Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
‏مرغ بانی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏مرغ بانی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 17 مارچ، 2023

مرغ بانی ۔ ایام ثمانی، کالی چونچ ۔ کالا گوشت اور لال خون

بوڑھے نے جب سے پنشرز ایسوسی ایشن میں قدم رکھا  اور وہاں سے چندا مانگنے والی سرکار  کو بے نقاب کرکے ، ایک مخلص دوست کو چیئرمین بنایا ، تو اُفق کے پار بسنے والے دوستوں میں نے پہلے نیک دل پنشنرز نے ، راؤ جعفر اقبال چیف پیٹی آفیسر (ریٹائرڈ)  ، پاکستان نیوی ، نے   ربیتانوز (خرگوش پال ) کے نو آموز شوقین میں شامل کر لیا ۔ 

جہاں مخلص خرگوش پال کے علاوہ لکھ پتی بنانے والے فراڈیئے بھی موجود تھے اور وہ آسمان کی طرف ھاتھ اُٹھا اُٹھا کر بددعائیں نکال رہے تھے ۔ مخلص دوستوں کی مدد سے اُنہیں بے نقاب کیا اور ایگریمنٹ کے جالے سے نجات دلوائی ۔کیسے پہلے آپ یہ نظم پڑھیں :۔

اک دن کسی مکھی سے یہ کہنے لگا مکڑا

 اس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمہارا

 لیکن مری کٹیا کی نہ جاگی کبھی قسمت

 بھولے سے کبھی تم نے یہاں پاؤں نہ رکھا

 غیروں سے نہ ملیے تو کوئی بات نہیں ہے

 اپنوں سے مگر چاہیے یوں کھنچ کے نہ رہنا 

آؤ جو مرے گھر میں تو عزت ہے یہ میری 

وہ سامنے سیڑھی ہے جو منظور ہو آنا 

مکھی نے سنی بات جو مکڑے کی تو بولی 

حضرت کسی نادان کو دیجے گا یہ دھوکا

 اس جال میں مکھی کبھی آنے کی نہیں ہے 

جو آپ کی سیڑھی پہ چڑھا پھر نہیں اترا 

مکڑے نے کہا واہ فریبی مجھے سمجھے 

تم سا کوئی نادان زمانے میں نہ ہوگا 

منظور تمہاری مجھے خاطر تھی وگرنہ

 کچھ فائدہ اپنا تو مرا اس میں نہیں تھا

 اڑتی ہوئی آئی ہو خدا جانے کہاں سے 

ٹھہرو جو مرے گھر میں تو ہے اس میں برا کیا

 اس گھر میں کئی تم کو دکھانے کی ہیں چیزیں

 باہر سے نظر آتا ہے چھوٹی سی یہ کٹیا 

لٹکے ہوئے دروازوں پہ باریک ہیں پردے 

دیواروں کو آئینوں سے ہے میں نے سجایا 

مہمانوں کے آرام کو حاضر ہیں بچھونے

 ہر شخص کو ساماں یہ میسر نہیں ہوتا 

مکھی نے کہا خیر یہ سب ٹھیک ہے لیکن

 میں آپ کے گھر آؤں یہ امید نہ رکھنا

 ان نرم بچھونوں سے خدا مجھ کو بچائے

 سو جائے کوئی ان پہ تو پھر اٹھ نہیں سکتا 

مکڑے نے کہا دل میں سنی بات جو اس کی

 پھانسوں اسے کس طرح یہ کم بخت ہے دانا

 سو کام خوشامد سے نکلتے ہیں جہاں میں

 دیکھو جسے دنیا میں خوشامد کا ہے بندا

 یہ سوچ کے مکھی سے کہا اس نے بڑی بی

 اللہ نے بخشا ہے بڑا آپ کو رتبہ 

ہوتی ہے اسے آپ کی صورت سے محبت 

ہو جس نے کبھی ایک نظر آپ کو دیکھا 

آنکھیں ہیں کہ ہیرے کی چمکتی ہوئی کنیاں

 سر آپ کا اللہ نے کلغی سے سجایا 

یہ حسن یہ پوشاک یہ خوبی یہ صفائی

 پھر اس پہ قیامت ہے یہ اڑتے ہوئے گانا 

مکھی نے سنی جب یہ خوشامد تو پسيجي

 بولی کہ نہیں آپ سے مجھ کو کوئی کھٹکا 

انکار کی عادت کو سمجھتی ہوں برا میں

 سچ یہ ہے کہ دل توڑنا اچھا نہیں ہوتا

 یہ بات کہی اور اڑی اپنی جگہ سے

 پاس آئی تو مکڑے نے اچھل کر اسے پکڑا

 بھوکا تھا کئی روز سے اب ہاتھ جو آئی 

آرام سے گھر بیٹھ کے مکھی کو اڑایا



تو اُفق کے پار بسنے والے نیک دل دوستو ۔ پنشنرز۔ خرگوش پال۔ بکری پال ۔ پرندے پال کے علاوہ بوڑھا ۔ مرغی پال دوستوں کا وٹس ایپ پر بھی ممبر ہے ۔

بوڑھا حسبِ معمول صبح اٹھا ۔ وٹس ایپ کال پر سرخ نشان دیکھے جو جاننے والوں اور انجان نمبروں سے تھے ، انجان نمبرو ں کو 2023-01-10-001 نمبر دے کر محفوظ کر لیا ۔ کہ دوبارہ کال آئی تو اٹینڈ کروں گا ۔ اور ساتھ ہی وٹس ایپ میسج دیکھے ۔ 07 کے کالر کا یہ میسج پڑھا ۔

سر یہ وڈیو بھیج رہا ہوں دیکھیں ۔ اگر ہو سکے تو مجھے رنگ کریں ۔

 اِس بندے نے دوسال پہلے مجھے ایگریمنٹ کے نام پر دھوکا دیا    ۔

رقم کا ہندسہ سن کر بوڑھے کے ہوش نہیں اُڑے اور نہ ہی اوسان خطا ہوئے ۔ کیوں کہ ریبٹ کے فراڈیوں کے ہاں یہ تو معمولی رقم تھی ۔ 

بوڑھے نے ، اجمل حمید کی دھواں دھار جذبات بھڑکاتی ،  وڈیو دیکھی۔اور گوگل آنٹی سے پوچھا  ۔ 

گوگل آنٹی نے انڈونیشیئن  ریسرچ سینٹر کی راہ دکھائی جہاں نیوزی لینڈ وہائٹ ریبٹس کو   کے ملاپ سے  ھائی کول خرگوش کی جنس میں تبدیل کرنے کے بعد ، ایام ثمانی کالی زبان  اورگرے زبان میں  پاکستانیوں کو پاکستانیوں کو ہی لوٹنے کی نئی  راہ دکھائی ۔

 کالے پر ، کالی چونچ اور کالے گوشت کی مرغیوں کا یہ کاروبار، سفید خون والے یہ کاروبار کر رہے ہیں۔اور دھڑا دھڑ  100 کلو گرام روزانہ کے حساب سے ، کالا فرحت بخش  گوشت    مغربی ممالک میں ایکسپورٹ کرنے کی نوید ،   وزنی خرگوش کی طرح سنا رہے ہیں۔

 بوڑھے نے بھی جانگیہ پہن کر اِس مارکیٹ  کے تالاب میں چھلانگ مارنے کا فیصلہ  کر لیا   اور 10 انڈوں سے کروڑوں کا بزنس کرنے کے لئے ، موبائل کال،   کالی چونچ  مرغی ایام ثمانی کاکاروبار کرنے والے سے  ملائی  ۔ ۔ ۔

گھنٹی بجتی رہی کوئی جواب نہیں ملا۔۔ تو حسبِ عادت یہ پیغام بھیجا۔

 

جاری ہے  

جمعرات، 16 مارچ، 2023

فہرست چوزہ /مرغ بانی

اکثر نوجوان پوچھتے ہیں ،
کہ ریٹائرڈ زندگی کیسے گذرتی ہے ؟
آپ دونوں بور نہیں ہوتے ؟
کیا آپ کی زندگی میں کوئی تفریح ؟
کوئی ہلا گُلّہ یا کوئی ایڈ ونچر ہے ؟

اب اُنہیں کیا بتایا جائے ، کہ ہماری زندگی کیسے گذرتی ہے ،

اُفق کے پار بسنے والے نوجوانو۔ یہ کائینات ایڈونچر سے بھری ہوئی ہے ۔

بوڑھے کی زندگی ایڈونچرز اور تجربات سے بھری ہوئی ہے ۔ کبھی کبھی بڑھیا بھی اِس میں غیر محسوس طریقے سے شام ہو جاتی ہے ۔ یا پھر پاکستانی بیویوں کی مجبوری ، کہ اب زندگی اِس بڈھے بچے کے ساتھ گذارنی ۔ گذار لو ۔

تو نوجوان دوستو ، یہ مضامین ہیں پڑھیں اور انجوائے کریں اور ہاں اگر غیر محسوس طریقے سے  اِس ایڈونچر میں شامل ہو جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں ۔

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مرغی  کے بغیر انڈوں سے مصنوعی حرارت کے ذریعے چوزے نکالنا سب سے آسان اور فائدہ مند  عمل ہے ۔

آپ بھی اپنے گھر میں یہ تجربات کر سکتے ہیں ۔ 

نئے مضامین :۔

٭-مرغیاں   امریکہ و یورپ میں ۔

٭۔ ایام ثمانی، کالی چونچ اور ۔ ۔  ۔ ۔۔ ۔  ۔

٭-آسٹرو لارپ اور آر آئی آر کا فراڈی 

پرانے مضامین:۔

٭- چم چم کے چِنکو اور پِنکو

٭- براھما جناتی مرغیاں 

٭۔   فیس بُک سے چکن بُک تک

٭-پہلا جانباز - چوزہ - پیدائش و وفات 

   







جمعہ، 1 اپریل، 2022

آسٹرولارپ اور آر آئی آر کا فراڈی

 
پاکستان میں  مرغیوں کے شوقین کے ساتھ جیسا دھوکا کیا جاتا   وہ اتنا خاص نہیں تھا ۔ جتناامپورٹڈمرغیوں کے چوزوں میں اور خصوصا آن لائن خریداری میں بڑھ چکا ہے۔ ہوا یوں کہ بوڑھا لیپ ٹاپ پر اپنے دیگر کاموں سے بور ہو کر ، مرغیوں کی تصاویر دیکھ رہا تھا کہ پرانی تصاویر میں کالے چوزے دیکھ کر  برفی نے ضد کی کہ دادا بابا یہ چوزے لائیں ۔

آسٹرو لارپ نسل کے یہ چوزے بوڑھے نے اپنے انکیوبیٹر  میں 10 انڈوں سے ھیچ کروائے تھے ۔جن میں سے آٹھ چوزے نکلے مگر 3 مہینے میں یہ دو ہی بچے پھر13 مئی 2019 کو پہلا چوزہ جان سے گذرا اور ہفتے بعد دوسرا بھی ۔ لیکن ایک حیران کن بات کہ اپنے گھر کی مرغیوں کا رزلٹ سو فیصد رہا جونہی پسندیدہ مرغی انڈا دیتی بوڑھا 12 دن بعد کی تاریخ ڈال کر ھیچنگ مشین میں رکھ دیتا ۔  چم چم کی محلے میں موجود سہیلیاں ۔چوزوں کے انڈوں سے نکلنے کا انتظار کرتیں اور پھر  ماؤں کی ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود چوزے لے جاتیں ۔

اب برفی کی فرمایش تو لازماً پوری کرنا تھی ۔ بوڑھا چونکہ پرندوں کے وٹس ایپ گروپ، مرغیوں اور خرگوش کے وٹس ایپ گروپ میں بھی تھا ،۔ کہ جس دن برفی نے فرمائش کی ۔ اُس سے اگلے دن ریبٹس گروپ پر ایک نوجوان راشد افضال ولد محمد افضال  سکنہ ہری پور ،  نے آسٹرو لارپ اور آر آئی آر چوزوں کے بچوں کا اشتہار ڈالا ۔

میں نے برفی سے پوچھا کتنے چوزے منگواؤں اُس نے کہا ، دادا بابا یہ سب منگوالیں ۔

خیر نوجوان سے 10 ، 10 چوزے بھیجنے کا کہا ، اُس نے انکار کر دیا کہ ہم 100 سے کم نہیں بھیجتے ۔ اگر آپ کو چاھئیں تو3800 روپے اِس اکاؤنٹ میں بھیج دیں ۔ میں اپنا شناختی کارڈ اور اکاؤنٹ نمبر بھجوارہا ہوں ۔

تو جناب میں نے اپنے الائیڈ بنک سے مبلغ 3800 روپے الائیڈ بنک اکاؤنٹ نمبر 3126301000002798 ایبٹ آباد  میں بھجوادئے ۔ اور چوزوں کا انتظار کیا 10 فروری کو موبائل نمبر پرفون کیا ، موبائل بند ۔ جنوں سے کہا کہ اِس شناختی کارڈ نمبر پر اگر اور کوئی موبئل ہے تو بتائیں ؟

یہ موبائل نمبر بھی بند ملے۔ اور برفی بوڑھے کے ساتھ 50 آسٹرو لارپ اور 50 آرآئی آر چوزوں کا انتظار کرتی رہی ۔

بڑھیا نے پوچھا کہ آپ کو 100 چوزے منگوانے کی کیا ضرورت تھی کیا مرغی خانہ کھولنا تھا ۔غضب خدا کا آپ کا بچپن ابھی تک نہیں گیا۔3800 روپے کے 100 چوزے ؟ یعنی 38 روپے کا ایک ، اُس کو کیا معلوم کہ اب آسٹرو لارپ کے چوزوں کا ریٹ 200 روپے فی چوزہ ہے ۔ 

اب بوڑھا کیا بتاتا کہ اُس نے کتنے بچوں کو اب بھی چوزے دئیے ہیں کہ وہ اِنہیں پالیں اور اپنی والدہ کے کچن کے لئے انڈوں کا بندوبست صبح ناشتے میں کریں ۔

پراجیکٹ عمران خان زندہ باد مرغیاں پالیں اور پاکستان کو خود کفیل بنائیں ،

٭٭٭٭فہرست چوزہ /مرغ بانی  ٭٭٭٭

 

منگل، 28 مئی، 2019

مرغیوں کی دیکھ بھال ۔ پیٹ کی صفائی (فلیشنگ)

  پیٹ کی صفائی  (فلیشنگ) 
 چوزوں اور مرغیوں کو   مہینے میں ایک بار اور    سوا سال کی عمر کے بعد  ہر پندرہ دن بعد  مرغیوں کو ہلکے قسم کے موشن لگوا کر آنتوں کی صفائی کے عمل کو فلیشنگ کہتے ھے، اِس سے  مرغیوں کی آنتوں اور پیٹ میں پیدا ہونے والے زہریلے مادّے صاف ہو جاتے ہیں ۔ خصوصاً   گمبورو (Gumboro) بیماری  سے پیدا ہونے والے جراثیم   ۔
 مختلف قسم  کے فلیشر بازار میں دستیا ب ہیں  لیکن یہ دیسی طور پر بھی بنائے جاتے ہیں ۔
 ٭- چینی اور دودھ   :  ایک کلو چینی  اور آدھا کلو دودھ : پچاس لیٹر پانی     یعنی ایک لیٹر پانی میں     ملا کر  7 گھنٹے تک پلائیں ۔ یہ ہزار چوزوں کے لئے کافی ہے ۔
 ٭- میٹھا سوڈا : 100 گرام  میٹھا سوڈا  ، 50 کلو گرام کے فیڈ کے بیگ میں مکس کرکے دیں ،
 دواء دینے سے پہلے فلیشنگ کریں   -
  ویکسینیشن  یا دوسری بیماریوں کے لئے ، بارہ سے چوبیس گھنٹے پہلے بھی فلیشنگ دے کر علاج شروع کریں ، خاص طور پر ٹائیفائیڈ بخار کےلئے ۔
لیئر اور دیسی مرغیوں میں بیس سے پینتالیس دن تک گمبورو کا خطرہ ہوتا ہے۔ اِس کے لئے فلیشنگ نہایت ضروری ہے ۔ سوا سال (ساٹھ ہفتے ) کی عمر کے بعدہر پندرہ دن بعد ایک بار فلیشنگ دی جا نی چاہیئے  ۔
فلیشنگ کی وجہ سے کبھی کبھی پرندے پر سٹریس بن سکتا ہے اگر ایساہو  تو چھ گھنٹے الیکٹرولائٹس  کا پانی دیں -




٭٭٭٭٭٭٭٭٭


اتوار، 6 جنوری، 2019

شیور زدہ پی آئی اے کے مصنوعی انڈے و مرغیاں


ہمارے بچپن میں ہم نے ہمیشہ  ، کُڑک مرغی کو انڈوں پر 21 دن بیٹھ کر چوزے  نکالتے دیکھا ۔ گندے انڈے کم ہوتے تھے ۔ کیوں کہ مرغی کُڑک ہونے سے پندرہ دن پہلے والدہ مرحومہ  ،گرمیوں میں  انڈوں کو  دھو کر آٹے کے ڈبّے رکھتیں اور سردیوں میں  انڈے کھائے جاتے ، مرغی بے شک اپنے کٗڑک ہونے کا زور زور سے اعلان کرے ، بے چاری 7 دن بعد تھک ہار کر اپنا کُڑک پن ختم کرتی اور 10 دن بعد دوبارہ انڈے دینا شروع کر دیتی ۔ایک ہی مرغی کو سال میں دو بار ہی انڈوں پر بیٹھنے کی اجازت دی جاتی۔10 انڈوں سے زیادہ  انڈوں پر مرغی کو بیٹھنے کی اجازت نہ دی جاتی ، کیوں کہ   مرغی کے پروں کی حدود سے باہر نکلنے والے  انڈوں کے خراب ہونے کا سو فیصد چانس ہوتا تھا ، دیگر پرندوں کی طرح مرغے نے کبھی اپنی مرغی کا ہاتھ بٹانے میں کوئی دلچسپی کبھی نہیں دکھائی ۔ 
مرغی اور اُس کے چوزوں کو بکریوں کی طرح  جہاں تک ہمت ہو چُگنے کی اجازت ہوتی تھی ۔ 
مرغیوں کو گھر آئے ہوئے رشتہ داروں یا کام کاج کرنے والی ماسیوں کو تحفہ میں دینے کا رواج تھا ۔ ہاں مرغوں پر کسی کو نظر ڈالنے کی اجازت نہ ہوتی تھی ، جس کی یخنی اور گوشت مہمانوں کی آمد پر اُڑائی جاتی ، مرغے کے پر  کو مکئی کے سٹّے کے آدھے حصے میں لگا کر چڑی بنا کر ہوا میں اُڑئی جاتی ۔
مرغوں کو لڑانے کا تصّور گناہ  کےتندورکی آماج گاہ ہوتا ، جس کے کہیں نیچے جہنم کی آگ کی لپیٹیں مچل رہی ہوتیں ، ہاں اگر وہ خود سر بکف ہو کر  اپنی مرغیوں کو دوسرے مرغ کے نظرِ بَد سے بچانے کے لئے یُدھ کی بانگ دیں تو اُنہیں روکنا ایک صحتمندانہ تفریح سے خود کو محروم رکھنے میں شمار ہوتا تھا ۔
چِنکو اور پِنکو کر طرح وہ بھی اپنی حدود میں کسی اجنبی انسان تک کو داخل ہونے کی اجازت نہ دیتے ۔ اصیل ، دیسی ، سندھی ، مصری  مرغے مرغیوں کا راج تھا ، ابھی بدیسی  مرغے مرغیوں نے ہمارے مُلک میں قدم نہیں رکھا تھا ۔
پھر ہم نے سنا کہ ایوب خان نے مصنوعی انڈے اور چوزے پیدا کرنے کی مشینیں یہودیوں سے خرید لی ہیں ۔ جن کو،  پی آئی اے شیور کا نام ملا ۔ بس یہیں سے قومی ائر لائن کا زوال شروع ہوا  ۔ 

مشینوں سے حاصل کئے گئے ، انڈوں اور مرغیوں کو کھانا مکروہ بطرفِ حرام قرار پایا ۔

 کیوں کہ ایک تو وہ مغرب کی دوشیزاؤں کی طرح  سفید تھے اور سب سے بڑا ظلم کہ مشینی انڈوں سے پیدا ہونے والیاں اور مزید ستم یہ کہ  مرغوں کے بغیر وہ دھڑا دھڑ انڈے دینے کی ماہر تھیں ۔ جن سے یتیم چوزوں کا ایک جم غفیر  2مہینے میں جوان ہو کر دو سے ڈھائی کلو گرام وزن کے ساتھ دکانوں پر بکنے لگا ۔
کہاں دس مہینوں میں جوان ہو کر سینہ پُھلا کر بانگ دینے والے طاقت  سے بھرپور ،   چِنکو اور پِنکو اور کہاں دو مہینوں کے یہ مشینی جوان !
 جس طرح دریا کے پانیوں سے بجلی نکال کر اُس کی خوردنی طاقت ختم کر دی ۔ اِسی طرح    حکمرانوں نے قوم کو پھُوکے انڈوں   کے کاروبار میں گروی رکھنے کی بنیاد رکھ دی ۔ 
آٹومیٹک رفتار سے بغیر کُڑک ہوئے انڈے دینے والی یہ مرغیاں،   دس بارہ انسانی بچوں کو جنم دینے والی خواتین کی طرح   اپنا وزن بے تحاشہ بڑھا کر  " اُمِ چکن " کے رُتبے پر فائز ہوکر  ، بڑے گوشت کے ناغہ کے دن  چھوٹا گوشت بن کر فوجی  لنگروں کی زینت بننے لگیں ۔جن کی ٹانگ سے بوٹیاں اُتارنے کی کوشش میں ٹانگ اُڑ کر کسی کے منہ پر لگتی یا پھر تاک میں بیٹھی ہوئی آوارہ بلّی  کے ہتھے  چڑھتی ۔
ہاں تو بات ہورہی تھی ، کڑک مرغیوں  کو انڈوں پر بٹھا کر سے  چوزے حاصل کرنے  کی ۔   بدیسی مرغیوں کی طرح دیسی مرغیوں نے بھی نخرے دکھانے شروع کر دئیے، جس کا اثر اُن کی اولاد پر بھی پڑا ، جنہوں نے کڑک ہوکر 21 دن جم کر بیٹھنے کو ڈھکوسلہ،  وقت کا ضیاع  اور جسم کے بے ڈول ہونے  سے بچانے کے لئے   کڑک ہونا ہی ختم کر دیا ۔  جس سے کہرام مچ گیا ۔
دیسی مرغوں کی نسل تقریباً ناپید ہونے کو تھی   اور دیسی مرغیاں تھیں کہ بس انڈے پر انڈے دیئے جا رہی تھیں  وہ بھی کسی مرغے کی منکوحہ ہوئے بغیر !
لہذا  پانچ پانچ ہزار چوزے نکالنے والی مشینوں سے متاثر ہو کر   چھوٹی چھوٹی   مشینیں بنائی جانے لگیں ، تاکہ مرغوں کو اپنی بغل میں دبا کر پھرنے والوں کی شان  میں کمی نہ آنے پائے ۔

دیسی الہڑ مرغیوں کی بہتات کی وجہ سے ، حکومت نے اعلان کیا کہ ایک مرغا اور ایک مرغی کے بجائے ، ہر گھر میں ایک مرغا اور چھ مرغیاں لازمی رکھی جائیں ۔ 
ویسے دیسی انڈے ، دسمبر کی اِس سردی میں 200 روپے درجن مل رہے ہیں ۔اگر چھ مرغیاں روزانہ انڈے دیں  تو مہینے میں  3 ہزار روپے کی  بچت ہو !
سنا ہے کہ اب  یتیم انڈوں کی زردی میں کولیسٹرول نہیں ہوتا ،اگر تھوڑا بہت ہوتا بھی ہے تو  اُن سے ڈاکٹروں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا ۔ ویسے بھی ناشتے  میں دو انڈے کھانے کے بعد دوپہر کے کھانے کی بچت ہوجاتی ہے ، یہ بھی قومی آمدنی  میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے ۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 
 ٭-پہلا جانباز - چوزہ - پیدائش و وفات
 ٭- انڈوں سے چوزے نکالنا 
 ٭- فیس بُک سے چِکن بُک تک  


جمعہ، 4 جنوری، 2019

پہلا جانباز - چوزہ - پیدائش و وفات

 دو جنوری کی صبح   پونے پانچ بجے چوں چوں کی آواز آئی ، انکیوبیٹر کی طرف دیکھا ایک کالا دھبّہ نظر آیا عینک لگائی معلوم ہوا کہ  پہلے جانباز چوزے نے انڈے سے نکل کر اپنی زندگی کی نوید سنائی ہے ۔ مبارک ہو تجربہ کیا اور کامیاب ہوا -

آپ کو یاد ہوگا کہ   :
 بڑھیا نے جو سنبھالے ہوئے خالص دیسی انڈے اپنے بچوں کے لئے رکھے تھے۔ اُ ن میں 12 انڈے لئے ، دو انڈے خالص اصیل دیسی کُڑک ہونے والے مرغی کے بھی شامل کرکے کُل 14 انڈے اور 12 دسمبر 2108 بوقت سوا ایک بجے بعد دوپہر ،مشین میں رکھ دیئے ۔ جو 3 جنوری 2019 کے بعد چوزوں کو اِس دنیا میں لانے کا سبب بننے تھے ۔جن میں مزید اضافہ کیا کل تعداد :
  پہلا بیچ - 14 انڈے  مزید  اضافہ 14 انڈے کُل 3 جنوری کو نکلنے والے  28 انڈے ۔

  دوسرا بیچ - 6 انڈے ۔ 4 جنوری کو نکلنے والے
 تیسرا بیچ ۔ 12  اصیل انڈے ۔5 جنوری کو نکلنے والے
   چوتھا بیچ - کاک ٹیئل کے   3    انڈے ،(فرحان    صاحب کا تحفہ )
 پانچواں بیچ ۔ کبوتر کا ایک انڈا ۔

چھٹا بیچ ۔ سفید فاختہ (خمرے) کا ایک انڈا  
ساتواں بیج۔ 5 انڈے  ۔17 جنوری کو نکلنے والے (بلب انکیو بیٹر میں )
آٹھواں بیج۔  2 انڈے   ۔25 جنوری کو نکلنے والے (بلب انکیو بیٹر میں )
  پڑھیں :   فیس بُک سے چِکن بُک تک  

لیکن یہ موصوف تو 19 دن اور 14 گھنٹے بعد ہی انڈا پھاڑ کرباہر نکل آئے ہیں ۔

لوڈ شیڈنگ کے ظلم پر احتجاج کرنے کے لئے ، جو یکم جنوری سے شروع ہو چکی ہے یعنی ہر دو گھنٹے کے بعد ایک گھنٹے کی  ۔ سمجھ میں  نہ آیا کہ کیا ترکیب لڑائی جائے کہ یہ ایک گھنٹہ بھی  انڈوں کے بکس کا درجہ حرارت 100 ڈگری فارن ھائیٹ سے نہ گرنے پائے ۔
حل یہی نظر آیا کہ انکیوبیٹر پر  کوئی موٹا کپڑا ڈال دیا جائے ، لیکن اِ س ننھی سے جان  کا درجہ حرارت  برقرار رکھنے کے لئے کیا کیا جائے ؟
فوراً ایک گتے کے ڈبے کو  ،زچہ تو نہیں ہاں ،  بچہ خانہ بنایا گیا ، جس میں بجلی کا سلسلہ یوپی ایس سے جوڑا گیا کہ  ڈبے کی حرارت برقرار رہے ۔
ڈبے کے اوپر چوکور رواشندان بنایا جس کو شیشے کے ٹکڑےسے ڈھک دیا ۔

دو بلب لگائے ایک 60 واٹ اور دوسرا 100 واٹ ۔ 
60 واٹ کا بلب ، اِس لمبائی ، چوڑائی اور اونچائی  کے  ڈبے کا درجہ حرارت راولپنڈی میں  80 ڈگری فارن ہائیٹ تک رکھ سکتا ہے ۔
باقی 20 کا فرق نکالنے کے لئے 100 واٹ کا بلب پنکھے کے ریگولیٹر کے ساتھ  لگایا ، تو نتیجہ یہ نکلا کہ 100 واٹ کا بلب 100  ڈگری فارن ہائیٹ تک ریگولیٹ کیا جاسکتا ہے ۔ 
جہاں نشان لگا کر آپ مستقل کنٹرول کر سکتے ہیں ۔
 ڈبے میں پانی کا برتن نہایت ضروری ہے تا کہ ہوا میں درجہ حرارت کے تناسب سے   نمی برقرار رہے ۔ 
  بلب یا لالٹین    انکیوبیٹر :
1-ڈبہ ۔ مُفت 
2- بلب 100 واٹ  30 روپے 
3- بلب ہولڈر 30 روپے 
4- تار حسبِ لمبائی 15 روپے میٹر ۔
5- پنکھے کا ریگولیٹر 150 روپے ۔

کل خرچہ : 250 روپے ۔ 
بجلی کا خرچ:  100 واٹ    25 دن کے لئے  اور مزید 7 دن چوزوں  کو گرم رکھنے کے لئے ۔
نوٹ: اِس بکس سے آپ چوزے بھی نکال سکتے ہیں ۔ جیسے یہ دو انڈے اصیل مرغی ہے ، 25 جنوری کو رزلٹ بتائیں گے ۔ لیکن 17 جنوری کو    ساتویں بیج کے  5 انڈے  ۔بھی یہاں شفٹ کر دیئے ہیں ۔


 28 انڈوں سے صرف 5 چوزے نکلے ، پہلے جانباز   نے  شام 3:40 پر وفات پائی ۔
4 انڈوں میں زردی تھی ۔ باقی 19 انڈوں میں مردہ چوزے تھے ۔ جو لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے جانبر نہ ہو سکے ۔ 
میں جب آٹومیٹک انکیوبیٹر میں انڈے رکھ رہا تھا ، اگر حالات جوں ے توں رہتے تو ،  چونکہ گھر کی مرغیوں کے انڈے تھے لہذا سو فیصد رزلٹ کی امید تھی ۔ 
گھر کے باہر کا ٹمپریچر 10 ڈگری فارن ھائیٹ اور گھر کے اندر 20 ڈگری فارن ھائیٹ تھا ۔ وہ علاقے جہاں ٹمپریچر زیادہ ہے وہاں کے دوست ، "بلب یا لالٹین    انکیوبیٹر "بنا کر تجربہ کر سکتے ہیں ، لیکن شرط یہ ہے کہ انڈے تازہ ہوں ، فریج میں رکھے ہوئے نہ ہوں ۔
اگر گھر کی مرغی انڈے دے رہی ہو تو اُنہیں ، آٹے میں رکھیں  ہوا میں نہیں ۔
میں نے ، اصیل مرغی کے 12 انڈے رکھے ، جو این اے آر سی  کے ڈاکٹر آغا وقار صاحب  سے لئے تھے ۔جن میں سے 4 چوزے نکلے ، ایک گھنٹہ بعد  مر گیا ۔ مرنے کی وجہ نامعلوم ،  
باقی 8 انڈوں سے کیا رزلٹ نکلتا ہے ۔ وہ  بھی نشر کیا جائے گا ۔


ارے ہاں ، ایک اہم بات ، چوزوں کا پلے گراونڈ بنانا ضروری ہے جہاں وہ دوڑیں بھاگیں تاکہ اُن کے مسلز مضبوط ہوں اور کھانا ہضم ہو ۔ چوزوں کو پہلے 7 دن 100 ڈگری  ٹمپریچر پر رکھیں اور پھر 75 ڈگری پر ۔ پہلے تین دن پانی نہ پلائیں اور پانی ہمیشہ دانہ کھانے کے بعد پلائیں ورنہ یہ پانی سے پیٹ بھر لیں گے ۔ 

تو نوجوان دوستو ، یہ مضامین ہیں پڑھیں اور انجوائے کریں اور ہاں اگر غیر محسوس طریقے سے  اِس ایڈونچر میں شامل ہو جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں ۔

پیر، 24 دسمبر، 2018

انڈوں سے چوزے نکالنا

مرغی  کے بغیر انڈوں سے مصنوعی حرارت کے ذریعے چوزے نکالنا سب سے آسان اور فائدہ مند  عمل ہے ۔ 
جب مرغی  انڈے  دینے کے بعد کُڑک ہو کر جب انڈے سینے (ہیچنگ ) کے لئے بیٹھتی ہے ، تو اُس کے جسم کا درجہ حرارت  99 سے 102 ڈگری فارن ہائیٹ ہوتا ہے ۔
مصنوعی گرمی سے جب اِن انڈوں کو ہیچ کیا جاتا ہے ، تو اِس کا آئیڈیل ٹمپریچر  99.5 ڈگری فارن ہائیٹ  یا  37.8 سنٹی گریڈ سمجھاجاتا ہے ۔ 
٭- ہیچنگ بکس کے اندر کا ٹمپریچر ۔ 99 سے 102 ڈگری فارن ھائیٹ کے درمیان رہے ۔
٭- بکس  میں ہوا اور  نمی کا تناسب   ہیچنگ بکس کے اندر  ٹمپریچر سے منسلک ہے ۔ اگر ہم ایک پیالی میں پانی ڈال کر  ہیچنگ بکس میں رکھ دیں تو اندر موجود گرمی ، پانی سے بھاپ بنائے گی جو بکس میں نمی پیدا کر دے گی ۔ لیکن اگر بکس میں آپ نے پانی کا پیالی نہ رکھی تو بکس کے اندر موجود ہوا میں موجودنمی ختم ہو جائے گی ۔ جس سے انڈے کے اندر بننے والے چوزے کی یقینی موت ہو سکتی ہے ۔
ماہرین کے مطابق، ٹمپریچر اور ہوا میں نمی کے تناسب      کے لئے ، یہ  چارٹ آپ کی راہنمائی کرے گا  ۔
ہیچنگ بکس میں آپ ہیٹر ، بلب ، لالٹین یا موم بتیوں سے  100 ڈگری فارن ہائیٹ تک ٹمپریچر رکھ سکتے ہیں ۔ 
(اگلے مضمون میں آپ کا نہایت سادہ ہیچنگ بکس بنانے کا طریقہ بتایا جائے گا ۔جس سے بچے تا میرے جیسے نوجوان ، انڈوں سے بچے نکالنے کے کھیل سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ انڈے اپنے گھر کے ہوں بازار کے نہیں )  ۔
آئیے دیکھتے ہیں ، کمرشل بنیادوں پر بنایا ہوا ،انڈیا کے ماہر کا ، لالٹین سے گرم ہونے والا ، ہیچنگ بکس !
1- لکڑی کی الماری 
2-جس کےسب سے نچلے خانے میں تین  لالٹین  اور پانی کی پیالی ، نمی پیدا کرنے کے لئے ۔
3 ۔ اوپر  کے خانوں میں انڈے ۔
4- ٹمپریچر معلوم  کرنے کا تھرما میٹر ۔
 5۔ سب سے اوپر کھڑکی ، تاکہ اندر کی ہوا کو باہر نکالا جاسکے ۔ 
6- انڈے کے اندر کے  روشنی کی شعاع سے  جانچنے کا بکس ، جس میں اندر موم بتی اور ایک انڈے کے سائز کا سوراخ ۔
7- پہلے دن  ہیچنگ بکس میں رکھنے سے پہلے  انڈے   کا عکس ۔
8-ہیچنگ بکس میں رکھنے کے بعد ،  آٹھویں دن ، انڈے کی حالت ۔
٭۔8a.بانجھ انڈا۔
٭۔8b.خراب ہوجانے والا انڈا۔
٭۔8c.انڈے میں چوزے (ایمبریئو)کی ابتدا ء۔ 
9۔ اٹھارویں دن ، انڈوں کو زیادہ نم کرنے کے لئے پانی میں نچوڑے ہوئے نرم کپڑے کو ہلکے ہاتھوں سے پھیرنا۔
10۔انیسویں دن ، چوزے کی ٹھونگ سے انڈے میں کھڑکی کا نمودار ہونا ۔
11۔20 تا  23 دن میں چوزوں کی چیاؤں چیاؤں !
  چوزوں  اور بطخ کے بچّوں کو دانہ کھلانا نہایت آسان ہے ۔بنسبت  باقی پرندوں کے ، کیوں کہ اُن کی مائیں  دانہ کھا کر اپنے معدے میں نرم کرتی ہیں اور پھر بچوں کے منہ میں ڈالتی ہیں ۔
نوٹ: اِس وقت چم چم ، لڈو کے محلّے کے تمام بچے شدّت سے چوزوں کی چیاؤں چیاؤں سننے کے لئے بے تاب ہیں ۔ اُنہیں دن میں ایک وقت انکیوبیٹر میں پڑے انڈوں کو دیکھنے کی اجازت ہے ۔ہر بچے نے دو دو ، چوزے لینے پر اپنا حق جتا دیا ہے ۔
وہ بوڑھے کو بتاتے ہیں ، کہ ، 
"انکل اتنے دن ہوگئے ہیں اوراتنے دن رہتے ہیں ۔"
دوستو ! کیا  آپ کو معلوم ہے ، کہ کتنے دن رہ گئے ہیں ؟ 
نہیں  ! تو پڑھیں  ۔اگلا مضمون۔

تو نوجوان دوستو ، یہ مضامین ہیں پڑھیں اور انجوائے کریں اور ہاں اگر غیر محسوس طریقے سے  اِس ایڈونچر میں شامل ہو جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں ۔

ہفتہ، 22 دسمبر، 2018

فیس بُک سے چِِکن بُک تک

 چم چم کے دو دیسی مرغوں چِنکو اور پِنکو  نے اِس بوڑھے کو ، فیس بُک سے چِکن بُک پر منتقل کردیا ہے ۔ جن کی سات (فارمی) دیسی مرغیاں ہیں ۔ جو انڈے تو دیتی ہیں مگر کُڑک نہیں ہوتیں ۔ 
فروری 2016 میں چم چم کے لئے خریدے گئے دو چوزے ، حوادثِ زمانہ سے بچ کر   خوبصورت دیسی مرغوں کا روپ دھار چکے تھے اور گھر میں آنے جانے والے فرد بشمول بوڑھے کو بھی نہیں بخشتے تھے ۔یہاں تک کہ اُن دونوں نے چم چم کی "پاک ایران بلّی " بِٹّو  کو بھی نہیں بخشا ۔

چم چم کی خواہش تھی کہ نانو کی مرغیوں کے انڈوں سے چِکس نکالے جائیں ۔ اُس کی سہیلی نے بتایا کہ انڈوں کو بکس میں رکھ دیں تو خود بخود چِکس بن جاتے ہیں ۔ بڑھیا کی خواہش تھی کہ ماں کے بغیر بچے نہیں پلتے ۔لہذا مرغی ہی انڈوں سے چوزے نکالے   جائیں ۔
لہذا     ایک اصیل کُڑک ہونے والی مرغی دو (فارمی) دیسی مرغیوں کی قیمت میں خریدنا پڑی۔ 
جِس نے بلاشرکتِ غیرے دونوں مرغوں کے حرم میں ایک نہ ختم ہونے والے یُدھ کے بعد اپنی حاکمیت تسلیم کروا لی ہے ۔  

بریگیڈئر  خالد حنیف  اور بوڑھا  مرغی کے ڈربے کے سامنے بیٹھے چائے پی رہے تھے جو اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں تھا ۔
خالد نے مارکیٹ سودا سلف لینے جاتے ہوئے ، بوڑھے کو دیوار پر چڑھے  مددگار کو ہدایتیں دیتے دیکھا تو گاڑی  گیٹ کے سامنے کھڑی کرکے نعرہ مارا ،
" سر ! عمران خان کے ویژن کو عملی جامہ پہنانے والا کٹّر نون لیگی پہلی بار دیکھا ہے ، مبارک ہو  ۔"ٗ

" ارے نوجوان ، یہ بڑھیا  اور چم چم کا ویژن ہے ، جِس نے بوڑھے کو مزدور بنایا ہوا ہے۔ " بوڑھے نے جواب دیا ۔
جب چم چم کے ویژن کا براڈ سپیکٹرم یعنی وسیع و عریض  کینوس   بتایا ، تو نوجوان بولا،
" سر ! نو پرابلم ، میرے پاس چوزے نکالنے والا اپنی مدد آپ کے تحت بنایا جانے والابکس بھی ہے ۔جس سے میں نے ہر قسم کے انڈوں سے  چوزے، بٹیر ، تیتر ، چکور ، یہاں تک کہ بطخیں تک نکلوائی ہیں ۔   وہ میں لے آتا ہوں ۔ آپ عمران خان کے ویژن کو مونڈھا دیں " 

چائے پینے کے بعد، نوجوان ریٹائرڈ بریگیڈئر روانہ ہوا ۔ 
 دوسرے دن شام کو بوڑھے کو یاد آیا کہ خالد حنیف  نے چوزے نکالنے والی مشین لانے کا وعدہ کیا تھا ۔ شاید مشین کہیں سامان میں دبی ہو ؟
مشین میں سب سے اہم پرزہ تھرموسٹیٹ ہوتا ہے جو بکس کے اندر ،  ہچنگ ٹمپریچر کو 100 ڈگری سنٹی گریڈ پر قائم رکھتا ہے ۔ سوچا کہ لاہور سے پتہ کروایا جائے ۔
اپنے گرو (نجیب عالم)  کو لاہور فون کیا ،
" گرو جی یہ بتائیں ! لاہور سے  ہیچنگ مشین کا تھرمو سٹیٹ مل سکتا ہے ؟ "

" کِس لئے چاھئیے ؟" گرو نے پوچھا 
" چوزے نکالنے والی مشین بنانی ہے ۔"  ہم نے بتایا
" میں کل بتاؤں گا ،لیکن سر جی ،  اِس سے بہتر نہیں کہ، سر دردی کے بجائے ،  مشین لے لی جائے ۔ " گرو نے رائے دی 
اگلے دن ، خالد حنیف  مضبوط لکڑی کے ڈبے سے بنی ہوئی ،انڈوں سے چوزے نکالنے والی  مشین لے کر آگیا ۔ پورا لیکچر دیا ۔  بڑھیا نے   خالص دیسی انڈے اپنے بچوں کے لئے سنبھال کر رکھے تھے اُ ن میں  12 انڈے لئے ، دو انڈے خالص اصیل دیسی  کُڑک ہونے والے مرغی کے بھی شامل کرکے کُل 14 انڈے اور 12 دسمبر 2108 بوقت  سوا ایک بجے بعد دوپہر  ،مشین میں رکھ دیئے ۔ یہ پہلا بیج ہے ۔ جو 3 جنوری 2019 کے بعد چوزوں کو اِس دنیا میں لانے کا سبب بنیں گے ۔ 

چھوٹے بھائی نے ، دو ہفتے قبل طوطا دینے کا وعدہ کیا تھا ، کیوں کہ چم چم کے طوطے نے اپنی گردن ،دھاگے میں پھنسا کر ،خودکشی کر لی تھی ۔ طوطی اکیلی زندگی گذار رہی تھی اُس کے طوطوں نے جو بچے پالے وہ ساری اولادِ نرینہ تھی ۔
وہ اپنے بیٹے کے ساتھ طوطا لے کر آگیا ۔ اُس سے معلوم ہوا کہ سٹیڈیم کہ عمران خان کا قرضہ اتارنے کے لئے نہیں بلکہ عوام کو نیچے سے اُٹھا کر  غربت کی لکیر پر بٹھانے کے لئے ایک مرغا اور پانچ مرغی سکیم لانچ کی ہے ۔ جو 1200 روپے میں  شمس آباد میں گورنمنٹ پولٹری  پراجیکٹ سے مل جائیں گی ۔ رات کو بوڑھےکو گرو جی نے    معلومات دیں کہ تھرموسٹیٹ کی دستیابی   ممکن نہیں  اور چائینا کی بنی ہوئی ہیچنگ مشین مارکیٹ میں دستیاب ہے ۔

" ٹھیک ہے قیمت پوچھ کر  بتائیں " ہم نے  کہا
" قیمت چھوڑیں ، سر جی  ، مشین  مل جائے گی "، گرو نے کہا ۔
اُس کے بعد  گھر کی چھت پر سبزی بانی  اور فروٹ بانی کی بات ہوئی ، گرو جی نے خرگوش بانی پر بات کی ۔
یاد آیا کہ کل ہی کسی دوست نے خرگوش بانی پر ایک وڈیو شیئر کی تھی ۔ کھولو تو وہ نیشنل ایگرکلچرل ریسرچ سینٹر   (NARC) کی انگورا خرگوش کے بارے میں تھی ۔ اگلے دن  چک شہزاد کے  انگورا خرگوش سنٹر جا پہنچا  وہاں سے نااُمید ہو کر  اُنہی کے مرغی فارم گیا ۔
 اُن کے خالص اصیل دیسی  مُرغ اور مرغیاں دیکھیں ۔ جس کے نگہبان ڈاکٹر حمّاد صاحب ہیں ، لیکن و ہ میٹنگ پر گئے ہوئے تھے ۔ 
ڈاکٹر آغا وقار سے بات ہوئی اُنہوں نے کمالِ مہربانی سے ایک درجن انڈے ، قیمتاً عنایت کروادیئے ۔ گیٹ پاس دے کر انڈے لے کر گھر پہنچا ، بیگم نے بتایا ، کہ آپ کے نام بڑا سابکس آیا ہوا ہے ۔ دیکھا تو وہ گرو جی کی طرف سے بھجوایا ہوا ، چینی انکیوبیٹر  تھا ۔ 
فون کر کے گرو جی کا شکریہ ادا کیا گرو جی نے ، قیمت بتانے سے صاف انکار کر دیا ۔
NARC  سے  لائے ہوئے درجن انڈے ، پہلے سے موجود  مشین میں رکھے ۔ اُن پر 4/1 کی تاریخ لکھی ۔یہ دوسرا بیچ ہے۔
لاہور سے گرو جی  (نجیب عالم)کی  بھجوائی ہوئی مشین کی ساتھ آئی ہوئی کتاب کا مطالعہ کیا ۔  
بریگیڈئر ، خالد حنیف کو بتایا اُس نے انڈوں کو چینی مشین میں شفٹ کرنے کا کہا ، کیوں کہ وہ آٹومیٹک ہے ، لہذا انڈوں کو  نئی مشین میں شفٹ کیا ۔
چم چم اور اُس کے محلّے کے دوستوں ، انکیو بیٹر میں پڑے انڈے دکھا کر ،   کمرے میں بچوں کا داخلہ سختی سے بند کر دیا ۔
 لڈّو اور موتی چور  (چیکو)   بھی آچکے ہیں اب چم چم اور لڈو کو برفی کا انتظار ہے ۔ وہ بھی اپنی ماما اور بابا کے ساتھ آرہی ہے ۔ 
تاکہ وہ دادا بابا کا مرغی خانہ (چم چم   پولٹری) ،خرگوش خانہ  (برفی ریبٹری) ،کبوتر خانہ  (لڈو   کبوتر)،  برڈ خانہ( چیکو  پرندے)  اور کیٹ ہاؤس دیکھے ۔ 
برفی نے وہائٹ کیٹ پسند کی ہے ۔ جو چم چم نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اُسے دے دی ہے ۔


بیٹھے  نوٹ: چِکن بُک کی باقی روداد ۔ ۔ ۔ تفصیلاً پڑھنے کے لئے 3 جنوری تک انتظار کیجئے ۔ 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔