میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 30 ستمبر، 2020

حیدر آباد دکن کا طرّم خان

  طوری باز خان، دکن کی تاریخ کی ایک بہادر شخصیت تھے ، جو اپنی بہادری اور جرات کے لئے مشہور تھے۔


حیدرآباد کی لوک داستانوں میں ایک نام استعمال ہوتا ہے "طرّم خان"۔ جب آپ کسی کو کہتے ہیں تم بڑے طرّم خان ہو ؟
تو ، آپ اسے بہادر قرار دیتے ہیں۔ یہ طوری باز خان کا نام ہے۔

 وہ ایک انقلابی شخصیت آزادی پسند جنگجو تھا ، جس نے چوتھے نظام حیدرآباد اور انگریز کے حکمران سسٹم کے خلاف بغاوت کی تھی۔

٭1857 کی جنگِ آزادی کے تناظر میں ، دہلی ، میرٹھ ، لکھنؤ ، جھانسی اور میسور میں ہونے والی سرگرمیوں کی دستاویزی دستاویزی دستاویزات ہیں ، لیکن حیدرآباد میں آزادی کی سرگرمیوں نے شائد اس زور نہیں پکڑا کہ نظام حیدرآباد انگریزوں کے اتحادی تھے۔ 

طورباز خان، کا جنگ آزادی کا دورانیہ مختصر تھا، جب حیدر آباد کے عوام برٹش اور نظام راج سے آزادی کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے۔

٭17 جولائی ، 1857 کو ، طورباز خان نے برطانوی آندھرا اور  ’نظام آندھرا‘ کے خلاف میں کالونی ازم سے ناامید عوام کی ایک بہت بڑی فوج کی قیادت کی اور حیدر آباد دکن کے آزادی کے 6،000 متوالوں کےساتھ  برٹش ریذیڈنسی پر حملہ  کیا۔

حیدرآباد میں برٹش ریزیڈنسی رہائش گاہ  مصور جان رسل (1744-1806) کے بیٹے سموئیل رسل نے تیار کیا تھا اور اسے 1803 اور 1806 کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا۔ اس عمارت کی قیمت حیدرآباد کے نظام نے ادا کی تھی۔ یہ عمارت کے سامنے کا ایک نظارہ ہے جس کے ساتھ اس کے کورینشین پورٹیکو کا تاج تاج پہنایا گیا ہے جس پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا بازو دکھایا گیا ہے۔  شیر ​​مجسمے داخلی دروازے تک ایستادہ  ہیں
 طوری باز خان نے برطانوی رہائش گاہ پر حملہ کیا ، جو اب حیدرآباد کے کوٹی میں خواتین کے کالج میں واقع ہے-اس کالج کا آغاز 1924 میں ہوا۔ اسے 1949 میں جیمز اچیلز کرک پیٹرک کی حویلی کوٹی ریذیڈنسی سے منسلک اس کے موجودہ مقام پر منتقل کردیا گیا۔
 اپنے ساتھیوں کو رہا کرنے کے لئے جسے انگریزوں کے ذریعہ منصفانہ مقدمہ چلائے بغیر غداری کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔

طوری باز خان اپنے ساتھیوں سمیت ایک مقابلے کے بعد گرفتار ہوا اور حراست میں لے کراسے جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ ایک سال کے بعد ، وہ فرار ہوگیا ، اور پھر حیدرآبادسے 60 کلومیٹردور، طوپران کے جنگل سےوہاں کے تعلقہ دار  قربان علی بیگ ، کے ھاتھوں مخبری پر  پکڑا گیا۔ 
طوری باز سے پوچھا گیا کہ کیا اُس کی بوڑھی ماں کی اُس کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ؟
طوری باز نے جواب دیا،  مادر ملت اُس کی والدہ سے زیادہ اہم ہے۔ اگر وہ مارا گیا تو دنیا اسے یاد رکھے گی۔  قربان علی بیگ کو کوئی بھی یاد نہیں کرے گا۔  

طوری باز خان کو قید میں رکھا گیا 

 پھر اسے گولی مار کر اُس کی لاش کو شہر کے وسط میں لٹکا دیا گیا تاکہ مزید سرکشی کو روکا جاسکے۔

تیلگو زبان میں اِس پر ایک فلم طرّم خان بھی بنی ہے ۔


٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

 

 

 

 

بدھ، 23 ستمبر، 2020

انڈس کوئین یا ستلج کوئین

ضلع راجن پور کے شہر کوٹ مٹھن سے اگر چاچڑاں شریف کی جانب جائیں تو بے نظیر برِج پر چڑھنے سے پہلے دائیں ہاتھ پر ایک کچا راستہ مڑتا ہے - جہاں دریا پار کرنے کے لئے ایک عارضی پل قائم تھا۔ اِس پُل کے نزدیک حفاظتی بند کے ساتھ ایک حیران کُن منظر آپ کو اپنی جانب متوجہ کرے گا۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے یہاں ماضی میں کوئی بحری جنگ لڑی گئی ہو اور دشمن اپنے جہاز چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہو۔ یہاں آپ کو لہلہاتے اور سر سبز کھیتوں کے کنارے کیچڑ میں دھنسا ہوا ایک دیو ہیکل لوہے کا بحری جہاز نما ڈھانچہ نظر آئے گا،
یہ "انڈس کوئین" ہے۔ سابقہ ریاست بہاول پور کا "ستلج کوئین" جس سے کچھ دور ایک سٹیمر اور دو کشتیاں بھی اپنی بے بسی پر نوحہ کناں ہیں۔
اس کی مکمل تاریخ کے لیئے ہمیں ماضی کا چکر لگانا ہو گا۔ برِصغیر میں جب برٹش راج قائم ہوا تو سندھ سے پنجاب تک پُختہ سڑک اور ریلوے لائن نہ ہونے کی وجہ سے انگریزوں نے سامان و اجناس کی نقل وحمل کے لئے دریائے سندھ میں دُخانی جہاز متعارف کروائے-
 دریائے سندھ کی روانی کا فائدہ اٹھا کر اِن جہازوں کے ذریعے صوبہ سندھ اور پنجاب کے بیچ تجارت کو فروغ دیا گیا۔ 
حیدر آباد میں گدو بندر بھی دراصل دریائے سندھ پر موجود ایک بندر گاہ تھی جہاں ''انڈس فلوٹیلا کمپنی'' کے دُخانی جہاز لنگر انداز ہوتے تھے- کراچی سے سامان حیدراباد کے گدو بندر بھجوایا جاتا جہاں سے اس سامان کو دخانی جہازوں میں لاد کر پنجاب اور لاہور تک پہنچایا جاتا-
ریلوے لائن بِچھانے کے بعد پہلا ریلوے انجن بھی کراچی سے حیدر آباد اور پھر وہاں سے انڈس فلوٹیلا شپ کے ذریعے لاہور پہنچایا گیا تھا۔ یہ دریائی سفر ایک سُست رفتار اور لمبا سفر تھا۔ کراچی بندر گاہ سے یہ سٹیم انجن پہلے دریائے سندھ کے مغرب میں واقع شہر کوٹری لے جایا گیا اور وہاں سے اسے انڈس فلوٹیلا کمپنی کی کشتی پر منتقل کر دیا گیا جس نے اسے لاہور تک پہنچانا تھا۔
دریائے سندھ اور دریائے چناب سے ہوتے ہوئے یہ کشتی 34 روز میں ملتان پہنچی۔ ملتان سے لاہور تک کا سفر کچھ جلدی طے ہوگیا اور بالآخر وہ دن آگیا جس کا لاہور کے باسیوں کو شِدت سے انتظار تھا۔ کشتی دریائے راوی کی لہروں پر سوار لاہور میں داخل ہوئی۔ لاہور میں دریائے راوی کے کنارے پر کشتی سے اس ریلوے انجن کو اتارا گیا اور اسے شہر (چوبرجی کے مقام پر) میں لایا گیا ، جہاں معززینِ شہر اور عوام کی ایک بڑی تعداد جمع تھی۔ لاہور میں یہ انجن بیل گاڑیوں کی مدد سے گھسیٹ کر ریلوے اسٹیشن تک پہنچایا گیا تھا۔
لگ بھگ اسی دور میں دریائے سندھ کے بڑے معاون دریا ستلُج میں بھی ایک عظیم الجُثہ بحری جہاز کا راج تھا ۔ یہ ریاست بہاولپور کے نواب کا ستلج کوئین تھا۔ ستلج کوئین نواب آف بہاولپور نواب صادق خان عباسی پنجم کی ملکیت تھا جسے لگ بھگ 1867 میں بنایا گیا تھا۔
قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء میں سندھ طاس معاہدے پر دستخط کئے گئے جس کے تحت تین دریا ستلج ، بیاس اور راوی بھارت کے حوالے کر دیئے گئے تو ستلج کی گود سونی ہو گئی ۔ 
ادھر ریاستِ بہاولپور کے پاکستان میں ضم ہونے کے بعد نواب صادق خان عباسی نے پانی میں چلنے والا یہ جہاز ’’ستلج کوئین‘‘ حکومت پاکستان کو دے دیا۔ ستلج کوئین کو حکومت پاکستان نے ''غازی گھاٹ'' پر منتقل کیا اور اسے ڈیرہ غازی خان اور مُظفر گڑھ کے بیچ دریائے سندھ میں چلانا شروع کر دیا۔
سِندھو ندی میں آنے کے بعد یہ ستلج سے ''انڈس کوئین'' ہو گیا۔ غازی گھاٹ کے مقام پر پانی کے تیز بہاؤ کے پیشِ نظر انڈس کوئین کو 1996ء میں کوٹ مٹھن منتقل کر دیا گیا-
 جہاں یہ مِٹھن کوٹ سے چاچڑاں کے درمیان پوری شان و شوکت سے چلتا رہا حتیٰ کہ 1996ء میں ہائی وے ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب کی عدم توجہی کا شکار ہو کر چلنے کے قابل نہ رہا اور تب سے لے کر اب تک دریائے سندھ کے کناروں سے بھی دور میدانوں میں پڑا ہے۔
مقامی افراد کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ وہ جہاز ہے جِسے نواب آف بہاول پور، نواب صُبحِ صادق نے حضرت خواجہ غلام فریدؒ کو تحفہ میں دیا تھا۔ فرید کی نگری (کوٹ مٹھن) اور چاچڑاں شریف کے درمیان ٹھاٹھیں مارتا دریائے سندھ بہتا ہے جس کی وجہ سے خواجہ صاحبؒ سے ملاقات کرنے والے مریدین کو دشواری پیدا ہوتی تھی اور خواجہ صاحبؒ کو بھی چِلہ کشی کے لیئے روہی (چولستان) جانا پڑتا تھا اس لیے نواب آف بہاول پور نے یہ بحری جہاز خواجہ صاحبؒ کو تحفتاً دے دیا تھا جو کافی عرصہ استعمال میں رہا۔ اس جہاز نے اپنا آخری سفر 1996 میں کیا۔
اس جہاز کے تین حصے تھے۔
 نیچے والے حصے میں انجن، جنریٹر اور اوپر ملازمین کے کمرے تھے۔ درمیانی حصہ مسافروں کے بیٹھنے کے لیے تھا، ایک حصہ عورتوں اور ایک مردوں کے لیے مختص تھا۔ درمیانی حصہ کے اوپر لوہے کی چادر کا شیڈ بنا ہوا ہے، اور شیڈ کے اوپر سب سے اوپر والے حصہ میں مسافروں کے لیے ایک چھوٹی سی مسجد اور سامنے والے حصہ میں بالکل آگے کپتان کا کمرہ بنایا گیا تھا جس میں جہاز کو چلانے والی چرخی لگی ہوئی تھی جو جہاز کی سمت کا تعین کرنے میں استعمال ہوتی تھی ۔ 
تین منزلہ اس جہاز میں ایک ریستوران بھی تھا جس سے بیک وقت 400 مسافروں کو کھانا پیش کیا جاتا تھا۔ قریباً پینتالیس سال پہلے اس جہاز میں آگ لگنے کے باعث یہ سہولت ختم کر دی گئی۔
2010 کے سیلاب میں پانی اس جہاز کے اوپر سے گزر گیا اور یہ جہاز کیچڑ سے لت پت ہو گیا اب بھی اس کا انجن کیچڑ سے ڈھکا ہوا ہے۔ خانوادہِ فریدؒ سے تعلق رکھنے والے مذہبی اور سیاسی رہنما خواجہ عامر فرید کہتے ہیں،
" ہم نے ریاست بہاولپور کی یادگاروں، بہاولپور ریاست کے عوام، ریاست کے آثار قدیمہ، ریاست کی تاریخی عمارتوں اور اداروں کے ساتھ جو امتیازی سلوک روا رکھا ہے، اس کی ایک مِثال انڈس کوئین ہے جسے مکمل بے پروائی کے ساتھ نظر انداز کر دیا گیا ہے۔"
(مریدوں سے ملنے والی آمدنی اِس پر لگائی جائے ) 

بے نظیر برج کے بعد اب مسافروں کی منتقلی کے لئے اس جہاز کی ضرورت تو نہیں رہی لیکن دوبارہ مرمت کر کہ اِس کو سیاحوں کی سیر کی غرض سے سِندھو ندی میں چلایا جا سکتا ہے۔ یا پھر دریا کنارے لنگر انداز کر کہ تھوڑا سا سرمایہ خرچ کر کہ اسے ایک خوبصورت ریسٹورنٹ میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ سوچیں کتنا خوبصورت منظر ہوگا جب رات کو دریائے سندھ کے پانیوں میں روشیوں میں نہائے انڈس کوئین ریسٹورنٹ کا عکس پڑے گا۔ اور میں وثوق سے کہتا ہوں کہ یہ جہاز اگر لاہور میں ہوتا تو آج جگمگ کرتا پانیوں میں چلتا ایک خوبصورت بوٹنگ ریسٹورنٹ ہوتا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قیمتی تاریخی ورثے کو برباد ہونے سے بچایا جائے۔اسے بحال کیا جائے اور سیاحت کے فروغ کے لئے استعمال کیا جائے۔ ورنہ آج سے چند سال بعد اسکا ڈھانچہ بھی ناکارہ قرار دے کر سکریپ کے طور پر بیچ دیا جائے گا۔
 
 

ہفتہ، 19 ستمبر، 2020

ذہنی سکون کے لئے آسان مراقبہ

ایک انسان کے لئے موجودہ شور وغوغا کی زندگی میں ذہنی سکون سب سے اہم ہے - 

مراقبہ -روشنی کا سفر ، اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔

 بہت سے احباب نے پوچھا ،، ہم ، آسان  مراقبہ کرنا چاہتے ہیں روشنی کا مراقبہ ہمارے لئے مشکل ہے کیوں کہ ہم دوسرے مرحلے تک بھی نہیں پہنچ پاتے ۔

کیا کوئی ایسا طریقہ ہے کہ جس سے ہم ذہن کا سکون حاصل کر سکیں ؟

  جی کیوں نہیں ؟ 
آئیں ہم آپ کو سب سے آسان مراقبہ سکھاتے ہیں ۔   

 ٭٭٭٭

اِس مراقبے میں آپ خود اپنے ٹیچر ہیں ۔ لیکن اِس کی ٹیکنیک آپ کو سمجھنا ہوگی -
جس میں سب سے اہم آپ کے دماغ کی لہروں کی توانائی  کے اتار چڑھاؤ کو اِس چارٹ کی مدد سے سمجھنا ہو گا ۔

شور اور غوغا کی دنیا  میں کسی بھی پوزیشن میں  بیٹھ کر  ، بالکل  پرسکون  رہ کر ،پورے جسم کوڈ ھیلا چھوڑ دیں-
   پہلے دو منٹ  ، اپنی سانسوں کو ایک ردھم میں لائیں، جس رفتار سے سانس لیں اسی رفتار سے نکالیں -

 دو منٹ کا یہ دورانیہ آپ بے شک  اپنی گھڑی سے دیکھیں  اور سانسوں کے اندر لینے اور باہر نکالنے  کو ریگولیٹ کریں ، ٹھیک دو منٹ، آرام سے اپنی آنکھیں موند لیں  اور    ۔۔۔

  ارتکاز (Attenuation) کے عمل کے لئے مشق :

   اُس کے بعد اپنے سانس کے ردھم کے ساتھ سانس باہر نکالتے وقت، اب اگلے دو منٹ یہ   لفظ ،  نیر   دماغ میں  اِس طرح کہیں-

ررر ن ی ی ی ی   ر 
اور   کئی بار دھرائیں۔

ن ی ی ی ی  ر  ررر- ن ی ی ی ی  رررر   -ن ی ی ی ی  رررر -ن ی ی ی ی  رررر - 

  ذہن میں تصّور کریں کہ یہ لفظ ادا کرتے وقت آپ کا ذہن تمام دنیاوی خیالات سے خالی ہو رہا ہے ۔ 

اور باہر کی تمام آوازیں آپ کے کان میں آنا بند ہورہی ہیں ، یہاں تک کہ آپ کے جسم پر محسوس ہونے والی ہوا کی سرسراہٹ بھی ختم ہو رہی ہے ۔ اچھا یہ آپ نے محسوس نہیں کرنا  سوچنا نہیں ۔ 

یاد رہے کہ اِس مراقبے میں سوچ کا کوئی دخل نہیں ۔ 

جسے ہم کچی نیند یا غنودگی کہتے ہیں وہ مراقبے کی سٹیج ہے ۔

لہذا ، آپ کے دماغ  کی لہریں  4 ہرٹز سے نیچے نہ جائیں ورنہ آ پ کو  کچی نیند  سے گہری نیندآجائے گی - 

 20 منٹ کا مراقبہ شروع کرنے سے پہلے ۔خود کو یہ ہدایت دیں :

٭- میرا یہ عمل 20 منٹ کا ہے ۔ٹھیک 20 منٹ بعد میری آنکھ خود بخود کھل جائے گی ۔

 شروع میں  20 منٹ میں کئی دفعہ ، مخُتلف وقفوں سے آپ  مراقبے میں جائیں گے اور واپس آجائیں گے، خیالات آپ کو لازماً تنگ کریں گے، مگر  پریکٹس کے ساتھ یہ ختم ہو جائیں گے۔لیکن گھبرائے مت آپ کو اوپر دئیے ہوئی ہدایات یاد کرنا ہوں گی، آہستہ آہستہ آپ کا یہ دورانیہ بڑھتا جائے گا اور بالآخر آپ 20منٹ تک  مراقبے میں رہیں گے-بستر پر لیٹ کر یہ عمل نہ کریں -

 ٭٭٭٭٭٭٭

   زندگی کا فن- سائنسی حقیقت 

  روشنی کے سفر میں داخل ہونے کا پہلا  مرحلہ - 



جمعہ، 18 ستمبر، 2020

سریا خریدتے وقت فراڈ سے کیسے بچیں.؟

  
سب سے پہلے تو یاد رکھیئے کہ جِس سریے پر چھوٹی چھوٹی شاخیں سی نِکلی ہوں گی، جان لیجیے کہ وہ سریا کچرے سے بنا ہُوا ہے وہ ہرگِز مت خریدیں!
اِس کے علاوہ سریے کی ہر لینتھ کے اوپر ایک کونے پر اسکی تفصیل لکھی ہوتی ہے اسے غور سے پڑھیں کیونکہ 60 گریڈ کا سریا 40 گریڈ کے سرہے سے مہنگا ہوتا ہے تو کہیں ایسا تو نہیں کہ آپکو 60 کا بتا کر 40 پکڑایا جارہا ہے،،
نوٹ آجکل 60 گریڈ کا ریٹ 116 تک اور 40 گریڈ 108 تک ہے
 سریے کا وزن کیسے جانچا جائے ؟
آئی ایس او - سٹینڈرڈ

 پاکستان سٹینڈرڈ-
پاکِستان میں 3 سُوتر سے 8 سُوتر تک کا سریا استعمال ہوتا ہے!
ان میں سے بھی عام گھروں میں3اور4 سوتر ہی زیادہ استعمال ہوتا ہے، 3اور4 سُوترکا سریا چھت، سیڑھی، چھوٹے کالمز، چھوٹے بیمز وغیرہ میں جبکہ بڑے بیم یا بڑے کالمز میں 6 سُوتر کا سریا اِستعمال ہوتا ہے-
 
اب آپ جب بھی سریہ خریدیں تو وزن کرا لینے کے بعد اس کی لینتھ گِنیں-
مثال کے طور پر آپ 4 سُوتر کی 10لینتھ لیں ہیں - 
جن میں سے ہر ایک کی لمبائی 40 فٹ ہے، ان کے وزن کا کلیہ/فارمولا آپکے پاس موجود ہے 12.08x10 = 121کلو۔
اب اگر یہ 120.800 کلو ہے پھر تو ٹھیک ہے -
 اس میں زیادہ سے 1 سے 2 کلو فی 100 کلواوپر نیچے ہوجانے کی رعایت موجود ہے (وجہ سریے کے بناؤ اور پڑے پڑے تھوڑا زنگ لگ جانے کی صُورت میں معمولی وزن کا کم ہونا) لیکن اگر 4 سوتر کی  40فُٹ 10 لینتھ کا وزن 100کلو بن رہا ہے-
تو سمجھ جائیں آپکو 20 کلو یعنی 40 فٹ کے ایک سریئے کا چُونا لگایا جارہا ہے!
 اِس فیکٹری کے بنے ہوئے سریئے مت لیں!
لہذا فیکٹری کے فراڈ کو پہچانیں ۔ شکریہ

 

ہفتہ، 12 ستمبر، 2020

شگفتگو- رشتہ دار - ڈاکٹر شاہد اشرف

مجھے اندازہ لگانے میں دیر نہ لگی کہ کھوتا کھو میں گر گیا ہے . میں نے پوچھا تو حیرت سے بولا " کیسے معلوم ہوا ؟" "چرس پینے والا اپنے ہم ذوق کو پہچاننے میں دیر نہیں لگاتا ہے " میں نے جواب دیا تو فوراْ  گویا ہوا " ایک سگریٹ دو " "میں سگریٹ نہیں پیتا " میری بات سن کر کہنے لگا "مثال تو ایسے دی ہے جیسے بنا کر جیب میں رکھے ہوئے ہیں " میں نے بیرے کو بلا کر سگریٹ لانے کے لیے پیسے دیے اور چائے پینے لگا.
" اگر وہ نہ ملی تو میں مر جاؤں گا "
کون ہے ؟
رشتے دار ہے .
تیرےابّا کو پتا ہے ؟
نہیں !
تیرا رشتہ مانگنے میں جاؤں ؟
اسی بارے مشورہ کرنے آیا ہوں .
 اپنے ابّا سے بات کر.
کوئی فائدہ نہیں ہے
کیوں ؟
"گزشتہ دو ہفتوں سے گھر میں عطا اللہ عیسٰی خیلوی کے گانے سُن رہا ہوں. کسی نے توجہ نہیں دی ہے. "
عطا اللہ عیسٰی خیلوی کا اپنا کیس بہت کمزور ہے. تُو گانے سن کر مزید مشکل میں پڑ جائے گا.
کوئی ملاقات ہوئی ہے ؟
اُس کا ابّا ٹوکے سے کاٹ دے گا.
پھر میں تیری کوئی مدد نہیں کر سکتا, میں نے حتمی جواب دیا.
"تُو میری شاعری کی اصلاح کر سکتا ہے. "
یار!  تیری شاعری میں نے سُنی ہے, یہ بہت مشکل فن ہے, زندہ شعر کہنے کے لیے مرنا پڑتا ہے.
"میں نے ڈیڑھ سو غزلیں کہی ہیں. "
میں مثال دینا چاہتا تھا مگر ڈیڑھ سو کی بات سُن کر سر کھجانے لگا.

اگلی ملاقات میں اُس نے بتایا کہ رشتہ دار کی منگنی ہو گئی ہے.  اُس کا منگیتر میرا چچا زاد ہے, میں اسے جان سے مار دوں گا.
"تیرے چچا زاد کا کیا قصور ہے ؟" میں نے پوچھا
وہ سوچ میں پڑ گیا اور بولا " یہ رشتہ میرے ابّا نے کروایا ہے "
"ظاہر ہے تُو اپنے ابّا کو جان سے نہیں مارے گا. تُو نے اپنے ابّا کو نہیں بتایا تھا ؟"
"عاشق صادق اپنے دل کی بات کسی کو نہیں بتاتا ہے." اُس نے دو ٹوک موقف بیان کر دیا.
"اچھی بات ہے, اب ایسا کرو کہ چچا زاد کا سہرا لکھ دو "
چچا زاد جانتا ہے کہ میں شاعر ہوں. اُس نے مجھے سہرا لکھنے کے لیے کہ دیا ہے.
میرا ہاسا نکل گیا.
سہرا لکھنے کے ساتھ رخصتی بھی لکھ دو . آخر رشتہ دار ہے.
مذاق نہ کر, کچھ نہ ہوا تو میں جان دے دوں گا.
یہ تُو بات بہ بات پر جان دینے کے لیے کیوں تیار ہو جاتا ہے.
اور کیا کروں ؟
غور کر, غور کر, مسئلے کا حل کیا ہو سکتا ہے ؟
میں نے سوچ لیا ہے کہ شادی میں نہیں جاؤں گا.
اگر تُو شادی میں نہ گیا تو ایک اہم مرحلہ طے نہیں ہو گا.
وہ کیا ؟ اُس نے حیرت سے پوچھا.
نکاح نامے پر بطور گواہ دست خط کون کرے گا.
سخت مشکل کے باوجود وہ ہنس پڑا اور اپنی تازہ غزل سنانے کے لیے مجھے متوجہ کرنے لگا.

٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭

شگفتگو- بجٹ اور علمِ نجوم - آصف اکبر

https://www.youtube.com/watch?v=A-f_ppxuDfQ&list=PLzcKFFkG4lWMunvQ3Y0egUKZRB24D9cD4&index=4&t=253sکل (7 ستمبر 2020 کو) میرے چھوٹے بیٹے انس کا ابوظہبی سے فون آیا۔ خیر خیریت کے بعد اس نے مجھے بتایا کہ اسے آسٹریلیا سے واپس آئے  ایک ہفتہ ہو چکا ہے۔ یہ ایک ہفتہ اس نے اپنے گھر پر ہی قرنطینہ میں گزارا ہے۔ اور ابھی  ایک ہفتہ اور  اسے قرنطینہ میں رہنا ہے۔
مجھے ہنسی آئی۔ اسے سڈنی میں ایک ہفتے کا کام تھا۔ لیکن وہاں پہنچنے کے بعد دو ہفتے قرنطینہ میں رہنا پڑا۔ ہفتہ دس دن میں اس نے اپنے کام کیے۔ اس طرح ایک ہفتے کے کام کے لیے اسے 35 دن کی چھٹّی لینی پڑی۔
لیکن، اس نے بتایا کہ، اس کے مینیجر نے صرف 8 دن کی چھٹی گنی اور باقی دنوں کی حاضری لگا دی۔  اس طرح اسے چار ہفتے کی تنخواہ سے محروم نہیں ہونا پڑا۔
میں نے پوچھا تمہارے پاس ایسی کون سی جادو کی چھڑی ہے جو تمہارا مینیجر تم پر اتنا مہربان ہے۔ اب تو تمہاری شادی بھی ہو چکی ہے اور اس بات کا بھی اندیشہ نہیں کہ مینیجر کو کوئی امکانی داماد نظر آ رہا ہو۔
اس سے پہلے، جب اس کی شادی نہیں ہوئی تھی،    کبھی ایسا بھی  ہوتا تھا کہ  وہ پاکستان ایک ہفتے کے لیے آتا تھا تو ہیومن ریسورس ڈپارٹمنٹ والیاں  اس کی تین دن کی چھٹی لگا دیتی تھیں۔
پھر اس کی شادی ہو گئی۔ یوں تو ایک در  بند ہوتا  ہے تو ہزار در کھلتے ہیں۔ جہاں در ہی کم ہوں وہاں سو   در کھلتے ہیں۔  مگر شادی ایسا   در ہے  کہ ایک در کھلتا ہے تو ہزار بند ہو جاتے ہیں، اور مردِ بیچارہ اسی ایک در کی دربانی کرتا رہ جاتا ہے۔
تو پھر اس مہربانی کی وجہ؟ میں نے پوچھا۔
یہ نوجوان ایک پلانٹ سیفٹی انجینیرنگ کنسلٹنٹ ہیں۔ اور سیفٹی کے لوگوں کو عوام اتنا ہی پسند کرتے ہیں جتنا اسکول کے بچے گیٹ کے چوکیدار کو۔
اس نے کہا میں نے یہ تیر مارا اور وہ تیر مارا۔ لاک ڈاؤن کے دنوں میں کمپنی کے چھ ملکوں  کی آپریشنز کی زیادہ سے زیادہ گھر سے کام کرنے کے ہدف کی پلاننگ کی۔ اور  اب تو بجٹ بنانے کا کام بھی مجھے دے دیا گیا ہے۔ اس لیے میرے مینیجر نے  چونکہ مجھ سے آن لائن کام لیا تھا،  اس کے عوض مجھے آن ڈیوٹی شمار کیا۔
اس پر میں نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا۔ خیر فلک کا تو کچھ نہیں بگڑا اس قہقہے سے۔ ویسے بھی اسے مجھ سے ایسی ہی توقع رہتی ہے۔
مگر نوجوان ضرور حیران ہوا کہ  اس میں ہنسنے اور وہ بھی ایسا ہنسنے کی کیا بات ہے۔
میں نے کہا بیٹا اگر بجٹ بنانے کی ذمّہ داری لے ہی لی ہے تو علم نجوم بھی سیکھ لو۔
اس پر اس نے بھی ایک قہقہہ لگایا اور بولا جی مجھے بھی اس بات کا احساس ہو رہا ہے۔
میں نے کہا کہ میں نے بھی اپنی ملازمت کے آخری پانچ چھ سال یہ ناخوشگوار فریضہ انجام دیا ہے اپنے ڈپارٹمنٹ کا بجٹ بنانے کا۔ اور انسان چاہے کچھ کر لے جب تک نجومی نہ ہو کبھی ایک کامیاب   بجٹ نہیں بنا سکتا۔ کسے خبر کل کسے کس چیز کی ضرورت پڑ جائے۔ اسی لیے  ہر بجٹ میں ایک خطیر رقم  اضطراری کیفیات کے لیے رکھی جاتی ہے۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ نے بجٹ میں رقم نہیں رکھی اور  اس چیز کی ضرورت پڑ جائے تو بجٹ بنانے والے کی شامت۔   اور اگر آپ نے رقم رکھ دی ہے اور ضرورت نہ پڑی تو بھی شامت۔ مثلاً بارش سے احاطے کی دیوار گر پڑی تو اس کی مرمّت کے لیے بجٹ میں پیسے کون پہلے سے رکھ سکتا ہے۔
مسئلہ سارا جب پیدا ہوتا ہے جب  انتظامیہ اچانک کوئی بڑا فیصلہ کر لے یا اسے کرنا پڑ جائے۔ جونیجو صاحب کی حکومت آئی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ تمام سرکاری افسران سے بڑی کاریں واپس لے کر ان کو 600 سی سی کی سوزوکی کاریں دی جائیں۔ سرکاری تالیاں بجانے والوں نے تو سماں باندھ دیا۔ مگر بجٹ ہر جگہ کم پڑ گیا۔ایک کار کی  قیمت شاید کسی بھی زمانے میں  افسر کی ایک سال کی تنخواہ سے  کم نہ رہی ہو۔ اب بیچارے بجٹ بنانے والوں کو کیا خبر تھی کہ یہ نئی افتاد آ پڑے گی۔
ہم کو جب بجٹ بنانے کا کہا گیا تھا تو ایک سال کا نہیں تین سال کا بجٹ بنانا تھا۔ اور بجٹ بھی اپنے ڈپارٹمنٹ کا بنانا تھا۔ یعنی یک نہ شد سہ شد۔ اور سونے پر سہاگہ یہ  کہ زیادہ تر اخراجات ایسے تھے جن کے بارے میں نجومی بھی زائچہ بناتے ہوئے گھبرائے۔ جیسے کاغذ  اور پرنٹر  کا خرچ۔ اب ٹریننگ کے بزنس میں کاغذ تو ایک بڑا خرچ ہوتا ہے۔ تو یہ بات تو نجومی بھی  نہیں بتا سکتا تھا کہ آنے والے تین سالوں  میں کتنے لوگ ٹریننگ کے لیے آئیں گے اور آئیں گے بھی یا نہیں، کیونکہ جب کبھی اخراجات میں کمی کی کوئی مہم چلتی ہے تو اس کا پہلا شکار ٹریننگ کے اخراجات ہی ہوتے ہیں۔ اور یہ بھی کوئی نجومی نہیں بتا سکتا تھا کہ کب کوئی پرنٹنگ مشین خراب ہو جائے گی اور نئی لینی پڑے گی۔
ویسے تو سائنس اور  ٹیکنالوجی نے بڑی حد تک نجومی کی جگہ لینے کی کوشش کی ہے۔ مثلاً اگر آپ کسی ماہر شماریات کو جنوری سے جون تک زمین کے  روزانہ کے درجہ حرارت کے  اعداد و شمار دے دیں اور کہیں کہ بتاؤ تین سال بعد زمین  کا درجہ حرارت  کتنا ہوگا تو  وہ بڑی صحت کے ساتھ آپ کو بتا سکتا ہے کہ تین سال بعد اوسط درجہِ حرارت دو سو ڈگری سینٹی گریڈ ہوگا۔ لیکن ہم اتنے بھی ٹیکنالوجی پرور نہیں تھے۔ سو کام اپنے بجٹ خیز ذہن سے ہی لیتے رہے۔
اس ضمن میں آسان طریقہ تو یہی تھا کہ توپ کا لائسنس  مانگو تو پستول کا ملے گا۔ یعنی آپ بجٹ میں ہر امکانی خرچ ڈال دیں۔ اب منظور کرنے والوں کی مرضی منظور کریں یا نہ کریں۔ لیکن ایک لطیفہ اس ضمن میں بھی ہوا۔
ہمارے پاس ایک ڈرلنگ سیمولیٹر تھا۔ وہ ہو گیا خراب۔ اور تھا اتنا پرانا کہ ٹھیک کرنے سے خود بنانے والوں  نے انکار کر دیا تھا۔  یہ شاید 2000 کی بات تھی جب لاکھ روپے بھی بڑی بات ہوتے تھے اور اس سیمولیٹر کی قیمت پاکستانی رپیوں میں 3 کروڑ بنتی تھی۔   سو ہم نے یہ رقم بجٹ میں ڈال دی۔ جب بجٹ پر غور و خوض ہونے لگا تو معاملہ فہم نظریں  اس تین کروڑ پر پہنچ کر رک گئیں۔
محکمہ خزانہ  کے کرتا دھرتا نے ہم سے پوچھا کہ یہ اتنی بڑی رقم تین کروڑ؟ شاید ان کو یقین تھا کہ ہم نے غلطی سے تین لاکھ کی جگہ تین کروڑ لکھ دیا ہے۔ ہم نے کہا جی ہاں جناب  یہ مشین اتنی ہی قیمت کی آتی ہے۔ کہنے لگے اس کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔ ہم ہم نے ان کو یقین دلا دیا کہ اس سے بغیر بالکل کام نہیں چل سکتا تو انہوں نے ایک نیا شگوفہ چھوڑا۔ فرمانے لگے ایسا کرتے ہیں ڈیڑھ کروڑ  اس سال کے بجٹ میں رکھ دیتے ہیں اور ڈیڑھ کروڑ آئندہ سال کے بجٹ میں۔ ہماری تو ہنسی چھوٹتے چھوٹتے رہ گئی۔ ہم نے عرض کیا کہ جناب کیا یہ ممکن ہے کہ آپ آدھا ہوائی جہاز اس سال خریدلیں اور آدھا آئندہ سال تو وہ بھی سوچ میں دھنس گئے۔ اور پھر پرنالہ  وہیں گرا کہ بجٹ  میں یہ آئٹم نامنظور۔ اور پھر وہ چیز کبھی خریدی ہی نہیں گئی۔
بہرحال جو ہوا  اچھا ہوا۔ اس کے چار سال بعد ہم نے وہ ملازمت چھوڑ کر اپنی ایک کمپنی بنا لی تو اس سمولیٹر کا نہ خریدا جانا ہمارے لیے بہت فائدہ مند ہوا۔ اور ہم  نےاسی چیز کی تربیت ایک غیر ملکی کمپنی کے تعاون سے فراہم کر کے بہت اچھا کاروبار کیا۔
ویسے لوگ گھر کا بجٹ بھی بناتے ہیں مگر ہم نے یہ بجٹ ہمیشہ فیل ہی ہوتے دیکھا ہے۔ گھر کا بجٹ بنانا دبلا ہونے کا ایک اچھا طریقہ ہے کیونکہ اس صورت میں آپ  قاضی شہر بن جاتے ہیں۔ سیدھی سی بات ہے نہ آمدنی بڑھانا آپ کے اختیار میں ہوتا ہے نہ اخراجات کم کرنا۔ کم کرنا تو بہت دور کی بات ہے اخراجات بڑھنے نہ دینا بھی ایک ناممکن بات ہوتی ہے۔ تو بجٹ بنانے کا مطلب آنے والی پریشانیوں کی پیشکی بکنگ کرنا ہی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں۔
اسی طرح لوگ ملک کا بجٹ بھی بناتے ہیں اور سادہ لوح اس کو غور سے سنتے اور پڑھتے بھی ہیں۔ ان کو یہ اندازہ کم ہی ہوتا ہے کہ بجٹ تو اصل بجٹ کا ضمیمہ ہی ہوتا ہے۔  اصل بجٹ تو ضمنی بجٹ کے نام پر یا گاہے بگاہے ٹیکس بڑھا کر ہی نافذ کیا جاتا ہے۔ یعنی قبلہ کو اہلِ نظر قبلہ نما کہتے ہیں۔
  ہاں گھریلو بجٹ کے مقابلے میں ملکی بجٹ بنانے والوں کے پاس آمدنی بڑھانے کا پورا اختیار ہوتا ہے۔ ملک کا بجٹ بنانا نسبتاً آسان ہے اور اس کے لیے علم نجوم کی قطعاً ضرورت نہیں ہوتی، اس لیے ملکی بجٹ ہم تو کیا کوئی بھی وزیرِ خزانہ آسانی سے بنا سکتا ہے۔ بس اس  کی جبلّت مویشیوں والی ہونی چاہیے، یعنی جہاں ذرا سی گھاس اگنی شروع ہوئی فوراً اس پر منہ مارا اور جڑ تک کھود ڈالی۔
ویسے ہم ہمیشہ حیران ہوتے ہیں کہ علم نجوم ہمارے یہاں تعلیمی اداروں میں کیوں نہیں پڑھایا جاتا۔ حالانکہ ہمارے پاس اس شعبے کے عالمی سطح کے ماہرین موجود ہیں۔ جنتر منتر کے ہم یوں تو ہزاروں برسوں سے دھتی رہے ہیں مگر اب منتریاں حکومت کے قبضے میں چلی گئیں  اور جنتریاں ہمارے لیے رہ گئیں۔ ہم جنتریاں تو بچپن  سے دیکھتے آئے ہیں، منتریوں کو بڑے ہو کر دیکھنا پڑا۔  تو جب ہم ایسی ایسی مستند جنتریاں  وجود میں لا سکتے ہیں تو ایک نجوم یونیورسٹی کیوں نہیں بنا سکتے جس  سے علم نجوم کے پی ایچ ڈی پیدا ہوں اور بجٹ سیکشنز کے سربراہ بنیں۔
------------------
آصف اکبر
------------------

٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭

شگفتگو- خرّاٹے اور غرّاٹے

آصف اکبر سے فون پر خیرو خیریت  کے لئے رابطہ کیا  حالاتِ حاضرہ  و ناظرہ کے بعد  طبیعاتِ عمر رسیدگی و بوسیدگی کا باب کھولا ، اُنہوں نے مشورہ دیا  کہ بہتر ہے الگ کمروں میں سویا جائے ۔  تاکہ طعنے  اور غراہٹ نہ سننی پڑیں :

کیا بچوں کی طرح کان میں  ہیڈفون لگائے سن رہے ہیں ؟
آپ کے لیپ ٹاپ کی روشنی ، سے نیند خراب ہوتی ہے!
کیا آپ خاموشی سے ٹائپ نہیں  کر سکتے جو ٹائپ رائٹر کی طرح کھڑ کھڑ ا رہے ہیں ؟
یہ آدھی رات کو کِس  سے گپیں لگ رہی ہیں ؟
بھائی کیوں دشمنی کرنے پر تلے ہو ؟ اِس عمر میں الگ کمرے  میں سونے کا مطلب تو یہ ہے کہ صبح ہی معلوم ہو کہ بوڑھا ، دارِ فانی سے کوچ کر گیا ہے   یا بڑھیا   -
رات کو کم از کم ، ایک دوسرے پر نظر تو ڈال لیتے ہیں کہ سانس چل رہی ہے یا نہیں !
ویسے بھی اِس عمر  میں ویسے ہی سانس سے زیادہ خراٹے زندگی کا ثبوت دیتے ہیں ۔
ایک دفعہ چم چم کو عدیس ابابا میں بوڑھے اور بڑھیا کے ساتھ سونے کا شوق چُرایا ۔ بڑھیا نے اپنے ساتھ سُلانے سے انکار کر دیا ۔کہ تم رات کو سوتے میں بہت اچھلتی ہو ۔ بوڑھے نے اپنے بیڈ کے ساتھ نیچے میٹرس بچھا لیا  تاکہ اگر بوڑھا گرے تو زیادہ چوٹ نہ آئے ، ویسے بھی اِس عمر میں ہڈیاں گورنمنٹ کے منصوبوں کی طرح جڑتی ہیں اور پائداری بھی نہیں ہوتی -
خیر چم چم بوڑھے سے نمو کے   بچپن کے قصے سنتے سنتے سوگئی اور بوڑھا چپکے سے میٹرس پر اتر کر سو گیا۔
صبح چم چم اُٹھی ، تو شکوہ کیا کہ وہ بہت ڈسٹرب نیند سوئی ، کیوں کہ  آپ دونوں بہت زور سے سنورنگ کرتے ہیں -
ویسے آوا ، آپ نانو سے زیادہ سنورنگ کرتے ہیں  اور بابا  بہت  زو ر سے سنونگ کرتے ہیں ، کیوں؟ - چم چم نے پوچھا
" بات یہ  مردوں کے زور سے سنورنگ کرنے کی خاص وجہ ہے " بوڑھا بولا
وہ کیا ؟ - چم چم نے پوچھا
" آہ یہ ایک لمبی ، مزاحیہ اور درد بھری کہانی ہے ، کبھی وقت ملا تو سناؤں گا"۔ بوڑھے نے سسپنس پیدا کرتے ہوئے کہا ۔
"نہیں ابھی سنائیں " چم چم بولی ۔
" دن کو کہانی نہیں سناتے ، مسافر راستہ بھول جاتے ہیں " بوڑھا بولا
" آوا، آپ  کون سا مسافر کو کہانی سنا رہے ہیں ؟" چم چم نے جواب دیا
" سنا دیں نا کیوں تنگ کر رہے ہیں ؟" بڑھیا بولی
"اوکے " بوڑھابولا ۔
مائی سوئیٹ ھارٹ ، میرے جو سُپر گریٹ گرینڈ فادر تھے وہ غاروں میں رہتے تھےاور غار بھی خوفناک جنگلوں میں تھے  اور وہاں ہر قسم کے خوفناک جانور بھی تھے "
" آر یو شیور ؟ " چم چم بے یقینی سے بولی " آپ سچ کہہ رہے ہیں ؟"
" سو فیصد " بوڑھا بولا ۔
"تو چم چم ، میری جو سُپر گریٹ گرینڈمدر تھیں وہ  بہت ڈرتی تھیں - آپ کی نانو کی طرح "
" اچھا پھر؟" چم چم بولی
" تو ہوتا یہ تھا ، کہ رات کو غار کے دروازے کے باہر کوئی ، آواز آتی تو  میری  سُپر گریٹ گرینڈ مدر ، ڈر کرآواز نکالتیں ، آ آ آ آ ،  تو میرے  سُپر گریٹ گرینڈفادر اپنا ڈنڈا اُٹھا کر شور مچاتے باہر نکلتے اور کوئی بھی جانور وہاں ہوتا وہ ڈر کر بھاگ جاتا- " بوڑھا بولا ۔

"ان پر وہ جانور حملہ نہیں کرتا؟" چم چم بولی
" ارے نہیں ، پہلے تو وہ جانور سُپر گریٹ گرینڈ مدر کی آواز سے دبک جاتا اور پھر  سُپر گریٹ گرینڈفادر کے شور مچانے  اور ڈنڈے کے خوف سے بھاگ جاتا " بوڑھا بولا ۔
" اُس کے بعد وہ پھر آتا " چم چم نے پوچھا ۔
" بالکل " بوڑھا بولا " ساری رات  یہ تماشا جاری رہتا "
" لیکن اِس کا آپ کے سنورنگ سے کیا تعلق ؟؟" چم چم نے پوچھا
"بتاتا ہوں ، بتاتا ہوں "  بوڑھا بو لا -" اِسی لئے تو میں نے کہا تھا -یہ ایک لمبی ، مزاحیہ اور درد بھری کہانی ہے "
 " اچھا ، آگے سنائیں؟" چم چم بولی
" ہاں ، تو چم چم ۔ سُپر گریٹ گرینڈ مدر اور فادر کے بچے بڑے ہوتے گئے ، اُنہوں نے بھی رات کو یہ شور مچانا جاری رکھا -پھر اُن بچوں کے بچے ہوئے ،اُنہوں نے بھی رات کو یہ شور مچانا جاری رکھا -"
" یہ کتنے سال پہلے کی بات ہے ؟" چم چم نے پوچھا -
" تقریباً دس ہزار، چھ سوپینتیس سال ، آٹھ مہینے اور 15 دن پہلے  " بوڑھے نے بتایا -
" آوا ، آپ جوک کر رہے ہیں " چم چم بولی " میں نے آپ کے سنورنگ کا پوچھا ہے ۔ آپ کے سپر گریٹ گرینڈ فادر کی شاوٹنگ کا نہیں ، اُس سے کیا تعلق ہے ؟ "
" چم چم میں نے کہا ہے نا کہ یہ بہت لمبی ، مزاحیہ اور درد بھری کہانی ہے "بوڑھا بولا " اگر یہ کہانی سننا ہے تو صبر سے بیٹھنا ہوگا- ورنہ میں بوڑھا آدمی ہوں اور دماغ کمزور ہے کہانی بھول جاؤں گا  "
 " اوکے اب نہیں بولوں گی آپ سنائیں "چم چم بولی
" ہاں تو میں کیا کہہ رہا تھا؟ " بوڑھے نے چم چم سے پوچھا ۔
" آپ کے  گرینڈ فادر، شاوٹنگ کرتے تھے ؟" چم چم بولی
" میں نے ایسا تو نہیں کہا " بوڑھا بولا " میرے   گرینڈ فادر بالکل شور نہی ںکرتے تھے "
" اوہ سوری  سپر گریٹ گرینڈ فادر" چم چم بولی
" نہیں ، چم چم  میں نے شاید کہا تھا، سُپر گریٹ گرینڈ مدر اور فادر کے بچے بڑے ہوتے گئے ، اُنہوں نے بھی رات کو یہ شور مچانا جاری رکھا -پھر اُن بچوں کے بچے ہوئے ،اُنہوں نے بھی رات کو یہ شور مچانا جاری رکھا -"
" اوہ ، یس " چم چم بولی -
" ہاں تو پھر اُن کے بچوں ، کے بچوں ، پھر اُن بچوں کے بچوں   نے بھی رات کو شور مچانا شروع کیا اور یہ اُن کی عادت بن گئی۔  غاروں سے وہ درختوں پر سونے لگے ، لیکن  جب بھی رات کو گریٹ گرینڈ مدر ڈر کر شور مچاتی اور گریٹ گرینڈ فادر  نیند سے شور مچاتے اٹھتے  اور بعض دفعہ زمین پر گر جاتے اور ٹانگ ، ہاتھ ، بازو اور کبھی تو، اگر زیادہ اونچے درخت پر سوتے تو گردن تڑوا لیتے"
" اوہ مائی گاڈ ، وہ اپنے آپ کو باندھ کیوں نہیں لیتے ، تاکہ گریں نہیں" چم چم بولی
" سو انٹیلیجنٹ آئیڈیا چم چم  سو انٹیلیجنٹ"بوڑھا بولا " مجھے معلوم ہے کہ آپ جینئیس ہو ، شاباش ۔ تو گریٹ گر ینڈفادر  کی گریٹ گرینڈ ڈاٹر نے یہی مشورہ دیا - اُس کے بعد  ۔ گریٹ گر ینڈفادر نے یہ مشورہ سب قبیلے کو بتایا اور سب مردوں نے خود کو  رات کو درختوں سے خود کو باندھنا  شروع کر دیا -لیکن ایک پرابلم پیدا ہو گئی "
" وہ کیا ؟" چم چم نے پوچھا ۔
" صبح کے وقت کوئی گریٹ گر ینڈفادر ،   درخت سے الٹا لٹکا ملتا ، اور کبھی کمر کے بل بندھا لٹکا ہوتا "  بوڑھا  بولا -
" امیزنگ ، پھر تو بچے خوب ہنستے ہوں گے " چم چم ہنستے ہوئے بولی  " بڑا مزہ آتا ہوگا "
" وہ تو ٹھیک ہے " بوڑھا بولا " لیکن سب روتے بھی تھے ، جب کوئی گریٹ گر ینڈفادرگردن سے لٹکا ملتا"
" اوہ ، سو سیڈ ، تو وہ درخت پر گھر کیوں نہیں بنا لیتے " چم چم بولی " تاکہ ایکسیڈنٹس نہ ہوں "
" ایسا ہی ہوا " بوڑھا بولا " اُنہوں نے درختوں پر اپنی ہٹس بنانا شروع کر دیں "
" گریٹ ، اب تو وہ سیف ہو گئے ، تو پھر بھی شور مچاتے ؟" چم چم بولی
" یقیناً کیوں کہ ، پینتھرز اور چیتا تو درخت پرچڑھ سکتے ہیں " بوڑھا بولا " لہذا اِن درندوں کو ڈرانے کے لئے شور کا سلسلہ جاری رہا ۔ یعنی عورتیں ڈر کر چلاتیں اور مرد شور مچاتے "
" آوا ، جب لوگوں نے زمین پر گھر بنائے ، تو پھر اُنہوں نے درندوں کو بھگانے کے لئے شور مچانے کا سلسلہ ختم کر دیا ؟" چم چم نے پوچھا -
" چم چم، یہ بتاؤ کہ کیا یہاں کوئی شیر یا چیتا ہے " بوڑھے نے پوچھا -
" نہیں ، وہ تو  زو میں ہوتے ہیں " چم چم بولی
" تو تمھاری نانو ، ڈر کر کیوں چینختی ہیں ؟"بوڑھے نے پوچھا
" وہ تو ، کسی بھی چیز سے ڈر کرچینختی ہیں ؟ چم چم بولی " لیکن اِس کا سنورنگ سے کیا تعلق ؟"
" بہت گہرا تعلق ہے ، میری   جینئیس چم چم " بوڑھا بولا " آپ سوچو ؟"
" کیا ڈرنا ، نانو کی عادت بن چکی ہے ؟ " چم چم بولی
" نہیں رات کو سوتے میں ڈر کر شور مچانا " بوڑھا بولا -
" آپ کا مطلب رات کو سنورنگ کرنا " چم چم بولی
" ایگزیکٹلی ، یہ سنورنگ ہی  وہ عادت ہے جو تمھاری نانو کی گریٹ گر ینڈمدر سے آرہی ہے" بوڑھے نے جواب دیا

" لیکن آپ کے خراٹے ، نانو سے زیادہ  لاؤڈ ہوتے ہیں " چم چم بولی ۔
" مائی سوئیٹ ہارٹ، مردوں خراٹے نہیں ، بلکہ غراٹے  ہوتے ہیں " بوڑھا بولا -
" اوہ تھینکس گاڈ ،  میں رات کو سنورنگ نہیں کرتی ، مجھ پر یہ ٹریڈیشن ختم ہو گئی ہے " چم چم  بولی -
اور پھر بوڑھے نے چم چم کو اُس کے غراٹے لینے کی وڈیو دکھائی تو اُسے یقین ہو گیا ، کہ خراٹوں اور غراٹوں کی یہ ٹریڈیشن کبھی ختم نہیں ہوسکتی  ۔  


٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭

شگفتگو - نثریے - عاطف مرزا

کام،

بات چل رہی تھی قائد اعظم کے کام، کام کے فلسفے پر، ہم نے عرض کیا
قائد کو اردو نہیں آتی تھی،انہوں نے فرمایا تھا،
Calm, Calm, Calm
قوم کو انگریزی نہیں آتی تھی،
اُس کی سمجھ میں آیا،
کام، کام، کام
اور اُس روز سے قوم کام ہی کر رہی ہے۔


٭علاج٭

گرمی دانے بڑے تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ جب کسی کو گرمی دانے نکلتے تو پڑے بوڑھے کہتے کہ مٹی میں لوٹنیاں لگائیں۔ہم حیران تھے کہ اِس کی کیا توجیہہ ہے۔
بڑے ہوئے تو پتا لگا کہ یہ علاج تو حکیم الامت نے بہت عرصہ پہلے بتلایا تھا،
ع
کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے.

حقیقت
ہمارے اکثر اداروں کے نمبر ایک، ایک نمبر نہیں ہوتے۔

عاطف مرزا
 

شگفتگو-سوشل میڈیا کی پرلطف سطحی پوسٹیں- ڈاکٹر عزیز فیصل

انسان طبعاً آزاد پیدا ہوا ہے لیکن ڈیجیٹل انسان سمجھتا ہے کہ وہ "کچھ زیادہ" ہی آزاد پیدا ہوا ہے۔ گوکہ ریاضی میں کل دس ڈیجٹ ہوتے ہیں لیکن ڈیجیٹل نسل نو نے آزادی کے نام پر کئی اضافی ڈیجٹ بھی بنا رکھے ہیں جنھیں وہ عشق کی ریاضیاتی تشریح کے دوران استعمال کرتی ہے۔ یہ  "مابعد دس" ڈیجٹ بالکل اسی طرح کے ہیں جیسے کوئی جعلی نوٹ چھاپ رہا ہو یا جیسے حکومت  فالتو نوٹ چھاپ  رہی ہو۔  سوشل میڈیا وہ لاوڈ سپیکر ہے جہاں آپ دوسرے لوگوں کو مولوی سے بھی زیادہ تنگ کر سکتے ہیں۔اس چھیڑ خوانی میں یہ سہولت بھی موجود ہے کہ  کوئی آپ کا بال بیکا بھی نہیں کرسکتا چاہے آ  پ بالکل ہی  گنجے نہ ہوں۔ بڑی عمر کےآزاد خیال لوگوں کی سوچ کا سی ٹی سکین کیا جائے تو اس میں ان سیٹیوں کا عکس بھی نظر آتا ہے جنھیں وہ گلی کوچوں میں بجا بجا کر بوڑھے ہوئے ہیں۔
سوشل میڈیا کے کئی رنگ ہیں جو گرگٹ سے بھی زیادہ تیزی سے بدلتے رہتے ہیں۔ مردوں نے "قبول ہے" تین بار کہہ کر اس دوشیزہ کو منہ بولی بیوی بنایا ہوا ہے  جبکہ خواتین نے   اسے "غیرراز دار ترین "سہیلی کا سٹیٹس دے رکھا ہے۔ساشل میڈیا پر شئیر کی جانے والی سطحی پوسٹوں کی نوعیت درج ذیل ہو سکتی ہے:بھڑاس نکالنی ہو، علمیت جھاڑنی ہو، جہالت کی سیلفی لگانی ہو،  اپنے ذاتی دکھ سکھ  کی وڈیوشئیر کرنا ہو، پگڑی یا ساڑھی اچھالنی ہو،  خیالات بالجبر تھوپنے ہوں، شادی، منگنی، طلاق کا بیانیہ جاری کرنا ہو، کسی خاس برے واقعے  کا اپنے علاوہ سب کو ذمہ دار قرار دینا ہو،   دوسرے کی آنکھ کا تنکا  صراحت سےدکھانا ہو، اپنی آنکھ کا شہتیر چالاکی سے چھپانا ہو، کسی کے مرنے کی اطلاع اس کے ساتھ کھنچوائی گئی تصویر کی مدد سے دینی ہو،  میک اپ سے لے کر خضاب تک کی رونمائی کرنی ہو،  جوانی کا کلپ نشر کرنا ہو ،   مبارکباد دینے کی خارش  پر گڈ مارننگ،جمعہ مبارک، ہیپی رینی ڈے  وغیرہ کا سہارا لینا ہو،  خااندان کے کسی  دور پار کےبڑے چھوٹے عزیز رشتہ دارکی افسوس ناک موت کی اطلاع دینی ہو،  وغیرہ وغیرہ۔
اگر فیس  بک کو چھوڑنے والے خواتین و حضرات کی بات کی جائے تو صاف لگتا ہے کہ یہ محصوص افراد اپنے کسی نفسیاتی عیب یا سچ مچ کے عیب  کی وجہ سے خود کو فیس بک پر اتنے ہی کھٹکنے لگتے ہیں جتنا کوئی اکیلا مرد  خود کو  خواتین کی شعری نشست کی صدارت کرتے ہوئے کھٹکتا ہے۔   فیس بک چھوڑنے میں مردوں کے زنانہ مسائل اور عورتوں کے مردانہ مسائل کا ہاتھ ہوتا ہے بلکہ بسااوقات تو فریق مخالف کا دل اور آنکھ بھی ملوث ہوتے ہیں۔سب سے دلچسپ وہ ٹیکسٹ ہے جس میں فیس بک چھوڑنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی کسی دل جلے یا دل جلی نے فیس بک چھوڑنے کا اعلان کچھ یوں کیا۔۔۔"دوستو اللہ حافظ، فیس بک نے مجھے بہت دکھ دیے  ہیں۔ مزید یہاں رہنا ممکن نہیں رہا۔ آپ دوستوں کو چھوڑ کر بہت افسوس ہو رہا ہے لیکن کیا کروں مجھے  ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہاں سے جانا پڑا ہے۔ میرا وٹس ایپ نمبر چوبیس گھنٹے آن رہے گا۔کوئی ایمر جیسی ہو تو فورا مجھ سے رابطہ کرنا، میرے دروازے ہمیشہ آپ کے لئے کھلے ہیں۔" یہ لوگ فیس بک سے اپنی غیرموجودگی کو سب کے لئے اتنا اندوہناک تصور کرتے ہیں جیسے ان کے بغیر  کسی کی گزران کی گاڑی کا ٹائی راڈ ٹوٹ جائے گا،   کسی کے دل کے ہیلی کاپٹر  کے پر جل جائیں گے یا کسی کی زندگی کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو "نائن الیون" ہو جائے گا۔ سب فیس بکی "نسوڑے"   نہایت خشوع و خضوع سےدفع دور ہونے کی اجازت طلب کرتے ہیں۔ انھیں کوئی کہنے والا نہیں ،جو یہ پوچھے کہ جب فیس بک پر آنے کی ہم سے اجازت نہیں مانگی تھی تو یہ جانے کی اجازت کا تکلف کیسا؟  ایسی پوسٹوں پر اکثر کمنٹس ایسے بھی آتے ہین جن کا سادہ اور سلیس ترجمہ "خس کم جہاں پاک" کے قریب قریب ہوتا ہے۔ دوچار کمنٹس ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں موسوف یا موصوفہ کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اگر تم فیس بک سے رخصت ہوئے تو سارا نظام فیس بک رک جائے گا اور اس کی رونق  کی آستینوں میں شیش ناگ گھومنے لگیں گے۔ اگر فیس بک چھوڑنے والا مرد ہوتو  اس کا نوٹس نسبتا کم لوگ لیتے ہیں لیکن اگر فیس بک چھوڑنے والی حسینہ  بے ضرر اکھ مٹکے کی حوصلہ افزائی کرنے والی بھی ہو تو اسے فیس بک چھوڑنے  کا مشورہ نہ دینے والوں کا تانتا بندھ جاتا ہے۔  اب کمنٹس میں ایک بحث چھڑ جاتی ہے کہ اس "مائنس ون" کا پس ماندگان پر طبی اور کیمیائی اثر کیا ہو گا۔کچھ نرم دل لوگ تو  اس جدائی کے بعد  خود کو ایسا اجڑا اجڑا بیان کرتے ہیں کہ اُتنا تو رانجھا بھی ہیر کی جدائی میں برباد نہیں ہوا ہوگا۔  اس سارے ڈرامے کا ڈراپ سین بہت ہی دلچسپ اور مزیدار ہوتا ہے جب فیس بک چھوڑنے والا بندہ دوبارہ فیس بک پر ہی دندنانے کا اعلان کرتا ہے۔ آج تک کوئی ایسا مائی کا لال یا کوئی مائی ایسے نہیں دیکھے جو اعلان کرنے کے بعد واقعی فیس بک سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چلے گئے ہوں۔ یہ گیم یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ فیس بک پر دوبارہ واپسی   کے بعد ایسے  افراد کی پھرتیاں پہلے سے بھی زیادہ بڑھ جاتی ہیں اور وہ تازہ "مینڈیٹ" کے بعد زیادہ کھل کر کھیلنے لگ جاتے ہیں۔ ایسے افراد اپنے الفاظ کا "پاس" رکھنے میں مکمل طور پر "فیل" ہوتے ہیں۔

٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔