Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 14 ستمبر، 2013

فہرست ۔ زیرو پوائینٹ سے آخری پوائینٹ تک

اُفق کے پار بسنے والے ، خالد مہاجر زادہ کے دوستو !۔

مؤرخہ 16 ستمبر 1953 بروز بدھ عصر کے آدھے گھنٹے بعد  کمبائینڈ ملٹری ہسپتال  لاہور کے زچہ و بچہ  کے کمرہ ءِ پیدائش  میں ایک بچے کو زبردستی رُلا کر اُس میں سانس کا رشتہ استوار کیا گیا ۔ اُس کی ماں کو دایہ نے مبارکباد دی ۔    بیٹا مبارک ہو ۔  

ڈلیوری روم کے باہر کھڑے ہوئے  بچے کے باپ  کو،صاحب جی مبارک ہو بیٹا پیدا ہوا ہے ۔

یوں 7 صفر الاوّل (محرم) 1372 ھجری کو  محمد نعیم الدین  خالد ۔ کا سفر اُس کے بیرونی  دنیا کے  زیرو پوائینٹ سے شروع ہوا۔کہاجاتا ہے کہ انسان کے دماغ میں روزانہ  تقریباً 70 ہزار سوچوں کوپانچوں حواس  بیدار کرتے ہیں جو دماغ کے مختلف خانوں ( سیکٹرز ) میں جمع ہوتی رہتی ہیں ۔  جن میں سے 95 فیصد تحت الشعور میں رہتی ہیں اور پانچ فیصد شعور  کا چکر لگا کرواپس تحت الشعور میں سکونت اختیار کر لیتی ہیں ۔یوں دنیا میں آتے ہی انسانی بچے کے دماغ کا سفراُس کے بیرونی دنیا سے رابطہ استوار ہوتے ہی ،  زیرو پوائینٹ سے آگے بڑھنے لگتا ہے ۔

اُفق کے پار بسنے والے پیارے دوستو ،  ایک بچے کے دماغ کا سفر ، دنیا میں آنے سے پہلے ،  ماں کے پیٹ میں اُس کا اندرونی دنیا کا سفر زیرو پوائینٹ پر نہیں ہوتا۔بلکہ ماں باپ سے ملنے والا شعور اُس کے تحت الشعور میں بس چکا ہوتا ہے ۔کیوں کہ وہ  کرہ ارض کے جاودانی میدان میں  توانائی کی صورت میں  کن کے بعد  یکن ہوکر  ، " ہست " میں ڈھل چکا تھا ۔لیکن  اُس کی اندرونی دنیا کے پوائنٹس کی ابتداء معلوم نہیں کب؟ مگر  اِس حکم سے شروع ہوئی :۔

وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِن بَنِي آدَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنفُسِهِمْ

قَالُواْ بَلَى شَهِدْنَا 

أَن تَقُولُواْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ ۔  [7:172]

اُفق کے پار بسنے والے ، خالد مہاجر زادہ کے پیارے  دوستو !۔

  خالد مہاجر زاہ  کی  بیداری ءِ فکر نے اُسے اپنی روز اوّل کو ہونے والے تخلیق کے دن    اپنے ربّ کے سوال  کے جواب میں کئے جانے والے عہد سے روشناس کروا دیا  ۔

لہذا وہ  اپنی اندرونی  دنیا اور بیرونی  دنیا سے حاصل کردہ تمام پوائنٹس ، مضامین کی صورت میں اُفق کے پار بسنے والے پیارے دوستوں کے لئے نشر و منشور کر رہا ہے ۔جو اُس کے دماغ میں فلم کی صورت میں تقریباً 30 لاکھ گھنٹوں کی وڈیو ریکارڈنگ  جگہ  میں   محفوظ ہیں ۔

یقیناً آپ کے دماغ میں بھی  ، اتنے ہی وڈیو ڈیٹا کی سہولت موجود  ہے ، جس کی ریکارڈنگ   آپ کے تحت الشعور میں موجود ہو گی  ۔ آپ بھی اُنہیں  شعور میں لاکر اپنے ماضی بعید میں جھانک سکتے ہیں ۔

خالد مہاجر زادہ نے کافی مضامین لکھے ، اُفق کے پار بسنے والے دوستوں نے بھی پڑھے اور رائے بھی دی ۔یہ سب کمپیوٹر کی ایجاد اور اُس میں ترقی کی بدولت ہوا ۔ای میلز ، فیس بُک ، وٹس ایپ یہ تین ابلاغی ذرائع ہیں۔ جو ایک انسان سے دوسرے انسان تک آج کی دنیا میں پیغامات پہنچاتے ہیں۔ 

لیکن انسانی پیغامات کو ایک  دوسرے تک پہنچانے میں ۔پانچوں حواس  تن دہی سے مصروف ہیں ۔


 کیا آپ کو معلوم ہے کہ انسان کے کن حواسوں سے  بیرونی دنیا کے متعلق  شہادت لی جائے گی  ؟؟

وَمَا كُنتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ وَلَكِن ظَنَنتُمْ أَنَّ اللَّهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيرًا مِّمَّا تَعْمَلُونَ۔ [41:22]     

یاد رہے انسان  دونوں دنیاؤں کا مرکز ہے ۔ اُس کی  اندرونی دنیا   (نفس) اور اُس کی بیرونی دنیا (اھواء)  لازم و ملزوم ہیں ۔آپ کی اندرونی دنیا میں کوئی نہیں جھانک سکتا ۔

 لیکن آپ کی بیرونی دنیا  کا تعارف آپ خود دوسرے انسان سے کرواتے ہیں ۔


وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى [79:40]

   ٭٭٭٭٭٭٭

1۔ انسان کی اندرونی دنیا  ۔
انسان کی بیرونی دنیا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔