Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
‏فَرمُودات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏فَرمُودات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 10 مارچ، 2023

الْقُرْآنَ مَهْجُورًا

 ”وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا“ (30:25)

   اگر اُس آیات کا سباق دیکھیں تو واضح ہو جائے گا  کہ  السَّمَاءُ کا شَقَّقُ ہونا نزول الملائکہ کے لئے اہم ہے :

 وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِكَةُ تَنزِيلًا ﴿25:25﴾

 الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ ۚ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَافِرِينَ عَسِيرًا ﴿25:26﴾ 

 ظالموں کا افسوس کرنا ، کہ مَعَ الرَّسُولِ القرآن پر عمل کرنے والوں کو صدیوں پہلے سبیل کیوں سمجھا؟

 وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا ﴿25:27﴾ 

 ہم نے سبیل کو ہی خلیل بنا لیا۔ -

 يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا ﴿25:28﴾ 

 ہمارے پاس اللہ کی طرف سے الذکر آنے کے باوجود د ۔خلیلوں کی وجہ سے گمراہ ہو گئے ۔

 لَّقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي ۗ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلْإِنسَانِ خَذُولًا ﴿25:29﴾

اب دہائی دے رہے ہیں ، یا رسول اللہ مکہ مدنی و عربی ہماری شفاعت کریں ہم تو قومِ رسولؐ ھاشمی سے ہیں :۔

 وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا  (25:30) 

اِس طرح کل نبی کے لئے المجرمین ( نبی پر جھوٹی باتیں ، اللہ کے موضوع تبدیل کرکے اپنی لَغوی گرائمر سے تحریف کرکے مودودی کی طرح فصاحت و بلاغت کے دریا بہانے والے ، پرویز کی طرح اللہ کی آیات کو ریزہ ریزہ کرنے والے ) کو عدو قرار دے دیا ہے ۔ لیکن الرسول فکر مت کر تیرا رب هَادِيً بھی ہے اور نَصِيرًبھی !۔

 وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِينَ وَكَفَى بِرَبِّكَ هَادِيًا وَنَصِيرًا (25:31) 

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اتوار، 5 دسمبر، 2021

ابلیس ، آدم ، بنی آدم اور اُن کا ربّ

 ابلیس کا اپنے ربّ کو کھلا چیلنج : 
قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ [7:16]  
کیوں کہ تو نے مجھے غْوَيْ کیا ، اِس لئے میں تیرے صِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (القرآن) میں قْعُدَن  ( جم کر بیٹھ ) ہوجاؤں گا ۔ 
(جو بھی القرآن  کی صراط میں بیٹھ کر لوگوں کو بہکا رہا ہے وہ ذُریّتِ ابلیس ہے )
الملائکہ کے جم غفیر سامنے اپنے ربّ کی توہین کرنے والے ابلیس کو اللہ نے بس شٹ اَپ کال دی۔
   نہ اُس کو پتھر مارے اور نہ برف کی سلیں ماریں ۔ 
 لیکن آدم اور بنی آدم کو ابدی اصول بتایا ۔
 يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُواْ مِمَّا فِي الأَرْضِ حَلاَلاً طَيِّباً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ [2:168] 
 کیوں کہ آدم نے جس پھل کا ذائقہ چکھا وہ اُس کے لئے حلال نہ تھا ۔ اور وہ حرام کام میں ملوّث ہو ا ۔
 يَا بَنِي آدَمَ لاَ يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ الْجَنَّةِ يَـنْـزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْءَاتِهِمَا إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لاَ تَرَوْنَهُمْ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ لِلَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ [7:27] 
آدم اور اُس کی زوج کے لباس اتروادیئے ۔ اِس کے باوجود کہ وہاں صرف یہ دونوں تھے ۔
 اور اُنہیں اپنے ربّ کے حکم کے مطابق بالباس رہنا تھا ۔ گناہوں کی بستی میں نہیں اترنا تھا ۔ وہ اِس لئے کہ مہاجرزادہ کے فہم کے مطابق اُن کے ربّ نے اُنہیں الجنت میں جنسی فعل (نکاح) کی اجازت نہیں دی تھی ۔ 
 ابلیس نے اُن دونوں کو الگ الگ ، مملکتِ لازوال یعنی اولاد کا خواب  ، جنسی فعل کے ذریعے دکھایا۔ 
 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  قَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَـذِهِ الشَّجَرَةِ إِلاَّ أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ [7:20]
 
نوٹ : یہاں لباس سے مراد ریشمی یا سوتی کپڑے نہیں ۔ بلکہ غصّ البصر کی وہ انتہا ہے جس میں مرد اور عورتیں یورپیئن ، بے لباس سمندر میں جمگھٹوں میں گھومتے ہیں اور سوائے انسانی بدن کی جسمانی خوبصورتی کو سراھنے اور ذہن میں واؤ کہنے کے، اُنہیں کوئی جنسی خیال نہیں آتا ۔
یہی وجہ ہے کہ مرد اور عورت کے بلوغت کو پہنچتے ہی اُنہیں بذریہ اللہ کے حکم نکاح (جنسی فعل) کی اجازت دی ہے ۔
 نکاح   : بالغ مرد اور عورت کا  ساتھ رہنے ، حلال و طیب جیزیں کھانے اور جنسی عمل کے لئے ،   شھداء  کی موجودگی میں ، ادئیگی ءِ مہر  اور ایجاب و قبول ہے ۔ 

 ٭٭٭ ٭٭٭٭٭
بلوغت کو پہنچنے کے بعد بنی آدم نے ، الشیطان  کے بہکانے پر ، اُس شجرۃ کا ذائقہ ضرور چکھنا ہے ، کہ جس سے اُن کے ربّ نے اُن  کے آباء آدم کو منع کیا تھا ۔
مہاجر زادہ  کے اللہ کی آیات  سے اخذ کردہ فہم کے مطابق  :
1- اگر  شھداء کے موجودگی سے چھپ کر ایجاب و قبول (جنسی عمل) کیا تو یہ، اُس وقت تک
خْدَنٍ کہلائے گا جب تک مرد اور عورت  ۔ شھداءکے سامنے اپنے ریلیشن شپ ( جنسی فعل)   کاا قرار نہ کرلیں  یا ایک گھر(کمرے)   میں رہتے ہوئے  دیکھے جائیں ۔
2-حمل ساقط کے فعل سے مرد اور عورت      مُسَافِحِينَ (سفح)کہلائیں گے ۔  
3- زنا  ۔ شادی شدہ عورت   سے   جنسی فعل کرتا ہے تو ہ زانیہ  کہلائے گی اور اگر مرد کو ایجاب و قبول کے وقت یا بعد میں معلوم ہوگیا تو وہ زانی کہلائے گا ۔    کیوں کہ زنا کسی بالغ عورت کا  جس نے کسی مرد سے جنسی فعل کیا ہو اُس کا کسی مردسے جنسی فعل تین قروء کے اندر کرنے کا عمل ہے ۔ عورت کو یہ لازمی معلوم ہو کے اُس کی کوکھ میں کس کا بچہ ہے ۔ 
 4- اگر عورت ، تین قروء کے اندر کسی اور مرد سے جنسی فعل کرتی ہے تو وہ ، زانیہ  کہلائے گی ۔
5۔ مخلوط کالجوں اور یونیورسٹیوں کے چند طلبا ، مستقبل میں شادی کا جھانسہ دے کر لڑکیوں کو جنسی فعل پر راضی کرتے ہیں ۔اللہ کے قانون کے مطابق وہخْدَانٍ    اور   مُسَافِحِينَ کے  جرم  میں ملوّث ہوتے ہیں ۔ اِس کے باوجود کہ دونوں نے ایجاب و قبول کیا ہوتا ہے ۔ ممکن ہے کہ دونوں  نے اپنے دوست (ایک)  اور سہیلیوں   (دو) کو  اپنے ریلیشن شپ (جنسی فعل) کابتایا  ہو ۔ تو اِس صورت میں اُن کا نکاح   مکمل ہوا ۔ 
6- کالج و یونیورسٹی کی تعلیم ختم ہونے کے بعد ، اگر وہ دونوں  آئیندہ زندگی ساتھ نہیں گذارتے ،  عورت کو  دوسرے مرد سے مروّج نکاح(جنسی فعل )  کرنے  کے لئے تین قروء انتظار کرنا پڑے گا ۔
 ٭٭٭ ٭٭٭٭٭
 

پیر، 2 دسمبر، 2019

دُعائیں - ایک چھوٹی سی کہانی

آؤ ، تمھیں مزدوری دلوا دوں ، کہا ایک ہمدرد نے ۔ 
"کیسی مزدوری ہے ؟ " شیدے نے  اپنی پھٹی چادروں کی جھگی کے سائے میں لیٹے ہوئے پوچھا ۔
" دیہاڑی   کرنا ہے " ہمدرد بولا " بھٹے پر  وہاں مُفت جگہ بھی ہے رہنے کے لئے ،
لیکن ایک شرط ہے ، کہ آدھی تنخواہ میری ہوگی" ۔
شیدے نے سوچا ، " جہاں وہ رہ رہا ہے ، 100 روپے مہینہ کرایہ بھی دے رہا ہے  اپنے   خاندان کے 20 افراد کا  ، اُوپر سے  پولیس والے بھی تنگ کرتے ہیں ۔ کہ تم لوگ خطرناک ہو ۔تھانے کے پھیرے الگ ، چنانچہ حامی بھر لی ۔

 ہمدرد نے سیٹھ سے آدھی تنخواہ وصول کر کے ، بھوک کا شکار ، شیدے کو بھٹے پر رکھوادیا اور بھٹے کے پاس رہنے کو جگہ بھی مل گئی ۔ شیدے نے اپنی ، ماں ، بہن ، بیوی سب بچوں کو مالک سے ادھار لے کر بھٹے پر رکھوا دیا۔کیوں کہ تنخواہ تو تین بھٹوں کی اینٹیں کے بِکنے کے بعد ملے گی ، لیکن پیٹ تو کھانا ابھی مانگتا ہے ۔ 
پہلے بھٹے کی اینٹیں پکیں تو ٹھیکیدار لے گیا ۔
 مزدوروں نے شُکر کیا ۔ 
دوسرے بھٹے کی اینٹیں سوکھ رہی تھیں کہ ، کسانوں نے دعا مانگی ۔
اور ناگہانی بارشیں شروع ہو گئیں جو پورے ہفتے لگی رہیں ،کسانوں نے شُکر کیا ۔
اور سوکھی اینٹیں مٹی اور ریت بن کر   تودوں میں تبدیل ہو گئیں ۔ 
شیدے ، نے سوچا   حکومت نے مہنگائی بڑھا دی ہے ، لیکن بھٹہ مالک سال بعد مزدوری بڑھائے گا ۔
کیا کیا جائے ؟
ہمدرد پھر شیدے کے پاس آیا ، شیدے نے اپنی ببپتا سنائی ، ہمدرد نے کہا ، ایک اور جگہ ہے وہاں  دیہاڑی بھی زیادہ   راضی ہو تو بولو ۔ شیدے نے حامی بھری ۔ 

رات کو اُس نے پورے خاندان کے ساتھ نکلنا  تھا ۔ لیکن یہ کیا  ابھی وہ سامان باندھ کر گدھوں پر رکھ رہے تھے ، کہ بھٹہ مالک کے کارندے آگئے ، اُنہوں نے شیدے کو خوب مارا ، اُس کی  چھوٹی دو بچیوں 10 سالہ  صغرا کو  اور 13 سالہ  شنّو کو لے گئے ۔
" یہاں سے کہیں گئے تو  لڑکیاں بیچ کر قرض پورا کر لیں گے " کارندوں کے باس نے دھمکی دی ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭

منگل، 13 اگست، 2019

قل العفو۔ ضرورت سے زائد نہیں


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بالا پوسٹ ، زلیخہ سندس   (عریبہ بانو) نے اپنی وال پر لگائی، جس پرزیادہ تر  منفی کمنٹ آئے ۔ 
اِس سے پہلے کہ مہاجرزادہ ، اِس تشریح کی اصل حقیقت پر  کھی جائے  ۔  کہ
یہ  سوچ کہاں سے اخذ کی  گئی ؟؟؟
٭٭٭پہلے اللہ کی ایک بئین آیت ٭٭٭

روح القدّس نے محمدﷺ کو ، اللہ کاحکم ، محکم عربی  میں بتایا : 
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَآ أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ كَذَلِكَ يُبيِّنُ اللّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ [2:219]
 وہ تجھ سے سوال کرتے رہیں  گے ! الْخَمْرِ اور  الْمَيْسِرِ میں   ، 
کہہ ! اُن دونوں میں   إِثْمٌ    كَبِيرٌ ہے  اور انسانوں کے لئے   مَنَافِعُ      بھی ۔ 
اور اُن دونوں کا     إِثْمٌ   ، اُن دونوں کے    مَنَافِعُ   سے   أَكْبَرُ ہے  ( اللّهُ  أَكْبَرُ) 
  وہ تجھ سے سوال کرتے رہیں  گے !  وہ کس کا انفاق کرتے رہیں  ؟ 
کہہ ،    الْعَفْوَ !!
 اُسی  طرح   اللہ ، تمھارے لئے اپنی آیات  بیئن کرتا رہتا ہے ۔ تاکہ تم  سب تفکّر کرو !

 بالا آیت کے جو تراجم کئے گئے ،   اُس میں تمام مترجمین  نے  کم و بیش  ایک جیسے ہی  کئے سوائے ۔ اللہ کے بئین کلمات    قُلِ الْعَفْوَکے ۔ 
جس کا انسانی عرق بالا پوسٹ میں نچوڑ کر ملایاگیا ۔ تاکہ       الَّذِين آمَنُواْ  یا جملہ انسانوں  کو   حَبْلٍ مِّنْ اللّٰهِ  سے    حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ کی طرف ہانکا جاسکے -
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 قارئین ! مہاجرزادہ کو کسی بھی    ، مترجم سے کوئی پرخاش  نہیں ، بشمول علامہ غلام احمد پرویز کے !
لیکن  دُکھ اُن نوجوانوں پر ہوتا ہے ، کہ جو پرویز کو حرفِ آخر سمجھ کر  ، اللہ کے الفاظ کے بجائے اُس کے الفاظ  کو سیمنٹ سمجھ کر  ، اپنے فہم پر پلستر کر رہے ہیں  ۔ 
وہ شخص جس نے پرویز کی کتابوں کو بطور  علم پڑھا ہو وہ یقیناً پرویزی فہم سے واقف ہوگا !
 لہذا بالا پوسٹ  پر ، مہاجر زادہ نے  کمنٹ دئے :
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مہاجر زادہ :  یہ تو پرویزی سوچ ہے ، نیک دل خاتون؟! 
زلیخہ سندس : آپ کی مرضی پرویز کو پوجیں یا کسی مولوی کو میں کسی کی بات کی جوابدہ نہیں ہوں میں خود اپنی بات اپنی فکر کی جوابدہ ہوں بس!ْ
مہاجر زادہ :کیا میں نے کہیں لکھا ہے کہ میں کسی کو پوجتا ہوں ؟!
زلیخہ سندس : میں کبھی پرویزی ہونے کا دعوی کیا؟
 مہاجر زادہ :  پہلے میرا کمنٹ پڑھیں ، شکریہ
   یہ تو پرویزی سوچ ہے ، نیک دل خاتون!ْ 
زلیخہ سندس : کیا قرآن میں قل العفو نہیں آیا؟  
مہاجر زادہ :  " قل العفو " جی عربی میں ضرور آیا ہے ۔ 
 يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَآ أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ كَذَلِكَ يُبيِّنُ اللّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ [2:219]
 زلیخہ سندس:  اس کا مطلب؟
مہاجر زادہ :    قُلِ الْعَفْوَ ،  کا مطلب دیکھ لیں تو پرویزی فہم ( قلعہءِ تفہیمات)    زمین بوس ہو جائے گا ۔
 زلیخہ سندس:   اچھا مولوی جی آپ دیکھا دیں؟
مہاجر زادہ : حیرت ہے کہ قُلِ  اور الْعَفْوَ کو سمجھنے کے لئے کسی مولوی کی ضرورت پڑتی ہے ۔ قُلِ  ؛ کہہ الْعَفْوَ  ، خاص معافی  ،  درگزر !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 (قارئین : تما م مترجمین   ، مفہومین یا    مترشحین   نے جب اپنے فہم کو عربی کے بجائے ، عجمی کے قالب میں ڈھالا تو کسی ایسے اللہ کے لفظ کو جہاں وہ ترجمہ کرنے پر پھنسے،  اپنا ترجمہ کیا اور اُسے تصریف الآیات  کے  کسی   ورق الجنۃ سے مزّین کیا  اور یہی پرویز نے کیا ۔ مہاجر زادہ بھی یہی ترکیب استعمال کرتا ہے، یعنی تصریف الآیات، مگر مکمل آیت  اُن کو جُذَاذًا نہیں کرتا   )
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 مہاجرزادہ :   روح القدّس نے محمدﷺ کو ، اللہ کاحکم ، محکم عربی  میں بتایا :

خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ [7:199]
  
مہاجرزادہ :   روح القدّس نے محمدﷺ کو ، أْمُرْ بِالْعُرْفِ اللہ  کی طرف سے  بتایا :
يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلْ مَا أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا تَفْعَلُواْ مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللّهَ بِهِ عَلِيمٌ [2:215]
  وہ تجھ سے سوال کرتے رہیں  گے !  وہ کس کا انفاق کرتے رہیں  ؟
کہہ ! جو تم    أَنفَقْ خیر میں سے کرتے رہتے ہو !
پس وہ       وَالِدَيْنِ (1)اور الأَقْرَبِينَ  (2)اور  الْيَتَامَى (3)اور  الْمَسَاكِينِ (4)اور  ابْنِ السَّبِيلِ (5)کے لئے (ترتیب وار ) ہے !
اور جو تم  فعل  خَيْرٍ  کرتے ہو  پس صرف اللہ اُس کے ساتھ  عَلِيمٌ ہے ، 
مہاجرزادہ :  اب جاہل مزید کیا پوچھنا چاھتے ہیں ، شارٹ کٹ مارنے کے لئے ؟
کہ اِس ترتیب کو گڈ مڈ کر دیا جائے ؟(1) ۔    وَالِدَيْنِ (2)  الأَقْرَبِينَ  (3)   الْيَتَامَى (4)  الْمَسَاكِينِ اور(5)  ابْنِ السَّبِيلِ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مزید پڑھیں :
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔