Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
‏شیطان نامہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏شیطان نامہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 25 اکتوبر، 2022

ماضی کی ایک ٹویٹ ۔ شقشقیہ

 ٭آپ کے ایک خطبہ کا حصہ جسے شقشقیہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

 آگاہ ہو جا ؤ کہ خداکی قسم فلاں شخص ( ابن ابی قحافہ) نے قمیص خلافت کو کھینچ تان کر پہن لیا ہے حالانکہ اسے معلوم ہے کہ خلافت کی چکی کے لئے میری حیثیت مرکزی کیل کی ہے۔علم کا سیلاب میری ذات سے گزر کرنیچے جاتا ہے اور میری بلندی تک کسی کا طائر فکر بھی پرواز نہیں کر سکتا ہے۔پھر بھی میں نے خلافت کے آگے پردہ ڈا ل دیا اور اس سے پہلے تہی کرلی اوریہ سوچنا شروع کردیا کہ کٹے ہوئے ہاتھوں سے حملہ کردوں یا اسی بھیانک اندھیرے پرصبر کرلوں جس میں سن رسیدہ بالکل ضعیف ہو جائے اوربچہ بوڑھا ہو جائے اور مومن محنت کرتے کرتے خدا کی بارگاہ تک پہنچ جائے۔ تو میں نے دیکھا کہ ان حالات میں صبر ہی قرین عقل ہے تو میں نے اس عالم میں صبر کرلیا کہ آنکھوں میں مصائب کی کھٹک تھی اورگلے میں رنج و غم کے پھندے تھے۔میں اپنی میراث کو لٹتے دیکھ رہا تھا ۔یہاں تک کہ پہلے خلیفہ نے اپنا راستہ لیا اور خلافت کو اپنے بعد فلاں (ابنِ خطاب) کے حوالے کردیا بقول اعشی:''کہاں وہ دن جو گزرتا تھا میرا اونٹوں پر۔کہاں یہ دن کہ میں حیان کے جوار میں ہوں '' حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ وہ ( ابن ابی قحافہ)   اپنی زندگی میں استعفا دے رہا تھا اور مرنے کے بعد کے لئے دوسرے  (ابنِ خطاب) کے لئے طے کرگیا۔

بیشک دونوں نے مل کر شدت سے اس کے تھنوں کو دوہا ہے۔اور اب ایک ایسی درشت اور سخت منزل میں رکھ دیا ہے جس کے زخم کاری ہیں اورجس کو چھونے سے بھی درشتی کا احساس ہوتا ہے۔لغزشوں کی کثرت ہے اورمعذرتوں کی بہتات! اس کو برداشت کرنے والا ایس ہی ہے جیسے سر کش اونٹنی کا سوار کہ مہار کھینچ  لے تو ناک زخمی ہو جائے اور ڈھیل دیدے تو ہلاکتوں میں کود پڑے۔

تو خدا کی قسم لوگ ایک کجروی' سر کشی' تلون مزاجی اور بے راہ روی میں مبتلا ہوگئے ہیں اور میں نے بھی سخت حالات میں طویل مدت تک صبر کیا یہاں تک کہ وہ بھی اپنے راستہ چلا گیا لیکن خلافت کو ایک جماعت میں قرار دے گیا جن میں ایک مجھے بھی شمار کرگیا۔ جب کہ میرا اس شوریٰ سے کیا تعلق تھا؟مجھ میں پہلے دن کون سا عیب و ریب تھا کہ آج مجھے ایسے لوگوں کے ساتھ ملایا جا رہا ہے۔لیکن اس کے باوجود میں نے انہیں کی فضا میں پرواز کی اور یہ نزدیک فضا میں اڑے تو وہاں بھی ساتھ رہا اور اونچے اڑے تو وہاں بھی ساتھ رہا ۔مگرپھر بھی ایک شخص اپنے کینہ کی بنا پرمجھ سے منحرف ہوگیا اور دوسری دامادی کی طرف جھک گیا اور کچھ اوربھی ناقابل ذکراسباب واشخاص تھے جس کے نتجیہ میں تیسرا شخص سرگین اورچارہ کے درمیان پیٹ پھلائے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور اس کے ساتھ اس کے اہل خاندان بھی کھڑے ہوئے جو مال خدا کو اس طرح ہضم کر رہے تھے ۔

 جس طرح اونٹ بہار کی گھاس کو چرلیتا ہے یہاں تک کہ اس کی بٹی ہوئی رسی کے بل کھل گئے اور اس کے اعمال نے اس کا خاتمہ کردیا اور شکم پری نے منہ کے بل گرادیا اس وقت مجھے جس چیزنے دہشت زدہ کردیا یہ تھی کہ لوگ بجوں کی گردن کے بال کی طرح میرے گرد جمع ہوگئے اور چاروں طرف سے میرے اوپر ٹوٹ پڑے یہاں تک کہ حسن و حسین کچل گئے اور میری ردا کے کنارے پھٹ گئے ۔یہ سب میرے گرد بکریوں کے گلہ کی طرح گھیرا ڈالے ہوئے تھے۔لیکن جب میں نے ذمہ داری سنبھالی اوراٹھ کھڑے ہوا تو ایک گروہ نے بیعت توڑ دی اوردوسرا دین سے باہرنکل گیا اور تیسرے نے فسق اختیار کرلیا جیسے کہ ان لوگوں نے یہ ارشاد الٰہی سنا ہی نہیں ہے کہ،

' یہ دارآخرت ہم صرف ان لوگوں کے لئے قراردیتے ہیں جو دنیا میں بلندی اور فساد نہیں چاہتے ہیں اور عاقبت صرف اہل تقویٰ کے لئے ہیں ''

 

اہل تقویٰ کے عیال 

اہل  تشیع  کے مولا  علی  کی بیویاں اور لونڈیاں


٭۔ علی   بن ابو طالب  ، حضرت محمد  بن عبداللہ کے چچا زاد بھائی تھے 
٭۔ علی   بن ابو طالب  ،    کی پہلی بیوی  ان کے چچا زاد بھائی یعنی حضرت محمد کی بیٹی فاطمہ تھیں ، یعنی  علی   بن ابو طالب  ، کی بھتیجی تھیں۔( جو اوپر تصویر میں جلتے ہوئے دروازے کے پیچھے کھڑی ہے۔ یہ فن پارہ  کسی شیعہ سے منسوب ہے ۔)  
٭۔ علی   بن ابو طالب  ،   ،   کی دوسری انکے چچا زاد بھائی یعنی حضرت محمد کی نواسی  عمامہ تھیں یعنی مولا علی نے اپنی بھتیجی کی بیٹی سے شادی کی  
٭۔ علی   بن ابو طالب  ، کی تیسری بیوی فاطمہ بنت حزام تھیں 
٭۔ علی   بن ابو طالب  ، کی چوتھی بیوی آسما  بنت عمیس تھیں جو کہ پہلے مولا علی کے سگے بھائی جعفر طیار کی بیوی یعنی مولا علی کی سگی بھابھی تھیں ، انکی وفات کے بعد  حضرت ابو بکر کی بیوی اور پھر  بیوہ  رہیں پھر مولا علی کی بیوی بنیں 
٭۔ علی   بن ابو طالب  ، کی پانچویں بیوی خولہ بنت جعفر تھیں ، یہ یمامہ سے تعلق رکھتی تھیں ، مسلیمہ بن حبیب کے ساتھ مسلمانوں کی جنگ یمامہ  میں  قیدی بنیں اور پھر بعد میں مولا علی  نے انکو اپنی بیوی بنایا 
٭۔ علی   بن ابو طالب  ،  کی چھٹی بیوی لیلیٰ بنت مسعود  تھیں ، مولا علی کی وفات کے بعد مولا علی کے سگے   اور پیغمبر اسلام کے چچا زاد بھائی جعفر  طیار کے بیٹے  عبد اللہ طیار  یعنی مولا علی کے سگے  بھتیجے نے اپنی سگی  چچی سے شادی کی ، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مولا علی عبداللہ بن طیار کے سوتیلے باپ بھی تھے ،  یعنی عبد اللہ بن طیار کی ماں  اسما بنت عمیس نے انکے باپ کے مرنے کے بعد مولا علی  سے شادی  بھی  کی .... دو تین مرتبہ پڑھیں اور سر دھنیں ، اخلاقیات کے پیمانوں کو ماپنے کی کوشش کریں 
٭۔ علی   بن ابو طالب  ،    کی  ساتویں بیوی کا نام  صہبا بنت ربیعہ  تھا جن کے بارے  میں کوئی خاص معلومات نہیں ملتیں ، صہبا بنت ربیعہ مولا علی  کی لونڈی تھیں اور بہت سے علماء  اس بات پر متفق ہیں کہ وہ  مولا  علی  کی پہلے لونڈی ، پھر غلام بنیں ، زیادہ معلومات تو موجود نہیں  البتہ انکی مولا علی  کے ساتھ ایک بیٹی رقیہ بنت علی  پیدا ہوئیں ، لاہور میں بی بی پاک دامن  کے مزار کو بہت سے لوگ مختلف روایات کی بنیاد پر رقیہ بنت علی  کا مزار ہی گردانتے ہیں 
٭۔ علی   بن ابو طالب  ،  کی   آٹھویں بیوی کا نام ام سعید تھا ، انکے بارے میں بھی کوئی خاص معلومات موجود نہیں ہیں ، بس اتنا معلوم ہے کہ انکے نانا ، والدہ  اور دوسرے ننھیال کے لوگ طائف کی وادی کے رہنے والے تھے جو اسلام قبول کر کے پیغمبر اسلام کے  دائرہ خاص میں شامل ہو چکے تھے 
٭۔ علی   بن ابو طالب  ،   کی  نویں بیوی کا نام ماہیہ بنت عمری القیس  تھا ، ان کے والد کا سلسلہ نسب عمری القیس بن عدی بن اوس بن جابر بن کعب بن علیم بن کلب تھا  انکے بارے میں بھی کوئی خاص معلومات موجود نہیں ہیں 
٭۔ علی   بن ابو طالب  ،    کی چند لونڈیوں کے نام یہ ہیں 
ام  الاصغر ، ام کلثوم ، نفیسہ ، ام ہانی ، ام جمانہ ، میمونہ ، امامہ ، رملہ  الصغری ، ام ابیحہ 

مذہبی  تاریخ کی کتابوں کے مطابق مولا علی  کی نو بیویوں اور بے شمار لونڈیوں میں سے انکے چودہ  بیٹے  اور انیس بیٹیاں تھیں جبکہ  اکثر شیعہ علماء کے  مطابق  مولا علی  کے ٹوٹل اٹھائیس بچے تھے۔ 
مسند احمد ( بائیس ہزار نو سو سڑسٹھ)کے مطابق محمد بن عبداللہ کے قریبی ساتھ بریدہ ابن الحسیب نے پیغمبر اسلام سے بیان کیا کہ میں نے  علی  کو ایک غلام عورت سے ملنے کے بعد غسل کرتے دیکھا ہے ، جس پر
محمد بن عبداللہ نےحکم دیا  کہ  " علی کو پانچویں حصے پر (مال غنیمت کے پانچویں حصے)  پر مکمل اختیار ہے ، اس لیے اس سے نفرت مت کرو"۔


  ٭٭٭ ابتداءِ شیطان نامہ ٭٭٭ 

 

جمعرات، 25 اگست، 2022

القرآن ، انسانی نطق اور روایات

٭ - القرآن کے پہلے حافظﷺ نے ۔ *بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ* سے *مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ* تک ، عربی آیات کی تلاوت میں صدیوں پہلے یہ آیت بطورمنطق بھی چار بار تلاوت کی :۔

*وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ* [54:17]۔[54:22]۔[54:32]۔[54:40]


لیکن انسانی منطق کے مطابق ،آپ القرآن حدیث کے بغیر نہیں سمجھ سکتے۔؟ اور حدیث کو سمجھنے کیلئے مندرجہ ذیل علوم سیکھنے ہونگے ۔ورنہ قرآن توبعد کی بات ہے ،حدیث بھی سمجھ نہیں آئیگی!۔

٭- محدث کی صداقت کا علم۔

٭۔اسناد حدیث کا علم۔

٭۔ حدیث عالی کا علم۔

٭۔ حدیث نازل کا علم۔

٭۔روایات موقوفہ کا علم۔

ان اسناد کا علم جس کی سند پیغمبر اسلام سے ذکر نہ ہو۔ گویا کہ القرآن پہلے حافظ کہ طرف سے مصدق سند نہیں !!۔اور یہ سند تلاش کرنے کے لئے ۔

٭۔صحابہ کے مراتب کا علم۔


٭۔ اولاد اصحاب کے مراتب کا علم۔

اِس کے بعد احادیث مرسلہ اور ان کے سلسلے میں پیش کی جانے والی دلیلوں کے مراتب مزید برآں:۔

٭۔ تابعین سے نقل کی گئی احادیث کا علم۔

٭۔ اسناد مسلسل کا علم۔

٭۔ احادیث معنعنہ کا علم۔

٭۔ روایات معضل کا علم۔

٭۔ احادیث مدرج کی پہچان کا علم۔

٭۔ تابعین کی شناخت کا علم۔

٭۔تبع تابعین کی معرفت۔


تابعین کی شناخت کے بعد اُن کےسلسلہءِ

٭۔ ان صحابہ تابعین اور ان کے پیرویان میں سے جو راوی ہیں عصر حاضر تک ان کے قبائل کی معرفت۔

٭۔ صحابہ، تابعین اور ان کے بھائیوں،بہنوں کی عصر حاضر تک معرفت۔

٭۔ ان صحابہ، تابعین،تباع تابعین کی معرفت جن میں سے بس ایک راوی نے روایت کی ہو۔

٭۔ صحابہ، تابعین، تباع تابعین اور عصر حاضر تک ان کے پیرئوں کی نیت کا جاننا۔

٭۔ صحابہ، تابعین، تباع تابعین کی اولاد اور ان کے غلاموں کی معرفت۔


اصحاب رسول میں محدثین کی اہمیت ۔

٭۔ محدثین کے ناموں کا علم۔

٭۔ محدثین کی عمر کی اطلاع۔ولادت سے وفات تک۔

٭۔ محدثین کے القابات کی معرفت۔

٭۔ محدیثین کے مذہب کی اطلاع۔

محدثین سے راویانِ مرویات۔

٭۔ روایان حدیث کے وطن کی پہچان۔

٭۔ ان راویوں کی معرفت جو ایک دوسرے سے قریب ہیں۔

٭۔ راویوں کے قبائل، وطن، نام، کنیت اور ان کے پیشوں میں متشابہات کی پہچان۔


٭۔ اکابر و اصاغر کی معرفت۔

علم جرح و تعدیل کی معرفت کے بعد صحیح و سقیم کی پہچان کے لئے علوم :۔

٭۔ فقہ الحدیث کا علم۔

٭۔ ناسخ و منسوخ احادیث کا علم۔

٭۔ متن میں جو غریب (نامانوس) الفاظ استعمال ہوں ان کا علم۔

٭۔ احادیث مشہور کا علم۔

٭۔ غریب اور نامانوس احادیث کا علم۔

٭۔ احادیث مفرد کی پہچان کا علم۔

٭۔ ان لوگوں کی معرفت جو حدیث میں تدلیس کر دیتے ہیں۔

٭۔ حدیث کی علّتوں کا پہچاننا۔

٭۔ شاذ روایات کا علم۔

٭۔ پیغمبر کی ان حدیثوں کا جانچنا جو دوسری احادیث سے معارض نہ ہو۔

٭۔ ان حدیثوں کی معرفت جن کا کوئی رخ کسی رخ سے معارض نہ ہو۔

٭۔ احادیث میں الفاظ زائد کی معرفت۔

٭۔ متون کی تحری غلطیوں سے آگاہی۔

٭۔ مذاکرہ حدیث کا جانچنا اور مذاکرہ کرتے ہوئے راست گو کی معرفت۔

٭۔ اسناد میں محدثین کی تحریری غلطیوں کی اطلاع۔

٭۔ صحابہ سے عصر حاضر تک کے محدثین کے انساب کا علم۔

٭۔ غزوات پیغمبر ان کے ان خطوط وغیرہ کا علم جو انہوں نے بادشاہوں کو تحریر فرمائے

٭۔ اصحاب حدیث نے جن ابواب کو جمع کیا ہے ان کی معرفت اور اس بات کی جستجو کہ ان میں سے کون سا حصہ ضائع ہو گیا ہے

٭۔ اس کے علاوہ احادیث کی مندرجہ ذیل اقسام کا علم بھی ہونا چاہئیے۔

٭۔صحیح

٭۔ حسن

٭۔ ضعیف

٭۔ مسند

٭۔ متصل

٭۔ مرفوع

٭۔ موقوف

٭۔ مقطوع

٭۔ مرسل

٭۔ معضل

٭۔ تدلیس

٭۔ شاذ

٭۔ غریب

٭۔ معنعن

٭۔ معلق

٭۔ مفرد

٭۔ مدرج

٭۔ مشہور

٭۔ مصحف

٭۔ عالی

٭۔ نازل

٭۔ مسلسل

٭۔ معروف

٭۔ منکر

٭۔ مزید

٭۔ ناسخ

٭۔ منسوخ

٭۔ مقبول

٭۔ مشکل

٭۔ مشترک

٭۔ موتلف

٭۔ مختلف

٭۔ مطروح

٭۔ متروک

٭۔ مول

٭۔ مبین

٭۔ مجمل

٭۔ معلل

٭۔ مضطرب

٭۔ مہمل

٭۔مجہول

٭۔ موضوع

٭۔ مقلوب

٭۔ حدیث ماثور

٭۔ قدسی

٭۔ عزیز

٭۔ زائد الثقہ

٭۔ موثوق

٭۔ متواتر

مندرجہ بالا علوم سیکھنے کے بعد میں حدیثیں سمجھ کر پھر احادیث کے ذریعے قرآن کی سمجھ اب بھی ممکن نہیں ۔ کیوں کہ بھٹکنے کا امکان اب بھی ممکن ہے لہذا قرآن کو صرف ثواب کی نیت سے ناظرہ پڑھتے رہو دین کو سمجھنا ہے تو ہمارے اکابرین نے قرآن کی تفاسير لکھی ہوئی ہیں۔بس وہ پڑھ لو۔تفاسیر کے انبار میں سے اب آپ کی ہمت ہے کہ کِس تفسیر کا آپ انتخاب کرتے ہیں یا آپ سے کروایا جاتا ہے ۔

٭۔اُم ِ تفسیر ابنِ جریر الطبری (224-310ھ)کی 30 جِلدیں ہیں۔

٭۔تفسیر امام غزالی (450-505ھ)کی 20 جِلدیں ہیں۔

٭۔تفسیر امام جوزی 40 جلدیں ہیں۔

٭۔تفسیر ابن النقیب 50 جلدیں ہیں۔

٭۔تفسير الافودی 120 جلدیں ہیں۔

٭۔تفسیر حدائق ذات بہجتہ 500 جلدیں ہیں۔

٭۔تفسیر مدارک التنزيل کی 7 جلدیں ہیں۔

٭۔معالم التنزيل کی 8 جلدیں ہیں۔

٭۔تفسير کبیر کی 8 جلدیں ہیں۔

٭۔روح المعانی کی 9 جلدیں ہیں۔

٭۔تفسیر مریسی کی 24 جلدیں ہیں۔

٭۔کتاب الجامع فی التفسير کی 30 جلدیں ہیں۔

٭۔کتاب التحرير و التجیر کی 50 سے زائد جلدیں ہیں۔

گھبرا گئے نا !!!۔ابھی ٹہریں۔

يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ کے الذِّكْرِ کی وساطت سے مُّدَّكِرٍ،نہیں بنا جاسکتا ۔کیوں کہ پانچ پانچ اور سات سات جلدوں پر مشتمل ، طلابی (1035وفات ) بغوی (وفات 1122) ، بیضاوی، کشاف، سخاوی، بلقینی، بقاعی، فراحی ، شوکانی، مہائمی،. ابنِ تمیمہ ، مادردی، ابنِ منذر، ابنِ حیان، ابنِ فورک اور ابنِ طالب مکی کی تفسیریں مزید ہیں۔

اس کے علاؤہ معتزلہ تفاسیر ۔ تشیع تفاسیر ،و دیگر فرقہ و مذہب کی تفاسیر کے انبار لگے ہوئے ہیں ۔ متقدمین کی تفسیروں کے بعد متأخرين کی تفسیریں موجود ہیں جن میں شاہ عبدالقادر، شاہ اشرف علی، شاہ عبدالعزیز، شاہ محمود الحسن، ابوالکلام آزاد،ڈپٹی نذیر احمد، مولوی فیروز الدین، مولوی احمد علی لاھوری ،مولوی ثناءاللہ امرتسری وغیرہ وغیرہ۔ 

Sunni

Mu'tazili

Shi'a 

Ahmadi

Others 


أبو جعفر محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب الشهير بالإمام الطَّبَرِي (224-310ھ)کی تفسیر ابنِ جریر کو چونکہ ام التفسير مانا گیا ہےلہذا اِس کا چھاپہ ہیں مگر تضادات سے بھری پڑی ہیں۔اور تفسیر ابنِ جریر کا مآخذ 10 ھجری کے بعد سے 310 ھجری تک کی روایات ہیں۔


گویا اللہ کی منطق ، القرآن کے پہلے حافظﷺ کےذریعے تلاوت کردہ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سے مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ تک ، عربی آیات مھجور کر کے انسانی نطق کےپیچھےدھکیل دی گئی ہیں۔


وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا[25:30]


پریشان نہ ہو یہی تو الرسول کا اپنی قوم کے سیاسی اکابرین کے مْكُرُ کا گلہ ہے ۔ جو قریہ قریہ پھیلے ہوئے ہیں۔


وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَابِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُواْ فِيهَا وَمَا يَمْكُرُونَ إِلاَّ بِأَنفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ [6:123]


اِنہیں آپ مروّج زبا ن میں سلفِ صالحین بھی کہہ سکتے ہیں۔

٭٭٭٭ 

جمعرات، 8 جولائی، 2021

ٹرک ڈرائیوروں کے لختئی

  آپ نے کبھی بڑے بڑے اور مینا کاری سے مزین ٹرکوں کو دیکھا ہے؟
 کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ ان خوبصورت ٹرکوں میں بسا اوقات ایک کم سن بچہ بھی ہوتا ہے۔۔۔ یہ بچہ کون ہے ؟ کیا وہ ڈرائیور کا بیٹا ہے یا رشتہ دار؟ یا کوئی کام سیکھنے والا apprentice؟ آخر اس کا یہاں کام کیا ہے؟

 ٹرک ڈرائیورز اور کنڈکٹرز اکثر ان بچوں کو لمبے سفر پر اپنے ساتھ لیے پھرتے ہیں۔ یہ وہی غریب اور بے سہارا بچے ہیں جو چند پیسوں کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ یہاں ان کی ضرورت ایک سیکس پارٹنر کے طور پر ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ رفتہ رفتہ ایک کلچر کی شکل اختیار کر چکا ہے مگر مجال ہے جو کوئی اس پر بات کرے۔ سب جانتے بوجھتے اس موضوع کو ٹیبو یا شجر ممنوعہ بنا کر آنکھیں بند کیے رہتے ہیں؟

 رفتار چینل پہ دکھائی گئی ڈاکومنٹری میں ایک بدبخت ڈرائیور کےمطابق “لڑکوں کے ساتھ سونا ان کا واحد ’’سورس آف انٹرٹینمنٹ‘‘ ہے۔ "ٹرک میں بچہ ساتھ ہوتا ہے،اپنا ہاتھ ہے، جو دل چاہے اس سےکام لیں، بوسہ لے لیا یا کچھ اور۔۔ہم تو مہینہ مہینہ گھر نہیں جاتے، دل بھر جاتا ہے۔

بیوی کو ساتھ رکھنا اسلام میں جائز نہیں، پردے کا حکم ہے،اسےگھر میں ہونا چاہیے" بچوں کے ساتھ اس زبردستی کے پیچھے کیا سوچ ہے؟

د سیند په غاړه یو هلک ماته بالکل د شفتالو په څیر ښکاري، 
افسوس چې زه لامبو نه شم کولای

 ذرا اس سے اندازہ لگائیے: ۔
دریا کے اُس پار ایک لڑکا مجھے بالکل آڑو جیسا دکھتا ہے، افسوس کہ میں تیرنا نہیں جانتا۔

  یہ گانا پاکستان بننے سے بھی پہلے کا ہے  

 کم عمر بچوں سے جنسی خواہش پوری کرنے کی تاریخ، افغانستان اور وسط ایشیا میں ایک ہزار سال سے بھی پہلے ملتی ہے۔

 جرمن ایتھنو گرافک ریسرچ کے مطابق پہاڑوں میں رہنے والے بڑی عمر کے شادی شدہ مرد ۔ بلکہ مدرسوں کے طالبعلموں کو بھی اُن کے  استاد بھی چھوٹے لڑکوں کو چائلڈ پروسٹیٹیوشن یا سیکس غلام کے طور پر استعما ل کرتے آئے ہیں     یہ انسان نہیں، حیوان بھی نہیں… یہ درندے ہیں جو معصوم بچوں کی مسکراہٹ، ان کے خواب اور ان کا بچپن نوچ کے اپنی ہوس کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔

 افغانستان میں تو یہ ناسور “کلچر” کے نام پر جیتا جاگتا پھوڑا ہے جو گُھلنے کی بجائے بڑھتا ہی جارہا ہے۔طاقتور اور دولت مند لوگ غربت کا فائدہ اٹھا کر والدین کے بچوں کو خرید لیتے ہیں یا زبردستی اٹھا لیتے ہیں۔ ان بچوں کو محفلوں میں عورتوں کے کپڑے پہنا کر نچایا جاتا ہے، ان کی عزت پامال کی جاتی ہے اور ان کی معصوم آنکھیں ہمیشہ کے لیے بجھ جاتی ہیں۔

 جس معاشرے میں غیرت کے نام پر قتل کر دینا ایک عام سی بات ہو، وہاں اس کھلی بے غیرتی کا بھلا کیا جواز ہو سکتا ہے۔ یہ بات تو دین سے دوری اور کلچر کے ڈبل اسٹینڈرڑز کو ظاہر کرتی ہے۔ جہاں عورت کا گھر سے باہر نکلنا جرم سمجھا جائے، وہاں بچوں کے ساتھ زیادتی کا یہ اوپن سیکریٹ معاشرے کے ہر فرد کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ ظلم صرف ایک لمحے کا نہیں یہ نسلوں کی بربادی ہے۔ اور دکھ کی بات یہ ہے کہ اس فعل کا باقاعدہ مربوط نظام ہے جو قبائلی معاشرے، خصوصاً خیبر پختونخواہ اور افغانستان کے بیشتر حصے میں عام ہے۔

 چھ یا سات  سال کا بچہ اپنی کسٹڈی میں لے کر اسے پہلے ٹرین کیا جاتا ہے اور پھر اگلے 10/15 سال اس کو ہر طرح سے نوچ کھاتے ہیں یہ بےغرت ، اسلام کے نام لیوا جاہل اور گھناؤنے لوگ۔ اوپر اوپر سے نماز اور دینی شعائر کے پابند، عورتوں کو پردہ کے نام پہ قید کر کے مردوں سے خواہش پوری کرتے نظر آتے ہیں۔ 

جبکہالقرآن  میں  ایسے گھناؤنے فعل کے بارے میں نہایت سخت حکم دیا ہے لواطت اور بدکاری کرنے والے کے لیے واضح کیا گیا ہے کہ:۔
وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِينَ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّن دُونِ النِّسَاءِ ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَن قَالُوا أَخْرِجُوهُم مِّن قَرْيَتِكُمْ ۖ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ فَأَنجَيْنَاهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا ۖ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ۔(القرآن صحوف 160۔161)

اللہ نے تومردوں کے ساتھ شہوت کرنے پر سنگساری کہ سزا لونڈے بازوں کو دی ہے ،   ‎

   اس کے مجرم واجب القتل ہیں   یہ سب سے بڑی لعنت  ہے کہ یہ سب کچھ ان طاقتور ہاتھوں سے ہوتا ہے جن کے آگے قانون بے بس ہو جاتا ہے۔ جیسے بچوں کی عزت اور ان کا مستقبل کوئی قیمت ہی نہیں رکھتے۔

 لیکن یاد رکھو! اللہ کے ہاں کوئی سفارش، کوئی رشوت، اور کوئی طاقت نہیں چلے گی۔ ان درندوں کو دنیا میں قانون سے شاید ریلیف مل جائے، مگر آخرت میں جہنم ان کا مقدر ہے۔٭٭٭٭٭٭

اتوار، 30 ستمبر، 2018

شیطان نامہ ۔ فہرست مضامین

٭٭٭شیطان نامہ ٭٭٭

تمہید ۔
20 اگست 2010 کی بات ہے ، کہ مہاجر زادہ کے فیس بُک پیچ پر کرسٹوفر لی کی ایک تصویر نمودار ہوئی ،اور
GRAVE WALKER"قبروں کے مسافر "  کو دوست بنا لیا ۔اور ایک پکچر   مزید ایک پوسٹ ، لگا دی ۔
 اُس کے بعد قبروں کا مسافر ،  29 اکتوبر 2014 کو  نئی تصویر کے ساتھ دوبارہ قبر سے نکلا ،  مہاجرزادہ اُس وقت صرف ریٹائرڈ فوجی ہوتا تھا ۔  نے کمنٹ دیا :
پھر قبر سے نکل آئے ؟
اللہ رحم کرے ۔ میرے جیسے معصوم انسانوں پر !
معلوم نہیں، کس کی پوسٹ نے اُس کی شیطانی خباثت کو مہمیز کیا اور اُس نے ، کدال اُٹھا کے ، 1400 سال پرانی قبروں کے کتبے اُکھاڑ اُکھاڑ کر لانا شروع کر دیئے ۔ جو سالخوردہ ہو چکے تھے اور کئی نے تو اُن پر لکھے ہوئے ، تعویذ پڑھے ہی نہیں تھے ۔ اور جنھیں شک تھا کہ یہ پڑھے جائیں گے اور ماضی کے قدآور بُت زمیں بوس ہوجائیں گے ، اُنہوں نے اپنی قلمی طوائفیت کا سہارا لے کر اُن بتوں کو ورق الجنۃ (تلبسو الحق بالباطل) کا پلستر کر کے نئی طرز  دینے  کی کوشش کی۔
  لیکن شیطانی خباثت کیا ایکس رے مشینوں سے چھپ سکتی ہے !۔
 وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ  (7/21)
  اور اُس نے اُن دونوں کو تقسیم کیا اور (الگ الگ) کہا کہ میں تم دونوں کا ناصح ہوں  

1۔بڑا شیطان
2۔ تمہیدِ کارِ گراں بر لبِ سمندرِ بے کراں



3۔ اکبر کہیں یا اصغر 4۔ابتداءِ فساد
5۔ ملکہ ءِ سبا اور عبداللہ بن سبا 6۔ آپ ہی اللہ ہیں
7۔ آقا و مرشد 8۔ شیطانی زنبیل 
قسط1۔ راکھ کا ڈھیر قسط2۔ تحقیق کرو یا برداشت کرو
قسط3۔ راکھ کے ڈھیر میں شعلہ قسط4 ۔عبداللہ بن سباح کی تجویز
قسط5۔قتلِ عثمان بن عفان قسط6۔  خلافت سے معزولی اور شہادت
قسط7۔   ابنِ کثیر کا چھاپہ قسط8۔  مصالحت اور بیعت خلافت
قسط9۔کڑوی گولیاں قسط10۔ جگر تھام کے بیٹھو
 قسط11۔  شہادت ابو ایوب انصاری قسط12۔ اماراتِ حج 
قسط27۔تیزی سے سفر
28۔سفر کربلا کے واقعات




قسط29۔مسلم  کے بھائیوں کی ضد 30۔ کوفہ نہیں بلکہ دمشق
 

قسط31۔کوفہ یا دمشق
قسط 32۔اجماع امت کی اہمیت




قسط33۔ میدان کرب و بلا قسط33۔شیطان کا اعتراف (حصہ ب)
قسط34۔فراط کا کنارہ
قسط35۔تاریخ دانوں کی رائے




قسط36۔ کربلا محققانہ جائزہ قسط37۔ جھوٹ کی بدترین مثال
 

قسط38۔چند اہم گذارشات
قسط 39۔واقعہ کربلا




قسط40۔ واقعہ کربلا جائزہ (الف) قسط41۔ واقعہ کربلا جائزہ (ب)
قسط42۔معرکہ آرائیوں کے عجوبات
قسط43۔علی بن الحسین  ۔ الف




قسط44۔ علی بن الحسین( زین العابدین ) ۔ ب قسط45۔ تاریخ کی بریکنگ نیوز
 

قسط46۔قریش و اموی شادیاں
قسط 47۔نہج البلاغہ




قسط48۔اولاد حسین کی قرابتیں   قسط49۔ اولاد عباس کی قرابتیں
قسط50۔جویریہ سجاد کو جواب
قسط51۔ مدفن ۔ علی ابن ابو طالب
 

قسط52۔سر کاٹ کر تشہیر کرانے کی روایتیں
قسط 53۔کربلا کے مقتولوں کے سر




قسط54۔سروں کی شہروں میں تشہیر ۔الف قسط55۔ مقتولین شہروں میں تشہیر ۔ب
قسط56۔ سروں کے 12 مدفن
قسط57۔ حسینی قافلہ کے شرکا اور باقی ماندگان




قسط58۔ جھوٹ اور دھوکہ بازی ۔ ادنٰی نمونہ قسط59۔ 10 محرم قاسم کی شادی (آخری قسط)
 
 اُفق کے پار بسنے والے  نیک دل دوستو۔
شیطان نامہ   یہاں  اختتام ہوتا ہے لیکن ۔ شیطانی سفر اُس وقت تک ختم نہیں ہوتا ہے تک ۔اِس کرہ ارض پر ایک بھی انسان باقی ہے ، کیوں کہ قول و فعل کا تضاد پیدا کرنے کے لئے اُس نے انسان کو بہکانے کے لئے ، ربّ العالمین سے وعدہ لیا ہوا ہے ۔
 اور شیطان کا انسان کو بھٹکانے کا طریقہ بھی اُس کے احسن الخالقین نے اُسے بتا دیا ۔
 
 القرآن کے پہلے حافظﷺ  نے   ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ سے  مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ تک   بذریعہ تلاوت  سلسلہ حفاظ سے ہم تک بغیر تغیّر و تبدّل ہم تک پہنچی ۔ 
 ٭٭٭٭٭٭٭
 
  

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔