Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 11 جنوری، 2022

ایک الذی آمنا بالغیب کا پیغام الذین یومنون کے لئے

  میں تمھارہ چہرہ یاد رکھنا چاھتا ہوں ۔جب میری تم سے جنت میں ملاقات ہو تو میں پہچان سکوں اور وہاں بھی تمھارا شکریہ ادا کروں۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
إياك نعبد وإياك نستعين  کا، ہوائی دعویٰ کرنے والوں کے لئے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

فیمی اوتی دولہ  ،  نائجیریا کا رہنے والا ، پورے افریقہ میں 90 فیصد ڈیزل سپلائی کرنے والا ایک ارب پتی شخص ۔ جس کا سب سے بڑا تیل سپلائی کرنے والا  بحری بیڑہ۔دولت جمع کرنا ۔ ہیرے جواہرات اور نایاب قیمتی اشیاء جمع کرنا اور جائداد بنانا اُس کے لئے سب سے بڑا خوشی کا مقام تھا ۔

اپنے ریڈیو پروگرام کے لئے لائف   انٹرویو لیتے ہوئے ،  ٹیلیفون پر انٹرویو لینے والے نے پوچھا۔

 جناب آپ کے لئے پوری زندگی میں محسوس کئے جانے والے خوشی کے کسی ایک لمحے کو یہ پروگرام سننے والوں  کے لئے  بتا سکتے ہیں ؟

   فیمی اوتودا  نے بغیر جھجکےیا سوچے بتایا ۔

وہ میرے بچپن کا دوست تھا ۔ ہم ایک دیہات کے رہنے والے تھے ، وہ اپنے علاقے کے لوگوں کے لئے سوشل ورک کا کام کرتا تھا ۔ایک دن اُس نے فون کیا اور پوچھا کہ کیا میں  معذور بچوں کے لئے وہیل چیئر تحفے میں دے سکتا ہوں ؟
دوست کی درخواست پر میں نے 200 ، انٹرکام پر اپنے پی اے کو   وہیل چیئرز کا آرڈر دیا اوردوست سے پوچھا کہاں بھجواؤں ؟

اُس نے کہا بھجوانی نہیں آپ نے خود آخر تقسیم کرنا ہیں ۔ میں نے حامی بھر لی ۔ وہ اتوار کی  روشن صبح تھی میں چرچ سے سیدھا ،دوست  کو لیتے ہوئے ، شہر سے باہر  ایک میدان  میں پہنچ گیا ، جہاں بہت سے لوگ جمع تھے اور ایک طرف افریقی بچے خود ساختہ بنچوں پر بیٹھے تھے ۔ میں نے ہر بچے کو وہیل چیر دی ۔ وہیل چیئر پر بیٹھتے ہوئے ، ہر بچے کی خوشی میرے ذہن میں بنی مصنوعی خوشی کے بلند و بالا محل کی ہر اینٹ گراتی جارہی تھی ۔

ٹانگوں سے  معذور بچے ، گروانڈ میں ایسے وہیل چیر چلا رہے تھے جیسے ٹانگوں والا بچہ میدان میں خوشی سے چمکتے چہرے کے ساتھ بھاگتا ہے۔اُن کے ماں باپ میدان کے کنارے کھڑے تالیاں بجا رہے تھے اور بچوں کی خوشی کا نور اُن کے چہروں سے کائینات میں منعکس ہورہا تھا ۔  میں واپس جانے کے لئے مڑا تو ایک نہایت کمزور بچہ وھیل چیر چلا کر میرے سامنے آکر میری ٹانگوں کو نرمی سے اپنے بازو کے حلقے میں پکڑ لیں۔ میں سمجھا کہ شاید وہ کچھ  اور مانگنا چاہتا ہے ۔ میں اُس کی طرف جھکا ۔ اور پوچھا ۔

 " بولو کیا چاھئیے ؟"     

اُس کا  نحیف   مگر ٹھوس آواز میں بولنا میرے وجود میں مسرّت و خوشی کی آفاقی لہر دوڑا گیا ۔

میں تمھارہ چہرہ یاد رکھنا چاھتا ہوں ۔جب میری تم سے جنت میں ملاقات ہو تو میں پہچان سکوں اور وہاں بھی تمھارا شکریہ ادا کروں۔

٭٭٭٭٭٭٭

 



1 تبصرہ:

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔