Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 6 اپریل، 2022

ربّ العالمین کون ہے ؟

ربّ العالمین کون ہے ؟  اُس کا ہماری زندگی سے کیا تعلق ہے ؟     
ایسے کئی سوالات ہیں جن کے جوابات ، ہر 
صاحبِ عقل و دانش ، فہم و فکر ، شعور و تدبّر ۔کے ذہن میں مچلتے ہیں ۔
موجودہ سائینس نے کائینات کی ہر شئے ، بشمول انسان سب کو آٹومیٹڈ نظام میں ڈال دیا ہے اور ایسا ہی ہے ۔ انسان کے سامنے ہر شئے خودکار طریقے سے وجود میں آرہی ہے ۔ اور یہ  انسانی فہم 100 فیصد درست ہے ۔ 

اِس آٹومیٹڈ نظام  کی ابتداء کیسے ہوئی ؟
سائینس  یہ بتانے سے قاصر ہے ۔ اُس کے نزدیک  یہ سب غالباً کسی بِگ بینگ کا نتیجہ ہے جو ارب ھا سال پہلے  ہوا   اور یہ کائینات وجود میں آئی ۔ اور خودکار طریقے سے  آتی چلی جارہی ہے ۔
اِس خود کار طریقے کا  مؤجد کون ہے ؟
سائینس  یہ بھی  بتانے سے قاصر ہے ۔لیکن وہ اصولِ واحد  (Single Principle) کو مانتی ہے ، جس کی بنیاد    کائینات کی تمام تخلیقات ہیں ۔وہ اصول واحد، سائنس کے مطابق ، ایک یا ایک سے زیادہ اشیاء کے ملاپ کے کائینات کی چیزوں کو تخلیق کئے جارہا ہے ۔اور انسانی نظروں سے اوجھل(غائب) ہے   اور ابھی تک کسی انسانی آنکھ نے اُسے دیکھنے کا دعویٰ نہیں کیا ۔

لہذا تمام سائنس پر  یقین کرنے والے لوگ   ، غیبی قوتِ تخلیق پر ایمان رکھتے ہیں ۔ اور وہ تمام جدید ترین انسانی تخلیق کردہ اشیاء جو اُن کی زندگی میں صدیوں سے شامل ہو رہی ہیں وہ اُن کے خالق سے نا آشنا ء ہیں ۔ لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ کسی انسان کی تخلیق نہیں ، بلکہ مشینوں کی ہے ۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں  کہ یہ مشین بھی کسی انسانی ہاتھ کی ایجاد ہے ۔ 

انسان کی زندگی کو آسان بنانے کے لئے جو بھی ایجادات ہوئی ہیں وہ سب ، ایجاد کرنے والے انسان نے ، اپنے ارد گرد کی اشیاء  کی مشاہدے کے بعد  اتفاقاً نئی شئے  غیب سے ظہور میں آنے کے بعد عقل و دانش ، فہم و فکر ، شعور و تدبّر کے بعد اُس کی مشابہ چیز اپنے تخیّل میں اَخذکی اور اِسے انسانوں کو بتایا  کہ ، انسانی بھلائی کے لئے ،ایسا بھی ہو سکتا ہے ۔ اُسے عملاً ڈھالا جسے اُس کے ارد گرد موجود انسانوں نے دیکھا ۔

اگلے دانشمند انسان نے اپنے صلاحیتوں کی بنیاد پر اُسے ایجاد کر لیا ۔اِس طرح کئی اشیاء ہیں جو انسان نے حادثاتی طور پر دریافت کیں ۔ جس کو سن کر ہم سب خوشی سے کہتے ہیں ۔

  واہ 

 صدیوں پہلے ایک ہماری طرح کے انسان نے  ، کلمہءِ تحسین بلند کیا ۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۔ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔

او ر خود کو  رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ  کالقب  یہ کہہ کر  دیا  ۔ 

 إِنَّ فِي هَذَا لَبَلَاغًا لِّقَوْمٍ عَابِدِينَ ۔ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ۔ قُلْ إِنَّمَا يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَهَلْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ ۔ ۔  ۔

جس کو الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ    نے  صدق دل سے قبول کر لیا  کہ یہ انسانی نہیں بلکہ

  إِلَهٌ وَاحِدٌ۔ کی طرف سے وحی ہے ۔ جس سے اُن کا پہلے سے کوئی تعارف نہیں ہے ۔  چنانچہ  الَّذِينَ ،    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سےمِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ   تک يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ     بن گئے   ۔  

کیا آپ بھی اِن میں شامل ہیں ؟؟ 

 

پڑھیں : آٹومیٹڈ نظام   نظامِ فطرت-

 ٭٭٭٭

 
 


جمعہ، 1 اپریل، 2022

حیوانات- خرگوش جنگل کا باسی

      انسانی تہذیب  جو صدیوں پرانی ہے ، جس کی ابتداء  آسمان کی پنہائیوں سے الارض پر جنت سے بطور سزا اتارے گئے ، پہلے انسان آدم  اور اُس کی ذریّت  جس کے لئے الارض کو ربِّ کائینات نے ، انسان کے لئے الارض کوسکون کے لئے جنت اور  تنبیہ  کے لئے دوزخ  کی متشابھات بنادیا۔ 

اور کتابِ فہرست  رہائش برائے الارض اُسے تھما دی ۔

أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَن يُهِنِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِن مُّكْرِمٍ إِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ [22:18]    

وہ الارض پر  اپنے ارددگرد پھیلی ہوئی کائینات کو دیکھتا،الدَّوَابُّ (حیوانات) پر نظر ڈالتا اور پھر اُس نے اُنہیں اپنی خوراک ، سواری شکار اور لطف کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا ۔ رات کو  کھلے آسمان کے نیچے لیٹے وہ جگمگاتےالنُّجُومُ   (ستاروں) کو دیکھتا،   اُن سے باتیں کرتا  اور اُن سے مشھابھات تراشتا  اورخواب میں  یہ تمام ستارے  مختلف تشبیھات  بن کر اُسے مستقبل کی اچھی راہیں دکھاتے ۔ اور جرائم پر سرزنش کرتے ۔ یوں انسان کی ستارہ شناسی ( فلمی ستارے نہیں) کی خفتہ صلاحیتیں  ذہن میں بیدار ہونا شرو ع ہوئیں ۔

اب یہ نہیں معلوم کہ پہلی انسانی تہذیب کون سی تھی؟  افریقی یا میسوپوٹمیائی !۔

لیکن اِس بوڑھے کے فہم کے مطابق ۔ آدم افریقی اور اُس کی زوج نیلی آنکھوں والی ہی تھی ۔جن کی نسل میں ،  رنگت اور زُبان سے فرقے بنے اور جھگڑے پیدا ہونے کے ساتھ مختلف التشبیہ انسانی حیوانات وجود میں آنا شروع ہو گئے ۔ ( فہم کو مزید بہتر بنانے کے لئے پڑھیں۔ افریقہ کے ماضی بعید میں سفر

     بوڑھے کی بچپن سے حیوانات میں دلچسپی تھی ، اُنہیں پالنا بوڑھے کے کئی مشغلوں میں سے ایک تھا ۔ہر وہ حیوان جس کا بچہ بوڑھے کو ملتا  بوڑھا اُسے گھر لے آتا اور بوڑھے کے بچے بھی اتنی ہی دلچسپی کے ساتھ ، اُس  حیوان کی دیکھ بھال کرتے ۔ ریٹائرمنٹ کے بعدجب بچوں نے  شادی کے بعد ،اپنے گھروں کی راہ دوسرے شہروں بغرض رزق و اسباب لی تو بوڑھے اور بڑھیا کا سفر چم چم کے دو چوزوں  چنکو اور پنکو  سے شروع ہوا۔اور چلتا ، رُکتا اور پھر چلتا چلتا، خرگوش بانی تک آپہنچا ۔ خرگوشوں سے بوڑھے کی دلچسپی، جنگلی خرگوشوں کے شکار اور اُنہیں کھانے تک تھی ۔ پالتو خرگوشوں کو نہ پالنے کی وجہ اُن  کی حیرت انگیز  بہبود آبادی کا  ، سال میں فی خرگوشنی 50 سے 100 نو مولود تھا ۔ جس کی پرورش معاشی اور رہائشی اعتبار سے ممکن نہ تھی  ۔

عدیس ابابا سے واپسی کے بعد  برفی کی فرمائش پر،  برفی کے لئے  روئی کے گالوں کی طرح دو سرخ آنکھوں والے خرگوش کیا آئے گھر کے لان میں زندگی دوڑ گئی ۔یوں خرگوش بانی کا جو باب ابھی بند تھا وہ کھل گیا ۔

اُفق کے پار بسنے والے دوست جانتے ہیں کہ خرگوش ستاروں کی دنیا کا باسی ہے ۔جسے رات کو کروٹیں بدلتے اور علم الآفاق کر غور و فکر کرنے والوں  نے، آیات اللہ  میں  اپنی تشبہیات سے ڈھونڈھ نکالا ۔  


کرہ ارض پر خرگوش کی ابتدا یعنی خرگوشوں کا جد امجد ، برفانی خرگوش تھا یا جنگلی خرگوش ؟ 

کیوں کہ اِس کا تعین اِس لیے ضروری ہے کہ بات ، زُبان نہیں بلکہ رنگت پر رُک جاتی ہے یعنی کالا خرگوش یا گورا خرگوش ، کالی ، بھوری ، سرخ آنکھوں والا یا نیلی آنکھوں والا خرگوش ۔

 خرگوشوں کی راہ کھوجتے کھوجتے ایک نیک دل، خرگوش پال برادری کے دوست  جناب راؤ  جعفر اقبال  کے وٹس ایپ   گروپ میں پہنچ گیا ۔ بہت اچھی کاوش تھی ۔ خرگوشوں کی نئی نئی قسمیں جو پاکستان میں برائے خوراک (گوشت) ہیں اُن کے بارے معلوم ہوا ۔ یعنی تین سے پانچ کلو کے خرگوش ۔

 گو کہ اِس نئے جانور نے ابھی تک اپنے "جد  یعنی خر"  کا ریکارڈ نہیں توڑا  ، صرف کانوں کی لمبائی سے اپنی ذرّیت کو انسانوں میں مقبول کروادیا ۔لیکن کوششیں جاری ہیں ۔ خرگوشوں کی نہیں بلکہ انسانوں کی۔


 

 بوڑھے نے بھی مرغیاں، بطخیں ، کبوتر  ، طوطے ،مقامی خرگوش   پالنے کے علاوہ ، جہازی سائز کے خرگوشوں کی دنیا میں قدم رکھ دیا ہے۔ اور ابتداء اِن کے بچوں سے کی ہے ۔ جو پہلی چار خرگوشوں کی کھیپ بذریعہ کورئیر 100 آسٹرو لارپ چوزوں کے ہری پور  کے باشندے  کے آن لائن فراڈ کے بعد منگوائی۔

وہ رائے ونڈ سے جناب امجد صاحب نے پہنچائی ۔جن میں سے ایک راستے میں دم توڑ گیا۔جو غالباً ناقص پیکنگ کا نتیجہ تھا۔

 یہ نیوزی لینڈ وائیٹ ، براستہ انڈونیشیاء سے ٹیٹو شدہ پاکستان امپورٹ ہوئے ۔   نہایت صحت مند اور خوبصورت ، افسوس کے ساتھ بوڑھے کو خوشی بھی ہوئی کہ وہ امپورٹڈ خرگوش پال برادری میں شامل ہو گیا ۔

دادا بابا ہمار گھر گریویارڈ (قبرستان) بن چکا ہے ، کیوں کہ تمام پالتو مرنے والے پرندے و حیوانات باقائدہ تقریب کے ساتھ دفن ہیں ۔چنانچہ نیوزی لینڈر بنّی کو بھی دفن کر دیا گیا ۔

اب مسئلہ پیدا ہوا رہائش کا ۔ مقامی خرگوش تو عام فلیٹوں  یعنی ریبٹ کوارٹرز  میں رکھے ہوئے تھے

 انہیں گیسٹ روم -1 اور 2 میں رہائش دی ۔

امپورٹڈ خرگوشوں کے لئے یوزر فرینڈلی بنگلے بھی بنوانے تھے ۔ چنانچہ  فوری بنیاد پر نئی تعمیر شروع کی ۔جس کے لئے مدد ، ریبٹ ایسوسی ایشن کےعامر اقبال نے مختلف ریبٹ بنگلوں کی تصاویر بھیجیں تنزانیہ کے ایک دوست نے بھی اپنے فارم کی وڈیوبھجوائی ۔ چنانچہ بوڑھے نے ، اپنے فہم کے مطابق دستیاب سامان، یعنی پڑتل کی لکڑی  اور جالی  سےخرگوشوں کی ھاؤسنگ سکیم کے لئے ،بنگلے بنائے ۔جن پر کل لاگت 2995 روپے آئی۔

جن میں نکاسی کا پورا انتظام کیا۔ 


٭٭٭٭٭٭٭٭

اگلا مضمون ۔خرگوشوں  کی اقسام  ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭

کمیشن کا نوجوان امیدوار اور بوڑھی کتھا

جنٹلمین کیڈٹ ۔ محمد نعیم الدین خالد ۔ فرسٹ ٹرم اور رنگ زیب کمپنی پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول ایبٹ آباد ۔
معلوم نہیں کہ ماضی  کے  بعیدی  واقعات  کیوں چشمِ زدن میں   دماغ کی اتھاہ گہرائیوں کسی ڈولفن مچھلی کی طرح  اُفق کے پردے پر پوری جزئیات سے  نمودار ہوتے ہیں ۔
سر میں نے ریکروٹنگ آفس جانا ہے تاکہ 150 لانگ کورس کے بارے معلومات حاصل کرو ں۔
"واہ زبردست"   بوڑھا بولا ، شاندار آئیڈیا   ۔ ضرور کوشش کرو ۔ نوجوان حافظ حمزہ ریاض کو بوڑھے نے تھپکی دی ۔ کوئی مدد چاھئیے تو ضرور بتانا ۔  ابھی تھوڑی دیر پہلے حمزہ نمل یونیورسٹی سے لینگوئج کورس کی کلاس اٹینڈ کرکے آیا ۔حافظ حمزہ ریاض بوڑھے کی پوتی  برفی کو سپارہ پڑھاتا  ہے ، آج جمعہ کی چھٹی تھی   تو بوڑھے نے اُسے ، فوج میں کمیشن لینے کے گُُر پڑھا دیئے  اور بوڑھا اُس کے جانے کے بعد ،  اپنے ماضی میں گم ہوگیا ۔    بوڑھی داستان جوان ہو کر سامنے آگئی  ۔
 یہ  1974 اپریل کی ہی  بات ہے کہ تحریری  امتحان  کے  ڈیڑھ ماہ بعد ہمیں یہ مژدہ پڑھنے کو ملا کہ۔ میڈیکل بورڈ کے سامنے سی ایم ایچ ملیر کینٹ میں پیش ہوں۔ اِس کا مطلب تھا کہ ہم تحریری امتحان میں پاس ہوگئے ہیں۔
 بس کیا تھا ہم تیسرے مرحلے کے لئے تیار ہونا شروع ہوئے۔ ارسطو اور افلاطون نے ہمیں ایک کام کی بات بتائی کہ،
 ”کھانسنے کے بعد ڈاکٹر یک دم  امیدوار کا پیٹ پکڑ کر زور سے دباتا ہے اور اُس کے بعد ٹونٹی لگا کر دل کی دھڑکنیں گنتا ہے۔ بس وہاں تیار رہنا  وہ سب سے خوفناک مرحلہ ہوتا ہے“
 ہم میڈیکل کے لئے پہنچے وہاں بھانت بھانت کے لوگ آئے تھے۔ 
ہم  میڈیکل میں کامیاب ہوگئےاور آئی ایس ایس بی ،کے آخری مرحلے کی تیاری میں مصروف ہونا پڑا ۔  تیاری کیا تھی بس اپنی انگریزی کو انگلش میں تبدیل کرنا تھا۔ 
افلاطون نے کہا ،" انگلش فلمیں دیکھو ، انگلش "
ارسطو نے کہا ، "ابے ، اُس  کی انگلش ٹھیک کروانے کا بول کردار خراب  کروانے کا نہیں "  

پھر ارسطو نے ہمیں اپنے گھر سے ، آئی ایس ایس بی کی تیاری کی کتابیں لا کر دیں ۔   جو بقول اُس کے نئی نکور تھیں ۔ کیوں کہ اُس نے اُنہیں چُھوا تک نہیں ۔ہمارے پاس بھی وہ تقریباً نئی نکور ہی رہیں ۔

 ستمبر  1974 کے آخری دن ہمیں لیٹر ملا کہ 27 اکتوبر سے 31 اکتوبر کے درمیان   ، ہمیں کوہاٹ میں انٹر سروسز سلیکشن بورڈ کر روبرو پیش ہونا ہے ۔
 لہذا  ہم 27 اکتوبر 1974 کے دن 1500 بجے سے پہلے پہلے ، ڈپٹی اسسٹنٹ  ایڈجوٹنٹ جنرل کے پاس رپورٹ کریں ۔
    ریل سے راولپنڈی کا  عوامی میل میں سفر  ، دو دن چچا کے ہاں قیام اور پھر وہاں سے   بس  اڈے پر پہنچے جہاں ، سے آدھی بس  " فیوچر کمیشنڈ آفیسراں " کی تھی ، بس میں نوجوانوں کی موجودگی کے باوجود پراسرار ، خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔ جن کے جلو میں  کوہاٹ  پہنچے۔
  " فیوچر کمیشنڈ آفیسراں " کا یہ قافلہ ،  بس اڈے پر آئی  ہوئی ،ایس ایس بی کی بس میں بیٹھ کر ، منزلِ مقصود  پہنچا ، جہاں اپنے کاغذات دیئے ، ایک چٹ دی جس میں کمرے کا نمبر اور چیسٹ نمبر لکھا تھا ، ویٹرز نے سامان اٹھایا ، کمرے میں پہنچے ، خودکو تازہ دم کیا اور میس پہنچ گئے۔ جہاں ہمیں بریفنگ دی گئی اور فارم بھروائے گئے اور اگلے دن ہمیں ٹیسٹوں کے رولر میں سے گذارا جانے لگا اور یوں چوتھا دن آگیا۔ گو کہ ہمیں تقریباً   آئی ایس ایس بی  کی کٹھالی سے گذرے نصف صدی گذر گئی  لیکن کل کا واقعہ لگتا ہے ۔تین دن آئی ایس ایس بی میں گذار کر  چوتھے دن   ہمیں  دن ہمیں نامہ اعمال ملنا تھا۔ سب ایک دوسرے سے اپنی پرفارمنس کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔  اپنی پرفارمنس کے بارے میں ہر امید وار ، پُر امید تھا۔کہ وہ یقیناً منتخب ہوجائے گا ۔
سوائے ہمارے  ،وہ یوں کہ جب ڈپٹی  پریذیڈنٹ نے اپنے انٹرویو میں پوچھا،
”اخبار پڑھتے ہو؟“
 ہم نے جواب دیا،”نہیں“ ۔ 
”کیوں؟“ اُنہوں نے پوچھا۔
”سر ! میں  بی اے فائینل ائر کے امتحان دے رہا ہوں، وقت نہیں ملتا“  ہم نے جواب دیا۔
”آج اینٹی روم میں اخبار تو دیکھا ہوگا؟“ سوال ہوا۔
”جی سر!“  ہم نے جواب دیا۔
”اُس میں سے کیا پڑھا؟“ انہوں نے پھر پوچھا۔
 ”سر جو صفحہ میرے ہاتھ آیا اُس میں سے صرف ٹارزن کی کہانی پڑی“  ہم نے جواب دیا۔
 ”ہوں ں ں ں،" ایک لمبا ہنکارا  بھر کر پوچھا ،
"  کیا تھا اُس میں؟“
ہم  وہ قسط سنا دی جو اخبار میں تھی۔
”تمھیں ٹارزن کی کیا بات پسند ہے؟“ پھر سوال ہوا  ۔ 
”سر، ٹارزن مضبوط کردار کا ایک ہمدرد انسان ہے جو مصیبت میں گھرے لوگوں کی مدد کرتا ہے“۔ہم نے جواب دیا ۔ 
اُنہوں نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے،  مسکرا کر پوچھا،
”اور اُس کی بیوی جین تمھیں کیسی لگتی ہے؟“۔
 ”سرو ہ بھی ٹارزن کی طرح ایک بہادر اور ہمدرد عورت ہے“ ہم نے جواب دیا ۔ 
”اچھا اگر تم نہ سلیکٹ ہوئے تو آئیندہ کیا کروگے؟“  انہوں نے پوچھا۔ دل میں سوچا سر غلیل تو ہر حالت میں بنانی ہے ۔ خوا ہ سائیکل کی ٹیوب سے بنے یا  ۔ ۔ ۔ ۔  !
 ”سر میں اکنامکس میں ماسٹر کرنے کے بعد ایجوکیشن کور کے لئے ایپلائی کروں گا“ میں نے جواب دیا۔ 
”گڈ ٹھیک ہے۔ ایجو کیشن آفیسر، تم جاسکتے ہو، وش یو گڈ لک“  انہوں نے مستقبل بعید کی امید دلائی ۔
یوں  آفس سے کشتیاں جلا کر باہر نکل آیا۔ سب اینٹی روم میں بیٹھے ہوئے ، ایک بجے کھانا کھایا ، کھانے کے بعد میس کے سامنے  جمع ہونے  کا حکم ملا ،  تھوڑی دیر بعد ایک سٹاف آیا اور بولا،
”جن صاحب کے میں نام پکاروں وہ سب پریزیڈنٹ صاحب کے انٹرویو کے لئے رک جائیں گے اور باقی تمام صاحب ،اپنی کلیرینس کروا کر گھر جائیں۔ لیٹر اُن کے گھر آجائیں گے"۔
 کوئی پندرہ امیدواروں کے نام پکارے گئے۔ اُن میں سے ایک ہمارا بھی تھا۔  وقار، ذوالفقار، فاروق،طغرل،   وغیرہ کے نام یاد   ہیں ۔ کیوں کہ ہم سب ساتھ پی ایم اے  گئے تھے۔
 ہم سب کو سلیکشن کا مژدہ سنایا گیا اور کچھ فارم بھروائے گئے اورعصر کے بعد   " فیوچر کمیشنڈ آفیسراں " نے  آئی ایس ایس بی سے گھر اور پھر اکیڈمی جانے  کے لئے خوشی خوشی  رختِ سفر باندھا۔
اِس خوشی کے عالم کا لمحہ، شگفتہ گوئی کے  جناب مرزا صاحب سے   پوچھا جاسکتا ہے ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔