میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 27 جولائی، 2020

اجمیری چڑھاوے

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
یہ ہے اجمیر شریف کی وہ مشہور زمانہ دیگ جس میں چڑھاوے اور نذرانے کے طور پر لاکھوں کی مالیت کی رقم، زیورات اور دیگر اشیاء ڈالی جاتی ہیں۔
بھولے بھالے ان پڑھ جاہل مسلمان عقیدت اور محبت میں سرشار ہو کر اپنی خون پسینے کی کمائی اس کمرہ نما دیگ میں ڈالتے ہیں۔ وقت مقررہ پر کوئی خادم آتا ہے اور سیڑھیاں لگا کر اس دیگ میں اترتا ہے اور نوٹوں کی گڈیاں، زیورات اور دیگر سامان نکال لیتا ہے۔ سکے رہنے دیئے جاتے ہیں۔
پھر اسی دیگ میں لنگر کا کھانا بنتا ہے اور بدعت ہے کہ جس سائل کی پلیٹ میں کھانے کے ساتھ سکہ نکل آیا اس کی مراد پوری ہوگی۔ اس پر باباجی مہربان ہوگئے۔
میں کسی کے عقیدے یا مسلک کے خلاف نہیں ہوں۔ یہ انسان کا ذاتی عمل ہے لیکن مجھے بہت غصہ آتا ہے جب مذہب کے نام پر کچھ ٹھگ توہم پرست مسلمانوں کی سادہ لوحی کا فائدہ اٹھا کر ان کا مالی نقصان کرتے ہیں۔
ایک بے وقوف سے بے وقوف انسان بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ عقیدت اور زیارت کے نام پر یہ ایک منظم بزنس ہے۔ ان سائلوں کے نذرانے لاکھوں کی مالیت کے ہوتے ہیں اور یہ وہاں کی روزانہ کی آمدنی ہے۔ اس میں سے چند ہزار کے لنگر کھلا کر بقیہ پیسے متولی اپنے ذاتی خزانے میں ہی بھرتے ہیں۔اب تو حکومتی سطح پر یہ ایک بزنس پلیس بن گیا ہے۔
اس دیگ پر بندھے ہوئے دھاگے بتا رہے ہیں کہ اولیاء رحمہ اللہ علیہم کی قبور اب شرک کا اڈہ بنتی جارہی ہیں۔ بے شک پیغمبروں کا واسطہ دے کر دعا مانگنا جائز ہے۔ لیکن ان سے براہ راست منت مانگنا بلاتامل شرک ہے۔ اور شرک ہر مسلک اور عقیدے سے الگ چیز ہے۔
مجھے نہیں فرق پڑتا کہ کوئی مجھے کیا کہے گا۔ہاں اللہ جب سوال کرے گا کہ تمہارے پاس علم ہوتے بھی تم نے لوگوں تک بات کیوں نہ پہنچائی تو میں لاجواب نہیں رہوں گی۔ میں پھر کہتی ہوں مجھے کسی کے مسلک سے اختلاف نہیں۔ لیکن یہ مسلک یا عقیدہ نہیں یہ کھلم کھلا شرک ہے۔
سب سے افضل انسان کا خود دعا مانگنا ہے۔ رب کریم آپ کی شہ رگ سے قریب ہے۔ آپ اسے پکار کے تو دیکھیں۔ جتنا طویل سفر کر کے آپ کسی قبر پہ جاکر دعا مانگتے ہیں۔ لائنوں میں کھڑے رہتے ہیں۔ وہی وقت آپ رات کے تیسرے پہر جانماز پر اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوکر مانگ کر دیکھئے۔ اس کے سامنے ہاتھ پھیلائیے۔ اسے مانگنے والے پسند ہیں۔ محبت سے مانگنے والے۔ لاڈ سے مانگنے والے۔ رو کر بلک کر مانگنے والے۔ آپ ایک دفعہ آزما کر دیکھئے۔ لیکن یقین شرط ہے۔ پھر اس مجیب السائلین نے نہ نوازا تو آپ کی چھری اور میری گردن۔
#حمیرا🌺🌺
Humaira Alia
India

٭٭٭٭٭٭واپس   جائیں ٭٭٭٭٭٭

اتوار، 26 جولائی، 2020

ایتھوپیا اور پاکستان

اُفق کے پار رہنے والے پیارے دوستو !
کرونا، سیلف قرنطائن نہیں بلکہ مصروفیت کی بنیاد پر بوڑھا بہت مصروف ہو گیا ۔
عدیس ابابا میں تو وقت ہی وقت تھا ،وہاں سردیوں کا سورج سست رفتار سے فاصلہ طے کرتا اور یہاں گرومیوں گرمیوں کا سورج برق رفتاری سے مغرب کی طرفدوڑتا ہے شاید یہاں وقت سکڑ گیا ہے ۔ کیوں کہ بڑھیا کو جب بھی آواز دوں ، تو کھوں کی آوازآتی ہے جس کا مطلب وہ مصلّے پر بیٹھی ہے -
پھر اُس پر مصروفیت کا یہ عالم کہ ، برفی کا دادا بابا کے ساتھ کھیلنا ، لوڈ شیڈنگ ، انٹر نیٹ کی آنکھ مچولی اور ۔ ۔ ۔ ۔ تھکن روزانہ صبح 5 بجے سے 7 بجے تک گالف کھیلنے کی تھکن ۔
پھر ٹوٹی سڑکوں پر گاڑی کا پھدک پھدک کر چلنا ۔ اور بڑھاپے میں بوڑھے کی ہڈیوں کے جوڑ ہلانا ۔
بوڑھے نے اپنی کالونی میں آنے والی تمام سڑکوں کا جائزہ لیا تو یہ احساس ہوا ، کہ چاند پہ رہنا آسان ہوگا بنسبت عسکری کالونی کے ،
لیکن اِس کے باوجود ، جھجّو کا چوبارے کی جو بات ہے ، وہ بدیس کی کہاں ۔
گو کہ گالیاں ایتھوپیئن بھی بکتے تھے ، مگر ہمیں اُس کی سمجھ کہاں !
آنے سے ایک دن پہلے ، ایک دکاندار خاتون بڑی اونچی آواز میں چلا رہی تھی جو یقیناً پیار بھرے کلمات نہ تھے اور ساتھ ہی نوجوان ، بر سبزیوں کی گولا باری بھی کر رہی تھی
لیکن جو گالیاں اِن 15 دنوں میں ہر چوک پر چلتی کار میں اچٹتے ہوئے کان میں آئیں وہ کرونا بندش کے باوجود فصاحت اور بلاغت سے بھرپور تھیں ۔
گھر کا یوپی ایس بدھ کو خراب ہو گیا ، چنانچہ جمعرات کو کالج روڈ پر دے کر فائیو برادر شاپ پر حاجی علی کو دے کر آیا اور جمعہ کو لانا یاد نہیں رہا اور نہ ہی حاجی علی کا رنگ آیا ۔
ہفتے کو 10 بجے جب بجلی گئی تو یو پی ایس یاد آیا ، فون کیا تو معلوم ہوا کہ آج تو لاک ڈاؤن ہے اور یوپیایس لینا ضروری تھا ، کیوں کہ ہفتہ کی شام کو بری اور اُس کی ماما نے آنا تھا ۔ لہذا حاجی صاحب کی منتیں کی اور انسانی ہمدردی کا رسی کا سہارا لیا ۔حاجی صاحب مدد کے لئے تیار ہو گئے ، لیکن ایک شرط پر ، کہ گاڑی عین دکان کے سامنے کھڑی کی جائے گی ۔ ڈکّی کھول کر رکھی جائے - وہ موقعہ ملنے پر یوپی ایس نکال کے گاڑھی میں رکھوا دیں گے ۔ کیوں کہ آس پاس پولیس والے میڈیا کے روپ میں پھرتے ہیں وڈیو بناتے ہیں اور جج صاحب کے سامنے پیشی ہوتی ہے اور جج صاحب ۔ ۔ ۔ ۔ !
بہر حال بوڑھے نے گاڑی بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کھڑی کی اور سامنے سڑک کے دوسری طرف فٹ پاتھ پر ثھاؤں میں کھڑا ہو گیا ، کہ سلام کی آواز آئی مڑ کر دیکھاتو حاجی صاحب ،
سر بس یہاں کھڑے رہیں ، میں موقع پا کر یو پی ایس رکھوا دوں گا -
کتنا وقت لگے گا ؟
سر بس 10 ، 15 منٹ لگیں گے۔
اچھا میں ٹھیلے سے پھل لے آتا ہوں ،
بوڑھا پھل لے کر واپس ہوا تو دیکھا ایک مشکوک نوجوان چکر کاٹ رہا ہے ۔ تھوڑی دیر بعد اُس نے دکان کا تالا کھولا اور شٹر اٹھا کر اندر غائب ہو گیا اور یو پی ایس اٹھا کر لایا فٹ پاتھ پر رکھ دیا ۔ اور جلدی سے شٹر گرا کر یہ جا اور وہ جا ۔
دو منٹ بعد ایک اور جوان آیا اُس نے گاڑی کی ڈّی کھولی اور یو پی ایس رکھ کر ، بند کی اور آرام سے چلا گیا ۔
بوڑھے کے جسم میں یک دم سنسنی دوڑ گئی ، کہ ڈبے میں ملبوس ، واقعی یو پی ایس ہی تھا یا بوڑھا کسی جرم نا قابلِ ضمانت کا مرتکب ہورہا ہے ، ابھی پوں پاں ، پوں پاں کرتی گاڑیاں آئیں گی اور بوڑھے کو رگوں میں اندھیرا پھیلانے کے جرم میں گرفتار کر لیا جائے گا ۔ بوڑھے کے سامنے ایک فلم چل رہی تھی ، کہ " سر کام ہو گیا " کی آواز نے سکوت توڑ ،
" کیا کام ہو گیا ؟" بوڑھے نے گھبرا کر پوچھا ،
" سر یو پی ایس رکھ دیا " حاجی نے جواب دیا ۔
" اُس میں یو پی ایس ہی تھا " بوڑھے نے پوچھا ۔
" بالکل سر !" حاجی نے جواب دیا
" کتنے پیسے ہوئے ؟" بوڑھے نے پوچھا ۔ پیسے دیئے ، شکریہ ادا کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر چل پڑا -
عدیس ابابا میں ، 14 مارچ یعنی برفی کی سالگرہ منانے کے بعد سب فیملیز جب سیلف قرنطائن ہوئی تو ، عارف صاحب نے ہمیں مرغیاں دُکّم ( جہاں اُن کی فیکٹری ہے " لا کر دیں-
سر ، آپ مرغیاں اُٹھا لیں ، بوڑھا خلائی لباس میں تھا مرغیوں کا شاپر اُٹھا لیا ۔
" سر میں یہ ہوم میڈ سینیٹائزر لایا ہوں، اُس سے آپ اپنے ملازموں کے ہاتھ دھلوادیں -
عارف میاں نے سینیاٹائزر یوں پکڑایا جیسے اُس نے بوڑھے کے سارے بدن پر کرونا کے ہجوم کو چہل قدمی کرتے دیکھ لیا ہو -

کالج روڈ ون وے ہے مگر ہفتے اور اتوار کے دن ، اِس پر لیاقت روڈ سے آنے والی ٹریفک کا راج ہوتا ہے ۔ لیکن اِس کے بر عکس عدیس ابابا میں ، یہ ممکن ہی نہیں کیوں ؟
کہ ٹریفک پولیس ناصرف جرمانہ کرتی ہے - بلکہ پکڑ کر بند بھی کر دیتی ہے ۔ جرمانہ بنک میں جمع کراؤ اور رہائی پاؤ !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منگل، 21 جولائی، 2020

بلقیس شوکت خانم پہلی ترک پائلٹ

  بلقیس شوکت خانم (ہام) ترک پائلٹ فاتھی بی کے ساتھ طیارے میں پائلٹ کرنے والی پہلی ترک مسلمان خاتون ہیں۔

 ہماری پہلی خاتون پائلٹ ایک مسلمان ترک خاتون  ہے جو یکم دسمبر 1913 کو پہلی بار اڑان بھری۔ ذرائع سے ملنے والی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ مسز بلقیس کیٹ 20 ویں صدی کے پہلے نصف میں رہتی تھی۔ استنبول سے تعلق رکھنے والی خواتین نے  (خواتین کے حقوق کے دفاع کی انجمن) کی بنیاد رکھی اور انہوں نے "خواتین کی دنیا" کے نام سے ایک رسالہ شائع کرنا شروع کیا۔
 بقول اسکیٹ حنم ، آوکیٹ بی کے بیٹے ، عطا پاشا کے بیٹے ، بحریہ سوسائٹی کے ذریعہ بحری جہازوں اور جہازوں کی خریداری کے لئے شروع کی جانے والی عظیم عطیہ مہم کے جوش و جذبے کے حامی تھے ، جیسا کہ حقوق نسوان (خواتین کی حقوق تحفظ پروسیسنگ ایسوسی ایشن) کی ایک بانی ہے۔ ایسوسی ایشن کے ممبروں کی ایک کمسن بچی ، جو بچوں کو نظم و ضبط اور موسیقی کی تعلیم دیتی ہے ، بیلکس کے اکیٹ نے "فرسٹ فلائنگ مسلم وومین" بننے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
 اس  خاتون کی پرواز کو یقینی بنانے کے لئے ، انجمن نے ایک میٹنگ منعقد کی اور میسادیت بیدیرہن کے شوہر سیریا بیے کو سفراکی میں ڈائریکٹوریٹ ایئر اسکول بھیج دیا۔ ائیرکرافٹ اسکول کے ڈائریکٹر ، ویل بی نے اس درخواست کا خیرمقدم کیا ، لیکن کہا کہ وہ پہلے کور کمانڈ کی جانب سے تحریری اجازت کے ساتھ درخواست کردہ دن اور وقت پر زبانی اور تحریری طور پر اپنی خواہشات کو پورا کرسکتے ہیں ، کیوں کہ ان کا خود پر اختیار نہیں تھا۔

اس جواب پر ، انجمن نے پہلے ڈپٹی کمانڈر انچیف سیمل بی (مرسن سے سیمل پاشا) کو درخواست دی اور تحریری طور پر ضروری اجازت حاصل کرلی۔ اس کے بعد ، 30 نومبر 1913 کو اتوار کے روز ، اگر موسم موزوں نہ تھا تو اگلے دن اڑان بھرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پرواز کے دن کا انتظار کرتے ہوئے ، بلقیس اکیٹ نے اپنے جذبات کا اظہار اس طرح کیا:
 بے صبری سے اتوار کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور ہمیشہ اپنے کمرے کے بیرومیٹر کی طرف دیکھتے رہتے ہیں ۔ ہاں ، کچھ گھنٹوں بعد ہی بھاری لاڈوز کے ساتھ بارش ہو رہی تھی۔ اب میرا دکھ نہ پوچھیں… اتوار کے روز وقفے وقفے سے بارش ہوئی۔ لیکن بیرومیٹر بڑھ رہا تھا۔ رات کی ہوا بند ہوگئی۔ بارش رک گئی ہے۔ آسمانی بجلی کے بادل چمک اٹھے۔ ستاروں اور سیاروں کی روشن روشنی نے آسمان کو آراستہ کیا۔

مجھے امید ہے کہ اگلے دن موسم کھلے گا۔ اگر میں یہ کہتا ہوں کہ میں اکثر رات کو بستر سے باہر نکلتا ہوں اور اپنی کھڑکی کو دیکھتا ہوں تو ہنسنا نہیں۔ میں صبح اذان کے وقت اٹھ کھڑا ہوا۔ سورج کی کرنیں ، جس نے تھوڑی دیر بعد ایک میٹھے اور گرم موسم خزاں کے دن کی آواز دی تھی ، کمرے کی کھڑکیوں کو چمکارہی تھی۔ اوہ… کیا خوبصورت دن ہے ، لفظی طور پر فلائٹ  کے لئے بہترین دن ہے ۔

یکم دسمبر ، 1913 کو پیر کے روز صبح 11 بجے ، بیلکس کے ایوکیٹ حنم صدر اور ایسوسی ایشن کے ممبروں کے ہمراہ کار کے ذریعہ ییلکی گئے گئے۔ 13:00 بجے ، اسکول کے پرنسپل اور افسران نے ہوائی اڈے میں ان کا استقبال   کیا۔ اس میلے میں مقامی اور غیر ملکی پریس ممبران اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس اڑان کے ساتھ ، انجمن نے نہ صرف ترک خاتون کا پروپیگنڈا کیا بلکہ فوج کو ہوائی جہاز تحفہ دینے کے لئے رقم کی امداد فراہم کرنے کے مقصد کے بارے میں بھی سوچا۔ اس مقصد کے لئے ، کارڈوں سے بھری ایک ٹوکری چھپی ہوئی تھی۔

 جب وہ عثمانی اور اسلامی حقوق نسواں کی طرف سے عثمانی مجاہدین - حق-نسواں سوسائٹی کے ممبروں کی طرف سے ہوا میں اڑ رہے تھے اور جب وہ عثمانی اور اسلامی نسوانیت کے نام پر اڑ رہے تھے تو ان سے ہماری فوج کو خراج تحسین پیش کرنے کو کہا گیا۔ اور فرقہ وارانہ تفریق سے قطع نظر) عثمانی نسائی سے توقع کرتے ہیں۔

 بلقیس ایوکیٹ ، جس کے ساتھ وہ اکٹھے ہوئے تھے اپنے باپ کا ہاتھ چومنے کے بعد ، ٹوکری کے ساتھ ہوائی جہاز میں چلے گئے۔ کچھ الفاظ سے مختصر تقریر کرنے کے بعد ، "عثمانی" نامی ہوائی جہاز کے انجن نے کام کیا۔ پہلا لیفٹینٹ  یہ طیارہ ، جس کا انتظام فیتھی بی نے کیا تھا ، کو 15.14 بجے زمین سے منقطع کردیا گیا ، 200 میٹر کی اونچائی سے استنبول   میں امدادی درخواست کارڈ ہر علاقے میں ہجوم پر پھینک دیئے گئے۔
 بدقسمتی سے ، یہ کوشش مطلوبہ پھل پیدا کرنے میں ناکام رہی اور چندہ مہم میں صرف 2622 کورس جمع ہوسکیں ، جو تین ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ تاہم ، اس وقت عملے کی قیمت 1000 لیرا کے آس پاس تھی۔ یوروپی پریس میں بیلکس کے اسکیٹ کی اس پرواز کو بھی سراہا گیا۔ سفراکی میں اس فلائٹ کے بعد صحافی "برلنرٹیج بلٹ" کے تاثرات اسی نام کے اخبار میں شائع ہوئے تھے ، "جز یات انگیز اشاروں کے ساتھ جن پر احتیاط سے غور کیا جانا چاہئے۔"

ترک خواتین نے ثابت کیا کہ اگر انہیں موقع فراہم کیا گیا تو وہ ہر طرح کی ملازمتیں صحیح طریقے سے پوری کرسکتی ہیں اور بیلق کے شہرت حنم نے اس جرات مندانہ کوشش سے ترک خواتین کی اگلی نسل کو سب سے بڑا پیغام دیا۔

٭حوالہ جات: 
٭- بفکریٹ آرٹ / موسم کی پہلی ترک خواتین (1967) ، 
٭- ہلت کویوان / عورت بادلوں سے مقابلہ کر رہی ہیں (1987) ، 
٭- اوکٹے ویل / اتاترک کے ساتھ زندگی۔ پیرس (1992) ،
٭-   پیریان ایرگون ترکگٹ / جمہوریہ کی روشن خیالی میں ہماری سرکردہ خواتین ، ویکی ہیرکو  / تائرسٹ کی یادداشتیں (2000) ،
٭-آیگلگل الٹنا / / وطن ، جوار ، خواتین (2001)-
٭-  فلائنگ ترک میگزینز (ٹی ایچ کے) ، اسٹوارٹ کلائن / ترک ایوی ایشن کرانولوجی (2002)-
٭- آیئے ہیکیمازوالو / ویمن ٹرکش ایوی ایشن ہسٹری ، 45 سال کی کہانی الیبی ایئر سروس (2004) ،
٭-  گیون الوکیس / سبیہا گوکین (2007) ،
٭-  پہلے مسافر سے پہلا کیپٹن پائلٹ تک (کوکپٹ.ا ئرو ، 29.12.2013)۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حسب معمول ،جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں ایک مضمون ا سی نوعیت کا چھاپا ۔  جو ایک دوست نے  وٹس ایپ کی، یہ کہانی میرے لئے نئی تھی ۔ اُس کے بعد مجھے تھوڑی  ریسرچ کرنے کے لئے گوگول آنٹی ، فیس بُک اور ٹیوٹر کی مدد لینا پڑی ۔اور   میں نے ریمارکس دیا :
" یہ جاوید چوہدری کی دیگر کہانیوں کی طرح  جھوٹی کہانی ہے ۔ "

منگل، 14 جولائی، 2020

شگفتگو- کا تیئسواں ماہانہ مناثرہ

٭ترتیب مناثرہ٭

آصف اکبر : 20 منٹ
03:10 – 03:30
شگفتگو- حسّاس شاعر کے نام خط

عاطف مرزا : 10 منٹ
03:30 – 03:40
شگفتگو- انشائیہ سیاحت

عزیز فیصل ڈاکٹر : 10 منٹ
03:40 – 03:50
 شگفتگو- جی میل اور ہاٹ میل 
  نسیمِ سحر : 10 منٹ
03:50 – 04:00

 شگفتگو- سرفراز شاہد کا ایک بے سروپا، سروپائی خاکہ

  حسیب الرحمٰن اسیر : 10 منٹ
04:00 – 04:10

 شگفتگو-  وضو کر لیجیئے -

  حبیبہ طلعت : 10 منٹ
04:10 – 04:20

 شگفتگو- تصویر اور کیمرا

  شاہد اشرف ڈاکٹر : 10 منٹ
04:20 – 04:30
شاذیہ مفتی : 10 منٹ
04:30 – 

 شگفتگو- حیلے رزق بہانے موت


خالد نعیم الدین - مورخہ 13 جولائی -

 : 10 منٹ
20:49 – 

 شگفتگو- عوامی میلہ یا میل

پیر، 13 جولائی، 2020

شگفتگو - عوامی میلہ یا میل - مہاجرزادہ

کہتے ہیں گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا  رخ کرتا ہے۔نجانے اٖس وقت ہمارے ستارے گردش میں تھے یا علمِ نجوم کے مطابق زہرہ نے مریخ پر ستم ڈھایا ہوا تھا جب ہمارے سر پر پاکستان آرمی میں کمیشن لینے کا بھوت سوار ہوا .
پہلے تو کئی دن اس بھوت کا تنقیدانہ جائزہ لیتے رہے۔ ارسطو  اور افلاطون کے تجربات اور فلسفوں کی روشنی میں اسے پرکھا ِ ،
ارسطو اور افلاطون ہمارے دوستوں کا نام ہے جو ہم سے پہلے فوج میں جانے کی کئی کوششیں کر چکے تھے۔ لیکن ناکام ہوئے  ۔ اٖس کی وجہ ممتحن کا اُن کے ذوق کے مطابق نہ ہونا ہے۔  ارسطو تو آخری منزل  یعنی کوہاٹ سے لوٹ کر آنے والوں میں سے تھا ، اپنے تعارف میں خود کو " آر سی او " بتاتا ، مزید تفصیل پوچھنے پر ، "آر  کمیشن آفیسر "    بتاتا ،
یہ " آر " کِس کا مخفف ہے ؟" سوال ہوتا !
" جی رجیکٹڈ کا " ! مصومیت سے جواب دیتا

اور افلا طون کا مسئلہ یہ ہے کہ اُن کے سینے کی پیمائش وہاں ختم ہو جاتی ہے۔ جہاں سے فوج کے لئے  پیمائش شروع ہو تی ہے ۔
بلا کا حاضر جواب،جس کی وجہ سے  میڈیکل  آفیسر بھی بوکھلا گیا ۔

اُس نے پوچھا،”سگریٹ پیتے ہو؟“
افلاطون فوراً بولا، ”سر دھواں نکل رہا ہے“۔
 یہ اور بات کہ افلاطون کو بعد میں ائرفورس والوں نے اکاؤنٹ  کی اعلیٰ تعلیم کے بعد اکاونٹ آفیسر منتخب کر لیا ِ اور ارسطو الیکٹریکل انجنئیر بن گیا۔
  خیر تمام تر مشکلات کو دیکھنے کے باوجود ہم نے پورے غور و خوض کے ساتھ تمام دوستاں و دشمنان کے سامنے فوج میں جانے کا باضابطہ اعلان کر دیا ۔کچھ لوگ مارے حیرت کے گنگ رہ گئے اور اُنہوں نے دانتوں  تلے اپنی اگلیاں دبا لیں  ۔
 جو نکتہ چیں قسم کے تھے اُنہوں نے حسبِ عادت  و معمول ہماری قابلیت میں کیڑے نکالنے شروع کردئیے۔
"وزن زیادہ ہے ، انٹیلجنس ٹیسٹ میں رہ جاؤ گے ،  آبسٹیکل کرنا تمھارے بس کی بات نہیں ، مشکل ہے ، کیوں اپنا  تعلیمی سال ضائع کرتے ہو ؟ "
ارسطو و افلاطون کی ذہنی بلوغت  سے ہمارا مقابلہ کروا کر  ہمیں نامنتخب اور وقت کا ضیاع کرنے والا احمق قرار دے رہے تھے۔اور بعض اس میدان ِ جانگسل  میں ہماری ہمت بڑھانے لگے-
 َبہرحال ہمارا سر عقل سے خالی نہیں ہے  اِس لئے ہم نے تمام مشورہ جات و تنقیدات کو دماغ  کی گہرائی میں دفن کر دیا 
کیا خوشگوار دن تھا ، باد ل آسمان پر چھائے تھے ،  والدہ کے ہاتھ کا ترتراتا پراٹھا کھا کر والدہ کی دعاؤں کے ساتھ  ،پھر علیٰ صبح گھر سے روانہ ہوا ، اور    اپنے اکلوتے بہترین لباس پر ٹائی لگا کر ،ریکروٹنگ آفس   کے لئے روانہ ہوئے ،جہاں سے اخبار میں دئیے گئے، اشتہار کے مطابق مبلغ پانچ روپے کے پوسٹل آرڈر کو دکھا کر فارم  ملنا تھا۔ پوسٹل آرڈر ایک دن ہم نے پہلے خرید لیا تھا۔
 کیماڑی سے دس پیسے کا ٹکٹ لے کر براستہ ٹاور صدر پہنچے،  ریکروٹنگ آفس میں ایک ہجوم تھا ۔جو پھیلتا ہوا فٹ پاتھ سے آدھی سڑک سے دائیں اور بائیں طرف بڑھتا جا رہا تھا۔ سب کی نظریں  مین گیٹ کی طرف تھی۔ جہاں سے خوشی میں سرشار کوئی نہ کوئی  ہفتِ اقلیم    کا خزانہ لئے نکل رہا تھا۔ یقیناً یہ سب اُن مردِ میدان کا دیدار کرنے آئے تھے جو کمیشن کا بھوت سر کرنے نکلے تھے۔
ہم دروازے کی طرف بڑھے تو کئی ہاتھوں نے ہمیں ایسے پیچھے کھینچا جیسے سینما کی ٹکٹ لینے والوں کو پیچھے گھسیٹا جاتا ہے۔
”اَبے لائن میں کھڑا ہو ،لائن میں ،ہم کیا یہاں جھک مارنے آئے ہیں؟"
اور ہمیں لائن کے آخری سرے کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی۔  ہم پیچھے کو مڑے  تھے کہ انسانی سمندر کی ایک زبردست موج نے ہمیں  پیچھے کی طرف اچھالا ، جیسے اخبار والا ، اخبار اچھالتا ہے  اور ہم مین گیٹ کے چھوٹے دروازے سے لٹکے ہوئے تھے ،دوسری  موج  نے ہمیں بغلی درواز ے سے اندر پھینک دیا ،ہم کپڑے جھانکتے اُٹھے تو دو مضبوط ہاتھوں نے اندر بنی ہوئی لائن میں کھڑا کر دیا۔ مڑ کر دیکھا تو گیٹ کے بغلی دروازے کے سامنے دو چھ فٹ اونچے  پاک فوج کے جوان  سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے کھڑے تھے۔ لیکن یہ دیوار کبھی کبھی لڑکھڑا جاتی اور پانچ چھ مشتاقانِ کمیشن  فارم ، ہماری طرح لڑکھڑاتے اندر آ گرتے۔ لائن آگے بڑھتی رہی  اور ہم نے آخر وہ فارم حاصل کر لیا۔ جس کو  بھر کر مکمل کرنے کے بعد کمیشن آفیسر بننے کا پہلا مرحلہ مکمل ہو جاتا۔
فارم لے کر گھر پہنچے تو ،   ہماری حالتِ زار دیکھ کر سب تقریباً  پریشان ہو کر ہمارے ارد گرد جمع ہوئے۔
والدہ , ”ہائے اللہ! کیا ہوا میرے لعل کو“  کہتی ہوئی دوڑتی آئیں۔
 ”یہ کس نے حالت بنائی تیری؟
کیا جھگڑا ہوا ہے؟ کس نے مارا ہے؟“
 ہم نے کہا، ”ذرا سانس تو لینے دیں اور پانی پلوائیں“ 
اتنا کہنا تھا کہ ہمارے اردگرد پھیلے ہوئے مجمع میں بھگدڑ مچ گئی، ہر کوئی پانی لینے دوڑا۔ پانی پینے کے بعد ہم ذرا تجسس بڑھانے کے لئے خاموش رہے۔ چاروں طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی سب کے کان ہماری طرف لگے ہوئے تھے۔ والدہ صاحبہ کی آواز نے سکوت توڑا
”اے لڑکے! اب بتا آخر کیا ہوا؟ “
ہم نے گردن گھما کر سب کی طرف دیکھا  سب کا چہرہ سوالیا نشان بنا ہوا تھا۔ آخر کار ہم نے اپنی حالت پر غور کئے بغیر  اپنا  بائیاں ہاتھ کوٹ کی اندرونی جیب میں ڈالا  اور پھر  بلند کیا جس میں وہ قیمتی فارم تھا۔ جو ہم نے اپنا کوٹ  اور قمیص اُدھڑوانے کے بعد حاصل کیا تھا۔
 ”یہ کیا ہے؟“ سب چلائے۔
ہم نے گردن کو اکڑاتے ہوئے فاتحاہ انداز میں کہا،”کمیشن کا فارم“
یہ سننا تھا کہ سب کے چہرے خوشی سے گلنار ہوگئے، والدہ، خالہ اور دیگر خواتین ہم جیسے لائق فرزند کی بلائیں لینے لگیں۔
فارم لینے کے بعد دوسرا بڑا مرحلہ تصویر کھنچوانے کا تھا۔ بن ٹھن کر فوٹو گرافر کے پاس پہنچے، پہلے تو پوز بنانے  میں بڑی دقت پیش آئی، فوٹو گرافر ہمیں جس اندازمیں بٹھاتا،  اُس پوز کی  فوٹو ہم نے صرف تھانے کے بورڈ پر لگی دیکھیں تھیں لہذا ہم وہ پوز منسوخ کر دیتے۔
ہم نے پوچھا کہ”شیشہ ہے آپ کے پاس؟“۔
”ہاں ہے، وہ دیوار پر لگا ہے" اُس نے جواب دیا 
”اچھا ایسا ہے کہ ہم  بیٹھ کر پوز بناتے ہیں۔ جب ہم کہیں تو ہمارا منہ کیمرے کی طرف کر دینا“  ہم نے اُسے ہدایت دی۔
  دراصل ہمیں اِس قسم کا پوز چاہئیے تھا کہ جی ایچ کیو والے دیکھتے ہی پھڑک جائیں، کہ واہ اِس برخوردار کے چہرے سے کتنی ذھانت ٹپکتی ہے۔ ہم تیار ہوگئے تو فوٹو گرافر نے ہمیں پھرکی کی طرح گھما کر کیمرے کی آنکھ کے سامنے کیا اور فوٹو کھنچ لی،
”کل آکر لے لینا“ وہ بولا۔
 ہم رسید لے کر گھر واپس آگئے۔ دوسرے دن واپس آئے تو اُس ناہنجار نے رسید لے کر فوٹو دیتے پوچھا،
”کس فلم میں بچوں کو ڈرانے کا کردار ملا ہے“ 
ہم نے تصویر  دیکھی۔دوبارہ دیکھنے کا حوصلہ نہ تھا۔ فوٹو گرافر نے اپنی خباثت دکھائی یا پھر کرسی کے یک لخت گھمانے کے مکمل تاثرات ہمارے چہرے پر منجمد ہو چکے تھے ۔  یوں ہمیں تین روپے مزید خرچ کرکے تصویر کھنچوانی پڑی اور اُسے فارم پر چسپاں کرکے، فارم کو راولپنڈی روانہ کر دیا۔
مہینے بعدہمیں لیٹر ملا کہ دوسرے مرحلے کے، تحریری امتحان کے لئے، فلاں تاریخ کو کینٹ بورڈ سکول صدر کراچی پہنچ جائیں۔مطلوبہ تاریخ کو  اپنے دوست افتخار کے ساتھ  سکول پہنچ گئے، وہ  سکول کے پارک میں  بنچ پر بیٹھ گیا اور ہم کمرہ امتحان میں داخل ہو گئے۔ شاندار طریقے سے امتحان دیا اور امتحان کے بعد افتخارکے ساتھ اُس کے بڑے بھائی ، رفیق احمد قریشی ،  کے آفس پہنچے۔  جو کسی فرم میں چارٹرڈ اکاونٹنٹ تھے ،انہوں نے ، سموسے اور چائےمنگوائی  اور ہم سے پیپر لے کر دیکھا،
”مضمون کس پر لکھا؟“ اُنہوں نے پوچھا،
 ”بھائی! عوامی میل پر“۔ ہم نے سموسہ کھاتے کھاتے رک کر جواب دیا۔
 ”عوامی میل؟“ انہوں نے استسفار کیا
”یہاں عوامی میل تو نہیں عوامی میلہ لکھا ہے!“ وہ شک آمیز لہجے میں بولے،
”نہیں بھائی عوامی میل ہے“ ہم نے وثوق سے کہا۔
 انہوں نے پرچہ ہمیں دیتے ہوئے کہا،”چلو کوئی بات نہیں، اگلی دفعہ پرچہ غور سے پڑھنا“۔
ہم نے پرچہ دیکھا وہاں عوامی میل کے بجائے عوامی میلہ لکھا ہوا تھا۔
 ہم نے جھینپ مٹاتے ہوئے کہا،”بھائی اگر کوئی صاحب ذوق ہوا تو ہمیں بیس نہیں تو دس نمبر ضرور دے گا۔ کیوں کہ ہم نے کینٹ ریلوے سٹیشن سے راولپنڈی تک، عوامی میل کا ایسا سفر نامہ لکھا ہے۔ کہ یقیناً وہ پاکستانی انگریزی ادب کا حصہ بننے کے قابل شاہکار ہے“۔

 



٭٭٭٭٭رنگروٹ سے آفسر تک ٭٭٭٭٭٭  

٭۔

ہفتہ، 11 جولائی، 2020

شگفتگو- حیلے رزق بہانے موت - شاذیہ مفتی

آج پھردوپہر کے  بارہ بجے  پچھلے برآمدے میں اشتہا انگیز خوشبو پھیل گئ روز کی طرح ۔ اور میں جالی دار دروازہ سے لگی کچھ دیر اس خوشبو کو سونگھتی رہی اندازے لگاتی رہی اور پھر روز کی طرح ہی مالی صاحب کے پاس ٹھنڈے پانی کی بوتل اور گلاس لے کر جابیٹھی ۔ مروتاً انہوں نے " صلع ماری " (اب اس کے ہجے کیا ہیں اور کس زبان کا لفظ ہے لیکن انگلش میں آفر offer  کہیں گے ۔) خیر مالی صاحب نے صلع ماری اور میں بسم اللہ کرکے ظہرانے میں شامل ہوگئ ۔ امی جان کہیں دیکھ رہی ہوتیں تو ایسا پھٹکارتیں

"اے ننھی کیا  نلوا  پھٹ گیا ؟ "

 ( اب یہ کس زبان کا لفظ ہے یہ بھی نہیں پتہ کیونکہ صرف امی جان کے منہ سے سنا ہے  ۔ ایک دو دفعہ میں نے کسی اور کو کہا کہ تمہارا نلوا پھٹ گیا ہے تو اگر ہاتھ کی زد میں آرہی ہوتی تو ایسی چٹکی مروڑ ڈالتیں کہ مارے درد کے لڑائی وڑائی بھول جاتی اور اگر دیکھ رہی ہوتیں تو نظروں ہی نظروں میں  کچا چباجانے کی نیت صاف پتہ چلتی ۔ دوران نماز "ہوں ، ہوں " کی تنبیہ للکار کی طرح سنائی دیتی ۔ یعنی اتنا یقین ہے یہ کوئی برا لفظ ہے اور جسے صرف امی جان اپنی زبان سے ادا کرسکتی ہیں اور  ناچیز کے لیے ہی بولا جائے گا )
مجھے نظام ِ انہضام کا متبادل لگا یہ نلواٰ  ۔اور نلواٰ پھٹنا  اسے نفسیات دان ایک الجھی ہوئ نفسیاتی بیماری کہ سکتے  ہیں اور بڑے بزرگ بد نیتی ، پیٹو پن ۔ میرا خیال ہے کہ بچپن میں اس مرض کا شکار ہونے والے  بڑے ہوکے زیادہ تر شعبہ  سیاست  میں کار ہائے نمایاں سر انجام دیتے ہیں ۔اور  اب جتنا بڑا نلوا اتنا ہی زیادہ نیب گزیدہ ۔
خیر بات ہورہی تھی مالی صاحب کے ظہرانے کی ۔ انتہائی لذیذ بکرے کی سری پکی تھی اور اس پر وہیں موجود کیاری سے ہرے دھنیے کے پتے اور نیبو چھڑک کر مالی صاحب تناول فرما رہے تھے اور ہر لقمے کے ساتھ شکر الحمدللہ کہہ رہے تھے ۔میرے لیے بھی ایک منی سی تام چینی کی پلیٹ سجا رکھی تھی ۔ تکلفاً چکھتے چکھتے بھی آدھی خمیری روٹی تو میں نے بھی کھا لی ۔ خیر وہ پہلے ہی چڑیوں بلیوں اور کسی مجھ سے کے لیے ایک روٹی زائد ہی لاتے ہیں ۔
یہ مالی صاحب سرکاری نوکری پر ہیں اور تبادلہ ہوکر ہمارے علاقے میں کچھ ہی عرصے سے آئے ہیں پوری مالی پلاٹون کے ہیڈ اور بہت محنتی انسان ہیں ۔ بارہ بجے کام کرتے ہماری گلی میں آنکلتے ہیں اور پھر یہیں کھانے اور قیلولہ کے بعد دوبارہ کام پر ۔ یہ نہیں کہ صرف مالی صاحب کی نمک خوار ہوں کبھی جب وہ ساتھ ٹیفن نہ لائیں تو پھر جو دال ساگ پکا ہوا اس میں ہمارے ساتھ شامل ہوتے ہیں ۔
مالی صاحب کا مینیو روزانہ فرق  سے ہوتا ہے کسی دن دیسی مرغ کا شوربہ کسی دن ماش کی دال کسی دن بھنا ہوا گوشت اور کسی دن انڈے پیاز کا خاگینہ ۔
 رزق کا وعدہ اللہ تعالیٰ کا ہے اور سنتے آئے ہیں کہ منہ بند سیپی میں کیڑے کو بھی وہی رزق پہنچاتا ہے ۔ بیشک میرا رب ہی بہترین رازق ہے ۔
ایک دن سودا سلف لانے کے بعد روز بروز بڑھتی مہنگائی اور سکڑتی اشیاء خرید کو دیکھتے یونہی خیال آیا کہ ہم متوسط طبقے کے لوگ مہنگائی کے ہاتھوں دسترخوان سادہ کرتے جارہے ہیں تو یہ مالی صاحب کس طرح روز روز اتنے مرغن کھانے لاتے ہیں ۔
ٹن سے دماغ میں گھنٹی بجی اور ایک کہانی  یاد آگئی ایک آدمی تھا سستی کا مارا اس نے کہیں سن لیا کہ رازق اللہ ہے وہ اپنے بندے کو کبھی بھی بھوکا نہیں رہنے دیتا ۔ بس جی ایک بڑی نہر کے کنارے جا کر پڑ رہا اللہ کی قدرت صبح ہوئی تو کیلے کے پتّے پر گرما گرم حلوہ پوری رکھا  پانی میں بہتا بہتا اس کے قریب آکر جھاڑیوں میں پھنس گیا ۔ موصوف نے اللہ کا شکر ادا کیا پیٹ بھرا اور مزے سے پسر گیا ۔اب جی صبح شام حلوہ پوری مل جاتا  آخر ایک دن تجسس سے مجبور ہوا اور نہر کنارے چل پڑا سوچتا ہوا  دیکھوں تو یہ کہاں سے آرہا ہے کچھ دور گیا تو کیا دیکھتا ہے ایک آدمی اپنی ٹانگ پر لپٹا  کیلے کا پتہ اتار رہا ہے اس میں حلوہ پوری ہے اور پانی میں بہارہا ہے ۔ معلوم ہوا کہ ٹانگ پر پھوڑا ہےجو ناسور بن گیا  ہے اب حکیم جی نے علاج بتایا ہے گرما گرم حلوہ پھوڑے پر رکھو اور پوری سے لپیٹ کر اور کیلے کا پتہ باندھ دو کچھ دیر سکائ کے بعد پانی میں بہا دو۔
لیجے رزق تو ملا   بغیر محنت کیے لیکن پھوڑے پر بندھا حلوہ پوری ۔
اب یہ مجھے سمجھ نہ آئی کئی دن کس طرح مالی صاحب سے پوچھوں ذریعہ آمدنی ۔
پھر ایک دن بھنے مرغ کی ران چباتے مالی صاحب نے خود ہی انکشاف کیا کہ ان کی بیوی ایک امیر بیگم صاحبہ کے گھر صبح سے شام بس بٹوہ چادر اٹھائے ساتھ ساتھ پھرنے کا کام کرتی ہیں صاحب نے دوسری شادی کرلی ہے اب بیگم صاحبہ ایک پیر سے  " علاج " کرارہی ہیں  تاکہ وہ "کلمونہی سوکن " کو چھوڑ کر  بیوی بچوں کے پاس پلٹ آئیں ۔ پیر جی کے علاج میں ہفتے میں ایک بکرے کی سری ، کالی ماش ، روزانہ کا ایک عدد انڈا،  بدھ کے بدھ ایک کالا مرغ اور پیر کے پیر سرخ گوشت  صدقہ شامل ہے ۔ مالی صاحب کی بیوی یہ سب گھر لاکر پکاتی ہیں مزے سے سب کھاتے ہیں اور بیگم صاحبہ کی سوکن کی درازی عمر کی دعائیں کرتے ہیں ۔
  . . . . . . . .  لیجیے یوں لگا جیسے برآمدے میں چلتے کولر سے  اٹھتی خس کی خوشبو اور خنک ہوا اڑا کر میری آرام کرسی  نہر  کنارے لے گئی ہو اور وہاں لوگ اپنے صدقات اتار اتار کر بہا رہے ہوں اور ناچیز لپک رہی ہو ۔
نہایت شرمندگی ہوئ  اپنے چٹورپن پر اور افسوس ہوا معصوم سی بیگم صاحبہ پر ۔ 

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 حیلے رزق بہانے موت
 شاذیہ مفتی

شگفتگو- چار آنے کے پانچ سگریٹ - شاہد اشرف ڈاکٹر

میرا خیال تھا کہ ایمبیسی کا ذائقہ بہتر ہے جب کہ میرے کزن کو , کے ٹو کا ذائقہ اچھا لگا. ہم نے پہلی بار چار آنے کے پانچ سگریٹ خریدے . تین ایمبیسی اور دو کے ٹو. اُن دنوں قصبے میں میلا لگا ہوا تھا. کچّی ٹاکی میں "بنارسی ٹھگ " دن دیہاڑے پکّے پیریں دیکھ کر بستے کندھے پر لٹکائے اور منور ظریف کے مکالمے یاد کرتے گھر آ گئے. ایک دن میں دو معرکے انجام دیے. یعنی فلم اور سگریٹ ایک ساتھ , گویا ایک ہی جست میں دو زینے طے کر لیے. ویسے یہ ہمارے ریلنگ پکڑ کر زینے چڑھنے کا زمانہ تھا. اس موقع پر مجھے ایک مسلمان حکمران یاد آ گیا ہے. 
چھٹی جماعت میں سکول سے میلا دیکھنے کے لیے پہلے پیریڈ کے بعد آنکھ بچا کر نکلے اور چُھّی ہونے تک میلے کے سارے رنگ دیکھ لیے. میلا کئی دن تک رہا. اس کے بعد میں نے دیگر طلبا کو سکول سے بھگانے میں سہولت کار کے فرائض انجام دیے. نئی نسل صرف گمان کر سکتی ہے کہ ہم سکول کے بعد آوارہ گردی کرتے, نہر میں نہاتے, کھیتوں میں خربوزے توڑتے, درختوں پر چڑھتے اور بھینس کی سواری کا لطف اٹھاتے تھے.
چند دن بعد میلا تو ختم ہو گیا مگر ہمارے دل ٹھگ کر سگریٹ کی نشانی دے گیا. سگریٹ کے شعلے اور منھ سے دھواں اگلنے پر کارخانے کا گماں ہوتا تھا. ایک دن سکول میں پڑھتے ہوئے سر چکرانے لگا. آدھی چھٹی کے بعد گھر آ گیا. والد صاحب ایک بزرگ دوست حکیم کے پاس لے گئے. انھوں نے کلائی پکڑی, نبض چیک کی , چند لمحے مجھے غور سے دیکھا اور ایک پڑیا دے بولے, صبح دہی کے ساتھ کھا لینا.
اگلے دن سکول میں چھٹی تھی. سارا دن آوارہ گردی اور سگریٹ نوشی ہوتی رہی. اب یہ یاد نہیں کہ آوارہ گردی زیادہ کی یا سگریٹ نوشی زیادہ. ایک صاحب کو سگریٹ لعاب سے گیلا کر کے سلگاتے ہوئے دیکھا تو اس نقل کی کوشش میں سگریٹ اور لعاب دونوں ضائع ہو گئے.
دن ڈھلے گھر پنہچے تو سر چکرانے لگا. والد صاحب دوبارہ حکیم صاحب کے پاس لے گئے. انھوں نے معمول کے مطابق نبض دیکھی. پڑیا دی اور دہی کے ساتھ کھانے کی تاکید کی. اگلا دن سکول سے آنے کے بعد ملکی حالات کی طرح کسی تبدیلی خارج از امکان کے مطابق گزر گیا. سگریٹ کے کش لگائے, دھویں سے دائرے بنانے کی کوشش کی, موت کے کنویں میں موٹر سائیکل چلانے کا تصور باندھا , ہینڈل چھوڑ کر ہاتھ بلند کیے, دھواں منھ سے نکل کر دائرے بناتا ہوا میں تحلیل ہو گیا. کئی دنوں کی مشقت کے بعد اس کامیابی نے سرشار کر دیا. اچانک سر چکرانے لگا . گھر لوٹتے ہوئے کئی بار ایسا لگا کہ جیسے دادا جان کی عینک لگائی ہوئی ہے. زمین پر جگہ جگہ نشیب و فراز کی وجہ سے پاؤں رکھتے ہوئے دقت ہو رہی تھی. گھر پہنچے اور پھر حکیم صاحب کے مطب پر حاضری دی. والد صاحب کی تشویش اور حکیم صاحب کا تفکر  چہروں سے صاف دکھائی دے رہے تھے. حکیم صاحب نے پڑیا بنائی, میرے پاس آئے, چند لمحے مجھے دیکھتے رہے , پھر میری قمیص کی جیب میں پڑیا رکھتے ہوئے آہستہ سے بولے "اگر تم نے اب سگریٹ پیا تو میں تیرے والد کو بتا دوں گا "

(شاہد اشرف ڈاکٹر)

شگفتگو- تصویر اور کیمرا - حبیبہ طلعت

بچپن سے سارے گھر والے اکیلے نکلنے سے منع کرتے آئے ہیں۔ اب تو یہ بات ہماری فطرت ثانیہ ہی بن گئی ہے۔ اسی لیے ہم کوئی بھی مضمون لکھیں اس کا عنوان کبھی اکیلا نہیں جانے دیتے۔ یاد کریں کوفتہ اور فالودہ، میاں، بیوی اور رسّہ، وغیرہ، وغیرہ اور وغیرہ۔
کسی زمانے میں فلموں کے ناموں میں بھی یہی احتیاط برتی جاتی تھی۔ جیسے لیلیٰ مجنوں، ہیر رانجھا، سیمسن اینڈ ڈی لائلا، اور کنگ کانگ اینڈ گاڈزیلا۔ اور علی بابا کو تو چالیس چوروں کے بغیر کبھی کسی نے جانے ہی نہیں دیا۔ اسی وجہ سے ہم لکھنا تو تصویر کے بارے میں چاہتے ہیں، مگر کیمرا دسراہٹ کے لیے ساتھ کر دیا ہے۔

تصویر بھی کیا چیز ہوتی ہے۔ جب تک کیمرا نہیں تھا تصویر بنانا ایک فن ہوتا تھا۔ کیمرا آنے کے بعد تصویر بنوانا ایک فن ہو گیا ہے۔ اردو اور انگریزی دونوں کا فن۔

اب اگر مسئلہ یہ ہو کہ مہاراجہ، مصوّر ہو یا بھینس، سب کو ایک ہی آنکھ سے دیکھتا ہو تو اس کی ایسی تصویر بنانے کی کیا صورت ہو سکتی ہے کہ دیکھنے والے، تصویر کو بھی اور باقی ماندہ مصوّر کو بھی،  دیکھ کر چچ چچ کرنے اور غش کھانے کی جگہ اش اش کریں۔
لیکن مصور بھی ایک کائیاں تھا۔ اس نے ایسی تصویر بنا ڈالی جس میں مہاراجہ بند آنکھ بند کر کے کھلی آنکھ سے کسی مقتول ہرن کا تیر سے نشانہ لے رہا تھا۔ مقتول اس لیے کہ مہاراجوں کا نشانہ کوئی بھی ہو، نشانہ خطا ہونے کا امکان کبھی نہیں ہوتا۔

صرف مہاراجہ کی تصویر بنانا ہی ایک مسئلہ نہیں ہوتا تھا، مونا لیزا کی تصویر بنانا بھی کارے دارد ہی ہوتا تھا۔ بیچارے لیوناردو دا ونچی پر کیا بیتی ہو گی جب اس کی نک چڑھی ماڈل کبھی منہ بسور کر بیٹھتی تھی اور کبھی باچھیں کھلا کر۔ ظاہر ہے پھر تصویر بھی ایسی ہی بننی تھی۔

لیکن ہمیں تو بھایا چغتائی آرٹ۔  نہ ماڈل کے نخرے نہ کسی مہاراجہ یا مہارانی کا خوف۔ اکثر کلام کے ساتھ ہم مغل آرٹ اسی وراثتی  تصرف کے قومی حق کے تحت استعمال کرتے ہیں۔

کیمرے کی ایجاد نے مصوروں کی مشکل تو کی آسان۔ مگر تصویر کشوں کو مشکل میں ڈال دیا۔ شروع شروع کے کیمرے تو ہوتے بھی مزاج دار بہو کی طرح تھے۔ بات بات پر بگڑنا تو ان کا شیوہ ہوتا تھا۔ ایسے کیمروں سے تصویر بنانا جہاں مصوّر کے لیے ایک صبر آزما مرحلہ ہوتا تھا وہیں بنوانے والے کی اطاعت شعاری کا بھی امتحان ہوتا تھا۔ چاہے گورنر ہو یا منسٹر، تصویر کش نے کہا ساکت تو سب ساکت۔ اس نے کہا مسکرائیے تو سب کو مسکرانا لازم۔ اس نے کہا سانس روکو تو سب مہاتما گوتم بدھ کی طرح دم بخود۔ اور پھر کٹھ پتلیوں کی طرح جس جگہ اس نے کہا کھڑے ہوجاو، وہاں کھڑا ہونا مجبوری، جس کو کہا بیٹھو اس کا بیٹھنا فرض۔ جسے چاہے شطرنج کے مہروں کی طرح آگے کرے، پیچھے کرے، دائیں بائیں کرے، کسی کے قدموں میں بٹھا دے، کس کی مجال کہ دم بھی مار سکے۔

آہ کیا زمانہ تھا۔ جس کے پاس ایک کیمرا ہوتا تھا وہ شہزادہ ہوتا تھا۔ کسی شادی بیاہ کی تقریب میں لڑکیاں بالیاں اس کے پیچھے پیچھے ہوتی تھیں تو بڑی بوڑھیوں کی حسرت زدہ نگاہیں اس کی راہوں میں بچھتی تھیں۔ اور وہ راجہ اندر بنا بے روک ٹوک مردانے سے بچتا بچاتا زنانے میں چکر لگاتا رہتا تھا۔ اس زمانے میں کیا کیا نخرے ہوتے تھے۔ رول، فلیش لائٹ، دھوپ چھاؤں، رول کا دھونا، پھر پرنٹ بنوانا اور پھر افسردہ ہو کر بیٹھنا کہ تصویریں ----

اور اب یہ بھی دور کہ کیمرے تو عجائب گھر کی زینت بن گئے اور پیشہ ور فوٹوگرافر چڑیا گھروں کی۔ بچّے بچّے کے ہاتھ میں موبائل اور ہر موبائل میں کیمرا۔ اور پہلے تو تصویر بنوانے کے لیے منّت کشِ غیر ہونا پڑتا تھا، مگر اب تو دستِ خود تصویرِ خود۔ سیلفی یا سلفی تو سکّہ رائج الوقت ٹھہرا۔ حد یہ کہ اب اگر کسی مولانا سلفی کو ڈھونڈنے کے لیے گوگل میں سلفی لکھیں تو تصویر رشکِ بتانِ آزری کی آ جاتی ہے۔ ذرا ٹھہریے حضرات! محفل ختم ہونے بعد گوگل کیجیے گا۔ اب کے دور میں تصویر ہی وائرل نہیں ہوا کرتی ہے بلکہ اب میمز بننے اور وائرل ہونے سے بھی صاحب تصویر کی شہرت میں چار چار چاند لگ جاتے ہیں۔ حیران مت ہوں کہ ہم تصویر کشی سے میمز تک کیسے چلے گیے ہیں۔ جناب ہم برسوں لاہور رہ کر آئے ہیں اور لاہوریوں کی مہربانی سے علاقوں اور محلوں محلوں گھوم بھٹک کر ہی اپنے مطلوبہ پتے پر پہنچ جایا کرتے تھے۔ سو تحریر میں بھی  یہی دربدری کام آئی ہے۔ اب یقینا میمز کے لیے اپ کو گوگل نہیں کرنا پڑے گا۔۔بس اگلی نشست کا انتظار ۔۔۔۔۔شکریہ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

"تصویر اور کیمرا"
              ۔۔۔ حبیبہ طلعت

*********

شگفتگو- وضو کر لیجیئے - حسیب اسیر

🌹وضو کر لیجیئے🌹

یہ جملہ مجھ سے مخاطب ہو کر ایک شخص نے تب عرض کیا، جب ماسوا میرے باقی جماعت کھڑی ہو گئی تھی اور میں اونگھنے کی حدیں پار کر کے نیند کی وادی میں پہنچ چکا تھا قریب تھا کہ کسی چٹان کی پشت سے کوئی پری چہرہ نمودار ہو کر گنگنانے لگتا "وادیعشق سے آیا ہے میرا شہزادہ" اور یہ بھی ممکن ہے میں خود یہ صدائیں لگاتا کسی سفیدے سے بغل گیر ہو جاتا "ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح" لکین میرے ہم صف نے یہ نوبت ہی نہ آنے دی کہ یہ جماعت کسی سکول یا تنظیم کی نہیں نمازجمعہ کی جماعت تھی _

میں فوراً اٹھا پر اس اٹھنے میں کوئی عزم پوشیدہ نہیں تھا بلکہ شرمندگی تھی، جو چہرے پر ایسے عیاں تھی کہ کوئی ان پڑھ بھی ہو تو بآسانی پڑھ لے پشت قبلے کی جانب کی اور بڑے بڑے قدم لے کر وضو خانے میں پہنچا، دوبارہ وضو کیا اور اب کی بار ذرا اور بڑے قدم لیے کہ کہ رکعت نہ چھوٹ جائے _سو جب امام صاحب نے رکوع میں جانے کے لیے اللہ اکبر کہا تو میں بھی جماعت میں شامل تھا _البتہ نیند کا غلبہ اب بھی طاری تھا _اتنا یاد ہے امام صاحب کی ہاں میں ہاں ملاتا رہا یوں خدا خدا کر کے نمازجمعہ ختم ہوئی _نماز کے اختتام پر جب وہاں موجود نمازی امام صاحب سے باری باری مصافحہ کر رہے تھے تو میں نے مناسب نہ سمجھا کہ میں شعر سمجھے بغیر داد نہیں دیتا اور وہ جب غزل سرا تھے تو میں کسی غزال کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا تھا _

مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ نمازجمعہ بھی بھرپور کیفیت کے ساتھ ادا نہ ہوئی اور پری چہرہ سے ملاقات بھی خواب ہی ٹھہرااس ٹھہراو میں بظاہر بد نصیبی تو میری تھی، لکین خطیب صاحب بھی تو کسی کرنی والے کا کوئی ایسا قصہ چھیٹر بیٹھے تھے جسے راوی نے زیب_داستاں کے لیے شیطان کی آنت کی طرح طول دے دی تھی _طوالت کی تاب تو میں لے آتا، پر آپ کے ترنم نے ایسا جھولایا کہ نہ جانے کب نیند کی دیوی کی بانہوں میں دم دے بیٹھا _اس لیے اب ندامت کا فائدہ نہیں کہ مذکورہ وقت بیت گیا ہے اور آنے والا وقت ہمیشہ اپنے ساتھ بہت ساری تبدیلیاں لاتا ہے _پھر انہی تبدیلیوں کے ساتھ اپنا آپ بدل لیتا ہے _ایسے ہی چند تبدیلیوں کے ساتھ وقت ہمارے دیکھتے دیکھتے ہی بدل گیا ہے _

جیسے پہلے پہل کئی محلوں کی ایک مسجد ہوتی تھی، آجکل ایک ایک محلے میں کئی کئی مسجدیں بن گئی ہیں گئے وقتوں میں خطیبمسجد اپنی مسجد کے نمازیوں کی اصلاح کی سعی کرتے، اب آس پڑوس کی کرتے سنائی دیتے ہیں _نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ماضی میں لوگ مسجد کو وقت دیتے تھے، اب زیادہ تر چندہ دینے لگ گئے ہیں _ایک اور تبدیلی ملاحظہ ہو پہلے مسجدوں میں پردے کی پابندی کی تلقین کی جاتی تھی، اب معقول انتظام کیا جاتا ہے _

خیر آپ کو اس تمام صورتحال سے دل برداشتہ ہونے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں کہ زندگی حرکت کا نام ہے اور معاشروں میں ایسی حرکتیں ہوتی رہتی ہیں _لکین اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم ایسے ماحول میں زندہ رہیں جہاں محبت ہو تو احترام کے ساتھ، رشتے ہوں تو ان کی قدر بھی ہو، نفسانفسی ہو تو ذرا کم ہو پھر نیند کی وادی سے نکل کر بڑے بڑے قدم اٹھائیے _

مزاح نگار
❤️حسیب اسیر ❤️
واہ کینٹ

شگفتتگو- سرفراز شاہد کا ایک بے سروپا سروپائی خاکہ - نسیم سحر




شگفتگو- جی میل اور ہاٹ میل - عزیز فیصل ڈاکٹر

جی میل اور ہاٹ میل
اللہ جانے ای میل بنانے والوں کو یہ شرارت کیوں سوجھی کہ ڈاک  والے ایڈریس میں صرف لفظ "میل" کو ہی شامل رکھا۔ یہاں خواتین کو  متناسب نمائندگی سے محروم کر دیا گیا۔ وہ عورتیں جو مردوں کے شانہ بشانہ چلنا چاہتی ہیں، انھیں اس صورت حال میں بہت مایوسی کا سامنا  کرنا پڑا ہے۔ ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ خود فی میل کو بھی ایڈریس کی حد تک "میل" ہونا پڑتا ہے۔ بیالوجی تو یہی کہتی ہے کہ ہر میل  کچھ نہ کچھ فی میل بھی ہوتا ہے اور  ہر فیمیل کچھ نہ کچھ میل بھی ہوتی ہے۔  اس لحاظ سے دیکھا جائے تو میل ایڈریس میں  صرف میل کا ہونا فیمیل طبقے کے لئے قابل قبول ہو سکتا ہے۔  یہ الگ کہ بعض میل ضرورت سے زیادہ فیمیل بن جائیں تو اس کے فوائد ،نقصانات  سے مہا کم ہوتے ہیں۔  یا اگر فی میل کچھ کی بجائے بہت کچھ میل بن جائیں تو اس کے نتائج شوہروں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
اردو شاعری میں قاصد کی پروفیشنل ذمہ داریوں کو بہت تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ یہ بھی وہاں مذکور ہے کہ  قاصدین کرام اپنے فرائض میں  کون کون سی کوتاہیاں برتتے تھے۔  ایک ایسی ہی  کوتاہی کا اعتراف خود غالب نے کیا ہے کہ قاصد نے خط پہنچانے کے بہانے اس کی محبوبہ سے اپنی لائن سیدھے کر لی تھی۔ تہذیب یافتہ ماضی میں پروفیشنل بددیانتی کی ایسی مثالیں کم کم ہی نظر آتی ہیں۔ایک بات جو بہت قابل غور ہے کہ محبوباوں تک عاشق کے خطوط و تحائف مرد قاصدین کے ذریعے بھیجے جاتے تھے جو ، بوجوہ، یہ کام تقریباً ایمانداری سے سرانجام دیتے تھے اور اپنے شعبے کی خوش نامی کا باعث بنتے تھے۔ شاید اسی لئے ای میل کی ڈاک کا کام بھی "میل" کے سپرد کیا گیا ہے۔ حالانکہ کتب عشق کے پیغام رسانی والے ابواب میں ماسیوں، نوکرانیوں اور نانیوں کا ذکر بھی جلی حروف میں ملتا ہے لیکن پھر بھی ای میل کے کارپردازوں   نے آن لائن ڈاک میں لائن مارنے کے لئے "فی میل" پر بھروسہ نہیں کیا۔
(جاری ہے )


عزیز فیصل ڈاکٹر

شگفتگو- حسّاس شاعر کے نام خط - آصف اکبر

پیارے شاعر
سلامت رہو۔ شکر ہے زمانے کے اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود میں اور تم سلامت ہیں اور ابھی تک کوئی بلا ہمارا بال بیکا نہیں کر سکی۔ جبھی تو یہ فریضہ انجام دینے کی ذمّہ داری تمہارے اوپر آ گئی ہے۔  لیکن عزیز من مجھے تمہاری صحت کی بہت فکر رہتی ہے۔ سنا ہے حلقے کے اجلاسوں میں شرکت کر کر کے تمہاری آنکھوں کے گرد حلقے مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ لیکن میرے عزیز ہرچند کہ اربابِ ذوق کا ذوق تمہارے معاملے میں کچھ تسلّی بخش نہیں، اور ان کا حلقہ تمہارے گرد تنگ ہوتا جا رہا ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تم اس دباؤ میں آکر الٹے سیدھے خیالات کو گلے لگا لو۔ یا موج میں آکر حلقہِ صد کام نہنگ کے نخچیر بن جاؤ۔
رفیقِ من، چند روز قبل تمہارا گلہ سامنے آیا جو تم نے گلا پھاڑ کر کیا ہے۔ تم نے شکایت کی کہ تم نے پچھلی صدی میں کوئی شعر کہا تھا جس پر میں نے ہمیشہ میلی نظر رکھی اور آخر کار موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ سوچ کر کہ کورونا  کا  دور دورہ ہے اور تم یقیناً اپنی املاک کی طرف سے غافل ہو گئے ہو گے اس شعر کی روح چرا کر اپنا ایک شعر کہہ دیا اور جس واہ واہ پر تمہارا اور صرف تمہارا حق تھا، اسے اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروا لیا۔ حالانکہ تم نے اس شعر کو اپنے دیوان میں بھی طبع کروا کر جملہ حقوق محفوظ کروا لیے تھے۔ تم نے بجا طور پر میری اس حرکت کو 'دیدہ دلیری' کا نام دیا۔   تمہارا یہ بھی حسنِ ظن  ہے کہ میں نے اس دیوان کو کہیں سے چرا کر  اس کا انتہائی جگر سوزی سے مطالعہ بھی کیا ہے، حالانکہ تم نے انتہائی محتاط رہتے ہوئے اپنے اس دیوان کو مجھ سے اسی طرح بچا بچا کر رکھنے کی پوری کوشش کی جیسے اقبال کے آئینہ ساز کے بنائے ہوئے آئینے کا مالک اس آئینے کو بچا بچا کر رکھتا تھا۔ ساتھ ہی تمام ہم عصر شعراء ، ادیبوں  اور سخن فہموں نے  بھی اس معاملے میں  میرے خلاف متحدہ محاذ بنا لیا، اور انتہائی کامیابی سے تمہارے اشعار  سے محروم رکھا۔ قسم لے لو جو کسی  ظالم نے کبھی بھی مجھے  تمہارا کوئی شعر یا کوئی مصرع ہی سنایا ہو۔ اور تو اور سوشل میڈیا پر براجمان لوگ  زمانے بھر کے گئے گزرے شاعروں کے طرح طرح کے  اشعار پوسٹ کرتے ہیں، شلغم کی طرح پھیکے اور بلبلوں کی  طرح بے وزن، مگر ان کم بختوں میں سے بھی کبھی کسی نے میرے سامنے تمہاری کوئی چیز پوسٹ نہیں کی۔ حد یہ کہ کبھی کسی نے تمہارا نام تک میرے سامنے نہیں لیا۔ مان گئے بھئی ایکا ہو تو ایسا ہو۔ انتہا یہ کہ  ان مشاعروں کے منتظمین نے بھی، جن میں میں شریک ہوتا رہا،  کیسی کامیاب  کوشش کی کہ میرا اور تمہارا آمنا سامنا نہ ہونے پائے۔
میرے بھائی تمہارا گلہ بجا مگر میری مجبوریاں بھی تو سمجھو۔ اب دیکھو نا ایک تو وقت نے مجھے دنیا میں لانے میں اتنی دیر کر دی کہ میرے آنے سے پیشتر ہی تمام زرّیں خیالات تو میر و غالب اور حافظ و عرفی جیسے لوگوں نے غصب کر لیے، اور سیمیں خیالات داغ اور جگر اور فیض جیسے لوگ لے اڑے۔ اوپر سے ستم یہ کہ بچے کھچے آہنی خیالات کو تم نے اپنا دیوان چھاپ کر اپنے نام منتقل کر لیا۔ اب تم تو ہو گئے دیوانی۔ (دیکھو بھائی یہ چھوٹی 'ی' ہے۔ اگر وقت کے ساتھ ساتھ بڑی ہو جائے تو میں بری ہوں۔) اور مجھ جیسے ٹٹ پونجیے کے لیے یہی راستہ چھوڑا کہ ادھر ادھر ہاتھ مار کر فوجداری کا اہل ہو جاؤں۔
عزیز القدر، یہ بات تو میں تسلیم کرتا ہوں کہ میرا اپنا ذہن تو بالکل بنجر ہے، بلکہ اب تو پنجر بنتا جا رہا ہے۔ بچپن میں ہی جب دیکھا کہ شاعری نام کمانے یا جمانے  کا ایک ایسا راستہ ہے جس میں ہینگ لگتی ہے نہ پھٹکری، ( پھٹکار برسنے  کی خیر ہے)، اور رنگ کچھ نہ کچھ آ ہی جاتا ہے، تو چوری چھپے  انگلیاں ٹیڑھی کر کے جتنا گھی جہاں سے ملا  نکال لیا کرتا تھا۔ اللہ ان  سیر چشم بزرگوں  کی ارواح کو خوش رکھے، جن کی شاعری کا مطالعہ کر کر کے میں نے بھی کچھ الفاظ جوڑنے شروع کیے، تو  نہ کبھی میر صاحب نے سرزنش کی نہ سودا نے۔ حد تو یہ کہ دور طالب علمی میں  یونیورسٹی کے مجلّے میں میں نے پندرہ بیس اشعار کی  اپنی ایک نظم  'نذرِ اقبال' کے نام سے ایسی بھی چھپو ا  دی، جس کے ہر ہر شعر کا ایک مصرع  من و عن اقبال  کا تھا۔ اللہ غریقِ رحمت کرے اقبال کو، ان کی روح  میری اس سینہ زوری پر مسکرا کر رہ گئی، جس سے مجھے اور شہ ملی۔ پھر میں نے کبھی غالب کی زمین میں ہل چلایا  تو کبھی نظیر کا آدمی نامہ چوری کیا۔ کبھی مصحفی کے  لنگور کی گردن ناپی تو کبھی  سودا کی 'ہے کہ نہیں'  کانیلامِ عام کیا۔  پھر جیسے  جیسے مجھے موقع ملتا گیا، میں نے انہیں الفاظ و تراکیب کو  اور خیالات کو جو مجھ سے پہلے لاکھوں شعراء ہزاروں سال سے استعمال  کرتے آ رہے تھے، چرا چرا کر اپنے اشعار میں استعمال کرنا شروع کر دیا۔ نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ تم نے مجھے رنگے ہاتھوں  پکڑ لیا۔ اب ظاہر ہے کہ  جب میرے شعر اور تمہارے شعر کا اتنا ہی قریبی تعلّق  ہے جتنا  میرا اور میری نانی کی خالہ زاد بہن کی نند کے داماد کی بھابھی کے بھانجے کا ، تو میرے پاس  اپنا قصور تسلیم کرنے کے علاوہ اور راستہ ہی کیا ہے۔
لیکن میرے بھائی سچ پوچھو تو کچھ قصور تمہارا بھی ہے۔ تم کو یہ تو کرنا ہی چاہیے تھا کہ جس طرح مختلف ممالک اپنی سمندری حدود   وقتاً فوقتاً  تین سو کلومیٹر بڑھانے کا اعلان کرتے رہتے ہیں، تم بھی اپنی خیالاتی حدود کا اعلان کرتے رہتے، کہ" ہرگاہ ہر خاص و عام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اس اعلان کے ساتھ منسلک فہرست میں ان تمام خیالات  کا اندراج کر دیا گیا ہے جو میں اپنی شاعری میں  استعمال کر چکا ہوں۔ کوئی بھی شاعر یا غیر شاعر آئندہ اپنی نظم و نثر میں، یا گفتگو میں ان خیالات کا یا ان  کے تین سو مترادفات  سے تعلّق رکھنے والے خیالات کا بھی  اظہار نہ کرے، ورنہ اس کے خلاف چوری کا مقدمہ بنایا جائے گا۔ مثال کے طور پر اگر میں نے ایک شعر میں اپنے  عاشق ہونے کی بات کی ہے تو آئندہ کوئی شاعر یا ادیب  عشق ،محبت، لگاؤ، فراق، شبِ غم،  اور ان سے متعلق کسی بھی شے کا اپنے سخن میں ذکر نہ کرے۔ اسی طرح اگر میں نے رونے کی بات کی ہے تو کوئی بھی فرد  آہ بھرنے، آنسو بہانے، غمگین ہونے،  اداس ہونے، گریہ کرنے  وغیرہ کو اپنی کسی تحریر یا تقریر میں استعمال نہ کرے"۔ ساتھ ہی جو الفاظ تم استعمال کر چکے ہو مناسب ہوتا کہ  گاہے بگاہے ایک لغت شائع کر کے تم اس میں ان تمام الفاظ کو نشان زد کر دیتے تاکہ لوگوں کو سہولت ہو جاتی اور وہ ان الفاظ سے دور رہ کر عافیت میں رہتے۔
ویسے میں اپنی صفائی میں یہ ضرور کہوں گا کہ چوری کی روایت کوئی آج کی تو ہے نہیں ۔ دیکھو  نا نگہ   بلند  نقّاد کیسے ڈنکے کی چوٹ پر کہہ رہے ہیں کہ غالب نے سارے خیالات قتیل کے چوری کیے ہیں، اور  بہت سے مصرعے بھی۔ اسی طرح اقبال کے بارے میں بھی نہ صرف  لوگ کہتے آئے ہیں کہ انہوں نے  رومی کے  خزانے میں سرنگ لگائی ہے بلکہ خود انہوں نے تسلیم کیا  ہے کہ  سنائی کے ادب سے انہوں  نے رعایت برتی ورنہ تو وہ اور بھی موتی اٹھا کر لے جاتے۔ ساتھ ہی کچھ بھلے  لوگ تو منہ  پھوڑ کر کہتے ہیں کہ اقبال نے ٹینی سن وغیرہ کا   کف میں چراغ  رکھ کر دلاورانہ سرقہ کیا ہے۔  خیر یہ بات تو ہم بھی کہتے ہیں کہ کسی "ٹینی" سن (ٹھگنی مرغی کا چوزہ)  کے  کھاجا کی جگہ شترمرغ کی ساس کا انڈا اٹھا لاتے تو  کچھ اور بات ہوتی۔ خیر اقبال کا تو نام ہی بڑا تھا اسی لیے توفارسی شاعروں وغیرہ نے بھی اپنے مصرعے خوشی خوشی ان کے نام پر لیز کر دیے،  اور وہ ایسے اقبال کے ہوئےکہ آج اگر  تم  'کہ بر فتراکِ صاحب دولتے'  لکھ کر نیٹ پر تلاش کرو تو بیچارے صائب تبریزی کا نام تو شاید پہلے سو حوالوں  میں آئے  گا ہی نہیں۔
اور پھر فراز کو دیکھو، کتنی معصومیت سے کہہ گئے
یہ جدائی کی گھڑی ہے کہ جھڑی ساون کی
 میں جدا گریہ کناں ابر جدا یار جدا
اور امیر خسرو کی غزل  کا مصرع   'من جدا گریہ کناں ابر جدا یار جدا' اسی طرح وراثت سمجھ کر زیبِ غزل کر لیا ، جیسے لڑکیاں اپنی ماں کی ساری  کو فال بدل کر نئے میچنگ کے بلاؤز کے ساتھ زیبِ تن کر لیتی ہیں۔
ویسے  تو منچلے ہر دور میں رہے ہیں اور حسنِ ظن سے کام لیتے ہوئے سرقہ سرقہ کھیلتے رہے ہیں، لیکن  ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے (2020  میں)   ماہنامہ "اثبات"  نے تو سرقہ نمبر شائع کر کے بھائی لوگوں کے وارے نیارے کر دیے ہیں۔ کس کس کا نام سارقین میں شامل نہیں کیا۔ حد یہ کہ فیض تک کو نہیں بخشا۔ ابو الکلام آزاد پر بھی قطعِ قلم  کی حد جاری کر دی۔ بابائے اردو کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ حسرت موہانی کو چور بنا دیا۔  اب تو بس یہی کسر رہ گئی ہے کہ کسی دن کوئی پڑوسی آپ کا دروازہ کھٹکھٹائے اور شکوہ کرے کہ دیکھیے صاحب آپ کا نومولود فرزند سرقہ کرتے ہوئے  بالکل ہمارے بیٹے کی طرح روتا ہے۔ جبکہ اس کا رونا  ریکارڈ کر کے ہم اپنے بیٹے کے رونے کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے  فیس بک اور یوٹیوب پر کئی بار شیئر بھی کر چکے ہیں، پھر بھی لوگ باز نہیں آتے۔
اس پر مجھے یوسف پردیسی مرحوم یاد آگئے، چلو تم بھی کیا یاد کرو گے کس سارق سے پالا پڑا تھا، تمہیں بھی واقعہ سنا دیتا ہوں۔ یہ پچاس کی دہائی کے نصف اوّل کے نصف آخر کی بات ہے کہ وہ دفتر کی چھٹی ہونے پر باہر نکلے تو اپنی وہ سائکل انہیں بہت تلاش کرنے پر بھی نہیں ملی جس پر دفتر آتے جاتے تھے۔ البتّہ جب سب لوگ چلے گئے تو ان کی سائکل سے ملتی جلتی ایک سائکل کھڑی رہ گئی۔ ان دنوں تالہ بندی نہ کارخانوں کی ہوتی تھی نہ سائکلوں کی۔ انہوں نے یہی گمان کیا کہ توارد ہو گیا ہوگا، اس لیے دوسری سائکل پر یہ سوچ کر  سوار  ہو لیے کہ کل معاملے کی اصلاح ہو جائے گی۔ چلتے چلتے سوچا کہ احتیاطاً تھانے والوں کو بتا دیا جائے ، یہ نہ ہو کہ مجھ بے گناہ کو بڑے شاعروں ادیبوں کے بستے میں ڈال دیا جائے۔ تھانے میں رپورٹ لکھائی اور چلنے کے لیے سائکل سنبھالنے لگے تو  منشی نے کہا یہ سائکل یہیں چھوڑ کر جاؤ۔ انہوں نے احتجاج کیا تو بولا کہ تمہاری سائکل  تو ہوئی ہے چوری، اور یہ لاوارث ہے۔ پھر کیا ہوا یہ ایک الگ داستان ہے جو ہماری آٹوسانحاتِ حیات میں لکھی ہوئی ہے۔ لیکن اس وقت وہ منشی، پردیسی کو کلیم الدین احمد کے پائے کا نقّاد لگا۔
تو اے برادرِ خورد، اے معصوم شاعر، اے ابھرتے ہوئے دانشور، چلو تم خود کو مرزا قتیل سمجھ لو اور مجھے غالب سمجھ لو، خود کو بہادر شاہ ظفر سمجھ لو اور مجھے فیض سمجھ لو، اور حاتم طائی بن کر میری چھوٹی موٹی  سراقتوں کو نظر انداز کرتے رہو ،کیونکہ تم لاکھ چھوٹے بھائی سہی مگر مجھے یقین ہے کہ  دل تمہارا بہت بڑا ہے۔  دیکھو بات بڑھانے میں تمہارا بھی تو نقصان ہو سکتا ہے، کیونکہ میرے جو گرہ کٹ بھائی ہیں جب انہیں پتا چلے گا کہ تم گانٹھ کے پورے ہو، تو عین ممکن بلکہ غین ممکن ہے کہ سب کے سب تمہارے کلام پر پل پڑیں اور اس کی تکّا بوٹی کر کے جو جس کے ہاتھ لگے، لے اڑیں۔ سوچو ایسی صورت میں اردو ادب کا کیسا عظیم نقصان ہوگا۔
اس تھوڑا لکھے کو بہت جانو، ورنہ مجھے بہت لکھے کو تھوڑا سمجھنا پڑے گا۔
فقط تمہارا بھائی
سیانا چور
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

حسّاس شاعر کے نام خط
مکتوب نگار: آصف اکبر
------------------------

شگفتگو- انشائیہ سیاحت - عاطف ؔمرزا

سفرانچے

کہتے ہیں کہ پہلے سیّاح اپنے سفر کی کار گزاری زبانی یاد رکھتے تھے اور زبانی ہی دوسروں کو سُنا کرلطف اندوز ہولیا کرتے تھے۔کہیں ایک سیّاح نے اپنے چیدہ چیدہ واقعات کی تفصیل کو کاغذی یاد داشت کے طور پر محفوظ کرنا شروع کردیااور یاروں دوستوں کے اُکسانے پر اُس نے وہ رُوداد کتابی صورت میں چھاپ دی، ایسے سفر نامے کا آغاز ہوا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے سفر ناموں کا فیشن سامنے آیا۔فی زمانہ اصلی سفر نامے خال خال ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔سفر نامے کو دوام بخشنے میں ادیب قسم کے سیّاحوں نے اہم کردار ادا کیا، انہی کی کوششوں سے سفر نامے کو ادب کاحصہ تسلیم کرلیا گیا۔ سفر نامہ لکھنے کے دو طریقے ہیں، پہلا کہ آپ سیر و سیّاحت کریں، نگر نگر گھومیںاور پیش آنے والے تما م واقعات کواپنے احساسات کے ہمراہ کاغذ پر منتقل کردیں۔دوسرا کچھ مختلف ہے اور اِسے فکشن یا کہانی نگاری کے علاوہ کوئی اور نام دینا سفر نامے کے ساتھ زیادتی ہوگی۔وہ طریقہ یہ ہے کہ دنیا کا نقشہ کھولا، ایک دو مقامات چنے، اپنے شہر سے وہاں تک کے فاصلے ناپے، راہ میں پڑنے والے علاقوں اور لوگوں کے بارے میں ذرا سی تفصیل کسی کتاب یا انٹر نیٹ سے حاصل کی۔کہیں اور سے رسوم و رواج کا حال معلوم کیا، پھر اِسے ایک خود ساختہ افسانے کے ساتھ مکس کر کے تھوڑا سا مزاح کا تڑکا لگایا، چھ سات دوستوں کے نام ڈالے، کچھ فرضی کردار و واقعات ترتیب دیے اور یوں ایک معرکۃ الآراء سفر نامہ تخلیق کرکے ادب کے حوالے کردیا۔کچھ روپے پیسے یا پی آر والے تو اِس سفر نامے کی تقریبِ اجراء یا رونمائی کر کے اِسے ادب پر ایک احسانِ عظیم ثابت کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

اقتباس از انشائیہ سیاحت:
 تحریر:عاطف ؔمرزا
۳۰ جون ۲۰۱۱
۱۱۴۵ بجے
ملتان ائیر پورٹ

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔