Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 11 جولائی، 2020

شگفتگو- وضو کر لیجیئے - حسیب اسیر

🌹وضو کر لیجیئے🌹

یہ جملہ مجھ سے مخاطب ہو کر ایک شخص نے تب عرض کیا، جب ماسوا میرے باقی جماعت کھڑی ہو گئی تھی اور میں اونگھنے کی حدیں پار کر کے نیند کی وادی میں پہنچ چکا تھا قریب تھا کہ کسی چٹان کی پشت سے کوئی پری چہرہ نمودار ہو کر گنگنانے لگتا "وادیعشق سے آیا ہے میرا شہزادہ" اور یہ بھی ممکن ہے میں خود یہ صدائیں لگاتا کسی سفیدے سے بغل گیر ہو جاتا "ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح" لکین میرے ہم صف نے یہ نوبت ہی نہ آنے دی کہ یہ جماعت کسی سکول یا تنظیم کی نہیں نمازجمعہ کی جماعت تھی _

میں فوراً اٹھا پر اس اٹھنے میں کوئی عزم پوشیدہ نہیں تھا بلکہ شرمندگی تھی، جو چہرے پر ایسے عیاں تھی کہ کوئی ان پڑھ بھی ہو تو بآسانی پڑھ لے پشت قبلے کی جانب کی اور بڑے بڑے قدم لے کر وضو خانے میں پہنچا، دوبارہ وضو کیا اور اب کی بار ذرا اور بڑے قدم لیے کہ کہ رکعت نہ چھوٹ جائے _سو جب امام صاحب نے رکوع میں جانے کے لیے اللہ اکبر کہا تو میں بھی جماعت میں شامل تھا _البتہ نیند کا غلبہ اب بھی طاری تھا _اتنا یاد ہے امام صاحب کی ہاں میں ہاں ملاتا رہا یوں خدا خدا کر کے نمازجمعہ ختم ہوئی _نماز کے اختتام پر جب وہاں موجود نمازی امام صاحب سے باری باری مصافحہ کر رہے تھے تو میں نے مناسب نہ سمجھا کہ میں شعر سمجھے بغیر داد نہیں دیتا اور وہ جب غزل سرا تھے تو میں کسی غزال کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا تھا _

مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ نمازجمعہ بھی بھرپور کیفیت کے ساتھ ادا نہ ہوئی اور پری چہرہ سے ملاقات بھی خواب ہی ٹھہرااس ٹھہراو میں بظاہر بد نصیبی تو میری تھی، لکین خطیب صاحب بھی تو کسی کرنی والے کا کوئی ایسا قصہ چھیٹر بیٹھے تھے جسے راوی نے زیب_داستاں کے لیے شیطان کی آنت کی طرح طول دے دی تھی _طوالت کی تاب تو میں لے آتا، پر آپ کے ترنم نے ایسا جھولایا کہ نہ جانے کب نیند کی دیوی کی بانہوں میں دم دے بیٹھا _اس لیے اب ندامت کا فائدہ نہیں کہ مذکورہ وقت بیت گیا ہے اور آنے والا وقت ہمیشہ اپنے ساتھ بہت ساری تبدیلیاں لاتا ہے _پھر انہی تبدیلیوں کے ساتھ اپنا آپ بدل لیتا ہے _ایسے ہی چند تبدیلیوں کے ساتھ وقت ہمارے دیکھتے دیکھتے ہی بدل گیا ہے _

جیسے پہلے پہل کئی محلوں کی ایک مسجد ہوتی تھی، آجکل ایک ایک محلے میں کئی کئی مسجدیں بن گئی ہیں گئے وقتوں میں خطیبمسجد اپنی مسجد کے نمازیوں کی اصلاح کی سعی کرتے، اب آس پڑوس کی کرتے سنائی دیتے ہیں _نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ماضی میں لوگ مسجد کو وقت دیتے تھے، اب زیادہ تر چندہ دینے لگ گئے ہیں _ایک اور تبدیلی ملاحظہ ہو پہلے مسجدوں میں پردے کی پابندی کی تلقین کی جاتی تھی، اب معقول انتظام کیا جاتا ہے _

خیر آپ کو اس تمام صورتحال سے دل برداشتہ ہونے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں کہ زندگی حرکت کا نام ہے اور معاشروں میں ایسی حرکتیں ہوتی رہتی ہیں _لکین اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم ایسے ماحول میں زندہ رہیں جہاں محبت ہو تو احترام کے ساتھ، رشتے ہوں تو ان کی قدر بھی ہو، نفسانفسی ہو تو ذرا کم ہو پھر نیند کی وادی سے نکل کر بڑے بڑے قدم اٹھائیے _

مزاح نگار
❤️حسیب اسیر ❤️
واہ کینٹ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔