتراہٹ سی آجاتی۔ پھر سب کے سب چاندی کے ورق لگی میٹھی املی اس لالچ میں خریدتے کہ رفیق افیمچی ہر ایک کو املی دیتے ہوئے تیلی جلا کر املی میں سے شعلہ نکالے گا۔
 پھر خانہ بدوشوں کے خوانچے میں بھرے مٹی کے کھلونوں اور رنگین کاغذ اور بانس کی لچکدار تیلیوں سے بنے گھگو گھوڑے کی باری آتی۔ آخر میں بس اتنے پیسے بچتے کہ سوڈے کی بوتل آ سکے۔ چنانچہ ایک بوتل خرید کر ہم پانچوں بہن بھائی اس میں سے باری باری ایک ایک گھونٹ لیتے اور نظریں گاڑے رہتے کہ کہیں کوئی بڑا گھونٹ نہ بھر جائے۔ پیسے ختم ہونے کے بعد ہم دوسرے بچوں کو پٹھان کی چھرے والی بندوق سے رنگین اور مہین کاغذ سے منڈھے چوبی کھانچے پر لگے غبارے پھوڑتے بڑی حسرت سے دیکھتے رہتے۔ بندر یا ریچھ کا تماشا بھی اکثر مفت ہاتھ آ جاتا اور اوپر نیچے جانے والے گول چوبی جھولے میں بیٹھنے سے تو ہم سب بہن بھائی ڈرتے تھے اور اس کا ٹکٹ بھی مہنگا تھا۔ بقر عید پر سب کے ہاں قربانی ہوتی سوائے ہمارے۔ مگر یہاں بھی امّاں کی منطق دل کو لگتی' 
" جو لوگ کسی وجہ سے دنیا میں قربانی نہیں کر سکتے ان کے بکرے اللہ میاں اوپر جمع کرتا رہتا ہے۔ جب ہم اوپر جائیں گے تو ایک ساتھ سب جانور قربان کریں گے، انشااللہ!" 
ایک دفعہ گڑیا نے پوچھا،
 "امّاں کیا ہم جلدی اوپر نہیں جاسکتے؟" 
ہر سوال پر مطمئن کر دینے والی امّاں چپ سی ہوگئیں اور ہمیں صحن میں چھوڑ کر اکلوتے کمرے میں چلی گئیں۔ ہم بچوں نے پہلی بار کمرے سے سسکیوں کی آوازیں آتی سنیں مگر جھانکنے کی ہمت نہ ہوئی۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر گڑیا کی بات پر رونے کی کیا بات تھی۔ کوئی چھ سات ماہ بعد ایک دن امّاں باورچی خانے میں کام کرتے کرتے گر پڑیں۔ ابّا نوکری پر تھے اور ہم سب سکول میں۔گھر آ کر پتہ چلا کہ آپا نصیبن امّاں کی چیخ سن کر دوڑی دوڑی آئیں اور پھر گلی کے نکڑ پر بیٹھنے والے ڈاکٹر محسن کو بلا لائیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ امّاں کا دل اچانک ساتھ چھوڑ گیا ہے۔ تدفین کے بعد ایک روز گڑیا نے میرا بازو زور سے پکڑ لیا اور یہ کہتے ہوئے پھوٹ پڑی، 
" خود تو اوپر جا کر اگلی عید پر اکیلے اکیلے بکرے کاٹیں گی وہاں خود کھائیں گی اور ہمیں کون پکا کر دےگا !"
 (ماخوذ از نا معلوم)

ہفتہ، 3 جون، 2017

ہندوستانی ادب و تہذیب

 کہا جاتا تھا کہ ادب و آداب کی تمیز کے لئے ، امیر خاندان اپنے  بیٹوں کو طوائفوں کے ہاں بھجواتے ، ادب و آداب سے آراستہ ، یہ نوجوان  طوائف  کے کوٹھوں  کے ہوجاتے ۔

   بچوں کی  صحیح تربیت   بزرگوں کے زیر سایہ  گھروں ہی میں ہوتی ۔ کھاتے پیتے، اٹھتے بیٹھتے کوئی غلط حرکت یا معیوب بات دیکھتے تو روکتے ٹوکتے۔ہندوستان کا کوئی بھی شہر یا قصبے میں ہر فرقے اور طبقے کے لوگ کسی نہ کسی طرح اپنے بچوں کی تربیت کرتے رہتے ہیں، لیکن متوسط طبقے میں اس کا زیادہ احساس تھا، خاص طور پر طبقہ اشرافیہ زیادہ ہی چوکنا رہتا کہ دوسرے لوگ نام دھریں، تمیز و تہذیب پر حرف آئے کہ بچوں کو کیسا اٹھایا ہے؟ اس لیے وہ ہر پل نظر رکھتے۔
 متوسط طبقے کے پاس سو، دو سو گز قطعۂ اراضی پر بنے ایک منزلہ دو منزلہ ذاتی مکان  ہوتے  پورا خاندان ایک جگہ رہتا  ، بڑے بڑے کمرے، دالان، سہ دری، کوٹھریاں، بیٹھکیں،کشادہ صحن، صحن میں کیاریاں، حوض، الگ الگ  باورچی خانے، غسل خانے اور بیت الخلا۔
مشترکہ خاندان میں سبھی مل جل کر رہتے، اپنے بچوں کے ساتھ بھائی بہنوں کے لڑکے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت پر پوری پوری توجہ دیتے تھے۔ کسی کو اعتراض نہ ہوتا کہ ہمارے بچے کو کیوں ٹوکا، کیسے ڈانٹا؟
اگر کوئی بڑا تنبیہ کرتا یا سمجھاتا تو گھر کا دوسرا شخص خاموشی سے کھڑا دیکھتا رہتا۔ درمیان میں کسی بات میں دخل نہ دیتا اوربعد میں سمجھاتے کہ تم غلط حرکت کرتے نہ وہ تمھیں ٹوکتے، آئندہ خیا  ل رکھنا، ایسا نہ ہو کہ پھر کسی بات پر سخت سست کہیں ، ہمیں شرمندگی ہو اور چھوٹے بھی سنی اَن سنی نہ کرتے۔
 خواتین گھروں میں بچوں، بالخصوص لڑکیوں پر نظر رکھتیں، مرد گلی کوچے میں آنے جانے والے لڑکوں پر۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی بچہ بری صحبت میں پڑ کر پیٹ سے پاؤں نکالے۔
  متوسط طبقے کے مرد و خواتین دسترخوان پر اپنے بچوں  کی تربیت پر خصوسی توجہ دیتے ، صبح سے رات تک ایک ہی وقت ایسا ہوتا، جب گھر کے سب بڑے چھوٹے، مغرب کی نماز    کے بعد ، عشائیہ  میں دسترخوان پر یکجا ہوتے۔ظہرانہ میں مل بیٹھنے کو موقع صرف  جمعہ کو یا  کسی چھٹی کے دن ملتا ، لیکن سارا خاندان عشائیے پر ہی یکجا ہوتا ۔
دسترخوان  چننے سے ’’بڑھانے‘‘ تک گھر کے بڑے، چھوٹوں کی حرکات و سکنات کا جائزہ لیتے۔ جن گھروں میں ملازمہ یا خادمہ نہیں ہوتی، وہاں گھر کی بڑی لڑکی دسترخوان بچھاتی، دوسری لڑکیاں کھانے کے مطابق طشتریاں، غوریاں، پیالے، پیالیاں، طباق، چھوٹے بڑے  چمچے لاکر سلیقہ سے دسترخوان سجانے اور کھانا چُننے میں مدد کرتیں۔ کھانے کی قابیں آنے سے پیشتر سفل دان اور مغزکش بھی چمچوں کے ساتھ رکھ دیے جاتے۔ آج  کوئی بھی دسترخوان کی اِن دو اہم   چیزوں ،
سفل دان اور مغزکش  سے واقف ہی نہیں۔ سفل دان ڈھکنے والا گول پیالے، کٹورے نما ایک برتن جس کے سرپوش پر برجی بنی ہوئی ہوتی، اس کا پیندہ سپاٹ ہوتا، عام طور پر  پیتل ، تام چینی یا المونیم کے  بنے ہوئے ہوتے۔ نوالے میں کوئی ہڈی کا ٹکڑا، گوشت کا ریشہ دانتوں میں پھنس جائے یا کالی مرچ وغیرہ جو چبائی نہ جائے تو اس کے رکھنے کے لیے استعمال میں آتا۔مغزکش سے  نلی کا گودا نکالا جاتا تھا۔ یہ نالی دار چمچہ تھا، ایک ٹوتھ برش کی مانند سیدھا، آدھا حصہ پتلا اور آدھا چوڑا۔ اسے گودے کی نلی میں داخل کرکے آہستہ سے باہر کھینچتے تو نالی دار حصہ میں گودا یا مغز آجاتا۔ نلی کو جھاڑنے توڑنے یا ٹھونکنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ یہ چاندی کے بنائے جاتے تھے۔ اب نہ سفل دان ہیں اور نہ مغزکش، دسترخوان پر ٹھک ٹھک سے معلوم ہوجاتا ہے کہ  گودا نکالا جارہا ہے ، یا شوں شوں کی آواز سے گودا چوسنے جانے  کا علم ہوتا ہے ۔
چوسی ہوئی  یا چبائی ہوئی ہڈیاں ،ایک پلیٹ میں دسترخوان پر پڑی ہوتی ہیں ، جو نفیس طبع  شخص کے لئے کراہیت کا باعث بنتی ہیں ۔
دسترخوان کے لوازمات کے ساتھ ایک بڑی سینی میں پانی کا جگ، کٹورے، گلاس دسترخوان کے بائیں جانب آخری سرے پر رکھ دیے جاتے۔
دسترخوان پر آنے سے پہلے  بزرگوں کے ہاتھ آفتابوں میں چلمچیوں سے دھلائے جاتے ، ایک بچہ آفتابہ سامنے رکھتا ، دوسرا چلمچی سے ہاتھ پر پانی ڈالتا  ۔ تیسرا بچہ کلّی کا پانی منہ سے  پھیکنے کے لئے اُگالدان آگے کر دیتا ۔ ہاتھ پونچھنے کا رواج نہ تھا ۔
جن گھروں میں بڑے بڑے دالان ہوتے، وہاں چوکیوں پر دسترخوان بچھا کر کھانے کا رواج تھا۔ پہلے گھر کا کوئی بزرگ (مرد) دسترخوان کے سامنے درمیان میں آکر بیٹھتا، ان کی دائیں جانب خواتین مراتب کے اعتبار سے بیٹھتیں اور اسی طرح مرد بائیں جانب۔ دسترخوان کے دوسری طرف گھر کے لڑکے لڑکیاں مؤدب انداز میں بیٹھتے۔ خواتین کے سامنے لڑکیاں، مردوں کے سامنے چھوٹے بڑے لڑکے ہوتے۔ گھر میں اگر مہمان آتے تو وہ بزرگ کے ساتھ بیٹھتے۔ مہمان زیادہ ہوں تو پہلے مہمانوں کی تواضع کی جاتی اور گھر کی خواتین بعد میں کھانا کھاتیں۔ گھر کی بڑی بہو یا لڑکی کشتی نما تانبے کی قلعی دار قابوں میں کھانے کی اشیا لاتیں۔ مردوں اور عورتوں کے سامنے علاحدہ علاحدہ قابیں پیش کی جاتیں۔ بعض گھروں میں تانبے کے برتنوں کے ساتھ چینی یا بلوری برتن بھی ہوتے اور کھانوں کی مناسبت سے اچار، چٹنی اور رائتے کی پیالیاں بھی۔ کھانا شروع کرنے سے
پہلے زانو پوش گھٹنوں پر ڈالتے۔ بچوں سے کہا جاتا کہ وہ بائیں جانب اپنا اپنا رومال رکھیں۔ بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کیا جاتا۔ خواتین چنگیری سے روٹیاں نکال کر دیتیں۔ چنگیری، روٹی رکھنے کی ٹوکری تانبے کی قلعی دار، کھجوریا بید کی بنی ہوئی ہوتی اور اس میں بڑے رومال میں لپیٹ کر روٹیاں رکھتے۔ بڑے چھوٹوں کو کھانا کھاتے ہوئے دیکھتے رہتے۔ کسی کا بڑا لقمہ دیکھا اور ٹوکا ’’بیٹا چھوٹا نوالہ بناؤ، گال پھولا ہوا نظر نہ آئے، چباتے وقت منھ بند رہے، چپڑ چپڑ کی آواز نہ ہو، سالن شوربے میں ناخن نہ ڈوبیں، غوری یا طشتری میں ایک طرف سے کھانا، ہاتھ نہ بھریں، جلدی جلدی نہ کھاؤ، آخر کب تک رکابی میں رونق رہے، بوٹی یا سبزی کا ایک حصہ آخری لقمے میں لینا‘‘۔ 
اسی طرح پانی پیتے وقت کہا جاتا ’’لمبا گھونٹ نہ لو، چھوٹے چھوٹے گھونٹ میں تین مرتبہ پانی پیو‘‘۔
بریانی، پلاؤ یا چاول عام طور پر چمچے کے بجائے ہاتھ سے کھاتے، انگلیاں چکنی ہو جاتیں۔ پانی پینے کی ضرورت پیش آتی تو بائیں ہاتھ سے گلاس یا کٹورا اٹھانے کی ہدایت دی جاتی اور دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کا سہارا دے کر پانی
پینے کے لیے کہتے، تاکہ دائیں ہاتھ میں لگی ہوئی چکنائی سے گلاس، کٹورہ خراب نہ ہو۔
 جو بچہ نوالے سے زائد روٹی توڑتا اور پھر اس کے ٹکڑے کرتا، اسے بدتمیزی سمجھاجاتا۔ 
کھاتے کھاتے منھ میں ہڈی کا ٹکڑا، بوٹی کا ریشہ یا گرم مصالحے میں سے لونگ یا سیاہ مرچ آ جاتی تو بچوں سے کہتے، پہلے دایاں ہاتھ منھ کے سامنے لاؤ، پھر بائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور ساتھ کی انگلی سے اس شے کو نکالو، چھنگلی اور اس کے برابر والی انگلی سے سفل دان کے سرپوش کی برجی پکڑ کر ڈھکنا اٹھاؤ اور آہستہ سے وہ شے ڈال کر سرپوش ڈھانک دو۔
دسترخوان پر اگر کباب ہوتے اور کوئی بچہ طشتری سےکباب اٹھاکر روٹی پر رکھ کر کھانے کی کوشش کرتا تو اسے معیوب سمجھتے۔
بڑے بچوں کو سکھاتے تھے کہ کھاتے وقت دوسروں کے کھانے پر نظر نہ ڈالو، اپنے آگے جو رکھا ہوا ہے اسے دیکھو۔ 
کسی دوسرے دسترخوان پر کھانا ہو تو جو میزبان پیش  کرے، اسے خوشی کے ساتھ کھاؤ۔ مرچ تیز، نمک پھیکا ہو تو اسے ظاہر نہ کرو۔
خبردار اچار کی فرمائش مت کرنا  ، اِس سے میزبان کو دکھ پہنچے گا کہ کھانا ذائقہ دار نہ ہے ،لہذا میزبان کے ہاں اچار کی طرف ہاتھ نہ بڑھایا جاتا  ،کسی کھانے میں عیب نکالنا بری بات ہے۔ 
غمی کے کھانے میں روٹی بوٹی کی فرمائش نہ کرنا۔ چند لقمے کھانا۔ 
اگر تمہاری رکابی میں نلی آجائے اور دسترخوان پر مغزکش نہ ہو تو اسے رکابی یا روٹی پر نہ جھاڑنا، نہ منھ سےچوسنا۔ ایک طرف  رکھ دینا  اور ہاں نہ ہی ہڈیوں کو چبانے کی کوشش کرنا ، اس سے لوگ سمجھتے ہیں کہ تم نے کبھی کچھ کھایا پیا نہیں۔  
خواتین لڑکیوں کو ٹوکتیں کہ سلیقہ سے کھاؤ، دوسرے گھر  جانا ہے، لوگ کیا کہیں گے کہ ماں باپ نے کچھ سکھایا نہیں۔
 مائیں بیٹیوں کی پکائی ہوئی روٹیوں کو خاص طور پر دیکھتیں، کہیں روٹی کی ساخت یا ہیئت مختلف دیکھی تو جھٹ کہا، ارے یہ کیا ایک ہاتھ کی روٹی ایک چھوٹی ایک موٹی، سسرال والے نام دھریں گے۔ 
جہاں لڑکی دس گیارہ برس کی ہوئی نہیں کہ اسے کھانا پکانے، سینے پرونے، کاڑھنے اور بُننے پر لگا دیا۔
 تربیت کے ساتھ ساتھ تلقین بھی ہوتی، بیٹا! جتنا خوش ذائقہ کھانا پکاؤگی، اتنی سرخ رو ہوگی۔ 
لذیذ کھانا کھا کر لوگ دوسرے کے دسترخوان پر تذکرہ کرتے کہ فلاں جگہ جو قورمہ کھایا تھا، ویسا آج تک نہیں کھایا۔ 
شیخ صاحب  کی بہو  اتنی لذیذ بریانی  بناتی ہے کہ ان کے سامنے نامی گرامی باورچی پانی بھریں۔
مرزا صاحب کی بیوی کے ہاتھوں کے پائے اگر کھاؤ ، تو سالوں منہ میں لذت رہے ۔
فاطمہ آپا کی بیٹی  کا زردہ ، تمام حلوائیوں کو مات دیتا ہے ۔
 ’’بیٹی معدے کے راستے  سسرال  کے دل میں گھر کرتے ہیں"۔
" شوہر کے دل کا راستہ اُس کے معدے  سے گذرتا ہے "۔
" یاد رکھو! منھ کھائے آنکھ لجائے"۔
" بٹیا ، کھانا گھی نون مرچ کا نام لیں۔ کھانا پکتا ہے شوق سے اور پورے ہوش سے، جبھی دوسرے کے منھ کو لگے گا "
" اورہاں  گھی پکائے ہنڈیا بڑی بہو کا نام"  بلا وجہ نہیں کہتے۔
ہندوستان میں قریبی عزیزوں میں بیٹیاں بیاہتے وقت چھان بین نہیں کرتے تھے، کیوں کہ سب دیکھے بھالے ہوتے تھے، لیکن کسی دوسرے خاندان یا برادری سے کوئی رشتہ آتا تو آسانی سے ’’ہاں‘‘ نہیں کرتے۔ لڑکے کے متعلق تفتیش و تحقیق کراتے۔ کوشش کرتے، کسی طرح اسے دسترخوان پر دیکھ لیں۔ کس طرح کھاتا ہے، کیسے پیتا ہے۔دسترخوان کی تہذیب میں کبھی دو کھانے ملا کر نہیں کھائے  جاتے، دہی  صرف کھانے میں  نمک مرچ کو حسبِ ذائقہ متوازن کرنے کے لئے ڈالا جاتا ۔
کھانا کھانے کے انداز سے پتہ چل جاتا کہ لڑکا حریص ہے یا بدنیت، خوش اطوار اور خوش مزاج ہے یا غصیل، زود رنج ہے یا مغلوب الغضب!!
کہا جاتا ہے ، ایک گھریلو دعوت میں   ، خالہ کے ہونے والے داماد  کے ساتھ اُس کا دوست  بھی تھا ، مردان خانے میں  دسترخوان لگایا گیا ۔ سب حسبِ مراتب دسترخوان پر بیٹھے ،  ہونے والے  داماد کو بزرگ کے دائیں جانب اور دوست کو بیٹوں کے ساتھ سامنے بٹھایا  ، کھانا چُن دیا گیا  ، ملازم بریانی کی قاب لائے ، ہونے والے داماد کو پیش کی ، پھر دوست کو اور  بزرگ نے بریانی اُتاری  اور پھر ، سبھی نے اپنی اپنی پلیٹ میں بریانی لی اور کھانا شروع کیا۔ چند منٹ بعد قورمہ آیا۔بزرگ کے سامنے بیٹھے، داماد کے  دوست  نے جھپٹ کر قورمہ کی قاب اُٹھا بریانی میں قورمہ ڈالا۔کہ بزرگ کی  آواز آئی،" استغفر اللہ"!
  نوجوان نے چونک کر دیکھا۔ بزرگ نے شائستہ لہجے میں کہا، "میاں آپ نے بریانی کی توہین کی۔ قورمہ رائتہ نہیں ہوتا۔ قورمہ کو روٹی کے ساتھ کھاتے ہیں، بریانی کے ساتھ نہیں"۔
نوجوان کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور تیز لہجے میں بولا، "ہمارے یہاں سب اسی طرح کھاتے ہیں۔ ہمارے بڑے بھی اسی طرح کھاتے تھے"۔
بزرگ مسکرائے  اور گویا ہوئے،" بیٹے ہم نے آپ کے بڑوں کو تو نہیں دیکھا، لیکن آپ کو دیکھ کر اندازہ ہوگیا"۔ 
کھانے سے فارغ ہو کر جب تقریب گاہ سے باہر آئے تو   بزرگ گویا ہوئے ، " تعلیم نے دسترخوان کے اطوار بگاڑ دیئے ، عذرِ گناہ  بد تر از گناہ  ، میں نام بدنا م باپ دادا کا، کہ ہمارے بڑے بھی ایسے ہی کھاتے تھے
۔ قورمہ ڈال کر اچھی خاصی بریانی کا ناس کیا۔ خدا کا شکر ادا کرو تافتان سے بریانی نہیں کھائی  ، آپ اُتر میں بیٹا دکھن میں، میں تو کہتا ہوں، یہ ٹی وی نہیں ہماری تہذیب کے لیے ٹی بی ہے ٹی بی۔"
(نامعلوم)

جمعرات، 10 نومبر، 2016

اقبالی لبر ازم تاریخ کا روشن پہلو !

یاسر پیرزادہ کی لکھی ہوئی لبرلز کی خوبیوں میں لبرلز میں ایک خوبی اور ہوتی ہے ، جو باعثِ شرم یہ نوجوان کالم نگار چھپا گیا ۔
https://jang.com.pk/print/211540-yasir-pirzada-column-2016-11-09-allama-iqbal-ki-royalty
وہ خوبی یہ کہ ادب و آداب سیکھنے کے لئے ، نوابینِ  لکھنئو کے جانشینوں کی طرح سینئیر لبرلز اپنے جونئیر کو بالا خانے ضرور بھیجا کرتے تھے ۔
بالا خانہ کیا ہوتا ہے ، امیتابھ کی فلم " شرابی" میں اِس کا مکمل تعارف کروایا گیا ہے ۔ جہاں کی رونقیں موسیقی ، پان ، شراب و شباب کی مرہونِ منت ہوتی ہیں ۔

چنانچہ سیالکوٹ کا یہ اقبال بھی بادشاہی مسجد لاہور کے پہلو میں واقع ، بالاخاناؤں میں سے ایک بالا خانے ، میں   ادب و آدابِ سیکھنے کے لئے جایا کرتا تھا ، وہاں اُس کی شاعری ،   طبلہ و شراب میں ڈوب کر اک  نئی دنیا کی سیر کراتی ۔ اور شباب کے نظارے کرواتی ۔ شباب کا مفصّل تعارف شعر ترنم و لے میں پڑھنے والی توبہ شکن، شباب کی ملکہ  نے کروا دیا ، کہتے ہیں کہ چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں اور شاعر کے پاس دام کہاں ۔
ایک حد تک عشق سر چڑھ کر بولتا ہے ، پھر پیسہ عشق کو پتلی گلی سے نہیں بلکہ بالاخانے کی پہلی منزل سے سامنے مین سڑک پر دھکیل دیتا ہے ۔
یہاں بھی یہی ٹریجڈی ، سیالکوٹ کے اقبال کے ساتھ ہوئی ، چنانچہ انجام آخر ، شراب کی مستی میں اقبال نے اپنا طپنچہ نکلا اور انجام کار باعثِ نزع شباب کو عالمِ شتاب پہنچا دیا ۔
لبرلز کو معلوم ہوا ، تو معاملہ رفع دفع کروانے کی کوشش کی مگر زبانِ زدِ ہر خاص و عام ہوگیا ،
لیکن کیوں کہ سیالکوٹ کا یہ اقبال،  صاحب کا خاص مصاحب تھا ۔
 

لہذا ، کوتوال نے رپٹ ہی تبدیل کردی ، مگر دائیں بازو کے اخبارنویس اور قصہ خوان کہاں باز آتے ۔ اخبارات میں درج ہوگیا
سنا ہے کہ اب اقبال کا پوتا ، لبرلز کی چاکری میں ہے ،
ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات ۔



منگل، 1 نومبر، 2016

مصرع جو گُم ہو گیا !



اردوشاعری کی تاریخ میں بہت سےایسےاشعارہیں کہ جن کاپہلا مصرعہ اتنا مشہور ہوا کہ ان کا دوسرا مصرعہ جاننے کی کبھی ضرورت محسوس ہی نہیں ہوئی۔ تو کیا یہ مصرعے ایسے ہی تخلیق ہوئے یا ان کا کوئی دوسرا مصرعہ بھی ہے. 

 ایسے شعر درجِ ذیل ہیں کیا آپ اِن کا دوسرا مصرعہ جانتے ہیں ؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
گلزارِ ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
خط ان کا بہت خوب’عبارت بہت اچھی
اللہ کر ےزورِقلم اور بھی زیادہ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نزاکت بن نہیں سکتی حسینوں کے بنانے سے
خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ راز تو کوئی راز نہیں ،سب اہلِ گلستان جانتے ہیں
ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے انجامِ گلستاں کیا ہوگا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
داورِ محشر میرے نامہ اعمال نہ کھول
اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کےخوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو
خوب گزرے گی جب مل بیٹھیں گے دیوانے دو
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
غم و غصہ و رنج و اندوں و حرما ں
ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مریضِ عشق پہ رحمت خدا کی
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آخرگِل اپنی صرفِ میکدہ ہوئی
پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بہت جی خوش ہواحالی سے مل کر
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں اِس جہاں میں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی
بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نہ گورِسکندر نہ ہی قبرِ داراں
مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
غیروں سے کہا تم نے، غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جذبِ شوق سلامت ہے تو انشاءاللہ
کچھے دھاگے سے چلیں آئیں گے سرکار بندھے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
قریب ہے یارو روزِمحشر، چھپے گا کشتوں کا خون کیونکر
جو چپ رہے گی زبانِ خنجر، لہو پکارے گا آستین کا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پھول تو دو دن بہارِجاں فزاں کھلا گئے
حسرت اُن غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کی میرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ
ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
خوب پردہ ہے چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں ،سامنے آتے بھی نہیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا
لڑتے بھی ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
چل ساتھ کہ حسرت دلِ مرحوم سے نکلے
عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں 
  لو آپ  اپنے دام میں صیاد آ گیا 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اسی لئے تو قتل عاشقاں سے منع کرتے ہیں
اکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کاررواں ہو کر

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ہند کے شاعر و صورت گر و افسانہ نويس
آہ ! بيچاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
  
یہ فتنۃ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
ہوئے تم دوست جسکے دشمن اسکا آسماں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 یہ لاشِ بے کفن اسدِ خستہ جاں کی ہے 
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔