Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
‏تعلیمی انقلاب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏تعلیمی انقلاب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 6 فروری، 2026

ڈگریوں کا قبرستان

ذہانت کا جلاوطن: سر کین رابنسن کے افکار اور ہماری تعلیمی فیکٹریاں 
​سر کین رابنسن (Sir Ken Robinson) کی شہرہ آفاق گفتگو صرف ایک تقریر نہیں بلکہ ہمارے بوسیدہ تعلیمی ڈھانچے کے تابوت میں آخری کیل ہے۔ پچھلی گفتگو کے تسلسل میں، ہم (بطور اساتذہ اور والدین) اس دیسی پوسٹ مارٹم کو مزید آگے بڑھاتے ہیں، کیونکہ مرض صرف پرانا نہیں، اب یہ ناسور بن چکا ہے۔
​1. مضامین کی "ذات پات" کا نظام اور "سائنسی بھوت"
​رابنسن بڑی خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں کہ دنیا کے ہر تعلیمی نظام میں مضامین کی ایک ہی درجہ بندی یعنی "ہائیرارکی آف سبجیکٹس" (Hierarchy of Subjects) پائی جاتی ہے۔ سب سے اوپر ریاضی اور زبانیں، اس کے بعد انسانیات یعنی "ہیومینٹیز" (Humanities) اور سب سے نچلے درجے پر فنونِ لطیفہ۔
​ہمارے دیسی سیاق و سباق میں یہ درجہ بندی ذات پات کے نظام سے زیادہ سخت ہے۔ اگر کوئی بچہ ریاضی میں کمزور ہے تو ہم اسے "کند ذہن" کا لیبل لگا کر کسی کونے میں بٹھا دیتے ہیں۔ ہم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ رقص، ڈرامہ یا مصوری بھی اتنی ہی اہم ہو سکتی ہے جتنی کہ ریاضی۔ ہمارے ہاں آرٹس پڑھنے والے کو ایسے دیکھا جاتا ہے جیسے وہ کسی سنگین جرم کا ارتکاب کر رہا ہو یا مستقبل میں بے روزگاری کے لیے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کر رہا ہو۔ ہم میں سے اکثر اساتذہ جانتے ہیں کہ ہم بچوں کے ادھورے وجود کو پروان چڑھا رہے ہیں؛ ہم انہیں ریاضی کے سوال حل کرنا تو سکھاتے ہیں، مگر زندگی کی پہیلیوں کو حل کرنے کے لیے جس "ڈائیورجنٹ تھنکنگ" (Divergent Thinking) کی ضرورت ہے، اسے نصاب سے خارج کر چکے ہیں۔
​2. شیکسپیئر، غالب اور ریاضی کی کلاس کا المیہ
​رابنسن ایک بڑا دلچسپ سوال اٹھاتے ہیں: "کیا آپ کو لگتا ہے کہ شیکسپیئر کبھی بچہ تھا؟" ظاہر ہے وہ تھا، اور شاید کسی انگریزی کی کلاس میں بیٹھا بور بھی ہو رہا ہوگا۔
​ذرا تصور کریں، ہمارے کلاس روم میں ایک ننھا "غالب" بیٹھا ہو اور استاد صاحب اسے الجبرا کے فارمولے رٹا رہے ہوں۔ اگر وہ بچہ کھڑکی سے باہر دیکھ کر کوئی شعر گنگنانے لگے تو اس کی وہ درگت بنے گی کہ شاعری تو دور، وہ عام بات کرنے سے بھی جائے گا۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر بچہ پیدائشی فنکار ہوتا ہے؛ مشکل یہ ہے کہ بڑا ہو کر فنکار کیسے رہا جائے۔ جیسا کہ پکاسو نے کہا تھا، ہم بڑے ہو کر تخلیق کار نہیں بنتے، بلکہ ہم "تخلیق سے باہر" (Grow out of creativity) ہو جاتے ہیں—یا زیادہ درست الفاظ میں، ہمیں تعلیم کے ذریعے تخلیق سے باہر کر دیا جاتا ہے۔
​4. تین طرح کی ذہانت اور ہمارا "یک دِماغی" نظام
​سر کین رابنسن کے مطابق انسانی ذہانت تین طرح کی ہوتی ہے، اور بدقسمتی سے ہمارا نظام ان تینوں کا منکر ہے:
​ذہانت متنوع ہے (Diverse): ہم دنیا کا تجربہ اپنی تمام حسیات سے کرتے ہیں، صرف نصابی کتابوں سے نہیں۔ لیکن اسکولوں میں ہم بچوں کو ایسے سدھاتے ہیں جیسے وہ صرف "منطقی تجزیے" (Logical Reasoning) کی مشینیں ہوں۔
​ذہانت متحرک ہے (Dynamic): انسانی دماغ خانوں میں بٹا ہوا نہیں ہے۔ تخلیقی عمل اکثر غیر متوقع رابطوں سے جنم لیتا ہے۔ لیکن ہمارا نظام مضامین کو الگ الگ "سیلوز" (Silos) میں پڑھاتا ہے، جہاں طبیعات کا کیمیا سے اور کیمیا کا زندگی سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔
​ذہانت منفرد ہے (Distinct): ہر بچے کا ٹیلنٹ الگ ہے۔ جب ہم سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہیں اور ایک ہی پیمانے (گریڈز) پر پرکھتے ہیں، تو ہم بہت سے ہونہار بچوں کو یہ یقین دلا دیتے ہیں کہ وہ نالائق ہیں، صرف اس لیے کہ وہ ہمارے بنائے ہوئے تنگ سانچے میں فٹ نہیں آتے۔
5. تعلیمی افراطِ زر (Academic Inflation) اور ڈگریوں کا سراب
​رابنسن کا ایک اور اہم نکتہ "اکیڈمک انفلیشن" (Academic Inflation) ہے۔ گزشتہ صدی میں جو نوکری بی اے (BA) کی بنیاد پر مل جاتی تھی، آج اس کے لیے ایم اے (MA) یا پی ایچ ڈی (PhD) مانگا جا رہا ہے۔
​ہم نے تعلیم کو ایک بازار بنا دیا ہے جہاں ڈگری کی قدر کرنسی کی طرح گر رہی ہے۔ نتیجہ؟ ہم ایسے نوجوانوں کی فوج تیار کر رہے ہیں جو 30 سال کی عمر تک یونیورسٹیوں کی خاک چھانتے ہیں، ڈگریوں کے انبار لگاتے ہیں، اور پھر جب عملی زندگی میں آتے ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کا وہ "کاغذی علم" حقیقی دنیا کے مسائل حل کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ ہم میں سے جو لوگ یونیورسٹیوں میں پڑھاتے ہیں، یہ دیکھ کر کڑھتے ہیں کہ طالب علم علم کی پیاس بجھانے نہیں، بلکہ صرف اس کاغذ کے ٹکڑے (ڈگری) کو حاصل کرنے آتے ہیں جسے وہ "مستقبل کی ضمانت" سمجھتے ہیں۔
​6. حتمی نکتہ: میکانکی نہیں، نامیاتی نظام کی ضرورت
​آخر میں، رابنسن تعلیم کو "مینوفیکچرنگ ماڈل"
(Manufacturing Model) سے نکال کر "ایگریکلچرل ماڈل" (Agricultural Model) پر لانے کی بات کرتے ہیں۔ فیکٹری میں چیزیں یکساں بنتی ہیں، لیکن کھیتی باڑی میں آپ پودے کو زبردستی بڑا نہیں کر سکتے؛ آپ کو صرف سازگار ماحول فراہم کرنا ہوتا ہے، پودا خود اپنی جڑیں مضبوط کرتا ہے۔
​ہمیں اپنے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو فیکٹریوں کی بجائے باغوں میں بدلنا ہوگا۔ جہاں ہر بچے کو ایک الگ قسم کا پھول سمجھا جائے، نہ کہ اینٹ جو کسی دیوار میں چن دی جائے۔ "ہم" (بطور معاشرہ) اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتے جب تک ہم اپنی "انسانی وسائل" (Human Resources) کی کان کنی بند کر کے ان کی آبیاری شروع نہیں کرتے۔
​مستقبل ان کا ہے جو لکیر کے فقیر نہیں، بلکہ نئی راہیں تراشنے والے ہیں۔ اور یہ راہیں تبھی نکلیں گی جب ہم اپنی "تخلیقی صلاحیتوں" (Creative Capacities) کو اپنی امیدوں کی طرح وسیع کریں گے۔
٭٭٭٭٭٭٭

منگل، 28 مئی، 2019

مرغیوں کی دیکھ بھال ۔ پیٹ کی صفائی (فلیشنگ)

  پیٹ کی صفائی  (فلیشنگ) 
 چوزوں اور مرغیوں کو   مہینے میں ایک بار اور    سوا سال کی عمر کے بعد  ہر پندرہ دن بعد  مرغیوں کو ہلکے قسم کے موشن لگوا کر آنتوں کی صفائی کے عمل کو فلیشنگ کہتے ھے، اِس سے  مرغیوں کی آنتوں اور پیٹ میں پیدا ہونے والے زہریلے مادّے صاف ہو جاتے ہیں ۔ خصوصاً   گمبورو (Gumboro) بیماری  سے پیدا ہونے والے جراثیم   ۔
 مختلف قسم  کے فلیشر بازار میں دستیا ب ہیں  لیکن یہ دیسی طور پر بھی بنائے جاتے ہیں ۔
 ٭- چینی اور دودھ   :  ایک کلو چینی  اور آدھا کلو دودھ : پچاس لیٹر پانی     یعنی ایک لیٹر پانی میں     ملا کر  7 گھنٹے تک پلائیں ۔ یہ ہزار چوزوں کے لئے کافی ہے ۔
 ٭- میٹھا سوڈا : 100 گرام  میٹھا سوڈا  ، 50 کلو گرام کے فیڈ کے بیگ میں مکس کرکے دیں ،
 دواء دینے سے پہلے فلیشنگ کریں   -
  ویکسینیشن  یا دوسری بیماریوں کے لئے ، بارہ سے چوبیس گھنٹے پہلے بھی فلیشنگ دے کر علاج شروع کریں ، خاص طور پر ٹائیفائیڈ بخار کےلئے ۔
لیئر اور دیسی مرغیوں میں بیس سے پینتالیس دن تک گمبورو کا خطرہ ہوتا ہے۔ اِس کے لئے فلیشنگ نہایت ضروری ہے ۔ سوا سال (ساٹھ ہفتے ) کی عمر کے بعدہر پندرہ دن بعد ایک بار فلیشنگ دی جا نی چاہیئے  ۔
فلیشنگ کی وجہ سے کبھی کبھی پرندے پر سٹریس بن سکتا ہے اگر ایساہو  تو چھ گھنٹے الیکٹرولائٹس  کا پانی دیں -




٭٭٭٭٭٭٭٭٭


جمعرات، 21 مارچ، 2019

ڈگری نہیں، ہُنر دیں

 ٹیوٹا ، ڈائی ہٹسو ، ڈاٹسن ، ہینو ، ہونڈا ،سوزوکی ، کاواساکی ، لیکسس ، مزدا ، مٹسوبشی ، نسان ، اسوزو اور یاماہا یہ تمام برانڈز جاپان کی ہیں۔
 جبکہ شیورلیٹ ، ہونڈائی اور ڈائیوو جنوبی کوریا بناتا ہے ۔
 آپ اندازہ کریں اس کے بعد دنیا میں آٹو موبائلز رہ کیا جاتی ہیں ؟ 
آئی – ٹی اور الیکٹرونکس مارکیٹ کا حال یہ ہے کہ سونی سے لے کر کینن کیمرے تک سب کچھ جاپان کے پاس سے آتا ہے ۔
 ایل – جی اور سام سنگ جنوبی کوریا سپلائی کرتا ہے ۔
2014 میں سام سنگ کا ریوینیو305 بلین ڈالرز تھا ۔
 " ایسر " لیپ ٹاپ تائیوان بنا کر بھیجتا ہے جبکہ ویتنام جیسا ملک بھی " ویتنام ہیلی کاپٹرز کارپوریشن " کے نام سے اپنے ہیلی کاپٹرز اور جہاز بنا رہا ہے ۔
 محض ہوا ، دھوپ اور پانی رکھنے والا سنگاپور ساری دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کر رہا ہے ۔ 
اور کیلیفورنیا میں تعمیر ہونے والا اسپتال بھی چین سے اپنے آلات منگوا رہا ہے-
 خدا کو یاد کرنے کے لئیے تسبیح اور جائے نماز تک ہم خدا کو نہ ماننے والوں سے خریدنے پر مجبور ہیں ۔
دنیا کے تعلیمی نظاموں میں پہلے نمبر پر فن لینڈ جبکہ دوسرے نمبر پر جاپان اور تیسرے نمبر پر جنوبی کوریا ہے ۔ انھوں نے اپنی نئی نسل کو "ڈگریوں " کے پیچھے بھگانے کے بجائے انھیں " ٹیکنیکل " کرنا شروع کردیا ہے۔

 آپ کو سب سے زیادہ ایلیمنٹری اسکولز ان ہی تمام ممالک میں نظر آئینگے ۔ وہ اپنے بچوں کا وقت کلاس رومز میں بورڈز کے سامنے ضائع کرنے کے بجائے حقائق کی دنیا میں لے جاتے ہیں ۔
 ایک بہت بڑا ووکیشنل انسٹیٹیوٹ اس وقت سنگاپور میں ہے اور وہاں بچوں کا صرف بیس فیصد وقت کلاس میں گذرتا ہے۔ باقی اسی فیصد وقت بچے اپنے اپنے شعبوں میں آٹو موبائلز اور آئی – ٹی کی چیزوں سے کھیلتے گذارتے ہیں ۔
دوسری طرف آپ ہمارے تعلیمی نظام اور ہمارے بچوں کا حال ملاحظہ کریں ۔ آپ دل پر
ہاتھ رکھ کر بتائیں ۔ بی – ای ، بی – کام ، ایم – کام ، بی – بی – اے ، ایم – بی – اے ، انجنئیرنگ کے سینکڑوں شعبہ جات میں بے تحاشہ ڈگریاں اور اس کے علاوہ چار چار سال تک کلاس رومز میں جی – پی کے لئیے خوار ہوتے لڑکے لڑکیاں کون سا تیر مار رہے ہیں ؟

 آپ یقین کریں ہم صرف دھرتی پر " ڈگری شدہ " انسانوں کے بوجھ میں اضافہ کر رہے ہیں ۔
لاکھوں روپے خرچ کر ،  یہ تمام ڈگری شدہ نوجوان ملک کو ایک روپے تک کی پروڈکٹ دینے کے قابل نہیں ہیں ۔ ان کی ساری تگ و دو اور ڈگری کا حاصل محض ایک معصوم سی نوکری ہے اور بس۔
ہم اس قدر "وژنری " ہیں ۔کہ ہم لیپ ٹاپ اسکیم پر ہر سال 200 ارب روپے خرچ کررہے ہیں لیکن لیپ ٹاپ کی انڈسٹری لگانے کو تیار نہیں ہیں ۔

 آپ ہمارے " وژنری پن " کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پوری قوم سی – پیک کے انتظار میں صرف اس لئے ہے کہ ہمیں چائنا سے گوادر تک جاتے 2000 کلو میٹر کے راستوں میں ڈھابے کے ہوٹل اور پنکچر کی دوکانیں کھولنے کو مل جائیں گی اور ہم ٹول ٹیکس لے لے کر بل گیٹس بن جائینگے۔اوپر سے لے کر نیچے تک کوئی بھی ٹیکنالوجی ٹرانسفر کروانے میں دلچسپی نہیں رکھتا ہے۔
آپ فلپائن کی مثال لے لیں ۔ فلپائن نے پورے ملک میں " ہوٹل مینجمنٹ اینڈ ہاسپٹلٹی " کے شعبے کو ترقی دی ہے ۔اپنے نوجوانوں کو ڈپلومہ کورسسز کروائے ہیں ۔ اور دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ ڈیمانڈ فلپائن کے سیلز مینز / گرلز ، ویٹرز اور ویٹرسسز کی ہے ۔ 

حتی کے بھارت تک ان تمام شعبوں میں بہت آگے جاچکا ہے ۔ آئی – ٹی انڈسٹری میں سب سے زیادہ نوجوان ساری دنیا میں بھارت سے جاتے ہیں ۔جبکہ آپ کو دنیا کے تقریبا ہر ملک میں بڑی تعداد میں بھارتی لڑکے لڑکیاں سیلز مینز ، گرلز ، ویٹرز اور ویٹریسسز نظر آتے ہیں ۔ 
پروفیشنل ہونے کی وجہ سے ان کی تنخواہیں بھی پاکستانیوں کے مقابلے میں دس دس گنا زیادہ ہوتی ہیں ۔اور دوسری طرف لے دے کر ایک " مری " ہی ہمارے لئے ناسور بن چکا ہے ۔جہاں کے لوگوں کو سیاحوں کی عزت تک کرنا نہیں آتی ہے ۔
چینی کہاوت ہے کہ " اگر تم کسی کی مدد کرنا چاہتے ہو تو اس کو مچھلی دینے کے بجائے مچھلی پکڑنا سکھا دو "۔ چینیوں کے تو یہ بات سمجھ آگئی ہے ۔
 کاش ہمارے ارباب اختیار کو بھی سمجھ آجائے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مربوط تعلیمی انقلاب

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 نوٹ: جس نے بھی لکھا ، خوب لکھا ، 2000 میں میں اِس پر ایک طویل پیپر لکھ کر جمع کرواچکا ہوں ،
کہ پاکستان مین پولی ٹیکنک طرز کے سکول دوبارہ کھولے جائیں ، جیسے ہمارے وقت ہوتے تھے  اور ہر وہ طالبعلم پولی ٹیکنک میں تمام شعبوں کی بنیادی تربیت دی جو طالبعلموں کو پروفیشنل کالجز کی طرف لے جائے اور اگر کوئی بچہ کہیں بھی ڈراپ آؤٹ ہو  تو اُسے اُس لیول کا سرٹیفکیٹ دیا جائے تاکہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کے لئے اُسی شعبے میں تیار ہو ۔ اِس طرح ہمیں ، ہر لیول کے ماہر ملیں گے ۔
لیکن ڈراپ آؤٹ بچوں کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ امتحان دے کر اگلی سرٹیفکیشن لیتے جائیں ، جب اُن کے پاس مطلوبہ میعار کے سرٹیفکیٹ جمع ہوجائیں تو وہ انجنئیرنگ ، میڈیکل ، ڈینٹل ، کمپیوٹر سافٹ و ھارڈ وئر ، اور دیگر اعلیٰ تعلیم کے دھارے میں شامل ہوجائیں ۔
   ٭٭٭ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اتوار، 6 جنوری، 2019

شیور زدہ پی آئی اے کے مصنوعی انڈے و مرغیاں


ہمارے بچپن میں ہم نے ہمیشہ  ، کُڑک مرغی کو انڈوں پر 21 دن بیٹھ کر چوزے  نکالتے دیکھا ۔ گندے انڈے کم ہوتے تھے ۔ کیوں کہ مرغی کُڑک ہونے سے پندرہ دن پہلے والدہ مرحومہ  ،گرمیوں میں  انڈوں کو  دھو کر آٹے کے ڈبّے رکھتیں اور سردیوں میں  انڈے کھائے جاتے ، مرغی بے شک اپنے کٗڑک ہونے کا زور زور سے اعلان کرے ، بے چاری 7 دن بعد تھک ہار کر اپنا کُڑک پن ختم کرتی اور 10 دن بعد دوبارہ انڈے دینا شروع کر دیتی ۔ایک ہی مرغی کو سال میں دو بار ہی انڈوں پر بیٹھنے کی اجازت دی جاتی۔10 انڈوں سے زیادہ  انڈوں پر مرغی کو بیٹھنے کی اجازت نہ دی جاتی ، کیوں کہ   مرغی کے پروں کی حدود سے باہر نکلنے والے  انڈوں کے خراب ہونے کا سو فیصد چانس ہوتا تھا ، دیگر پرندوں کی طرح مرغے نے کبھی اپنی مرغی کا ہاتھ بٹانے میں کوئی دلچسپی کبھی نہیں دکھائی ۔ 
مرغی اور اُس کے چوزوں کو بکریوں کی طرح  جہاں تک ہمت ہو چُگنے کی اجازت ہوتی تھی ۔ 
مرغیوں کو گھر آئے ہوئے رشتہ داروں یا کام کاج کرنے والی ماسیوں کو تحفہ میں دینے کا رواج تھا ۔ ہاں مرغوں پر کسی کو نظر ڈالنے کی اجازت نہ ہوتی تھی ، جس کی یخنی اور گوشت مہمانوں کی آمد پر اُڑائی جاتی ، مرغے کے پر  کو مکئی کے سٹّے کے آدھے حصے میں لگا کر چڑی بنا کر ہوا میں اُڑئی جاتی ۔
مرغوں کو لڑانے کا تصّور گناہ  کےتندورکی آماج گاہ ہوتا ، جس کے کہیں نیچے جہنم کی آگ کی لپیٹیں مچل رہی ہوتیں ، ہاں اگر وہ خود سر بکف ہو کر  اپنی مرغیوں کو دوسرے مرغ کے نظرِ بَد سے بچانے کے لئے یُدھ کی بانگ دیں تو اُنہیں روکنا ایک صحتمندانہ تفریح سے خود کو محروم رکھنے میں شمار ہوتا تھا ۔
چِنکو اور پِنکو کر طرح وہ بھی اپنی حدود میں کسی اجنبی انسان تک کو داخل ہونے کی اجازت نہ دیتے ۔ اصیل ، دیسی ، سندھی ، مصری  مرغے مرغیوں کا راج تھا ، ابھی بدیسی  مرغے مرغیوں نے ہمارے مُلک میں قدم نہیں رکھا تھا ۔
پھر ہم نے سنا کہ ایوب خان نے مصنوعی انڈے اور چوزے پیدا کرنے کی مشینیں یہودیوں سے خرید لی ہیں ۔ جن کو،  پی آئی اے شیور کا نام ملا ۔ بس یہیں سے قومی ائر لائن کا زوال شروع ہوا  ۔ 

مشینوں سے حاصل کئے گئے ، انڈوں اور مرغیوں کو کھانا مکروہ بطرفِ حرام قرار پایا ۔

 کیوں کہ ایک تو وہ مغرب کی دوشیزاؤں کی طرح  سفید تھے اور سب سے بڑا ظلم کہ مشینی انڈوں سے پیدا ہونے والیاں اور مزید ستم یہ کہ  مرغوں کے بغیر وہ دھڑا دھڑ انڈے دینے کی ماہر تھیں ۔ جن سے یتیم چوزوں کا ایک جم غفیر  2مہینے میں جوان ہو کر دو سے ڈھائی کلو گرام وزن کے ساتھ دکانوں پر بکنے لگا ۔
کہاں دس مہینوں میں جوان ہو کر سینہ پُھلا کر بانگ دینے والے طاقت  سے بھرپور ،   چِنکو اور پِنکو اور کہاں دو مہینوں کے یہ مشینی جوان !
 جس طرح دریا کے پانیوں سے بجلی نکال کر اُس کی خوردنی طاقت ختم کر دی ۔ اِسی طرح    حکمرانوں نے قوم کو پھُوکے انڈوں   کے کاروبار میں گروی رکھنے کی بنیاد رکھ دی ۔ 
آٹومیٹک رفتار سے بغیر کُڑک ہوئے انڈے دینے والی یہ مرغیاں،   دس بارہ انسانی بچوں کو جنم دینے والی خواتین کی طرح   اپنا وزن بے تحاشہ بڑھا کر  " اُمِ چکن " کے رُتبے پر فائز ہوکر  ، بڑے گوشت کے ناغہ کے دن  چھوٹا گوشت بن کر فوجی  لنگروں کی زینت بننے لگیں ۔جن کی ٹانگ سے بوٹیاں اُتارنے کی کوشش میں ٹانگ اُڑ کر کسی کے منہ پر لگتی یا پھر تاک میں بیٹھی ہوئی آوارہ بلّی  کے ہتھے  چڑھتی ۔
ہاں تو بات ہورہی تھی ، کڑک مرغیوں  کو انڈوں پر بٹھا کر سے  چوزے حاصل کرنے  کی ۔   بدیسی مرغیوں کی طرح دیسی مرغیوں نے بھی نخرے دکھانے شروع کر دئیے، جس کا اثر اُن کی اولاد پر بھی پڑا ، جنہوں نے کڑک ہوکر 21 دن جم کر بیٹھنے کو ڈھکوسلہ،  وقت کا ضیاع  اور جسم کے بے ڈول ہونے  سے بچانے کے لئے   کڑک ہونا ہی ختم کر دیا ۔  جس سے کہرام مچ گیا ۔
دیسی مرغوں کی نسل تقریباً ناپید ہونے کو تھی   اور دیسی مرغیاں تھیں کہ بس انڈے پر انڈے دیئے جا رہی تھیں  وہ بھی کسی مرغے کی منکوحہ ہوئے بغیر !
لہذا  پانچ پانچ ہزار چوزے نکالنے والی مشینوں سے متاثر ہو کر   چھوٹی چھوٹی   مشینیں بنائی جانے لگیں ، تاکہ مرغوں کو اپنی بغل میں دبا کر پھرنے والوں کی شان  میں کمی نہ آنے پائے ۔

دیسی الہڑ مرغیوں کی بہتات کی وجہ سے ، حکومت نے اعلان کیا کہ ایک مرغا اور ایک مرغی کے بجائے ، ہر گھر میں ایک مرغا اور چھ مرغیاں لازمی رکھی جائیں ۔ 
ویسے دیسی انڈے ، دسمبر کی اِس سردی میں 200 روپے درجن مل رہے ہیں ۔اگر چھ مرغیاں روزانہ انڈے دیں  تو مہینے میں  3 ہزار روپے کی  بچت ہو !
سنا ہے کہ اب  یتیم انڈوں کی زردی میں کولیسٹرول نہیں ہوتا ،اگر تھوڑا بہت ہوتا بھی ہے تو  اُن سے ڈاکٹروں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا ۔ ویسے بھی ناشتے  میں دو انڈے کھانے کے بعد دوپہر کے کھانے کی بچت ہوجاتی ہے ، یہ بھی قومی آمدنی  میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے ۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 
 ٭-پہلا جانباز - چوزہ - پیدائش و وفات
 ٭- انڈوں سے چوزے نکالنا 
 ٭- فیس بُک سے چِکن بُک تک  


پیر، 24 دسمبر، 2018

انڈوں سے چوزے نکالنا

مرغی  کے بغیر انڈوں سے مصنوعی حرارت کے ذریعے چوزے نکالنا سب سے آسان اور فائدہ مند  عمل ہے ۔ 
جب مرغی  انڈے  دینے کے بعد کُڑک ہو کر جب انڈے سینے (ہیچنگ ) کے لئے بیٹھتی ہے ، تو اُس کے جسم کا درجہ حرارت  99 سے 102 ڈگری فارن ہائیٹ ہوتا ہے ۔
مصنوعی گرمی سے جب اِن انڈوں کو ہیچ کیا جاتا ہے ، تو اِس کا آئیڈیل ٹمپریچر  99.5 ڈگری فارن ہائیٹ  یا  37.8 سنٹی گریڈ سمجھاجاتا ہے ۔ 
٭- ہیچنگ بکس کے اندر کا ٹمپریچر ۔ 99 سے 102 ڈگری فارن ھائیٹ کے درمیان رہے ۔
٭- بکس  میں ہوا اور  نمی کا تناسب   ہیچنگ بکس کے اندر  ٹمپریچر سے منسلک ہے ۔ اگر ہم ایک پیالی میں پانی ڈال کر  ہیچنگ بکس میں رکھ دیں تو اندر موجود گرمی ، پانی سے بھاپ بنائے گی جو بکس میں نمی پیدا کر دے گی ۔ لیکن اگر بکس میں آپ نے پانی کا پیالی نہ رکھی تو بکس کے اندر موجود ہوا میں موجودنمی ختم ہو جائے گی ۔ جس سے انڈے کے اندر بننے والے چوزے کی یقینی موت ہو سکتی ہے ۔
ماہرین کے مطابق، ٹمپریچر اور ہوا میں نمی کے تناسب      کے لئے ، یہ  چارٹ آپ کی راہنمائی کرے گا  ۔
ہیچنگ بکس میں آپ ہیٹر ، بلب ، لالٹین یا موم بتیوں سے  100 ڈگری فارن ہائیٹ تک ٹمپریچر رکھ سکتے ہیں ۔ 
(اگلے مضمون میں آپ کا نہایت سادہ ہیچنگ بکس بنانے کا طریقہ بتایا جائے گا ۔جس سے بچے تا میرے جیسے نوجوان ، انڈوں سے بچے نکالنے کے کھیل سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ انڈے اپنے گھر کے ہوں بازار کے نہیں )  ۔
آئیے دیکھتے ہیں ، کمرشل بنیادوں پر بنایا ہوا ،انڈیا کے ماہر کا ، لالٹین سے گرم ہونے والا ، ہیچنگ بکس !
1- لکڑی کی الماری 
2-جس کےسب سے نچلے خانے میں تین  لالٹین  اور پانی کی پیالی ، نمی پیدا کرنے کے لئے ۔
3 ۔ اوپر  کے خانوں میں انڈے ۔
4- ٹمپریچر معلوم  کرنے کا تھرما میٹر ۔
 5۔ سب سے اوپر کھڑکی ، تاکہ اندر کی ہوا کو باہر نکالا جاسکے ۔ 
6- انڈے کے اندر کے  روشنی کی شعاع سے  جانچنے کا بکس ، جس میں اندر موم بتی اور ایک انڈے کے سائز کا سوراخ ۔
7- پہلے دن  ہیچنگ بکس میں رکھنے سے پہلے  انڈے   کا عکس ۔
8-ہیچنگ بکس میں رکھنے کے بعد ،  آٹھویں دن ، انڈے کی حالت ۔
٭۔8a.بانجھ انڈا۔
٭۔8b.خراب ہوجانے والا انڈا۔
٭۔8c.انڈے میں چوزے (ایمبریئو)کی ابتدا ء۔ 
9۔ اٹھارویں دن ، انڈوں کو زیادہ نم کرنے کے لئے پانی میں نچوڑے ہوئے نرم کپڑے کو ہلکے ہاتھوں سے پھیرنا۔
10۔انیسویں دن ، چوزے کی ٹھونگ سے انڈے میں کھڑکی کا نمودار ہونا ۔
11۔20 تا  23 دن میں چوزوں کی چیاؤں چیاؤں !
  چوزوں  اور بطخ کے بچّوں کو دانہ کھلانا نہایت آسان ہے ۔بنسبت  باقی پرندوں کے ، کیوں کہ اُن کی مائیں  دانہ کھا کر اپنے معدے میں نرم کرتی ہیں اور پھر بچوں کے منہ میں ڈالتی ہیں ۔
نوٹ: اِس وقت چم چم ، لڈو کے محلّے کے تمام بچے شدّت سے چوزوں کی چیاؤں چیاؤں سننے کے لئے بے تاب ہیں ۔ اُنہیں دن میں ایک وقت انکیوبیٹر میں پڑے انڈوں کو دیکھنے کی اجازت ہے ۔ہر بچے نے دو دو ، چوزے لینے پر اپنا حق جتا دیا ہے ۔
وہ بوڑھے کو بتاتے ہیں ، کہ ، 
"انکل اتنے دن ہوگئے ہیں اوراتنے دن رہتے ہیں ۔"
دوستو ! کیا  آپ کو معلوم ہے ، کہ کتنے دن رہ گئے ہیں ؟ 
نہیں  ! تو پڑھیں  ۔اگلا مضمون۔

تو نوجوان دوستو ، یہ مضامین ہیں پڑھیں اور انجوائے کریں اور ہاں اگر غیر محسوس طریقے سے  اِس ایڈونچر میں شامل ہو جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں ۔

ہفتہ، 22 دسمبر، 2018

فیس بُک سے چِِکن بُک تک

 چم چم کے دو دیسی مرغوں چِنکو اور پِنکو  نے اِس بوڑھے کو ، فیس بُک سے چِکن بُک پر منتقل کردیا ہے ۔ جن کی سات (فارمی) دیسی مرغیاں ہیں ۔ جو انڈے تو دیتی ہیں مگر کُڑک نہیں ہوتیں ۔ 
فروری 2016 میں چم چم کے لئے خریدے گئے دو چوزے ، حوادثِ زمانہ سے بچ کر   خوبصورت دیسی مرغوں کا روپ دھار چکے تھے اور گھر میں آنے جانے والے فرد بشمول بوڑھے کو بھی نہیں بخشتے تھے ۔یہاں تک کہ اُن دونوں نے چم چم کی "پاک ایران بلّی " بِٹّو  کو بھی نہیں بخشا ۔

چم چم کی خواہش تھی کہ نانو کی مرغیوں کے انڈوں سے چِکس نکالے جائیں ۔ اُس کی سہیلی نے بتایا کہ انڈوں کو بکس میں رکھ دیں تو خود بخود چِکس بن جاتے ہیں ۔ بڑھیا کی خواہش تھی کہ ماں کے بغیر بچے نہیں پلتے ۔لہذا مرغی ہی انڈوں سے چوزے نکالے   جائیں ۔
لہذا     ایک اصیل کُڑک ہونے والی مرغی دو (فارمی) دیسی مرغیوں کی قیمت میں خریدنا پڑی۔ 
جِس نے بلاشرکتِ غیرے دونوں مرغوں کے حرم میں ایک نہ ختم ہونے والے یُدھ کے بعد اپنی حاکمیت تسلیم کروا لی ہے ۔  

بریگیڈئر  خالد حنیف  اور بوڑھا  مرغی کے ڈربے کے سامنے بیٹھے چائے پی رہے تھے جو اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں تھا ۔
خالد نے مارکیٹ سودا سلف لینے جاتے ہوئے ، بوڑھے کو دیوار پر چڑھے  مددگار کو ہدایتیں دیتے دیکھا تو گاڑی  گیٹ کے سامنے کھڑی کرکے نعرہ مارا ،
" سر ! عمران خان کے ویژن کو عملی جامہ پہنانے والا کٹّر نون لیگی پہلی بار دیکھا ہے ، مبارک ہو  ۔"ٗ

" ارے نوجوان ، یہ بڑھیا  اور چم چم کا ویژن ہے ، جِس نے بوڑھے کو مزدور بنایا ہوا ہے۔ " بوڑھے نے جواب دیا ۔
جب چم چم کے ویژن کا براڈ سپیکٹرم یعنی وسیع و عریض  کینوس   بتایا ، تو نوجوان بولا،
" سر ! نو پرابلم ، میرے پاس چوزے نکالنے والا اپنی مدد آپ کے تحت بنایا جانے والابکس بھی ہے ۔جس سے میں نے ہر قسم کے انڈوں سے  چوزے، بٹیر ، تیتر ، چکور ، یہاں تک کہ بطخیں تک نکلوائی ہیں ۔   وہ میں لے آتا ہوں ۔ آپ عمران خان کے ویژن کو مونڈھا دیں " 

چائے پینے کے بعد، نوجوان ریٹائرڈ بریگیڈئر روانہ ہوا ۔ 
 دوسرے دن شام کو بوڑھے کو یاد آیا کہ خالد حنیف  نے چوزے نکالنے والی مشین لانے کا وعدہ کیا تھا ۔ شاید مشین کہیں سامان میں دبی ہو ؟
مشین میں سب سے اہم پرزہ تھرموسٹیٹ ہوتا ہے جو بکس کے اندر ،  ہچنگ ٹمپریچر کو 100 ڈگری سنٹی گریڈ پر قائم رکھتا ہے ۔ سوچا کہ لاہور سے پتہ کروایا جائے ۔
اپنے گرو (نجیب عالم)  کو لاہور فون کیا ،
" گرو جی یہ بتائیں ! لاہور سے  ہیچنگ مشین کا تھرمو سٹیٹ مل سکتا ہے ؟ "

" کِس لئے چاھئیے ؟" گرو نے پوچھا 
" چوزے نکالنے والی مشین بنانی ہے ۔"  ہم نے بتایا
" میں کل بتاؤں گا ،لیکن سر جی ،  اِس سے بہتر نہیں کہ، سر دردی کے بجائے ،  مشین لے لی جائے ۔ " گرو نے رائے دی 
اگلے دن ، خالد حنیف  مضبوط لکڑی کے ڈبے سے بنی ہوئی ،انڈوں سے چوزے نکالنے والی  مشین لے کر آگیا ۔ پورا لیکچر دیا ۔  بڑھیا نے   خالص دیسی انڈے اپنے بچوں کے لئے سنبھال کر رکھے تھے اُ ن میں  12 انڈے لئے ، دو انڈے خالص اصیل دیسی  کُڑک ہونے والے مرغی کے بھی شامل کرکے کُل 14 انڈے اور 12 دسمبر 2108 بوقت  سوا ایک بجے بعد دوپہر  ،مشین میں رکھ دیئے ۔ یہ پہلا بیج ہے ۔ جو 3 جنوری 2019 کے بعد چوزوں کو اِس دنیا میں لانے کا سبب بنیں گے ۔ 

چھوٹے بھائی نے ، دو ہفتے قبل طوطا دینے کا وعدہ کیا تھا ، کیوں کہ چم چم کے طوطے نے اپنی گردن ،دھاگے میں پھنسا کر ،خودکشی کر لی تھی ۔ طوطی اکیلی زندگی گذار رہی تھی اُس کے طوطوں نے جو بچے پالے وہ ساری اولادِ نرینہ تھی ۔
وہ اپنے بیٹے کے ساتھ طوطا لے کر آگیا ۔ اُس سے معلوم ہوا کہ سٹیڈیم کہ عمران خان کا قرضہ اتارنے کے لئے نہیں بلکہ عوام کو نیچے سے اُٹھا کر  غربت کی لکیر پر بٹھانے کے لئے ایک مرغا اور پانچ مرغی سکیم لانچ کی ہے ۔ جو 1200 روپے میں  شمس آباد میں گورنمنٹ پولٹری  پراجیکٹ سے مل جائیں گی ۔ رات کو بوڑھےکو گرو جی نے    معلومات دیں کہ تھرموسٹیٹ کی دستیابی   ممکن نہیں  اور چائینا کی بنی ہوئی ہیچنگ مشین مارکیٹ میں دستیاب ہے ۔

" ٹھیک ہے قیمت پوچھ کر  بتائیں " ہم نے  کہا
" قیمت چھوڑیں ، سر جی  ، مشین  مل جائے گی "، گرو نے کہا ۔
اُس کے بعد  گھر کی چھت پر سبزی بانی  اور فروٹ بانی کی بات ہوئی ، گرو جی نے خرگوش بانی پر بات کی ۔
یاد آیا کہ کل ہی کسی دوست نے خرگوش بانی پر ایک وڈیو شیئر کی تھی ۔ کھولو تو وہ نیشنل ایگرکلچرل ریسرچ سینٹر   (NARC) کی انگورا خرگوش کے بارے میں تھی ۔ اگلے دن  چک شہزاد کے  انگورا خرگوش سنٹر جا پہنچا  وہاں سے نااُمید ہو کر  اُنہی کے مرغی فارم گیا ۔
 اُن کے خالص اصیل دیسی  مُرغ اور مرغیاں دیکھیں ۔ جس کے نگہبان ڈاکٹر حمّاد صاحب ہیں ، لیکن و ہ میٹنگ پر گئے ہوئے تھے ۔ 
ڈاکٹر آغا وقار سے بات ہوئی اُنہوں نے کمالِ مہربانی سے ایک درجن انڈے ، قیمتاً عنایت کروادیئے ۔ گیٹ پاس دے کر انڈے لے کر گھر پہنچا ، بیگم نے بتایا ، کہ آپ کے نام بڑا سابکس آیا ہوا ہے ۔ دیکھا تو وہ گرو جی کی طرف سے بھجوایا ہوا ، چینی انکیوبیٹر  تھا ۔ 
فون کر کے گرو جی کا شکریہ ادا کیا گرو جی نے ، قیمت بتانے سے صاف انکار کر دیا ۔
NARC  سے  لائے ہوئے درجن انڈے ، پہلے سے موجود  مشین میں رکھے ۔ اُن پر 4/1 کی تاریخ لکھی ۔یہ دوسرا بیچ ہے۔
لاہور سے گرو جی  (نجیب عالم)کی  بھجوائی ہوئی مشین کی ساتھ آئی ہوئی کتاب کا مطالعہ کیا ۔  
بریگیڈئر ، خالد حنیف کو بتایا اُس نے انڈوں کو چینی مشین میں شفٹ کرنے کا کہا ، کیوں کہ وہ آٹومیٹک ہے ، لہذا انڈوں کو  نئی مشین میں شفٹ کیا ۔
چم چم اور اُس کے محلّے کے دوستوں ، انکیو بیٹر میں پڑے انڈے دکھا کر ،   کمرے میں بچوں کا داخلہ سختی سے بند کر دیا ۔
 لڈّو اور موتی چور  (چیکو)   بھی آچکے ہیں اب چم چم اور لڈو کو برفی کا انتظار ہے ۔ وہ بھی اپنی ماما اور بابا کے ساتھ آرہی ہے ۔ 
تاکہ وہ دادا بابا کا مرغی خانہ (چم چم   پولٹری) ،خرگوش خانہ  (برفی ریبٹری) ،کبوتر خانہ  (لڈو   کبوتر)،  برڈ خانہ( چیکو  پرندے)  اور کیٹ ہاؤس دیکھے ۔ 
برفی نے وہائٹ کیٹ پسند کی ہے ۔ جو چم چم نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اُسے دے دی ہے ۔


بیٹھے  نوٹ: چِکن بُک کی باقی روداد ۔ ۔ ۔ تفصیلاً پڑھنے کے لئے 3 جنوری تک انتظار کیجئے ۔ 

جمعرات، 22 نومبر، 2018

زعفران راولپنڈی میں اُگ سکتا ہے

کوئی تین ماہ پہلے  جناب ثنا اللہ خان احسن نے فیس بُک پر "  زعفران کیا ہے؟اور کیسے لگایا جائے؟" کے متعلق    لکھا ۔ 
جس کو اُگانے کے لئے  بیج یا زعفران کی پیاز سے پودا اُگانے کے بارے میں کسی نے لکھا  کہ زعفران بیج سے نہیں اُگائی جاتی ۔ 
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے کوئٹہ میں برف پگھلنے کے بعد زرغون سبزی مارکیٹ سے پیاز بلکہ نرگیس کے پیاز  کی طرح      جڑیں   لا کر زعفران اُگائی تھی، پھول نکلے مگر سردی کی وجہ سے جل گئے  ۔
خیر بیجوں کی تلاش میں ۔ ویب سے کراچی کے ایک تاجر کا نمبر ملا ، موبائل پر بات ہوئی ، جس نے بتایا کہ وہ 10 پیازی بلب بھجوا سکتا ہے ، جس کی قیمت  میرے پاس پہنچ کر 1،750 روپے بن جائے گی ۔ 

کہا ، آپ کو بتاؤں گا ۔
ابو سعید سے وٹس ایپ پر پوچھا ، پنڈی میں زعفران کی کاشت ہوتی ہے ؟
ابو سعید کلرسیّداں کا رہنے والا ہے ، اُس نے کہا کہ ، راولپنڈی میں زعفران کی کاشت کا نہیں سنا ۔ 

31 اکتوبر کوگملوں میں  سبزیاں اُگانے  کے لئے نرسری سے مٹی خریدنے گیا وہاں ایک باسکٹ  میں کسی پودے کے پیاز نظر آئے ، میں سمجھا شائد نرگیس کے ہیں ، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ زعفران کے ہیں اور قیمت فی پیاز 100 روپے ہے ۔

پانچ عدد پیاز مبلغ 500 روپے کے خرید لئے ۔ اور گھر آکر 10 بجے ،  پانچ گملوں میں لگا دئے  اور دیکھ بھال شروع کردی ۔ 

18 تاریخ کو صبح  7 بجے ، مچھلیوں اور بلیوں کو کھانا ڈالا ، پانی کی موٹر چلائی ۔گملوں  میں  لگائے ، مٹر ، ٹماٹر ، سلاد ، شلجم ، مولی ، کھیرے  کے بیجوں سے نکلی کونپلوں پرپانی کا چھڑکاؤ کیا ۔
 جب ، پودوں کے پاس پائپ لے کر پہنچا اور پودوں کے درمیان دو گملوں میں تین  بیگنی رنگ کے پھول نظر آئے دل باغ باغ ہو گیا ۔

گویا صرف 18 دن بعد ، زعفران کی پیاز  سے پھول نکل آئے  جن  کی بیگنی رنگت کی پنکھڑیوں کے غلافی آنچل سے  تین   سروقد سرخی مائل رنگت  کی زعفرانی دوشیزائیں جھانک رہی تھی ۔ پھولوں کو سونگھا ، دھیمی  دھیمی مسحور کُن خوشبو   نے دماغ مُعطر کر دیا ۔
قارئین ! تجربے کے بعد ، پس ثابت ہوا کہ راولپنڈی میں زعفران کی کاشت ہو سکتی ہے !

باقی تین گملوں میں بوئی گئی پیاز  کے تنے بھی نکل آئے ہیں ، شائد صبح تک اُن سے پھول نکل آئیں ۔
مقصد چونکہ ، زعفران کے بیج حاصل کرنا تھا ، لہذا ایک گملے کے پولن کو دوسرے گملے کے   پھول کی تینوں دوشیزاؤں  کو نہلایا ۔ یوں نو کی نو دوشیزائیں   پولن سے زیربار ہوئیں ۔




اب بیجوں  کی افزائش کا انتظار ہے ۔ جس کا آپ کے علاوہ مجھے بھی انتظار ہے  کہ ایک پھول سے کتنے بیج حاصل ہوتے ہیں ؟


٭-   زعفران کے غذائی اعداد و شمار



  زعفران راولپنڈی میں15 اکتوبر سے 15 نومبر کے درمیان لگائی جا سکی ہے ۔ جب  درجہ حرارت 30 ڈگری فارن ہائیٹ سے کم ہو،  18 دنوں میں پودے سے پھول نکلیں گے ۔ کہنے کو تو یہ سپینش زعفران تھا ۔ لیکن پاکستان میں اُگ اُگ کر یہ پاکستانی ہو گیا تھا ۔
خیر ایک پودے سے دوسرے پودے کے درمیان فاصلہ  4 انچ رکھیں ۔ پودا اُگنے اور سوکھنے کے بعد   کھود  کر باقی گانٹھیں نکال لیں ، ایک گانٹھ اگنے کے بعد دو سےتین گانٹھ  نکلیں گے ، صاف کرکے اکھٹی زمین میں گڑھا کھود کر دبا   کر سٹور  کر لیں ۔ پریشان نہ ہوں اب یہ اگلے سال نکلیں گی ۔ خشک  نہیں ہوگی ۔ 15 ستمبر کے بعد دوبارہ نکالیں اور 4 انچ کا فاصلہ رکھ کر بو دیں  ۔ اور یوں زعفران بھی حاصل کریں اور اپنا بیج بھی بنائیں ۔
  اگلا مضمون۔جاری ہے 
٭٭٭٭٭٭٭فہرست ۔ باغبان اور کسان٭٭٭٭٭٭٭٭
 

پیر، 17 ستمبر، 2018

سوہانجنا(مورِنگا ) بیجوں سے پودوں کی افزائش

  کل صبح  ، میرپورخاص کے عبدالحفیظ بھائی کا فون آیا کہ ہم  مظفر آباد سے 12 بجے تک اسلام آباد پہنچ جائیں گے اور شام کو  مغرب یا عشاء کے بعد  آپ سے ملنے کا پروگرام ہے ۔ میرے ساتھ دوست بھی ہیں ۔
میں نے کہا ، " خوش آمدید "
مغرب کے بعد فون کیا ہم ذرا لیٹ ہوجائیں گے۔ میں نے کہا بھائی آپ 12 بجے رات تک آجائیں ، ہم کھانا ساتھ کھائیں گے ، اور ہاں ہوٹل میں نہ ٹہرنا ، میرے پاس ہی ٹہرنا 

خیر وہ رات  9 بجے، ہیڈماسٹر وحید صدیقی کے ساتھ پہنچ گئے ۔


 چونکہ دونوں نوجوان ، کراچی اور میرپورخاص میں رہتے ہوئے بور ہو کر  بیگ اُٹھائے سیاحی کے لئے نکلے تھے ، مظفر آباد سے کیل اور وہاں ٹاپ پر ہو کر واپس آرہے تھے ،دوسرے دن ڈھائی بجے اُنہوں نے ریل کار پر گوجرانوالہ جانا تھا  لہذا کھانا کھانے کے بعد وہ سو گئے ،
آج ناشتے کے بعد ، اُنہیں باہر لے کر پورچ میں بیٹھ گیا ، میرپورخاص کی گلیوں میں گھومتے گھومتے  ، ڈی ایچ اے کی ہریالی کا ذکر ہوا ، عبدالحفیظ بولے ،
" یا ر یہاں پرندوں کی چہچہانے کی آواز سن کر دل بہت خوش ہورہا ہے ۔ "
" آئیں آپ کو اپنے پرندے دکھاؤں" یہ کہہ کر اُنہیں  برڈز دکھا ئے اور بتایا کہ میں نے پودوں کی نرسری بھی لگائی ہے ۔ فوراً بوالے ۔
" یار ایک پودا ہے سونجنا  بہت فائدے ہیں ، اُس کے بیج کہیں سے لے کر مجھے کراچی بھجواؤ "
میں اُنہیں لے کر نرسری کے پاس لے کر گیا اور بولا ،
" یہ جو سب سے چھوٹے پودے ہیں ،سووہانجنا کے ہیں "
" ارے یار ، وحید بھائی ہم ڈھونڈھ رہے تھے اور نعیم صاحب  یہا ں پودے اُگا رہے ہیں، بھائی کچھ بھی ہو ہمیں بیج منگوا کر ضرور بھجوانا  "
میں نے کہا،" بھائی آپ نے بولا اور بیج حاضر "
ملازم کو کرنل صاحب کے گھر دوڑایا ، جاؤ اور وہاں سے دس بارہ پھلیاں لے آؤ ، وہ گیا، کرنل صاحب نے مہربانی کی ایک شاپر میں بیج بھجوا دیئے ۔
اب مورنگا  یا سوہانجنا پر بات شروع ہوئی اُنہیں میں نے بیج  کی جڑ یں اُگانے ، گملے میں منتقل کرنے اور حفاظت کا طریقہ بتایا ۔ جو پچھلے مضمون میں لکھ چکا ہوں :
پڑھیں :  سوہانجنا یا مورنگا کی راولپنڈی ڈویژن میں افزائش ، 

اب ، اِس کے بیج کراچی اور میرپورخاص کی طرف روانہ ہو چکے ہیں ، دیکھیں کیا نتیجہ نکلتا ہے!
عبدالحفیظ بھائی جو بیج لے کر گئے وہ  پھلیوں سے نکلے ہوئے ، لیکن غلاف کے اندر تھے ۔


بیجوں سے جڑیں پھوٹنے کے عمل کے لئے ، اُنہیں   ایک پلاسٹک کے ڈبے میں ، ٹشو پیپر کے اوپر رکھ کر  پانی کا چھڑکاؤ کریں ، پھر ایک اور ٹشو پیپر رکھ کر  اُس پر دوبارہ  پانی کا چھڑکاؤکریں ۔اور ڈبے کو ڈھک دیا ۔تاکہ حبس پیدا ہو اور بیج جلدی اپنی جڑ نکالیں ۔یہ عمل میں نے 6 ستمبر کو کیا ۔
پھر  انتظار کیا کہ بیجوں کی جڑیں کب نکلتی ہیں ؟
دوسرے دن ڈبوں کو کھولا ، تو اُن کے اندر  بو تھی،  صاف پانی سے بیجوں کو دھویا اور دوبارہ واپس اُسی طرح رکھ دیا۔ تیسرے دن پھر کھولا ، بیجوں کو پانی سے دھویا اور واپس اُسی طرح رکھ دیا ۔
 چوتھے دن  ڈبوں کو کھولا ۔
بیجوں  اور خلافی بیجوں سے  جڑیں نکل آئیں تھیں ۔ 
اب اُن پر ، ڈسپرین کے پانی کا چھڑکاؤ کیا تاکہ جڑیں نکلنے کا نظام تیز ہوجائے ۔  ڈھکنوں کو پھر بند کردیا ۔
پانچویں دن ، بیجوں کی جڑیں اور بڑھ گئیں ؛
 اب مرحلہ تھا انہیں ، مٹی میں شفٹ کرنے کا ، جیساکہ میں نے پچھلے مضمون میں بتایا کہ کرنل امین کے گھر سے گملے میں لائے ہوئے ، پودے کو جب اپنے گملے میں شفٹ کیا۔ تو اُس کی جڑوں کو ہوا لگ گئی ۔ اور پودے کے سارے پتے جھڑ گئے ۔
 چنانچہ ، بیجوں کو پلاسٹک کے گلاس میں ، اور گملوں میں شاپر میں مٹی ڈال کر بو دیا ۔
اِس کی وجہ یہ تھی  کہ جب پودوں کو زمین میں لگایا جائے گا تو  پودے کو شاپر سمیت اٹھا کر زمین میں بنائے گڑھے میں رکھ دیں گے ۔ تاکہ جڑوں کو ہوا نہ لگے ۔ 
جڑیں نکلنے کے لئے  عمل  لئے جو بیج پلاسٹک کے ڈبوں میں ڈالے وہ  زیادہ تھے ، گملے اور گلاس ختم ہو گئے ، تو نیا حل نکالا ۔
ٹیلک شیٹ کے لفافے بنائے اور اُن میں  ، جڑیں نکالنے والے بیج ڈال دئیے۔
 ایک اور بات کہ تمام بیج نہیں پھوٹے ، کیوں ؟
وجہ یہ کہ کئی بیجوں کو کیڑوں نے کھا لیا ۔
تو دوستو یہ ہے ، سوہانجنا یا مورنگا کو اُگانے کے لئے ، بوڑھے کی کوششیں ۔ اِن پودوں کو پھول اور پھلیاں لگنے میں ، کہا جاتا ہے دو سال لگتے ہیں ۔



لیکن کیا ہوا اِس کے پتے تو استعمال کئے جاسکتے ہیں ۔



صدیوں کی تحقیق اور دنیا میں  سوہانجنا (مونگا)  کا استعمال  ۔
٭ - یہ معجزاتی درخت  300 بیماریوں کا علاج  ہے ، جو غذا کی کمی یا اُن میں   وٹامن، اور دیگر  کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں  :
 اِس درخت کے خشک  50 گرام پتے ، دن کی بھوک میں ۔
٭- 4 گلاس دود ھ   میں موجود کیلثیم سے 17 گنا زیادہ کیلثیم  رکھتے  ہیں ۔
٭- 8 مالٹوں میں موجودوٹامن سے دُگنا ، اپنے اندر رکھتے ہیں  ۔
٭-8 کیلوں  کے برابر ہیں ۔
٭- 2 پالک کی گڈیوں برابر آئرن  ، مہیا کرتے ہیں ۔

٭- 2 کپ دہی    کے مقابلے میں 9 گنا زیادہ پروٹین رکھتے ہیں ۔
٭- اِن  50 گرام پتوں میں  18 ایمائینو ایسڈز ۔36 وٹامن  اور 92 اینٹی آکسیڈنٹ ہوتے ہیں-

٭٭٭٭٭٭٭فہرست ۔ باغبان اور کسان٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔