Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
‏مہاجر ابن مہاجر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏مہاجر ابن مہاجر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 5 جولائی، 2018

مہاجر ہیں مگر ہم ،ایک دنیا چھوڑ آئے ہیں

 مہاجر ہیں مگر ہم ،ایک دنیا چھوڑ آئے ہیں
تمہارے پاس جتنا ہے، ہم اتنا چھوڑ آئے ہیں

کہانی کا یہ حصہ آج تک، سب سے چھپایا ہے
کہ ہم مٹی کی خاطر، اپنا سونا چھوڑ آئے ہیں

نئی دنیا بسا لینے کی، اک کمزور چاہت میں
پرانے گھر کی دہلیزوں کو، سوتا چھوڑ آئے ہیں

عقیدت سے کلائی پر ،جو اک بچی نے باندھی تھی
وہ راکھی چھوڑ آئے ہیں ،وہ رشتہ چھوڑ آئے ہیں

کسی کی آرزو کے پاؤں میں ،زنجیر ڈالی تھی
کسی کی اُون کی تیلی میں، پَھندا چھوڑ آئے ہیں

پکا کر روٹیاں رکھتی تھی ،ماں جس میں سلیقے سے
نکلتے وقت وہ روٹی کی ڈلیا، چھوڑ آئے ہیں

جو اک پتلی سڑک اُنّاو سے، موہان جاتی ہے
وہیں حسرت کے خوابوں کو، بھٹکتا چھوڑ آئے ہیں

یقیں آتا نہیں، لگتا ہے کچّی نیند میں شائد
ہم اپنا گھر گلی، اپنا محلہ چھوڑ آئے ہیں

ہمارے لوٹ آنے کی، دعائیں کرتا رہتا ہے
ہم اپنی چھت پہ جو، چڑیوں کا جتھا چھوڑ آئے ہیں

ہمیں ہجرت کی اس، اندھی گپھا میں یاد آتا ہے
اجنتا چھوڑ آئے ہیں، الورا چھوڑ آئے ہیں

سبھی تیوہار مل جل کر ،مناتے تھے وہاں جب تھے
دوالی چھوڑ آئے ہیں، دسہرا چھوڑ آئے ہیں

ہمیں سورج کی کرنیں ،اس لئے تکلیف دیتی ہیں
اودھ کی شام ،کاشی کا سویرا چھوڑ آئے ہیں

گلے ملتی ہوئی ندیاں، گلے ملتے ہوئے مذہب
الہ آباد میں، کیسا نظارہ چھوڑ آئے ہیں

ہم اپنے ساتھ تصویریں، تو لے آئے ہیں شادی کی
کسی شاعر نے لکھا تھا، جو سہرا چھوڑ آئے ہیں

کئی آنکھیں ابھی تک ،یہ شکایت کرتی رہتی ہیں
کہ ہم بہتے ہوئے کاجل، کا دریا چھوڑ آئے ہیں

شکّر اس جسم سے کھلواڑ کرنا ،کیسے چھوڑے گی؟
کہ ہم جامن کے پیڑوں کو، اکیلا چھوڑ آئے ہیں

وہ برگد جس کے پیڑوں سے، مہک آتی تھی پھولوں کی
اسی برگد میں ایک ہریل، کا جوڑا چھوڑ آئے ہیں

ابھی تک بارشوں میں، بھیگتے ہی یاد آتا ہے
کہ ہم چھپر کے نیچے، اپنا چھاتا چھوڑ آئے ہیں

بھتیجی اب سلیقے سے، دوپٹہ اوڑھتی ہوگی
وہی جھولے میں ہم جس کو، ہمکتا چھوڑ آئے ہیں

یہ ہجرت تو نہیں تھی، بزدلی شائد ہماری تھی
کہ ہم بستر میں ایک ہڈی، کا ڈھانچا چھوڑ آئے ہیں

ہماری اہلیہ تو آ گئی، ماں چھٹ گئی آخر
کہ ہم پیتل اٹھا لائے ہیں ،سونا چھوڑ آئے ہیں

مہینوں تک تو امی خواب میں بھی، بدبداتی تھیں
سکھانے کے لئے چھت پر، پودینہ چھوڑ آئے ہیں

وزارت بھی ہمارے واسطے ،کم مرتبہ ہوگی
ہم اپنی ماں کے ہاتھوں میں، نوالہ چھوڑ آئے ہیں

یہاں آتے ہوئے ہر قیمتی سامان ،لے آئے
مگر اقبال کا لکھا ترانہ، چھوڑ آئے ہیں

ہمالہ سے نکلتی ہر ندی، آواز دیتی تھی
میاں آؤ وضو کر لو ،یہ جملہ چھوڑ آئے ہیں

وضو کرنے کو جب بھی، بیٹھتے ہیں یاد آتا ہے
کہ ہم جلدی میں، جمنا کا کنارہ چھوڑ آئے ہیں

اتار آئے ،مروّت اور رواداری کا ہر چولا
جو اک سادھو نے پہنائی تھی، مالا چھوڑ آئے ہیں

جنابِ میر کا دیوان تو ،ہم ساتھ لے آئے
مگر ہم میر کے ماتھے کا قشقہ، چھوڑ آئے ہیں

اِدھر کا کوئی مل جائے اُدھر، تو ہم یہی پوچھیں
ہم آنکھیں چھوڑ آئے ہیں، کہ چشمہ چھوڑ آئے ہیں

ہماری رشتے داری تو نہیں تھی، ہاں تعلق تھا
جو لکشمی چھوڑ آئے ہیں، جو درگا چھوڑ آئے ہیں

کل اک امرود والے سے ،یہ کہنا آ گیا ہم کو
جہاں سے آئے ہیں ہم ،اس کی بغیا چھوڑ آئے ہیں

وہ حیرت سے ہمیں، تکتا رہا کچھ دیر پھر بولا
وہ سنگم کا علاقہ چھٹ گیا، یا چھوڑ آئے ہیں

ابھی ہم سوچ میں گم تھے ،کہ اس سے کیا کہا جائے
ہمارے آنسوؤں نے راز کھولا ،چھوڑ آئے ہیں

محرم میں ہمارا لکھنؤ، ایران لگتا تھا
مدد مولیٰ حسین آباد ،روتا چھوڑ آئے ہیں

محل سے دور برگد کے تلے، نروان کی خاطر
تھکے ہارے ہوئے گوتم کو ،بیٹھا چھوڑ آئے ہیں

تسلی کو کوئی کاغذ بھی ہم چپکا نہیں پائے
چراغِ دل کا شیشہ یوں ہی چٹخا چھوڑ آئے ہیں

سڑک بھی شیرشاہی آ گئی تقسیم کی زد میں
تجھے ہم کرکے ہندوستان چھوٹا چھوڑ آئے ہیں

ہنسی آتی ہے اپنی ہی اداکاری پہ خود ہم کو
بنے پھرتے ہیں یوسف اور زلیخا چھوڑ آئے ہیں

گزرتے وقت بازاروں میں اب بھی یاد آتا ہے
کسی کو اس کے کمرے میں سنورتا چھوڑ آئے ہیں

ہمارا راستہ تکتے ہوئے پتھرا گئی ہوں گی
وہ آنکھیں جن کو ہم کھڑکی پہ رکھا چھوڑ آئے ہیں


تو ہم سے چاند اتنی بے رخی سے بات کرتا ہے
ہم اپنی جھیل میں ایک چاند اترا چھوڑ آئے ہیں

یہ دو کمروں کا گھر اور یہ سلگتی زندگی اپنی
وہاں اتنا بڑا نوکر کا کمرہ چھوڑ آئے ہیں

ہمیں مرنے سے پہلے سب کو یہ تاکید کرنا ہے
کسی کو مت بتا دینا کہ کیا کیا چھوڑ آئے ہیں

- مہاجر نامہ

اتوار، 6 مئی، 2018

مہاجرزادے کا ابنِ مہاجروں کے لئےمقدمہ

دوسری بات
ہندوستان کی تقسیم کا فیصلہ انگریزوں نے کیا ۔  مہاجروں  ( تمام زبانوں کے مسلمان) نے پاکستان نہیں بنایا، پاکستان سب نے ملکر بنایا، مہاجر بنے بنائے پاکستان میں  ، انگریزوں اور منقسم ہندوستان کی گورنمنٹ  کے تحت کئے جانے والے ایک معاہدے"   ٹرانسفر آف    سٹیزنز  " کے تحت  ہجرت کر کے آئے- مہاجرین تو ایسے علاقوں سے تھے -جہاں مسلمانوں کی اقلیت تھی ،جن کو غیر مسلم آبادی ( ہندو اور سکھ)  سے جان کا خوف تھا ۔اور   جن کی رائے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا تھا  ۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مبشر عنایت   کی اِس تحقیق نے    مہاجرزادے کو مجبور کیا کہ ، مہاجروں کا مقدمہ لڑے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 میری رائے آپ کی رائے کے برعکس ہے۔
1- ہندوستان کا ہر وہ بالغ شخص جس نے یہ نعرہ سن کر " مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ " کانگریس کے مقابلے میں مسلم لیگ کو ووٹ دیا ، وہ پاکستان کے بانیوں میں سے ہے ۔
 2- ہندوستاان کے تین حصوں ، مشرقی ، سنٹرل اور مغربی میں تقسیم ہونے کے بعد جس نے بھی سنٹرل حصے سے مشرقی یا مغربی حصے کی طرف ہجرت کی وہ مہاجر تھا (بشمول نومولود بچے )۔
 3- انڈین سروسز اور برٹش سروسز میں سنٹرل حصے کے ملازمت کرنے والے جنہوں نے مشرقی یا مغربی حصے میں رہنے کی آپشن دی ، وہ بھی مہاجر ہیں ۔
 3- مشرقی یا مغربی حصے میں اِن مہاجروں کو طوعاً یا کرھاً خوش آمدید کہنے والے ، شناخت کے لحاظ سےانصاری ہیں ۔
 4- ہجرت کے بعد مشرقی یا مغربی حصے میں پیدا ہونے والے تمام نومولود پاکستانی ہیں اور شناخت کے لحاظ سے مہاجر زادے ۔
 5- مشرقی یا مغربی حصے میں آنے والے مہاجروں میں سے چند خوش قسمت حیات ہوں گے باقی سب اپنے ربّ کے پاس حاضر ہو چکے ہیں ۔ 

دین اسلام ، کے لحاظ سے اگر وہ ابھی باقی ہے تو !
ہجرت کے لحاظ سے ،  مہاجر مسلم اور انصاری مسلم اصل شناخت ہونا چاہیئے  تھی۔ برادری ، قبائل اور زبان کے لحاظ سے لسانی قومیتیں تو پہلے سے موجود تھیں ، ایرانی ، ترکی ، عربی ، چینی ، ملائی ، روسی ، جاپانی ۔ کسی کا کوئی جھگڑا نہیں تھا ۔ جھگڑا اُس وقت شروع ہوا جب ، ایک ایسی زبان جو رابطے کی زبان تھی ، اُسے علاقائی زبان بولنے والوں پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی ۔   

 جس کی وجہ سے لسانی عصبیت  ، مشرقی حصے میں ، شدّت سے ابھری  ، جس کی لپٹوں نے مغربی حصے  پر بھی اپنی زہریلی  نوکوں کے کچوکے لگانا شروع کر دیئے   ، جس نے مغربی حصے میں    بنگالی ایک گالی بنادی گئی  ۔

 جی ہاں!
  وہی بنگال جہاں ،ہندو لیگ (کانگریس ) کے مقابلے میں مسلم لیگ نے  1906 میں  ڈھاکہ میں  نوابوں کی گود میں جنم ۔  نواب محسن الملك٬ مولانامحمد علی جوہر٬ مولانا ظفر علی خاں٬ حكیم اجمل خاں٬ اور نواب سلیم اللہ خاں سمیت بہت سے اہم مسلم اكابرین اجلاس میں موجود تھے۔ مسلم لیگ كا پہلا صدر انگلش بولنے والے  سر آغا خان كو چنا گیا۔

قلم کی کمائی کھانے والی " قلمی طوائفوں " نے مذہب کے ساتھ بنگالی لسانیت کو بھی    خوب بیچا، خواہ منفی انداز میں ہی سہی  ۔ لیکن اُن کی اِس فروخت نے ،  پنجابیت ، سندھیت ، پٹھانیت  اور بلوچیت   کے علم بلند کرنے میں ایک گھٹیا گردار ادا کیا ۔  پنجابی ، سندھی ۔ پشتو  اور بلوچی  کی تاریخ تو صدیوں پر مشتمل ہے ، یہاں تک کہ ایران سے سندھ یں آنے والے بلوچ اپنی سندھی ماؤں کی وجہ سے  ، بلوچی بھول گئے ۔ کیوں کہ اہمیت مادری زُبان کی ہوتی ہے پادری زُبان کی نہیں !



 بات ہو رہی تھی مہاجروں کی ، جو کشمیر ، مونا باؤ  اور   امرتسر سے داخل ہوئے اور17 ریاستوں  اور چارصوبوں   کی حدوں ،     لنڈی کوتل ، چمن  ، دالبدین ، تربت ، کراچی یہاں تک کے کچھ کے علاقوں تک جا کر آباد ہوئے ۔
1954 میں قائم ون یونٹ ختم ہوا  تو پاکستان اپنی پہلی حالت پر جانے کے بجائے   1970 میں پانچ صوبوں  میں تقسیم ہو گیا ۔
مہاجروں کی دوبارہ ہجرت  سندھ کے اندورنی علاقوں سے میرپورخاص  ، حیدرآباد اور کراچی 1973 میں ہوئی ، جب پاکستان بننے  کی گولڈن جوبلی  پر ،    سندھ میں لسانیت اپنے پورے عروج پر  پہنچ چکی تھی ۔
جی ایم سید کے کارنددوں اور ٹیلنٹڈ کزن ممتاز بھٹو کے کاسہ لیسوں نے ، مہاجروں کی زندگی اندرون سندھ میں تنگ کردی تو  ، مہاجر اپنے حقوق کے لئے کھڑے ہوگئے ، منافقوں کےسرغنہ " الاعلیٰ کے ابو" کی جماعت کا کراچی میں طوطی بولتا تھا ، جس کی منافقت  سے خود اُس جماعت کے کارندوں کے بچے بھی تنگ ، جنہوں نے مہاجروں کی جماعت کو کراچی میں اہم مقام دلوایا ۔
میں یہاں اُن عظیم لوگوں کے ناموں کا ذکر نہیں کروں گا جنہوں نے سندھی معاشرے میں مہاجرزادوں کو اُن کا حق دلوانے کی پوری کوشش کی ۔ 

پنجابیت ، پٹھانیت  کے درمیانی فرق کو  اجاگر کرنے کے لئے ، کسی دل جلے کی اِس پوسٹ کو میں نے بطورِ خلاصہ چنا ہے ۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭





بدھ، 31 جنوری، 2018

مہاجر ، مہاجرزادہ اور لسانی گونگلو نما ملٹری کریٹ

  مہاجرزادوں کا مقدمہ - لسانی گونگلو نما ملٹری کریٹ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
انسانی تاریخ میں جب بھی انسان نے رزق ، جان بچانے اور جنگوں  میں اپنے آبائی علاقے کے بجائے دوسرے علاقے میں رہائش اختیار کی تو وہاں وہ وہاں کے رہائشیوں میں اجنبی ہونے کی وجہ سے ، آباد کار ، تارکینِ وطن یا مہاجر کہلائے ۔
نئے علاقے میں اگر کوئی قبیلہ آیا تو اُسے وہاں کے پہلے سے موجود قبائل کی دشمنی کا سامنا کرنا پڑا ، پھر آہستہ آہستہ یہ قبائل شادیوں اور دیگر ہم مزاج مشغولات کے باعث ایک دوسرے کے لئے قابلِ قبول ہو گئے ۔
متحدہ ہندوستان کی 14 اگست 1947 کو پاکستان اور بھارت میں تقسیم کے بعد، بہت سے مسلمانوں نے پاکستان کا رُخ کیا جن میں ہر قومیت اور زبانوں کے لوگ تھے ۔
وہ مہاجر جوامرتسر کے راستے پنجاب میں آئے تو وہ صوبہءِ سرحد اور پنجاب میں آباد ہو گئے ،
کھوکھراپار کے راستے سے آنے والے سندھ میں آباد ہوئے ۔
ابتدائی طور پر انصاریوں کے لئے یہ سب مہاجر کہلائے ، پھر حکومت نے سندھ میں اِنہیں مہاجروں کو کلیم میں زرعی زمینیں دیں جن میں حقیقی کلیم کے ساتھ جعلی کلیم بھی شامل کئے گئے ، سندھ میں اپنی کلیم کی زمینوں کے نزدیک شہر میں آباد ہونے والوں کو مقامیوں نے آبادکار کالقب دیا۔   
ہندوستان سے آنے والے وہ مہاجر جن کی مادری زبان اردو تھی ، وہ سندھ مختلف شہروں میں دیگر کاروبار کرنا شروع ہو گئے ۔ سندھ میں لسانی بنیاد پر ، دو قومیں سندھی اور غیر سندھی پہچان بنی ، غیر سندھیوں پنجابی ، پٹھان ، کشمیری ، میمن ، اردو بولنے والے شامل تھے ، اور سندھی بولنے والوں میں مقامیوں کے علاوہ راجپونہ ، گجرات اور بمبئی کے سندھی  میمن شامل تھے ۔
ہجرت کے بعد پیدا ہونے والے مہاجروں کے بچوں کو بھی مہاجر ہی کہا جاتا ، یہاں تک کی 16 ستمبر 1953 کو پیدا ہونے والا ، نمّو  بھی مہاجر کہلایا ، یوں لسانی بنیاد پر " مہاجر" ایک قوم بن گئی۔
22 نومبر 1954 کو وزیر اعظم پاکستان محمد علی بوگرا نے پاکستان میں ابھرنے والی اُس صوبائی بنیادوں پر لسانی تقسیم کے خطرات کو بھانپ لیا اور پاکستان کو دو صوبوں مشرقی صوبہ اور مغربی صوبہ میں متحد کر کے ون یونٹ کا نام دیا ۔
معلوم نہیں کیوں اور کن بنیادوں پر یکم جولائی 1970 جنرل یحییٰ خان نے اپنی فوجی قوت کو استعمال کرتے ہوئے ، مغربی صوبے کو ، پنجاب ، سرحد، بلوچستان اور سندھ میں تقسیم کر دیا۔ 
7 جولائی 1972 کو سندھ کی صوبائی حکومت نے سندھ کو صوبائی زبان قرار دے دیا ، جس کی وجہ سے مقامی(سندھی) اور غیرمقامی(غیر سندھی) کی تفریق بڑھ گئی صوبائی لسانی طلباء تنظیموں ( پنجابی ، پشتون ، بلوچ اور کشمیری) نے جنم لینا شروع کر دیا تو اردو بولنے والے کیسے پیچھے رہتے ۔ مہاجر سٹوڈنٹ یونین بھی وجود میں آئی ۔ حالانکہ اِس کا نام مہاجرزادہ سٹوڈنٹ یونین ہونا چاھئیے تھا۔

٭٭٭٭٭٭٭
1990 میں جب ایک مہاجر زادے کے 5سالہ چھوٹے بیٹے ارمغان  سے اُس کے دوست نے پوچھا ،
" تم اُردو بولتے ہو ! کیا تم  مہاجر ہو ؟"
اُس نے اپنی ماں سے سے پوچھا ،
" امّی کیا ہم مہاجر ہیں "
ماں بولی ،
"نہیں بیٹا ہم پاکستانی ہیں "
" امّی لیکن ہم اُردو بولتے ہیں " بڑی بیٹی  سائرہ نے سنّی علم یعنی سنے سنائی علم  کے مطابق پوچھا !
" پاکستان کی قومی زبان اردو ہے ، اِس لئے ہم اُردو بولتے ہیں " ماں نے سمجھایا ۔
یوں  دونوں  بچوں کے ذہن میں لفظ "پاکستانی " ثبت ہو گیا  ۔


٭٭٭٭٭٭٭٭٭
61 سال کی عمر میں یعنی 13 اگست 2014 میں ، اُس بچے کے باپ کو ،  وٹس ایپ لنگر گپ میں ایک لسانی گونگلو نما ملٹری کریٹ کورس میٹ  نے طعنہ دیا " تم مہاجر ہو اِس لیے الطاف حسین کاساتھ دیتے ہو !"
بوڑھا بولا ،" احمق ، میں مہاجر نہیں ، مہاجر زادہ ہوں "
" کیا سمجھے ؟
جیسے شہزادہ ، نوبزادہ ، خانزادہ ! کے وزن پر  ۔
مہاجرزادہ !
اور  جیسے تم  ۔ ۔ ۔ ۔   زادہ ! 

  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


پیر، 23 جنوری، 2017

مردم شماری اور قومی بیداری

  مہاجرزادوں کا مقدمہ - مردم شماری اور قومی بیداری ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
میرا پچھلا مضمون ، مردم شماری یا مردم گمشدگی
 جو کلّی طور ایک معلوماتی و خبرداری مضمون تھا ، اُسے منافقین و مفسدین نے ، اپنی سوچ کے مطابق پڑھا اور مجھے پرسنل کمنٹ میں خوب سنائیں ۔ کئی منافقین نے بالا آیت کا آخری حصہ ( إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ ۚ )  لکھ کر ، چوٹ کی کہ اسلام کا دعویٰ کرتے ہو اور پاکستانیوں کو علاقائی و لسانی تعصب میں مبتلاء کر رہے ہو !
اُنہیں شائد یہ نہیں معلوم کہ  عَلِيمٌ خَبِيرٌ   کو نہ صرف میرے بلکہ اُن کے تقویٰ کا پتہ ہے ۔ نہیں معلوم تو اُس کمپیوٹر پروگرام کو جو مردم شماری کے اعداد و شمار بتائے گا ۔ جس کا خوابوں و خیالوں کی وحدانیت میں رہنے والوں کو شمّہ برابر بھی احساس نہیں ۔ کیوں ؟
کہ انہوں نے الکتاب کا نہیں اپنے آباء و عالموں کی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے ۔
٭ ۔  وہ ساری دنیا کو مسلمان کر کے ، اللہ کی کئی آیات کو باطل کرنے کی کوشش میں مگن ہیں ۔
٭ ۔  وہ ساری دنیا کو کھانا کھلا ، اللہ کی رزّاق  ہونے کے منصب کو باطل کر کے خود اِس منصب پر متمکّن ہونا چاہتے ہیں ۔
 
٭ ۔  وہ دولت جسے اللہ نے خالصتاً انسانی کسب بتایا ہے وہ " اپنی ضروت سے زائد " کا نعرہ مار کر اور خود عالی شان محلات کے مکین بننا چاھتے ہیں ۔

 ٭ ۔  وہ وراثت جس کی تقسیم کا نصاب خود اللہ نے ، قیامت تک لکھوادیا ہے ، اُسے اُن کے جائز وارثین سے محروم کرنا چاھتے ہیں

اب میں آتا ہوں 15 مارچ کو ہونے والی مردم شماری پر ، جہاں
نہ تقویٰ باعثِ کرامات بنے گا اور نہ مذھب ، کرامات اگر کسی نے دکھائی تو وہ زبان اور قومیت ہوگی ، کیوں کہ زبان و قومیت اللہ کی آیات ہیں:

وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْعَالِمِينَ ﴿30:22﴾
 خلق السماوات اور الارض اور بولیوں اور رنگوں میں اختلاف 
اُس کی آیات ہیں ۔ صرف اُس میں العالمین کی آیات کے لئے ہیں ۔
زبان و قومیت کی بنیاد ۔ مردم شماری کے لئے اِس سندھی قومی بیداری فکر کی مہم پر غور کریں ۔ 
 
 ھوشیار خبردار
15 مارچ کان آدم شماري جو پهريو مرحلو شروع ٿي رهيو آھي.
مردم شماري فارم کي پھنجي سامھون پینسل سان نہ پر پوائنٹر پین سان پھنجي مڪمل تفصيل سان ڀريو.
ھي فارم صرف ھڪ فیملي یعني زال مڙس ۽ سندن اولاد لاء آھي
ھڪ گھر ۾ اگر 5 نڪاح پیل ڀاتي رھن ٿا تہ اھي 5خاندان لکبا نہ ڪي ھڪ
اکیون کولیو پاٹ لازمي ڳٹایو
اوھان جي ذات ڪھڙي بہ آھي پر لکرایو سنڌي ۽ گهر  ۾ ڀل ڪهڙي به ٻولي ڳالهايو پر ٻولي واري خاني ۾ صرف سنڌي لکرايو
(.هن پيغام کي پنهنجي سڀني نمبرز تائين پهچايو ڇاڪاڻ ته ان ۾ ئي اسانجي قوم جي بقا آهي .)

میری نظر میں یہ سندھی قوم کو معلومات فراہم کرنے کی اعلیٰ کوشش ہے ۔ تاکہ وہ سندھ میں ، خود اپنی غلطی ، سُستی یا اُن کے ہوشیار و بابصیرت افراد کی لاپرواہی کی وجہ سے اقلیت میں تبدیل نہ ہوجائیں ۔ 

توہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آئے ہوئے ، مہاجروں کو معلومات فراہم کرنا ، کیا تعصب کو ہوا دینا ہے ؟

ہوشیار خبردار مہاجرو ! تم جتنی بہترین علاقائی زبان بولو ، سندھی ٹوپی یا اجرک پہن کے بِھٹ شاہ پر ڈانس کرو ، اُس کے بادجود یہ ٹھپّہ تمھارے جسموں پر ثبت رہے گا ۔
تم خود کو ترکی النسل کہو یا پٹھان النسل یا راجپوتانہ کے قائم خانی یا بلوچ قبائل کا حصہ ، اگر تم گھروں میں اردو بولتے ہو تو تم کبھی سندھی، پٹھان یا بلوچ نہیں بن سکتے ،  کہلاؤ گے مہاجر ہی یا پھر میری طرح " مہاجر زادہ " ۔ 
اِس کے باوجود کہ مجھے پنجابی، پشتو اور فارسی آتی ہے۔ اگر میں نے خود کو پاکستانی لکھا تو میں قومیت کے جواربھاٹے میں نہ صرف خود ڈوبوں گا بلکہ مہاجر قوم کو بھی ڈبو دوں گا ۔
کیوں کہ مہاجر اب میری شناخت نہیں قوم ہے، میری فادری یا مادری زبان ، پنجابی ، سندھی ، بلوچی یا پٹھانی نہیں، اردو ہے ۔ اردو !
ہاں اگر میں افغانستان سے ہجرت کر کے آیا ہوتا تو ، پھر سب مجھے پٹھان ہی کہتے ، نادرا بھی مجھے روپے لے کر زمین کے بیٹے کا سرٹیفکیٹ دے دیتا، خواہ میں درّی پشتو بولتا یا افغان پشتو ، میں ایرانی بلوچستان کا مہاجر ہو کر بھی ، بلوچ ہی کہلاتا ۔
لیکن ہندوستان سے ہجرت کر کے ، میرے والدین پر ہندوستانی کا ٹھپہ چسپاں کر دیا گیا تھا ، جن دنوں میں یہ جملہ سنتا تھا ، " تم ہندوستانی ہو !" اُس وقت الطاف حسین بھی میری طرح کہنے والے کی طرف گھورتا ہوگا ۔
اور جب میں کہتا ،" نہیں میں پاکستانی ہوں "
اُس کی کھلکھلا کر ہنسنے اور زور سے ، " ہندُستوڑا ،

ہندُستوڑا " کہنے پر زمین سے پتھر اُٹھا کر اُسے مارتا اور گھر دوڑ آتا ۔

لیکن اب میں فخر کرتا ہوں ، کہ میرے ماں اور باپ نے پاکستان ہجرت کی اور پاکستان میں اُنہیں اور اُن کی اولاد کو جو عزت ملی وہ ، کسی سندھی ، بلوچی ، پنجابی یا پٹھان کی وجہ سے نہیں ، پاکستانی ہونے کی حیثیت سے ملی ۔
ورنہ سندھی ، پٹھان ، بلوچ اور پنجابی تو ہندوستان میں بھی ہیں اور پاکستان سے دُگنا ہیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 تو مہاجر قوم کے اردو بولنے والے مہاجرو اور مہاجروں کی اولادو (مہاجرزادو) !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
٭۔   15 مارچ سے مردم شماری کا پہلا مرحلہ شروع ہو رہا ہے۔

٭۔    مردم شماری فارم اپنے سامنے بھریں اور پنسل سے نہ بھریں بلکہ پوائنٹر پین (یا بال پوائینٹ) سے مکمل تفصیلات بھریں ۔

٭۔    یہ فارم صرف ایک فیملی کے لئے ہے ، یعنی میاں ، بیوی اور اُن کے (غیر شادی شدہ ) بچوں کے لئے ۔

٭۔   ایک گھر میں اگر 5 شادی شدہ افراد اور اُن کے بچے رہتے ہوں ، تو 5 فارم الگ لے کر بھریں ۔ ایک ہی فارم میں سب کے نام نہیں لکھنا ۔
 ٭۔   مردم شماری کرنے والوں کو تمام  افراد اُن سے سامنے گنوانا ۔
٭۔   آپ کی ذات ، برادری کچھ بھی ہو۔ لیکن آپ مہاجر قوم ہو ! 
٭۔   گھر میں کون سی بولی بولتے ہو ؟ اردو  
 
نوٹ: یاد رہے ، کہ قومیت کے حساب سے مردم شماری میں کمپیوٹر بس یہی دو الفاظ اٹھائے گا ۔
1- قوم کون سی ہے ؟
2- گھر میں زبان کیا بولتے ہو ؟

(قائم خانی ، بلوچی ، درانی ، یوسف زئی ، مشرقی پنجابی ، کاٹھیا واڑی ، گجراتی وغیرہ مہاجروں کو اقلیت میں تقسیم کر دیں گے - یہ ہجرت کرنے والی انگلیاں ہیں ۔ مگر اِن کے اتحاد سے بننے والا " مُکہ " مہاجر قومیت کہلائے گا )

مہاجر قوم کی بقاء کے لئے، یہ پیغام سب مہاجروں اورمہاجروں کی اولادو (مہاجر زادو) تک پہنچائیں ۔ شکریہ  
 
 

جمعرات، 25 اگست، 2016

الطاف حسین پاگل تھا

  مہاجرزادوں کا مقدمہ - الطاف حسین پاگل تھا  ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اِس پاگل نے ،
آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن بنائی تھی ۔
جس کی پاداش میں اسے پابندِ سلاسل ہونا پڑا ۔
آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن ، نے مہاجر طالبعلموں کے لئے فلاحی کام کئے ، جن سے ، اُنہیں سندھی سٹوڈنٹس فیڈریشن زبردستی روکتی تھی ۔ جس کو " جئیے سندھ " پارٹی کی سپورٹ تھی ۔
ضیاء الحق کو ، مہاجروں کے ساتھ، پیپلز پارٹی اور ، جئیے سندھ گروپ کی ، کی جانے والی زیادتیوں کا احساس تھا ۔
لہذا ، اُس نے الطاف حسین کو دعوت دی ، کہ مہاجروں کو سیاست میں لانے کے لئے ، ایک مہاجر پلیٹ فارم کی سخت ضرورت ہے /
چنانچہ ، : " مہاجر قومی موومنٹ "
مودودوی منافقین کے سینے پر چڑھ کر وجود میں آئی ۔
جس میں ، تمام جمیعت طلباء اور جماعت اسلامی ، کے حق پرست شامل ہو گئے ۔
اور ان کا ایک ہی نعرہ تھا ،
مہاجروں کی بقاء ۔ جیئے مہاجر ۔ جیئے مہاجر !
پورے سندھ کا چکر لگائیں اور مجھے ، بتائیں کہ سندھ میں کتنے مہاجر :
ڈبٹی کمشنر ہیں ؟
اسسٹنٹ کمشنر ہیں؟
تحصیل دار ہیں ؟
گورنمنٹ ملازمین ہیں ؟
مہاجر محنت کش تھے ، وہ گورنمنٹ کے صنعتی اداروں میں بھرتی ہونا شروع ہوگئے ، یہی وجہ ہے کہ پاکستان اسٹیل مل میں مہاجروں کی تعداد زیادہ ہے ۔
انہیں نکالنے کا ایک ہی طریقہ ہے ۔ کہ اسے پرائیوٹائز کر دیا جائے ۔
اپنے حق کے لئے آواز اٹھانا ، ہر انسان کا فرض ہے اور ظلم کے خلاف جہاد ہے ۔
" اپنی آزادی کی خاطر
اپنے پیاروں کے لہو میں لتھڑے
سرابِ منزل کی لگن میں ہجرت کی تھی
ہمیں دار سے کیوں ڈراتے ہو ،
کلمہءِ حق کہیں گے ۔
منزل کا پتہ دو یا مٹا دو ہم کو

عمر کے 63 ویں سال میں ۔
مہاجروں پر ظلم دیکھ دیکھ کر ، یہ مہاجرزادہ مزید پاگل ہو چکا ہے ۔ لیکن غدار نہیں ۔
ایوب خان کے اِس فلسفے پر اِس کا یقین نہیں ،
" جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی اُس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو !
خوشہ ءِ گندم کو جلانا پٹھانوں کی روایات ہے مہاجروں کی نہیں !
یہی وجہ ہے ، کہ اردو بولنے والے ، مہاجروں میں خود کش بمبار پیدا نہیں ہوتے ۔
کیوں کہ وہ ہندوستان سے ، پنجاب ، صوبہ سرحد ، بلوچستان یا سندھ کے لئے ہجرت کر کے نہیں آئے تھے ۔
بلکہ ، خون اور لاشوں کے ندی نالوں سے گذر کر، پاکستان کے سمندر میں شامل ہونے کے لئے آئے تھے  ۔
 
 لیکن
افسوس صد افسوس ،
یہاں  تو پنجابیوں ، پٹھانوں ، سندھیوں اور بلوچیوں کے متعفن جوہڑ نکلے ۔

نوٹ: پاگل ہمیشہ ، پاگل ہی رہتا ہے ۔ چند مزید پاگل !
٭ - سرسید احمد خان بھی پاگل تھا ۔
٭ - محمد علی جناح کے پاگل پن نے اُسے ٹی بی کی سٹیج پر پہنچا دیا - 
٭ - لیاقت علی خان کے پاگل پن نے ، اُسے لیاقت باغ میں " پٹھان" کے ہاتھوں خون میں نہلا دیا ۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بدھ، 24 اگست، 2016

مہاجر ، صرف مہاجر رہتا ہے

  مہاجرزادوں کا مقدمہ - مہاجر صرف مہاجر ہی رہتا ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 14 اگست 1947 کے بعد ہندوستان سے، خون کا دریا عبور کر کے  پاکستان  کے طرف ہجرت کرنے والے مہاجر ، نہایت امن پسند اور محبت کرنے والے انسان تھے ، وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر قائد اعظم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ، خالی ھاتھ روانہ ہوئے تھے ۔
 میں جب اپنے ماضی کی طرف نظر ڈالتا ہوں تو مجھے ، ایک لفظ " ھندوستانی " کسی بھی خاندان کے بارے میں پوری داستان سنا دیتا ہے۔
معلوم نہیں کب یہ لفظ ، قومیت کی پہچان بنا ؟
ایرانی ، افغانی ، برمی، انڈو نیشی کی طرح یہ لفظ، پورے یورپ میں بطور " انڈین "  برصغیر میں رہنے والوں کی پہچان ہے ۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے ، کہ سکول کے بچوں کے پوچھنے پر ہم اپنا تعارف، پاکستانی کراتے تھے ، اُس وقت 1960 میں بھی بچے ہنستے تھے اور چلاتے تھے ۔

" اُوئے یہ تو ہندوستانی ہے!

آج بھی 70 سال بعد قبروں میں پیر لٹکائے،  وہی بچے ہنستے ہیں اور چلاتے ہیں۔ 

تم، سندھی کہاں؟ مہاجر ہو! 

کوئٹہ کے رہنے والے ہو؟ 
اچھا!
مقامی نہیں لگتے!
اچھا مہاجر ہو!

پشاور میں رہتے ہو؟
ھاں، وہاں بہت مہاجر ہیں ۔

 یار کیوں پنجابی کی ٹانگ توڑتے ہو ؟
مہاجر پنجابی نہیں بول سکتے۔

پھر ہماری جوانی میں مہاجروں نے اپنی شناخت ، سندھی ، پنجابی ، پٹھان یا بلوچ کروانے کے بجائے ، مہاجر اپنا لی ۔ جس کے لئے اُنہیں نے نہ جانے کیا کیا طعنے سُنے اور سب سے پہلا طعنہ ، اُنہیں خود ساختہ مسلم جماعت ، اسلامی نے دیا ۔

" اسلام میں عصبیت حرام ہے "
اُس کے بعد خودساختہ حدیثوں کا دروازہ کھل گیا ۔ اور
فتاویٰ کی ٹکسال ہے ، فتوے چھپ کر نکلنے لگے ۔

٭ -  پاکستان کی تقسیم کی بات کرتے ہیں !
(جماعت اسلامی ایک طرف ،سارا پاکستان ایک طرف  )

 ٭ - ہم فرقوں پر یقین نہیں رکھتے !
 (جب کہ ، بریلوی ، دیوبندی ، شیعت کے بعد جماعت اسلامی کا اضافہ  )

٭ - سندھ میں رہنے والے سب سندھی ہیں !
(مگر کوٹہ صرف سندھیوں کے لئے )

٭ - نفرت کو ہوا مت دو ۔ 
 (پاکستان کے مسلمان ، راہ راست پر نہیں، سوائے کہ ہم)

٭ - مہاجر صرف اردو بولنے والے نہیں دیگر زبانیں بولنے والے بھی ہیں۔ 
 (بھئیے ، مکڑ ، تلئیر ، قبضہ گیر ۔ صرف اردو بولنے والے  )

مہاجروں نے دل کھلا کیا اور ھجرت کرنے والے پنجابیوں ، پٹھانوں کو بھی ، اپنی واحد اردو بولنے والوں کی نمائندہ جماعت، "مہاجر قومی موومنٹ"  میں شامل کر کے ،
"متحدہ قومی محاذ" میں تبدیل کیا اور یوں ایک وسیع الفکر ، عام آدمیوں کی جماعت بنائی اور عام سویلئین کو ، ایچیسونئین ، خان زادوں ، نواب زادوں ، بلوچ زادوں کی صف میں شامل کروا کر اسمبلیوں میں لا بٹھایا ۔

 بس یہیں سے دشمنی کی ابتداء دوستی کی لفاظی کی آڑ میں شروع ہو گئی ۔
بھلا صاحبانِ ثروت کو یہ کیسے گوارا ہو کہ ، ایک عام آدمی اُس کے پہلو سے لگ کر بیٹھ جائے ۔ وہ تو بس ووٹ لینے اور جھوٹے وعدوں پر ٹرخائے جانے والی مخلوق ہیں ۔ 

تو ہندوستان سے آئے ہوئے مہاجر ، مکڑ ، قبضہ گیر اعلیٰ عہدوں پر کیسے بیٹھ سکتے ہیں؟
انہیں دور رکھنے کا واحد طریقہ ، کوٹہ سسٹم کو طول دو تاکہ اداروں کے سربراہ فرزندِ زمین بن جائیں وہ فرزاندانِ زمین جو خود سب سے بڑے ، مکڑ ، تلئیر ، قبضہ گیر ، خونی و قاتل ہیں ، جنہوں نے اصل فرزندانِ زمین کو ریڈ انڈین کی طرح گاجر مولی کی طرح کاٹا ، اُن کی زمینوں پر قبضہ کیا ، اور مالک بن بیٹھے ۔ یہ وہ فرزندانِ زمین ہیں جن کی فطرت میں خود غرضی ، مکاری اور عیاری بھری ہوئی ہے۔ 

جب موقع ملے وہ اپنی خباثت کو مہاجروں کے خلاف ضرور ظاہر کرتے ہیں ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


جمعہ، 14 اگست، 2015

مہاجر زادے - ھجرت کا دشوار سفر


مہاجرزادوں کا مقدمہ - ھجرت کا دشوار سفر۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
معلوم نہیں, لوگ کیسے کہتے ہیں کہ پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والے, ہندوستان میں مارے جانے والے اپنے, والدین کے خونی رشتوں کو بھول جائیں.

کیسے ہو سکتا ہے ؟

ہم کیسے بھلا سکتے ہیں ؟

ہندوستان سے پاکستان کی طرف طرف ھجرت کرنے والے صرف ایک نام رکھتے تھے ، " مہاجر "

جہنوں نے اپنے خون سے آزادی کے اُس درخت کی آبیاری کی جسے پاکستان کہتے ہیں ۔ اِن مہاجروں کی صرف ایک زبان تھی ، ہم پاکستان جائیں گے ، جہاں ہم اُس خوف سے محفوظ رہیں گے ۔ جو غلامی کا ناسور ہے ۔

ہم مہاجروں کی اولاد آزاد پاکستان میں  جنم لے گی !

ہم مہاجر ابنِ مہاجر ہیں ۔ ہماری کوئی سیاسی ، لسانی یا مذہبی جماعت نہیں ۔ کیوں کہ ہم پاکستانی ہیں ۔
گروہ بندی تو انتشار پیدا کرتی ہے ۔ نفرت ، بغض اور حسد کے زہریلے بیج بوتی ہے ۔

ہم مہاجر ابنِ مہاجر ہیں ۔  ہمارا ایک ہی مقصد ہے جو ہمارے مہاجر والدین کا تھا ۔ اَمن کی سرزمین میں اپنی اولاد کو پروان چڑھانا اور انہیں ، محبِ وطن پاکستانی بنانا ۔

(مہاجر زادہ)


مہاجر ابنِ مہاجر - مہاجر زادے

مہاجر زادوں کا مقدمہ ۔مہاجرزادے ۔
 سوموار 10 اگست 2015 سے میرے موبائل پر ، فیس بک پر ایسی تصاویر آرہی ہیں ، جو 1947 ہجرت کے موقع پر مشہور عالمی میگزین "لائف" کا ٹائیٹل پیج سے یا اندرونی صفحات سے لے کر پوسٹ کی گئی ہیں ، جنہوں نے پوسٹ کی ہیں ۔ غالباً اُن کا مقصد آزادی کی قدر و قیمت کو اجاگر کرنا ہے ۔

گذشتہ رات ہم دوست انہیں تصاویر پر اور متحدہ قومی موومنٹ ( یا مہاجر قومی موومنٹ ) کے استغفوں پر بات کر رہے تھے سب کی اپنی رائے تھی ۔ میری رائے یہ تھی کہ اپنی بات منوانے کے لئے یہ جمہوری طریقہ ہے اور وہی طریقہ ہے جو ، مسلم لیگ ، پیپلز پارٹی اور حال میں پی ٹی آئی نے استعمال کیا ہے ۔ اور جو حکومتی ارکان کو جھٹکے دینے کا بہترین طریقہ ہے ۔ 

یہی وجہ ہے ، کہ " ھاشمی " کا استغفیٰ فوراً منظور ہوجاتا ہے اور "اجتماعی استغفے " منظور نہیں ہوتے اور جمہوری لین دین کے بعد ، استغفے واپس لے لئے جاتے ہیں ۔

لیکن ایم کیو ایم واحد جماعت ہے ، کہ جس کے خلاف نفرت کی چنگاریوں مزید ہوا دی جاتی ہے جواباً ، جس طرح عمران خان کے منہ سے ، شہباز شریف اور دیگر اکابرینِ سیاست کے منہ سے پھول جھڑتے تھے ، اُسی طرح الطاف حسین کے منہ سے گلاب کے بجائے ، سیاست کی چنبیلی ، رات کی رانی ، جنگلی گلاب اور گیندے کے پھول برستے ہیں ۔
جب یہ دیکھا جاتا ہے کہ گیہوں کے ساتھ ایم کیو ایم کے ، گھنوں کو بھی چکّی کے بیچ میں گھسیٹ کر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اور یہ کوشش آج سے نہیں ، پاکستان میں رہنے والوں کی برسوں کی آبیاری کا نتیجہ ہے ، جس میں باپ ، ماں ، باپ کے رشتہ دار ، ماں کے رشتہ دار ، اولادیں اور اولاد کی اولادیں گناہ گار ٹہرتی ہیں - سب کا نام ، " ایف آئی آر " میں درج کروا دیا جاتا ہے ، ایسی ایف آئی آر جس کا کوئی فیصلہ نہیں ہوتا ، داخل دفتر ہوجاتی ہے ۔ لیکن بعد میں موقع کی مناسبت سے اپنا زہر چھوڑتی رہتی ہے ، جس کا تریاق صرف صاحبانِ اقتدار کے پاس ہوتا ہے ۔

کراچی میں بھی سب کچھ یہی ہورہا ہے اور میں اِس کا ذمہ دار صرف اور صرف الطاف حسین کو سمجھتا ہوں ۔ جس کے سیاسی شعور نے ، مہاجر زادوں کو بند گلی میں لا کر کھڑا کر دیا ہے ۔
الطاف حسین نے مہاجر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن اور پھر آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی بنیاد ، مہاجروں کی آواز بن کر ڈالی ، جو برین چائلڈ تو کسی اور کا تھا لیکن ، الطاف حسین نے اسے ایم کیو ایم کے نام سے سیاست میں کیش کروایا ۔ اور پھر یہ جماعتیں ایم کیو ایم کے لبادے میں چھپ گئیں ۔

اگر الطاف حسین ان دونوں جماعتوں کو آپس میں مدغم نہ کرتا تو ، آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن ، ایم کیو ایم کا ایسا قلعہ ہوتی کہ جس پر ھاتھ ڈالتے ہوئے ، حکومت بھی گھبراتی ۔

اب بھی وقت ہے کہ اگر الطاف حسین ، آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن دوبارہ فعال کرے اور اِسے صرف " مہاجر ابنِ مہاجر " کی کردار سازی کے لئے استعمال کرے اور اِس کا مکمل سیاسی عمل دخل ، ایم کیو ایم سے ختم کر دیا جائے ۔ مجھے امید ہے ، کہ مہاجر زادوں کو ، " دیگر زادوں " سے بہترین طالبعلم بنایا جا سکتا ہے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭
نوٹ: اِس پوسٹ پر صرف ، مہاجر زادوں کو رائے دینے کا حق ہے ۔ شکریہ (مہاجرزادہ)

منگل، 11 اگست، 2015

ھندوستانی-8-کاغذات کو دیمک کھا گئی

    ہفتہ ٹہرنے کے بعد حنیف خان، بھائی  واپس لاہور چلے گئے۔ زیتون اور امی نواب شاہ ٹہر گئے۔ مہینہ کے بعد بڑی بہن واپس میرپور خاص جانے کے لئے تیار ہوئی اور اپنے ساتھ امی اور زیتون کو بھی لے لیا۔مارچ کے پہلے ہفتے یہ سب  نواب شاہ سے پسنجر ٹرین پر میر پور خاص پہنچے، جہاں سے مولچند باغ آئے،  یہ مہاجروں کا کیمپ تھا جہاں راجپوتانہ، حیدر آباد اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے لوگ کھوکرا پار، عمرکوٹ  کے راستے پاکستان میں داخل ہوئے اور کراچی تک پھیل گئے۔ یہاں سب سے زیادہ قائم خانی برادری آباد ہوئی۔جو راجپوتانہ سے ہجرت کر کے آئے ۔
موسم ہلکا ہلکا گرم ہونا شروع ہو گیا تھا۔نواب شاہ کے مقابلے میں میرپورخاص کی ٹھنڈی راتیں زیتون کو بہت پسند تھیں، بڑی بہن کے شوہر نور محمد خان سبزیوں اور پھلوں کا کاروبار کرتے تھے۔ میرپور خاص میں بہن کے گھر رہتے ہوئے ابھی دو ہفتے ہوئے تھے، شام کو نور محمد خان نے بتایا کہ حنیف خان کا کوئی فوجی دوست نظام الدین آیا تھا وہ  انہیں اور چاند محمد کو لے کر سٹلمنٹ کے آفس گیا جہاں نظام الدین کا چھوٹا بھائی اکرام الدین ملازم ہے۔ نور محمد خان اور چاند محمد خان کا نام مہاجروں کی نئی بستی سیٹلائیٹ ٹاؤن میں الاٹمنٹ کے لئے لکھا دیا ہے۔ یہ سب لوگ بہت خوش ہوئے۔
دوسرے دن، نظام الدین اور اس کی امی ملنے آئے یہ لوگ شہر میں ایک مکان میں ٹہرے ہوئے تھے، جو ہندووں نے خالی کیا تھا،  شام کا کھانا کھا کر یہ لوگ واپس چلے گئے۔
جولائی میں زیتون اور امی، نواسے  چاند خان کے ساتھ نواب شاہ آگئے، چاند خان دونوں کو چھوڑ کر  واپس میرپور خاص چلا گیا۔ جنوری  1949میں حنیف خان، دو مہینے کی چھٹی لے کر نواب شاہ آئے، معلوم ہوا کہ خاتون بھابی امید سے ہیں اس لئے ساتھ نہ آسکیں، حنیف خان کو شہداد پور میں دو مربعے، کاشتکاری رقبہ اور ایک مکان الاٹ ہوا ہے۔ وہ دیکھنے چلنا ہے ۔
حنیف خان، سلیمان خان، امی اور زیتون کو لے کر نوابشاہ سے شہداد پور روانہ ہوئے۔ بھائی، اِن سب کو سٹیشن پر ٹہرا کر سٹلمنٹ آفس گیا انہوں نے شہر میں ایک مکان حوالے کیا، حنیف خان چابی لے کر سٹیشن آیا، یہ سب مکان پہنچے دیکھا کہ تالا توڑ کر کوئی اور خاندان گھسا ہوا ہے۔ بھائی کے فوجی ہونے کے ناطے پولیس والوں نے تعاون کیا۔ اور ناجائز قابضین کو نکالا یہ دو بوڑھوں، دو عورتوں، ایک لڑکے  اور چھ لڑکیوں پر مشتمل،ایک خاندان تھا۔ جنہوں نے نکلتے ہی اماں کو پکڑ لیا اور اپنی زبان میں دہائیاں دینے لگیں، غالباً مشرقی پنجاب سے آئے ہوئے لوگ تھے۔ اماں کو سمجھ تو نہ آئی لیکن فریاد سن کر اماں کا پسیج گیا۔ اوپر کی منزل کے دو کمرے اس خاندان کو دے دیئے اور نچلے کمرے انہوں نے لے لئے۔
تین چار دن بعد احساس ہوا کہ انہوں نے بہت سخت غلطی کی ہے۔جس کا اندازہ انہیں اس خاندان کے گھر آنے والے مقامی نوجوانوں سے ہو ا، بھائی کو زمین مل گئی تھی جو شہر سے باہر بلوچستان جانے والی سڑک پر تین میل دور سڑک سے ہٹ کر تھی، جہاں کاشت کاری ممکن نہ تھی۔ بہر حال دو ہفتے بعد انہوں نے پروگرام بنایا کہ سلیمان خان، یہاں ٹہرے گا،  ریلوے میں ہونے کی وجہ سے وہ اپنی پوسٹنگ روہڑی جیکب آباد سیکشن پر کروالے گا اور یہ تینوں واپس لاہور چلے جائیں گے۔ بھائی نے پولیس کو اپنے جانے اور بھتیجے کو اپنا نمائیندہ چھوڑنے کی اطلاع دی  اور یہ تینوں لاہور چلے گئے-
جون میں سلمان خان پر قاتلانہ حملہ ہوا، سلمان خان ڈیوٹی سے تین دن بعد گھر آیا تو چابی لگانے کے باوجود تالا نہیں کھل رہا تھا  سیڑھیاں چڑھ کر اوپر کی منزل پر پہنچا تاکہ معلوم کیا جائے کہ تالا کس نے تبدیل کیا ہے دروازہ بجایا تو ایک مقامی آدمی نکلا۔ سلمان نے پوچھا کہ وہ کون ہے ِ الٹا اس نے سلمان سے پوچھا کہ تم کون ہو سلمان نے بتایا کہ وہ اس مکان کے مالک کا  بھتیجا ہے اور نیچے رہتا ہے۔ معلوم ہوا کہ پہلی منزل پر رہنے والا خاندان نہ صرف پہلی منزل بلکہ پورا مکان مہینہ پہلے بیچ کر جا چکا ہے۔
گورنمٹ کا ملازم ہونے کے باوجود سلیمان خان کو قابضین نے زدو کوب کیا۔ معاملہ تھانے میں پہنچا۔ تھانے دار سب کچھ جانتے ہوئے خاموش تما شائی رہا۔الٹا سلیماں خان کو دھمکی دی کہ وہ مکان پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ بہرحال سلیمان خان نواب شاہ پہنچا وہاں سے حنیف خان کو تفصیلاً خط لکھا۔ حنیف خان نے اپنے محکمے کے ذریعے کاروائی کی تین سال بعد جواب آیا کہ حنیف خان،  تین سال پہلے یہ مکان بیچ کر جا چکا ہے۔
الغرض 1969میں ریٹائر منٹ کے بعد حنیف خان الاٹ کی گئی دو مربع زمین کو دیکھنے اپنے بیٹے کے ساتھ شہداد پور گیا تو معلوم ہوا، کہ حنیف خان 1950میں اپنی زمین بیچ چکا تھا۔
کس کو؟ 
کاغذات مانگے، کاغذات کو دیمک کھا گئی۔
لہذا،محمدحنیف خان صبر کر کے بیٹھ گیا۔
    جن دنوں یہ واقعات ہوئے حنیف خان کی پہلی بیٹی ہوئی، ضیاول خاتون نام رکھا۔ حنیف خان، کو سیالکوٹ میں دو کمرے کا مکان مل گیا تھا، وہ اپنی بیوی، امی اور زیتون کے ساتھ رہ رہا تھا۔
نومبر کا پہلا ہفتہ تھا حوالدار نظام الدین کی پوسٹنگ سیالکوٹ ہو گئی۔ شام کا وقت تھا۔ پرانے دوست بیٹھے ہوئے تھے گپیں لگ رہی تھیں کہ ایک دوست حوالدار مرزا سلیم بیگ نے نظام الدین کو چھیڑ ا
”نظام الدین تم شادی کب کرو گے؟  اب تو تمھارے شاگرد کے ہاں بھی بچی ہو گئی ہے۔ تیس سال کے ہونے والے ہو!“
”کوئی لڑکی شادی کے لئے تیار ہوئی تو کر لوں گا“ نظام الدین نے کہا۔
”ارے بھائی حنیف خان کی بہن بیٹھی ہے اور ویسے بھی تم دونوں دوست بھی ہو“ ۔
”مرزا، بات کر ومیں تیار ہوں“  نظام الدین نے جواب دیا۔
مرزا سلیم بیگ اور نظام الدین دونوں ایک ساتھ1937میں رائل انڈین میڈیکل کور میں بھرتی ہوئے اور دونوں اکھٹے دہلی پوسٹ ہوئے، مرزا کا تعلق اورنگ آباد سے تھا۔ جہاں نظام الدین کے ننھیالی رشتہ دار رہتے تھے۔
1939کے آخر میں نظام الدین کی پوسٹنگ لاہور سی ایم ایچ ہوگئی۔ مرزا سلیم بیگ پاکستان بنتے وقت اپنے بیوی اور چار بچوں کے ساتھ سیالکوٹ سی ایم ایچ پوسٹ ہو گئے۔
مرزا سلیم بیگ نے دوسرے دن حنیف خان سے بات کی۔ حنیف خان نے خوشی سے حامی بھر لی۔1949ماہ  صفر کے پہلے جمعہ کے دن مغرب سے پہلے زیتون کوثر اور حوالدارنظام الدین کی شادی ہو گئی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭  جاری ہے 


پہلے مضامین :  

 ھندوستانی-1- مہاجر سرمائی بطخیں

ھندوستانی-2- کثیر الازواجی

ھندوستانی-3- تم ہندوستانی ہو! 

ھندوستانی-4- مسجدکی روٹی اللہ کے نام پر



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔