Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
اول فہرست مضامین لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اول فہرست مضامین لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 28 دسمبر، 2025

فہرست ۔ انٹیلیجنس ۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور تبدیلیاں

 آٹھ دسمبر 2025 کو اے آر وائی ٹی وی پر ایک  پروگرام چلا جس میں   عمار جعفری صاحب ایف آئی اے  ،اپنے بارے میں بتا رہے تھے اورمحمد علی جناح صاحب ہوسٹ تھے ۔ اور پاکستان کے مستقبل کے لئے اپنا فہم بتا رہے تھے ۔  میں وٹس ایپ پر اپنا تعارف کروایا اور بات کرنے کی اجازت چاہی ۔ مجھے 2 بجے اُن کی کال آئی ، یوں 2002 کو ایف 10 کی بیسمنٹ میں اُن کے ادارے  کی یادیں سمٹ آئیں  ۔ حکم دیا کہ میں  سی آئی ٹی کا لنک بھیج رہا ہوں ۔ رجسٹر ہوجاؤ اور عسکری 14 میں ، آن  لائن ٹریننگ ، سائبر سیکیورٹی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے بارے میں ، پاکستان  کے مستقبل  کے ماہرین کو تیار کرو ۔  میں وٹس ایپ لنک بھی بھیج رہا ہوں ۔ شام کو     سی آئی ٹی سینٹر عسکری 14 راولپنڈی   کے لئے 1000 روپے جمع کرواکے رجسٹر ہو گیا ۔ 9 تاریخ کوصبح ساڑھے سات بجے ، زوم کے لنک کے ذریعے   میٹنگ میں شام ہوگیا ۔  

٭۔سنٹر آف انفارمیشن ٹیکنالوجی ۔

 اب تک تو یہ بوڑھا اپنی بڑھیا کے ساتھ ،  اُفق کے پار بسنے والے اپنے بچوں اوراُن کے بچوں سے   بات کرتا۔  لیکن اب یہ  زوم لنک دوبارہ   بوڑھے کو تعلیمی میدان میں گھسیٹ لایا ۔25 نوجوان ، ادر جوان  اور بزرگ ، اپنے اپنے مائک اور کیمرہ آف کئے لیکچر سن رہے تھے ۔ موضوع تھا ۔ سائبر سکیورٹی  (انٹرنیٹ ، موبائل ، وٹس ایپ  اور ھیکر ) کے بارے بتایا جا رہا تھا ۔ بوڑھے نے پہلا انٹر نیٹ فراڈ ، جعفری صاحب کے ادارے کے ساتھیوں کی مدد سے   پکڑ وایا تھا ۔

گمشدہ دفینوں کی سر زمین افریقہ۔نومبر 2004

تو اُفق کے پار بسنے والے میری دوستو ۔ اُن کے بچو اوربچوں کے بچو (لوئی معشومان)  ۔ انسانی ذھانت   ، کمپیوٹر کی دنیا میں داخل ہو کر ،  مصنوعی ذھانت  کے  سحاب   (کلاؤڈ) میں داخل ہو چکی ہے اور غیر محسوس طریقے   سے ہماری مددد کر رہی ہے ۔ ہے نا حیرت کی بات ۔مجھے معلوم ہے کہ   ہمارے دماغ  (اردو میڈیم) میں ، پاکستانی  الفاظوں   کے ساتھ انگلش کے الفاظوں کی ڈکشنری ہے جو دماغ کے تحت الشعور میں چھپے ہیں ۔جو اُس وقت  ذھن کے شعور (میموری)میں آتے ہیں ، جب ہمارے گرینڈ چلڈرن آپس میں کوئی انگلش کا لفظ یا جملہ آپس میں بولتے ہیں  ۔جو بڑی مشکل   دوبارہ سننے پر سمجھ میں آتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم انگلش بولنے والوں  کی دنیا میں اپنی جھجھک  کی وجہ سے نہیں داخل ہو سکتے ۔ لیکن یہ مشکل نہیں  ۔ پاکستان کے ہمدردلوگ  الفاظوں کی اِس میراتھن میں ہمیں ساتھ لے کر  آرٹیفیشل  انٹیلیجنس  (مصنوعی ذھانت) کے اِس سحاب (کلاؤڈ) میں داخل کروانا چاھتے ہیں ، جو ہمارے پاس ، ہمارے   سمارٹ فون میں موجود ہیں ۔

بس آپ نےیہ کرنا ہے کہ   اِس لنک کو دبائیں اور خود کورجسٹر کرکے مُفت    آرٹیفیشل انٹیلیجنس   (اے آئی) کے ٹیچر سے  معلومات حاصل کرنا شروع کردیں ۔ اگر آپکو جملہ سمجھ نہیں آتا تو دائیں لکھے ہوئے پچھلے جملے پر کلک کریں ، ت؎ٹیچر آپ کو دو بار۔ تین بار۔ چار  بار  یا اُس سے زیادہ بتانے پر بھی نہیں تھکے گا ۔ اور آپ  گرینڈ چلڈرن کے ساتھ اے آئی کی دنیا میں داخل ہو جائیں گے ۔ لنک یہ ہے :۔
٭- اقراء سٹی ۔آرٹیفیشل انٹیلیجنس 
٭۔سنٹر آف انفارمیشن ٹیکنالوجی ۔

٭-ZOOM میٹنگ  روزانہ 7:30 صبح و شام  

 

٭٭٭٭مضامین ٭٭٭٭

 ٭۔ذھانت  سےمصنوعی ذھانت اور تبدیلی  

٭ـآرٹیفیشل انٹیلیجنس  (اے آئی)

٭۔اے آئی  کے انسانی زندگی پر فوائد 


  

 

بدھ، 1 جنوری، 2025

فہرست ۔ کرائم ۔سائبر کرائم اور ادارے

کرائم (جرم) کے کرموں نے انٹر نیٹ کی ایجادکے بعد سائبر کرائم کو جنم لیا ۔کہتے ہیں کہ لالچ کا سکّہ صرف مجرم ہی لے کر پھرتا ہے جو اُن انسانوں کو کےسامنے ڈالتا ہے جو اپنی روزمرہ کی کمائی کو اُس سکّے کے پھیر میں پڑ کر دوگنا اور چوگنا کرنے کے پھیر میں  پڑ کر اپنی فاضل کمائی(قرض یا محنت) سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ 
اِس سلسلے میں ریٹائرمنٹ کے بعد یکم جون 2000 میں بزنس میں قدم رکھنے کے بعد ، کرائم کے کھلاڑیوں نے قدم رکھا اور پھر سائبر کرائم کے چکرباز میدان میں کودے ۔ کئی مضامین لکھے ۔جن میں جگ بیتی اور آپ بیتی دونوں شامل ہیں ۔

 ٭٭٭فہرستِ مضامین برائے  کرائم اور سائبر کرائم ٭٭٭ 

 ادارے ۔
 

 



جمعہ، 17 مارچ، 2023

مرغ بانی ۔ ایام ثمانی، کالی چونچ ۔ کالا گوشت اور لال خون

بوڑھے نے جب سے پنشرز ایسوسی ایشن میں قدم رکھا  اور وہاں سے چندا مانگنے والی سرکار  کو بے نقاب کرکے ، ایک مخلص دوست کو چیئرمین بنایا ، تو اُفق کے پار بسنے والے دوستوں میں نے پہلے نیک دل پنشنرز نے ، راؤ جعفر اقبال چیف پیٹی آفیسر (ریٹائرڈ)  ، پاکستان نیوی ، نے   ربیتانوز (خرگوش پال ) کے نو آموز شوقین میں شامل کر لیا ۔ 

جہاں مخلص خرگوش پال کے علاوہ لکھ پتی بنانے والے فراڈیئے بھی موجود تھے اور وہ آسمان کی طرف ھاتھ اُٹھا اُٹھا کر بددعائیں نکال رہے تھے ۔ مخلص دوستوں کی مدد سے اُنہیں بے نقاب کیا اور ایگریمنٹ کے جالے سے نجات دلوائی ۔کیسے پہلے آپ یہ نظم پڑھیں :۔

اک دن کسی مکھی سے یہ کہنے لگا مکڑا

 اس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمہارا

 لیکن مری کٹیا کی نہ جاگی کبھی قسمت

 بھولے سے کبھی تم نے یہاں پاؤں نہ رکھا

 غیروں سے نہ ملیے تو کوئی بات نہیں ہے

 اپنوں سے مگر چاہیے یوں کھنچ کے نہ رہنا 

آؤ جو مرے گھر میں تو عزت ہے یہ میری 

وہ سامنے سیڑھی ہے جو منظور ہو آنا 

مکھی نے سنی بات جو مکڑے کی تو بولی 

حضرت کسی نادان کو دیجے گا یہ دھوکا

 اس جال میں مکھی کبھی آنے کی نہیں ہے 

جو آپ کی سیڑھی پہ چڑھا پھر نہیں اترا 

مکڑے نے کہا واہ فریبی مجھے سمجھے 

تم سا کوئی نادان زمانے میں نہ ہوگا 

منظور تمہاری مجھے خاطر تھی وگرنہ

 کچھ فائدہ اپنا تو مرا اس میں نہیں تھا

 اڑتی ہوئی آئی ہو خدا جانے کہاں سے 

ٹھہرو جو مرے گھر میں تو ہے اس میں برا کیا

 اس گھر میں کئی تم کو دکھانے کی ہیں چیزیں

 باہر سے نظر آتا ہے چھوٹی سی یہ کٹیا 

لٹکے ہوئے دروازوں پہ باریک ہیں پردے 

دیواروں کو آئینوں سے ہے میں نے سجایا 

مہمانوں کے آرام کو حاضر ہیں بچھونے

 ہر شخص کو ساماں یہ میسر نہیں ہوتا 

مکھی نے کہا خیر یہ سب ٹھیک ہے لیکن

 میں آپ کے گھر آؤں یہ امید نہ رکھنا

 ان نرم بچھونوں سے خدا مجھ کو بچائے

 سو جائے کوئی ان پہ تو پھر اٹھ نہیں سکتا 

مکڑے نے کہا دل میں سنی بات جو اس کی

 پھانسوں اسے کس طرح یہ کم بخت ہے دانا

 سو کام خوشامد سے نکلتے ہیں جہاں میں

 دیکھو جسے دنیا میں خوشامد کا ہے بندا

 یہ سوچ کے مکھی سے کہا اس نے بڑی بی

 اللہ نے بخشا ہے بڑا آپ کو رتبہ 

ہوتی ہے اسے آپ کی صورت سے محبت 

ہو جس نے کبھی ایک نظر آپ کو دیکھا 

آنکھیں ہیں کہ ہیرے کی چمکتی ہوئی کنیاں

 سر آپ کا اللہ نے کلغی سے سجایا 

یہ حسن یہ پوشاک یہ خوبی یہ صفائی

 پھر اس پہ قیامت ہے یہ اڑتے ہوئے گانا 

مکھی نے سنی جب یہ خوشامد تو پسيجي

 بولی کہ نہیں آپ سے مجھ کو کوئی کھٹکا 

انکار کی عادت کو سمجھتی ہوں برا میں

 سچ یہ ہے کہ دل توڑنا اچھا نہیں ہوتا

 یہ بات کہی اور اڑی اپنی جگہ سے

 پاس آئی تو مکڑے نے اچھل کر اسے پکڑا

 بھوکا تھا کئی روز سے اب ہاتھ جو آئی 

آرام سے گھر بیٹھ کے مکھی کو اڑایا



تو اُفق کے پار بسنے والے نیک دل دوستو ۔ پنشنرز۔ خرگوش پال۔ بکری پال ۔ پرندے پال کے علاوہ بوڑھا ۔ مرغی پال دوستوں کا وٹس ایپ پر بھی ممبر ہے ۔

بوڑھا حسبِ معمول صبح اٹھا ۔ وٹس ایپ کال پر سرخ نشان دیکھے جو جاننے والوں اور انجان نمبروں سے تھے ، انجان نمبرو ں کو 2023-01-10-001 نمبر دے کر محفوظ کر لیا ۔ کہ دوبارہ کال آئی تو اٹینڈ کروں گا ۔ اور ساتھ ہی وٹس ایپ میسج دیکھے ۔ 07 کے کالر کا یہ میسج پڑھا ۔

سر یہ وڈیو بھیج رہا ہوں دیکھیں ۔ اگر ہو سکے تو مجھے رنگ کریں ۔

 اِس بندے نے دوسال پہلے مجھے ایگریمنٹ کے نام پر دھوکا دیا    ۔

رقم کا ہندسہ سن کر بوڑھے کے ہوش نہیں اُڑے اور نہ ہی اوسان خطا ہوئے ۔ کیوں کہ ریبٹ کے فراڈیوں کے ہاں یہ تو معمولی رقم تھی ۔ 

بوڑھے نے ، اجمل حمید کی دھواں دھار جذبات بھڑکاتی ،  وڈیو دیکھی۔اور گوگل آنٹی سے پوچھا  ۔ 

گوگل آنٹی نے انڈونیشیئن  ریسرچ سینٹر کی راہ دکھائی جہاں نیوزی لینڈ وہائٹ ریبٹس کو   کے ملاپ سے  ھائی کول خرگوش کی جنس میں تبدیل کرنے کے بعد ، ایام ثمانی کالی زبان  اورگرے زبان میں  پاکستانیوں کو پاکستانیوں کو ہی لوٹنے کی نئی  راہ دکھائی ۔

 کالے پر ، کالی چونچ اور کالے گوشت کی مرغیوں کا یہ کاروبار، سفید خون والے یہ کاروبار کر رہے ہیں۔اور دھڑا دھڑ  100 کلو گرام روزانہ کے حساب سے ، کالا فرحت بخش  گوشت    مغربی ممالک میں ایکسپورٹ کرنے کی نوید ،   وزنی خرگوش کی طرح سنا رہے ہیں۔

 بوڑھے نے بھی جانگیہ پہن کر اِس مارکیٹ  کے تالاب میں چھلانگ مارنے کا فیصلہ  کر لیا   اور 10 انڈوں سے کروڑوں کا بزنس کرنے کے لئے ، موبائل کال،   کالی چونچ  مرغی ایام ثمانی کاکاروبار کرنے والے سے  ملائی  ۔ ۔ ۔

گھنٹی بجتی رہی کوئی جواب نہیں ملا۔۔ تو حسبِ عادت یہ پیغام بھیجا۔

 

جاری ہے  

جمعرات، 16 مارچ، 2023

فہرست چوزہ /مرغ بانی

اکثر نوجوان پوچھتے ہیں ،
کہ ریٹائرڈ زندگی کیسے گذرتی ہے ؟
آپ دونوں بور نہیں ہوتے ؟
کیا آپ کی زندگی میں کوئی تفریح ؟
کوئی ہلا گُلّہ یا کوئی ایڈ ونچر ہے ؟

اب اُنہیں کیا بتایا جائے ، کہ ہماری زندگی کیسے گذرتی ہے ،

اُفق کے پار بسنے والے نوجوانو۔ یہ کائینات ایڈونچر سے بھری ہوئی ہے ۔

بوڑھے کی زندگی ایڈونچرز اور تجربات سے بھری ہوئی ہے ۔ کبھی کبھی بڑھیا بھی اِس میں غیر محسوس طریقے سے شام ہو جاتی ہے ۔ یا پھر پاکستانی بیویوں کی مجبوری ، کہ اب زندگی اِس بڈھے بچے کے ساتھ گذارنی ۔ گذار لو ۔

تو نوجوان دوستو ، یہ مضامین ہیں پڑھیں اور انجوائے کریں اور ہاں اگر غیر محسوس طریقے سے  اِس ایڈونچر میں شامل ہو جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں ۔

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مرغی  کے بغیر انڈوں سے مصنوعی حرارت کے ذریعے چوزے نکالنا سب سے آسان اور فائدہ مند  عمل ہے ۔

آپ بھی اپنے گھر میں یہ تجربات کر سکتے ہیں ۔ 

نئے مضامین :۔

٭-مرغیاں   امریکہ و یورپ میں ۔

٭۔ ایام ثمانی، کالی چونچ اور ۔ ۔  ۔ ۔۔ ۔  ۔

٭-آسٹرو لارپ اور آر آئی آر کا فراڈی 

پرانے مضامین:۔

٭- چم چم کے چِنکو اور پِنکو

٭- براھما جناتی مرغیاں 

٭۔   فیس بُک سے چکن بُک تک

٭-پہلا جانباز - چوزہ - پیدائش و وفات 

   







ہفتہ، 10 ستمبر، 2022

فہرست ۔ مجدد ، مہدی و مسیح ابنِ مریم و احمد

   اُفق کے پار بسنے والے میرے نیک دل دوستو ۔

قادیانیت یا احمدیت  کی عمومی ابتداء مرزا غلام احمد سے شروع ہوئی ۔ جس نے اِن آیات کو اپنے حق میں استعمال کیا ۔اور خود کو مسیح موعود یا ظلی نبی سے متعارف کروایا۔لیکن پھر احمد رسول  کا ،لقب اختیار کیا

مسیح عیسیٰ ابنِ مریم ، کا بنی اسرائیل نے انکار کیا ، بلکی اُن کی بشارت ، رسول اللہ  احمد کا بھی کیا ۔

اِس کے باوجود کی ایک ایسا نبی جو بینات کے ہمراہ انسانوں کے پاس آیا ۔اور جو احمدیت یا قادیانیت کے مطابق الکتاب کا علم اللہ سے لینے والا آخری نبی، مسیح عیسیٰ ابنِ مریم  تھا ۔ اوپر اُٹھائے جانے کے بعد احمد رسول اللہ بن کر آیا ۔

 نہ میں احمد کے انتظار میں ہوں، نہ مسیح عیسیٰ ابنِ مریم کے ،  اور نہ ہی بنی اسرائیل میں سے ہوں ، کہ ۔نَحْنُ أَنصَارُ اللَّهِکا نعرہ مستانہ  ، قول و فعل کے متضاد تکبّر میں مبتلا ہو کر لگاؤں ۔

کیوں نہ میں، الَّذِينَ آمَنُوا بن کر  أَنصَارِي إِلَى اللَّهِ کی قطار میں أَيَّدْنَا الَّذِينَ آمَنُوا کے لئے  بَنِي إِسْرَائِيلَ  کی عَدُوِّ کی صْبَح کو  ظَاهِرِ کرتا رہوں۔
٭ ٭٭٭پڑھیں ٭٭٭٭ ٭

جمعہ، 2 ستمبر، 2022

فہرست ۔ خرگوشیات ۔

کیا  آپ کو معلوم  ہے کہ اللہ کی زمین پر پائی جانے والا نباتات    میں انسانی صحت کا خزانہ ہے ؟

اور اُنہیں کو فائدہ دیتا ہے ، جو وہاں اُسی علاقے میں رہتے ہیں جہاں وہ نباتات پیدا ہوتی ہیں !
کیوں کہ انسانی جسم  میں اپنے علاقے کی مٹی  سے   قدرتی دفاعی نظام بنتا ہے ۔.
 یہی وجہ ہے کہ امپورٹڈ خرگوشوں کو مقامی ماحول و خوراک کا عادی بنائیں ۔ شکریہ   
٭٭٭٭٭٭
 خرگوش کی اقسام ۔ 
 
٭۔ ڈوارف اور لارپ
٭۔




٭-  ٭- 
 
٭۔نیوزی لینڈ وائیٹ
٭۔کیلیفورنین



٭-چنچلہ ٭- پالومینو اور لنکس
  
 
٭-  ویانا
٭-سلور فوکس



٭-جرمن جینٹ ٭-بلجیئن سٹون فلیمش
  
 
٭-امپورٹڈ  مکس بریڈ  





٭-مقامی خرگوش  






 
٭-مقامی  اور امپورٹڈ خرگوش ۔مکس بریڈ  



   
 
2- خوراک۔
3- بیماریاں۔  
٭٭٭٭٭٭فہرستِ مضامین برائے خرگوشیات ٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔