میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 10 اکتوبر، 2020

شگفتگو - آپ کے اندر ایک ہیرو ہے

    ”عمران بم دھماکوں سے مرتا ہے نہ گولی اُس کا کچھ بگاڑ سکتی ہے“،
ایک کثیر المطالعہ اخبار میں لکھے ہوئے سعید نوابی صاحب کے مضمون کا یہ پہلا جملہ پڑھتے ہی ذہن نے ایک طویل زقند لگائی۔ نمّو نے خود کو چار بزرگوں کے بیچ پایا ۔وہ سب زمین پر بچھے ہوئے ٹاٹ پر بیٹھے تھے۔نمّو کے  ہاتھ میں اُس وقت کے مشہور ادیب کی کتاب تھی اور  وہ اُسے پڑھ رہا تھا۔ یہ دسمبر 1968کی بات ہے نمّو کلاس آٹھ کا طالبعلم تھا۔ کوئٹہ سے سردیوں کی چھٹیا ں گذارنے اپنی خالہ کے گھر میرپورخاص آیا ہوا تھا۔ 
یہ ایک چھوٹی سے ادبی بیٹھک تھی جس کے سربراہ   خالوتھے۔جو مغرب کا کھانا کھانے کے فوراً بعدچھت پر جمتی تھی جہاں بچوں کا داخلہ ممنوع تھا۔ نمّو خالو کو دوائیاں دینے اوپر گیا۔ دیکھا کہ چاروں بزرگ بیٹھے ہیں اور خالو ایک کتاب پڑھ رہے ہیں۔ خالو نے کتاب ایک دم  بوری کے نیچے چھپا لی جس پر وہ بیٹھے تھے ۔لیکن جلدی میں وہ پوری طرح نہ چھپ سکی ،سب نے مشکوک نظروں سے نمُوطرف دیکھا۔ نمُو نے خالو کو دوائیوں کی تھیلی دی اور بیٹھ گیا۔دوائیاں کھانے کے بعد اُنہوں نے تھیلی واپس کی اور  کہا ،
" شاباش جاؤ"۔
نمّو حیرت سے دنگ رہ گیا۔
نمّو   اِسی ادبی محفل میں صبح اخبار پڑھ کر سناتا تھا اوراب   بھگایا جا رہا ہے۔کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے ،  نمّو  ڈھیٹ بن  چھت کی منڈیر پر بیٹھ گیا ،اور  بولا،
" آپ لوگ ابنِ صفی پڑھ رہے ہیں نا ؟"
اُن چاروں کا منہ  ایسا کھلا ،جیسا   بچوں کا منہ  ،چینی چُرا کر کھانے پر ، امّی  کے ہاتھوں پکڑے جانے پر کھلتا تھا ۔
"میں بھی کہانی سنوں گا"
نمّو  بولا 
 آنکھوں ہی آنکھوں میں فیصلہ ہوا۔"
ٹھیک ہے لیکن تم نے اگر یہ بات، کہ ہم  چھت پر بیٹھ کر عمران سیریز پڑھتے ہیں ،  کسی کو بتائی تو پٹائی کروں گا" خالو بولے۔
 نمّو   اقرار میں سر ہلا کر اُس خفیہ ادبی محفل کا ایک لائف  ٹائم ممبر بن گیا۔  
خالو نے کتاب نکالی اور ، اٹک اٹک کر پڑھنا شروع کیا۔
”عمران نے کہا وہ چوہا کالا صفر میرا کیا بگاڑے گا میں اُسے چٹکی بجاتے بل سے باہر گھسیٹ لوں گا“۔
عمران کی یہ بڑھک،اپنے باس بلیک زیرو کے بارے میں سنتے ہی خوف سے جولیا، صفدر  اور جوزف کے منہ خوف سے کھل گئے“

 نمّو نے خالو سے کہا ، " خالو مجھے دیں میں پڑھتا ہوں "۔ 
خالو نے کتاب ، بلا کچھ کہے ، نمّو کے ہاتھ میں تھما دی ۔
جی ہاں یہ خفیہ ادبی محفل ابنِ صفی  کے جاسوسی ناول، عمران سیریز کے پڑھنے اور سننے والوں کی تھی۔ جو سرِ محفل پڑھنا ایک جرم سمجھا جاتا تھا۔ کتب فروشوں کے پاس پہلے سے چوّنی جمع کرادی جاتی تھی۔تاکہ ناول پہنچے ہے محبانِ عمران سیریز کو مل جائے ۔
 ابنِ صفی کے جاسوسی ناول کبھی ردّی کے ڈھیر پر نہیں پھیکے گئے۔خالو کی مقفل الماری میں عمران سیریز کا ایک خزانہ چھپا ہوا تھاہر ناول مجّلد تھا۔
عمران اور میجر آفریدی  مرحوم ابنِ صفی کے دو ایسے طلسماتی کردار تھے۔
جن میں وطن کی محبت، اخلاقی قدریں  اور فرض  کی پاسداری تھی-  جنہوں نے   نمّو کو  نہ صرف ایک علمی اور ادبی سمت دی۔ بلکہ مادر ِ وطن کی حفاظت کی خاطر ، نمّو ،  کو ایک ذہین، فطین اوروقت کی نزاکت کو پہچان کر کام کرنے والے سویلین کی بجائے ایک بے وقوف (ویسے تو اللہ نے سب کو ہی بے وقوف کہا ہے)، صراطِ مستقیم پر چلنے والا گویا لکیر کا فقیراورچڑی کا نہیں  بلکہ حکم کا گیارھواں پتا بنا کر  ایک  پابند ِ احکام فوجی بنا دیا ۔
     اکیڈمی میں پہلے دن جب نمّو نے اپنا سارا سامان سر پر اُٹھا کر پورے پریڈ گراونڈ کا چکر لگایا تو ذہن نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ  اکیڈمی میں افسربننے آیا ہے۔اُس پر مزید ستم یہ کہ بہتریں سوٹ زمین پر لوٹ پوٹ ہونے  کے بعد، پہننے کے قابل نہیں رہا۔  اکثر  مستقبل کے افسران نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر دوسال یہی  کچھ ہوتا رہا تو اِس سے بہتر ہے کہ واپس سویلین لائف میں جایا جائے۔جہاں راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔
یہاں تو ایسا لگتا تھا کہ سینئرز،میں کوئی ظالم بے چین روح حلول کر چکی ہے۔
خیر شام کو کھانے کے بعد، ایک سینئیر نے کیڈٹوں کوپُر جوش لیکچردیا جس کی وجہ سے ، واپس گھروں کو جانے والوں نے اپنے مصمم ارادے   تبدیل کر دئیے
بہر حال  اِس دو سالہ زندگی میں تخیلاتی ہیرو عمران اور آفریدی کی جگہ، حقیقی ہیروز کا مطالعہ شروع کیا۔ جن میں خالد ؓبن ولید، موسیٰ بن نصیر، صلاح الدین ایوبی، میک آرتھر، منٹگمری، رومیل،لارنس آف عریبیہ، ماتا ہری، سلطان ٹیپو شہید اور پاکستانی نشانِ حیدر، نجانے  کون کون سپاہیانہ  تاریخ کے انمٹ کردار تھے ، اِن میں سے جو جنگوں میں مارے گئے انہوں نے ہیرو ازم کی تکمیل کی، جو بچ گئے انہوں نے یااُن کے بعد والوں نے،
جنگوں میں مارے والوں کے واقعات عام آدمی کے لئے محّیرالعقول انداز میں قلمبند کئے۔
     اکیڈمی میں کم و بیش ہر کیڈٹ کے بستے پر
مختلف رنگوں میں پیرا ٹروپر یا  کمانڈو ونگ،  کی تصویرکے نیچے ، من جانبازم  یا  Heroes die young لکھا ہوتا تھا۔ کالج کے لابالی اور کھلنڈرے طالبعلموں کو، حکم کا گیارہواں پتا بنانے کے لئے، جس دھیمی رفتار سے سائیکو لاجیکل طریق کار اختیار کیا جاتا ہے۔ وہ فوجی زندگی کا صدیوں کا نچوڑ ہے۔
 سو گز دور ایک ٹارگٹ سے شرو ع ہونے والی چاند ماری اِس کی پہلی پیش رفت ہے۔ ہر فوجی کو یہ بتایا جاتاکہ تمھارے سامنے جو یہ ٹارگٹ ہے- اِس کے درمیان  چھ انچ قطر کے مرکز میں ہی گولیاں مارنے پر تمھاری کامیابی  ہے-
 مرکز سے جتنی زیادہ دور نشانہ لگے گا تمھاری کامیابی کے نتائج اُتنے ہی کم ہو جائیں گے۔ 
اپنی تما م حسّیات، توجہ  اور خیالات کو مرکز پر مرتکز کرنا ہے اور سانس روک کر جتنے اطمینان سے ہوسکے ٹریگر کو اتنی آہستہ سے دبانا ہے کہ انگلی کا مہین سا دباؤ اُس”لائن آف فائر“ کو خراب نہ کرے۔جس کے ایک سرے پر آپ اور دوسرے سرے پر ٹارگٹ کا مرکزہوتا ہے۔
یعنی”فوجی+اسباب+ٹارگٹ“ انِ تینوں کو ایک مناسب وقت میں ہم آہنگ ہوجائے  تو  مقصد حاصل ہوتا ہے -
آپ سب کا بہت بہت شکریہ 

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔