Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 15 جولائی، 2022

قسط-02۔ گروپ لائف انشورنس کی جمع کروائی گئی رقوم کی پنشنرز کوواپسی ۔

 

موبائل بند کرنے کے بعد میرے ذہن میں گھنٹی بجی ۔ ۔ ۔
درخواست ۔ آپ کی حیات کا ثبوت ہوتی ہے !!

لہذا ، تمام پنشنرز اپنی درخواستیں ، متعلقہ   محکمے کے اکاؤنٹ کے شعبے  کو بھجوائیں  ۔
لیکن کیا یقین ہے کہ اِن پر عمل کرتے ہوئے ، ہر یکم جولائی کو ، زندہ رہ جانے والے ملازمین   کی جی ایل آئی کی رقوم   کے اپنی صوابدید کے مطابق  ،استعمال کرنے والے ہائی کورٹس کے احکام کے مطابق منافع سمیت واپس    کرنا تو دور کی بات ، اصل زر ہی واپس کرنے کے روادار  نہیں ہوں گے !

اُن کی تو ، ہر سال زندہ رہ جانے والے  ،1  تا 16 کے 80 فیصد ملازمین   کر بچ جانے والی رقوم  سے کھڑی کی جانے والی  لنکا  ڈھے جائے گی !

تو اُفق کے پار بسنے والے ، پیارے  جی ایل آئی کی  اپنی رقوم واپس مانگنے  پنشنرز  ! آپ کا کیا خیال ہے ؟؟

 تو مجھے ، جو فون آیا  وہ صوبیدار (ر) جلال خان  ، محسود سکاؤٹ  کا آیا جس نے مجھے پریشان کر دیا ۔

"  آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن کے اِس فارم کے راستے میں کسی نے پکٹ لگا لی تھی۔ پکٹ سمجھتے ہیں آپ ؟؟ نہیں کوئی بات نہیں یہ خالصتاً سول آرمڈ فورسز کا کوڈ ورڈ ہے ۔ جو سڑک پر لگائی گئی سیکیورٹی چیک پوسٹ کے لئے بولا جاتا  ہے ۔

جس میں    رنگین تصویر ۔بجلی کے   جنریٹر سے ،فارم کی رنگین فوٹو سٹیٹ    کیوں کہ پارا چنار میں نہ بجلی آتی ہے اور نہ ہی انٹر نیٹ    مبلغ   300 روپے سکہ رائج الوقت مانگا جارہا تھا              اور بذریعہ ٹی سی ایس ۔ آل پاکستان پنشنرز کے آفس، بذریعہ ٹی سی ایس بھجوانے کی قیمت   الگ ، اگر پنشنرز چاھے تو خود پاکستان پوسٹ سے بھجوادے ۔ جس کے جواب میں اُسے 3 سے پانچ لاکھ جی ایل آئی ملے گا ۔ 

بوڑھے نے فوجی تربیت کے مطابق ، پکٹ لگانے والوں کی جنم پتری کھوجنا شروع کر دی ، جس پر تین نام سامنے آئے ۔  تینوں سے موبائل پر بات کی ۔ پھر پارا چنار میں موجود سول آرمڈ فورسز ، فرنٹیئر کور اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  کے لوگوں سے وٹس ایپ کئے ہوئے  فارم پر دیئے گئے نمبروں سے بات کی ، اُنہیں بتایا کہ فوراً  ، پکٹ لگانے والوں کے پاس جائیں اور اُنہیں خبردار کریں کہ ، کہ فارم پر لکھے ہوئے موبائل نمبر سے فون آیا ہے ۔ کہ یہ غیر اخلاقی اور غیر اسلامی حرکت فوراً بند کی جائے ورنہ ۔ تمام نتائج کی ذمہ داری اُن پر آئے گی ۔

پھر بوڑھے  نے  فوراً چیئرمین ، انجنیئر بشیر احمد بلوچ  کو حقیقت حال سے آگاہ کیا  اور اُن کے  مشورے سے ،پنشنرز کے نام سے ،  ایک  درخواست بنائی اور تمام رجسٹرڈ و غیر رجسٹرڈ پنشنرز کو ، وٹس ایپ کردی ۔ 

کہتے ہیں نا سفر وسیلہءِ ظفر ہے ، درخواست  ، پنشنرز کو ملتے ہی ، بوڑھے کا وٹس ایپ  دونوں اقسام کے کمنٹس سے بیدار ہو گیا ۔
  بوڑھے نے چپ کرکے  منفی کمنٹس کرنےوالوں کو یہ پوسٹ بھجوادی ۔ 
اُفق کے پار بسنے والے میرے نیک دل پنشنر دوست !
میں نے رفاع یونیورسٹی اسلام آباد میں ، بی بی اے اور ایم بی اے کے سٹوڈنٹس کوPersonality Development  اور  OSHA بطور وزٹنگ فیکلٹی پڑھایا تھا۔
 یہ 50 کریڈٹ گھنٹوں کے کورس ہوتے تھے اور میں نے یہ فوجی تربیت کے مطابق پڑھایا ۔
جب میں آخری نکتے، RESULTS DEPICTS PERSONALITY " کو سمجھاتا تھا تو بس یہ ایک جملہ بولتا تھا ،
کسی بھی برائی کو ختم کرنے کے لئے ، انسان میں  جو   ENERGY بیدار ہوتی ہے ۔اُس کا خاتمہ اُس کی۔   یعنیشخصیت  (منفی یا مثبت) پر ہوتا ہے !

یوں  نتائج  ، انسانی شخصیت کا آئینہ بن جاتے  ہیں ۔

 اوریہ اِس آفاقی سچ کی بنیاد پر ہوتا تھا ۔

 وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ۔ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا۔ قَدْ أَفْلَحَ مَن
زَكَّاهَا۔ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا ۔

آپ سب دوستوں کا شکریہ ❤️🌹😍🥰🍬🍩


مزید مضامین  پڑھیں :

قسط نمبر-03


قسط-03۔ گروپ لائف انشورنس کی جمع کروائی گئی رقوم کی پنشنرز کوواپسی ۔

 پنشنر دوستو !

 درخواست فارم اتنا مشکل نہ تھا ۔ لیکن لکھنے والوں کے لئے  بہت مشکل  گریڈ 1 تا 11 کے پنشنرز  کی مجبوری کہ اُنہیں گروپ انشورنس  کے سلسلے میں آخری  ادا کردہ    رقم یاد نہیں تھی  اور وہ پنشنرز جو 10 سال پہلے ریٹائر ہوگئے وہ بھی اِن میں شامل ہیں ۔ اُس وقت یہ رقم اُنہیں تھوڑی لگتی تھی ۔ لیکن اگر اب یہ حکومت واپس کرے تو یہ اُن کی غربت میں سہارا ہے ۔ آپ سوچ رہے ہوں گے یہ رقم تھوڑی ہو گی ۔ تو ماضی کا یہ خط پڑھیں جو ایسے ہی ایک درخواست گذار نے سندھ ہائی کورٹ سے کیس جیتنے کے بعد ، 26 نومبر 2021 کو  بالا حکام کو اپنے گروپ انشورنس کے ملازمت کے دوران جمع کروائے رقم اور منافع جو مبلغ 21 لاکھ روپے بنتا ہے ۔ لکھا ۔ کیا سمجھے ؟؟

 

  تو پنشنر دوستو ، آپ  کی آسانی کے لئے ، درخواست میں تبدیلی کی ۔تصویر کی شرط ہٹا دی ۔ تاکہ پنشنر  کا خرچہ نہ ہو ۔ نام ، پنشنر نمبر یعنی  پی پی او  نمبر  یا سول آرمڈ فورسزکا سروس نمبر   اور جس محکمے سے ملازمت کے بعد ریٹائر ہوا ۔ اور نیا فارم     گرینڈ الائنس  ایمپلائز اور پنشنرز کے لوگو کے ساتھ وٹس ایپ کر دیا ۔

اب اِس  ، بلیک  اینڈ وہائٹ   ،درخواست   کی قیمت ، شناختی کارڈ کے فرنٹ کی فوٹو کاپی کی قیمت کی وجہ سے یہ  ایک پنشنر کے لئے نہایت سستی ہو گئی ۔ لیکن اِس کے باوجود  ہدایت میں صاحب ثروت پنشنر سے درخواست کی کہ وہ گریڈ ایک سے 11 تک کے پنشنرز  کی مدد کریں  اوراُن کے  محکمے کے حساب سے لسٹ بنا کر  اکٹھی درخواست پوسٹ آفس سے  ، اس ناموں کی لسٹ کے حساب سے  بھجوائیں ۔

 فرد واحد درخواست نہ بھجوائے اور نہ وٹس ایپ کرے ۔

 


درخواستوں کی آفس پہنچنے کے بھرمار نے  ، پریشانی پیدا کر دی لہذا جلدی سے ہنگامی بنیادوں پر ، درخواستیں آن لائین جمع کروانے کے لئے فارم ڈویلپ کیا اوراِس نوٹ کے ساتھ  مشتہر کر دیا ۔

گروپ لائف انشورنس کی جمع کروائی گئی رقوم کی پنشنرز کوواپسی کی کوشش ۔ کے لئے آن لائن فارم کا لنک :
https://forms.gle/tJ18bEfbNEs6UZGs5

اِس لنک کے ذریعے وٹس ایپ موبائل ، کمپیوٹر یا نیٹ کیفے سے آپ اپنا ضروری ڈیٹا ، اِس فوٹو کے مطابق ڈالیں گے  ۔


 

یہ فارم پرنٹ کروالیں اور اپنے وہ پنشنرز دوست جو خود آن لائن فارم نہیں بھر سکتے یا
اُن کے پاس سمارٹ موبائل یا کمپیوٹر کی سہولت نہیں ۔ اُن کی مدد کریں ۔
فارم بھرنے کے لئے یہ وڈیو دیکھیں ۔
https://youtu.be/RjzHs6yv7hM

آپ کے لئے یہ عمل صدقہ جاریہ بن جائے گا ۔ شکریہ

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مزید مضامین  پڑھیں :

جاری ہے ۔

پے اینڈ پنشن کمیشن کے چال باز اور اگیگا

    3 فروری 2022 کو  ملازمین  اگیگا   اور اپیکا ۔ عمائدین کو پے اینڈ پنشن کمیشن کے چالبازوں نے ، ٹرک کی بتی کے پیچھے میراتھن کےلئے دوڑا دیا ۔

پڑھیئے ملازمین کی ڈیمانڈ اورپے اینڈ پنشن کا جواب ۔



لیکن اِس کے باوجود ، اگیگا نے اپنے ڈیمانڈ  حاصل کرکے چھوڑیں ۔

وہ کیسے ؟؟


 

٭٭٭٭٭٭٭

عارضی

٭٭٭٭٭٭٭ 

پیر، 4 جولائی، 2022

کیا فوجی آفیسران نے پاکستان لوٹا ؟

  پاک فوج کے افسران کی پرتعیش طرز زندگی  کے بارے میں بہت سی خرافات اور قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔ یہ غلط فہمیاں اور جھوٹ اس پروپیگنڈے کا حصّہ ہے جس کا مقصد پاکستانی عوام کے ذہنوں کو آلودہ کرنا ہے، تاکہ فوج اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالی جا سکے  ۔ ان الزامات اور جھوٹے پروپگنڈے کا سدباب کرنے کیلئے انکے متعلق ابہام ختم کرنا ضروری ہے ۔

نمبر 1. %10 سے زیادہ افسران بریگیڈیئر رینک تک نہیں پہنچتے یعنی BPS-20 ۔  جبکہ اسکے مقابلے میں سول اداروں کے تقریباً  %70 کے قریب افسران  BPS-20 میں پہنچ کر ریٹائر ہوتے ہیں۔

نمبر 2.  پاک فوج کے صرف %2 افسران میجرجرنل رینک تک پہنچ پاتے ہیں اور اس سے مزید کم یعنی %0.4 لیفٹینٹ جنرل کے رینک تک پہنچ پاتے ہیں۔  اور یہ ترقی وہ صرف اور صرف اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بناء پر حاصل کرتے ہیں ۔ اس ترقی کا انکے خاندانی پس منظر سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ۔ جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ایک جنرل کا بیٹا ہی صرف جرنیل بن سکتا ہے ۔  جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آج تک کسی جرنیل کا بیٹا آرمی چیف نہیں بنا لیکن جرنل مشرف ،جرنل جہانگیر کرامت، جرنل وحید کاکڑ ، جرنل اسلم بیگ ، اور جرنل ضیاء الحق جیسے آرمی چیف بنے  جن کے والدین کا عسکری  شعبے سے کوئ تعلق نہیں تھا ۔
 
نمبر 3.  فوجی افسران بھی پانی بجلی گیس بلوں کی ادائیگی بغیر کسی رعایت کے کرتے ہیں۔

نمبر 4. فوج کے تمام افسران سے انکم ٹیکس کی ادائیگی تنخواء سے کٹوتی کی صورت میں کی جاتی ہے ۔  جو کہ ایک سال میں  دو ماہ کی تنخواہ کے برابر ہے۔

نمبر 5. اگر فوجی آفیسر کو سرکاری رہائش الاٹ ہو جاۓ تو اسے تنخواہ میں مکان کا کرایہ نہیں ملتا۔

نمبر 6.بریگیڈئیر سے کم رینک کا کوئ بھی افسر سرکاری  گاڑی  رکھنے کا مجاز نہیں ہے اورسرکاری گاڑی کا نجی طور پر استعمال منع ہے۔

 نمبر 7. فوجی افسران ابتدائی دنوں سے ہی آرمی ہاؤسنگ اسکیم کے ممبر بن جاتے ہیں اور پھر سروس کے دوران ان کی تنخواہ  سے سکیم کے مطابق رقم ماہانہ طور پر کاٹی جاتی ہے ۔
ان کی ریٹائرمنٹ پر ایک تین کمروں کا اپارٹمنٹ  انکو اپنی  پنشن /کموٹیشن کا ایک بڑا حصہ ادا کرنے کے بعد الاٹ کیا جاتا ہے۔اب پہلے کی طرح جدا گھر نہیں صرف اپارٹمنٹ ہی ملتے ہیں  ۔

 نمبر 8. ڈی ایچ اے میں پلاٹ بھی بطور سروس بینیفٹ صرف اچھے  ڈسپلن والے آرمی آفیسرز ، جے سی اوز یا شہداء   کے خاندانوں کو الاٹ کیا جاتا ہے ۔  شہدا خاندان کے علاؤہ باقی سب کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی قسطوں میں زمین کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ صرف  ترقیاتی چارجز ہی چھوڑے جاتے ہیں۔

 نمبر 9 ۔ فوج کے تمام افسران کو زرعی زمین الاٹ نہیں کی جاتی ۔ صرف شھداء کے اہل خانہ ، اور ایسے افسران / سپاہیوں کو دی جاتی ہے جن کو کسی بھی آپریشن کے دوران زخمی ہونے کی بناء پر معذوری کا سامنا ہو۔ یا پھرکچھ سینئر افسران کو ان کی اعلیٰ خدمات کے اعتراف کے طور پر الاٹ کی جاتی ہے ۔

 نمبر 10. آرمی ویلفیئر ٹرسٹ ایک آزاد اور خودمختار ادارہ ہے  جو کہ  حکومت پاکستان کو ٹیکس دیتا ہے ۔  اس ادارے میں فوج سے 44 سال کی عمر میں ریٹائر ہونے والے %90 افسران کو دوبارہ ملازمت دی جاتی ہے ۔ جبکہ اس کے برعکس کسی بھی سول  محکمے میں ملازمین کو 60 سال عمر سے پہلے ریٹائر نہیں کیا جاتا۔  

 نمبر 11. فوجی افسران کے بارے سب سے  بڑی اور عام غلط فہمی یہ پھیلائ جاتی ہے کہ یہ صرف ایف اے پاس ہوتے ہیں۔ فوج کے تمام افسران کیلئے گریجویشن ضروری ہے ۔ وہ ملٹری اکیڈمی سے پاس آؤٹ  ہونے کے دو سال اندر گریجویشن یعنی بی ایس کی  ڈگری حاصل کرلیتے ہیں۔ بی ایس کا یہ پروگرام بھی 4 سال کا ہے جو 2 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے پی ایم اے میں 2 سال اور باقی سروس کے پہلے 2 سال ۔ اس کے علاؤہ کچھ ٹیکنکل شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افسران کو انجنئیرنگ کے مختلف فیلڈز میں ملک کی چوٹی کی جامعات سے گریجویشن اور پوسٹ گریجویٹ کی ڈگری کروائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف ملکی اور غیر ملکی کورسز،کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج اور اعلیٰ تعلیم کیلئے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے ایم ایس کی ڈگری حاصل کی جاتی ہیں ۔ باقی دنیا بھر میں پاک فوج کے افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مہارت کی داد دی جاتی ہے ۔ لہذا یہ سب کسی ایف اے پاس کے بس کی بات نہیں کے عالمی/قومی منظر نامے پر ہر فورم پر پر اعتماد ہو کر ملک کی نظریاتی اساس کا دفاع کر سکے ۔

 نمبر 12. فوج میں یہ "بلیڈی سولین " جیسا جملہ بولنے کی کسی کو جرات نہیں ہوتی کیونکہ آج کی پاک فوج میں 90 فیصد سے زائد وہ ہیں جن کے والدین "سولین" ہیں۔ جو باقی دس فیصد فوجی گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں انھیں اپنے ساتھیوں اور دوستوں کے جذبات اور خاندانی پس منظر کا بخوبی اندازہ ہے اور وہ فوجی ڈسپلن اور تربیت کی بناء پر ایسی بداخلاقی کرنے کا سوچتے بھی نہیں۔
 
 نمبر 13. ہر بڑے ادارے کی طرح فوج میں بھی کبھی کبھار ایسے لوگ شامل ہو جاتے ہیں جو اپنی ذاتی فعل کی بناء پر ادارے کیلئے بھی باعثِ تشویش بن جاتے ہیں۔  سول اداروں کے بر عکس جہاں پاکستان سول سروس کے افسران کو نوکری سے برخاست کرنے کی مثال شاذو نادر ہی ملتی ہے۔ پاک فوج نے اپنی زیرو ٹالرینس پالیسی کی بناء پر حالیہ کچھ سالوں میں 200 سے زائد افسران کو نوکری سے برخاست کیا ہے اور سخت سزائیں دیں ہیں ۔ جرائم جیسا کہ عہدے کا ناجائز استعمال اور کرپشن فوج میں ناقابل قبول ہے مگر ادارے کے وقار کو مرکوز خاطر رکھتے ہوۓ ان سزائوں کی عوامی سطح پر تشہیر نہیں دی جاتی ۔ .

 نمبر 14. پاک فوج اور اسکے افسران و جوان اسی دھرتی کے بیٹے ہیں۔ اپنے ملک کی مجموعی صورتحال اور مسائل سے بخوبی واقف بھی ہیں اور ان مسائل کا سامنہ بھی کرتے ہیں ۔ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ ہو یا کرونا کے باعث لاک ڈائون ہوں ان سب کافوجی چھاؤنیوں پر برابر نفاذ کیا جاتا ہے ۔
نمبر 15. فوجی چھاؤنیوں میں نظر آنے والی صفائ اور نظم ونسق کی وجہ اضافی وسائل نہیں بلکہ اعلیٰ تنظیم اور حکام اعلیٰ کی نگرانی اور توجہ ہے ۔  جبکہ سول میٹروپولٹن کارپوریشن میں افرادی قوت ھونے کے باوجود ان خصوصیات کا فقدان نظر آتا ہے ۔

 نمبر16۔ دفاعی بجٹ کے بارے میں منفی پراپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ یہ شاید  پاکستان کی ضروریات سے بہت زیادہ ہے اور بجٹ کا %80 حصہ دفاع پر خرچ ہوتا ہے ۔ حالانکہ  سچ یہ ہے موجودہ بجٹ میں دفاع کا حصہ 20 فیصد سے بھی کم ہے۔ جبکہ ہمارے پڑوسی دشمن ملک کا دفاعی بجٹ دس گنا بڑا ہے ۔ لیکن پھر بھی ہم نے اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر بنالیا ہے ۔ جس بجٹ کو زیادہ سمجھا جاتا ہے اس کے بارے میں جان لیں کہ پاکستان کے فی فوجی جوان اخراجات دنیا میں پہلے پچاس مملک سے بھی کم ہیں ۔پاکستان کے ایک فوجی پر فی کس خرچہ دنیا بھر میں سب سے کم ہے۔

. نمبر 17. اور سب سے ضروری بات جو ہم سب پاکستانیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم سب اور یہ فوج اسی دھرتی ماں کی اولاد ہیں۔ ہم میں سب کی کوشش ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کو ایک خوشحال اور پرامن زندگی دے سکیں۔ کوئی ایک پیشہ دوسرے پیشہ سے بہتر نہیں ہے ، ہم کسی بھی  پیشے کو نظر انداز نہیں کر سکتے نا ہی کسی کو اسکا حق  ہے ۔ کیونکہ سب ہی پیشے کام کریں گے تو ملک ترقی کرے گا خوشحال ہوگا ۔

 نمبر 18. ہمارا اتحاد ہی ہماری طاقت ہے ، دنیا کی کوئی فوج بھی اپنی عوام کی مدد اور مرضی کے بغیر کوئ جنگ نہیں جیت سکتی ۔ اور ہمیں اس حقیقت کا اچھی طرح ادراک ہے ۔ بہادرعوام کی اخلاقی  حمایت  کے بغیر فوج چاہے جتنی بھی اسلحہ بارود سے لیس ہو جنگ شروع تو کر سکتی ہے مگر جیت نہیں سکتی ۔
 نمبر 19.لہذا عوام بھی یہ ذمہ داری سمجھے کہ کم از کم ان لوگوں کا نشانہ نہ بنیں جو فوج اور عوام کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح کے شرپسندوں اور سازشیوں کو پہچاننے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ان سے دفاعی بجٹ جیسے موضوعات پر رائے لی جاۓ ۔ آپ خود دیکھیں گے کہ یہ کیسے ثابت حقائق اور اعدادوشمار میں ہیرا پھیری کریں گے ۔ لہاذا ہمیں بحیثیت قوم تمام تر مشکلات کے باوجودِ ایک ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ملک دشمن قوتیں اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نا ہو سکیں ۔

⚔️ پاک فوج زندہ باد 🦅🇵🇰
پاکستان پائندہ باد 🇵🇰

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مزید پڑھیں ۔ 

٭ملٹری انکارپوریٹ اور آرمی آفیسرز کو ملنے والی زمینیں ، پلاٹ اور مکان ۔

اتوار، 3 جولائی، 2022

میں پرانے پاکستان میں جانا چاہتا ہوں ۔

ایک فوجی سینئر  میجر (ریٹائر ) احمد سرفراز اللہ ( پی ایس سی ، پی ٹی ایس سی  ، اور جی) نے، حنا ربّانی کھر کی قسط وار بجلی کی ادائیگی  کی پوسٹ ، وٹس ایپ کی ۔میں نے جواب دیا ۔

سر ۔ آپ ایک نیک دل اور محبت کرنے والے ویٹرن ہیں ۔
لہذا ماضی کو بھول جائیں۔
اب کی بات کریں شکریہ۔
اُنہوں نے جواباً یہ پوسٹ کی ۔

 پوسٹ پڑھتے ہی توانائی کے بلبلے، اِس بوڑھے کو  کھینچ کر پرانے پاکستان لے گئے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 

سر ! اِس بوڑھے 1999 کے ریٹائرڈ فوجی پنشنر نے  بجلی کا استعمال کم سے کم کردیا ہے ۔ بوڑھا   ، برامدے میں کرسیاں ڈالے بیٹھا رہتا ہے  ،  کیوں کہ پرانے پاکستان میں جانا چاھتا ہوں اپنے بچپن کے پاکستان میں ، جہاں نفرت ، عداوت اور دشمنی کم ، اور محبت زیادہ تھی ، جہاں سیاسی زہر ہماری رگوں میں جھوٹ کے انجکشنوں سے نہیں ڈالا گیا تھا ، پرانا دوست یہ نہیں کہتا تھا کہ:۔
٭- تم اگر پی ٹی آئی کے نہیں تو میرے گروپ سے نکل جاؤ۔

 ٭- تم ہمارے فرقےسے نہیں ، تو ہماری مسجد میں مت آؤ ۔

 ٭- انگریزی پڑھنے والے ، انگریزی سکول میں بنچوں اور کرسیوں پر بیٹھتے تھے ۔

 ٭- اردو پڑھنے والے ، ٹاٹ پر بیٹھتے تھے ، جن میں غریب و امیر ہر طبقے کے بچے ہوتے تھے ۔ ٭- جب فریج نہیں ہوتے تھے ۔ مٹکے کا پانی پیتے اور روزانہ کی سبزی یا گوشت ابا ،لاتے یا ہم ۔

 ٭- جب کوئی مہنگائی کارونا نہیں روتا تھا ۔مہنگائی کا جن قابو میں تھا ۔ پھر 

پرانے پاکستان میں پہلے بار۔

٭- سرسوں کے تیل اور بھینس کے دودھ سے نکلے ہوئے مکھن سے خالص گھی کے بدلی توانائی سے بھرپور بناسپتی گھی بننے لگا !۔

٭۔شربت کی جگہ چائے نے لے لی ۔

٭۔بیماریاں پھیلانے والے گڑ کی جگہ چینی نے لے لی ۔

٭۔ دیسی گندم کی جگہ۔ میکسی پاک گندم نے لے لی ۔

بتیس   سالہ ابّا فوج میں حوالدار تھے۔ اپنی پیدائش سے چھوٹے بھائی کی پیدائش تک کسی نے ڈبّے کا دودھ نہیں پیا ۔ امی نے کبھی شکوہ نہیں کیا کہ سات بچوں میں کم تنخواہ میں گذارہ نہیں ہوتا ۔امی ، ابّا خوش ، ہم بچے خوش ، محلے والے پرسکون ، رشتہ دار امن سے ۔

امی ہر روٹی کے پاؤ ٹکڑے کے حساب سے ، شام کو ، اللہ کے نام پر نعرہ لگانے والے کو آدھی آدھی روٹی دیتیں اور مسجد کا روٹی لاؤ جی کی آواز لگانے والے طالب کو ایک روٹی اور سالن کی پلیٹ اُس کے کنستر میں ، نمّو سے ڈلواتیں ، جس میں ہر قسم کا سالن  پڑا ہوتا تھا ۔

پھر بھیک منگوں نے نیا طریقہ نکالا ، جسے مٹھی آٹا سکیم کہتے تھے ۔ 

پھر چینی بڑھی اور اچانک امیر و کبیر  سیاست دانوں  اور بھیک منگوں کے بغل بچوں نے ، حکومت کو صلوٰتیں سنانی شروع کر دیں ۔وہ دن اور آج کا دن۔

ہر نوجوان جو ھذا من فضلِ ربی ۔ کے گھر میں پل کر بڑھا ہے۔ صلواتیں سنانے میں ڈاکٹر آف گالم گلوچ و فحش تصاویر ہے ، مگر نماز بھی پڑھتا ہے اور  إياك نعبد وإياك نستعين  کا نعرہ بھی لگاتا ہے ۔ یہ نعرہ صرف نعرہ ایجاد کرنے والے زمینی  بھکاری خداؤں  کے لئے ہے ۔     

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔