میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 11 جولائی، 2020

شگفتگو- تصویر اور کیمرا - حبیبہ طلعت

بچپن سے سارے گھر والے اکیلے نکلنے سے منع کرتے آئے ہیں۔ اب تو یہ بات ہماری فطرت ثانیہ ہی بن گئی ہے۔ اسی لیے ہم کوئی بھی مضمون لکھیں اس کا عنوان کبھی اکیلا نہیں جانے دیتے۔ یاد کریں کوفتہ اور فالودہ، میاں، بیوی اور رسّہ، وغیرہ، وغیرہ اور وغیرہ۔
کسی زمانے میں فلموں کے ناموں میں بھی یہی احتیاط برتی جاتی تھی۔ جیسے لیلیٰ مجنوں، ہیر رانجھا، سیمسن اینڈ ڈی لائلا، اور کنگ کانگ اینڈ گاڈزیلا۔ اور علی بابا کو تو چالیس چوروں کے بغیر کبھی کسی نے جانے ہی نہیں دیا۔ اسی وجہ سے ہم لکھنا تو تصویر کے بارے میں چاہتے ہیں، مگر کیمرا دسراہٹ کے لیے ساتھ کر دیا ہے۔

تصویر بھی کیا چیز ہوتی ہے۔ جب تک کیمرا نہیں تھا تصویر بنانا ایک فن ہوتا تھا۔ کیمرا آنے کے بعد تصویر بنوانا ایک فن ہو گیا ہے۔ اردو اور انگریزی دونوں کا فن۔

اب اگر مسئلہ یہ ہو کہ مہاراجہ، مصوّر ہو یا بھینس، سب کو ایک ہی آنکھ سے دیکھتا ہو تو اس کی ایسی تصویر بنانے کی کیا صورت ہو سکتی ہے کہ دیکھنے والے، تصویر کو بھی اور باقی ماندہ مصوّر کو بھی،  دیکھ کر چچ چچ کرنے اور غش کھانے کی جگہ اش اش کریں۔
لیکن مصور بھی ایک کائیاں تھا۔ اس نے ایسی تصویر بنا ڈالی جس میں مہاراجہ بند آنکھ بند کر کے کھلی آنکھ سے کسی مقتول ہرن کا تیر سے نشانہ لے رہا تھا۔ مقتول اس لیے کہ مہاراجوں کا نشانہ کوئی بھی ہو، نشانہ خطا ہونے کا امکان کبھی نہیں ہوتا۔

صرف مہاراجہ کی تصویر بنانا ہی ایک مسئلہ نہیں ہوتا تھا، مونا لیزا کی تصویر بنانا بھی کارے دارد ہی ہوتا تھا۔ بیچارے لیوناردو دا ونچی پر کیا بیتی ہو گی جب اس کی نک چڑھی ماڈل کبھی منہ بسور کر بیٹھتی تھی اور کبھی باچھیں کھلا کر۔ ظاہر ہے پھر تصویر بھی ایسی ہی بننی تھی۔

لیکن ہمیں تو بھایا چغتائی آرٹ۔  نہ ماڈل کے نخرے نہ کسی مہاراجہ یا مہارانی کا خوف۔ اکثر کلام کے ساتھ ہم مغل آرٹ اسی وراثتی  تصرف کے قومی حق کے تحت استعمال کرتے ہیں۔

کیمرے کی ایجاد نے مصوروں کی مشکل تو کی آسان۔ مگر تصویر کشوں کو مشکل میں ڈال دیا۔ شروع شروع کے کیمرے تو ہوتے بھی مزاج دار بہو کی طرح تھے۔ بات بات پر بگڑنا تو ان کا شیوہ ہوتا تھا۔ ایسے کیمروں سے تصویر بنانا جہاں مصوّر کے لیے ایک صبر آزما مرحلہ ہوتا تھا وہیں بنوانے والے کی اطاعت شعاری کا بھی امتحان ہوتا تھا۔ چاہے گورنر ہو یا منسٹر، تصویر کش نے کہا ساکت تو سب ساکت۔ اس نے کہا مسکرائیے تو سب کو مسکرانا لازم۔ اس نے کہا سانس روکو تو سب مہاتما گوتم بدھ کی طرح دم بخود۔ اور پھر کٹھ پتلیوں کی طرح جس جگہ اس نے کہا کھڑے ہوجاو، وہاں کھڑا ہونا مجبوری، جس کو کہا بیٹھو اس کا بیٹھنا فرض۔ جسے چاہے شطرنج کے مہروں کی طرح آگے کرے، پیچھے کرے، دائیں بائیں کرے، کسی کے قدموں میں بٹھا دے، کس کی مجال کہ دم بھی مار سکے۔

آہ کیا زمانہ تھا۔ جس کے پاس ایک کیمرا ہوتا تھا وہ شہزادہ ہوتا تھا۔ کسی شادی بیاہ کی تقریب میں لڑکیاں بالیاں اس کے پیچھے پیچھے ہوتی تھیں تو بڑی بوڑھیوں کی حسرت زدہ نگاہیں اس کی راہوں میں بچھتی تھیں۔ اور وہ راجہ اندر بنا بے روک ٹوک مردانے سے بچتا بچاتا زنانے میں چکر لگاتا رہتا تھا۔ اس زمانے میں کیا کیا نخرے ہوتے تھے۔ رول، فلیش لائٹ، دھوپ چھاؤں، رول کا دھونا، پھر پرنٹ بنوانا اور پھر افسردہ ہو کر بیٹھنا کہ تصویریں ----

اور اب یہ بھی دور کہ کیمرے تو عجائب گھر کی زینت بن گئے اور پیشہ ور فوٹوگرافر چڑیا گھروں کی۔ بچّے بچّے کے ہاتھ میں موبائل اور ہر موبائل میں کیمرا۔ اور پہلے تو تصویر بنوانے کے لیے منّت کشِ غیر ہونا پڑتا تھا، مگر اب تو دستِ خود تصویرِ خود۔ سیلفی یا سلفی تو سکّہ رائج الوقت ٹھہرا۔ حد یہ کہ اب اگر کسی مولانا سلفی کو ڈھونڈنے کے لیے گوگل میں سلفی لکھیں تو تصویر رشکِ بتانِ آزری کی آ جاتی ہے۔ ذرا ٹھہریے حضرات! محفل ختم ہونے بعد گوگل کیجیے گا۔ اب کے دور میں تصویر ہی وائرل نہیں ہوا کرتی ہے بلکہ اب میمز بننے اور وائرل ہونے سے بھی صاحب تصویر کی شہرت میں چار چار چاند لگ جاتے ہیں۔ حیران مت ہوں کہ ہم تصویر کشی سے میمز تک کیسے چلے گیے ہیں۔ جناب ہم برسوں لاہور رہ کر آئے ہیں اور لاہوریوں کی مہربانی سے علاقوں اور محلوں محلوں گھوم بھٹک کر ہی اپنے مطلوبہ پتے پر پہنچ جایا کرتے تھے۔ سو تحریر میں بھی  یہی دربدری کام آئی ہے۔ اب یقینا میمز کے لیے اپ کو گوگل نہیں کرنا پڑے گا۔۔بس اگلی نشست کا انتظار ۔۔۔۔۔شکریہ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

"تصویر اور کیمرا"
              ۔۔۔ حبیبہ طلعت

*********

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔