Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 25 اگست، 2022

القرآن ، انسانی نطق اور روایات

٭ - القرآن کے پہلے حافظﷺ نے ۔ *بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ* سے *مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ* تک ، عربی آیات کی تلاوت میں صدیوں پہلے یہ آیت بطورمنطق بھی چار بار تلاوت کی :۔

*وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ* [54:17]۔[54:22]۔[54:32]۔[54:40]


لیکن انسانی منطق کے مطابق ،آپ القرآن حدیث کے بغیر نہیں سمجھ سکتے۔؟ اور حدیث کو سمجھنے کیلئے مندرجہ ذیل علوم سیکھنے ہونگے ۔ورنہ قرآن توبعد کی بات ہے ،حدیث بھی سمجھ نہیں آئیگی!۔

٭- محدث کی صداقت کا علم۔

٭۔اسناد حدیث کا علم۔

٭۔ حدیث عالی کا علم۔

٭۔ حدیث نازل کا علم۔

٭۔روایات موقوفہ کا علم۔

ان اسناد کا علم جس کی سند پیغمبر اسلام سے ذکر نہ ہو۔ گویا کہ القرآن پہلے حافظ کہ طرف سے مصدق سند نہیں !!۔اور یہ سند تلاش کرنے کے لئے ۔

٭۔صحابہ کے مراتب کا علم۔


٭۔ اولاد اصحاب کے مراتب کا علم۔

اِس کے بعد احادیث مرسلہ اور ان کے سلسلے میں پیش کی جانے والی دلیلوں کے مراتب مزید برآں:۔

٭۔ تابعین سے نقل کی گئی احادیث کا علم۔

٭۔ اسناد مسلسل کا علم۔

٭۔ احادیث معنعنہ کا علم۔

٭۔ روایات معضل کا علم۔

٭۔ احادیث مدرج کی پہچان کا علم۔

٭۔ تابعین کی شناخت کا علم۔

٭۔تبع تابعین کی معرفت۔


تابعین کی شناخت کے بعد اُن کےسلسلہءِ

٭۔ ان صحابہ تابعین اور ان کے پیرویان میں سے جو راوی ہیں عصر حاضر تک ان کے قبائل کی معرفت۔

٭۔ صحابہ، تابعین اور ان کے بھائیوں،بہنوں کی عصر حاضر تک معرفت۔

٭۔ ان صحابہ، تابعین،تباع تابعین کی معرفت جن میں سے بس ایک راوی نے روایت کی ہو۔

٭۔ صحابہ، تابعین، تباع تابعین اور عصر حاضر تک ان کے پیرئوں کی نیت کا جاننا۔

٭۔ صحابہ، تابعین، تباع تابعین کی اولاد اور ان کے غلاموں کی معرفت۔


اصحاب رسول میں محدثین کی اہمیت ۔

٭۔ محدثین کے ناموں کا علم۔

٭۔ محدثین کی عمر کی اطلاع۔ولادت سے وفات تک۔

٭۔ محدثین کے القابات کی معرفت۔

٭۔ محدیثین کے مذہب کی اطلاع۔

محدثین سے راویانِ مرویات۔

٭۔ روایان حدیث کے وطن کی پہچان۔

٭۔ ان راویوں کی معرفت جو ایک دوسرے سے قریب ہیں۔

٭۔ راویوں کے قبائل، وطن، نام، کنیت اور ان کے پیشوں میں متشابہات کی پہچان۔


٭۔ اکابر و اصاغر کی معرفت۔

علم جرح و تعدیل کی معرفت کے بعد صحیح و سقیم کی پہچان کے لئے علوم :۔

٭۔ فقہ الحدیث کا علم۔

٭۔ ناسخ و منسوخ احادیث کا علم۔

٭۔ متن میں جو غریب (نامانوس) الفاظ استعمال ہوں ان کا علم۔

٭۔ احادیث مشہور کا علم۔

٭۔ غریب اور نامانوس احادیث کا علم۔

٭۔ احادیث مفرد کی پہچان کا علم۔

٭۔ ان لوگوں کی معرفت جو حدیث میں تدلیس کر دیتے ہیں۔

٭۔ حدیث کی علّتوں کا پہچاننا۔

٭۔ شاذ روایات کا علم۔

٭۔ پیغمبر کی ان حدیثوں کا جانچنا جو دوسری احادیث سے معارض نہ ہو۔

٭۔ ان حدیثوں کی معرفت جن کا کوئی رخ کسی رخ سے معارض نہ ہو۔

٭۔ احادیث میں الفاظ زائد کی معرفت۔

٭۔ متون کی تحری غلطیوں سے آگاہی۔

٭۔ مذاکرہ حدیث کا جانچنا اور مذاکرہ کرتے ہوئے راست گو کی معرفت۔

٭۔ اسناد میں محدثین کی تحریری غلطیوں کی اطلاع۔

٭۔ صحابہ سے عصر حاضر تک کے محدثین کے انساب کا علم۔

٭۔ غزوات پیغمبر ان کے ان خطوط وغیرہ کا علم جو انہوں نے بادشاہوں کو تحریر فرمائے

٭۔ اصحاب حدیث نے جن ابواب کو جمع کیا ہے ان کی معرفت اور اس بات کی جستجو کہ ان میں سے کون سا حصہ ضائع ہو گیا ہے

٭۔ اس کے علاوہ احادیث کی مندرجہ ذیل اقسام کا علم بھی ہونا چاہئیے۔

٭۔صحیح

٭۔ حسن

٭۔ ضعیف

٭۔ مسند

٭۔ متصل

٭۔ مرفوع

٭۔ موقوف

٭۔ مقطوع

٭۔ مرسل

٭۔ معضل

٭۔ تدلیس

٭۔ شاذ

٭۔ غریب

٭۔ معنعن

٭۔ معلق

٭۔ مفرد

٭۔ مدرج

٭۔ مشہور

٭۔ مصحف

٭۔ عالی

٭۔ نازل

٭۔ مسلسل

٭۔ معروف

٭۔ منکر

٭۔ مزید

٭۔ ناسخ

٭۔ منسوخ

٭۔ مقبول

٭۔ مشکل

٭۔ مشترک

٭۔ موتلف

٭۔ مختلف

٭۔ مطروح

٭۔ متروک

٭۔ مول

٭۔ مبین

٭۔ مجمل

٭۔ معلل

٭۔ مضطرب

٭۔ مہمل

٭۔مجہول

٭۔ موضوع

٭۔ مقلوب

٭۔ حدیث ماثور

٭۔ قدسی

٭۔ عزیز

٭۔ زائد الثقہ

٭۔ موثوق

٭۔ متواتر

مندرجہ بالا علوم سیکھنے کے بعد میں حدیثیں سمجھ کر پھر احادیث کے ذریعے قرآن کی سمجھ اب بھی ممکن نہیں ۔ کیوں کہ بھٹکنے کا امکان اب بھی ممکن ہے لہذا قرآن کو صرف ثواب کی نیت سے ناظرہ پڑھتے رہو دین کو سمجھنا ہے تو ہمارے اکابرین نے قرآن کی تفاسير لکھی ہوئی ہیں۔بس وہ پڑھ لو۔تفاسیر کے انبار میں سے اب آپ کی ہمت ہے کہ کِس تفسیر کا آپ انتخاب کرتے ہیں یا آپ سے کروایا جاتا ہے ۔

٭۔اُم ِ تفسیر ابنِ جریر الطبری (224-310ھ)کی 30 جِلدیں ہیں۔

٭۔تفسیر امام غزالی (450-505ھ)کی 20 جِلدیں ہیں۔

٭۔تفسیر امام جوزی 40 جلدیں ہیں۔

٭۔تفسیر ابن النقیب 50 جلدیں ہیں۔

٭۔تفسير الافودی 120 جلدیں ہیں۔

٭۔تفسیر حدائق ذات بہجتہ 500 جلدیں ہیں۔

٭۔تفسیر مدارک التنزيل کی 7 جلدیں ہیں۔

٭۔معالم التنزيل کی 8 جلدیں ہیں۔

٭۔تفسير کبیر کی 8 جلدیں ہیں۔

٭۔روح المعانی کی 9 جلدیں ہیں۔

٭۔تفسیر مریسی کی 24 جلدیں ہیں۔

٭۔کتاب الجامع فی التفسير کی 30 جلدیں ہیں۔

٭۔کتاب التحرير و التجیر کی 50 سے زائد جلدیں ہیں۔

گھبرا گئے نا !!!۔ابھی ٹہریں۔

يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ کے الذِّكْرِ کی وساطت سے مُّدَّكِرٍ،نہیں بنا جاسکتا ۔کیوں کہ پانچ پانچ اور سات سات جلدوں پر مشتمل ، طلابی (1035وفات ) بغوی (وفات 1122) ، بیضاوی، کشاف، سخاوی، بلقینی، بقاعی، فراحی ، شوکانی، مہائمی،. ابنِ تمیمہ ، مادردی، ابنِ منذر، ابنِ حیان، ابنِ فورک اور ابنِ طالب مکی کی تفسیریں مزید ہیں۔

اس کے علاؤہ معتزلہ تفاسیر ۔ تشیع تفاسیر ،و دیگر فرقہ و مذہب کی تفاسیر کے انبار لگے ہوئے ہیں ۔ متقدمین کی تفسیروں کے بعد متأخرين کی تفسیریں موجود ہیں جن میں شاہ عبدالقادر، شاہ اشرف علی، شاہ عبدالعزیز، شاہ محمود الحسن، ابوالکلام آزاد،ڈپٹی نذیر احمد، مولوی فیروز الدین، مولوی احمد علی لاھوری ،مولوی ثناءاللہ امرتسری وغیرہ وغیرہ۔ 

Sunni

Mu'tazili

Shi'a 

Ahmadi

Others 


أبو جعفر محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب الشهير بالإمام الطَّبَرِي (224-310ھ)کی تفسیر ابنِ جریر کو چونکہ ام التفسير مانا گیا ہےلہذا اِس کا چھاپہ ہیں مگر تضادات سے بھری پڑی ہیں۔اور تفسیر ابنِ جریر کا مآخذ 10 ھجری کے بعد سے 310 ھجری تک کی روایات ہیں۔


گویا اللہ کی منطق ، القرآن کے پہلے حافظﷺ کےذریعے تلاوت کردہ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سے مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ تک ، عربی آیات مھجور کر کے انسانی نطق کےپیچھےدھکیل دی گئی ہیں۔


وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا[25:30]


پریشان نہ ہو یہی تو الرسول کا اپنی قوم کے سیاسی اکابرین کے مْكُرُ کا گلہ ہے ۔ جو قریہ قریہ پھیلے ہوئے ہیں۔


وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَابِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُواْ فِيهَا وَمَا يَمْكُرُونَ إِلاَّ بِأَنفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ [6:123]


اِنہیں آپ مروّج زبا ن میں سلفِ صالحین بھی کہہ سکتے ہیں۔

٭٭٭٭ 

اتوار، 21 اگست، 2022

تربت میں ذکریوں کی عبادت گاہ

 ٭21 اگست 2022 ۔ بوڑھے کی ڈائری ۔ 

کوئٹہ کی سرد بارش زدہ صبح اور ذکریوں کی ایک مذہبی رسم ۔ کی معلوماتی وڈیو ، وٹس ایپ پر موصول ہوئی ۔

Travel: Baluchistan's Zikri community and their pilgrimage to Koh-e-Murad - BBC Urdu

چنانچہ ، فیس بک پر ایک مضمون ڈال دیا ۔ 1997 کےانتخاب کے وقت میں تربت میں تھا وہاں اِن کے خلاف کتاب مجھے ایک بلوچ نے دی جو میرے فہم کے مطابق واہیات پر مشمل تھی - اتوار کے دن اِن کے مرکز گیا اور وہاں اُن کے ایک امام سے بات ہوئی اور ذکری مذہب کے مطابق تمام معلومات حاصل کیں۔ میں چونکہ 1993 سے الکتاب سے جڑا ہوا تھا ، کہیں ماضی بعید میں کسی نیک دل انسان نے حج کے سفر میں تربت کے ڈاکوؤں کے ہاتھوں لوٹے جانے پر یہیں پڑاؤ کیا اور ۔ ۔ ۔ اپنے فہم کے مطابق ، رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ کی تلاوت کردہ ، آیت سے مکمل استنباط کیا ۔ میرا فہم بھی یہی بنتا تھا ۔ ۔ ۔ 

اور بعد میں یہاں سے واپس اینے علاقوں میں جانے والوں نے اِس جگہ کو اپنے اپنے خطبوں میں بیت اللہ کا متبادل قرار دیا ( جو درست نہیں ) ۔ اُس وقت سے بلوچستان کے تمام غریب ذکری بلوچ اپنے رسول کی ہدایت کے مطابق اپنے خالق کو منانے اور اُس کا قُرب حاصل کرنے کے لئے یہاں آتے ہیں ۔ یہاں قبریں بھی ہیں ، کوہ مراد (جبل نور) بھی ہے زمزم تالاب بھی ہے اور طوافِ بیت بھی کیا جاتا ہے۔ یہاں نوجوان جوڑوں کی شادیاں بھی ہوتی ہیں۔


٭٭٭٭٭٭٭اگر موقع ملا تو شاید تفصیل لکھوں ٭٭٭٭٭٭٭٭

 

اتوار، 14 اگست، 2022

پاکستانی تاریخ کے گمنام ہیروز

   میجر سلوئن: وہ برطانوی افسر جس نے پاکستان کی خاطر 1948 میں کشمیر کے پہاڑوں میں جان دے دی کچھ لوگ کسی سرزمین پر پیدا ہوتے ہیں، کچھ وہاں اپنی زندگی گزارتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ایک اجنبی سرزمین کے لیے اپنا لہو دے کر تاریخ میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لیتے ہیں۔
 یہ داستان ہے میجر ایلن میکفارلین سلوئن کی؛ ایک برطانوی فوجی افسر کی، جس نے تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آرمی کے انجینئرز میں خدمات انجام دیں اور 1948ء کی کشمیر جنگ میں اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے جان قربان کر دی۔ اس کہانی میں نہ کسی تخت کا ذکر ہے، نہ کسی شاہی محل کا، نہ کسی فاتح بادشاہ کی شان و شوکت کا۔ یہاں کردار ایک ایسا فوجی انجینئر ہے جس کا کام شاید میدانِ جنگ میں سب سے زیادہ نمایاں دکھائی نہ دیتا ہو، لیکن جس کی محنت کے بغیر بہت سے دوسرے سپاہیوں کی پیش قدمی ناممکن ہو سکتی تھی۔ اور پھر ایک دن، کشمیر کے پہاڑوں میں، یہی خاموش خدمت اس کی زندگی کا آخری باب بن گئی۔

 انگلستان سے کشمیر تک 20 اپریل 1925ء کو انگلستان کے علاقے بیکنہم میں ایک بچے نے آنکھ کھولی۔ اس کا نام ایلن میکفارلین سلوئن رکھا گیا۔ وقت گزرتا گیا۔ بچپن جوانی میں بدلا اور جوانی نے اسے فوج کی طرف لے گئی۔ اس نے برطانوی فوج کے رائل انجینئرز میں شمولیت اختیار کی اور فوجی انجینئرنگ کی تربیت حاصل کی۔ یہ وہ شعبہ تھا جس میں کامیابی کا مطلب صرف اپنی ذات کی بہادری نہیں ہوتا۔ یہاں راستہ بنانا، پل قائم کرنا، دشوار گزار زمین کو قابلِ عبور بنانا اور دوسرے فوجیوں کے لیے پیش قدمی ممکن کرنا بھی فرض کا حصہ ہوتا ہے۔

 پھر برصغیر کی تاریخ نے ایک ایسا موڑ لیا جس نے کروڑوں انسانوں کی زندگی بدل دی۔ 1947ء میں پاکستان ایک آزاد ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ برطانوی ہند کی فوج تقسیم ہوئی، نئے ملک کو اپنی فوجی تنظیم قائم کرنے کے لیے تجربہ کار افسروں اور ماہرین کی ضرورت تھی، اور متعدد برطانوی افسران نے عبوری مدت کے لیے پاکستان میں خدمات انجام دینے پر آمادگی ظاہر کی۔ سلوئن بھی انہی افسروں میں شامل تھا۔ وہ 18 اکتوبر 1947ء کو پاکستان پہنچا اور پاکستان آرمی کی 71 فیلڈ کمپنی انجینئرز میں شامل ہوا۔ اگلے مہینے اسے میجر کے عہدے پر ترقی ملی۔

 اس وقت شاید کسی نے تصور بھی نہ کیا ہو کہ یہ افسر چند ماہ بعد کشمیر کے پہاڑوں میں ایک ایسے معرکے کا حصہ بنے گا جس کی کہانی فوجی تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہو جائے گی۔ کشمیر کے پہاڑ اور چنج کی دشوار چوٹی 1948ء کی کشمیر جنگ جاری تھی۔ یہ صرف میدانوں میں لڑے جانے والی جنگ نہیں تھی۔ یہاں پہاڑ تھے، گہری وادیاں تھیں، تیز بہتے دریا تھے اور ایسے راستے تھے جہاں ایک معمولی رکاوٹ بھی فوجی نقل و حرکت کو مشکل بنا سکتی تھی۔ چنج  7229کا علاقہ بھی ایسا ہی ایک دشوار گزار محاذ تھا۔ اس علاقے میں اہم بلند مقامات پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے پاکستانی فوج کو توپ خانے کی مدد درکار تھی۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ مطلوبہ توپ کو اس مقام تک پہنچانے کے لیے مناسب راستہ موجود نہیں تھا۔ ایک توپ کو پہاڑی چوٹی تک پہنچانا کوئی معمولی کام نہیں تھا۔ اس کے ساتھ گولہ بارود بھی درکار تھا، اور بھاری سامان کو دشوار گزار زمین سے گزارنے کے لیے ایسا راستہ چاہیے تھا جس پر جانوروں کی مدد سے نقل و حمل ممکن ہو سکے۔ یہاں میجر سلوئن اور ان کی انجینئر کمپنی کا کردار سامنے آیا۔

شہزادی کا سفر پاکستانی فوج کے پاس 3.7 انچ کی ایک ہووٹزر توپ تھی، جسے محبت سے ’’شہزادی‘‘ کہا جاتا تھا۔ لیکن اس شہزادی کا سفر کسی شاہی سواری جیسا نہیں تھا۔ اسے چنج کی بلند پوزیشن تک پہنچانے کے لیے توپ کو کھولنا پڑا۔ اس کے مختلف حصوں اور گولہ بارود کو کشن گنگا، یعنی دریائے نیلم، کے پار لے جانا تھا۔ وہاں سے پہاڑی راستے پر سامان کو مطلوبہ مقام تک پہنچانا ایک کٹھن کام تھا۔ میجر سلوئن کی قیادت میں 71 فیلڈ کمپنی انجینئرز نے دن رات کام کیا۔ کمپنی نے مظفرآباد سے آگے تقریباً پچیس میل تک راستہ خچروں کے گزرنے کے قابل بنانے کے لیے محنت کی۔ غوری کے مقام پر دریا عبور کرنے کے لیے رسّی اور پلّی کے نظام سے توپ کے حصوں اور گولہ بارود کو دوسری طرف منتقل کیا گیا۔ اس کام میں صرف فوجی انجینئرز ہی نہیں، مقامی مدد اور انسانی محنت بھی اہم تھی۔ پہاڑوں اور دریاؤں کے درمیان یہ سفر ایک ایسے وقت میں مکمل کیا جا رہا تھا جب محاذ پر ہر دن قیمتی تھا۔ دو دن کی محنت کے بعد توپ دوبارہ جوڑ دی گئی۔ اب وہ مطلوبہ مقام پر پہنچ چکی تھی۔ اس کارنامے کی اہمیت صرف ایک توپ کی منتقلی میں نہیں تھی۔ یہ اس بات کی مثال تھی کہ جنگ میں بعض کامیابیاں ان لوگوں کی محنت سے ممکن ہوتی ہیں جو خود شہرت کے مرکز میں نہیں ہوتے۔ سپاہی آگے بڑھتے ہیں، کمانڈر احکامات دیتے ہیں، توپیں اپنی جگہ پہنچتی ہیں، لیکن ان سب کے پیچھے راستہ بنانے والوں کی محنت بھی موجود ہوتی ہے۔

 اور اس راستے کو ممکن بنانے والوں میں میجر سلوئن کا نام نمایاں تھا۔ وہ افسر جو اپنے جوانوں سے آگے رہتا تھا توپ کی منتقلی کے بعد 71 فیلڈ کمپنی نے علاقے میں دوسرے راستوں پر کام شروع کیا۔ ان کاموں میں بارودی سرنگوں کو صاف کرنا بھی شامل تھا۔ یہ ذمہ داری انتہائی خطرناک تھی۔ پہاڑی زمین پر ہر قدم احتیاط کا تقاضا کرتا تھا، اور زمین میں چھپی بارودی سرنگ کسی بھی لمحے جان لیوا ثابت ہو سکتی تھی۔ 10 جولائی 1948ء کا دن اسی کام کے دوران تاریخ کا حصہ بن گیا۔ میجر سلوئن اپنے جوانوں کے ساتھ موجود تھا اور انہیں ہدایات دے رہا تھا۔ وہ اپنے جوانوں سے الگ کسی محفوظ مقام پر بیٹھ کر کام کی نگرانی نہیں کر رہا تھا؛ وہ خود اس جگہ موجود تھا جہاں اس کے آدمیوں کو رہنمائی کی ضرورت تھی۔

 پھر اچانک ایک حادثہ پیش آیا۔ وہ ایک ڈھلوان پر پھسل کر نیچے گرے اور ان کا پاؤں ایک بارودی سرنگ سے منسلک ٹرپ وائر پر پڑ گیا۔ دھماکا ہوا۔ میجر سلوئن شدید زخمی ہوئے۔ اسی واقعے میں پاکستانی فوج کے لانس نائیک امان خان بھی شہید ہوئے۔ میجر سلوئن کی چوٹیں جان لیوا ثابت ہوئیں اور 10 جولائی 1948ء کو ان کی زندگی ختم ہو گئی۔ ان کے آخری الفاظ کے بارے میں دستیاب تاریخی مضمون کوئی مستند بیان فراہم نہیں کرتا۔ اس لیے ہم ان کی زبان سے کوئی ایسا جملہ منسوب نہیں کریں گے جس کا ثبوت موجود نہ ہو۔ لیکن ان کی زندگی کے آخری لمحے کے بارے میں ایک بات واضح ہے: وہ اپنے جوانوں کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ ایک غیرمعمولی قربانی میجر سلوئن کا تعلق برطانیہ سے تھا۔ وہ پاکستان میں پیدا نہیں ہوئے تھے، مگر تقسیم کے بعد انہوں نے پاکستان آرمی میں خدمات انجام دیں اور کشمیر کی جنگ کے دوران اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے جان دے دی۔ ان کی میت ایبٹ آباد کے برطانوی قبرستان میں فوجی اعزازات کے ساتھ دفن کی گئی۔

 ان کی داستان اس لیے اہم نہیں کہ وہ کسی ایک ملک کے باشندے تھے یا کسی دوسرے ملک کی فوج میں خدمات انجام دیتے تھے۔ اس کی اہمیت اس انسانی حقیقت میں ہے کہ فوجی خدمت میں بعض لوگ اپنی ذمہ داری کو اپنی ذات سے مقدم رکھتے ہیں۔ سلوئن نے کشمیر کے پہاڑوں میں ایک ایسا کام انجام دیا جس نے فوجی نقل و حرکت کو ممکن بنایا۔ پھر جب وہ اپنے جوانوں کے ساتھ خطرناک ذمہ داری ادا کر رہے تھے تو خود اسی محاذ پر جان سے گئے۔ ان کی کہانی میں ایک خاموش سبق پوشیدہ ہے: تاریخ صرف ان لوگوں کو یاد نہیں رکھتی جو میدان میں سب سے آگے دکھائی دیتے ہیں۔ بعض اوقات وہ ان لوگوں کے نام بھی محفوظ کر لیتی ہے جو دوسروں کے آگے بڑھنے کے لیے راستے بناتے ہیں۔ اور کبھی کبھی، راستہ بنانے والا خود اپنی منزل تک نہیں پہنچ پاتا۔ تاریخ کا وہ صفحہ جو ہمیں یاد رکھنا چاہیے آج جب ہم 1948ء کی کشمیر جنگ کا ذکر کرتے ہیں تو ہمیں صرف بڑی لڑائیوں، بلند چوٹیوں اور فوجی کامیابیوں کا تذکرہ نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں ان انجینئرز کو بھی یاد رکھنا چاہیے جنہوں نے پہاڑوں کے درمیان راستے بنائے۔ ان سپاہیوں کو بھی جنہوں نے بھاری سامان اٹھایا۔ ان مقامی لوگوں کو بھی جن کی مدد سے مشکل کام ممکن ہوئے۔ اور ان افسران کو بھی جنہوں نے اپنے جوانوں کے ساتھ خطرات کا سامنا کیا۔

میجر ایلن میکفارلین سلوئن انہی کرداروں میں سے ایک تھے۔ ایک برطانوی افسر، جو پاکستان آرمی کے انجینئرز میں خدمات انجام دیتے ہوئے کشمیر کی جنگ میں شہید ہوا۔ ایک ایسا نام جسے شاید بہت سے لوگ نہیں جانتے، لیکن جس کی داستان پاکستان کی عسکری تاریخ کا حصہ ہے۔ کیونکہ بعض ہیرو سرحدوں کے دونوں طرف پیدا ہوتے ہیں، مگر ان کی پہچان اس راستے سے ہوتی ہے جس پر وہ اپنے فرض کے لیے چلتے ہیں۔ میجر سلوئن کی داستان ہمیں یہی یاد دلاتی ہے کہ قربانی کا ذکر کرتے ہوئے انسان کے عہدے اور جائے پیدائش سے آگے بڑھ کر اس کے عمل کو بھی دیکھنا چاہیے۔ میجر ایلن میکفارلین سلوئن — 1948ء، چنج، کشمیر۔ ایک افسر جس نے پاکستان آرمی کے لیے خدمات انجام دیں، اپنے جوانوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے شہید ہوا، اور تاریخ میں ایک غیرمعمولی کردار کے طور پر محفوظ ہو گیا۔  تاریخ کے وہ کردار جنہیں فراموش نہیں ہونا چاہیے۔

(ڈاکٹر احمدعلی) 

٭٭٭٭٭٭

اتوار، 7 اگست، 2022

خرگوش کی خوراک

ربّ العالمین  کے عطا کردہ ، حواسِ خمسہ ( آنکھ ، ناک ، کان ، زُبان اور جسم  پر موجود حس  ) ، جہاں ترقی کی منازل کی طرف لے جاتے ہیں وہی تنزلّی کے غار میں بھی داخل کرنے کا سبب بنتے ہیں  فرموداتِ مہاجرزادہ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭  
خیر الرازقین   کی  تمام  عطا کردہ خوراک، احسن الخالقین  کے تخلیق کردہ  ، حیوانی  جسم کو توانا اور مضبوط  کے علاوہ، خودکار حفاظتی نظام(امیون سسٹم)  کے جال کو  بھی  مضبوط بناتی ہے  -
 کسی بھی ،حیوان  (بشمول انسان)   کا  جسم یا حفاظتی نظام کا جال اُس وقت کمزور پڑتا ہے ، جب بیرونی حملہ آورجسم میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جائیں ۔
یہ بیرونی   حملہ آور    آنکھ ، ناک اور منہ سے   جسم میں داخل ہونے والے راستے ، حلق سے گذر کر  پیٹ یا پھیپھڑوں میں جاتے ہیں ۔
 اگرحیوانی جسم میں   خودکار حفاظتی نظام(امیون سسٹم)  بہتر ہو تو یہ جراثیم معمولی نقصان  بیماری کی صورت میں پہنچاتے ہیں  اور اگر یہ کمزور ہو تو ، جسم میں داخل ہونے والا  مرض کئی د ن چلتا ہے -
  لہذا قدرتی غذائیں ، حفاظتی نظام کو  طاقتور بناتی ہیں ، حیوانی خوبی ہے کہ ، اُن  کی قوتِ شامعہ  یعنی سونگھنے کی قوت ، اُن کو  طیب اور نقصان سے پاک غذاؤں   کے انتخاب میں مدد دیتی ہے ۔
 زمین پر خیر الرازقین کی پلاننگ کے مطابق اُگنے والے ، درخت ، پودے ،جھاڑیا ں  ، بیلیں  اور گھاس ، میں سے خرگوش اپنی پسند کے مطابق ، اپنے رزق کا انتخاب کرتا  ہے اور اُن پر اُگنے والے بیج اُن کی بہت کم خوراک ہوتی ہے ۔
بوڑھے نے اپنے کچن گارڈن میں کافی سبزیاں  ، اُگائی ہیں  ۔ جن سے وہ کچن کے لئے  تازہ رزق  ، حاصل کرتا ہے ۔بوڑھے کو جب غیرملکی خرگوش پالنے کا شوق ہوا تو اُس نے ، مبلغ ، 30 ہزار کے بنّیز خریدے ، جن میں نیوزی لینڈ وھائیٹ  (6)، فلیمش (4)  اور انگورا  (4) شامل تھے۔  پہلے تو وہ پنجروں میں رکھے ، پھر اُنہیں آزاد چھوڑ دیا ، جو مقامی خرگوشوں کے ساتھ ، حفاظتی لان میں قلانچیں بھرتے ، مرغیوں ، بطخوں  اور تیتریوں کو ڈراتے ۔ برفی (پوتی)  سے   ریس لگاتے ۔ 
 پھر یوں ہوا !
آہ۔ ۔ ۔۔ ۔   اُفق کے پار بسنے والے دوستو ، بہت بُرا ہوا ۔  14 خرگوشوں میں سے صرف  5 غیر ملکی خرگوش رہ گئے ، باقی اپھارے سے ، داغِ مفارقت دے گئے ۔ 
 بوڑھے نے پانچوں کو الگ الگ پنجروں میں رکھا اور کنٹرولڈ خوراک دینے لگا ۔ بوڑھے کے پاس اب بھی 5 ہی  امپورٹڈ خرگوش ہیں ۔ 
بوڑھے کے کچن گارڈن ، میں ۔
میتھی ، پالک ، مولی ، شلجم ، بندھ گوبھی ، پھول گوبھی ، نمائشی گوبھی ، ٹماٹر ، مرچیں ، پودینہ ، دھنیا ، سونف،مکئی اور نیاز بو ، تلسی ، تیز پات ۔
 خود رو   پودوں میں۔ بھنگ  ، کیکٹس ،گھاس ، جنگلی پھول ۔
درختوں میں ۔     ارنڈی ۔  Castor، انجیر  ، آم ، جامن ، شہتوت ، آلو بخارا ، سیب ،  لوکاٹ ، خوبانی ،  ربڑ درخت  ، سفیدہ ، پاپولر و دیگراں ۔
مقامی خرگوش ، ہر پتے اور ہر سبزی کو سونگتے ، پودے کے تنے پر دانت مارتے، سوکھے پتوں کو چباتے ، مرغیوں اور پرندوں کی خوراک میں حصہ بٹاتے ،  کچن گارڈن کی سبزیوں اور پھلوں کے چھلکوںکو مزے سے کھاتے ، گرنے والے  کچے آم ، یا   درخت پر ہی پکنے والے  آم جو طوطے اور دیگر پرندے گراتے ، اُنہیں کھاتے ۔ لیکن ڈھیروں  سے زمین پر گری  ہوئی میٹھی جامنوں کو سونگھتے تک نہیں ۔
گھاس کوسارا دن  کھاتے رہتے ،  مالی خوامخواہ گھاس کاٹنے کی مشین چلاتا ہے ۔ 
اب چونکہ یہ دیسی یعنی مقامی خرگوش تھے ، مکمل  خودکار طاقت ور  حفاظتی نظام(امیون سسٹم)    کے ساتھ ، جو  بیمار ہوکر مرے وہ صرف  ، فنگس کا شکار زمین میں سرنگ بنا بنا کر ہوئے ۔ جب بوڑھے کو معلوم ہوا تو وقت گذر چکا تھا ۔
خرگوش فارمنگ پر تجربہ کرتے کرتے ، غیر ملکی و ملکی یوٹیوب کی وڈیو دیکھتے   بوڑھا بھی تجربہ کار ہو گیا ۔  لہذا خرگوش کی مصنوعی خوراک  ونڈوں پر تجربے کرتے ، بوڑھے کے مطابق  ، اپنی خوراک اور ونڈے کی خوراک سے خرگوش کے وزن میں چندگرام کا اضافہ ہوتا ہے ۔
برائلر (فارم کے چکن) کی طرح  وزن بے تحاشہ نہیں بڑھتا ۔
بوڑھے کے خرگوشوں کی خوراک۔
صبح: دھوئی ہوئی تازہ بھنگ  کے پتے اور دانت تیز کرنے کے لئے شاخیں ،  باجرے کے پودے کے پتے  ، بمع  ٹانڈے ، لان  اور  کچن گارڈن میں اُگنے  والی   گھاس  ۔
رات:
نوٹ: بوڑھے کے خرگوش زندہ ہیں اور پائیندہ ہیں ۔


٭٭٭٭جاری ٭٭٭٭

  مزید مضامین

 فہرست ۔ خرگوشیات  

اگلا مضمون ۔ خرگوش کی بیماریاں
٭٭٭٭ ٭٭٭٭٭

 


 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔