Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
بیداری فکر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
بیداری فکر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 18 فروری، 2024

ملت ابراھیم حنیف پراجیکٹس

بوڑھے کے اِس نئے سوشل ورک کی طرف ، گوادر، تربت،مانسہرہ اور نوشہرہ میں کسی نے پذیرائی نہیں کی۔ میرپورخاص کے رہنے والے ایک نوجوان، علی منور نے جو میرے محلے سیٹلائیٹ ٹاؤن    میں ٹیلرنگ کا کام کرتا ہے اور ریڈیو کا آر جے بھی سوشل ورک میں کافی ایکٹو بھی ، اُس سے    ، بے وسیلہ خواتین اور بچیوں کو ٹیلرنگ کا کام سکھا کراُن کی مالی سپورٹ سے متعلق  رائے پوچھی۔
 اُس نے جواب دیا بہترین کام ہے لیکن اُن کے وسائل نہیں کہ وہ سلائی مشین خرید سکیں ۔اگر اُن کو سلائی مشین خرید کر دی جائے تو پھر اُن کی مدد ہو جائے ۔ 
بوڑھے نے پوچھا ۔ نئی سلائی مشین کی کیا قیمت ہے ۔ 
اُس نے کہا ، پرانی سلائی مشینوں سے بھی اُن کا کام چل سکتا ہے ۔ اگر اُن میں نئے پرزے ڈلوادئے جائیں ۔
  بڑھیا سے مشورہ  لیا اُس نے قبول کر لیا ۔ 

جنوری میں قران فہم مکتب کے ، ملت ابراہیم حنیف گروپ کے دوست میرے گھر پر اکٹھے ہوئے ۔ نوجوان سلیمان ایسے نظام کا دلدادہ تھا جو  علامہ پرویز احمد کے نظام  (سوشل کمیونسٹ) سے مطابقت رکھتا تھا ۔ جس  کے فلسفے سے میں متفق نہیں ۔

بوڑھے کو  علم تھا کہ علی ابراہیم کا ایک بھائی ٹیلرنگ کا کام کرتا ہے ۔ میں نے اُس کو  علی منور کا آئیڈیاپیش کیا ، اُس نے بتایا کہ اُس کی چھوٹی بہن بھی سلائی کرتی ہے وہ عورتوں اور لڑکیوں کو ٹریننگ دے سکتی ہے ۔ اور اُس کے گھر میں ایک کمرہ خالی بھی ہے وہاں یہ کام کیا جاسکتا ہے ۔ بوڑھے نے کہا الحمد للہ ۔

 بوڑھے نے علی  ابراہیم سے معلومات لیں ۔ 

ایک ٹیلر ، دن میں کتنے لباس تیار کر سکتا ہے ؟

کام پر منحصر، ایک دن میں 5 لباس اور اگر کام کم ہو تو 2 لباس ایک ٹیلر تیار کرسکتا ہے ۔ ہاتھ کی مشین میں یہ کم ہو جاتے ہیں ۔  1000 روپے  فی سوٹ لیا جاتا ہے ۔  270 روپےکل خرچ آتا ہے  ۔ اگر سینے والے کو 300 روپے دیا جائے تو 430 روپے منافع بنتا ہے ۔جس میں لازمی اخراجات  نکالنے کے باوجود مزید   بچت ہو سکتی ہے ۔یوں مشین اپنی قیمت خود ادا کر سکتی ۔ اور اُس قیمت سے ایک مشین اور خریدی جا سکتی ہے یا اگر بجلی ہو تو بجلی کی موٹر  تربیت یافتہ  خواتین کو دی جاسکتی ہے یوں سلائی کی رفتار تیز ہوجائے گی اور اضافی سوٹ سے بجلی کا خرچہ نکالا جاسکتا ہے ۔ اگر ایک گھر میں تین سلائی مشینیں ہوں تو اُس گھر کی ماہانہ آمدنی  بڑھ سکتی ہے ۔

 چنانچہ یہ چارٹر بنایا گیا ۔

 

بوڑھے  کی ایک کمپنی کی رقم  کے مبلغ  84 ہزار روپے ایک بنک کے کرنٹ  اکاونٹ میں  2011 سے پڑے تھے ، جن کے لئے  بنک اکاونٹ ایکٹو کروا کر نکلوانے تھے ، وہ بوڑھے نے ملت ابراہیم حنیف پراجیکٹ کو دینے کا ارادہ ظاہر کیا ۔ جب بنک جا کر اکاونٹ ایکٹو کرواناچاہا تو معلوم ہو کہ وہ بوڑھے اور اُس کے بڑے بیٹے کا جائینٹ اکاونٹ ہے اور وہ بڑی عید پر اپنے بچوں کے ساتھ آئے گا ۔

  30 جنوری 2024 کو بڑھیا شدید بیمار ہوگئی، چلنے سے قاصر ، درد ریح نے بے حال کردیا ۔ بوڑھے نے یکم فروری کوائر جناح سے  کوئیٹہ جانا تھا ، 31 تاریخ  کو وہ 12 فروری کی تاریخ   کروائی۔ شعبان کا مہینہ، لگنے والا تھا ، بوڑھے کو خیال آیا  کہ سلائی کا کام عید کی وجہ سے زیادہ ہوجائے گا لہذا پراجیکٹ کو شروع کردینا چاھئیے ،

  9 فروری کو علی ابراہیم سے بات ہوئی اور اُسے  تین نئی مشینیں خریدے کے لئے  کہا ۔11 فروری کو  اُس کا بھائی اسرار   مشین محلہ راجہ بازار  گیا  ۔وہاں اُس کی ملاقات، وقار سے ہوئی ۔ جس نے کل مشینیں دینے کاوعدہ کیا۔ اور 12 تاریخ کو بوڑھا ، کوئٹہ جا پہنچا ۔

٭٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭٭



 

 

جمعرات، 9 نومبر، 2023

بوڑھے کا ایک اور سوشل ورک

بوڑھا ، بڑھیا کے ساتھ گھر سے فلیٹ میں شفٹ ہوا ،  گھریلو ملازم ، تنخواہ ، کھانا ،  رہائش  ،صابن تولیہ ، ٹوتھ برش و پیسٹ مُفت    ہر مہینے تین دن کی چھٹی ، کی  وجہ سے سکون سے رہنے لگا ۔ 6 اگست تا 11 اگست گوادر میں گذارنے کے بعد  بوڑھا واپس آیا ۔ کیوں کہ بیٹے کے اگلے رینک میں پروموشن کو یادگار بنانے کے لئے 8 اگست 2013 کی تاریخ منتخب کی جو اُس کی ماما یعنی بڑھیا کی پیدائش کا دن تھا ۔
تو بڑھیا نے بتایا کہ ملازم  تنخواہ کی کمی  کی وجہ   کڑکڑانا   شروع ہو گیا ہے۔
 جس کی مہینے میں تین دن چھٹیوں اور مزید اضافے کی وجہ سے بڑھیا اور بوڑھے کو کچن کا اضافی  کام کرنا پڑتا ۔ یہاں تک کہ تیسرے ماہ  یعنی ستمبر میں بڑھیا کے علیل ہوجانے کے بعد  کام کا بوجھ مکمل بوڑھے کے کندھوں پر پڑ گیا ۔ تو بوڑھے کو سنت یاد آئی مگر اب پل کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا تھا ، فرض نبھانا مشکل لگتا تھا ۔تو بوڑھے   کو خیال آیا اور یہ خیال اپنے کورس میٹ قاضی فواد کے گھر آیا ،جہاں امریکہ پلٹ میاں اور بیوی ڈالروں سے گلچھرے اُڑانے کے باوجود ،  گھر میں ملازم افورڈ نہیں کرسکتے ، وجہ اُس کی تنخواہ نہیں بلکہ  خواہ مخواہ  دو افراد کے لئے  ماھانہ اضافی اخراجات جو  بلا مبالغہ 35 ہزار روپے سے زیادہ بن جاتے ہیں ۔
بوڑھے  نے حساب لگایا تو احساس ہوا کہ بوڑھا اور بڑھیا دن کا کھانا کھائیں یا نہ کھائیں ۔ ہر دو دن بعد کھانا بنانا پڑتا ہے ۔ مہمان آئیں تو سیور ، فاسٹ فوڈ یا گاف کلب سے کھانا ۔  ملازم جب چھٹی جاتا تو دو دن کے بجائے کھانا  تین سے چار دن چلتا کیوں کی دو مہینے  بعد، ایک سے تین دن لیٹ آنا ، نوجوان نے اپنی طرفسے والد کی فالج کی بیماری کی وجہ سے کر لیا ۔ یہاں تک کہ اکتوبر میں اُس نے پورا ایک ہفتہ اپنے علیل والد کی خدمت میں گذارا، یو ں بوڑھا اور بڑھیا گھر میں کھانے سے بے نیاز ہوگئے ۔ فروٹ چاٹ ، جسے دیگر  چیزوں    پر توجہ دی اور سب سے بہتر کہ روزانہ گھر کی صفائی کے لئے آنے والی ملازمہ کو اضافی رقم دے کر بڑھیا نے کچن کا اضافی کام جیسے پیاز، لہسن ، سبزی وغیرہ کاٹنے پر رکھ لیا ۔ نوجوان جب واپس آیا تو اُس نے اپنی مجبوری کی وجہ سے معذرت کر لی ، کیوں کہ اُس کا والد مزید علیل ہو چکا تھا ۔ تو بوڑھے نے شکریہ  کے ساتھ نصف تنخواہ دے کر اُسے رخصت کر دیا ۔
اب کیا کیا جائے ، بڑھیا کا خیا ل تھا ، کہ اُسے ملازم کی ضرورت نہیں ، دونوں بیٹیوں کا خیال تھا کہ ملازم لازمی رکھیں ۔ بوڑھے نے سوچا کیوں نہ عمران جو بوڑھے  کے پاس 2017 میں 17 سال کا آیا تھا اور بہترین گھریلو ملازم بن کر 2019 میں فوج میں بطور  این سی بی ملازم ہو گیا ۔
لیکن بڑھیا نے صاف انکار کر دیا کہ اُس میں ہمت نہیں کہ وہ ملازم کو کھانے پکانے کی تربیت دے ۔ چنانچہ بوڑھے نے اک نئے سوشل ورک کی طرف سوچنا شروع کر دیا ۔ 
 جس کے لئے گوادر کے ایک استاد  قاری حنیف  سے رابطہ کیا جو اُس نے  منظور کر دیا وہ یہ کہ گوادر کے  ایک یتیم بچے کو بوڑھا ، اپنے گھر میں رکھ کر اُسے تربیت دے  ۔ جس کے لئے بڑھیا کی یہ شرط تھی کہ وہ  حفاظ ہو ہا کم از کم ناظرہ القرآن پڑھ چکا ہو ۔ 
لیکن قاری صاحب کی تلاش بسیار کے باوجود کو ئی بلوچی  یتیم بچہ گوادر  تا  تربت  نہ ملا ۔ 
چنانچہ اِس پروگرام میں مزید وسعت دینے کے لئے ۔ ملت ابراھیم حنیف پراجیکٹس کا آغاز کیا ۔
بوڑھے کو یہاں بھی ناکامی ہوئی ۔لہذا اِس پراجیکٹ کو دوسری سمت لے جانے کی کوشش  کرنے کا  پروگرام بنایا ۔
٭٭٭٭واپس ٭٭٭٭٭


منگل، 5 اپریل، 2022

نمّو اور خدمت خلق

 نمّو  میں  خدمت خلق کا جذبہ ،1957 سے  اُس کی والدہ اور والد کا پیدا کردہ ہے ۔ جو  اُس میں متفقین کوایک رسالہ " ترجمان القرآن" پہنچانے کی ذمہ داری کے سبب بنا ۔ نّمّو کو اچھی طرح یاد ہے کہ اُس کے ابا نے اُسے ایک میرون رنگ کا کوٹ  ٹیلر چاچا سے سلوا کر دیا ، جو نوشہرہ کی  سردیوں میں دن رات پہنا کرتا تھا ۔ ابا،   ہر اتوار کو اُسے  اور آپا کو شہر میں حکیم صاحب کے مطب سائیکل پر  لے جایا کرتے تھے ۔ آپا حکیم صاحب  کے گھر جاکر اُن کی بیٹیوں اور خالہ سے کھیلتی ، نمّو  مطب کی  بنچ پر بیٹھا  دواؤں کی خوشبو سونگھتا  یا بہاار سڑک پر گذرنے والے  ٹانگوں اور سواریوں کو دیکھتا ، ابا اور حکیم صاحب آپس میں گفتگو کرتے ، دوپہر کے وقت نمّو  کو کھانا کھانے کے لئے اوپر بھیجا جاتا جہاں وہ حکیم صاحب کے دو بچیوں  اور آپ کے ساتھ ایک رکابی میں ملکہ مسور اور  سوندھی چپاتیوں  سے کھانا کھاتا   اور نیچے آجاتا ، آتے وقت اخبار میں لپیٹ کرابا  ایک رسالہ لاتے ۔ 

پھر 1958 میں مارشل لاء لگنے کے بعد رسالہ چھپنا بند ہوگیا ۔ نومبر میں چھوٹی بہن رانی  پیدا ہوئی۔ تو نمّو،  چپاتی سکیم کی طرح رسالہ سکیم میں شامل ہو گیا ۔ آپا اور اور نمّو پیدل گھر سے نکلتے  لال کرتی سے گذرتے ، کسی کراس کرتے  جاتے ، بازار میں حکیم صاحب کے مطب پہنچتے ۔ آپا اوپر گھر چلی جاتی پھر ہم دونوں بہن اور بھائی  ملکہ مسور سوندھی چپاتیوں کے ساتھ کھاتے اور پھر حکیم صاحب نمو کے کوٹ کی پیٹھ پر اندر کی طرف امی کی بنائی ہوئی جیب میں ایک رسالہ سلیقے سے رکھتے    نمّوواپس کوٹ پہنتا اور آپا کے ساتھ گھر واپس آجاتا ۔پھر یہ رسالہ نمّو دوسرے چچاؤں کو پہنچاتا اور پڑھنے کے بعد واپس  کوٹ کی جیب میں رکھ کر لے آتا ۔

نمّو کے فہم کے مطابق ، ملت ابراھیم حنیف پراجیکٹ اُس کی امی نے رکھی وہ ساتھ کواٹروں میں رہنے والی ایک خالہ کو کپڑے سینا سکھایا کرتی تھیں ۔ نمّو کی امی  اپنی سنگر مشین سے سلائی ، کروشیا سے خوبصورت ڈیزائن بنانا ، چارسوتی کپڑے پر ڈی ایم سی دھاگے سے پھول بنانا ۔ اون سے سوئیٹر بنانا ۔ کھانے کی کئی چیزوں اور مٹھائیاں بنانے میں  مہارت  رکھتیں ۔اور ہاں نمّو بھی آہستہ آہستہ اِن سب کاموں کا سن سن کر  اور دیکھ ماہر ہوتا گیا ۔
امی نے جب تک عینک نہیں لگی ۔ بہت سی خواتین کو سلائی کڑھائی سکھائی ۔ اُن کے یہ پراجیکٹ نمّو کے تحت الشعور میں بیٹھتے گئے ۔ یہی وجہ ہے کہ نمّو ہر وہ کام کر سکتا ہے ۔ جو دوسرا انسان کر سکتا ہے ۔ چنانچہ نمّو نے YES  کی بنیاد رکھی ۔

 جس کے تحت ، نمّو نے نوجوانوں کے روزگار ۔ تعلیم اور ماحول کو بہتر بنانے کے پروگرام شروع کئے ۔

 یہ سب نمّو نے اپنے اور واجب ہونے والے  خمس  سے کئے جو وہ بلاوقفہ اپنی آسان کمائی(  غنم) یعنی پنشن و متفرقات سے نکالتا  رہتا ہے۔ 

  وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّهِ وَمَا أَنزَلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ[8:41] ‎ 

بوڑھے کے نزدیک خرگوشوں کے وفات پانے سے پروگرام فیل نہیں ہوا بلکہ بوڑھے کو یہ فہم دے گیا کہ کے اشیائے خوردنی کے تمام پراجیکٹس ہر نوجوان نہیں کر سکتا سوائے شوق رکھنے والوں کے ۔ 

قرآن فہمی کے کئی دوستوں سے بوڑھے کا رابطہ ہے جو ، پاکستان کو ریاستِ مدینہ بنانے کے خواب دکھاتے ہیں ، جن کی ابتداء غلام احمد پرویز نے کی ۔ ریاستِ مدینہ کی کشید ملائیت نے ایرانی کُتب لکھنے والوں نے کی - اور اُس کا نشہ اتنا تیز بہدف بنایا کی نوجوان ذہن بھی مسموم ہو گیا ۔یوں غریب غریب تر ہوتے گئے اور ملائیت امیر تر ۔

 ضَرَبَ اللّهُ مَثَلاً عَبْدًا مَّمْلُوكًا لاَّ يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ وَمَن رَّزَقْنَاهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ يُنفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَجَهْرًا هَلْ يَسْتَوُونَ الْحَمْدُ لِلّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ [16:75]

 یوں    اب بھی          کاسہ ءِ گدائی لے کر پھرنے والا  عبد مملوک ہے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

٭ -  گھریلو ملازمین برائے فوجی افسراں 

بوڑھے نے  ایسے کئی پراجیکٹ شروع کئے۔جن میں،   

  چوزہ بانی/مرغ بانی  ۔

باغبان اور کسان ۔

  مقامی خرگوش پالنے کا تربیتی پروگرام تھا ۔  

لیکن اُس سے پہلے مستری بابا مشہور ہوا ۔

 ٭٭٭٭٭٭ ٭٭٭٭٭٭

٭۔ بوڑھے کا ایک اور سوشل ورک  ۔

٭۔ملت ابراہیم پراجیکٹس

٭۔ سلائی مشینوں کی خریداری 

 ٭۔گوادر اور قاری حنیف مکرانی بلوچ

جمعہ، 21 جنوری، 2022

لا رسول ولا نبي بعد محمد رسول الله وخاتم النبيين

  ! اُفق کے بار بسنے والے ، نیک دل  دوستو 

مضمون کا ٹائٹل یقیناً آپ کو چونکا دینے والا ہوگا ۔ وٹس ایپ کی  دیگر مساجد للہ کی طرح  ایک مسجد حریّتِ افکار پر  فجر کے وقت کل کی ایک پوسٹ پڑھی ۔ جس میں ایک نوجوان محمد بندھانی نے اپنا فہم پوسٹ کیا :۔   

نیک دل انسان ، کائینات کے خالق کے، کُن کے اَمرکی لہریں، کائینات میں روزِ اوّل سے گردش کر رہی ہیں- جو انسانی فہم کائینات میں موجود ، کُن سے تخلیق ہونے والی آیات کے متعلق بناتی ہیں ۔ آیات محکمات ہیں اور حواسِ خمسہ سے بننے والے انسانی ذہن میں مفہوم متشھابھات۔ 

 آپ کے فہم کو تقویت دینے کے لئے خَاتَمَ النَّبِيِّينَ نے اللہ کا یہ حکم پھیلایا :

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ [22:52]

لہذا ۔   بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سے مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ تک القرآن عربی کے الفاظ  جو حفّاظ  کے دماغ  (صدر) میں محفوظ ہیں ، خَاتَمَ النَّبِيِّينَ سے لے کر اب تک کسی  الشَّيْطَانُ کا القاء نہیں ۔

   بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سے مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ سے باہر کیا ہیں ؟
وہ سب انسانی مفہوم ہیں جو القرآن کی عربی آیات سے پھیلے ، میرے فہم کے مطابق  ، " لا نبی بعدی " کا فہم ہے ۔
لیکن مجھے حیرانگی ہوتی ہے کہ "  لَا رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ مِن بَعْدِي " کا فہم کیوں  نہیں پھیلایا گیا ؟؟
شائد  ایک چور دروازہ ، ماہرین لَغویات نے اپنے لئے کُھلا رکھنا تھا۔

وہ چور دوازہ کھولنے کا واحد راستہ ۔
رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ۔ مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ القرآن کے پہلے حافظ کو درمیان سے ہٹا کر ، إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ کا خَاتَمَ النَّبِيِّينَ کو دیا گیا حکم، تمام
لَغویات   کے ماہر : اپنی طرف اللہ کا اشارہ لیتے ہیں ۔ القرآن کی ایک  آیت سے اپنا فہم بنا کر نکالتے ہیں ۔

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ فَيُضِلُّ اللّهُ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [14:4]
اور اپنے سامنے بیٹھے ہوئے ، سننے یا پڑھنے والے بشر کو قائل کرنے کے لئے، بشیر بنتے ہوئے،  یہ آیت پیش کرتے ہیں۔
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ  [42:51]

! اُفق کے بار بسنے والے ، نیک دل  دوستو  

 یہ فہم اپنے دماغ میں پختہ (سدید) کر لیں کہ  
" لا رسول ولا نبي بعد محمد  رسول الله وخاتم النبيين  "

لہذا ،
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سے مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ  تک عربی کے الفاظ کے علاوہ سارے اعمال و افعال انسانی فہم کا نتیجہ ہیں کو ایک انسان اپنے نفس کو فجور اور تقوا کے ذہنی اوزان کو أفلح (محکمات) یا  خاب (متشابھات ) کے اوزان سے متوازن رکھنے کے لئے ، بناتا ہے ۔

اُفق کے بار رہنے والے  دوستو ، یہ میرا فہم ہے جو میں آپ سے شیئر کرتا ہوں ۔
آپ بھی اللہ کے انسان کے لئے امر ، جو
خَاتَمَ النَّبِيِّينَکے نشریاتی رابطے سے انسان کے لئے کائینات میں پھیل رہا ہے اور رہتا رہے گا کو بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سے مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ  کے درمیان ٹیون کرکے کے ، اِسی کے درمیان رہتے ہوئے ،
 آپ کے اردگرد پھیلی ہوئی کائینات( جس کا مرکز آپ ہیں ) سے اپنا فہم اخذ کریں ، عمل کریں اور افعال ہو ہوبہو شیئر کریں
اللہ ہم سب کو شیطانی  نشریاتی رابطے سے محفوظ رکھے ، آمین ثم آمین شکریہ

 

٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔