Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
‏کلام اللہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏کلام اللہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 23 ستمبر، 2021

القرآن کے پہلے حافظ ۔ مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ

القرآن ۔
 روح القدّس (جبرائیل) نے مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّين کو ، کائینات کے خالق کا ناقابلِ تبدیل حکم ، عربی میں قرءت کرکے صدیوں پہلے ۔اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ سے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ تک پہنچایا ۔
 جسے مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّين سے سننے والوں نے ، عربی میں حفظ کیا اور لکھ بھی لیا ۔جو کرہءِ ارض پر القرآن کہلاتا ہے ۔القرآن کیا جاتا ہے اور القرآن کہلایا جاتا رہے گا ۔

 ٭٭٭٭٭٭
اُفق کے پار بسنے والے ، خالد مہاجر زادہ کے دوستو !۔
یہ ناچیز سیاچین میں ڈیوٹی کے دوران کچھ ایسے واقعات کا شاہد ہے جس نے مہاجر زادہ کی زندگی کا رُخ موڑ دیا ۔اور اُس نے مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّين   کے اِس دعویٰ کے بعد ۔ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَ رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۔  خود کو القرآن  سے مضبوطی سے جوڑ لیا ۔
اللہ کا احسان ہے کہ 28 اگست 2021 کو ، اُس نے خالد مہاجرزادہ کو زندگی کے کچھ اور لمحات ، اِس دنیا میں گذارنے کا ایک موقع اور دے دیا ۔
٭۔24-09-2021 کی صبح 2:00 بجے مہاجرزادہ کی آنکھ کھلی ۔ اللہ کے حکم کے مطابق  عمل کیا اور لیپ ٹاپ پر یہ مضمون ڈھونڈا ۔
اور اِسے کاپی پیسٹ کر کے وٹس ایپ اور فیس بُک پر اُفق کے پار بسنے والے تما م دوستوں کو بھیج دیا ۔ 
اِس اللہ کی طرف سے دی جانے والی بشارت کے بعد کہ :۔

اگلے مضامین:۔
 
 
 
٭٭٭٭ ٭٭٭
 
   
 
 
 
 
 
 
 

بدھ، 22 ستمبر، 2021

م ق ت ۔ اللہ کے عربی میں تین الفاظ

2021-09-19-

اُفق کے پار بسنے والے  ، پیارے پیارے  انسان دوست    بھائیو  اور بہنو  اور ۔
سب سے گھٹیا تکبّر اللہ کے نزدیک ، انسانی قول و فعل کا تضاد ہے ۔ جسے اللہ نے اپنے کلام میں  كَبُرَ مَقْتًا  ، مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ  کو بتایا ہے:

الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَانٍ أَتَاهُمْ كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللَّهِ وَعِندَ الَّذِينَ آمَنُوا كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ۔
  

اپنے  قول و فعل میں تضادرکھ کر اللہ سے جدل کرنا ہے ؟۔
اور افسوس کی بات یہ ہے کہ بغیر کسی اتھارٹی (سلطان) کے متکبرانہ انداز میں اللہ کی آیات  سے جدل کرنا ۔  اللہ کے نزدیک اورالَّذِينَ آمَنُوا ۔   ، کے نزدیکكَبُرَ مَقْتًا   ہے ۔
اللہ کی آیات جو الکتاب میں انسانوں کے لئے اللہ کی  عربی میں ہیں۔ اُن کا بالکل علم نہیں تراجم و تفسیر جن سے اللہ کی آیات کا فہم مکمل تبدیل ہوجاتا ہے ۔ لوگوں کو مرعوب کرنے کے لئے چھاپے پہ چھاپے لکھے جارہے ہیں اور عمل صفر ہے ۔

خود کو الَّذِينَ آَمَنُوا میں شامل سمجھنے والو، تمھارے قول و فعل میں تضاد کیوں ہے ؟

الَّذِينَ آَمَنُوا  اپنے بول کی اصلاح کر لیں !۔

٭٭٭ ٭٭٭٭

 



منگل، 21 ستمبر، 2021

ر ج م ۔ کلام اللہ کا ایک لفظ ، جس کا فہم سنگسار نہیں

٭٭٭٭

برائے اطلاع عرض ہے !
سورۃ الفاتحہ ۔  ایک  بہترین دُعا ہے جو الکتاب کے شروع میں  ہے ۔
اِس کے 36 الفاظ ، اُن کے  30 مادے  اور مادوں سے بننے والے اللہ کے 547 الفاظ ،کم از کم ایک اور زیادہ سے زیادہ  2،636 آئے ہیں ۔  یوں صرف اِن کی تعداد  الکتاب میں20،108 مرتبہ ہے ۔
 اِن کے علاوہ ، اللہ کے    1080 مادوں ، حروف اور ضمیر سے بننے والے  ۔تقریباً 14،166  الفاظ ہیں ۔ جو  الکتاب میں     77،701 الفاظ بن جاتے ہیں -

 وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ ﴿54:17﴾
   اللہ کی یہ آیات اپنی جگہ ایک اٹل  حقیقت  ہے  -  کہ    الذِّكْرِ کے لئے      الْقُرْآنَ آسان ہوتا رہتا ہے ۔

 

ہفتہ، 18 ستمبر، 2021

محمد رسول الله وخاتم النبيين کا پیغام- تکبّر کو اپنی زندگی سے نکالیں ۔

2021-09-18-

اُفق کے پار بسنے والے  ، پیارے پیارے  انسان دوست    بھائیو  اور بہنو  اور ۔
سب سے گھٹیا تکبّر اللہ کے نزدیک ، انسانی قول و فعل کا تضاد ہے ۔ 
مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ نے قول و فعل کے تضاد رکھنے والے انسانوں کو اللہ کا حکم بتایا  :  ۔

خود کو الَّذِينَ آَمَنُوا میں شامل سمجھنے والو، تمھارے قول و فعل میں تضاد کیوں ہے ؟

اور ھاں سب سے پہلا کام وہ یہ کہ اپنی زندگی سے تکبّر  کو نکالنا ہو گا ۔ 

٭٭٭قول و فعل کا تضاد اللہ کے نزدیک  كَبُرَ مَقْتًاہے ٭٭٭٭

 

 


محمد رسول الله وخاتم النبيين کا پیغام-اپنے بول درست کر لیں ۔ ب و ل

2021-09-16-

اُفق کے پار بسنے والے  ، پیارے پیارے  انسان دوست    بھائیو  اور بہنو  اور ۔ 

میرے  پاس  مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ کے کئی پیغاموں میں سے یہ پیغام پہنچا ، جس نے میرے دل کو چھو لیا ۔

کیا آپ کے پاس  مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ کا اللہ کی عربی میں یہ پیغام پہنچا ؟

وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ ۔

یقیناً               پہنچ گیا ہے ۔ اور  آپ نے ، محمد رسول الله وخاتم النبيين کے دھان مبارک سے ادا کی جانے والی یہ آیت کسی ایمان والے سے سُنی ہوگی ۔ 

وہ ایمان والا یقیناً آپ کا محسن اور ایک نیک دل انسان ہوگا ۔

والذين آمنوا وعملوا الصالحات وآمنوا بما نزل على محمد وهو الحق من ربهم كفرعنهم سيئاتهم وأصلح بالهم۔

اور پڑھیئے کہ یہ آیت جو   محمد رسول الله وخاتم النبيين نے العالمین کے انسانوں تک اپنے حفّا ظ کے ذریعے پہنچائی کتنی آسان ہے ۔اورآپ  بھی اِسے حفظ کرکے اللہ کے الذکر  کے حافظون کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔

اور ہاں اگر آپ نے اپنی کمزوریوں کو اچھائیوں میں تبدیل کرنا ہو تو بس صرف ایک  عملی کام کریں ۔ اپنے تمام بول جو آپ نے ماضی میں ادا کئے اُن کی اصلاح کرکے کے اُنہیں اب مثبت بول میں تبدیل کر لیں ۔ جو یقیناً آپ کر سکتے ہیں ۔

کیوں کہ آپ کے  اللہ کے عطاکردہ دماغ میں  پانچوں حواسِ خمس سے جمع وہ   تمام مثبت بول  (بَ۔وَ،لَ  ) موجود ہیں ۔بس اُنہیں اپنی میموری (ذہن) میں لے آئیے ۔

اور صحیح بول  کا انتخاب کریں۔  

آپ دیکھیں گے کہ آپ کے مثبت بول آپ کے ماضی کے بول کو مٹانے والا ربڑ ثابت ہو گا ۔  

    محمد رسول الله وخاتم النبيين ۔ کے الفاظ دوبارہ  اردو  میں پڑھیئے :۔ 

اور الذين آمنوا اور  جو عمل  الصالحات  کرتے ہیں  اور جو  ایمان لاتے ہیں    اُس  پر جو  محمد پر نازل ہوا اُس کے ربّ میں سے اوروہ خالص حق ہے۔ وہ  ( خالص حق) اُن کے بول کی اصلاح کرے گا اور اُن  کے منفی بول مٹاتا جائے گا ۔ 

      وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ ۔

پڑھا آپ نے کی صرف آپ کے مثبت بول آپ کی زندگی میں دوسروں کے لئے کتنی بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں ؟ ۔


اور ھاں سب سے پہلا کام وہ یہ کہ اپنی زندگی سے تکبّر  کو نکالنا ہو گا ۔ 

٭٭٭تکبّر کو اپنی زندگی سے نکالنے کا سب سے آسان طریقہ ٭٭٭

 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سورۃ الفاتحہ کے 36 آسان الفاظ ، سمجھنے کے لئے ۔ 
 
 

بدھ، 2 دسمبر، 2020

إِلْحَادٍ صرف اللہ کا حق ہے

اللہ کا حتمی اورناقابلِ تبدیل حکم ،کہ إِلْحَادٍ اُس کے سواء کوئی نہیں کر سکتا۔

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِي جَعَلْنَاهُ لِلنَّاسِ سَوَاءً الْعَاكِفُ فِيهِ وَالْبَادِ ۚ وَمَن يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ  (22:25) 

صرف وہ لوگ جو کفرکرتے ہیں - اور   سَبِيلِ اللَّـهِ اورالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ   میں رُکاوٹ بنتے رہتے  ہیں ۔ اُس  (اللَّـهِ)نے انسانوں کے لئے اُس   (سَبِيلِ اللَّـهِ اورالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ) میںالْعَاكِفُ  اور الْبَادِ قرار دیاہے ۔ اور جو اِس  (آیت ) میں   إِلْحَادٍ کے ساتھ ،ظلم کے ساتھ  کی خواہش رکھتا ہے، ہم اُسےعَذَابٍ أَلِيمٍ میں  ذائقہ دیں گے۔

إِلْحَادٍ الکتاب کی آیات میں تبدیلی ،صرف اللہ کا حق ہے ۔جو اب ممکن نہیں؛ کتاب اللہ (کائینات) میں اللہ اپنی آیات کو بہترین بنا رہاہے ۔

 وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا  (18:25)

اور وہ ( أَصْحَابَ الْكَهْفِ ) اپنےكَهْف میں تین سو برس ٹھہرے رہے اور نو اور بڑھا دیئے گئے -

 قُلِ اللَّـهُ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا ۖ لَهُ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ أَبْصِرْ بِهِ وَأَسْمِعْ ۚ مَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا  (18:26)

کہہ : اﷲ جانتا ہے کہ وہ کتنا ٹہرے اُس کے لئے ، غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ  ہے ۔وہ اِس (غیب) کے ساتھ باصر اور سامع ہوتا ہے ۔ اُس کے لئے کوئی دوسرا  وَلِيٍّ نہیں اور نہ کوئی شرک کرنے والا ہو سکتا ہے اُس کے کسی ایک بھی حکم میں۔

 وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَ ۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِ مُلْتَحَدًا (18:27)

 اور اُن کے لئے تلاوت کر ( یہ حکمِ قطعی ) جو تیرے ربّ کی طرف سے کتاب (قرآن نہیں) میں وحی کیا گیا ہے ۔اُس کے کلمات کا کوئی (انسانی کلمہ ) بدل ہو نہیں سکتا ۔اور تو ہرگز اُس کے علاوہ کوئی لحد ( إِلْحَادٍ -الفاظ تبدیل کرنے والا) نہیں پا سکتا ۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 مشرکوں نے کیسے إِلْحَادٍ کرتے ہوئے اللہ کی کلمات تبدیل کرنے کے بعد أَصْحَابَ الْكَهْفِ پر کتابوں کی کتابیں لکھ ماریں ؟

لحد ٍ - ( اللہ کے الفاظ لحد میں ڈال کر اپنے الفاظ نشر کرنے والا ) - 

 بإلحاد [22:25] - ملتحدا [18:27] - يُلْحِدُونَ [41:40]

  إِنَّ الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي آيَاتِنَا لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا ۗ أَفَمَن يُلْقَىٰ فِي النَّارِ خَيْرٌ أَم مَّن يَأْتِي آمِنًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ ۖ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ [41:40]

 ( کیا يُلْحِد(الحاد) اپنے فہم کو بہتر بنانے کے لئے کیا یا کسی دوسرے کے سر پر زبردستی تھوپنے کے لئے یا کسی اُمّی پر اپنے علم کی دھاک بٹھانے کے لئے )۔ تو انہوں نے الکتاب سے اُن کے پاس آنے والے الذِّكْرِ سے كَفَرُ کیا :

 إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَاءَهُمْ ۖ وَإِنَّهُ لَكِتَابٌ عَزِيزٌ [41:41]  

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 اور اللہ کا یہ حتمی حکم :

 وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِيلاً [17:85] 

وہ ( ملحد و مشرک ) تجھ (محمد ) سے الرُّوحِ  میں سوال کرتے ہیں ! کہہ الرُّوحِمیرے ربّ کی طرف سے امر ہے ۔ اور (محمد) تجھے جوالْعِلْمِ میں سے عطا کیا جاچکا ہے (وحی کے ذریعے ) قلیل ہے ۔

 ملحدوں نے کئی سو صفحات کی کتابیں " روح کیا ہے ؟ " پر لکھی ہیں ۔

روح اور الروح کے بارے میں، انسانوں  کے لئے ،  تفصیلاً العلم صرف الکتاب میں ہے ۔

٭٭٭٭٭

 

ہفتہ، 11 نومبر، 2017

الذِّكْرَ کے حافظون کون ہیں ؟ ذ ک ر

ایک سوال :   
جب قرآن کی ذمہ داری اللہ نے خود لی ہے تو قرآن کو کتاب کی صورت میں جمع کرنے کا کام صحابہ سے کیوں لیا اگر اللہ تعالی چاہتے تو یہ کام فرشتوں سے بھی کروا سکتے تھے؟
مفسروں نے انسانوں کو تراجم میں جوکچھ باور کروایا یا کرایا جارہا ہے ، اُس سے یہ سوال یقینی پیدا ہوتا ہے !


جس کا جواب نہایت سادہ ہے !
حافظوں کے حافظے میں " الکتاب " کا   قیامت تک ایک ہی ٹیکسٹ رہے گا !
مکمل اعراب و نقاط کے ساتھ اور وہ بھی صرف عربی ٹیکسٹ !

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محمدﷺ کے علاوہ الذّکر کے حافظون کون ہیں ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آپ کرہءِ ارض کے ہر ملک سے ایک ایک حافظ بلا لیں  اور اُنہیں    الکتاب کا ایک ایک رکوع ، زبانی تلاوت کرنے کو کہیں ، جہاں عربی ٹیکسٹ میں  کوئی غلطی  کرے ، اُسے نوٹ کریں اور دیکھیں کہ ،
الکتاب کو القرآن کرنے میں کتنی اغلاط نکلتی ہیں !
وہاں سے دنیا کو اندازہ ہوگا کہ ، ایک ایسا پیغام جو صدیوں پہلے محمدﷺ کو روح القدّس نے اللہ کی طرف سے دیا تھا  اور محمدﷺ نے اِسے  اللہ کی طرف سے منتخب کردہ انسانوں کو حفظ کروایا   وہ اپنی پوری صحت کے ساتھ موجود ہے ۔

 
یہی ختمِ نبوّت ہے !


 لیکن یہ  غلط العام کروایا گیا  کہ الْقُرْآنَ   ہی     الذِّكْرِ ہے 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یاد رہے کہ اللہ کے ہاں آپ پکڑ عربی میں الکتاب کا فہم سمجھنے میں نہیں ہوگی !
روح القدّس نے  محمدﷺ کو اللہ کی طرف سے بتایا کہ ، الْقُرْآنَ،  الذِّكْرِکے لئے ہے ،
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ[54:17]
  اورحقیقتاً ہم نے الذِّكْرِکے لئے الْقُرْآنَ آسان کرتے رہتے ہیں  ، پس ،کوئی  مُّدَّكِرٍمیں سےہے ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭ 
     خارج  الْقُرْآنَ      انسانی   صنعت کردہ ، ذکر و اذکار ،    اللہ  کو قابلِ قبول نہیں ۔
یاد رہے : الکتاب سے منتخب       الْقُرْآنَ   کیا گیا   الذِّكْرِ ہی  اللہ کو قبول ہے ، جس پر ختمِ نبوت ہے ۔اور جو الْفَحْشَاءِ  اور الْمُنكَرِ سے منع کرتا ہے ! اِس عمل کواللہ نے  أَقِمِ الصَّلَاةَ       کہا ہے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سورۃ الفاتحہ کے 36 آسان الفاظ ، سمجھنے کے لئے ۔ 
سورۃ 1 ۔ آیت ۔2 ۔  الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
 سورۃ 1 ۔ آیت ۔3۔الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ( آیت 1 میں شامل ہے )
سورۃ 1 ۔ آیت ۔4 ۔  مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ 
 
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔