میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 27 جولائی، 2020

اجمیری چڑھاوے

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
یہ ہے اجمیر شریف کی وہ مشہور زمانہ دیگ جس میں چڑھاوے اور نذرانے کے طور پر لاکھوں کی مالیت کی رقم، زیورات اور دیگر اشیاء ڈالی جاتی ہیں۔
بھولے بھالے ان پڑھ جاہل مسلمان عقیدت اور محبت میں سرشار ہو کر اپنی خون پسینے کی کمائی اس کمرہ نما دیگ میں ڈالتے ہیں۔ وقت مقررہ پر کوئی خادم آتا ہے اور سیڑھیاں لگا کر اس دیگ میں اترتا ہے اور نوٹوں کی گڈیاں، زیورات اور دیگر سامان نکال لیتا ہے۔ سکے رہنے دیئے جاتے ہیں۔
پھر اسی دیگ میں لنگر کا کھانا بنتا ہے اور بدعت ہے کہ جس سائل کی پلیٹ میں کھانے کے ساتھ سکہ نکل آیا اس کی مراد پوری ہوگی۔ اس پر باباجی مہربان ہوگئے۔
میں کسی کے عقیدے یا مسلک کے خلاف نہیں ہوں۔ یہ انسان کا ذاتی عمل ہے لیکن مجھے بہت غصہ آتا ہے جب مذہب کے نام پر کچھ ٹھگ توہم پرست مسلمانوں کی سادہ لوحی کا فائدہ اٹھا کر ان کا مالی نقصان کرتے ہیں۔
ایک بے وقوف سے بے وقوف انسان بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ عقیدت اور زیارت کے نام پر یہ ایک منظم بزنس ہے۔ ان سائلوں کے نذرانے لاکھوں کی مالیت کے ہوتے ہیں اور یہ وہاں کی روزانہ کی آمدنی ہے۔ اس میں سے چند ہزار کے لنگر کھلا کر بقیہ پیسے متولی اپنے ذاتی خزانے میں ہی بھرتے ہیں۔اب تو حکومتی سطح پر یہ ایک بزنس پلیس بن گیا ہے۔
اس دیگ پر بندھے ہوئے دھاگے بتا رہے ہیں کہ اولیاء رحمہ اللہ علیہم کی قبور اب شرک کا اڈہ بنتی جارہی ہیں۔ بے شک پیغمبروں کا واسطہ دے کر دعا مانگنا جائز ہے۔ لیکن ان سے براہ راست منت مانگنا بلاتامل شرک ہے۔ اور شرک ہر مسلک اور عقیدے سے الگ چیز ہے۔
مجھے نہیں فرق پڑتا کہ کوئی مجھے کیا کہے گا۔ہاں اللہ جب سوال کرے گا کہ تمہارے پاس علم ہوتے بھی تم نے لوگوں تک بات کیوں نہ پہنچائی تو میں لاجواب نہیں رہوں گی۔ میں پھر کہتی ہوں مجھے کسی کے مسلک سے اختلاف نہیں۔ لیکن یہ مسلک یا عقیدہ نہیں یہ کھلم کھلا شرک ہے۔
سب سے افضل انسان کا خود دعا مانگنا ہے۔ رب کریم آپ کی شہ رگ سے قریب ہے۔ آپ اسے پکار کے تو دیکھیں۔ جتنا طویل سفر کر کے آپ کسی قبر پہ جاکر دعا مانگتے ہیں۔ لائنوں میں کھڑے رہتے ہیں۔ وہی وقت آپ رات کے تیسرے پہر جانماز پر اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوکر مانگ کر دیکھئے۔ اس کے سامنے ہاتھ پھیلائیے۔ اسے مانگنے والے پسند ہیں۔ محبت سے مانگنے والے۔ لاڈ سے مانگنے والے۔ رو کر بلک کر مانگنے والے۔ آپ ایک دفعہ آزما کر دیکھئے۔ لیکن یقین شرط ہے۔ پھر اس مجیب السائلین نے نہ نوازا تو آپ کی چھری اور میری گردن۔
#حمیرا🌺🌺
Humaira Alia
India

٭٭٭٭٭٭واپس   جائیں ٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔