میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 26 جولائی، 2020

ایتھوپیا اور پاکستان

اُفق کے پار رہنے والے پیارے دوستو !
کرونا، سیلف قرنطائن نہیں بلکہ مصروفیت کی بنیاد پر بوڑھا بہت مصروف ہو گیا ۔
عدیس ابابا میں تو وقت ہی وقت تھا ،وہاں سردیوں کا سورج سست رفتار سے فاصلہ طے کرتا اور یہاں گرومیوں گرمیوں کا سورج برق رفتاری سے مغرب کی طرفدوڑتا ہے شاید یہاں وقت سکڑ گیا ہے ۔ کیوں کہ بڑھیا کو جب بھی آواز دوں ، تو کھوں کی آوازآتی ہے جس کا مطلب وہ مصلّے پر بیٹھی ہے -
پھر اُس پر مصروفیت کا یہ عالم کہ ، برفی کا دادا بابا کے ساتھ کھیلنا ، لوڈ شیڈنگ ، انٹر نیٹ کی آنکھ مچولی اور ۔ ۔ ۔ ۔ تھکن روزانہ صبح 5 بجے سے 7 بجے تک گالف کھیلنے کی تھکن ۔
پھر ٹوٹی سڑکوں پر گاڑی کا پھدک پھدک کر چلنا ۔ اور بڑھاپے میں بوڑھے کی ہڈیوں کے جوڑ ہلانا ۔
بوڑھے نے اپنی کالونی میں آنے والی تمام سڑکوں کا جائزہ لیا تو یہ احساس ہوا ، کہ چاند پہ رہنا آسان ہوگا بنسبت عسکری کالونی کے ،
لیکن اِس کے باوجود ، جھجّو کا چوبارے کی جو بات ہے ، وہ بدیس کی کہاں ۔
گو کہ گالیاں ایتھوپیئن بھی بکتے تھے ، مگر ہمیں اُس کی سمجھ کہاں !
آنے سے ایک دن پہلے ، ایک دکاندار خاتون بڑی اونچی آواز میں چلا رہی تھی جو یقیناً پیار بھرے کلمات نہ تھے اور ساتھ ہی نوجوان ، بر سبزیوں کی گولا باری بھی کر رہی تھی
لیکن جو گالیاں اِن 15 دنوں میں ہر چوک پر چلتی کار میں اچٹتے ہوئے کان میں آئیں وہ کرونا بندش کے باوجود فصاحت اور بلاغت سے بھرپور تھیں ۔
گھر کا یوپی ایس بدھ کو خراب ہو گیا ، چنانچہ جمعرات کو کالج روڈ پر دے کر فائیو برادر شاپ پر حاجی علی کو دے کر آیا اور جمعہ کو لانا یاد نہیں رہا اور نہ ہی حاجی علی کا رنگ آیا ۔
ہفتے کو 10 بجے جب بجلی گئی تو یو پی ایس یاد آیا ، فون کیا تو معلوم ہوا کہ آج تو لاک ڈاؤن ہے اور یوپیایس لینا ضروری تھا ، کیوں کہ ہفتہ کی شام کو بری اور اُس کی ماما نے آنا تھا ۔ لہذا حاجی صاحب کی منتیں کی اور انسانی ہمدردی کا رسی کا سہارا لیا ۔حاجی صاحب مدد کے لئے تیار ہو گئے ، لیکن ایک شرط پر ، کہ گاڑی عین دکان کے سامنے کھڑی کی جائے گی ۔ ڈکّی کھول کر رکھی جائے - وہ موقعہ ملنے پر یوپی ایس نکال کے گاڑھی میں رکھوا دیں گے ۔ کیوں کہ آس پاس پولیس والے میڈیا کے روپ میں پھرتے ہیں وڈیو بناتے ہیں اور جج صاحب کے سامنے پیشی ہوتی ہے اور جج صاحب ۔ ۔ ۔ ۔ !
بہر حال بوڑھے نے گاڑی بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کھڑی کی اور سامنے سڑک کے دوسری طرف فٹ پاتھ پر ثھاؤں میں کھڑا ہو گیا ، کہ سلام کی آواز آئی مڑ کر دیکھاتو حاجی صاحب ،
سر بس یہاں کھڑے رہیں ، میں موقع پا کر یو پی ایس رکھوا دوں گا -
کتنا وقت لگے گا ؟
سر بس 10 ، 15 منٹ لگیں گے۔
اچھا میں ٹھیلے سے پھل لے آتا ہوں ،
بوڑھا پھل لے کر واپس ہوا تو دیکھا ایک مشکوک نوجوان چکر کاٹ رہا ہے ۔ تھوڑی دیر بعد اُس نے دکان کا تالا کھولا اور شٹر اٹھا کر اندر غائب ہو گیا اور یو پی ایس اٹھا کر لایا فٹ پاتھ پر رکھ دیا ۔ اور جلدی سے شٹر گرا کر یہ جا اور وہ جا ۔
دو منٹ بعد ایک اور جوان آیا اُس نے گاڑی کی ڈّی کھولی اور یو پی ایس رکھ کر ، بند کی اور آرام سے چلا گیا ۔
بوڑھے کے جسم میں یک دم سنسنی دوڑ گئی ، کہ ڈبے میں ملبوس ، واقعی یو پی ایس ہی تھا یا بوڑھا کسی جرم نا قابلِ ضمانت کا مرتکب ہورہا ہے ، ابھی پوں پاں ، پوں پاں کرتی گاڑیاں آئیں گی اور بوڑھے کو رگوں میں اندھیرا پھیلانے کے جرم میں گرفتار کر لیا جائے گا ۔ بوڑھے کے سامنے ایک فلم چل رہی تھی ، کہ " سر کام ہو گیا " کی آواز نے سکوت توڑ ،
" کیا کام ہو گیا ؟" بوڑھے نے گھبرا کر پوچھا ،
" سر یو پی ایس رکھ دیا " حاجی نے جواب دیا ۔
" اُس میں یو پی ایس ہی تھا " بوڑھے نے پوچھا ۔
" بالکل سر !" حاجی نے جواب دیا
" کتنے پیسے ہوئے ؟" بوڑھے نے پوچھا ۔ پیسے دیئے ، شکریہ ادا کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر چل پڑا -
عدیس ابابا میں ، 14 مارچ یعنی برفی کی سالگرہ منانے کے بعد سب فیملیز جب سیلف قرنطائن ہوئی تو ، عارف صاحب نے ہمیں مرغیاں دُکّم ( جہاں اُن کی فیکٹری ہے " لا کر دیں-
سر ، آپ مرغیاں اُٹھا لیں ، بوڑھا خلائی لباس میں تھا مرغیوں کا شاپر اُٹھا لیا ۔
" سر میں یہ ہوم میڈ سینیٹائزر لایا ہوں، اُس سے آپ اپنے ملازموں کے ہاتھ دھلوادیں -
عارف میاں نے سینیاٹائزر یوں پکڑایا جیسے اُس نے بوڑھے کے سارے بدن پر کرونا کے ہجوم کو چہل قدمی کرتے دیکھ لیا ہو -

کالج روڈ ون وے ہے مگر ہفتے اور اتوار کے دن ، اِس پر لیاقت روڈ سے آنے والی ٹریفک کا راج ہوتا ہے ۔ لیکن اِس کے بر عکس عدیس ابابا میں ، یہ ممکن ہی نہیں کیوں ؟
کہ ٹریفک پولیس ناصرف جرمانہ کرتی ہے - بلکہ پکڑ کر بند بھی کر دیتی ہے ۔ جرمانہ بنک میں جمع کراؤ اور رہائی پاؤ !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔