میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 13 اکتوبر، 2020

پھانسی گھاٹ اور جلّاد

جلاد کے پاس پھانسی دینے والے شخص کیلئے آدھا منٹ سے بھی کم وقت ہوتا ہے اس میں وہ قیدی کے سر پر ٹوپی(ماسک ) چڑھاتا ہے اور اس کے بعد گلے میں رسہ ڈال کر لیور کھینچنا شامل ہے۔ ایک پھانسی پانے والے مجرم کیلئے ضروری ہے کہ اسے 25منٹ تک لٹکایا جائےلیکن جلاد کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کی جان کب نکلی ؟

لال مسیح ایک’’ ریٹائرڈ جلاد‘‘ ہے اس نے اپنی 27 سالہ پولیس کی نوکری میں 750 لوگوں کو پھانسیاں دیں، یکی گیٹ لاہور میں 1955ء کو پیدا ہونے والا لال مسیح معروف جلاد تارا مسیح کا سالا ہے اور اپنے خاندانی جلاد ہونے پر آج بھی فخر کرتاہے۔تارا مسیح وہ جلاد ہے جس کے والد نے معروف حریت پسند باغی بھگت سنگھ کو پھانسی دی تھی اور خود تارا مسیح نے پاکستان کے مقبول ترین وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکایا جس کا معاوضہ اُس دور کی حکومت وقت نے مبلغ 25 روپے ادا کیے۔
اپنے بہنوئی تارا مسیح کی وفات کے بعد لال مسیح 1984ء میں بطور جلاد پولیس میں بھرتی ہوا۔ جلاد کا نام سنتے ہی ذہن میں ایک سفاک شخصیت کا تصور ابھرتاہے، لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہ لوگ صرف سرکاری احکامات کی پابندی کرتے ہیں، انہیں نہیں پتا ہوتا کہ جس کی زندگی کا یہ خاتمہ کرنے جارہے ہیں وہ سزا کا حق دار تھا یا نہیں۔انہیں صرف اپنی ڈیوٹی اد ا کرناہوتی ہے۔
لال مسیح کے مطابق پاکستان میں پھانسی کے وقت چار لوگ مجرم کے پاس موجود ہوتے ہیں جس میں کیس کا جج، ایس پی اور کچھ پولیس کے آدمیوں کے ساتھ ایک ڈاکٹر بھی شامل ہوتا ہے۔ عموماً ایس پی، پھانسی پانے والے سے اس کی آخری خواہش پوچھتا ہے ، زیادہ تر مجرم اپنے بچوں کو پیار پہنچانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔
سال 1985تک پھانسی کا یہ عمل مجرم کے لواحقین کو بھی لائیو دیکھنے کی اجازت تھی تاہم سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو نے پہلی بار یہ آرڈر دیے کہ لواحقین کو اپنے پیاروں کی پھانسی کا سارا عمل دکھانے کی بجائے صرف ڈیڈ باڈی ان کے حوالے کی جائے۔
لال مسیح کے مطابق جب مجرم کو پھانسی گھاٹ کے سامنے لایا جاتا ہے تو اسے ایک کالے رنگ کا ماسک پہنا دیا جاتا ہے تاہم مجرم اس ماسک میں سے باہر کا دھندلا سا منظر دیکھ سکتا ہے۔جب مجرم کو ماسک پہنایا جاتا ہے توپھانسی گھاٹ پر گھمبیر خاموشی چھا جاتی ہے حتیٰ کہ ایس پی صاحب بھی پھانسی کی اجازت محض ہاتھ ہلا کر دیتے ہیں۔

لال مسیح نے بتایا کہ مجرم کو پھانسی گھاٹ پر لانے کے بعداس کی گردن میں رسی باندھنا بھی جلاد کے فرائض میں شامل ہے ، یہ رسی اس انداز سے باندھی جاتی ہے کہ کسی بھی صورت مجرم کا سر اس کی گرہ میں سے نہ نکل سکے۔جب لال مسیح کسی مجرم کو پھانسی دینے کے لیے لیور کھینچنے لگتا تو اس کے کان میں آہستہ سے کہتا ’’مجھے تمہاری موت کی نہ کوئی خواہش ہے نہ سروکار، میں تو صرف اپنی ڈیوٹی نبھا رہا ہوں‘‘ یہ سب کچھ چیک کرنے کے بعد وہ لیور کے سٹینڈ کے پاس چلا جاتا اور ایس پی کی اجازت کا انتظار کرتا۔

اجازت ملتے ہی لال مسیح لیور کھینچتا اور مجرم کے پیروں کے نیچے سے تختہ کھل جاتا ، مجرم کی گردن لکڑی کے فریم میں پھنس جاتی اور اس کا جسم تقریباً پانچ فٹ نیچے ہوا میں لٹکنے لگتا ۔ لال مسیح کے مطابق پھانسی پانے والے کے جسم کو تیس منٹ تک لٹکائے رکھنا ضروری ہوتاہے ، اس کے بعد اس کے لٹکے ہوئے جسم کے ہاتھ کالے ہونے کا انتظار کیا جاتا ہے، بعد ازاں ڈاکٹر مجرم کی موت کی تصدیق کرتاہے، متعلقہ جج کاغذات پر سائن کرتا ہے اور لاش ورثا کے حوالے کر دی جاتی ہے ۔
لال مسیح نے بے شمار قاتلوں سے لے کر ، ٹاپ کے دہشت گردوں اور اشتہاریوں کو اپنے ہاتھوں سے پھانسیاں دیں جن میں کئی پھانسیاں اس نے سرعام دیں۔

لال مسیح کی تنخواہ 450 روپے تھی تاہم اسے پورا پاکستان گھومنے کا موقع ملا کیونکہ عموماًمجرم کو مجرم کے علاقے کی قریبی جیل میں ہی پھانسی دی جاتی ہے اس لیے جہاں جہاں پھانسیاں ہوتی تھیں لال مسیح کو طلب کرلیا جاتا تھا.

لال مسیح کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے ’’جلادی‘‘ دور میں ڈاکٹر، بینکار اور دیگر پیشوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بھی تختہ دار پر لٹکایا ہے۔اس نے بتایا کہ سر عام پھانسیاں عام طور پر جنوبی پنجاب میں دی جاتی رہی ہیں جس میں مظفر گڑھ ، میانوالی اور ملتان شامل ہیں، اس کا کہنا ہے کہ ایک دفعہ تو ایسا بھی ہوا کہ ایک موٹے مجرم کو پھانسی دینے کے لیے لیور کھینچا تو تو رسی ہی ٹوٹ گئی تاہم ایسی صورت میں پھر یہ پولیس کا کام ہوتا ہے کہ وہ آدھے مرے ہوئے مجرم کو دوبارہ پھانسی گھاٹ پر لے کر آئے۔ لال مسیح کے مطابق کم وزن والے مجرم اکثر رسی کے ساتھ لہراتے رہتے تھے لیکن ان کی جان نہیں نکلتی تھی لہذاان کی تکلیف ختم کرنے کے لئے اسے حکم دیا جاتا تھا کہ وہ نیچے جائے اور مجرم کے پاؤں پکڑ کر خود بھی لٹک جائے۔ یوں 110 کلوگرام کا لال مسیح جب دبلے پتلے مجرم کے پیرپکڑ کر لٹکتا تھا تو واقعی مجرم کی ’’تکلیف‘‘ رفع ہوجاتی تھی۔
 کہا جاتا ہے کہ پھانسی پانے والے مجرم کے مرنے کی نشانی یہ ہوتی ہے ہے کہ اس کے ہاتھ کالے ہو جاتے ہیں لیکن یہ بات درست نہیں ، پھانسی صبح صادق کے وقت پو پھوٹنے سے قبل دی جاتی ہے۔ پھانسی دینے کے بعد رسہ جھول رہا ہوتا ہے جیسے ہی رسہ ساکن ہوتا ہے جلاد کو پتہ چل جاتا ہے کہ قیدی کی جان نکل چکی ہے۔پھانسی کے بعد ڈاکٹر تصدیق کرتا ہے اور سب سے پہلے قیدی کے ٹخنے پر زور لگاتا ہے پھر اس کے بعد نیچے اتار کر تسلی سے اس کا چیک اپ کرتا ہے کہ کہیں جان باقی تو نہیں مگر جلاد اپنے تجربے کی بنیاد پر دیکھ لیتا ہے کہ قیدی کی جان کس وقت نکلی ۔

بعض قیدیوں کی جان جلدی نکل جاتی ہے اور بعض کی بہت مشکل سے نکلتی ہے۔ جلاد کا کہنا تھا کہ پھانسی کے رسے کے ساتھ ایک فالتورسہ بھی لٹکایا جاتا ہے کیونکہ جج اپنے فیصلے میں لکھتے ہیں کہ اس وقت تک لٹکاؤ جب تک جان نہ نکلے ، یہ بات بالکل غلط ہے کہ رسہ ٹوٹنے پر قیدی کو چھوڑ دیا جاتا ہے، رسہ چاہے 4بار ہی کیوں نہ ٹوٹے جان ضرور نکالی جاتی ہے۔ ویسے تو رسہ ٹوٹنا ناممکن ہوتا ہے کیونکہ یہ وہ رسہ ہوتا ہے جس سے دس وہیلر ٹرک کھینچا جاتا ہے۔

لال مسیح بڑے فخر سے بتاتا ہے کہ ایک دفعہ میں نے ایک ہی وقت میں پانچ آدمیوں کو ایک ساتھ پھانسی دی۔ اُس نے بتایا کہ اس نے زندگی میں سب سے کم عمر پھانسی ایک لڑکے کو دی جس کی عمر 16یا17 سال تھی اور وہ اپنی منگیتر کو قتل کرنے کے جرم میں گرفتار ہوا تھا اور سب سے زیادہ عمر کی پھانسی تقریباً 55 سالہ شخص کو دی جس نے اپنے بھائی کا قتل کیا تھا۔

لال مسیح کو ایک دفعہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنے ایک رشتہ دار کو بھی پھانسی دینا پڑی۔

نوٹ: ایک سوال اکثر کیا جاتا ہے کہ پھانسی علی الصبح ہی کیوں دی جاتی ہے؟
۔ مختصرا” جواب یہ ہے کہ۔۔۔
پھانسی کے لئے صبح کا وقت ہوتاہے کیونکہ اس وقت انسان کے جسم کے اعضاء سکون میں ہوتے ہیں اور اس کو تکلیف کم ہوتی ہے جب کہ اس کی نسبت دن میں اعضاء سخت ہوتے ہیں اور تکلیف زیادہ ہوتی ہے ۔ اس کی ایک اور وجہ بھی ہوتی ہے اور وہ یہ کہ مجرم کے حمایتوں کی طرف سے غم و غصہ کرنے کا خطرہ ہوتا ہے جب کہ صبح کے وقت سب سو رہے ہوتے ہیں اس لئے صبح کے وقت کو پھانسی دینے کے لئے تجویز کیا جاتا ہے ۔ یہ انگریزوں کے دور سے چلا آرہا ہے کیونکہ انگریزوں کی دی گئ اکثر پھانسیوں پر عوام کے رد عمل اور شدید احتجاج کا خدشہ ہوتا تھا اس لئے ایسا وقت مقرر کیا گیا جس وقت عوام محو خواب ہوں۔

بشکریہ : نجیب عالم 

٭٭٭٭٭٭

پیر، 12 اکتوبر، 2020

بت پرستوں کے لئے -یزدانی اور اہرمانی پیغامات

 بُت سب سے پہلے ذہنوں میں بنائے جاتے ہیں اُن چالاک اور فطین انسانوں کی طرف سے جب وہ دیکھتے ہیں کہ کمزور و بے بس کا خدا اُن کی مدد نہیں کرتا ۔ تو وہ کی مدد کے لئے اُن کی پریشانی حل کرنے کا بت اُن کے ذہنوں میں بناتے ہیں ۔ جیسے :
٭- غریبوں کے لئے ۔ دولت کا بت ۔

٭-  کمزوروں کے لئے - انتقام کا بُت ۔

٭-  بیماروں کے لئے ۔ شفا کا بُت -

٭- لاچاروں کے لئے -طاقت کا بُت-

٭-  بے اولادوں کے لئے - اولاد کا بُت-

٭-  بھوکے کے لئے - رزق تقسیم کرنے والا بُت

 اُور اِن سب سے اوپر - حاکمیت کا بُت ۔

 اِن کے علاوہ بے شمار دوسرے بُت انسانی مرادوں کے لئے بنائے جاتے ہیں

کچھ لوگوں کے لئے اُن دیکھے خدا یا اُس کے نائیبین  پر یقین کرنا مشکل ہے- تواُن کے بُت تراشے جاتے ہیں جو اُن کے سامنے موجود ہوتے ہیں ، پتھروں اور قبروں کی صورت میں ، جن پر کامیابی سے پہلے اور کامیابی کے بعد بلیدان اور چڑھاوے لازمی قرار دیئے جاتے ہیں ۔

 تمام بتوں سے منسوب ، معجزات اور کرشمے نشر و اشاعت کے ایجنٹوں سے زمانہءِ قدیم سے پھیلائے جارہے ہیں اور جاتے رہیں گے ، جو بڑی دلجمعی سے یہ کام کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ 

چالاک اور فطین انسان خود کو خدا کا منتخب فرد یعنی پیغامبر ظاہر کرواتے ہیں ۔ جن کے پاس الھامی پیغامات خدا کی طرف سے آتے ہیں ۔ 

خدائے یزداں (نیکی) ہو یا اہرمن (برائی) یا 

اُن دونوں کو کنٹرول کرنے والا خدائے یکتا ۔ 

خدائے یکتا کی یکتائی سے کسی انسانی مذہب سے انکار نہیں کیا جاسکتا ، جو انسانوں کے لئے انسانوں ہی کے ذریعے (یزدانی اور اہرمانی) پیغامات میں ردو بدل کرتا رہتا ہے ۔

جن کی الھامی وضاحت  پر ایک خاص طبقہ مامور ہوتا ہے- جس میں شامل افراد کو آپ کسی بھی نام یا صفت سے موسوم کر سکتے ہیں ۔

جب کہ انسانوں کے لئے یہ وضاحت، کائینات میں نہیں اُنہی کے ارد گرد بکھری ہوئی ہے ۔

جِس کے لئے عقل و تدبّر کی ضرورت ہے ۔ 

 ٭٭٭٭٭٭

ہفتہ، 10 اکتوبر، 2020

شگفتگو - آپ کے اندر ایک ہیرو ہے

    ”عمران بم دھماکوں سے مرتا ہے نہ گولی اُس کا کچھ بگاڑ سکتی ہے“،
ایک کثیر المطالعہ اخبار میں لکھے ہوئے سعید نوابی صاحب کے مضمون کا یہ پہلا جملہ پڑھتے ہی ذہن نے ایک طویل زقند لگائی۔ نمّو نے خود کو چار بزرگوں کے بیچ پایا ۔وہ سب زمین پر بچھے ہوئے ٹاٹ پر بیٹھے تھے۔نمّو کے  ہاتھ میں اُس وقت کے مشہور ادیب کی کتاب تھی اور  وہ اُسے پڑھ رہا تھا۔ یہ دسمبر 1968کی بات ہے نمّو کلاس آٹھ کا طالبعلم تھا۔ کوئٹہ سے سردیوں کی چھٹیا ں گذارنے اپنی خالہ کے گھر میرپورخاص آیا ہوا تھا۔ 
یہ ایک چھوٹی سے ادبی بیٹھک تھی جس کے سربراہ   خالوتھے۔جو مغرب کا کھانا کھانے کے فوراً بعدچھت پر جمتی تھی جہاں بچوں کا داخلہ ممنوع تھا۔ نمّو خالو کو دوائیاں دینے اوپر گیا۔ دیکھا کہ چاروں بزرگ بیٹھے ہیں اور خالو ایک کتاب پڑھ رہے ہیں۔ خالو نے کتاب ایک دم  بوری کے نیچے چھپا لی جس پر وہ بیٹھے تھے ۔لیکن جلدی میں وہ پوری طرح نہ چھپ سکی ،سب نے مشکوک نظروں سے نمُوطرف دیکھا۔ نمُو نے خالو کو دوائیوں کی تھیلی دی اور بیٹھ گیا۔دوائیاں کھانے کے بعد اُنہوں نے تھیلی واپس کی اور  کہا ،
" شاباش جاؤ"۔
نمّو حیرت سے دنگ رہ گیا۔
نمّو   اِسی ادبی محفل میں صبح اخبار پڑھ کر سناتا تھا اوراب   بھگایا جا رہا ہے۔کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے ،  نمّو  ڈھیٹ بن  چھت کی منڈیر پر بیٹھ گیا ،اور  بولا،
" آپ لوگ ابنِ صفی پڑھ رہے ہیں نا ؟"
اُن چاروں کا منہ  ایسا کھلا ،جیسا   بچوں کا منہ  ،چینی چُرا کر کھانے پر ، امّی  کے ہاتھوں پکڑے جانے پر کھلتا تھا ۔
"میں بھی کہانی سنوں گا"
نمّو  بولا 
 آنکھوں ہی آنکھوں میں فیصلہ ہوا۔"
ٹھیک ہے لیکن تم نے اگر یہ بات، کہ ہم  چھت پر بیٹھ کر عمران سیریز پڑھتے ہیں ،  کسی کو بتائی تو پٹائی کروں گا" خالو بولے۔
 نمّو   اقرار میں سر ہلا کر اُس خفیہ ادبی محفل کا ایک لائف  ٹائم ممبر بن گیا۔  
خالو نے کتاب نکالی اور ، اٹک اٹک کر پڑھنا شروع کیا۔
”عمران نے کہا وہ چوہا کالا صفر میرا کیا بگاڑے گا میں اُسے چٹکی بجاتے بل سے باہر گھسیٹ لوں گا“۔
عمران کی یہ بڑھک،اپنے باس بلیک زیرو کے بارے میں سنتے ہی خوف سے جولیا، صفدر  اور جوزف کے منہ خوف سے کھل گئے“

 نمّو نے خالو سے کہا ، " خالو مجھے دیں میں پڑھتا ہوں "۔ 
خالو نے کتاب ، بلا کچھ کہے ، نمّو کے ہاتھ میں تھما دی ۔
جی ہاں یہ خفیہ ادبی محفل ابنِ صفی  کے جاسوسی ناول، عمران سیریز کے پڑھنے اور سننے والوں کی تھی۔ جو سرِ محفل پڑھنا ایک جرم سمجھا جاتا تھا۔ کتب فروشوں کے پاس پہلے سے چوّنی جمع کرادی جاتی تھی۔تاکہ ناول پہنچے ہے محبانِ عمران سیریز کو مل جائے ۔
 ابنِ صفی کے جاسوسی ناول کبھی ردّی کے ڈھیر پر نہیں پھیکے گئے۔خالو کی مقفل الماری میں عمران سیریز کا ایک خزانہ چھپا ہوا تھاہر ناول مجّلد تھا۔
عمران اور میجر آفریدی  مرحوم ابنِ صفی کے دو ایسے طلسماتی کردار تھے۔
جن میں وطن کی محبت، اخلاقی قدریں  اور فرض  کی پاسداری تھی-  جنہوں نے   نمّو کو  نہ صرف ایک علمی اور ادبی سمت دی۔ بلکہ مادر ِ وطن کی حفاظت کی خاطر ، نمّو ،  کو ایک ذہین، فطین اوروقت کی نزاکت کو پہچان کر کام کرنے والے سویلین کی بجائے ایک بے وقوف (ویسے تو اللہ نے سب کو ہی بے وقوف کہا ہے)، صراطِ مستقیم پر چلنے والا گویا لکیر کا فقیراورچڑی کا نہیں  بلکہ حکم کا گیارھواں پتا بنا کر  ایک  پابند ِ احکام فوجی بنا دیا ۔
     اکیڈمی میں پہلے دن جب نمّو نے اپنا سارا سامان سر پر اُٹھا کر پورے پریڈ گراونڈ کا چکر لگایا تو ذہن نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ  اکیڈمی میں افسربننے آیا ہے۔اُس پر مزید ستم یہ کہ بہتریں سوٹ زمین پر لوٹ پوٹ ہونے  کے بعد، پہننے کے قابل نہیں رہا۔  اکثر  مستقبل کے افسران نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر دوسال یہی  کچھ ہوتا رہا تو اِس سے بہتر ہے کہ واپس سویلین لائف میں جایا جائے۔جہاں راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔
یہاں تو ایسا لگتا تھا کہ سینئرز،میں کوئی ظالم بے چین روح حلول کر چکی ہے۔
خیر شام کو کھانے کے بعد، ایک سینئیر نے کیڈٹوں کوپُر جوش لیکچردیا جس کی وجہ سے ، واپس گھروں کو جانے والوں نے اپنے مصمم ارادے   تبدیل کر دئیے
بہر حال  اِس دو سالہ زندگی میں تخیلاتی ہیرو عمران اور آفریدی کی جگہ، حقیقی ہیروز کا مطالعہ شروع کیا۔ جن میں خالد ؓبن ولید، موسیٰ بن نصیر، صلاح الدین ایوبی، میک آرتھر، منٹگمری، رومیل،لارنس آف عریبیہ، ماتا ہری، سلطان ٹیپو شہید اور پاکستانی نشانِ حیدر، نجانے  کون کون سپاہیانہ  تاریخ کے انمٹ کردار تھے ، اِن میں سے جو جنگوں میں مارے گئے انہوں نے ہیرو ازم کی تکمیل کی، جو بچ گئے انہوں نے یااُن کے بعد والوں نے،
جنگوں میں مارے والوں کے واقعات عام آدمی کے لئے محّیرالعقول انداز میں قلمبند کئے۔
     اکیڈمی میں کم و بیش ہر کیڈٹ کے بستے پر
مختلف رنگوں میں پیرا ٹروپر یا  کمانڈو ونگ،  کی تصویرکے نیچے ، من جانبازم  یا  Heroes die young لکھا ہوتا تھا۔ کالج کے لابالی اور کھلنڈرے طالبعلموں کو، حکم کا گیارہواں پتا بنانے کے لئے، جس دھیمی رفتار سے سائیکو لاجیکل طریق کار اختیار کیا جاتا ہے۔ وہ فوجی زندگی کا صدیوں کا نچوڑ ہے۔
 سو گز دور ایک ٹارگٹ سے شرو ع ہونے والی چاند ماری اِس کی پہلی پیش رفت ہے۔ ہر فوجی کو یہ بتایا جاتاکہ تمھارے سامنے جو یہ ٹارگٹ ہے- اِس کے درمیان  چھ انچ قطر کے مرکز میں ہی گولیاں مارنے پر تمھاری کامیابی  ہے-
 مرکز سے جتنی زیادہ دور نشانہ لگے گا تمھاری کامیابی کے نتائج اُتنے ہی کم ہو جائیں گے۔ 
اپنی تما م حسّیات، توجہ  اور خیالات کو مرکز پر مرتکز کرنا ہے اور سانس روک کر جتنے اطمینان سے ہوسکے ٹریگر کو اتنی آہستہ سے دبانا ہے کہ انگلی کا مہین سا دباؤ اُس”لائن آف فائر“ کو خراب نہ کرے۔جس کے ایک سرے پر آپ اور دوسرے سرے پر ٹارگٹ کا مرکزہوتا ہے۔
یعنی”فوجی+اسباب+ٹارگٹ“ انِ تینوں کو ایک مناسب وقت میں ہم آہنگ ہوجائے  تو  مقصد حاصل ہوتا ہے -
آپ سب کا بہت بہت شکریہ 

 

ہفتہ، 3 اکتوبر، 2020

مُنّا بھائی ایم بی بی ایس!

دوستو آج جو واقعہ بیان کرنے جارہا ہوں یہ سوفیصد سچا اور میری آپ بیتی ہے۔ ہم نے انٹر پری میڈیکل سے کیا تھا۔ انسانیت کی خدمت کے جذبے سے دل سرشار تھا۔ بے صبری کا یہ عالم تھا کہ داخلے سے پہلے ہی میڈیکل کالج دیکھنے کا بڑا شوق تھا۔ ایک ڈاکٹر دوست سے فرمائش کی اور وہ ایک دن ہم کو سول ھسپتال سے متصل ڈاؤ میڈیکل کالج کا وزٹ کروانے لے گئے۔ 
پہلا دھچکہ تو سول ھسپتال کا پوسٹ مارٹم روم دیکھ کر لگا۔ دروازے کے ساتھ ہی برگد یا شاید گولر کا درخت لگا تھا جس سے چھن چھن کر سورج کی روشنی ایک عجیب تاثر پیدا کررہی تھی۔ کچے پکے فرش پر درخت کے زرد پتے بکھرے ہوئے تھے۔ ایک عجیب آسیبی اور نحوست زدہ ماحول تھا ۔
دروازہ کھلا ہوا تھا اور سامنے ہی ماربل کی سلیب پر کسی نوجوان پٹھان کی لاش آدھی ڈھکی آدھی کھلی پوسٹ مارٹم کے انتظار میں پڑی تھی۔ بمشکل تیئس چوبیس برس کا بھرپور صحت والا تنومند بھورے بالوں والا گورا چٹا قوی ھیکل نوجوان تھا جو شاید کسی ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں فوت ہوا تھا۔ اس کی ایک ٹانگ لاش پر پڑا کپڑا سرکنے کی وجہ سے کھلی ہوئ نظر آرہی تھی جس کی ران پر بڑے بڑے اودے رنگ کے گہرے نیل اور شدید رگڑ کے نشانات پڑے ہوئے تھے۔ اس کا چہرہ ڈھکا ہوا تھا لیکن سر کے بال نظر آرہے تھے۔ اس کی گوری رنگت دیکھ کر لگتا تھا کہ ابھی اسے کراچی میں وارد ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا اور کراچی کی تیز دھوپ اور محنت و مشقت کی بھٹی میں تپ کر اس کی سفید رنگت نے تانبے کی شکل اختیار نہیں کی تھی۔ نہ جانے کیسے کیسے ارمان اور خواب لے کر وہ کراچی آیا ہوگا لیکن اس وقت وہ ایک لاوارث لاش کی صورت میں سرد پتھریلی میز پر عبرت کی مثال بنا پڑا تھا۔
 ایک انسان کی یہ بے توقیری دیکھ کر شدید صدمہ ہوا کہ شاید چند گھنٹے پہلے یہ ایک جیتا جاگتا زندگی سے بھرپور انسان تھا۔ اس کے بعد جب ڈاکٹر صاحب ڈائسیکشن حال میں لے گئے تو ایک تو دروازے سے ہی وہاں کی شدید بدبو نے دل متلا دیا، ٹنکچر آئیوڈین اور سڑے گوشت کی ملی جلی بدبو۔ بڑے ھال نما کمرے میں سنگ مر مر کی ٹاپ والی 8 ٹیبلز کمرے کی دونوں سائڈوں سے لگی ہوئ تھیں جن کے درمیان کوئی چھ چھ فٹ کا فاصلہ تھا۔ ہر ٹیبل پر ایک عدد مردہ انسانی جسم پڑا تھا۔ لاشیں پرانی اور ان پر کیمیکل کی وجہ سے ہر لاش سیاہ پڑی ہوئ تھی۔ سب کے سینے سے لے کر پیٹ تک موٹے ڈورے سے بوریوں جیسے ٹانکے لگے ہوئے تھے جو پوسٹ مارٹم کے بعد لگائے جاتے ہیں۔ یہ سب وہ لاوارث لاشیں تھیں جن کا کوئ ولی وارث سامنے نہیں آتا اور ان کو چیر پھاڑ کے لئے میڈیکل کالج کے حوالے کردیا جاتا ہے۔
 کوئی لاش آدھی تھی یعنی اس کا صرف اوپری دھڑ تھا۔ ایک لاش کی کھوپڑی کا اوپری حصہ آدھے ناریل کی طرح کاٹ کر الگ کردیا گیا تھا اور اندر سے پیلا پیلا بھیجہ نظر آرہا تھا جس کو کچھ طلبا ایک چمٹی کی مدد سے کُرید رہے تھے۔ ہر ٹیبل پر موجود لاش پر دس بیس لڑکے لڑکیاں کاٹ پیٹ میں جٹے ہوئے تھے۔ کہیں سینہ کھول کر اس میں موجود رگ پٹھوں کا معائنہ ہورہا تھا تو کہیں ٹانگ ادھیڑی ہوئ تھی تو کہیں اوندھی پڑی لاش کی کمر کو کھول کر کمر کے مہروں اور ان سے نکلنے والے تار نما اعصاب کا ماخذ و اختتام ٹٹولا جارہا تھا۔ ۔
 جو لاشیں کچھ کم پرانی تھیں ان کی کھال کے نیچے سے پیپ نما مواد رِس رہا تھا۔ ایک مردے کی ٹانگ ران سے پنڈلی تک چیرا لگا کر کھول دی گئ تھی اور اس میں موجود اعصاب اور وریدوں نسوں کو بجلی کے تاروں کے گچھے کی طرح باہر نکال کر ان کے نام اور کام پوچھے اور بتائے جارہے تھے۔
 ایک نازک سی گوری چٹی خوبصورت طالبہ ایک لاش کا سینہ صندوق جیسا کھولے اس کے دل کو چیر رہی تھی جو اندر سے سرخ کے بجائے سیاہی مائل سفید نظر آرہا تھا کہ خون تو کب کا خشک ہوچکا تھا۔ اس لاش کا سر گنجا تھا لیکن سیاہ پڑی لاش کے سر پر سفید آدھا آدھا انچ کے بال نظر آرہے تھے۔ 
کہیں آنکھوں کے گیند نما کُرّے کو حلقوں سے باہر نکال کر دماغ کو جانے والی نسوں اور اعصاب کا معائنہ کیا جارہا تھا۔ سب نے ھاتھوں پر سرجیکل گلووز اور ناک پر ماسک چڑھایا ہوا تھا۔ لیکن وہ سب ڈائسیکشن ھال کی بدبو کے عادی لگتے تھے کیونکہ سارے کے سارے اس کام کے دوران ھنس بول بھی رہے تھے۔ 
اسی دوران ڈاکٹر صاحب کی شناسا ایک طالبہ نے سلام دعا اور خیر خیریت بھی پوچھی اور کینٹین میں چائے پینے کی دعوت بھی دی۔ 
 دوسری طرف ہمارا چہرہ فق اور بولتی بند تھی۔ دماغ ماؤف ہوچکا تھا۔ ہم ابھی تک خود کو یہ یقین دلانے کی کوشش کررہے تھے کہ جو کچھ ہماری نظروں کے سامنے ہے وہ ایک ڈراونا خواب ہے یا ہم بقائم سلامت ہوش و حواس ایسی جگہ موجود ہیں۔
 یقین نہیں آرہا تھا کہ چند گز کے فاصلے پر ان دو تین دیواروں کے پیچھے کراچی کا مشہور ایم اے جناح روڈ ، ڈینسو ھال اور جامع کلاتھ مارکیٹ موجود ہے جہاں زندگی اپنی پوری رعنائی کے ساتھ رواں دواں ہے۔ 
کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ جس عید گاہ اور جامع کلاتھ کے ٹھیلوں اور ریسٹورنٹس میں لوگ چنا چاٹ، دہی بھلے اور نان حلیم سے لطف اندوز ہورہے ہیں- ان سے صرف ذرا سی دوری پر تین دیواروں کی آڑ میں، ان ہی جیسے انسان گلے سڑے پڑے ہیں اور ان کے جسم چھیلے اور چیرے پھاڑے جارہے ہیں۔
 
ھال کی ایک دیوار کے ساتھ کوئی چھ فٹ لمبے اور دو فٹ چوڑے لکڑی کے لمبے پیٹی نما ڈبے رکھے ہوئے تھے جن میں لاشوں کا کچرا ڈالا جارہا تھا۔ جیسے کے کھوپڑی کا آدھا اوپری حصہ، کھال اتری ہوئ ادھڑی ہوئی آدھی ٹانگ، بازو پنجے۔ جیسے قصاب کی دکان پر کچرے کے ڈبے میں ھڈیاں چھیچھڑے اور سینگ کھُر وغیرہ پڑے ہوتے ہیں۔ یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کبھی ہماری طرح جیتے جاگتے انسان تھے۔ لیکن ان کا نصیب کہ ان کو قبر تک نصیب نہ ہوسکی تھی۔ شاید اس کچرے کو کسی گڑھے میں دفن کردیا جاتا ہوگا یا ھسپتال کے دوسرے فضلے کے ساتھ بھٹی( incinerator ) میں جلا دیا جاتا ہوگا۔
یہ سب دیکھ کر دل کی حالت بے انتہا خراب ہوگئی۔ اگر آپ نے سنجے دت کی فلم منّا بھائی ایم بی بی ایس دیکھی ہو اور میڈیکل کالج کے ڈائسیکشن ھال میں جو حال منا بھائی کا ہوا تھا بالکل وہی کیفیت ہماری تھی۔ 
 
 زندگی کی بے ثباتی اور انسان کی اوقات کا شدت سے احساس ہوا، مزید جائزے کا پروگرام یکسر ترک کر کے بمشکل اپنی متلی روکتے ہوئے باہر نکلے ورنہ شاید غش کھا کر گر پڑتے۔ 
اس کے بعد مزید ستم یہ دیکھئے کہ ڈاکٹر صاحب ہم کو کالج کی کینٹین میں خاطر مدارات کے لئے لے گئے۔ 
چائے اور پیٹیس منگوائے۔ مگر توبہ کیجئے۔ میری تو متلی اور صدمے کی کیفیت انتہائی شدید تھی۔ اس وقت تو کچھ کھانے پینے کے تصور سے بھی وحشت ہورہی تھی۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ جب میرا یہ حال ہوا ہے تو جو نئے نئے طلبا و طالبات پہلی مرتبہ ڈائسیکشن کے لئے آتے ہیں ان کا کیا حال ہوتا ہوگا؟ 
ڈاکٹر صاحب قہقہہ مار کر لاپرواہی سے بولے،
" ہاں یہاں نئے طلبا و طالبات کے ساتھ یہ ہوتا رہتا ہے۔ کچھ تو غش کھا کر چکرا کر گر بھی پڑتے ہیں لیکن پھر جب ہر دن یہی کام کرنے کے لئے آنا پڑتا ہے تو رفتہ رفتہ سب عادی ہوجاتے ہیں۔"
ڈاکٹر صاحب کو کچر کچر پیٹس چباتے اور چائے کے گھونٹ لیتے دیکھ کر حیرت ہورہی تھی کہ یہ کس طرح یہ سب کھا پی رہے ہیں؟
صرف ڈاکٹر صاحب ہی نہیں ڈائسیکشن سے فارغ ہوکر آنے والے لڑکے لڑکیاں بھی سنیکس اور چائے سے محظوظ ہورہے تھے۔ 
لیکن میری تو جیسے دنیا اندھیر ہوچکی تھی۔ہر کام ہر چیز بے معنی اور بے وقعت نظر آرہی تھی۔ زندگی اور زندہ رہنے کا مقصد ایک حماقت محسوس ہورہا تھا۔ 
دل چاہتا تھا کہ اسی وقت مکے مدینے نکل جاؤں اور بس وہیں کسی سجدے میں موت آجائے۔ جیسے تیسے گھر پہنچے اور راستے میں نظر آنے والے ہر دوڑتے بھاگتے زندگی کی مصروفیات میں مصروف انسان کو دیکھ کر یہی احساس ہورہا تھا کہ ان نادانوں کو زندگی کی اوقات کا پتہ ہی نہیں ہے۔ 
ھائی کورٹ کے باہر کالے کوٹ اور ٹائی والے وکیلوں کو دیکھ کر ایک طنزیہ مسکراہٹ میرے چہرے پر آگئی کہ یہ بدبخت خواہ مخواہ اپنی زندگی ان فضولیات میں ضائع کررہے ہیں۔ 
انسان کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ 
یہ قیمتی لباس، خوشبوئیں، لگژریز اور عیاشیاں۔ 
یقین کیجئے کہ اگر عام عوام ہر ماہ ایک چکر میڈیکل کالج کے ڈائسیکشن ھال یا ایدھی کے مردہ خانے کا لگا لے تو گناہوں سے تائب ہو جائیں۔ 
دو تین دن تک کچھ کھانے کو دل نہ کرتا تھا۔ کھانا دیکھ کر معدے میں اینٹھن ہونے لگتی تھی۔ اس کے بعد ہم نے ڈاکٹر بننے کا ارادہ یکسر ترک کردیا اور MBA کی طرف چلے گئے۔😥😥۔ شاید اگر میں میڈیکل کالج میں ایڈمیشن سے پہلے یہ سب کچھ نہ دیکھتا اور ایڈمیشن کے بعد جب یہ سب سر پر پڑتا تو کر گزرتا لیکن یہ سب کچھ ایڈمیشن سے پہلے دیکھنے کے بعد میری تو قطعی تاب نہ تھی کہ دوبارہ اس ھال میں قدم بھی رکھوں۔
لیکن اس دن کے بعد سے میرے دل میں میڈیکل کے پیشے سے وابستہ افراد کی عزت مزید بڑھ گئ کیونکہ واقعی ڈاکٹر بننا بڑا دل گردے کا کام ہے۔
تحریر
03/10/2020

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔