میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 11 جولائی، 2020

شگفتگو- حسّاس شاعر کے نام خط - آصف اکبر

پیارے شاعر
سلامت رہو۔ شکر ہے زمانے کے اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود میں اور تم سلامت ہیں اور ابھی تک کوئی بلا ہمارا بال بیکا نہیں کر سکی۔ جبھی تو یہ فریضہ انجام دینے کی ذمّہ داری تمہارے اوپر آ گئی ہے۔  لیکن عزیز من مجھے تمہاری صحت کی بہت فکر رہتی ہے۔ سنا ہے حلقے کے اجلاسوں میں شرکت کر کر کے تمہاری آنکھوں کے گرد حلقے مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ لیکن میرے عزیز ہرچند کہ اربابِ ذوق کا ذوق تمہارے معاملے میں کچھ تسلّی بخش نہیں، اور ان کا حلقہ تمہارے گرد تنگ ہوتا جا رہا ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تم اس دباؤ میں آکر الٹے سیدھے خیالات کو گلے لگا لو۔ یا موج میں آکر حلقہِ صد کام نہنگ کے نخچیر بن جاؤ۔
رفیقِ من، چند روز قبل تمہارا گلہ سامنے آیا جو تم نے گلا پھاڑ کر کیا ہے۔ تم نے شکایت کی کہ تم نے پچھلی صدی میں کوئی شعر کہا تھا جس پر میں نے ہمیشہ میلی نظر رکھی اور آخر کار موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ سوچ کر کہ کورونا  کا  دور دورہ ہے اور تم یقیناً اپنی املاک کی طرف سے غافل ہو گئے ہو گے اس شعر کی روح چرا کر اپنا ایک شعر کہہ دیا اور جس واہ واہ پر تمہارا اور صرف تمہارا حق تھا، اسے اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروا لیا۔ حالانکہ تم نے اس شعر کو اپنے دیوان میں بھی طبع کروا کر جملہ حقوق محفوظ کروا لیے تھے۔ تم نے بجا طور پر میری اس حرکت کو 'دیدہ دلیری' کا نام دیا۔   تمہارا یہ بھی حسنِ ظن  ہے کہ میں نے اس دیوان کو کہیں سے چرا کر  اس کا انتہائی جگر سوزی سے مطالعہ بھی کیا ہے، حالانکہ تم نے انتہائی محتاط رہتے ہوئے اپنے اس دیوان کو مجھ سے اسی طرح بچا بچا کر رکھنے کی پوری کوشش کی جیسے اقبال کے آئینہ ساز کے بنائے ہوئے آئینے کا مالک اس آئینے کو بچا بچا کر رکھتا تھا۔ ساتھ ہی تمام ہم عصر شعراء ، ادیبوں  اور سخن فہموں نے  بھی اس معاملے میں  میرے خلاف متحدہ محاذ بنا لیا، اور انتہائی کامیابی سے تمہارے اشعار  سے محروم رکھا۔ قسم لے لو جو کسی  ظالم نے کبھی بھی مجھے  تمہارا کوئی شعر یا کوئی مصرع ہی سنایا ہو۔ اور تو اور سوشل میڈیا پر براجمان لوگ  زمانے بھر کے گئے گزرے شاعروں کے طرح طرح کے  اشعار پوسٹ کرتے ہیں، شلغم کی طرح پھیکے اور بلبلوں کی  طرح بے وزن، مگر ان کم بختوں میں سے بھی کبھی کسی نے میرے سامنے تمہاری کوئی چیز پوسٹ نہیں کی۔ حد یہ کہ کبھی کسی نے تمہارا نام تک میرے سامنے نہیں لیا۔ مان گئے بھئی ایکا ہو تو ایسا ہو۔ انتہا یہ کہ  ان مشاعروں کے منتظمین نے بھی، جن میں میں شریک ہوتا رہا،  کیسی کامیاب  کوشش کی کہ میرا اور تمہارا آمنا سامنا نہ ہونے پائے۔
میرے بھائی تمہارا گلہ بجا مگر میری مجبوریاں بھی تو سمجھو۔ اب دیکھو نا ایک تو وقت نے مجھے دنیا میں لانے میں اتنی دیر کر دی کہ میرے آنے سے پیشتر ہی تمام زرّیں خیالات تو میر و غالب اور حافظ و عرفی جیسے لوگوں نے غصب کر لیے، اور سیمیں خیالات داغ اور جگر اور فیض جیسے لوگ لے اڑے۔ اوپر سے ستم یہ کہ بچے کھچے آہنی خیالات کو تم نے اپنا دیوان چھاپ کر اپنے نام منتقل کر لیا۔ اب تم تو ہو گئے دیوانی۔ (دیکھو بھائی یہ چھوٹی 'ی' ہے۔ اگر وقت کے ساتھ ساتھ بڑی ہو جائے تو میں بری ہوں۔) اور مجھ جیسے ٹٹ پونجیے کے لیے یہی راستہ چھوڑا کہ ادھر ادھر ہاتھ مار کر فوجداری کا اہل ہو جاؤں۔
عزیز القدر، یہ بات تو میں تسلیم کرتا ہوں کہ میرا اپنا ذہن تو بالکل بنجر ہے، بلکہ اب تو پنجر بنتا جا رہا ہے۔ بچپن میں ہی جب دیکھا کہ شاعری نام کمانے یا جمانے  کا ایک ایسا راستہ ہے جس میں ہینگ لگتی ہے نہ پھٹکری، ( پھٹکار برسنے  کی خیر ہے)، اور رنگ کچھ نہ کچھ آ ہی جاتا ہے، تو چوری چھپے  انگلیاں ٹیڑھی کر کے جتنا گھی جہاں سے ملا  نکال لیا کرتا تھا۔ اللہ ان  سیر چشم بزرگوں  کی ارواح کو خوش رکھے، جن کی شاعری کا مطالعہ کر کر کے میں نے بھی کچھ الفاظ جوڑنے شروع کیے، تو  نہ کبھی میر صاحب نے سرزنش کی نہ سودا نے۔ حد تو یہ کہ دور طالب علمی میں  یونیورسٹی کے مجلّے میں میں نے پندرہ بیس اشعار کی  اپنی ایک نظم  'نذرِ اقبال' کے نام سے ایسی بھی چھپو ا  دی، جس کے ہر ہر شعر کا ایک مصرع  من و عن اقبال  کا تھا۔ اللہ غریقِ رحمت کرے اقبال کو، ان کی روح  میری اس سینہ زوری پر مسکرا کر رہ گئی، جس سے مجھے اور شہ ملی۔ پھر میں نے کبھی غالب کی زمین میں ہل چلایا  تو کبھی نظیر کا آدمی نامہ چوری کیا۔ کبھی مصحفی کے  لنگور کی گردن ناپی تو کبھی  سودا کی 'ہے کہ نہیں'  کانیلامِ عام کیا۔  پھر جیسے  جیسے مجھے موقع ملتا گیا، میں نے انہیں الفاظ و تراکیب کو  اور خیالات کو جو مجھ سے پہلے لاکھوں شعراء ہزاروں سال سے استعمال  کرتے آ رہے تھے، چرا چرا کر اپنے اشعار میں استعمال کرنا شروع کر دیا۔ نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ تم نے مجھے رنگے ہاتھوں  پکڑ لیا۔ اب ظاہر ہے کہ  جب میرے شعر اور تمہارے شعر کا اتنا ہی قریبی تعلّق  ہے جتنا  میرا اور میری نانی کی خالہ زاد بہن کی نند کے داماد کی بھابھی کے بھانجے کا ، تو میرے پاس  اپنا قصور تسلیم کرنے کے علاوہ اور راستہ ہی کیا ہے۔
لیکن میرے بھائی سچ پوچھو تو کچھ قصور تمہارا بھی ہے۔ تم کو یہ تو کرنا ہی چاہیے تھا کہ جس طرح مختلف ممالک اپنی سمندری حدود   وقتاً فوقتاً  تین سو کلومیٹر بڑھانے کا اعلان کرتے رہتے ہیں، تم بھی اپنی خیالاتی حدود کا اعلان کرتے رہتے، کہ" ہرگاہ ہر خاص و عام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اس اعلان کے ساتھ منسلک فہرست میں ان تمام خیالات  کا اندراج کر دیا گیا ہے جو میں اپنی شاعری میں  استعمال کر چکا ہوں۔ کوئی بھی شاعر یا غیر شاعر آئندہ اپنی نظم و نثر میں، یا گفتگو میں ان خیالات کا یا ان  کے تین سو مترادفات  سے تعلّق رکھنے والے خیالات کا بھی  اظہار نہ کرے، ورنہ اس کے خلاف چوری کا مقدمہ بنایا جائے گا۔ مثال کے طور پر اگر میں نے ایک شعر میں اپنے  عاشق ہونے کی بات کی ہے تو آئندہ کوئی شاعر یا ادیب  عشق ،محبت، لگاؤ، فراق، شبِ غم،  اور ان سے متعلق کسی بھی شے کا اپنے سخن میں ذکر نہ کرے۔ اسی طرح اگر میں نے رونے کی بات کی ہے تو کوئی بھی فرد  آہ بھرنے، آنسو بہانے، غمگین ہونے،  اداس ہونے، گریہ کرنے  وغیرہ کو اپنی کسی تحریر یا تقریر میں استعمال نہ کرے"۔ ساتھ ہی جو الفاظ تم استعمال کر چکے ہو مناسب ہوتا کہ  گاہے بگاہے ایک لغت شائع کر کے تم اس میں ان تمام الفاظ کو نشان زد کر دیتے تاکہ لوگوں کو سہولت ہو جاتی اور وہ ان الفاظ سے دور رہ کر عافیت میں رہتے۔
ویسے میں اپنی صفائی میں یہ ضرور کہوں گا کہ چوری کی روایت کوئی آج کی تو ہے نہیں ۔ دیکھو  نا نگہ   بلند  نقّاد کیسے ڈنکے کی چوٹ پر کہہ رہے ہیں کہ غالب نے سارے خیالات قتیل کے چوری کیے ہیں، اور  بہت سے مصرعے بھی۔ اسی طرح اقبال کے بارے میں بھی نہ صرف  لوگ کہتے آئے ہیں کہ انہوں نے  رومی کے  خزانے میں سرنگ لگائی ہے بلکہ خود انہوں نے تسلیم کیا  ہے کہ  سنائی کے ادب سے انہوں  نے رعایت برتی ورنہ تو وہ اور بھی موتی اٹھا کر لے جاتے۔ ساتھ ہی کچھ بھلے  لوگ تو منہ  پھوڑ کر کہتے ہیں کہ اقبال نے ٹینی سن وغیرہ کا   کف میں چراغ  رکھ کر دلاورانہ سرقہ کیا ہے۔  خیر یہ بات تو ہم بھی کہتے ہیں کہ کسی "ٹینی" سن (ٹھگنی مرغی کا چوزہ)  کے  کھاجا کی جگہ شترمرغ کی ساس کا انڈا اٹھا لاتے تو  کچھ اور بات ہوتی۔ خیر اقبال کا تو نام ہی بڑا تھا اسی لیے توفارسی شاعروں وغیرہ نے بھی اپنے مصرعے خوشی خوشی ان کے نام پر لیز کر دیے،  اور وہ ایسے اقبال کے ہوئےکہ آج اگر  تم  'کہ بر فتراکِ صاحب دولتے'  لکھ کر نیٹ پر تلاش کرو تو بیچارے صائب تبریزی کا نام تو شاید پہلے سو حوالوں  میں آئے  گا ہی نہیں۔
اور پھر فراز کو دیکھو، کتنی معصومیت سے کہہ گئے
یہ جدائی کی گھڑی ہے کہ جھڑی ساون کی
 میں جدا گریہ کناں ابر جدا یار جدا
اور امیر خسرو کی غزل  کا مصرع   'من جدا گریہ کناں ابر جدا یار جدا' اسی طرح وراثت سمجھ کر زیبِ غزل کر لیا ، جیسے لڑکیاں اپنی ماں کی ساری  کو فال بدل کر نئے میچنگ کے بلاؤز کے ساتھ زیبِ تن کر لیتی ہیں۔
ویسے  تو منچلے ہر دور میں رہے ہیں اور حسنِ ظن سے کام لیتے ہوئے سرقہ سرقہ کھیلتے رہے ہیں، لیکن  ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے (2020  میں)   ماہنامہ "اثبات"  نے تو سرقہ نمبر شائع کر کے بھائی لوگوں کے وارے نیارے کر دیے ہیں۔ کس کس کا نام سارقین میں شامل نہیں کیا۔ حد یہ کہ فیض تک کو نہیں بخشا۔ ابو الکلام آزاد پر بھی قطعِ قلم  کی حد جاری کر دی۔ بابائے اردو کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ حسرت موہانی کو چور بنا دیا۔  اب تو بس یہی کسر رہ گئی ہے کہ کسی دن کوئی پڑوسی آپ کا دروازہ کھٹکھٹائے اور شکوہ کرے کہ دیکھیے صاحب آپ کا نومولود فرزند سرقہ کرتے ہوئے  بالکل ہمارے بیٹے کی طرح روتا ہے۔ جبکہ اس کا رونا  ریکارڈ کر کے ہم اپنے بیٹے کے رونے کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے  فیس بک اور یوٹیوب پر کئی بار شیئر بھی کر چکے ہیں، پھر بھی لوگ باز نہیں آتے۔
اس پر مجھے یوسف پردیسی مرحوم یاد آگئے، چلو تم بھی کیا یاد کرو گے کس سارق سے پالا پڑا تھا، تمہیں بھی واقعہ سنا دیتا ہوں۔ یہ پچاس کی دہائی کے نصف اوّل کے نصف آخر کی بات ہے کہ وہ دفتر کی چھٹی ہونے پر باہر نکلے تو اپنی وہ سائکل انہیں بہت تلاش کرنے پر بھی نہیں ملی جس پر دفتر آتے جاتے تھے۔ البتّہ جب سب لوگ چلے گئے تو ان کی سائکل سے ملتی جلتی ایک سائکل کھڑی رہ گئی۔ ان دنوں تالہ بندی نہ کارخانوں کی ہوتی تھی نہ سائکلوں کی۔ انہوں نے یہی گمان کیا کہ توارد ہو گیا ہوگا، اس لیے دوسری سائکل پر یہ سوچ کر  سوار  ہو لیے کہ کل معاملے کی اصلاح ہو جائے گی۔ چلتے چلتے سوچا کہ احتیاطاً تھانے والوں کو بتا دیا جائے ، یہ نہ ہو کہ مجھ بے گناہ کو بڑے شاعروں ادیبوں کے بستے میں ڈال دیا جائے۔ تھانے میں رپورٹ لکھائی اور چلنے کے لیے سائکل سنبھالنے لگے تو  منشی نے کہا یہ سائکل یہیں چھوڑ کر جاؤ۔ انہوں نے احتجاج کیا تو بولا کہ تمہاری سائکل  تو ہوئی ہے چوری، اور یہ لاوارث ہے۔ پھر کیا ہوا یہ ایک الگ داستان ہے جو ہماری آٹوسانحاتِ حیات میں لکھی ہوئی ہے۔ لیکن اس وقت وہ منشی، پردیسی کو کلیم الدین احمد کے پائے کا نقّاد لگا۔
تو اے برادرِ خورد، اے معصوم شاعر، اے ابھرتے ہوئے دانشور، چلو تم خود کو مرزا قتیل سمجھ لو اور مجھے غالب سمجھ لو، خود کو بہادر شاہ ظفر سمجھ لو اور مجھے فیض سمجھ لو، اور حاتم طائی بن کر میری چھوٹی موٹی  سراقتوں کو نظر انداز کرتے رہو ،کیونکہ تم لاکھ چھوٹے بھائی سہی مگر مجھے یقین ہے کہ  دل تمہارا بہت بڑا ہے۔  دیکھو بات بڑھانے میں تمہارا بھی تو نقصان ہو سکتا ہے، کیونکہ میرے جو گرہ کٹ بھائی ہیں جب انہیں پتا چلے گا کہ تم گانٹھ کے پورے ہو، تو عین ممکن بلکہ غین ممکن ہے کہ سب کے سب تمہارے کلام پر پل پڑیں اور اس کی تکّا بوٹی کر کے جو جس کے ہاتھ لگے، لے اڑیں۔ سوچو ایسی صورت میں اردو ادب کا کیسا عظیم نقصان ہوگا۔
اس تھوڑا لکھے کو بہت جانو، ورنہ مجھے بہت لکھے کو تھوڑا سمجھنا پڑے گا۔
فقط تمہارا بھائی
سیانا چور
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

حسّاس شاعر کے نام خط
مکتوب نگار: آصف اکبر
------------------------

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔