Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 6 فروری، 2026

ڈگریوں کا قبرستان

ذہانت کا جلاوطن: سر کین رابنسن کے افکار اور ہماری تعلیمی فیکٹریاں 
​سر کین رابنسن (Sir Ken Robinson) کی شہرہ آفاق گفتگو صرف ایک تقریر نہیں بلکہ ہمارے بوسیدہ تعلیمی ڈھانچے کے تابوت میں آخری کیل ہے۔ پچھلی گفتگو کے تسلسل میں، ہم (بطور اساتذہ اور والدین) اس دیسی پوسٹ مارٹم کو مزید آگے بڑھاتے ہیں، کیونکہ مرض صرف پرانا نہیں، اب یہ ناسور بن چکا ہے۔
1. مضامین کی "ذات پات" کا نظام اور "سائنسی بھوت"
​رابنسن بڑی خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں کہ دنیا کے ہر تعلیمی نظام میں مضامین کی ایک ہی درجہ بندی یعنی "ہائیرارکی آف سبجیکٹس" (Hierarchy of Subjects) پائی جاتی ہے۔ سب سے اوپر ریاضی اور زبانیں، اس کے بعد انسانیات یعنی "ہیومینٹیز" (Humanities) اور سب سے نچلے درجے پر فنونِ لطیفہ۔
​ہمارے دیسی سیاق و سباق میں یہ درجہ بندی ذات پات کے نظام سے زیادہ سخت ہے۔ اگر کوئی بچہ ریاضی میں کمزور ہے تو ہم اسے "کند ذہن" کا لیبل لگا کر کسی کونے میں بٹھا دیتے ہیں۔ ہم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ رقص، ڈرامہ یا مصوری بھی اتنی ہی اہم ہو سکتی ہے جتنی کہ ریاضی۔ ہمارے ہاں آرٹس پڑھنے والے کو ایسے دیکھا جاتا ہے جیسے وہ کسی سنگین جرم کا ارتکاب کر رہا ہو یا مستقبل میں بے روزگاری کے لیے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کر رہا ہو۔ ہم میں سے اکثر اساتذہ جانتے ہیں کہ ہم بچوں کے ادھورے وجود کو پروان چڑھا رہے ہیں؛ ہم انہیں ریاضی کے سوال حل کرنا تو سکھاتے ہیں، مگر زندگی کی پہیلیوں کو حل کرنے کے لیے جس "ڈائیورجنٹ تھنکنگ" (Divergent Thinking) کی ضرورت ہے، اسے نصاب سے خارج کر چکے ہیں۔
2. شیکسپیئر، غالب اور ریاضی کی کلاس کا المیہ
​رابنسن ایک بڑا دلچسپ سوال اٹھاتے ہیں: "کیا آپ کو لگتا ہے کہ شیکسپیئر کبھی بچہ تھا؟" ظاہر ہے وہ تھا، اور شاید کسی انگریزی کی کلاس میں بیٹھا بور بھی ہو رہا ہوگا۔
​ذرا تصور کریں، ہمارے کلاس روم میں ایک ننھا "غالب" بیٹھا ہو اور استاد صاحب اسے الجبرا کے فارمولے رٹا رہے ہوں۔ اگر وہ بچہ کھڑکی سے باہر دیکھ کر کوئی شعر گنگنانے لگے تو اس کی وہ درگت بنے گی کہ شاعری تو دور، وہ عام بات کرنے سے بھی جائے گا۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر بچہ پیدائشی فنکار ہوتا ہے؛ مشکل یہ ہے کہ بڑا ہو کر فنکار کیسے رہا جائے۔ جیسا کہ پکاسو نے کہا تھا، ہم بڑے ہو کر تخلیق کار نہیں بنتے، بلکہ ہم "تخلیق سے باہر" (Grow out of creativity) ہو جاتے ہیں—یا زیادہ درست الفاظ میں، ہمیں تعلیم کے ذریعے تخلیق سے باہر کر دیا جاتا ہے۔
4. تین طرح کی ذہانت اور ہمارا "یک دِماغی" نظام
​سر کین رابنسن کے مطابق انسانی ذہانت تین طرح کی ہوتی ہے، اور بدقسمتی سے ہمارا نظام ان تینوں کا منکر ہے:
​ذہانت متنوع ہے (Diverse): ہم دنیا کا تجربہ اپنی تمام حسیات سے کرتے ہیں، صرف نصابی کتابوں سے نہیں۔ لیکن اسکولوں میں ہم بچوں کو ایسے سدھاتے ہیں جیسے وہ صرف "منطقی تجزیے" (Logical Reasoning) کی مشینیں ہوں۔
​ذہانت متحرک ہے (Dynamic): انسانی دماغ خانوں میں بٹا ہوا نہیں ہے۔ تخلیقی عمل اکثر غیر متوقع رابطوں سے جنم لیتا ہے۔ لیکن ہمارا نظام مضامین کو الگ الگ "سیلوز" (Silos) میں پڑھاتا ہے، جہاں طبیعات کا کیمیا سے اور کیمیا کا زندگی سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔
​ذہانت منفرد ہے (Distinct): ہر بچے کا ٹیلنٹ الگ ہے۔ جب ہم سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہیں اور ایک ہی پیمانے (گریڈز) پر پرکھتے ہیں، تو ہم بہت سے ہونہار بچوں کو یہ یقین دلا دیتے ہیں کہ وہ نالائق ہیں، صرف اس لیے کہ وہ ہمارے بنائے ہوئے تنگ سانچے میں فٹ نہیں آتے۔
5. تعلیمی افراطِ زر (Academic Inflation) اور ڈگریوں کا سراب
​رابنسن کا ایک اور اہم نکتہ "اکیڈمک انفلیشن" (Academic Inflation) ہے۔ گزشتہ صدی میں جو نوکری بی اے (BA) کی بنیاد پر مل جاتی تھی، آج اس کے لیے ایم اے (MA) یا پی ایچ ڈی (PhD) مانگا جا رہا ہے۔
​ہم نے تعلیم کو ایک بازار بنا دیا ہے جہاں ڈگری کی قدر کرنسی کی طرح گر رہی ہے۔ نتیجہ؟ ہم ایسے نوجوانوں کی فوج تیار کر رہے ہیں جو 30 سال کی عمر تک یونیورسٹیوں کی خاک چھانتے ہیں، ڈگریوں کے انبار لگاتے ہیں، اور پھر جب عملی زندگی میں آتے ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کا وہ "کاغذی علم" حقیقی دنیا کے مسائل حل کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ ہم میں سے جو لوگ یونیورسٹیوں میں پڑھاتے ہیں، یہ دیکھ کر کڑھتے ہیں کہ طالب علم علم کی پیاس بجھانے نہیں، بلکہ صرف اس کاغذ کے ٹکڑے (ڈگری) کو حاصل کرنے آتے ہیں جسے وہ "مستقبل کی ضمانت" سمجھتے ہیں۔
6. حتمی نکتہ: میکانکی نہیں، نامیاتی نظام کی ضرورت
​آخر میں، رابنسن تعلیم کو "مینوفیکچرنگ ماڈل"
(Manufacturing Model) سے نکال کر "ایگریکلچرل ماڈل" (Agricultural Model) پر لانے کی بات کرتے ہیں۔ فیکٹری میں چیزیں یکساں بنتی ہیں، لیکن کھیتی باڑی میں آپ پودے کو زبردستی بڑا نہیں کر سکتے؛ آپ کو صرف سازگار ماحول فراہم کرنا ہوتا ہے، پودا خود اپنی جڑیں مضبوط کرتا ہے۔
​ہمیں اپنے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو فیکٹریوں کی بجائے باغوں میں بدلنا ہوگا۔ جہاں ہر بچے کو ایک الگ قسم کا پھول سمجھا جائے، نہ کہ اینٹ جو کسی دیوار میں چن دی جائے۔ "ہم" (بطور معاشرہ) اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتے جب تک ہم اپنی "انسانی وسائل" (Human Resources) کی کان کنی بند کر کے ان کی آبیاری شروع نہیں کرتے۔
​مستقبل ان کا ہے جو لکیر کے فقیر نہیں، بلکہ نئی راہیں تراشنے والے ہیں۔ اور یہ راہیں تبھی نکلیں گی جب ہم اپنی "تخلیقی صلاحیتوں" (Creative Capacities) کو اپنی امیدوں کی طرح وسیع کریں گے۔
٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔