Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
شگفتگو لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
شگفتگو لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 8 جون، 2024

شگفتہ گو ۔ آن لائن یا حاضر لائن

اُفق کے پار بسنے والے شگفتہ گو دوستو ۔   میری درخواست ہے کہ  حاضر لائن   ہونا مشکل ہے اور  آن لائن  حواس میں آنے کے بعد شامل ہو سکتا ہوں ۔ جو اگلی ڈیٹ لائن کراس ہونے تک جاری رکھی جاسکتی ہے 
ڈاکٹر نے عرصہ سے میری گولیوں کی تعداد بڑھائی ہوئی ہے ۔ میں جو گولیاں دوپہر کے کھانے کے بعد کھاتا ہوں وہ سخت غنودگی طاری کر دیتی ہے  ۔ اور میں دو بجے سے شام 6 بجے تک لازمی سوتا ہوں ۔ اگر نیند نہ آئے  اور بوجہ مجبوری غنوٹنا پڑھے تو بڑھیا کی آواز آتی ہے ۔ میری بات سن رہے ہو ، تو بند پپوٹوں سے جواب دیتا ہوں جی سن رہا ہوں۔

 کہاں سن رہے ہو ؟ یا خراٹے سنا رہے ہو ۔
بیوی سنتا کان سے ہوں اور جواب ، منہ میں دانت نہ ہونے کی وجہ سے ، ہاں اور ہوں  کی تال ہیں ۔ اور جب تال لمبی ہو تو مطلب کیا کہا ؟
آہ اُفق کے پار بسنے والے شگفتہ گو دوستو ۔ اگر جواب آں غزل زوجہ نہ دیا جائے تو، ایک ہزار ایک رات کا مرثیہ اُٹھنے کے بعد سننا پڑتا ۔
عقلمند کہتے ہیں ۔ کہ بیوی کو اپنی ساری دن کی مشغولیات بمع موبائل پر سننے والی معلومات شوہر کو سنانا فرض کفایہ ہے ۔ لہذا چپ کرکے سنتے رہو اور بیچ ہوں ہاں اور کیا لازمی کہو ۔ اور اپنے رائے کی پوٹلی کو بند رکھا وگرنہ ۔ ۔ ۔۔  آپ خود بھگتیں گے ! ایک عقل کی بات وہ یہ کہ بوڑھے کو سیاسیت یا مذھب کی روداد سنانا ریڈ لائن پھلانگ کر خود کو دلدل میں پھینکنا ہے ، جو وٹس ایپ کی وجہ سے بوڑھے کے معدے میں حلق تک ٹھنسی ہوتی ہے ۔
بڑھاپے میں نیند کم آتی ہے لہذا زبر دستی 24 گھنٹوں میں نیند کے 8 گھنٹے پورا کرنے کا مشورہ ماہر صحت کا ہے ۔  لیکن اگر صبح 4 بجے اُٹھنے کے بعد 8 بجے نیند آجائے تو مزید دو گھنٹے برے نہیں ۔
بوڑھے اور بڑھیا کے درمیان محائدہ (حدود وقیود) عرصے سے نافذہے جو بلا تردد و شکوہ قبول کرنا پڑتا ہے ۔ لہذا بوڑھے کو صرف ایک گھنٹہ کا آؤٹ پاس ملتا ہے وہ بھی پنجاب کیش اینڈ کیری ،انصاف گلی اور بنک تک ۔ ملٹری ہسپتال و سی ایم ایچ ، اے ایف آئی آر ایم کے لئے بڑھیا کے ہم رکاب ہوتا ہے ۔ ڈیفنس روڈ پر اچھلتے کودتے جانے اور آنے کی وجہ سے جوڑ جوڑ فریاد کرتا ہے ۔ باقی کسر ٹیل بون کی فریاد لوہے کی آرام دہ یا اذیت زدہ صوفے نکال دیتے ہیں ۔
آرتھو پیڈیاکس کی ہدایات کے مطابق کبھی بھی چالیس سال سے اوپر کے نوجوان اس انداز میں بیٹھا کریں جیسے سکول میں ماسٹر صاحب دیوار سے ٹیک لگوا کر کرسی بنوایا کرتے تھے ۔ لیکن آج کل افسرانہ صوفے پر بیٹھا بوڑھا یوں نظر آتا ہے کہ جیسے بس ٹانگوں کے نیچےسے ھاتھ نکل کر کان پکڑنے کی کسر باقی ہے اور صوفے سے اٹھتے وقت کراہِ اِبل بلبلا کر نکلتی ہے جسے سن کر نوجوان و بچے ایسے مسکراتے ہیں جیسے ہم مسکرایا کرتے تھے اور دل میں نصیحت کرتے بزرگو گھر میں بیٹھو یوں گھومنے کی کیا ضرورت جہاں بیٹھ کر اونٹ کی طرح چار قسطوں میں اُٹھنا پڑے اور پانچویں قسط کوئی ہمدرد ہاتھ سے کھینچ کر پورا کردے ۔ نہ آنکھوں والوں کو بصارت پکڑائی جا سکتی ہے اور نہ ہی اولو الاحبار  کو عبرت ۔ کیوں کے۔ ۔ ۔   

بنجارے کی لاٹ سب کے ٹھاٹ لمبے لیٹا دیتی ہے ۔

--------------------------------------

سال2024 ، جون کا پہلا ہفتہ تاریخ 8 ۔   آن لائن وقت 11:11 بجے چھٹی کے بعد 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

جمعہ، 6 نومبر، 2020

شگفتہ گو- ہزاروں خواہشیں ایسی

  انسانی زندگی کو بعض دانا سیکنڈ ہینڈ کار سے تشبیہ دیتے ہیں  جو مختلف صبر آزما مراحل سے گذرتی اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہتی ہے۔ کہیں ٹائر پنکچر ہو گیا تو اس وجہ سے دھرنا مار کر بیٹھ جاتی ہے کہ پیٹرول ختم۔ کبھی اترائی پر اس قدر تیز دوڑتی ہے، کہ بیٹھنے والا گھبرا جاتا ہے۔ لیکن اکثر دھکا لگوائی جاتی ہے۔ پی ایم اے کی زندگی بھی اسی طرح کے مراحل کو مجموعہ ہے۔ ہر دم دھڑکا کہ، کیا ہماری گاڑی بخیر و  خوبی  ،اکیڈمی سے نکل سکے گی۔ اور نکلنے کے بعد اس کا رخ کس طرف ہوگا؟     
سیکنڈ ٹرم کے بعد ہم، تھرڈ ٹرم میں آئے اب ہم سے سینئیر صرف ایک کورس تھا۔ جو کبھی موج میں آکر ہمارا سکون تہہ و بالا کردیتا  لیکن   باقی دونوں  جونیئر کورسز سے چھپا کر، لیکن ہماری آہیں تو فضا میں، گھومتی گھامتی جونئیرز کے کانوں میں پڑتیں اور وہ باجماعت دعا مانگتے کہ ہمیں صبح تک رگڑا ملے تاکہ ان کے دل میں ٹھنڈک پڑے۔ 
گو کہ ہم خود کو پچاس فیصد کمیشنڈ آفیسروں میں سمجھنے لگے تھے۔ راتوں کو خواب بھی کچھ ایسے ہی نظر آتے لیکن ِ صبح گھڑی کے الارم کی خوفناک گونج کے پس منظر میں آنے والی”فال اِن“کی آوازیں، تمام خیالی قلعوں کو زمیں بوس کر دیتیں، شب و روز کچھوے کی رفتار سے آگے بڑھ رہے تھے-
مڈٹرم سے پہلے، پلاٹون سارجنٹ نے ایک فارم ہمارے ہاتھوں میں پکڑا دیا  کہ سوموار تک جمع کروا دیں اور جن کا کلیم ہے وہ ضرور لکھیں۔ مت پوچھیئے خوشی سے ہماری کیا حالت تھی، جسم پر کپکپی طاری ہوگئی، ٹانگیں کپکپانے لگیں، گھٹنے کھڑکھڑانے لگے   اور شادی ء مرگ کی کیفیت طاری ہو گئی، 
یا خدا! یہ کیسا انقلاب ہے ہم سے اکیڈمی میں ،  ہماری خواہش پوچھی جا رہی ہے،  اور یہاں  یہ حالت کہ :
 ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دَم نکلے  
 
سارا ہفتہ خود کو والکنگ ریمپ پر مختلف لباسِ عساکر کے روپ میں دیکھتے رہے۔ کبھی پیادہ فوج کی وردی میں، اور کبھی آڑدیننس اور کبھی توپخانے کی، لیکن خدا گواہ ہے کہ بچپن سے ہمیں بینڈ والوں کی وردی بہت بھاتی تھی ۔ جب ایک آراستہ و پیراستہ کلّا پہنے ، موٹے پیٹ والا بینڈ ماسٹر دستے کے آگے ایسی شان سے چلتا ۔ جیسے راج ہنس اپنے قافلے کے ساتھ رواں دواں ہو ۔ اُس کی چال کی ہم نے دوستوں کے ساتھ اتنی نقل اتاری ۔ کہ اکیڈمی میں جب پہلی دفعہ پلاٹون کے ساتھ نیکر پہن کر مارچ کے لئے چند قدم بڑھے تھے کہ سٹاف نے آواز لگائی ۔
 “ نعیم صاحب ، بطخ کی طرح مت چلیں ، کیڈٹ بنیں کیڈٹ ، زمین پر اتنی زور سے پاؤں ماریں کہ چشمہ اُبل پڑے “ 
ہماری حالت اس بچے کی طرح تھی کہ جس کے سامنے بہت سے کھلونے رکھ دئے ہوں، اور ان میں سے ایک کا انتخاب، اس کے لئے مسئلہ بن جائے، ایسا مسئلہ کہ "دل ادھر ہے اور جان ادھر"، اور وہ سارے کھلونے سمیٹ کر  یکدم اٹھا کر بھاگ جانے کی خواہش دل میں دبا کر بیٹھا، حسرت سے سارے کھلونوں کو دیکھتا ہو-
 ویسے بھی ہم اکیڈمی میں ابھی طفل مکتب تھے، ہم میں وہ دوراندیشی اور بالغ نظری پیدا ہونا باقی تھی، جو فائینل ٹرم کے کیڈٹ میں ہوتی ہے۔ پی ایم اے میں مائیٹی سینئر ہونا آسان کام نہیں،  ابھی ہمارے اس منزل کے خاردار راستے سے گذرنے میں چار ماہ پڑے تھے۔  کافی سوچ و بچار، کی ریڈیو پر، ملی نغموں  کو بار بار سنا، چنانچہ جذبہ جہاد پر بلاوے  کی پر شکوہ دھن۔
 ”اے مردِ مجاھد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا“  نے امن کی فاختہ کو اُڑادیا اور ہم  نے پیادہ فوج کے لئے پہلا  نمبر دیا، دوسرے اور تیسرے نمبر پر، جن آرمز کاانتخاب کیا، وہ ہمیں ملنا ناممکن تھیں۔ اور اُن سے سروکار بھی نہیں تھا وہ تو محض خانہ پُری تھیں، لہذا بتانے کا فائدہ بھی نہیں۔
  فارم جمع کروا کر ہم خو کو مکمل انفنٹری آفیسر کے روپ میں دیکھتے، سینئیر کی غیر موجودگی میں  پی ایم اے روڈ پر سینہ پھُلا کر  ایسے چلتے  جیسے لقاء کبوتر، دڑبے سے نکل کر چلتا ہے۔
  تھرڈ ٹرم کے خاتمے پر، ہم نے آرٹ اور کیمرہ کلب کے لئے جتنی تصاویر بنائیں، ان سب کا موضوع، جھولا پٹھو پہنے، دوڑتا، چھلانگ لگاتا، رسی سے لٹکا، پیرا شوٹ سے اترتا، فوجی ہی تھا۔
 ٹرم بریک میں ہم، پیرا کورس کے لئے پشاور روانہ ہوئے۔  پیرا کورس کے نامکمل خاتمے کے بعد پورا کورس واپس آیا تو ہم، اکیڈمی کے سب سے سینئیر کیڈٹ بن چکے تھے- بے تاج بادشاہت، ہمارے قدموں میں اور تین عدد جونئیر کورس،ہمارے رحم و کرم پر تھے۔ جہاں سے گذرتے، ”سلام علیکم سر“ کی صدا گونجتی۔ جونئیر ہمارے  ناز اٹھاتے، ہمارے ایک جملے ، " اے یووووو " پر، ساکت کھڑے ہوجاتے اور دوسرے جملے پر " کبھی خاک کے پردے سے یا نالے کی تاریک سرنگ سے " کیڈٹ برآمد ہوتے ،  بس نہ پوچھیں، کیا پرلطف  زندگی، ہم گذار رہے تھے۔
     پی ایم اے روڈ پر ایسے نکلتے، کہ دائیں ہاتھ میں سیچل  (جسے اردو میں بستہ  کہتے ہیں) لہرا رہا ہوتا، جو کندھے سے اتر کر ہاتھ میں آگیا تھا اور سینئیرز کا امتیازی نشان تھا۔سٹاف بھی نیچی اور دبی زبان میں،
 یہ سینئر صاحب، ٹھیک مارچ کریں،
نعیم صاحب -سیچل ایسے مت لہرائیں جیسے کوئی مٹیار کنویں پر دوپٹہ، لہراتے جارہی ہے، 
یہ فلاں صاحب ایسے مت چلیں، جیسے سر پر مٹکا اٹھا یا ہے، 
پی ایم اے روڈ کو مال روڈ مت سمجھیں ۔ٹہلیں ن ن  ن  مت!
 کیڈٹ کی طرح چلیں ، صا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا اب  ۔
ہم بے نیاز انداز میں،پی ایم اے روڈ پر ، رواں دواں رہتے۔   کیوں کہ ہمیں معلوم تھا کہ ہم مستقل جنٹل مین کیڈٹ کلب کےممبروں میں سے ایک ہیں ۔
فائینل ٹرم میں ہمارا سینہ کچھ ضرورت سے زیادہ باہر آگیا تھا، خاص طور پر جب کوئی جونئیر ہمارے آرمز کے انتخاب کے بارے میں پوچھتا۔ سیچل (بستے) پر خود ہم نے بڑے بڑے حروف میں اپنی پسندیدہ انفنٹری بٹالین کا نام اور مونوگرام بنایا تھا، تاکہ جو لوگ لاعلم ہیں اور نہیں جانتے کہ ہمارا انتخاب کون سی بٹالین ہے وہ بھی جان لیں۔
دن آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے تھے، ہمارے شریف طفل مکتب، یعنی جنٹل مین کیڈٹ کے لقب کے خاتمے کے دن قریب آرہے تھے۔ دل کی دھڑکنوں کی رفتار بڑھ رہی تھی مڈٹرم سے پہلے، ایک دن پیغام ملا، کہ آرمز کے انتخاب کو فائینل کرنے کے لئے، پلاٹون کمانڈر کا انٹرویو ہے۔
  پلاٹون کمانڈرنے گذشتہ سالوں میں ہمیں بچپن سے پالے ہوئے دنبے کی طرح اچھی طرح ٹٹولہ، دانت گنے  اوربالکل فٹ بنادیا تھا۔  لہذا،  ان کی رائے  ملٹری سیکریٹری برانچ کے لئے مقدم اور حتمی  تھی ۔   
ہم سے پہلے  کئی  پلاٹون میٹس، میجر متین مہاجر  کا آفس   گھوم آئے، ہماری باری آئی تو ہم، کیلوں والے بوٹوں  سے   ٹکا ٹک کی پرشور  آوازیں  آواز  نکلواتے  ہوئے ، پلاٹون کمانڈر کے کمرے کے دروازے کے سامنے،  چیک، ون ٹو، کہہ کر پکے فرش پر زور سے پیر مار کر رکے،تاکہ فرش ٹُٹ جائے تڑخ کرکے ، گلا پھاڑ کر ،
  "مے آئی کم ان سر ر ر ر ر ر! "کی کڑک دار آواز نکالی،
” یس کم ان “ پلاٹون کمانڈر نے اجاز ت مرحمت فرمائی۔
کمرے میں داخل ہوئے۔  پلاٹون کمانڈر نے سر سے پاؤں تک دیکھا، خوف کی ایک لہر، ریڑھ کی ہڈیوں سے گذرتی پیروں تک گئی، ایک خوفناک خیال نے سر ابھارا۔
 دل کی گہرائیوں سے دعا نکلی ، ”یا اللہ رحم،  میرے مولا رحم، پلاٹون کمانڈر، وردی میں کوئی خرابی نہ نکال  دے  "۔

آہ کیوں کہ دل سے نکلی تھی، پرواز کرتی ہوئی، عرش کی جانب کوچ کر گئی اور پلاٹون کمانڈر کی نظریں ، ہمارے جوتوں سے اٹھ کر ،  بیلٹ  سے  ہوتی ہوئی  ، ٹوپی تک پہنچیں اور سامنے پڑے ہوئے کاغذ، پر جم گئیں۔
”تمھاری میپ ریڈنگ اچھی ہے لیکن تم انفنٹری میں جانا چاہتے ہو؟“ ۔
  ہم نے بلند آواز سے کہا،”یس سر!“ ،
  ”اوکے، مارچ آف“  پلاٹون کمانڈر نے آرڈر دیا،
  ”یوریکا “ دل میں نعرہ مارا،
 الٹے پاؤں پھرے اور کمرے سے باہر نکل آئے، ہماری بانچھیں کانوں تک چری دیکھ کر، ساتھیوں نے مبارکباد دی۔ ہم امتحان عشق کا آخری مرحلہ بھی پاس کر چکے تھے۔
  پاسنگ آوٹ، سے پندرہ دن پہلے،  تمام کورس کو  اینگل ہال میں جمع ہونے کا آرڈر ملا، معلوم ہوا کہ آج، ہمیں اپنی اپنی آرمز اور یونٹ کے بارے میں بتایا جائے گا۔ باقی مشتاقان دید کی جلو میں ہم بھی، اینگل ہال پہنچے۔ ڈائس پر کمپنی و ٹرم کمانڈرز اور ملٹری سیکریٹری برانچ سے آئے ہوئے آفیسرز بیٹھے تھے۔
 بٹالین کمانڈر نے ڈائس پر آکر،  نے باری باری سب کا نام اور یونٹ کے بارے میں بتانا شروع کیا، خوشی اور غم کے سائے، کیڈٹس کے چہروں پر نظر آنے لگے۔ کئی کیڈٹس کی امیدوں پر اوس پڑنے لگی  اور ہمارے دل میں ہمدردی کی گھٹائیں اٹھنے لگیں، اور بالآخر، ہمارا نمبر پکارا،گیا
ہم بڑی شان سے کھڑے ہوئے گویا  ہفت اقلیم کی بادشاہت ملنے والی ہے، پھر اعلان کادوسرا حصہ سنا تو ہمیں اپنی سماعت پر یقین نہیں آیا۔بٹالین کمانڈر کی گونج دار آواز (لاوڈ سپیکر کی بدولت) کسی شک و شبہ سے بالا تر تھی، ہمیں یوں لگا کہ کشش ثقل ختم ہوگئی ہے، غالباً صورِ  اسرافیل  پھونک دیا گیا ہے۔ یا ہم ریلوے سٹیشن پر جا پہنچے ہیں۔ جہاں لاوڈ سپیکر سے آواز تو آرہی ہے لیکن الفاظ پانی میں ابل کر ادا ہو رہے ہوں،   لیکچر ہال ہمارے چاروں طرف گھوم رہا تھا۔ ایک دھماکا ہوا، ہوش آیا تو خود کو کرسی پر بیٹھا ہوا پایا۔دائیں بائیں بیٹھے ہوئے پلاٹون میٹس دلاسہ دینے لگے، کچھ نے تو باقائدہ تعزیت کرڈالی،
 ہماری حالت اس شخص کی تھی جس کو سفر ہفت خواں کے بعد مژدہ سنایا جائے، کہ یہ سامنے جو کٹیا نظر آرہی ہے اس میں۔لیلیٰ۔ تمھارے انتظار میں ہے۔
 وہ شخص، اپنی تھیلی میں سے کنگھی نکال کر بال سنوارے، پانی کی بوتل سے آخری چند گھونٹ نکال کر چہرے سے ریت دھوئے۔ اور کٹیا کی طرف اس امید پر بڑھے کہ اندر سے لیلیٰ یہ کہتے ہوئے بے تابی سے نکلے،
”ڈارلنگ، میں پورے دو سال تمھارا بے چینی سے انتظار کر رہی ہوں“
 لیکن آپ تصور کریں، اس وقت اس بے چارے کی کیا حالت ہوگی کہ، کٹیا کا  دروازہ کھلتے ہی، حضرت قیس داڑھی بڑھائے اول جلول بنے برآمد ہو  اور یہ کہتے ہوئے بغل گیر ہوجائے۔
 ”میری لیلیٰ میں تمھیں اب کہیں نہیں جانے دوں گا"۔
خدارا ہنسئیے مت،
 شکستہ دل اور ناتمام آرزوؤں کا جنازہ  سامنے پڑا ہو تو بتیسی کا نکلنا  گناہ کبیرہ ہے ، حضور آپ ماتم کریں،  ماتم ، ہمارے حال زار پر!-
 رنج و الم وغصے میں بھرے ہم پلاٹون کمانڈر کی طرف بڑھے، جی چاہتا تھا کہ اینگل ہال کے آفس کے سامنے ایک سٹیج بنائیں، مجمع اکٹھا کریں، اور ظلم و جبر کے نمائیندوں،  ملٹری سیکریٹری برانچ کے اہلکاروں کے خلاف ایک مدلل اور زہر بھری شعلہ بیاں تقریر کریں، جو تان سین کے دیپک راگ کی طرح  چار سو آگ لگا  دے۔مگر ہائے مجبوری پلاٹون  کمانڈرکو دیکھتے ہیں، غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا، سب الفاظ بھاپ بن کر اڑ گئے۔  جو دلجوئی کے انداز میں کہہ رہے تھے، کہ
" نائم ، تمھاری میپ ریڈنگ بہت اچھی ہے اسی لئے میں نے تمھارے لئے، ”سفید ڈوری“ کا انتخاب کیا ہے"
 بہت سے لوگوں کو نہیں معلوم یہ سفید ڈوری  کیا ہوتی ہے؟  کیا امن کا نشان ہے؟  نہیں  بس اسے ”وائیٹ لین یارڈ“ کہتے ہیں جو  پہلے توپچیوں کا نشان ہوتا تھا۔ 
تم ایک بہترین ”گنر آفیسر“ بنو گے۔
 ہمارے لبوں سے کراہ نکلی، جس کے معنی تھے، ”آہ بروٹس  تم بھی!“  جن پہ تکیہ تھا وہی پتہ ہوا دینے لگا۔
  پلاٹون کمانڈر  کے پاس کھڑے  ہوئے، میجر ریاض شاہ نے مبارک باد دی اور ہماری معلومات میں اضافہ کیا،
 ” 57ماؤنٹین رجمنٹ، میری  یونٹ  ہے جس میں تم جا رہے ہو، یہ آزاد کشمیر کے بہترین مقام" نیلم ویلی " میں ہے۔ مبارک ہو“۔
یوں  ایک اور کیل ہمارے دل کے تابوت  میں ٹھونک دی گئی، اب سندھ کا رہنے والا جنٹل مین کیڈٹ، کشمیر میں نیم لفٹین بن کر توپ چلائے گا  اور مزید پردیسی ہو جائے گا۔            
  اُف پلاٹون میٹس کے قہقہے،  طنز، چوٹیں ،” توتا توپ چلائے،  سیکنڈ لفٹین تالی بجائے“۔  
جیسے زہر میں بجھے تیروں سے چھلنی ہوتے ہوتے، بالآخر ہم  بوجھل دل اور  ناتمام خواہشوں کے ساتھ  پاس آؤٹ ہوئے،  سیکنڈ لفٹین بننے کی خوشی اپنی جگہ پر لیکن خواہشوں کے جنازے کو  پلاٹون کمانڈر کے حکم پر کندھا دینا اور انہیں  امیدوں کے قبرستان میں دفن کرنا ہر کس و ناکس کا کام نہیں ۔ اس کے لئے بڑی ہمت، دل و گردے چاہئیں،  ع
دفنانا ذرا دیکھ کر،    آرمز، زدہ کی لاش ۔ لپٹی ہوئی وردی میں کوئی آرزو نہ ہو۔
 
نوٹ: یہ مضمون 1977 کے زمزمہ میگزین  میں شائع ہوا تھا ۔

 

ہفتہ، 10 اکتوبر، 2020

شگفتگو - آپ کے اندر ایک ہیرو ہے

    ”عمران بم دھماکوں سے مرتا ہے نہ گولی اُس کا کچھ بگاڑ سکتی ہے“،
ایک کثیر المطالعہ اخبار میں لکھے ہوئے سعید نوابی صاحب کے مضمون کا یہ پہلا جملہ پڑھتے ہی ذہن نے ایک طویل زقند لگائی۔ نمّو نے خود کو چار بزرگوں کے بیچ پایا ۔وہ سب زمین پر بچھے ہوئے ٹاٹ پر بیٹھے تھے۔نمّو کے  ہاتھ میں اُس وقت کے مشہور ادیب کی کتاب تھی اور  وہ اُسے پڑھ رہا تھا۔ یہ دسمبر 1968کی بات ہے نمّو کلاس آٹھ کا طالبعلم تھا۔ کوئٹہ سے سردیوں کی چھٹیا ں گذارنے اپنی خالہ کے گھر میرپورخاص آیا ہوا تھا۔ 
یہ ایک چھوٹی سے ادبی بیٹھک تھی جس کے سربراہ   خالوتھے۔جو مغرب کا کھانا کھانے کے فوراً بعدچھت پر جمتی تھی جہاں بچوں کا داخلہ ممنوع تھا۔ نمّو خالو کو دوائیاں دینے اوپر گیا۔ دیکھا کہ چاروں بزرگ بیٹھے ہیں اور خالو ایک کتاب پڑھ رہے ہیں۔ خالو نے کتاب ایک دم  بوری کے نیچے چھپا لی جس پر وہ بیٹھے تھے ۔لیکن جلدی میں وہ پوری طرح نہ چھپ سکی ،سب نے مشکوک نظروں سے نمُوطرف دیکھا۔ نمُو نے خالو کو دوائیوں کی تھیلی دی اور بیٹھ گیا۔دوائیاں کھانے کے بعد اُنہوں نے تھیلی واپس کی اور  کہا ،
" شاباش جاؤ"۔
نمّو حیرت سے دنگ رہ گیا۔
نمّو   اِسی ادبی محفل میں صبح اخبار پڑھ کر سناتا تھا اوراب   بھگایا جا رہا ہے۔کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے ،  نمّو  ڈھیٹ بن  چھت کی منڈیر پر بیٹھ گیا ،اور  بولا،
" آپ لوگ ابنِ صفی پڑھ رہے ہیں نا ؟"
اُن چاروں کا منہ  ایسا کھلا ،جیسا   بچوں کا منہ  ،چینی چُرا کر کھانے پر ، امّی  کے ہاتھوں پکڑے جانے پر کھلتا تھا ۔
"میں بھی کہانی سنوں گا"
نمّو  بولا 
 آنکھوں ہی آنکھوں میں فیصلہ ہوا۔"
ٹھیک ہے لیکن تم نے اگر یہ بات، کہ ہم  چھت پر بیٹھ کر عمران سیریز پڑھتے ہیں ،  کسی کو بتائی تو پٹائی کروں گا" خالو بولے۔
 نمّو   اقرار میں سر ہلا کر اُس خفیہ ادبی محفل کا ایک لائف  ٹائم ممبر بن گیا۔  
خالو نے کتاب نکالی اور ، اٹک اٹک کر پڑھنا شروع کیا۔
”عمران نے کہا وہ چوہا کالا صفر میرا کیا بگاڑے گا میں اُسے چٹکی بجاتے بل سے باہر گھسیٹ لوں گا“۔
عمران کی یہ بڑھک،اپنے باس بلیک زیرو کے بارے میں سنتے ہی خوف سے جولیا، صفدر  اور جوزف کے منہ خوف سے کھل گئے“

 نمّو نے خالو سے کہا ، " خالو مجھے دیں میں پڑھتا ہوں "۔ 
خالو نے کتاب ، بلا کچھ کہے ، نمّو کے ہاتھ میں تھما دی ۔
جی ہاں یہ خفیہ ادبی محفل ابنِ صفی  کے جاسوسی ناول، عمران سیریز کے پڑھنے اور سننے والوں کی تھی۔ جو سرِ محفل پڑھنا ایک جرم سمجھا جاتا تھا۔ کتب فروشوں کے پاس پہلے سے چوّنی جمع کرادی جاتی تھی۔تاکہ ناول پہنچے ہے محبانِ عمران سیریز کو مل جائے ۔
 ابنِ صفی کے جاسوسی ناول کبھی ردّی کے ڈھیر پر نہیں پھیکے گئے۔خالو کی مقفل الماری میں عمران سیریز کا ایک خزانہ چھپا ہوا تھاہر ناول مجّلد تھا۔
عمران اور میجر آفریدی  مرحوم ابنِ صفی کے دو ایسے طلسماتی کردار تھے۔
جن میں وطن کی محبت، اخلاقی قدریں  اور فرض  کی پاسداری تھی-  جنہوں نے   نمّو کو  نہ صرف ایک علمی اور ادبی سمت دی۔ بلکہ مادر ِ وطن کی حفاظت کی خاطر ، نمّو ،  کو ایک ذہین، فطین اوروقت کی نزاکت کو پہچان کر کام کرنے والے سویلین کی بجائے ایک بے وقوف (ویسے تو اللہ نے سب کو ہی بے وقوف کہا ہے)، صراطِ مستقیم پر چلنے والا گویا لکیر کا فقیراورچڑی کا نہیں  بلکہ حکم کا گیارھواں پتا بنا کر  ایک  پابند ِ احکام فوجی بنا دیا ۔
     اکیڈمی میں پہلے دن جب نمّو نے اپنا سارا سامان سر پر اُٹھا کر پورے پریڈ گراونڈ کا چکر لگایا تو ذہن نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ  اکیڈمی میں افسربننے آیا ہے۔اُس پر مزید ستم یہ کہ بہتریں سوٹ زمین پر لوٹ پوٹ ہونے  کے بعد، پہننے کے قابل نہیں رہا۔  اکثر  مستقبل کے افسران نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر دوسال یہی  کچھ ہوتا رہا تو اِس سے بہتر ہے کہ واپس سویلین لائف میں جایا جائے۔جہاں راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔
یہاں تو ایسا لگتا تھا کہ سینئرز،میں کوئی ظالم بے چین روح حلول کر چکی ہے۔
خیر شام کو کھانے کے بعد، ایک سینئیر نے کیڈٹوں کوپُر جوش لیکچردیا جس کی وجہ سے ، واپس گھروں کو جانے والوں نے اپنے مصمم ارادے   تبدیل کر دئیے
بہر حال  اِس دو سالہ زندگی میں تخیلاتی ہیرو عمران اور آفریدی کی جگہ، حقیقی ہیروز کا مطالعہ شروع کیا۔ جن میں خالد ؓبن ولید، موسیٰ بن نصیر، صلاح الدین ایوبی، میک آرتھر، منٹگمری، رومیل،لارنس آف عریبیہ، ماتا ہری، سلطان ٹیپو شہید اور پاکستانی نشانِ حیدر، نجانے  کون کون سپاہیانہ  تاریخ کے انمٹ کردار تھے ، اِن میں سے جو جنگوں میں مارے گئے انہوں نے ہیرو ازم کی تکمیل کی، جو بچ گئے انہوں نے یااُن کے بعد والوں نے،
جنگوں میں مارے والوں کے واقعات عام آدمی کے لئے محّیرالعقول انداز میں قلمبند کئے۔
     اکیڈمی میں کم و بیش ہر کیڈٹ کے بستے پر
مختلف رنگوں میں پیرا ٹروپر یا  کمانڈو ونگ،  کی تصویرکے نیچے ، من جانبازم  یا  Heroes die young لکھا ہوتا تھا۔ کالج کے لابالی اور کھلنڈرے طالبعلموں کو، حکم کا گیارہواں پتا بنانے کے لئے، جس دھیمی رفتار سے سائیکو لاجیکل طریق کار اختیار کیا جاتا ہے۔ وہ فوجی زندگی کا صدیوں کا نچوڑ ہے۔
 سو گز دور ایک ٹارگٹ سے شرو ع ہونے والی چاند ماری اِس کی پہلی پیش رفت ہے۔ ہر فوجی کو یہ بتایا جاتاکہ تمھارے سامنے جو یہ ٹارگٹ ہے- اِس کے درمیان  چھ انچ قطر کے مرکز میں ہی گولیاں مارنے پر تمھاری کامیابی  ہے-
 مرکز سے جتنی زیادہ دور نشانہ لگے گا تمھاری کامیابی کے نتائج اُتنے ہی کم ہو جائیں گے۔ 
اپنی تما م حسّیات، توجہ  اور خیالات کو مرکز پر مرتکز کرنا ہے اور سانس روک کر جتنے اطمینان سے ہوسکے ٹریگر کو اتنی آہستہ سے دبانا ہے کہ انگلی کا مہین سا دباؤ اُس”لائن آف فائر“ کو خراب نہ کرے۔جس کے ایک سرے پر آپ اور دوسرے سرے پر ٹارگٹ کا مرکزہوتا ہے۔
یعنی”فوجی+اسباب+ٹارگٹ“ انِ تینوں کو ایک مناسب وقت میں ہم آہنگ ہوجائے  تو  مقصد حاصل ہوتا ہے -
آپ سب کا بہت بہت شکریہ 

 

ہفتہ، 12 ستمبر، 2020

شگفتگو- رشتہ دار - ڈاکٹر شاہد اشرف

مجھے اندازہ لگانے میں دیر نہ لگی کہ کھوتا کھو میں گر گیا ہے . میں نے پوچھا تو حیرت سے بولا " کیسے معلوم ہوا ؟" "چرس پینے والا اپنے ہم ذوق کو پہچاننے میں دیر نہیں لگاتا ہے " میں نے جواب دیا تو فوراْ  گویا ہوا " ایک سگریٹ دو " "میں سگریٹ نہیں پیتا " میری بات سن کر کہنے لگا "مثال تو ایسے دی ہے جیسے بنا کر جیب میں رکھے ہوئے ہیں " میں نے بیرے کو بلا کر سگریٹ لانے کے لیے پیسے دیے اور چائے پینے لگا.
" اگر وہ نہ ملی تو میں مر جاؤں گا "
کون ہے ؟
رشتے دار ہے .
تیرےابّا کو پتا ہے ؟
نہیں !
تیرا رشتہ مانگنے میں جاؤں ؟
اسی بارے مشورہ کرنے آیا ہوں .
 اپنے ابّا سے بات کر.
کوئی فائدہ نہیں ہے
کیوں ؟
"گزشتہ دو ہفتوں سے گھر میں عطا اللہ عیسٰی خیلوی کے گانے سُن رہا ہوں. کسی نے توجہ نہیں دی ہے. "
عطا اللہ عیسٰی خیلوی کا اپنا کیس بہت کمزور ہے. تُو گانے سن کر مزید مشکل میں پڑ جائے گا.
کوئی ملاقات ہوئی ہے ؟
اُس کا ابّا ٹوکے سے کاٹ دے گا.
پھر میں تیری کوئی مدد نہیں کر سکتا, میں نے حتمی جواب دیا.
"تُو میری شاعری کی اصلاح کر سکتا ہے. "
یار!  تیری شاعری میں نے سُنی ہے, یہ بہت مشکل فن ہے, زندہ شعر کہنے کے لیے مرنا پڑتا ہے.
"میں نے ڈیڑھ سو غزلیں کہی ہیں. "
میں مثال دینا چاہتا تھا مگر ڈیڑھ سو کی بات سُن کر سر کھجانے لگا.

اگلی ملاقات میں اُس نے بتایا کہ رشتہ دار کی منگنی ہو گئی ہے.  اُس کا منگیتر میرا چچا زاد ہے, میں اسے جان سے مار دوں گا.
"تیرے چچا زاد کا کیا قصور ہے ؟" میں نے پوچھا
وہ سوچ میں پڑ گیا اور بولا " یہ رشتہ میرے ابّا نے کروایا ہے "
"ظاہر ہے تُو اپنے ابّا کو جان سے نہیں مارے گا. تُو نے اپنے ابّا کو نہیں بتایا تھا ؟"
"عاشق صادق اپنے دل کی بات کسی کو نہیں بتاتا ہے." اُس نے دو ٹوک موقف بیان کر دیا.
"اچھی بات ہے, اب ایسا کرو کہ چچا زاد کا سہرا لکھ دو "
چچا زاد جانتا ہے کہ میں شاعر ہوں. اُس نے مجھے سہرا لکھنے کے لیے کہ دیا ہے.
میرا ہاسا نکل گیا.
سہرا لکھنے کے ساتھ رخصتی بھی لکھ دو . آخر رشتہ دار ہے.
مذاق نہ کر, کچھ نہ ہوا تو میں جان دے دوں گا.
یہ تُو بات بہ بات پر جان دینے کے لیے کیوں تیار ہو جاتا ہے.
اور کیا کروں ؟
غور کر, غور کر, مسئلے کا حل کیا ہو سکتا ہے ؟
میں نے سوچ لیا ہے کہ شادی میں نہیں جاؤں گا.
اگر تُو شادی میں نہ گیا تو ایک اہم مرحلہ طے نہیں ہو گا.
وہ کیا ؟ اُس نے حیرت سے پوچھا.
نکاح نامے پر بطور گواہ دست خط کون کرے گا.
سخت مشکل کے باوجود وہ ہنس پڑا اور اپنی تازہ غزل سنانے کے لیے مجھے متوجہ کرنے لگا.

٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭

شگفتگو- بجٹ اور علمِ نجوم - آصف اکبر

https://www.youtube.com/watch?v=A-f_ppxuDfQ&list=PLzcKFFkG4lWMunvQ3Y0egUKZRB24D9cD4&index=4&t=253sکل (7 ستمبر 2020 کو) میرے چھوٹے بیٹے انس کا ابوظہبی سے فون آیا۔ خیر خیریت کے بعد اس نے مجھے بتایا کہ اسے آسٹریلیا سے واپس آئے  ایک ہفتہ ہو چکا ہے۔ یہ ایک ہفتہ اس نے اپنے گھر پر ہی قرنطینہ میں گزارا ہے۔ اور ابھی  ایک ہفتہ اور  اسے قرنطینہ میں رہنا ہے۔
مجھے ہنسی آئی۔ اسے سڈنی میں ایک ہفتے کا کام تھا۔ لیکن وہاں پہنچنے کے بعد دو ہفتے قرنطینہ میں رہنا پڑا۔ ہفتہ دس دن میں اس نے اپنے کام کیے۔ اس طرح ایک ہفتے کے کام کے لیے اسے 35 دن کی چھٹّی لینی پڑی۔
لیکن، اس نے بتایا کہ، اس کے مینیجر نے صرف 8 دن کی چھٹی گنی اور باقی دنوں کی حاضری لگا دی۔  اس طرح اسے چار ہفتے کی تنخواہ سے محروم نہیں ہونا پڑا۔
میں نے پوچھا تمہارے پاس ایسی کون سی جادو کی چھڑی ہے جو تمہارا مینیجر تم پر اتنا مہربان ہے۔ اب تو تمہاری شادی بھی ہو چکی ہے اور اس بات کا بھی اندیشہ نہیں کہ مینیجر کو کوئی امکانی داماد نظر آ رہا ہو۔
اس سے پہلے، جب اس کی شادی نہیں ہوئی تھی،    کبھی ایسا بھی  ہوتا تھا کہ  وہ پاکستان ایک ہفتے کے لیے آتا تھا تو ہیومن ریسورس ڈپارٹمنٹ والیاں  اس کی تین دن کی چھٹی لگا دیتی تھیں۔
پھر اس کی شادی ہو گئی۔ یوں تو ایک در  بند ہوتا  ہے تو ہزار در کھلتے ہیں۔ جہاں در ہی کم ہوں وہاں سو   در کھلتے ہیں۔  مگر شادی ایسا   در ہے  کہ ایک در کھلتا ہے تو ہزار بند ہو جاتے ہیں، اور مردِ بیچارہ اسی ایک در کی دربانی کرتا رہ جاتا ہے۔
تو پھر اس مہربانی کی وجہ؟ میں نے پوچھا۔
یہ نوجوان ایک پلانٹ سیفٹی انجینیرنگ کنسلٹنٹ ہیں۔ اور سیفٹی کے لوگوں کو عوام اتنا ہی پسند کرتے ہیں جتنا اسکول کے بچے گیٹ کے چوکیدار کو۔
اس نے کہا میں نے یہ تیر مارا اور وہ تیر مارا۔ لاک ڈاؤن کے دنوں میں کمپنی کے چھ ملکوں  کی آپریشنز کی زیادہ سے زیادہ گھر سے کام کرنے کے ہدف کی پلاننگ کی۔ اور  اب تو بجٹ بنانے کا کام بھی مجھے دے دیا گیا ہے۔ اس لیے میرے مینیجر نے  چونکہ مجھ سے آن لائن کام لیا تھا،  اس کے عوض مجھے آن ڈیوٹی شمار کیا۔
اس پر میں نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا۔ خیر فلک کا تو کچھ نہیں بگڑا اس قہقہے سے۔ ویسے بھی اسے مجھ سے ایسی ہی توقع رہتی ہے۔
مگر نوجوان ضرور حیران ہوا کہ  اس میں ہنسنے اور وہ بھی ایسا ہنسنے کی کیا بات ہے۔
میں نے کہا بیٹا اگر بجٹ بنانے کی ذمّہ داری لے ہی لی ہے تو علم نجوم بھی سیکھ لو۔
اس پر اس نے بھی ایک قہقہہ لگایا اور بولا جی مجھے بھی اس بات کا احساس ہو رہا ہے۔
میں نے کہا کہ میں نے بھی اپنی ملازمت کے آخری پانچ چھ سال یہ ناخوشگوار فریضہ انجام دیا ہے اپنے ڈپارٹمنٹ کا بجٹ بنانے کا۔ اور انسان چاہے کچھ کر لے جب تک نجومی نہ ہو کبھی ایک کامیاب   بجٹ نہیں بنا سکتا۔ کسے خبر کل کسے کس چیز کی ضرورت پڑ جائے۔ اسی لیے  ہر بجٹ میں ایک خطیر رقم  اضطراری کیفیات کے لیے رکھی جاتی ہے۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ نے بجٹ میں رقم نہیں رکھی اور  اس چیز کی ضرورت پڑ جائے تو بجٹ بنانے والے کی شامت۔   اور اگر آپ نے رقم رکھ دی ہے اور ضرورت نہ پڑی تو بھی شامت۔ مثلاً بارش سے احاطے کی دیوار گر پڑی تو اس کی مرمّت کے لیے بجٹ میں پیسے کون پہلے سے رکھ سکتا ہے۔
مسئلہ سارا جب پیدا ہوتا ہے جب  انتظامیہ اچانک کوئی بڑا فیصلہ کر لے یا اسے کرنا پڑ جائے۔ جونیجو صاحب کی حکومت آئی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ تمام سرکاری افسران سے بڑی کاریں واپس لے کر ان کو 600 سی سی کی سوزوکی کاریں دی جائیں۔ سرکاری تالیاں بجانے والوں نے تو سماں باندھ دیا۔ مگر بجٹ ہر جگہ کم پڑ گیا۔ایک کار کی  قیمت شاید کسی بھی زمانے میں  افسر کی ایک سال کی تنخواہ سے  کم نہ رہی ہو۔ اب بیچارے بجٹ بنانے والوں کو کیا خبر تھی کہ یہ نئی افتاد آ پڑے گی۔
ہم کو جب بجٹ بنانے کا کہا گیا تھا تو ایک سال کا نہیں تین سال کا بجٹ بنانا تھا۔ اور بجٹ بھی اپنے ڈپارٹمنٹ کا بنانا تھا۔ یعنی یک نہ شد سہ شد۔ اور سونے پر سہاگہ یہ  کہ زیادہ تر اخراجات ایسے تھے جن کے بارے میں نجومی بھی زائچہ بناتے ہوئے گھبرائے۔ جیسے کاغذ  اور پرنٹر  کا خرچ۔ اب ٹریننگ کے بزنس میں کاغذ تو ایک بڑا خرچ ہوتا ہے۔ تو یہ بات تو نجومی بھی  نہیں بتا سکتا تھا کہ آنے والے تین سالوں  میں کتنے لوگ ٹریننگ کے لیے آئیں گے اور آئیں گے بھی یا نہیں، کیونکہ جب کبھی اخراجات میں کمی کی کوئی مہم چلتی ہے تو اس کا پہلا شکار ٹریننگ کے اخراجات ہی ہوتے ہیں۔ اور یہ بھی کوئی نجومی نہیں بتا سکتا تھا کہ کب کوئی پرنٹنگ مشین خراب ہو جائے گی اور نئی لینی پڑے گی۔
ویسے تو سائنس اور  ٹیکنالوجی نے بڑی حد تک نجومی کی جگہ لینے کی کوشش کی ہے۔ مثلاً اگر آپ کسی ماہر شماریات کو جنوری سے جون تک زمین کے  روزانہ کے درجہ حرارت کے  اعداد و شمار دے دیں اور کہیں کہ بتاؤ تین سال بعد زمین  کا درجہ حرارت  کتنا ہوگا تو  وہ بڑی صحت کے ساتھ آپ کو بتا سکتا ہے کہ تین سال بعد اوسط درجہِ حرارت دو سو ڈگری سینٹی گریڈ ہوگا۔ لیکن ہم اتنے بھی ٹیکنالوجی پرور نہیں تھے۔ سو کام اپنے بجٹ خیز ذہن سے ہی لیتے رہے۔
اس ضمن میں آسان طریقہ تو یہی تھا کہ توپ کا لائسنس  مانگو تو پستول کا ملے گا۔ یعنی آپ بجٹ میں ہر امکانی خرچ ڈال دیں۔ اب منظور کرنے والوں کی مرضی منظور کریں یا نہ کریں۔ لیکن ایک لطیفہ اس ضمن میں بھی ہوا۔
ہمارے پاس ایک ڈرلنگ سیمولیٹر تھا۔ وہ ہو گیا خراب۔ اور تھا اتنا پرانا کہ ٹھیک کرنے سے خود بنانے والوں  نے انکار کر دیا تھا۔  یہ شاید 2000 کی بات تھی جب لاکھ روپے بھی بڑی بات ہوتے تھے اور اس سیمولیٹر کی قیمت پاکستانی رپیوں میں 3 کروڑ بنتی تھی۔   سو ہم نے یہ رقم بجٹ میں ڈال دی۔ جب بجٹ پر غور و خوض ہونے لگا تو معاملہ فہم نظریں  اس تین کروڑ پر پہنچ کر رک گئیں۔
محکمہ خزانہ  کے کرتا دھرتا نے ہم سے پوچھا کہ یہ اتنی بڑی رقم تین کروڑ؟ شاید ان کو یقین تھا کہ ہم نے غلطی سے تین لاکھ کی جگہ تین کروڑ لکھ دیا ہے۔ ہم نے کہا جی ہاں جناب  یہ مشین اتنی ہی قیمت کی آتی ہے۔ کہنے لگے اس کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔ ہم ہم نے ان کو یقین دلا دیا کہ اس سے بغیر بالکل کام نہیں چل سکتا تو انہوں نے ایک نیا شگوفہ چھوڑا۔ فرمانے لگے ایسا کرتے ہیں ڈیڑھ کروڑ  اس سال کے بجٹ میں رکھ دیتے ہیں اور ڈیڑھ کروڑ آئندہ سال کے بجٹ میں۔ ہماری تو ہنسی چھوٹتے چھوٹتے رہ گئی۔ ہم نے عرض کیا کہ جناب کیا یہ ممکن ہے کہ آپ آدھا ہوائی جہاز اس سال خریدلیں اور آدھا آئندہ سال تو وہ بھی سوچ میں دھنس گئے۔ اور پھر پرنالہ  وہیں گرا کہ بجٹ  میں یہ آئٹم نامنظور۔ اور پھر وہ چیز کبھی خریدی ہی نہیں گئی۔
بہرحال جو ہوا  اچھا ہوا۔ اس کے چار سال بعد ہم نے وہ ملازمت چھوڑ کر اپنی ایک کمپنی بنا لی تو اس سمولیٹر کا نہ خریدا جانا ہمارے لیے بہت فائدہ مند ہوا۔ اور ہم  نےاسی چیز کی تربیت ایک غیر ملکی کمپنی کے تعاون سے فراہم کر کے بہت اچھا کاروبار کیا۔
ویسے لوگ گھر کا بجٹ بھی بناتے ہیں مگر ہم نے یہ بجٹ ہمیشہ فیل ہی ہوتے دیکھا ہے۔ گھر کا بجٹ بنانا دبلا ہونے کا ایک اچھا طریقہ ہے کیونکہ اس صورت میں آپ  قاضی شہر بن جاتے ہیں۔ سیدھی سی بات ہے نہ آمدنی بڑھانا آپ کے اختیار میں ہوتا ہے نہ اخراجات کم کرنا۔ کم کرنا تو بہت دور کی بات ہے اخراجات بڑھنے نہ دینا بھی ایک ناممکن بات ہوتی ہے۔ تو بجٹ بنانے کا مطلب آنے والی پریشانیوں کی پیشکی بکنگ کرنا ہی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں۔
اسی طرح لوگ ملک کا بجٹ بھی بناتے ہیں اور سادہ لوح اس کو غور سے سنتے اور پڑھتے بھی ہیں۔ ان کو یہ اندازہ کم ہی ہوتا ہے کہ بجٹ تو اصل بجٹ کا ضمیمہ ہی ہوتا ہے۔  اصل بجٹ تو ضمنی بجٹ کے نام پر یا گاہے بگاہے ٹیکس بڑھا کر ہی نافذ کیا جاتا ہے۔ یعنی قبلہ کو اہلِ نظر قبلہ نما کہتے ہیں۔
  ہاں گھریلو بجٹ کے مقابلے میں ملکی بجٹ بنانے والوں کے پاس آمدنی بڑھانے کا پورا اختیار ہوتا ہے۔ ملک کا بجٹ بنانا نسبتاً آسان ہے اور اس کے لیے علم نجوم کی قطعاً ضرورت نہیں ہوتی، اس لیے ملکی بجٹ ہم تو کیا کوئی بھی وزیرِ خزانہ آسانی سے بنا سکتا ہے۔ بس اس  کی جبلّت مویشیوں والی ہونی چاہیے، یعنی جہاں ذرا سی گھاس اگنی شروع ہوئی فوراً اس پر منہ مارا اور جڑ تک کھود ڈالی۔
ویسے ہم ہمیشہ حیران ہوتے ہیں کہ علم نجوم ہمارے یہاں تعلیمی اداروں میں کیوں نہیں پڑھایا جاتا۔ حالانکہ ہمارے پاس اس شعبے کے عالمی سطح کے ماہرین موجود ہیں۔ جنتر منتر کے ہم یوں تو ہزاروں برسوں سے دھتی رہے ہیں مگر اب منتریاں حکومت کے قبضے میں چلی گئیں  اور جنتریاں ہمارے لیے رہ گئیں۔ ہم جنتریاں تو بچپن  سے دیکھتے آئے ہیں، منتریوں کو بڑے ہو کر دیکھنا پڑا۔  تو جب ہم ایسی ایسی مستند جنتریاں  وجود میں لا سکتے ہیں تو ایک نجوم یونیورسٹی کیوں نہیں بنا سکتے جس  سے علم نجوم کے پی ایچ ڈی پیدا ہوں اور بجٹ سیکشنز کے سربراہ بنیں۔
------------------
آصف اکبر
------------------

٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭

شگفتگو- خرّاٹے اور غرّاٹے

آصف اکبر سے فون پر خیرو خیریت  کے لئے رابطہ کیا  حالاتِ حاضرہ  و ناظرہ کے بعد  طبیعاتِ عمر رسیدگی و بوسیدگی کا باب کھولا ، اُنہوں نے مشورہ دیا  کہ بہتر ہے الگ کمروں میں سویا جائے ۔  تاکہ طعنے  اور غراہٹ نہ سننی پڑیں :

کیا بچوں کی طرح کان میں  ہیڈفون لگائے سن رہے ہیں ؟
آپ کے لیپ ٹاپ کی روشنی ، سے نیند خراب ہوتی ہے!
کیا آپ خاموشی سے ٹائپ نہیں  کر سکتے جو ٹائپ رائٹر کی طرح کھڑ کھڑ ا رہے ہیں ؟
یہ آدھی رات کو کِس  سے گپیں لگ رہی ہیں ؟
بھائی کیوں دشمنی کرنے پر تلے ہو ؟ اِس عمر میں الگ کمرے  میں سونے کا مطلب تو یہ ہے کہ صبح ہی معلوم ہو کہ بوڑھا ، دارِ فانی سے کوچ کر گیا ہے   یا بڑھیا   -
رات کو کم از کم ، ایک دوسرے پر نظر تو ڈال لیتے ہیں کہ سانس چل رہی ہے یا نہیں !
ویسے بھی اِس عمر  میں ویسے ہی سانس سے زیادہ خراٹے زندگی کا ثبوت دیتے ہیں ۔
ایک دفعہ چم چم کو عدیس ابابا میں بوڑھے اور بڑھیا کے ساتھ سونے کا شوق چُرایا ۔ بڑھیا نے اپنے ساتھ سُلانے سے انکار کر دیا ۔کہ تم رات کو سوتے میں بہت اچھلتی ہو ۔ بوڑھے نے اپنے بیڈ کے ساتھ نیچے میٹرس بچھا لیا  تاکہ اگر بوڑھا گرے تو زیادہ چوٹ نہ آئے ، ویسے بھی اِس عمر میں ہڈیاں گورنمنٹ کے منصوبوں کی طرح جڑتی ہیں اور پائداری بھی نہیں ہوتی -
خیر چم چم بوڑھے سے نمو کے   بچپن کے قصے سنتے سنتے سوگئی اور بوڑھا چپکے سے میٹرس پر اتر کر سو گیا۔
صبح چم چم اُٹھی ، تو شکوہ کیا کہ وہ بہت ڈسٹرب نیند سوئی ، کیوں کہ  آپ دونوں بہت زور سے سنورنگ کرتے ہیں -
ویسے آوا ، آپ نانو سے زیادہ سنورنگ کرتے ہیں  اور بابا  بہت  زو ر سے سنونگ کرتے ہیں ، کیوں؟ - چم چم نے پوچھا
" بات یہ  مردوں کے زور سے سنورنگ کرنے کی خاص وجہ ہے " بوڑھا بولا
وہ کیا ؟ - چم چم نے پوچھا
" آہ یہ ایک لمبی ، مزاحیہ اور درد بھری کہانی ہے ، کبھی وقت ملا تو سناؤں گا"۔ بوڑھے نے سسپنس پیدا کرتے ہوئے کہا ۔
"نہیں ابھی سنائیں " چم چم بولی ۔
" دن کو کہانی نہیں سناتے ، مسافر راستہ بھول جاتے ہیں " بوڑھا بولا
" آوا، آپ  کون سا مسافر کو کہانی سنا رہے ہیں ؟" چم چم نے جواب دیا
" سنا دیں نا کیوں تنگ کر رہے ہیں ؟" بڑھیا بولی
"اوکے " بوڑھابولا ۔
مائی سوئیٹ ھارٹ ، میرے جو سُپر گریٹ گرینڈ فادر تھے وہ غاروں میں رہتے تھےاور غار بھی خوفناک جنگلوں میں تھے  اور وہاں ہر قسم کے خوفناک جانور بھی تھے "
" آر یو شیور ؟ " چم چم بے یقینی سے بولی " آپ سچ کہہ رہے ہیں ؟"
" سو فیصد " بوڑھا بولا ۔
"تو چم چم ، میری جو سُپر گریٹ گرینڈمدر تھیں وہ  بہت ڈرتی تھیں - آپ کی نانو کی طرح "
" اچھا پھر؟" چم چم بولی
" تو ہوتا یہ تھا ، کہ رات کو غار کے دروازے کے باہر کوئی ، آواز آتی تو  میری  سُپر گریٹ گرینڈ مدر ، ڈر کرآواز نکالتیں ، آ آ آ آ ،  تو میرے  سُپر گریٹ گرینڈفادر اپنا ڈنڈا اُٹھا کر شور مچاتے باہر نکلتے اور کوئی بھی جانور وہاں ہوتا وہ ڈر کر بھاگ جاتا- " بوڑھا بولا ۔

"ان پر وہ جانور حملہ نہیں کرتا؟" چم چم بولی
" ارے نہیں ، پہلے تو وہ جانور سُپر گریٹ گرینڈ مدر کی آواز سے دبک جاتا اور پھر  سُپر گریٹ گرینڈفادر کے شور مچانے  اور ڈنڈے کے خوف سے بھاگ جاتا " بوڑھا بولا ۔
" اُس کے بعد وہ پھر آتا " چم چم نے پوچھا ۔
" بالکل " بوڑھا بولا " ساری رات  یہ تماشا جاری رہتا "
" لیکن اِس کا آپ کے سنورنگ سے کیا تعلق ؟؟" چم چم نے پوچھا
"بتاتا ہوں ، بتاتا ہوں "  بوڑھا بو لا -" اِسی لئے تو میں نے کہا تھا -یہ ایک لمبی ، مزاحیہ اور درد بھری کہانی ہے "
 " اچھا ، آگے سنائیں؟" چم چم بولی
" ہاں ، تو چم چم ۔ سُپر گریٹ گرینڈ مدر اور فادر کے بچے بڑے ہوتے گئے ، اُنہوں نے بھی رات کو یہ شور مچانا جاری رکھا -پھر اُن بچوں کے بچے ہوئے ،اُنہوں نے بھی رات کو یہ شور مچانا جاری رکھا -"
" یہ کتنے سال پہلے کی بات ہے ؟" چم چم نے پوچھا -
" تقریباً دس ہزار، چھ سوپینتیس سال ، آٹھ مہینے اور 15 دن پہلے  " بوڑھے نے بتایا -
" آوا ، آپ جوک کر رہے ہیں " چم چم بولی " میں نے آپ کے سنورنگ کا پوچھا ہے ۔ آپ کے سپر گریٹ گرینڈ فادر کی شاوٹنگ کا نہیں ، اُس سے کیا تعلق ہے ؟ "
" چم چم میں نے کہا ہے نا کہ یہ بہت لمبی ، مزاحیہ اور درد بھری کہانی ہے "بوڑھا بولا " اگر یہ کہانی سننا ہے تو صبر سے بیٹھنا ہوگا- ورنہ میں بوڑھا آدمی ہوں اور دماغ کمزور ہے کہانی بھول جاؤں گا  "
 " اوکے اب نہیں بولوں گی آپ سنائیں "چم چم بولی
" ہاں تو میں کیا کہہ رہا تھا؟ " بوڑھے نے چم چم سے پوچھا ۔
" آپ کے  گرینڈ فادر، شاوٹنگ کرتے تھے ؟" چم چم بولی
" میں نے ایسا تو نہیں کہا " بوڑھا بولا " میرے   گرینڈ فادر بالکل شور نہی ںکرتے تھے "
" اوہ سوری  سپر گریٹ گرینڈ فادر" چم چم بولی
" نہیں ، چم چم  میں نے شاید کہا تھا، سُپر گریٹ گرینڈ مدر اور فادر کے بچے بڑے ہوتے گئے ، اُنہوں نے بھی رات کو یہ شور مچانا جاری رکھا -پھر اُن بچوں کے بچے ہوئے ،اُنہوں نے بھی رات کو یہ شور مچانا جاری رکھا -"
" اوہ ، یس " چم چم بولی -
" ہاں تو پھر اُن کے بچوں ، کے بچوں ، پھر اُن بچوں کے بچوں   نے بھی رات کو شور مچانا شروع کیا اور یہ اُن کی عادت بن گئی۔  غاروں سے وہ درختوں پر سونے لگے ، لیکن  جب بھی رات کو گریٹ گرینڈ مدر ڈر کر شور مچاتی اور گریٹ گرینڈ فادر  نیند سے شور مچاتے اٹھتے  اور بعض دفعہ زمین پر گر جاتے اور ٹانگ ، ہاتھ ، بازو اور کبھی تو، اگر زیادہ اونچے درخت پر سوتے تو گردن تڑوا لیتے"
" اوہ مائی گاڈ ، وہ اپنے آپ کو باندھ کیوں نہیں لیتے ، تاکہ گریں نہیں" چم چم بولی
" سو انٹیلیجنٹ آئیڈیا چم چم  سو انٹیلیجنٹ"بوڑھا بولا " مجھے معلوم ہے کہ آپ جینئیس ہو ، شاباش ۔ تو گریٹ گر ینڈفادر  کی گریٹ گرینڈ ڈاٹر نے یہی مشورہ دیا - اُس کے بعد  ۔ گریٹ گر ینڈفادر نے یہ مشورہ سب قبیلے کو بتایا اور سب مردوں نے خود کو  رات کو درختوں سے خود کو باندھنا  شروع کر دیا -لیکن ایک پرابلم پیدا ہو گئی "
" وہ کیا ؟" چم چم نے پوچھا ۔
" صبح کے وقت کوئی گریٹ گر ینڈفادر ،   درخت سے الٹا لٹکا ملتا ، اور کبھی کمر کے بل بندھا لٹکا ہوتا "  بوڑھا  بولا -
" امیزنگ ، پھر تو بچے خوب ہنستے ہوں گے " چم چم ہنستے ہوئے بولی  " بڑا مزہ آتا ہوگا "
" وہ تو ٹھیک ہے " بوڑھا بولا " لیکن سب روتے بھی تھے ، جب کوئی گریٹ گر ینڈفادرگردن سے لٹکا ملتا"
" اوہ ، سو سیڈ ، تو وہ درخت پر گھر کیوں نہیں بنا لیتے " چم چم بولی " تاکہ ایکسیڈنٹس نہ ہوں "
" ایسا ہی ہوا " بوڑھا بولا " اُنہوں نے درختوں پر اپنی ہٹس بنانا شروع کر دیں "
" گریٹ ، اب تو وہ سیف ہو گئے ، تو پھر بھی شور مچاتے ؟" چم چم بولی
" یقیناً کیوں کہ ، پینتھرز اور چیتا تو درخت پرچڑھ سکتے ہیں " بوڑھا بولا " لہذا اِن درندوں کو ڈرانے کے لئے شور کا سلسلہ جاری رہا ۔ یعنی عورتیں ڈر کر چلاتیں اور مرد شور مچاتے "
" آوا ، جب لوگوں نے زمین پر گھر بنائے ، تو پھر اُنہوں نے درندوں کو بھگانے کے لئے شور مچانے کا سلسلہ ختم کر دیا ؟" چم چم نے پوچھا -
" چم چم، یہ بتاؤ کہ کیا یہاں کوئی شیر یا چیتا ہے " بوڑھے نے پوچھا -
" نہیں ، وہ تو  زو میں ہوتے ہیں " چم چم بولی
" تو تمھاری نانو ، ڈر کر کیوں چینختی ہیں ؟"بوڑھے نے پوچھا
" وہ تو ، کسی بھی چیز سے ڈر کرچینختی ہیں ؟ چم چم بولی " لیکن اِس کا سنورنگ سے کیا تعلق ؟"
" بہت گہرا تعلق ہے ، میری   جینئیس چم چم " بوڑھا بولا " آپ سوچو ؟"
" کیا ڈرنا ، نانو کی عادت بن چکی ہے ؟ " چم چم بولی
" نہیں رات کو سوتے میں ڈر کر شور مچانا " بوڑھا بولا -
" آپ کا مطلب رات کو سنورنگ کرنا " چم چم بولی
" ایگزیکٹلی ، یہ سنورنگ ہی  وہ عادت ہے جو تمھاری نانو کی گریٹ گر ینڈمدر سے آرہی ہے" بوڑھے نے جواب دیا

" لیکن آپ کے خراٹے ، نانو سے زیادہ  لاؤڈ ہوتے ہیں " چم چم بولی ۔
" مائی سوئیٹ ہارٹ، مردوں خراٹے نہیں ، بلکہ غراٹے  ہوتے ہیں " بوڑھا بولا -
" اوہ تھینکس گاڈ ،  میں رات کو سنورنگ نہیں کرتی ، مجھ پر یہ ٹریڈیشن ختم ہو گئی ہے " چم چم  بولی -
اور پھر بوڑھے نے چم چم کو اُس کے غراٹے لینے کی وڈیو دکھائی تو اُسے یقین ہو گیا ، کہ خراٹوں اور غراٹوں کی یہ ٹریڈیشن کبھی ختم نہیں ہوسکتی  ۔  


٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭

شگفتگو - نثریے - عاطف مرزا

کام،

بات چل رہی تھی قائد اعظم کے کام، کام کے فلسفے پر، ہم نے عرض کیا
قائد کو اردو نہیں آتی تھی،انہوں نے فرمایا تھا،
Calm, Calm, Calm
قوم کو انگریزی نہیں آتی تھی،
اُس کی سمجھ میں آیا،
کام، کام، کام
اور اُس روز سے قوم کام ہی کر رہی ہے۔


٭علاج٭

گرمی دانے بڑے تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ جب کسی کو گرمی دانے نکلتے تو پڑے بوڑھے کہتے کہ مٹی میں لوٹنیاں لگائیں۔ہم حیران تھے کہ اِس کی کیا توجیہہ ہے۔
بڑے ہوئے تو پتا لگا کہ یہ علاج تو حکیم الامت نے بہت عرصہ پہلے بتلایا تھا،
ع
کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے.

حقیقت
ہمارے اکثر اداروں کے نمبر ایک، ایک نمبر نہیں ہوتے۔

عاطف مرزا
 

شگفتگو-سوشل میڈیا کی پرلطف سطحی پوسٹیں- ڈاکٹر عزیز فیصل

انسان طبعاً آزاد پیدا ہوا ہے لیکن ڈیجیٹل انسان سمجھتا ہے کہ وہ "کچھ زیادہ" ہی آزاد پیدا ہوا ہے۔ گوکہ ریاضی میں کل دس ڈیجٹ ہوتے ہیں لیکن ڈیجیٹل نسل نو نے آزادی کے نام پر کئی اضافی ڈیجٹ بھی بنا رکھے ہیں جنھیں وہ عشق کی ریاضیاتی تشریح کے دوران استعمال کرتی ہے۔ یہ  "مابعد دس" ڈیجٹ بالکل اسی طرح کے ہیں جیسے کوئی جعلی نوٹ چھاپ رہا ہو یا جیسے حکومت  فالتو نوٹ چھاپ  رہی ہو۔  سوشل میڈیا وہ لاوڈ سپیکر ہے جہاں آپ دوسرے لوگوں کو مولوی سے بھی زیادہ تنگ کر سکتے ہیں۔اس چھیڑ خوانی میں یہ سہولت بھی موجود ہے کہ  کوئی آپ کا بال بیکا بھی نہیں کرسکتا چاہے آ  پ بالکل ہی  گنجے نہ ہوں۔ بڑی عمر کےآزاد خیال لوگوں کی سوچ کا سی ٹی سکین کیا جائے تو اس میں ان سیٹیوں کا عکس بھی نظر آتا ہے جنھیں وہ گلی کوچوں میں بجا بجا کر بوڑھے ہوئے ہیں۔
سوشل میڈیا کے کئی رنگ ہیں جو گرگٹ سے بھی زیادہ تیزی سے بدلتے رہتے ہیں۔ مردوں نے "قبول ہے" تین بار کہہ کر اس دوشیزہ کو منہ بولی بیوی بنایا ہوا ہے  جبکہ خواتین نے   اسے "غیرراز دار ترین "سہیلی کا سٹیٹس دے رکھا ہے۔ساشل میڈیا پر شئیر کی جانے والی سطحی پوسٹوں کی نوعیت درج ذیل ہو سکتی ہے:بھڑاس نکالنی ہو، علمیت جھاڑنی ہو، جہالت کی سیلفی لگانی ہو،  اپنے ذاتی دکھ سکھ  کی وڈیوشئیر کرنا ہو، پگڑی یا ساڑھی اچھالنی ہو،  خیالات بالجبر تھوپنے ہوں، شادی، منگنی، طلاق کا بیانیہ جاری کرنا ہو، کسی خاس برے واقعے  کا اپنے علاوہ سب کو ذمہ دار قرار دینا ہو،   دوسرے کی آنکھ کا تنکا  صراحت سےدکھانا ہو، اپنی آنکھ کا شہتیر چالاکی سے چھپانا ہو، کسی کے مرنے کی اطلاع اس کے ساتھ کھنچوائی گئی تصویر کی مدد سے دینی ہو،  میک اپ سے لے کر خضاب تک کی رونمائی کرنی ہو،  جوانی کا کلپ نشر کرنا ہو ،   مبارکباد دینے کی خارش  پر گڈ مارننگ،جمعہ مبارک، ہیپی رینی ڈے  وغیرہ کا سہارا لینا ہو،  خااندان کے کسی  دور پار کےبڑے چھوٹے عزیز رشتہ دارکی افسوس ناک موت کی اطلاع دینی ہو،  وغیرہ وغیرہ۔
اگر فیس  بک کو چھوڑنے والے خواتین و حضرات کی بات کی جائے تو صاف لگتا ہے کہ یہ محصوص افراد اپنے کسی نفسیاتی عیب یا سچ مچ کے عیب  کی وجہ سے خود کو فیس بک پر اتنے ہی کھٹکنے لگتے ہیں جتنا کوئی اکیلا مرد  خود کو  خواتین کی شعری نشست کی صدارت کرتے ہوئے کھٹکتا ہے۔   فیس بک چھوڑنے میں مردوں کے زنانہ مسائل اور عورتوں کے مردانہ مسائل کا ہاتھ ہوتا ہے بلکہ بسااوقات تو فریق مخالف کا دل اور آنکھ بھی ملوث ہوتے ہیں۔سب سے دلچسپ وہ ٹیکسٹ ہے جس میں فیس بک چھوڑنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی کسی دل جلے یا دل جلی نے فیس بک چھوڑنے کا اعلان کچھ یوں کیا۔۔۔"دوستو اللہ حافظ، فیس بک نے مجھے بہت دکھ دیے  ہیں۔ مزید یہاں رہنا ممکن نہیں رہا۔ آپ دوستوں کو چھوڑ کر بہت افسوس ہو رہا ہے لیکن کیا کروں مجھے  ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہاں سے جانا پڑا ہے۔ میرا وٹس ایپ نمبر چوبیس گھنٹے آن رہے گا۔کوئی ایمر جیسی ہو تو فورا مجھ سے رابطہ کرنا، میرے دروازے ہمیشہ آپ کے لئے کھلے ہیں۔" یہ لوگ فیس بک سے اپنی غیرموجودگی کو سب کے لئے اتنا اندوہناک تصور کرتے ہیں جیسے ان کے بغیر  کسی کی گزران کی گاڑی کا ٹائی راڈ ٹوٹ جائے گا،   کسی کے دل کے ہیلی کاپٹر  کے پر جل جائیں گے یا کسی کی زندگی کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو "نائن الیون" ہو جائے گا۔ سب فیس بکی "نسوڑے"   نہایت خشوع و خضوع سےدفع دور ہونے کی اجازت طلب کرتے ہیں۔ انھیں کوئی کہنے والا نہیں ،جو یہ پوچھے کہ جب فیس بک پر آنے کی ہم سے اجازت نہیں مانگی تھی تو یہ جانے کی اجازت کا تکلف کیسا؟  ایسی پوسٹوں پر اکثر کمنٹس ایسے بھی آتے ہین جن کا سادہ اور سلیس ترجمہ "خس کم جہاں پاک" کے قریب قریب ہوتا ہے۔ دوچار کمنٹس ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں موسوف یا موصوفہ کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اگر تم فیس بک سے رخصت ہوئے تو سارا نظام فیس بک رک جائے گا اور اس کی رونق  کی آستینوں میں شیش ناگ گھومنے لگیں گے۔ اگر فیس بک چھوڑنے والا مرد ہوتو  اس کا نوٹس نسبتا کم لوگ لیتے ہیں لیکن اگر فیس بک چھوڑنے والی حسینہ  بے ضرر اکھ مٹکے کی حوصلہ افزائی کرنے والی بھی ہو تو اسے فیس بک چھوڑنے  کا مشورہ نہ دینے والوں کا تانتا بندھ جاتا ہے۔  اب کمنٹس میں ایک بحث چھڑ جاتی ہے کہ اس "مائنس ون" کا پس ماندگان پر طبی اور کیمیائی اثر کیا ہو گا۔کچھ نرم دل لوگ تو  اس جدائی کے بعد  خود کو ایسا اجڑا اجڑا بیان کرتے ہیں کہ اُتنا تو رانجھا بھی ہیر کی جدائی میں برباد نہیں ہوا ہوگا۔  اس سارے ڈرامے کا ڈراپ سین بہت ہی دلچسپ اور مزیدار ہوتا ہے جب فیس بک چھوڑنے والا بندہ دوبارہ فیس بک پر ہی دندنانے کا اعلان کرتا ہے۔ آج تک کوئی ایسا مائی کا لال یا کوئی مائی ایسے نہیں دیکھے جو اعلان کرنے کے بعد واقعی فیس بک سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چلے گئے ہوں۔ یہ گیم یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ فیس بک پر دوبارہ واپسی   کے بعد ایسے  افراد کی پھرتیاں پہلے سے بھی زیادہ بڑھ جاتی ہیں اور وہ تازہ "مینڈیٹ" کے بعد زیادہ کھل کر کھیلنے لگ جاتے ہیں۔ ایسے افراد اپنے الفاظ کا "پاس" رکھنے میں مکمل طور پر "فیل" ہوتے ہیں۔

٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭

شگفتگو- رشتہ دار

ہفتہ، 8 اگست، 2020

شگفتگو- نمّو اور بولنے والا پراٹھا - مہاجرزادہ

یہ تصویر مجھے اپنا بچپن  یاد کرا گئی ۔ 

جب سکول سے دیر ہونے پر ، امّی پراٹھے پر اچار کا مصالحہ مسل کر ہاتھ میں پکڑا دیتی اور کہتیں ،
" نمّو راستے میں کھا لینا اور ھاں کسی دوست کو نہ دے دینا "

سکول پہنچتے پہنچے اچار پراٹھا کھا لیا جاتا جو گھر سے سو گز کے فاصلے پر تھا ۔ اور سکول میں لگے ہوئے نلکے سے منہ دھو کراور  پانی پی کر اسمبلی میں جا پہنچتے ۔
پھر جونہی آدھے گھنٹے کی بریک ہوتی ، نمّو  بھاگتے ہوئے گھر آتا، امّی نے چھلیاں ابال کر رکھی ہوتیں ۔آپا اور چھوٹے بھائی (امّو ) کا حصہ بھی امّی کے ھاتھ کی بنائی ہوئی کپڑے کی تھیلی میں لیتا اور راستے میں اپنی چھلی کھاتے ، سکول پہنچ کر دونوں کا حصہ انہیں دے دیتا ۔
امّی کی بنائی ہوئی چھلیوں سے، اصلی گھی کی سوندھی سوندھی خوشبو آتی ۔ ناشتہ  ایک ہی ہوتا یعنی ، پراٹھا اور چائے ۔ پراٹھا بھی ڈبل پرت کا کرکراتا ہوا ہوتا ۔ جس کے اندر نرم چکر دار گودا ہوتا ،
جونہی امی سیدھے توے سے پراٹھا اتارتیں ، نمّو اپنا پراٹھا لے کر چارپائی پر جا بیٹھتا فوراً اُس کی بھاپ نکالتا اوپر کی پرت الگ اور نیچے کی الگ کرتا اور نہیں ٹھنڈا کرنے اور کڑک ہونے کے لئے رکھ دیتا ، ساتھ ہی نرم گودا چائے میں ڈبو کر کھاتا ۔

اُس کے بعد کڑ کڑ کرتی پرتیں ۔ کھاتا لیکن نظریں چھوٹے بھائی پر ہوتیں کہیں وہ پرتوں پر بلّی کی طرح جھپٹا نہ مارے ۔
پھر نّمو گھر سے دور چلا گیا جب چھٹیوں پر گھر آتا تو امّی وہی پراٹھا بنا کر دیتیں ، نمّو چوکی پر بیٹھ کر پراٹھے سے بھاپ نکالتا اور پرتیں علیحدہ کئے امّی سے باتیں کرتا ہوا ، بغیر چوکنا ہوئے کھاتا ، کیوں کہ امّو بھی نوکری پر دور جاچکا تھا ۔ 

پھر نمّو کی شادی ھوگئی ، اُس کی بیوی کو بھی کڑکڑاتا پراٹھا بنانا آتا تھا ، بچے ہوئے ، چھوٹے بچے کی ضد ہوتہ کہ ،
" پپّا کی طرح " بولنے والا پراٹھا " ہی کھاؤں گا ۔

اب کہاں وہ بولنے والا پراٹھا اور کہاں نمّو !

لیکن ، پریشان نہ ہوں !

اب بھی نمّو بولنے والے پاپوں سے کبھی کبھی ناشتہ کرتا ہے اور پراٹھوں کی آوازکا لطف لیتا ہے ۔ 


٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭٭

شگفتگو- انسانی تاریخ کے ادوار- ڈاکٹر محمد کلیم

 جام ساقی آج کل تاریخ کا مطالعہ زور و شور سے کر رہے ہیں اور ہر ملنے والے شخص پر اپنی علمیت کی جھاڑ ضرور مارتے ہیں کئی نام ان کو یاد ہیں خاص طور پر ٹونی بی کا نام بہت لیتے ہیں۔ ایک دن ہمارے پاس تشریف لائے کہنے لگے یہ سالے انگریز تاریخ کے ادوار بنا سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں ہم نے سمجھایا بھائی آپ بھی تو انگریزوں کو ہی پڑھ رہے ہیں انہوں نے اس پر تحقیق کی ہے۔ جام ساقی نے کہا کیا دور پتھر، لوہے اور تانبے کے ہوسکتے ہیں اور نہیں ہم نے انہیں سمجھایا کہ انہوں نے یہ تقسیم انسان کے آلات کے استعمال کے مطابق بنائی ہے۔ انہوں نے کہا یہ بالکل غلط تقسیم ہے انہوں نے آلات کو اہمیت دی ہے اور انسان کو بھول گئے ہیں۔ ہم نے چڑ کر جواب دیا کہ آپ اپنی تقسیم خود بنا لیں آپ کو انگریز نے روکا تو نہیں ہے۔ جھٹ جواب دیا لو بھائی ہم تو پہلے ہی اس پر کام کررہے ہیں ہم نے پوچھا کہاں کام کررہے ہیں تو جواب دیا بھائی ہم نے ذہن میں تقسیم بنا رکھی ہے جو کہ یوں ہے
عملی دور
پہلا دور عملی کہلاتا ہے اس دور میں بیوی کا تصور موجود نہ تھا مرد اور عورت کا جب بھی دل مائل ہوتا تھا وہ حاجت پوری کر لیتے تھے عشق، محبت وغیرہ کے تصورات موجود نہ تھے۔ انسان اپنی بقا کی جنگ لڑتا تھا اور قبائل کی صورت میں زندگی گزارتا تھا۔ اس دور میں کوئی بھی کام چور نہ تھا سارے انسان ہر وقت عمل میں رہتے تھے خوراک کی تلاش میں اور اپنی حفاظت کے لیے ان کی آنکھیں اور کان کھلے رہتے تھے اور معاشرے میں سب ایک سے تھے۔
تحریری دور
اس دور کی بینادی خصوصیت یہ تھی کہ بیوی کا وجود اس دور میں معرض وجود میں آیا اور مرد آج تک اس کے ظلم و ستم برداشت کررہا ہے۔ اسی دور میں مذہب بنے عورت کو پردوں کے پیچھے چھپا دیا گیا اسی دور میں محبت عشق کا تصور پیدا ہوا اور زبان کا چلن عام ہوا مختلف ہدایات دی جانے لگی۔ اسی دور میں کام چور لوگ بھی پیدا ہوئے جو کام کرنے والوں کے مالک کہلائے جن کو آج کی زبان میں ہم حکمران کہتے ہیں۔ اس دور میں ہمارے علاقے میں کام کرنے والے کو کمی کہنا شروع کیا گیا۔ اخلاقیات بنائی گئی دیکھیں کیسی اخلاقیات بنی کہ کام چور اعلی کہلائے کام کرنے والے نیچ اگر عملی دور ہوتا تو کام چور کب کا بھوک سے یا کسی جانور کے ہاتھوں مارا گیا ہوتا۔ اسی دور میں ادب تخلیق ہوا اور لوگوں کی تفریح کا باعث بنا۔
تصویری دور
تصویری دور کی بینادی خوبی یہ ہے بیوی کی جگہ آہستہ آہستہ گرلز فرینڈ نے لے لی ہے تحریر کی اہمیت کم ہورہی ہے اور تصویر کی زیادہ۔ اب ہر کام تصویر کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اس دور میں مہا کام چور پیدا ہوئے ہیں جو سارا دن سوشل میڈیا پر وقت گزار کر کہتے ہیں کہ انہوں نے بہت کام کیا ہے۔ اب تین قسم کے لوگ ہیں 1) مہا کام چور 2) حکمران 3) کمی
اس دور میں ادب کی اہمیت کم ہوتی جارہی ہے کیونکہ عورت پردے سے باہر سوشل میڈیا پر مل جاتی ہے۔ اب ہجر و وصل کا سرور اور کیف ختم ہو چکا ہے اس لیے محبت ہوتی ہے اور ٹوٹ جاتی ہے لیکن یہ کہنا کہاں تک درست ہوگا کہ وہ محبت تھی لیکن تحریری دور کی بقایات موجود ہیں اس لیے عشق محبت جیسے الفاظ استعمال ہورہے ہیں۔
نوٹ۔ یہ ادوار جام ساقی کے ذہنی اختراع ہیں ان کو تسلیم کرنا ضروری نہیں ہے۔

ڈاکٹر محمد کلیم 

٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭٭

شگفتگو- گھوڑا، گھڑا ، گھڑی اور گھڑیال -آصف اکبر

گھوڑا   رے گھوڑا!
یہ دوجا  ہفتورا  اتنی جلدی پھر آ گیا۔ اب کیا انسان ساری زندگی  مزاحیہ مضامین ہی لکھتا رہے گا۔ ہر ماہ کے دوسرے ہفتہ کے دن، سہ پہر میں ایک  تازہ مزاحیہ مضمون نذر احباب کرنا،  کم داد ملنے پر منہ بسورنا،  دوسروں کے مضامین غلطیاں نکالنے کی غرض سے غور سے پڑھنا، مگر کوئی غلطی نہ ملنے پر مایوس ہو کر داد دینا، پھر مضمون فیس بک پر لگانا، ایک ہفتے تک  محدّب عدسے سے  اس پر کمنٹس تلاش کرنا۔ اپنا ہی مضمون بار بار پڑھ کر ہنسنا، پھر  داد سے مایوس ہو کر دل گرفتہ ہونا۔ دوسرے ہفتے اگلے مضمون کے موضوع کے بارے میں سوچنا۔ مسئلہ یہ کہ جیسے جیسے مضامین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے بقیّتہ السّیف موضوعات کی قلّت ہوتی جارہی ہے۔جیسے تیسے موضوع کا فیصلہ کرنا ۔ تو اب سوال یہ کہ لکھا کیسے جائے۔ اور جب دو دن رہ جائیں تو سر پیٹنا۔
گھوڑا   رے گھوڑا!
'
نہ ہوا ہمارا پرسنل مرزا ہمارے ساتھ، ورنہ  ضرور ہم سے پوچھتا کہ  یہ کیا گھوڑا گھوڑا کی رٹ لگا رکھی ہے، اور تب  ہم اسے نہایت عالمانہ وقار سے بتاتے کہ میرے بھائی یہ ہمارے سندھ میں واویلا کرنے کا ایک مخصوص اندازہے۔ اور پس منظر اس کا یہ ہے کہ چونکہ اس خطّے کو طویل عرصے سے یا شایدہمیشہ سے کبھی باہر کے اور کبھی اندر کے گھڑسوار آکر کبھی فتح کرتے رہے اور کبھی تہہ و بالا کرتے رہے، اور کبھی سیدھے سادے طریقے سے لوٹتے رہے اس لیے جب کسی کو گھڑسوار آتے جاتے نظر آتے تو وہ سمجھ جاتا کہ  برا وقت آ گیا ہے اور لوگوں کو سب سے پہلے خبر دینے کے لیے پوری طاقت سے چلّاتا تھا 'گھوڑا   رے  گھوڑا'۔  ہو سکتا ہے کہ شروع  میں لوگ پورا جملہ کہتے ہوں کہ گھوڑے والے آ گئے  رے بھائیو، گھوڑے والے۔  مگر اتنا لمبا جملہ ادا کرتے کرتے ہو سکتا ہے وہ گھوڑے والوں کے قابو آ جاتے ہوں، تو یہ جملہ گھوڑا  رے گھوڑا رہ گیا۔
اس موقع پر آپ میری تمکنت دیکھتے تو دیکھتے ہی رہ جاتے۔
'
کبھی غشاغشِ غمِ دوراں سے فرصت ملے تو سوچیے گاکہ اگر گھوڑا نہ ہوتا تو اس کا متبادل کیا ہوتا۔  جنگوں میں، گاڑیوں میں، اور شطرنج میں۔ شطرنج میں تو چلیے بیل یا زیبرا ڈال دیا جاتا، گاڑی میں بھی بیل، اونٹ یا گدھا استعمال ہوتا ہی آیا ہے، مگر جنگوں میں گدھا، زیبرا، زرافہ یا بیل؟ اور پھر ہارس پاور کا کیا ہوتا۔
گھوڑے کی مادہ کو گھوڑی کہا جاتا ہے۔ آپ کہیں گے یہ کون  سی نئی بات ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ تعمیرات میں استعمال کی جانے والی لکڑی کی  بنی ایک چیز کو بھی گھوڑی کہا جاتا ہے تو بھی شاید آپ کے کان پر جوں نہ رینگے ۔لیکن اگر میں یہ کہوں کہ کبھی لڑکیوں کو بھی گھوڑی کہہ دیا جاتا ہے اور کبھی بوڑھیوں کو بھی تو آپ یقیناً مستعد ہو کر بیٹھ جائیں گے کہ اب یقیناً کوئی کام کی بات آنے والی ہے۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ،  بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی، اس لیے  ہم صرف دل آرام کی بات کریں گے جس کے بارے میں کہتے ہیں کہ شہنشاہ جہانگیر کی، یا کسی بھی بادشاہ کی کنیز تھی۔ غیرت مند بادشاہ نے شطرنج کی بازی میں موقع پر موجود دل آرام  کو ہی  داؤ پر لگا دیا اور پھر لگا ہارنے۔  دل آرام کنیز ہونے کے باوجود کم از کم شطرنج میں بادشاہ سے زیادہ ہوشیار تھی۔ اب پتا نہیں دوسرا کھلاڑی بہرا تھا، یا فارسی سے نابلد، یا شاہی عتاب سے لرزاں، لیکن دل آرام نے آدابِ لعب کی پرواہ نہ کرتے ہوئے  بادشاہ کو ایک راہ دکھائی، اور بادشاہ  جیت گیا۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس سارے معاملے کا گھوڑی سے کیا  تعلّق تو  عرض کرتا چلوں کہ دل آرام نے اس موقع پر  گھوڑا مارنے کی  بات اس شعر کے پیکر میں کہی تھی؛
شاہا دو رخ بدہ وہ دل آرام را مدہ
فیل وپیادہ پیش کن و اسپ کشت و مات
(اے بادشاہ دو رخ دے دے اور دل آرام کو نہ دے۔ فیل اور پیادہ بڑھا، گھوڑے کو مار اور مات کر۔)
'
گھوڑے کا ایک اور اہم استعمال اسے بحر ظلمات میں دوڑانا ہے۔ تاریخ میں کئی ایسے واقعات  ملتے ہیں جن میں فزکس کے اصولوں  کو سموں تلے روندتے ہوئے، گھوڑے اپنے سواروں کو ان کے ہتھیاروں  سمیت کمر پر بٹھائے، مزے سے تیرتے ہوئے ،دریا  کے پار لے جاتے ہیں۔ لیکن جن غریب غرباء کے پاس گھوڑے  نہیں ہوتے وہ اس مقصد کے لیے گھڑے استعمال کرتے ہیں۔ بہرحال  اس مقصد کے لیے گھڑا استعمال کرنے سے پہلے احتیاطاً  یہ دیکھ لینا  مناسب ہوتا ہے کہ گھڑا کچّا تو نہیں۔ بہرحال اگر گھڑا کچّا  بھی ہو تو جان تو جاتی ہے مگر شعر و ادب کے میدان میں نئی راہیں  بھی نکل ہی آتی ہیں۔
گھڑے عرف عام میں  دو قسم کے ہو سکتے ہیں۔ کورا گھڑا اور چکنا گھڑا۔ کورا گھڑا تو صرف لو کے موسم میں ٹھنڈا پانی فراہم کرتا ہے، مگر چکنا گھڑا  ہر موسم میں اور ہر میدان میں کارگزاری دکھا سکتا ہے۔ خاص کر سیاست میں چکنے گھڑے ہی عموماً بازی مار لیتے ہیں۔
گھڑے  کی اپنی ایک تہذیب ہوتی تھی۔ ہر گھر میں گھڑے تپائیوں پر سلیقے سے  رکھے جاتے تھے، جنہیں گھڑونچی کہا جاتا تھا۔( یہ نہ کہیے گا کہ اس میں سلیقہ کہاں سے آ گیا۔ چلیے  بے سلیقہ ہی سہی)۔  تپائی پر اس لیے رکھے جاتے تھے کہ چارپائی پر رکھنا مشکل تھا۔ چارپائیاں تو ویسے بھی انسانوں کے  لیے یا چکنے گھڑوں کے لیے ہوتی تھیں، اور عموماً ان کے لیے بھی کم ہی پڑتی تھیں۔ پھر ان کے ساتھ پانی پینے کے لیے کٹورے بھی ہوتے تھے۔ ان کٹوروں کو دیکھ کر گھر کی مالی حیثیت کا اندازہ لگانا آسان ہو جاتا تھا۔ اگر چاندی کا کٹورا ہوتا تھا تو پتا چلتا تھا کہ گھر والوں کی چاندی ہے، اور مٹّی کا ہوتا تھا تو گھر والوں کا صرف چاند ہوتا تھا۔
گھڑے کا  پیندا ہمیشہ گول ہی بنایا جاتا تھا۔ اس کی وجہ شاید یہ رہی ہو کہ ایسا برتن بنانا حسن کوزہ گر کے لیے سہل ہوتا تھا۔ صرف یہی تو فرض کرنا پڑے گا کہ  حسن کوزہ گر اگر کوزے بناتا تھا تو گھڑے بھی بناتا رہا ہوگا، کیونکہ بغیر گھڑے کے کوزوں کو اپنا آپ ویسا ہی ادھورا ادھورا محسوس ہوتا ہے جیسے بغیر ماں کے چوزوں کو۔ مگر گول پیندے والے برتنوں میں جہاں یہ خوبی ہوتی ہے کہ بوقت ضرورت انہیں نیچا دکھانا آسان ہوتا ہے، وہیں یہ دشواری بھی ہوتی ہے کہ وہ بلا ضرورت بھی بہ آسانی لڑھک جاتے ہیں۔ چنانچہ کبھی  انہیں اپنی جگہ پر قائم رکھنے کے لیے اینٹ اور پتھر استعمال کیے جاتے ہیں اور  کبھی آئینی شقوں کا سہارا لینے کی  ضرورت بھی پڑجاتی ہے۔
گھڑے کا ہی ایک خوبصورت نام گاگر بھی ہے اور اگر گاگر چھوٹا ہو تو اسے گگریا کہا  جاتے ہے۔ اب گاگر کا ذکر ہو تو پنگھٹ کو کون بھول سکتا ہے اور پنگھٹ بغیر گوریوں کے کس کام کا۔ اگر پنگھٹ پر گوریاں نہ جائیں تو نندلال کس کو چھیڑے گا اور گگریا کس کی پھوڑے گا۔ مگر یہ سب باتیں ہیں ایک رومانی دور کی۔ بیسویں صدی میں گوریوں نے گاگر چھوڑ کر گاگلز اپنا لیے، اور اکیسویں صدی میں گوگل کو مائی باپ بنا لیا۔  لو جی گل ہی مک گئی۔
'
گھڑے سے گھڑی کی طرف جانا اتنا ہی آسان ہے جتنا گھوڑی سے گھڑی کی طرف جانا دشوار۔ ہماری ایک نانی نے بتایا کہ جب وہ مشرقی پاکستان میں تھیں تو ایک بار  دس بارہ افراد کو کسی شادی میں جانا تھا۔ جب سب گھر سے باہر آ گئے اور تالا لگایا جا نے لگا تو شور ہوا گھوڑی لاؤ، گھوڑی لاؤ۔ وہ حیران کہ اتنے لوگ اور ایک گھوڑی۔ پھر کوئی گھر میں گیا اور گھڑی نکال کر لایا، تب یہ عقدہ  کھلا ۔
 ہم نے  غور کیا تو سمجھ میں آیا کہ یہ جو وقت بتانے کا آلہ ہے  اس کو گھڑی اس لیے کہتے ہیں کہ یہ بتاتا ہے کہ اسے کس گھڑی دیکھا جا رہا ہے۔ مگر ایک ہی گھڑی کسی کے لیے شبھ گھڑی ہو سکتی ہے اور کسی کے لیے بری گھڑی۔ بہرحال کئی گھڑی غور کرنے کے بعد بھی ہمیں یہ اندازہ نہیں ہو سکا کہ وقت کے کسی پہر کو گھڑی کیوں کہا جاتا ہے۔ وقت تو ایک اٹل  حقیقت ہے کوئی گھڑی گھڑائی بات نہیں۔ ممکن ہے جیسے  ستارہ شناس لوگوں نے آسمان پر ستاروں کو دیکھ کر شکلیں گھڑ لیں، ویسے ہی وقت کو بھی  گھڑی ہوئی شکل کی نسبت سے گھڑی کہہ دیا ہو۔
 گھڑنا  تو کسی چیز کو شکل دینے کو کہا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ لوگ بہانے بھی گھڑتے ہیں اور داستانیں بھی۔   بات یہیں تک رہتی تو کوئی پریشانی نہ ہوتی مگر لوگ تو تاریخ بھی گھڑتے ہیں اور اس گھڑی ہوئی تاریخ کی بنیاد پر جھگڑے بھی ہوتے ہیں، ہنگامے بھی،  اور  فسادات بھی ۔ بابری مسجد کو کون بھول سکتا ہے۔
پہلے گھڑی ایک قیمتی چیز ہوتی تھی۔ لوگ ہاتھ میں  گھڑی اپنی شان و شوکت کے حساب سے پہنتے تھے۔ مردوں اور عورتوں کے  گھڑی پہننے کے آداب بھی جدا ہوتے تھے۔ اب نہ آداب جدا   رہے نہ پہننے والے۔   شادی کے موقع پر سسرال والے  دلہا کو اس کی حیثیت کے مطابق  گھڑی پہناتے تھے۔ ایک بار ہم نے  دوستوں سے مذاق میں کہا ، یار وہماری شادی کر دی گھر والوں نے ایمرجنسی میں۔ سب ہمیں برا بھلا کہنے لگے مگر ایک بہت کائیاں تھا۔ اس نے ہماری گھڑی دیکھی اور شور  مچا دیا کہ یہ جھوٹ کہہ رہا ہے، گھڑی اس کی وہی پرانی ہے۔
اوائلِ نوجوانی کی بات ہے، شادی نہیں ہوئی تھی، (آجکل  تو پچاس سالہ شاعروں ادیبوں کو بھی نوجوان کہا جاتا ہے، اس لیے ایسے نوجوانوں کی سہولت کے لیے اوائل کا سابقہ لگانا ضروری ہے)، ہم  سانج  ڈھلے ملتان کے حسین آگاہی چوک پر  کسی کا انتظار کر رہے تھے۔ اس ظالم نے وقت تو چھ بجے کا دیا تھا مگر ساڑھے چھ بج چکے تھے اور اس کا کہیں دور دور پتا نہ تھا۔ ہلکی کی گرمی تھی اس لیے ہم نے آستنیں چڑھائی ہوئی تھیں اور ہماری کلائی پر بندھی گھڑی دور سے جھلک رہی تھی۔ اس وقت ملتان میں گھڑی شاید نادر تھی اس لیے ہر گزرنے والا ہم سے وقت ضرور پوچھتا تھا۔ ہم بھی چونکہ انتظار کی کوفت میں گھڑی گھڑی گھڑی دیکھتے تھے اس لیے وقت بتانا مشکل بھی نہ تھا۔ دل تو چاہتا تھا کہ ہر گزرنے والے کو بتائیں کہ دیکھو اتنا وقت ہو گیا ہے اور وہ ابھی تک نہیں آئی، مگر لوگ تو ہوا کے گھوڑے پر سوار تھے۔
پھر وہ ہوا جس کی ہمیں توقع نہیں تھی۔ ایک راہگیر نے ہم سے وقت پوچھا۔ ہم نے گھڑی پر نظر ڈالی اور وقت دیکھا۔ پھر کہا بھائی چھ بج کر پینتیس منٹ ہو گئے ہیں اور ----،    مگر  وہ  بیدرد  اتنی دیر میں کہیں آگے نکل چکا تھا۔ اب ہمیں اندازہ ہوا کہ لوگ باگ عادتاً یا تفریحاً وقت پوچھ رہے ہیں۔
یا شاید وہ بری گھڑی تھی۔ بری گھڑی سے اللہ بچائے۔
اب آپ منتظر ہوں گے یہ جاننے کے لیے کہ پھر کیا ہوا۔  چلیے بتا ہی دیتے ہیں کہ پھر اللہ اللہ کر کے وہ آ گئی۔ ہماری گاڑی۔ ڈرائیور نے بتایا کہ پنکچر ہو گیا تھا اس لیے دیر لگی۔
'
گھڑی اگر  زیادہ بڑی ہوتی تھی تو اس کو گھڑیال بھی کہا جاتا تھا۔ یہ سوچے بغیر کہ گھڑیال تو دراصل ایک مہا مگر مچھ  کو کہا جاتا ہے، جو  شکار دبوچنے  میں  دہنِ طولیٰ رکھتا ہے۔ پہلے ہمارے دیس میں بھی دریاؤں میں گھڑیال  ہوتے رہے ہوں گے، مگر اب ان سب نے انسانوں کا روپ دھار لیا ہے۔ ایک سے ایک نسلی گھڑیال آپ کو  آس پاس ہی مل جائے گا۔ غور کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔
گھڑی گھڑیال  کی ایک خاص بات یہ ہوتی تھی کہ یہ گھنٹا بھی بجاتا تھا، اس سے شاعروں کو شعر کہنے میں سہولت ہوتی تھی۔
غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی، وغیرہ
گھڑیال کی ہی ارتقائی شکل گھنٹا  گھر ہے۔ جو خاندانی گھنٹا گھر ہوتے ہیں ان کی آواز دور دور تک سنائی دیتی ہے۔ بگ بین کی گونج تو ساری دنیا سنتی تھی۔ اگر چاند اور زمین کے درمیان خلا نہ ہوتا تو شاید چاند کی بڑھیا بھی سنتی۔ ویسے بڑھیاں کسی کی نہیں سنتیں۔
گھنٹا گھر بناتے وقت خاص اہتمام کیا جاتا تھا کہ ان کی آواز دور دور تک جائے۔  دن کی حد تک تو غنیمت تھا مگر رات۔ رات جیسے جیسے ڈوبتی تھی، گھنٹوں کی تعداد  بڑھتی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ آدھی رات کو بارہ گھنٹے بجتے تھے۔ جس کو گنتی آتی تھی وہ تو گھنٹے گن لیتا تھا مگر جس کو بارہ تک گننا نہ آتا ہو اس کی شامت۔
 اب گھنٹا گھر تو بھولے بسرے ہو گئے ہیں، مگر یہی اہتمام مسجدوں میں ہوتا ہے۔ لاہور ایک دوست کے ہاں رات گزاری تو فجر کی بارہ اذانیں سننے کی سعادت حاصل ہوئی۔
ویسے ایک فائدہ ضرور ہے۔ گھنٹا گھر وں اور مسجدوں کے قریب کے گھر نسبتاً کم قیمت پر اور کم کرائے پر مل سکتے ہیں۔
----------------
تحریر: آصف اکبر
----------------
٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭٭

شگفتگو- کلینک میں ۔ شاہد اشرف ڈاکٹر

"تم دنیا کی سب سے خوبصورت عورت ہو " اُس نے میری بات سنی , تھوڑا شرمائی, پھر گویا ہوئی واقعی, سچ کہتے ہو ؟ میں نے کبھی غور نہیں کیا ہے " "تمھارے میاں نے بھی تمھیں نہیں بتایا ہے" میں نے پوچھا. " "اُسے لٹھے کے کاروبار سے فرصت ہی نہیں ہے" اُس نے دھیمے لہجے میں جواب دیا. ہوں! میں نے تھوڑا وقفہ لیا. چند لمحوں بعد اس کے چہرے پر اداسی چھا گئی. " لیکن حسینۂ عالم تو شلپا سیٹھی ہے " " تم مقابلے میں شامل نہیں ہو, وہاں تو صرف سو پچاس خواتین پہنچتی ہیں, اصل حسینۂ عالم تو لٹھے کے تھان میں بندھی رہتی ہے " میں نے جواب دیا تو وہ بولی " میرا میاں مجھے مقابلہ حسن میں جانے کی اجازت نہیں دے گا "
وہ حسن و حماقت کا بہترین امتزاج تھی. اسے دیکھ کر آدمی پریشان ہو سکتا تھا. میں چوں کہ دائیں بازو کا ادیب بھی ہوں, اس لیے صرف حیران ہونے پر اکتفا کیا. اُس کے پوچھنے پر میں نے بتایا کہ میں شاعری بھی کرتا ہوں. اُس کی آنکھیں پھیلتی چلی گئیں. " آپ مجھ پر غزل لکھیں گے ؟" " نہیں " میں نے جواب دیا. " تو پھر آپ میری تعریف کیوں کر رہے ہیں ؟ " میں چپ رہا. اُس نے مکّیاں میرے کندھے پر مارتے ہوئے کہا " دس سال پہلے تم کہاں تھے ؟" میں نے دل میں خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے جواب دیا. " اّس ذات با برکت نے خاص فضل و کرم سے مجھے شرف ملاقات سے محروم رکھا ورنہ میں عاصی و گنہگار اسی شہر میں سکونت پذیر تھا " کچھ نہ سمجھتے ہوئے وہ بولی " وقت کتنی تیزی سے گزر گیا ہے, میرے دو بچے ہیں , آپ کے ؟ " میرے تین بیں " اسی لمحے اُس نے دھماکہ کر دیا " کل ملاقات ہو سکتی ہے ؟ " چند لمحوں بعد میرے حواس بحال ہوئے تو میں نے کہا " کہاں ؟" " یہ تو ابھی سوچا نہیں ہے " مجھے تسلی ہوئی اور میں نے کہا " یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے, لوگوں کو پتا چل گیا تو کیا کہیں گے " وہ آہستہ آہستہ گنگنانے لگی .
لوگوں کا کیا ہے, کہنے دو, اُن کی اپنی مجبوری
اُس سے میری دوسری ملاقات تھی, پہلی کہاں ہوئی, مجھے بالکل یاد نہیں . البتہ اس کی جانب سے مکمل واقفیت کے تمام عملی شواہد موجود تھے. میں نے یہ بھی سوچا کہ وہ کسی اور کے دھوکے میں مجھے رسپونس دے رہی ہے مگر جلد ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ میں ہی ہوں جو دس سال پہلے حادثاتی طور پر اس سے ٹکرا گیا تھا اور اب اُس کا خیال تھا کہ یہ حادثہ اچانک اور اتفاقی ہرگز نہیں تھا. میں اس کا مکمل ذمہ دار ہوں. اس ذمہ داری کا احساس ہوتے ہی میرے ذہن میں ایک کمینگی پروان چڑھنے لگی. دیکھیے! میں ایسا ہرگز نہیں ہوں. اُس کی بے تکلفی نے مجھے احساس دلایا کہ یہ کمینگی حد درجہ مناسب اور معقول قرار دی جا سکتی ہے. "کتنی عجیب بات ہے کہ دل ادل بدل گئے ہیں تو کچھ اشیا بھی بدل لیتے ہیں."  میں نے اسے بال پوائنٹ دے کر ہیر کلپ لے لیا. اُس نے مجھے رومال دیا تو میں نے ٹشو پیپر دے دیا. اُس کی قیمتی عینک زنانہ و مردانہ خطِ امتیاز کی وجہ سے محفوظ رہی. وہ سونے کی انگوٹھی اتارنا چاہتی تھی مگر میرے سٹیل کے رنگ کو حجاب آ گیا. کی رنگ کی تبدیلی خوش اسلوبی سے انجام پا گئی. میں نے کہا کہ چلو اب پرچی بھی بدل لیتے ہیں اُس نے بلا توقف مجھ سے پرچی لے کر اپنی پرچی مجھے تھما دی. کم و بیش پانچ منٹ بعد ری سپشن سے پندرہ نمبر کی آواز آئی. میں اُٹھ کر ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہو گیا. بچے کو دکھانے اور واپس آنے میں دس منٹ لگ گئے. وہ اپنی جگہ پر مطمئن و مسرور بیٹھی تھی. میں نے اسے مسکرا کر دیکھا , ہاتھ ہلایا اور بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا. مجھے یقین ہے کہ ستائیسواں نمبر ایک گھنٹے بعد آ جائے گا اور اس دوران میں وہ مطمئن و مسرور رہے گی.


کلینک میں 
 شاہد اشرف ڈاکٹر
٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔