Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 16 اپریل، 2022

خرگوش کو بیماریاں کیسے لگتی ہیں ؟

مارچ  2021کو بوڑھے کی پوتی نے بنیز کی فرمائش کی تو بوڑھا 4 بنیز لے آیا ایک چیکو کے لئے ، ایک برفی کے لیئے ، ایک لڈو کے لئے ، ایک چم چم کے لئے ۔ ایک بنی فالتو ہو گیا وہ گھر میں آنے والے بچوں کے لئے ۔ 

جولائی تھ صرف 2 بنیز بچے ، ایک کو چیل لے گئی اور کمبخت نے ہمارے ہی سفیدے کے درخت پر بیٹھ کر اُس نے کھایا۔ سب نے شور مچایا دادا بابا اُسے ماریں ۔ دادا بابا نے کہا کہ اُسے بھی برگر کھانے کا شوق ہے ۔ چلو ہم اور لے آئیں گے۔ اور ایک کو بلی اُٹاھ کر لے گئی، کڑھائی روسٹ بنانے کے لئے ۔ یوں دو بچ گئے کیوں کہ دادا بابا نے اُن کی حفاظت کے لئے اُنہیں زنداں میں ڈال دیا ۔ یوں وہ بلوغت کی عمر کو پہنچ گئے ۔ لیکن دونوں فی میل  خرگوش تھیں ۔اُن کے لئے ایک میل خرگوش بوڑھا  لایا گیا        ۔ یوں ایک فی میل اور میل نے مل کر  پُل کے نیچے  گریٹ سکیپ  کے لئے سرنگ بنائی۔جو لان  کی دیوار سے ساتھ کم از کم 4 فٹ تھی ۔ اُن بے چاروں کے پاس نہ گینتی تھی اور نہ بیلچہ محنت سے سرنگ کھودنے کے بعداُن کے ناخن ٹوٹے اور سامنے والے پنجے زخمی ہوگئے ۔


بڑھیا نے اعلان کیا کہ ہمارے لان میں فنگس ہے جو اِن دونوں کو لگ چکی ہے ، برفی دور رہے ، اِن کا علاج کیا جائے ۔

بوڑھا ، کالج روڈ کی طرف دوڑا جہاں ڈاکٹر ہیں ۔ دو یا تین ڈاکٹر ہیں دو نے کہا کہ مریض کو لا کر دکھاؤ ۔ بوڑھا مریض کیسے لاتا ؟
ایک خرگوش  پیچنے والے  سے  پوچھا ۔ اُس نے کہا ٹہرو ، میں دوائی لا کر دیتا ہوں ۔
کوئی 10 منٹ بعد وہ ایک بوتل میں دوائی لایا اور کہا کہ اِس کا چوتھا حصہ انجیکشن سے دوائی لگا دو اور ایک کریم  یا سرسوں کا تیل  خارش والی جگہ پر  لگا دیں ۔ ٹھیک ہو جائیں گے جوان کو 400 روپے دیئے ۔ 

خرگوشوں کو انجیکشن لگایا اور سرسوں کا تیل بھی لیکن وہ دونوں فوت ہو گئے ۔ گھریلو جانوروں کے قبرستان میں اُنہیں دفن کر دیا ۔

مزید چار خرگوش برفی کی ڈیمانڈ پر آگئے مگر یہ کلر فل تھے۔ یہ بھی لان اور ڈک و چکن فارم میں ، دوڑتے پھرتے ۔ اور  برفی کے دوست بن گئے ۔ ایک دن گرے رنگ کا خرگوش نہیں ملا ۔ بوڑھا سمجھا کہ وہ بلی کا شکار ہو گیا ہے ۔ لیکن وہ تو دوڑنے اور جُل دینے کا اتنا ماہر تھا ، وہ کسی خونخوار بلی کے ہتھے کیسے چڑھ سکتا ہے۔ انکوائری شروع ہوئی بوڑھے نے اِن سب کے لئے گملا ھاؤس بنایا ، جو کسی بھی ہنگالی صورتِ حال کے لئے بہترین  پناہ گا تھا ۔ اوپرپڑی ہوئی چادریں ہٹائیں ۔تو موصوف کو بیٹھا پایا ۔ بغیر کسی حرکت کے ۔ 

معائینہ کیا گیا ۔ شاید بے چارہ ڈر کے چھپا اور کارڈیک اریسٹ  یا ہیمرج سے کوچ کر گیا ۔ نہ کان ڈھلکے نہ پوزیشن تبدیل ہوئی ، ربیتانو سے پوچھا ۔ 

کیا خرگوش بھی مراقبہ کرتے ہوئے ، اگلے جہان کوچ کر جاتے ہیں ؟

جناب عامر اقبال کوئٹہ نے جواب دیا ۔ پہنچا ہوا لگتا ہے لہذا مراقبے میں اٹھا لیا گیا ۔
بوڑھے ، بڑھیا اوربرفی نے ، اِس اللہ والے کو تزک و احتشام سے سپرد خاک کیا ۔

خرگوشنی نے چار بچے دیئے ، چاروں یکے بعد دیگرے مر گئے ،  بوڑھا اللہ کی رضا سمجھ کر اُن کو دفن کرتا گیا ۔ پھر اُسی خرگوشنی نے مزید چار بچے دیئے وہ بھی اللہ کی رضا سے اُس کی امان میں چلے گئے ۔

پھر ایک اور خرگوش  صبح شبنم سے بھری ہری گھاس پر بے حس و حرکت پایا گیا ۔تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ پیٹ پھولا ہوا تھا ۔ اور صدمے کی بات یہ کہ ۔ اپمورٹڈ نیوزی لینڈ بنی تھا جو امجد ثانی صاحب نے رائے ونڈ سے بھجوایا تھا۔

بوڑھے نے خرگوشوں کو آزاد چھوڑا ہوا تھا ۔ وہ اپنا چارہ بھی کھاتے، کبوتروں کا دانہ بھی ، مرغیوں کی غذا اور ونڈا بھی ۔ ایک ربیتانو نے بتایا کہ خرگوش بھوک سے نہیں مرتا کھا کھا کر مرتا ہے ۔چارہ سارا دن کھاتا رہے نہیں مرے گا بھوسہ سارا دن کھاتا رہے نہیں مرے گا اور اگر مرا تودانا کھا کھا کر اُس کا پیٹ پھول جائے گا اور آنتیں بندہونے سے اپھارہ ہو جائے گا۔ دست لگ جائیں گے ۔ 

پیٹ کے کیڑے ، جسم کی خارش اور سانس کی بیماری ۔خرگوش کی موت کی وجہ ہیں ۔

کسی بھی جان دار میں بیماریوں کے داخلے کے راستے ، حواسِ خمسہ کے اندرونی راستے  دماغ میں معلومات جمع کرتے ہیں  ۔ جن آنکھ، کان ، ناک ، منہ اور جلد ہیں۔اور یوں ہم اِن بیماروں کو آسانی سے  کیٹیگرائزد کر سکتے ہیں ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اگلا مضمون:خرگوش کی 8 عام بیماریاں۔

٭٭٭٭٭٭٭جاری ٭٭٭٭٭٭

   مزید مضامین پڑھنے کے لئے جائیں ۔

 فہرست ۔ خرگوشیات  

 

 

ہفتہ، 9 اپریل، 2022

پاکستان خرگوش کیسے پالے جائیں ؟

اُفق  کے پار بسنے والے خرگوش پال دوستو ۔

کسی بھی  ماں سے پیدا ہونے والے جان دار کی طرح   خرگوش کے بچے جب پیدا ہوتے ہیں تو ان کے کان اور آنکھیں بند ہوتی ہیں۔ جو کہ تقریباً  دس  دن بعد کھلتی ہیں۔اِس دوران، وہ ماں کے رحم و کرم پر پلتے ہیں۔ ماں صبح اور شام دوددھ پلاتی ہے ۔  اُن کے بال بڑھنا شروع ہوتے  ہیں۔

میرے گھر ، پلنے والی اِس مادہ خرگوش کو میں ، کالج روڈ سے چار دیگر جوڑے 22 اکتوبر کو  لایا تھا ۔

اِس نے پہلے اِسی رنگت کے چار بچے ، خود بنائی ہوئی سرنگ میں دیئے ۔ جس کا انکشاف ، اِس بوڑھے کو   10 مارچ 2022 کی رات کو ہوا ۔جب اُس نے  21:00 بجے کسی جانور کو  جھاڑیوں کی طرف بھاگتے دیکھا ۔  اگلی صبح بھتیجے نے بتایا ، کہ اِس  بل میں خرگوش کے بچے ہیں ۔ 15 دن پہلے  تین خرگوش ۔ غائب ہوگئے ، یہی خیال تھا کہ بلی یا نیولا کھا گیا ۔یہ  شائد اُن کے بچے ہوں ۔ 

11 مارچ کو ریسکیو آپریشن ہوا ، بچوں کو سرنگ سے نکالا اور پنجرے میں بند کردیا ۔ سرنگ میں ایک پائپ لگا کر اُس کو بند کردیا ۔ تاکہ اگر کوئی اور خرگوشنی اُسے استعمال کرے ۔ گھنٹے بعد بوڑھے نے ، ایک خرگوش مادہ کو پریشانی کے عالم میں شام کو سرنگ کا چکر لگاتے دیکھا تو خیال آیا کہیں ، اِس کے بچے تو نہیں ، پچکارا، پاس آئی تو اُٹھا کر بچوں کے پنجرے میں ڈالا بچے ، ماں پر ٹوٹ پڑے۔

 اگلے دن خرگوشنی نے چار بچے اور جنم دے دیئے ، پہلے والے بچوں کو ساتھ والے پنجرے میں ڈالا ۔ اور بچوں کے لئے  ڈبے کا انتظام کیا ۔ یہ بوڑھے کے پاس  ، خرگوش کے بچوں کی پنجرے میں  پہلی ولادت تھی  ۔

خرگوشنی  اپنی کھودی ہوئی سرنگ  کو بند کرکے  سبزہ کھانے نکل جاتی ہے ۔ اور اب پنجروں میں پلنے والے بچے  15 دن بعد سبزہ کھانا شروع  کر دیا  ۔خرگوشنی  کیوں کہ سرنگ  کا منہ بند رکھتی ۔لہذا سرنگ میں رہنے والے بچوں کا   30 دن بعدانکشاف ہوا ۔ 

وہ  رات کو اپنی   سرنگ  سے نکلتے ہیں اور نزدیک اُگا ہوا ،  سبزہ   کھاتے اور ذرا سی آہٹ پر وہ دوڑکر سرنگ میں داخل ہو جاتے  ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا مکمل انحصارماں پیاری  ماں پر ہوتا ہے!

خرگوش کے بچے  15دن بعد سبزہ کھانا شروع کر دیتے ہیں ۔ لہذا 30 دن بعد جب دوسرے بچے پیدا ہوتے ہیں ، تو وہ خود بخود ماں کا دودھ چھوڑ دیتے ہیں ۔خرگوش کے بنیز کو بالغ ہو کر نئی نسل کو پروان چڑھانے میں، جسم اور جسامت  کے حساب سے   ساڑھے تین سے نو ماہ لگتے ہیں  ۔ اوراِس عرصے میں  ، خرگوشنی ہر ماہ 4 سے 6  بچے ہر  ولادت  کے حساب سے ،  مزید 24 بچوں کو جنم دے دیتی ہے۔ ایک خرگوشنی  4 سے 12 بچوں کو ایک جھول میں جنم دیتی ہے ۔ ہم نے سمجھانے کے لئے 6 بچوں کا حساب فی حمل رکھا ہے ۔

نیدر لینڈ ،پولش، ڈارف،  ڈچ اور ہوٹوٹ  چھوٹے سائز کے خرگوش ساڑھے تین سے 4 ماہ میں بالغ ہو جاتے ہیں ۔ بالغ ہونے کا مطلب   ، زچگی کے عمل سے گزرنا ۔ درمیانے سائز کے خرگوش  4 سے ساڑھے پانچ ماہ لیتے ہیں اور  جینٹ ۔(giant) سائز کے خرگوش بالغ ہونے میں   6 سے 9 ماہ لیتے ہیں۔ یہ بات یاد رہے کہ خرگوشنی کو حیض نہیں آتے ، نر خرگوش سے ملاپ کے بعد ،اُس کی بیضہ سے ترائب ریلیز ہوتے ہیں ، جو 3 سے لے کر 11 تک ہوسکتے ہیں ۔ 

 جناب اگر نر خرگوش   (بازار سے خریدا ہوا ) بوڑھا نہیں ہوا ، تو وہ مہینے میں تیس خرگوشنیوں کو ماں بننے کے عمل سے گذارتا ہے اور ایک خرگوشنی  ، بچے دینے کے فوراً بعد  خرگوش حاملہ کر دیتا ہے ۔اگر آپ نے 30 خرگوشنیاں اور ایک خرگوش رکھا ہے  اور وہ نوجوان راسپوتین، روزانہ کے حساب سے ۔۔ ۔ ۔
چلیں  حساب کرتے ہیں :۔

٭ - ایک خرگوشنی کی حمل کی مدت30 دن  ہے ، زچگی کے بعد وہ   - اپنے بچوں کو دودھ پلائے گی  ۔ اور 10 دن بعد مدوبارہ حاملہ  کروائی جائے گی  ، ایک سال میں 52 ہفتے ہوتے ہیں ، 

 لہذا،  10 بار وہ زچگی کے عمل سے گذاری جائے گی ۔اگر وہ ایک حمل میں 6 بچے دے تو سال کے 150بچے ہوجائیں گے ۔جن میں سے پہلا بیچ 6 ماہ یعنی 230دن کے بعد  بچے دے  گا ۔ جن میں سے کم از کم  ہر بیچ میں تین خرگوشنیاں اور تین خرگوش فرض کئے گئے ہیں ۔تو اِس چارٹ کے مطابق :۔ 

  اپنے ہی باپ یا بھائیوں سے حاملہ ہونے والی خرگوشنیاں ۔ اپنے ماں اور باپ کی خالص نسل کو برقرار رکھتے ہوئے، 230سے 364  دن تک 90بچے دیں گی اور 60 بچے اُن کی ماں جنم دے گی ، یوں 360 دن بعد آپ کے پاس  ایک جوڑے سے ،کم از کم 150مقامی خرگوش مزید ہوجائیں گے۔

اگر حالات جوں کے توں رہے ۔

لیکن خرگوش پال (ربیتانو) دوستو ۔

یہ ذہن میں لازمی رکھیں کہ  حالات کو بیماریاں سرے سے تبدیل کر دیتی ہیں!     ۔

لہذا اِس بیان کو صرف خرگوش فارمر کا  بیان  سمجھیں ۔


٭٭٭٭جاری ٭٭٭٭

  مزید مضامین

 فہرست ۔ خرگوشیات  

 

بدھ، 6 اپریل، 2022

ربّ العالمین کون ہے ؟

ربّ العالمین کون ہے ؟  اُس کا ہماری زندگی سے کیا تعلق ہے ؟     
ایسے کئی سوالات ہیں جن کے جوابات ، ہر 
صاحبِ عقل و دانش ، فہم و فکر ، شعور و تدبّر ۔کے ذہن میں مچلتے ہیں ۔
موجودہ سائینس نے کائینات کی ہر شئے ، بشمول انسان سب کو آٹومیٹڈ نظام میں ڈال دیا ہے اور ایسا ہی ہے ۔ انسان کے سامنے ہر شئے خودکار طریقے سے وجود میں آرہی ہے ۔ اور یہ  انسانی فہم 100 فیصد درست ہے ۔ 

اِس آٹومیٹڈ نظام  کی ابتداء کیسے ہوئی ؟
سائینس  یہ بتانے سے قاصر ہے ۔ اُس کے نزدیک  یہ سب غالباً کسی بِگ بینگ کا نتیجہ ہے جو ارب ھا سال پہلے  ہوا   اور یہ کائینات وجود میں آئی ۔ اور خودکار طریقے سے  آتی چلی جارہی ہے ۔
اِس خود کار طریقے کا  مؤجد کون ہے ؟
سائینس  یہ بھی  بتانے سے قاصر ہے ۔لیکن وہ اصولِ واحد  (Single Principle) کو مانتی ہے ، جس کی بنیاد    کائینات کی تمام تخلیقات ہیں ۔وہ اصول واحد، سائنس کے مطابق ، ایک یا ایک سے زیادہ اشیاء کے ملاپ کے کائینات کی چیزوں کو تخلیق کئے جارہا ہے ۔اور انسانی نظروں سے اوجھل(غائب) ہے   اور ابھی تک کسی انسانی آنکھ نے اُسے دیکھنے کا دعویٰ نہیں کیا ۔

لہذا تمام سائنس پر  یقین کرنے والے لوگ   ، غیبی قوتِ تخلیق پر ایمان رکھتے ہیں ۔ اور وہ تمام جدید ترین انسانی تخلیق کردہ اشیاء جو اُن کی زندگی میں صدیوں سے شامل ہو رہی ہیں وہ اُن کے خالق سے نا آشنا ء ہیں ۔ لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ کسی انسان کی تخلیق نہیں ، بلکہ مشینوں کی ہے ۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں  کہ یہ مشین بھی کسی انسانی ہاتھ کی ایجاد ہے ۔ 

انسان کی زندگی کو آسان بنانے کے لئے جو بھی ایجادات ہوئی ہیں وہ سب ، ایجاد کرنے والے انسان نے ، اپنے ارد گرد کی اشیاء  کی مشاہدے کے بعد  اتفاقاً نئی شئے  غیب سے ظہور میں آنے کے بعد عقل و دانش ، فہم و فکر ، شعور و تدبّر کے بعد اُس کی مشابہ چیز اپنے تخیّل میں اَخذکی اور اِسے انسانوں کو بتایا  کہ ، انسانی بھلائی کے لئے ،ایسا بھی ہو سکتا ہے ۔ اُسے عملاً ڈھالا جسے اُس کے ارد گرد موجود انسانوں نے دیکھا ۔

اگلے دانشمند انسان نے اپنے صلاحیتوں کی بنیاد پر اُسے ایجاد کر لیا ۔اِس طرح کئی اشیاء ہیں جو انسان نے حادثاتی طور پر دریافت کیں ۔ جس کو سن کر ہم سب خوشی سے کہتے ہیں ۔

  واہ 

 صدیوں پہلے ایک ہماری طرح کے انسان نے  ، کلمہءِ تحسین بلند کیا ۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۔ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔

او ر خود کو  رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ  کالقب  یہ کہہ کر  دیا  ۔ 

 إِنَّ فِي هَذَا لَبَلَاغًا لِّقَوْمٍ عَابِدِينَ ۔ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ۔ قُلْ إِنَّمَا يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَهَلْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ ۔ ۔  ۔

جس کو الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ    نے  صدق دل سے قبول کر لیا  کہ یہ انسانی نہیں بلکہ

  إِلَهٌ وَاحِدٌ۔ کی طرف سے وحی ہے ۔ جس سے اُن کا پہلے سے کوئی تعارف نہیں ہے ۔  چنانچہ  الَّذِينَ ،    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سےمِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ   تک يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ     بن گئے   ۔  

کیا آپ بھی اِن میں شامل ہیں ؟؟ 

 

پڑھیں : آٹومیٹڈ نظام   نظامِ فطرت-

 ٭٭٭٭

 
 


پاکستان میں ریبٹ میٹ مارکیٹنگ۔

بوڑھے کو جانور اور پرندے پالنے کا شوق ہے اور یہی شوق اُس کے بچوں کو بھی تھا ۔جو اسلام آباد شفٹ ہونے کے بعد ، ختم کردیا ۔ 

  بچوں کے بچوں کی خواہش پر، چوزے ، مرغیاں  ، دیسی ، ولائیتی ، فینسی ، اصیل  ، طوطے ، کبوتر ، غمرے ، بٹیر ،تیتر  ،  پرندے ،  بلیاں ، کتے  اور  خرگوش   ، سب پالنے لگا ، یہ شوق دوبارہ کراچی کمپنی سے  چم چم کے لئے ، رنگ برنگے  چوزے، چنّو اور منّو ،  خریدنے سے  دوبارہ شروع  ہو ا-

امپورٹڈ  خرگوشوں کے سلسلے میں میرا پہلا رابطہ ،ایک وٹس ایپ فورم JOBS,BUSINESS, INCENTIVE  سے شروع ہوا ، جس کے ایک ویٹرن  ممبر راؤ جعفر اقبال   نے مجھے  پاکستان ایسوسی ایشن آف ریبٹ انڈسٹری (PARI)میں شامل کرکے کیا۔ وٹس ایپ پر ممبروں کی باتیں ، خرگوش کہانیاں ، قصے ،جھگڑے ، تصاویر نے بوڑھے کو بہت محظوظ کیا اور معلومات دیں ۔ 

راؤ جعفر صاحب نے ، اپنے رانگڑوں کی ایک تنظیم  کی داغ بیل ڈالنے کی کوشش کی ، جس میں خرگوش  کے گوشت کی اہمیت اور ایکسپورٹ کے لئے کاوش کے لئے پرائیوٹ  لمیٹڈ کمپنی کی شروعات کے لئے ، خرگوش پال شوقین کو اکھٹا اور ایک پلیٹ فارم پرلانے کی کوشش شروع کیں ، اپنا پلان بتایا ۔ بوڑھا جہاں پسند آجاتا ، اپنا لائیک کا حصہ ضرور ڈالتا ۔ کئی ممبروں نے معلومات کے   غیرملکی  ، فارمرز کی وڈیوز ڈالیں ، بوڑھے نے خوب انجوائے کیا ۔ 

جیسے  پہلے لکھا ہے   ۔ کہ بوڑھا بھی خرگوشوں کا شوقین ، بوڑھے سے ملنے کے لئے آنے والے مہمان ، ہرے بھرے لان میں ، پول چیئرز پر بیٹھ کر اپنے ارد گرد ، سفید رؤئی کے گالوں کو لڑھکتے اور پھدکتے دیکھتے ، بوڑھے کا اُن کو اپنے ہاتھ سے مساج کرانے اور  ، خوراک کھلانے  کی وڈیو بناتے ، اپنے بچوں  کو بھجواتے  اور انجوائے کرتے-

بوڑھے کےعلم میں اضافہ ہوا   کہ پاکستان میں امپورٹڈ خرگوشوں کے فارم گھر گھر بن رہے ہیں ، جو پاکستان کے بڑے فارمرز کے زیر سایہ پھل پھول رہے ہیں ۔ جو مبارکباد کے مستحق ہیں کہ وہ اس انڈسٹری کو فروغ دے رہے ۔ 
  اپنی  پروڈکشن ھب بڑھانے کے لئے ،بڑے فارمرز چھوٹے فارمرز کو خرگوش ایک نر اور تین یا زیادہ مادہ مختلف قیمتوں بیچتے ہیں ، نئے فارمرز کے ساتھ یہ ایگریمنٹ کرتے ہیں کہ وہ جب یہ مادائیں بچے دیں گی۔ تو وہ نر بچے  اِن ہی کو بیچیں گے اور مادائیں اپنے پاس رکھیں تاکہ اُن کے فارم کی  قوتِ افزائش بڑھے ۔اور وہ معاشی لحاظ سے  بہتر سے بہتر ہوتے جائیں ، کیوں کہ ایک مادہ ایک جھول میں  تین سے نو بچے دیتی ہے اور بچوں کی پیدائش کے بعد دوبارہ حاملہ ہو جاتی ہے ۔یوں پورے سال میں  ایک مادہ سے کم از کم 12 اور  کاغذی پلاننگ کے مطابق ، زیادہ سے زیادہ 36 بچے حاصل کئے جا سکتے ہیں ۔ 
اُن کی مارکیٹنگ چال نے نے کئی کولمبس جنم دیئے۔ جو کروڑ پتی تو نہیں لکھ پتی  بننے کے چکر  ، اِن فارمز کے گرداب میں پھنس گئے ، ایسا ہی ایک کیس ، " پری " کے پاس آیا جس میں ایک بڑے فارمر داتا ریبٹ اور حمزہ رندھاوا کا تھا ۔ بوڑھے کو راؤ صاحب نے " جسٹس آف پیس " وٹس ایپ گروپ میں ڈال دیا ۔ حمزہ رندھاوہ نے بوڑھے کی ڈیمانڈ پر ایگریمنٹ بھجوایا ۔ 
بوڑھے کا اصول ہے کہ جب بھی کسی مسئلے کو سمجھنا ہو ، تو زیرو پوائینٹ سے شروع کرو، جو آپس میں لین دین (بزنس )کے معاملے میں ایگریمنٹ ہی ہوتا  ہے ۔ ہم مسلمان ہیں ، لہذا ہمارے  لئے ، رحمت للعالمین کے تلاوت کردہ  الفاظ کی اہمیت ہے ۔ اور ہم ہی ایگریمنٹ میں ایسا جھول ڈالتے ہیں ، جس سے  مُحَمَّدٌ  رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ   نے منع  (البقرہ 282) کیا کیاہے ۔
تواُفق کے پار بسنے والے میرے خرگوش پال دوستو ۔ آئیں ہم اب دریا کی مضالف سمت تیرتے ہیں اگر آپ میں ہمت ہے اور وہ یہ کہ میں ،  6 مہینے تک خرگوش پال کر ، خرگوشت مافیا کو کیوں بیچوں ۔ یاد رکھیں کوئی غیر ملکی آپ کے خرگوش کا گوشت آپ سے نہیں لے گا ۔
آپ کو اپنی محنت چند ٹکوں کی خاطر ، ایکسپورٹر مافیا کو دے کراِن کو ہزاروں  روپے کا فائدہ پہنچاتے ہیں ۔
 کیوں نہ اپنے ،رشتہ داروں ، عزیزوں ،  دوستوں اور اُن لوگوں کو خرگوش کا گوشت کھلاؤں جو مہنگا بکرے کا گوشت نہیں کھا سکتے ، سفید گوشت یعنی مرغی  اور مچھلی  کھانے کی ہمت نہیں ۔

تو آئیں: کیوں نہ  ایک بار پاکستانی میں خرگوش   کے گوشت کی کھپت میں اضافے کے لئے  ، عوام میں کچن گارڈن کی طرح مقبول کرانے کے لئے   کیوں نہ ایسا پروگرام بنایا جائے ، جو مقامی خرگوش کے گوشت کے گھریلو استعمال  کو فروغ دیا جائے ۔

٭٭٭٭٭٭٭جاری ٭٭٭٭٭٭

  مزید مضامین

 فہرست ۔ خرگوشیات  

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔