Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
‏ڈرامے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏ڈرامے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 23 نومبر، 2017

اور میری جان نکل گئی

دوستوں کی محفل تھی  جوزی ہم سب میں عمر والا تھا !
کیوں کہ 60 سال کا ریٹائر ہوکر ، پنشن پر گذارا کر رہا تھا ۔
عمر میں دوسرا نمبر میرا کیوں کہ  فوج نے 48 سال کی عمر میں ریٹائر کر دیا تھا ، ہم سب، جی 6   مرکز میں ، ایک چرغے والے ٹھیّے  کی پلاسٹک کی کرسیوں پر بیٹھے آرڈر کا انتطار کر رہے تھے
یار جوزی صاحب ، اِس عمر میں  بوڑھے لوگ کیا کرتے ہیں ۔  راؤ نے پوچھا
 راؤ جی  مرد اور گھوڑا کبھی بوڑھا نہیں ہوتا ۔ جوزی نے فلسفیانہ اندازِ مردانی میں جواب دیا ۔
جوزی صاحب ،  ٹھیک ہے لیکن  جوان گھوڑے اور عمر رسیدہ گھوڑے  کی چال  میں کچھ تو فرق ہو گا نا
کہاں سرپٹ دوڑتا ہوا    اور کہاں مریل سی چال اور وہ بھی ہانپ ہانپ کر -
جمیل صاحب بولے
جوزی صاحب ،  خاص چارہ کھاتے ہیں  - شجاعت نے گرہ لگائی 
جوزی ، بڑا چھپا رُستم ہے  - امجد بخاری نے اپنی رائے کا اظہار کیا 
جوزی ، دبی دبی مسکراہٹ سے یہ سب کی باتیں سُن رہا تھا، جن میں  خادم حسین رضوی کے خطیبانہ  جوَاہر ِخاص ، بلا کم و کاست دُھرائے جا رہے تھے  ۔ جن سے پاس گذرنے والے ویٹروں کی معلومات میں کچھ خاص اضافہ نہیں ہورہا تھا ۔ جب سب اپنی اپنی رائے کا اظہار کر چکے  تو ،

میں نے کہا،جوزی ، صاحب  سب نے اِس عمر  میں پہنچنا ہے ، ہماری معلومات کے لئے اپنے تجرباتِ خاص سے مستفید فرمائیں   -  
میجر صاحب ، یہ سب بچے ہیں، عمر کے کچّے ہیں   - جوزی نے  لوہے پر چوٹیں مارتے ہوئے کہا ۔
  یہی سوال میں نے اپنے سے ایک سینئیر دوست سے پوچھا تھا ۔ آج میں شیئر کرتا ہوں ! گو کہ یہ پنجابی میں ہے اور ایسی باتوں کا لطف پنجابی میں آتا ہے   ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یار جوزی:یہ عمر بھی کیا عمر ہے ؟
اخبار پڑھتے ہیں ، ماضی یاد آجاتا ہے تصویریں دیکھ کر ،
ٹی وی دیکھتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ یہ عورت ہے یا حور ؟
یا   عورتیں ایسی بھی ہوتی ہیں ؟
ہم تو ساری عمر بھینسوں میں گذارتے رہے ۔
بستر پر جاتے ہیں ، وہ ڈبل بیڈ جو ہمارے لئے جنت ہوتا تھا ، اب ایک وسیع میدان نظر آتا ہے ۔ جس کے ایک کونے پر بیوی اور دوسرے کونے پر ہم ہوتے ہیں !
لیکن مردانگی  ہے کہ باز نہیں آتی ۔
بستر پر لیٹتے  تو یہ معمول بنا لیا ، کہ بیوی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ، وہ کسمکساتی ،
چھوڑ جی پاگل ہوئے ہو!
بچے کیا سوچیں گے !
صبح نماز قضا ہوجائے گی ۔
اِس عمر میں  ، کچھ بہووں کا خوف کرو !
اللہ اللہ  کرنے کے دن ہیں ۔

یار جوزی، یہ جملے سنتے اور آرام سے سو جاتے ، کہ چلو آج کے دن مردانگی کا بھرم رہ گیا ۔
ایک دن ہوا یہ کہ ، ہم دونوں ٹی وی دیکھ رہے تھے ، پوتا اور پوتی ، بیٹے اور بہو کے ساتھ باہر گئے تھے ۔
ٹی وی پر ایک بھڑکیلا اشتہار آیا  تو یہ جملہ کھسکا دیا ،

 " بیوی   ایک شادی بڑھاپے میں بھی مرد کو کرنا چاھئیے !"
کھانا وغیرہ کھایا ،  جب ٹی وی پر جھنڈا لہرایا ، گھر میں خاموشی تھی ۔ 
کمرے میں گیا ، بیوی دیوار کی طرف منہ کرکے شاید سوگئی تھی ۔
میں بھی بستر پر لیٹ گیا ۔
بے دھیانی میں ، عادتاً بیوی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا ۔
اُس نے کروٹ بل کر میری طرف دیکھا اور مسکرائی !

،
،
،
،
،
،
،
،
،
،
،
،
،
،
میرا تے ساء   نکل  گیا !

جمعہ، 10 جولائی، 2015

میرے ڈرامے - سنہرا جال

امجد بخاری ، جمیل احمد خان اور اقبال فہیم جوزی نے 25 منٹ کے پلے کے لئے اخراجات اور منافع کا یہ چارٹ بنوایا - جس کے مطابق ، ایک قسط کے یہ اخراجات بنتے تھے اور منافع 21 ہزار روپے لیکن اگر دو قسطوں کا ایک ایپی سوڈ بنایا جائے تو اخراجات مزید کم ہو جاتے ہیں اور منافع بڑھ جائے گا  ۔
جوزی نے پروڈکشن مینیجر کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور مجھے ایڈمنسٹریشن کی دیکھ بھال کا کام سونپا ۔ اداکار و دیگراں کی ذمہ داری امجد بخاری نے سنبھالی ، ہ وہ کہانی کے مطابق اداکار لاہور سے بلوائے گا ، میں نے رائے دی کہ شروع لوکل ٹیلنٹ کو فوقیت دی جائےاور پولیس کا کردار زیادہ رکھا جائے تاکہ وہ اجاگر ہوں ، پھربعد میں اداکار ڈالے جائیں-   
لوکل اداکاروں کی تلاش شروع ہوئی ۔ بہت سے خواہشمند آئے، سب کے نام و پتے بشمول تین تصاویر جمع کی گئیں ۔ ڈائیلاگ بلوائے گئے- ایک گریڈنگ فارم بنایا گیا ۔ جس پر گریڈنگ اور پوزیشن کے ریمارکس دئیے گئے ۔ خواہشمندوں میں ایک سمارٹ سا باڈی بلڈر نوجوان سا پٹھان بھی تھا ۔ جو روزانہ آکر بیٹھ جاتا ۔ لیکن نہ نام لکھواتا اور نہ ہی کوئی بات کرتا ۔ کوئی تیسرے دن میں دوپہر کے کھانے کے لئے اکرم خورشید کے آفس میں گیا تو جوزی اور درانی اپنے سلیکشن کے کام میں مصروف تھے ۔
میں نے جوزی سے پوچھا "یہ کون ہے ؟"
جوزی نے بتایا کہ وہ نہیں جانتا ۔ میں سمجھا کہ شاید اکرم کی مارکیٹنگ ٹیم کا کوئی فرد ہے ۔ اکرم کی کمپنی میں کافی لوگ تھے ، جنہیں میں نہیں جانتا تھا ۔ اکرم کے کمرے میں، میں نے مانیٹر کی طرف اشارہ کر کے،
اکرم سے پوچھا " یہ کون ہے "
اُس نے بھی کہا،" میں نہیں جانتا" ۔
" بلاؤ اسے !" میں نے اکرم کو کہا
اکرم نے انٹر کام پر ریسپسنسٹ پر بلوانے کا کہا ۔ نوجوان کمرے میں داخل ہوا ۔ اکرم نے پوچھا کہ وہ روزانہ آتا ہے ، کوئی کام ہے کیا ؟
اُس نے بتایا ، وہ ڈرامے میں کام کرنے کا خواہش مند ہے ۔ لیکن اُسے ڈائیلاگ بولنا نہیں آتے ، وہ پولیس والے کا رول کرنا چاہتا ہے ۔ وہ جوجسٹو کا ماہر ہے ۔
میں نے اُسے کہا کہ وہ سلیکٹ ہو گیا ۔ جاکر جوزی صاحب سے فارم لے اور اپنا نام وغیرہ لکھ کر مجھے دے دے ۔
محبوب علی شاہ کا جی 8 میں میڈیکل سٹور تھا ۔ جو بعد میں ہمارے لئے ایک بہترین پولیس آفیسر کے روپ میں کارآمد کردار رہا ۔ 
پہلے مرحلے پر پولیس کے مختلف جگہوں سے سٹاک شارٹ لینے تھے ۔ جو صرف اصلی ریسکیو 15پولیس کے افراد کے تھے ۔ جوزی صاحب اپنے پروڈکشن یونٹ کے ساتھ ، جی 8 میں واقع ریسکیو 15 کے آفس شام کو پہنچ گیا ۔ ڈرامے کے لئے دو افراد کی ہماری اداکاروں کی کالی یونیفارم کی پولیس ٹیم بھی تھی اور ریسکیو آفس کے لئے الگ پولیس ٹیم تھی اِن سب کی وردیاں ، پولیس سے ایس ایس پی ناصر درانی کی مہربانی سے مل گئی تھیں -
پہلے ہی دن ہمارے ڈائریکٹر غضنفر بخاری 5 بجے آنے کے بجائے 8 بجے آئے ۔ خیر وہ آئے جوزی اور غضنفر بخاری کے درمیان جھگڑا ہو گیا ۔ مجھے بلایا گیا ۔ معاملہ سلجھایا ۔ ڈائریکٹر صاحب نے سٹاک شاٹ لینا شروع کئے ۔ موٹر سائیکل پر پولیس والوں کا شاٹ تھا ۔ پولیس والے نکلے لیکن موڑ پر مین روڈ پر جاتے وقت اُن میں برابری نہیں رہتی اور ایک پولیس والا ، بہت موٹا سا تھا۔ میں نے جوزی سے پوچھا ،
" جوزی صاحب ! کیا پویس میں کوئی پتلے جوان نہیں؟"
" یہ پولیس کا نہیں ، اِسے بخاری لایا ہے ، یہ ڈنٹر ہے جس سے بخاری کام کرواتا ہے ، اِسے ہیرو بنوانا چاھتا ہے " جوزی بولا
" تو آپ نے منع نہیں کیا اور یہ دوسرا پنسل کی جوانی کون ہے ؟" میں نے پوچھا " الّن اور ننھے کی جوڑی بنانے کی کیا ضرورت ہے "
" یہ بخاری کا اسسٹنٹ ہے ، انہی پر تو ہمارا جھگڑا ہوا تھا ۔ میں کہہ رہا تھا پولیس والوں کو رہنے دو ۔ تاکہ موٹر سائیکلوں کو نقصان نہ پہنچے ۔ بخاری نے ضد پکڑ لی " ۔ جوزی بولا
میں نے خرّم درانی کو کہہ کر دونوں پولیس کے اصلی موٹر سائیکلسٹ کو بلوایا اور اُنہیں اپنی اپنی موٹر سائیکل ، چلانے کا کہا ۔ بخاری ، کیمرہ من عباس کے پاس بیٹھا اُسے شاٹ سمجھا رہا تھا ، دونوں اداکار اُس کے پاس گئے ۔ کچھ کہا بخاری ہاتھ جھاڑتا ہوا کھڑا ہوا ، اور چلتا ہوا جاکر اپنی کار میں جا کر بیٹھ گیا ۔
جوزی نے کہا، " اب یہ بھاگ جائے گا ، میجر صاحب اِسے روکو ! "
" اِسے جانے دو ، میں دیکھتا ہوں یہ کیسے جاتا ہے ؟ " میں نے کہا " اِس نے 25 ھزار روپے ایڈوانس لئے ہیں وہ دے دے اور چلا جائے "
بلیک میلنگ ، میرے نزدیک اتنا بُرا فعل تھا جس پر میں نے کبھی کمپرومائز نہیں کیا ۔ تھوڑی دیر بعد عباس کیمرہ مین، بخاری کے پاس گیا اور پھر ہمارے پاس آیا ۔"سر بخاری صاحب کہہ رہے ہیں ، کہ سیٹ پر جوزی صاحب رہیں گے یا میں " عباس بولا
"جوزی تو ہر حال میں رہے گا " میں نے کہا " ہاں وہ جاتا ہے تو چلا جائے لیکن جانے سے پہلے 25 ہزار میرے ہاتھ پر رکھ کر جائے "
عباس نے جا کر اُسے نہ جانے کیا کہا ، وہ اور عباس دونوں چلتے ہوئے میرے پاس آئے ۔
" میجر صاحب ، میں ڈائریکٹر ہوں ۔ مجھے معلوم ہے، کہ کس کردار کے لئے کون فٹ رہے گا ۔ جوزی یا آپ کو اِس میں دخل دینے کی ضرورت نہیں "بخاری بولا 
" آپ کی بات سو فیصد درست ہے بخاری صاحب میں نے کب انکار کیا " میں نرمی سے بولا " اداکاروں کا انتخاب اور اُن سے آپ ہی نے کام لینا ہے "
" تو پھر اِن دو اداکاروں کو موٹر سائیکل چلانے سے جوزی صاحب نے کیوں منع کیا ہے ؟" وہ موڈ دکھاتے ہوئے بولا
" جب اداکار سلیکٹ کر رہے تھے تو آپ نے جوزی کو اختیار دیا تھا اور آپ اٹھ کر چلے گئے تھے " میں نے یاد دلایا ، " یہ دونوں اُس سلیکشن میں نہیں آئے تھے "
" میرے ذہن میں پولیس ے کردار میں یہ تھے " بخاری بولا 
" تو آپ ، اِن کو بلوا لیتے ، انہیں بھی رکھ لیتے " میں بولا " اور یہ سٹاک شاٹ ہیں اِن کی شکلیں تو نہیں آنی ، انہیں بعد میں رکھ لیں گے ، اور میں نہیں چاھتا کہ موٹر سائیکل اِن سے گر کر ٹوٹیں "
" وہ تو پولیس والوں سے بھی ٹوٹ سکتی ہیں " وہ بولا
" اُس کا جواب وہ ایس ایس پی کو خود دیں گے مجھے نہیں دینا پڑے گا " میں نے جواب دیا
" ٹھیک ہے جیسا آپ کہیں میں ریکارڈنگ کروا دیتا ہوں " وہ بولا
" میں نہیں یہ مینیجر پروڈکشن کا کام ہے ، جوزی صاحب ہی کروائیں گے وہ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں "میں نے سیریس  لہجے میں زور دے کرکہا ۔ اور ریکارڈنگ شروع ہوئی رات 12 بجے کے لگ بھگ ہم فارغ ہوئے ۔

لیکن مجھے احساس ہو گیا کہ ، معاملے آسانی سے نہیں چلیں گے ۔ لیکن جس سنہرے جال میں ، پھنستا جا رہا تھا ۔ اُس کا مجھے ادراک نہیں ہوا تھا ۔
ابھی ڈرامے کی بنیادی ریکارڈنگ شروع نہیں ہوئی تھی لیکن 71 ہزار روپے سکہ  رائج  الوقت جس کا نصف پینتیس ہزار پانش سو بنتے ہیں، میرے اکاونٹ سے نکل چکے تھے ۔ 25 ہزارروپے جوزی ، 25ہزار روپے بخاری ، 3 ہزارروپے ریکارڈنگ کیسٹس ، 10 ہزار روپے جوزی کے لئے موبائل ، 8 ہزار روپے  جمشید فرشوری کے"نیشنل ٹیلویژن سٹوڈیو"  کے سامان کی سیکیورٹی لئے ۔  باقی چائے پانی اور کھانے الگ تھے وہ شامل نہیں ہوئے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بدھ، 8 جولائی، 2015

میرے ڈرامے . ڈریگن فلائی

تمام جزئیات طے ہوئیں ،" ون لائن سٹوری " اور سٹاک شاٹ کے بندوبست کی ذمہ داری " جوزی " کی تھی - کہانی لکھوانے کے لئے ایک مشہور تو نہیں لیکن ایک رائیٹر کی خدمات لینا تھیں ، ڈائریکٹر غضنفر بخاری کو امجد بخاری نے ٹیم میں شامل کیا اور جمشید فرشوری کا"نیشنل ٹیلویژن سٹوڈیو" کیمرے و ایڈیٹنگ کے لئےلیا گیا کہ وہ تمام خدمات کا معاوضہ، کریڈٹ کرے گا اور ڈرامہ آن ائر جانے کے بعد لے گا ۔
 میں ، رائیٹر اور جوزی جا کر ایس ایس پی ناصر درانی سے ملے۔ تاکہ اُس کے خیالات و آئیڈیاز کو مد نظر رکھتے ہوئے ، مکمل 12 قسطوں کے ڈرامے بنائے جائیں ۔
جب میٹنگ ختم ہوئی ، تو ناصر درانی نے مجھے ہدایت کی کہ ، ریسکیو 15 کی کاروں اور موٹر سائیکلوں کا ضرورت پڑنے پر انتہائی احتیاط سے استعمال کیا جائے ۔ اِنہیں کسی بھی قسم کا نقصان ہیں پہنچنا چاھیئے ۔
تین دن کے بعد رائیٹر پہلی کہانی میرے آفس میں چھوڑ گیا اور پیغام دیا کہ اُس کا چیک اُسے جلدی دے دیا جائے ، میں نے کہانی پڑھ کر جوزی کو پڑھائی ، ہم دونوں نے فیصلہ کیا کہ یہ ناصر درانی کو ابھی نہ دکھائی جائے - جوزی اِسے ناصر درانی کی رائے کے مطابق مزید بہتر لکھوائے ۔ اِس کے بعد میں کراچی چلا گیا ۔ میرا ہفتے کا بزنس کا دورہ تھا ۔ میں نے سب سے پہلے کمپیوٹر ہارڈ وئیر کا بزنس شروع کیا کیوں کہ مجھے فوج کے زمانے سے مہارت تھی اور میں خود بھی ایک اچھا ٹیکنیشن تھا اور پروگرامر بھی ۔
ابھی دوسرا دن تھا کہ جوزی کا فون آیا ۔
" یار میجر صاحب ، غضب ہو گیا " 
" کیا ہوا جوزی صاحب ؟ " میں نے پوچھا ۔
" اُس نے آپ کے خلاف آخباروں بیان چھپوایا ہے ، کہ میجر صاحب نے اُس سے ریسکیو 15 کے ٹی وی پلے کی کہانیاں لکھوانے کا معاہدہ کیا ہے ، انہوں نے کہانیاں لکھ کر دیں ، ڈرامے کی شوٹنگ شروع ہوگئی لیکن اس کے پیسے اُسے نہیں دیئے گئے " جوزی نے بتایا ۔
" کیا اُس کی کہانی ایس ایس پی صاحب سے  منظور ہو گئی ہے " میں نے پوچھا ، " اور شوٹنگ کب شروع ہوئی ؟"
" کہانی میں نے ایس ایس پی کے پی اے کوآج دی ہے ۔ شوٹنگ تو ابھی شروع نہیں ہوئی " جوزی بولا ، " لیکن یہ مسئلہ ہو جائے گا "
" نہیں ہو گا ۔ ؐمیں کل واپس آرہا ہوں " میں نے بتایا ۔
میں نے موبائل بند کیا ہی تھا کہ ایس ایس پی صاحب کے پی اے نے کہا کہ صاحب بات کریں گے ۔ اور ناص درانی کو ملا دیا ۔
" میجر صاحب ، یہ آپ نے رائیٹر کے پیسے کیوں نہیں دئے اور شوٹنگ مجھے بتائے بغیر کیسے شروع کر دی ۔ نہ کہانی مجھے بتائی " وہ کال ملتے ہی بولے ۔
" کیا ایسا ھو سکتا تھا ۔ سر ! " میں نے جواب دیا " میں کراچی میں ہوں مجھے بھی ابھی ابھی جوزی نے بتایا ہے ۔ کہانی ابھی ہمارے پاس ہے ۔ جوزی صاحب آج آپ کو دیں گے ، آپ منظور کریں گے تو ہم آگے بڑھیں گے " 
" بس اِس سے ایک کہانی لکھوا کر ختم کریں ، یہ آپ کو تنگ کرے گا اور جب آئیں مجھے ملیں ۔ میں کہانی پڑھ کر ڈسکس کروں گا۔ اللہ حافظ " ناصر درانی نے کہا اور فون بند کر دیا ۔

جب ٹیلی پروڈکشن کی زخار وادی میں قدم رکھا ، تو بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اسے سمجھا ، روزانہ پی ٹی وی چلا جاتا ۔ مختلف ڈراموں  کی اِن ہاوس ریکارڈنگ دیکھی ، ون لائین سٹوری کو سمجھا ۔ ریکارڈڈ ڈراموں کے سکرپٹ پڑھے - ایڈیٹنگ سکرپٹ دیکھے، ٹی وی لائبریری سے پروڈکشن کے متعلق کتابیں پڑھیں ، تین آؤٹ ڈور ڈاکیومنٹری کی شوٹنگ دیکھیں ، ایڈیٹر کے پیچھے بیٹھ کر ایڈیٹنگ دیکھی ۔ یوں میں مکمل طور پر کسی بھی ھنگامی حالت کے لئے تیار " سُنی اسسٹنٹ پروڈیوسر " بن چکا تھا ۔

میرے پاس دو راتیں تھیں اور رائیٹر کی سٹوری کے مقابلے میں ایک اچھی کہانی لکھنا تاکہ ، ایس ایس پی کے سامنے شرمندگی نہ ہو !

اسلام آباد پہنچا دوسرے دن ، میں اور جوزی ایس ایس پی کے پاس پہنچے ۔ لبِ لباب یہ تھا کہ پورے ڈرامے میں ریسکیو 15 کو اجاگر کرنا تھا نہ کہ ہیرو ہیروئین کو ۔ اور کہانی کے ہیرو صرف اور صرف ریسکیو 15 والے ہونے تھے اور پاکستانی تناظر میں ہمارے ، جوانی کی ٹیلی سیریل " چپس یعنی کینیڈین ھائی وے پیٹرول" تھی - جس کو بنیاد بنا کر میں نے ، ایس ایس پی درانی کا آئیڈیا ،   Conceive کیا اور کہانی نہیں بلکہ پہلی چار کہانیوں کی ون لائن سٹوری اور پہلے ایپی سوڈ کا مکمل تیار کردہ سکرپٹ ایس ایس پی کو دیا ۔ جو اُس نے اپروو کر دیا لیکن ساتھ یہ بھی کہا ،
" میجر صاحب ، اِس کہانی کے رائیٹر کو اُس کا مسودہ دیں دیں ، میں نے ناٹ اپروڈ لکھ دیا ہے ۔ لیکن آپ اُسے آدھی رقم بھی دے دیں تاکہ خاموش رہے "
جس دوست نے رائیٹر کے ساتھ میری بات چیت کروائی تھی - اُس کے پاس گیا وہاں رائیٹر کو بھی بلوایا ، اُس ے گے شکوے سنیں ۔ دوست کی کڑوی کسیلی باتیں سنی ۔ جب اُن کا غبار نکل گیا ۔ تو دوست سے پوچھا ،
" ماموں ! شرط یہ تھی کہ سکرپٹ ایس ایس پی منظور کرے گا تو پورے پیسے دئے جائیں گے !"
" ھاں " دوست نے جواب دیا ۔
اور اگر میں اِن کی کہانی ایس ایس پی کو نہیں دیتا تو آدھے پیسے دوں گا " میں نے پوچھا ۔
" ھاں " دوست نے کہا
" میں آدھے پیسے دے رہا ہوں " اور چیک دوست کو دیا -
" تو تم یہ کہانی استعمال نہیں کرو گے ؟ " دوست نے پوچھا
" نہیں " میں نے جواب دیا -
"اور اِن کی کہانی کہاں ہے " دوست نے چیک لیے ہوئے پوچھا ۔

" یہ ہے اِن کی اوریجنل کہانی ، میں نے کوئی فوٹو سٹیٹ نہیں بنوائی " میں نے لفافے میں کہانی دوست کو دیتے ہوئے کہا ۔
دوست نے چیک اور لفافہ رائیٹر کو دیا ۔ رائیٹر نے چیک دیکھا ۔ لفافے میں سے کہانی نکالی ۔ ایس ایس پی کی سبز لکھائی میں ریمارکس پڑھے ۔ چہرے کا رنگ بدلا ، میز سے قلم اُٹھایا ، چیک پر بڑا سا کراس کا نشان بنایا ۔ مجھے دیتے ہوئے پوچھا،
" میجر صاحب ، آپ نے جوزی کو کتنے پیسے دیئے ہیں "
" بیس ہزار " میں نے ایمانداری سے بتایا ۔
" آپ پی ٹی وی کے بلیک میلروں میں پھنس گئے ہیں ، اب بھی وقت ہے نکل جائیں ، 20ہزار بڑا نقصان نہیں " وہ بولا 
اور دوست کے آفس سے نکل گیا ۔

اُس وقت مجھے احساس نہیں تھا لیکن میں جو خود کو ٹیلی پروڈکشن کی دنیا میں "ڈریگن فلائی " سمجھ رہا تھا -
لیکن میری دُم پر اَن دیکھا دھاگا بندھا تھا ۔ جس کا ایک سرا دوسرے لوگوں کے ہاتھ میں تھا ۔ جن میں امجد بخاری ، غضنفر بخاری اور اقبال فہیم جوزی پیش پیش تھے ۔

منگل، 7 جولائی، 2015

میرے ڈرامے - فرینڈز ایسوسی ایٹس

بہت پرانی بات ہے ، جب میں اٹک سے اسلام آباد شفٹ ہوا ۔ تو جی نائن وَن میں ایک کرائے پر مکان لیا ۔ پرسکون کینٹونمنٹ کی طرح ماحول کھلی سڑکیں ۔ اچھے لوگ ۔ زندگی پر سکون گذر رہی تھی ۔ میں بھی ملازمت کی تلاش میں مختلف جگہ درخواست ڈال رہا تھا ۔کیوں کہ پہلی پنشن کو یکم نومبر 1999 کو بنک میں آئی 6،690 روپے سکہ رائج الوقت تھی ۔  اور قسمت یاوری نہیں کر رہی تھی ۔
4 سکول و کالج جانے والے بچے اور خرچ پھر بقر عید آنے والی تھی ، جمع کردہ پونجی کی سطح آہستہ آہستہ کم ہو رہی تھی ۔ بُرے وقتوں کے لئے بچائی ہوئی کچھ رقم قومی بچت میں جمع کروائی تھی ، اُس سے دن اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے گذر رہے تھے ۔
ملنے والی پنشن کو فکسڈیپازٹ میں جمع کروادیا تھا ، کیوں کہ فوج کی طرف سے ملنے والے مکان کی یکمشت ادائیگی بھی کرنا تھا ۔

فروری میں چھوٹی بہن کا انتقال ہوا ۔ بس بھاگم دوڑ گھوٹکی پہنچا واپسی میں ابّا جان کو سکھر سے اسلام آباد بذریعہ جہاز لے آیا جو میرپورخاص سے گھوٹکی آئے ہوئے تھے ۔
مارچ کا وسط تھا ، اسلام آباد عید کی وجہ سے خالی ہونا شروع ہو گیا تھا ۔ ہفتے کا دن تھا ۔ کوئی رات دس بجے اچانک آڈیو ڈیک پر پورے والیوم سے گانے بجنے شروع ہو گئے ۔ پہلے انتظار کیا آواز سے لگتا تھا کہ پچھلی گلی والے گھر سے آواز آرہی ہے ۔ ابّاجان  بھی سوتے ہوئے ھڑبڑا کر اُٹھ گئے ۔  میں نے دیوار سے آواز دے کر بلایا ۔ تو اُنہوں نے بتایا کہ آپ کے پڑوس سے آواز آہی ہے ۔
پڑوس میں گیا ۔ گھنٹی بجائی ، پہلی منزل پر ایک نوجوان آیا ۔ اُس سے درخواست کی کہ
" ذرا والیوم کم کر دیں ، بچوں کے سالانہ امتحان ہو رہے ہیں اور وہ ڈسٹرب ہو رہے ہیں "۔
"ہمارے ہاں منگنی ہے اِس لئے خوشی میں گانے سن رہے ہیں " نوجوان نے بتایا
" لیکن گھر تو خالی لگتا ہے باقی افراد کہاں ہیں ؟ " میں نے پوچھا ۔
" جی منگنی گاؤں میں ہے ۔ " اُس نے معلومات دی ۔
" تو پھر آپ اِس کو بند کر دیں " میں نے ذرا اونچی آواز میں کہا
" نہیں کریں گے جس کو کہنا ہے جا کرکہیں " نوجوان اکڑ کر بولا ۔
اب بحث بے کار تھی ۔ میں واپس مڑا ایک اور صاحب نظر آئے جو یہ سب مکالمات سُن رہے تھے ۔ اُنہوں نے رائے دی،
" آپ ، پولیس والوں کو بتائیں وہ انہیں روک دیں گے "
ّ پولیس والے ، اب کہاں آئیں گے وہ بھی سو رہے ہوں گے " میں نے کہا
" نہیں ایک نیا محکمہ بنایا ہے ۔ اُن کا ٹیلیفون نمبر 15 ہے ، اُنہیں بتائیں ، شائد وہ مدد کریں !" اُنہوں نے راہ سجھائی ۔
" جی آپ ا شکریہ میں کوشش کرتا ہوں " یہ کہہ کر میں اُن سے ھاتھ ملا کر گھر آگیا اور فون پر 15 ملایا ۔

السلام و علیکم ریسکیو 15 ، سر ! میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں ؟ " خلاف توقع ایک شائستہ آواز نے مجھے خوشگوار حیرت میں مبتلا کردیا
" میں میجر خالد بول رہا ہوں ، فوج سے ریٹائر ہو کر اسلام آباد آیا ہوں " میں نے اپنا تعارف کروایا
" جی سر ! " آواز آئی ۔
" میرے پڑوسی، عید پر اپنے گاؤں گئے ہیں ، پیچھے شائد دو نوجوان بچے ہیں اُنہوں نے فل والیوم پر ڈیک لگایا ہے اور  میرے بچوں کے امتحان ہونے والے ہیں وہ ڈسٹرب ہو رہے ہیں !" میں نے شکایت کی " آپ اگر کچھ کرسکتے ہیں تو مہربانی ہوگی "
" میں ابھی ڈیوٹی پر موجود آدمی بھجواتا ہوں " آواز آئی " آپ ایڈریس لکھوائیں اور انتظار کریں "
ایڈریس لکھوایا اور شکریہ کہہ کر فون رکھ دیا ۔ کوئی پانچ منٹ بعد گھنٹی بجی ۔ ارسلان نے باہر جاکر دیکھا اور بتایا کہ گاڑی پر پولیس والے آئے ہیں ۔ میں باہر نکلا ۔ اُنہیں لے کر پڑوس میں گیا ۔ پولیس والے نے گھنٹی بجائی ۔ اوپر سے اُسی نوجوان نے جھانکا ۔
" آپ نیچے آئیں " پویس والے نے کہا ۔
" کیوں " وہ جوان تنتا کر بولا ۔
" اچھا تو پھر ہم اوپر آتے ہیں " پولیس والا نرمی سے بولا
" میں آرہا ہوں " نوجوان بولا ۔
تھوڑی دی بعد گھر کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی ۔ پھر قدموں کی چاپ اور مین گیٹ کا چھوٹا دروازہ کھلا اور ایک 25 سالہ جوان باہر نکلا ۔ میری طرف دیکھ کر بولا ۔
" آپ اسلام آباد میں نئے آئے ہیں یہاں رہنے ے طریقے سیکھیں ۔ آپ ہماری پرائیویسی میں دخل کیوں دے رہے ہیں "
"آپ اپنے سر پ ہیڈ فون لگائیں اور فل والیوم سے گانے سنیں ۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ، لیکن آپ مجھے گانے نہ سنائیں " میں نے جواب دیا ۔
" آپ اپنے کان بند کر لیں ، میں کچھ نہیں کر سکتا " وہ غصے سے بولا اور گھر جانے کے لئے مڑا ۔ تو پولیس سب انسپکٹر نے اُس کا بازو پکڑ لیا ۔
" آپ میرے ساتھ تھانے چل رہے ہیں " سب انسپکٹربولا ۔
نوجوان یک دم بوکھلا گیا ۔ " میں نہیں جاؤں گا " وہ ہکلاتا ہوا بولا ۔
" انہوں نے آپ کے خلاف شکایت کی ہے اور میں نے آپ کا جواب سن لیا ہے ۔ اب آپ کی ضمانت کل ہوگی - آج رات آپ تھانے میں گذاریں گے " سب انسپکٹر بولا
دروازے سے ایک اور نوجوان نکلا ، " سر معاف کر دیں یہ بے وقوف ہے میں معافی مانگتا ہوں " وہ سب انسپکٹر سے بولا
" نہیں معافی یہ اِن سے مانگے گا اگر انہوں نے معاف کیا تو ورنہ یہ تھانے جائے گا" سب انسپکٹر بولا
نوجوان نے گڑگڑا کر معافی مانگی ۔ ہم نے بھی رعایت کر دی ۔ پولیس والوں کا شکریہ ادا کیا ۔ نوجوانوں نے ڈیک بند کر دیا پھر اُس گھر سے کبھی گانوں کی آواز نہ آئی ۔

عید کے بعد ، میں نے ریسکیو 15 کے متعلق معلومات اور ایک دن ایس پی ناصر درانی کا شکریہ ادا کرنے اُن کے آفس گیا ۔ وہاں جاکر معلوم ہوا کہ جب میں 1982 میں جہلم میں تھا تو اِن کا بیج آرمی کے ساتھ ٹریننگ کرنے آیا تھا - تب آفیسر میس میں گروپ ے ساتھ ملاقات ہوتی تھی ۔ اُنہیں نے ریسکیو 15 کے بارے میں مکمل معلومات دیں اور کئی دلچسپ واقعات بھی بتائے ، 
آپ بہترین کام کر رہے ہیں ۔ میں نے کہا " سر ، اِس کو لازمی پبلسٹی دینا چاھئیے ! "
" کیسے ؟ " انہوں نے پوچھا
" اِس پر ڈرامہ بنا کر آپ نے جو واقعات بتائے ہیں ہر واقعہ ایک کہانی ہے " میں نے کہا
" گڈ آئیڈیا ، اچھا کوشش کرتے ہیں ، میری پی ٹی وی میں تھوڑی بہت واقفیت ہے ، اُن کو ٹاسک دیتا ہوں " ناصر درانی نے کہا اور ہم وہاں سے آگئے ۔
نوکری تو نہ ملی ، اگر نوید ملی بھی وہ شہر سے کوسوں دور کی تھی ۔ کیا کیا جائے ؟
مختلف مشورے دوستوں سے مل رہے تھے۔ ایک دوست نے کہا کہ اُس کے ایک دوست کی دکان ہے جو پی ٹی وی میں سرکاری ملازم ہے ۔پہلے وہاں اُس کا سالا بیٹھتا تھا ۔ آپ وہاں بیٹھ کر ۔ " ٹینڈرنگ " کا کام کریں ۔ وہ آپ کی مدد کرے گا ۔
میں نے ، ایم ای ایس کامرہ میں ایک "عزیز دوست سعید خالد" کے توسط کنسٹرکشن کا کام شروع کیا تھا۔ لیکن جب دی جانے والی رشوت اور منافع کا تناسب نکالا تو معلوم ہوا کہ ایمانداری سے کام کرنے پر صرف رشوت ہی دی جا سکتی ہے اور وہ بھی 23فیصد اور اپنے ھاتھ صرف نیک نامی آتی ہے کہ کام کر ہے ہیں فارغ نہیں ۔ وہ کام بھاری پتھر سمجھ کر چھوڑ دیا لیکن نقصان اٹھانے کے بعد ۔

بہرحال پھر وہ دکان بھی اپنے پرانے اور بوسیدہ مال سمیت ہمارے گلے پڑ گئی ۔ وہ کیسے ؟
کہ یہ دکان ایک پی ٹی وی کے اکاونٹ آفیسر " شجاعت علی "  کی تھی - ہمارے دوست اور اُنہوں نے بڑی مہارت اور پیار سے ہمیں گھیر لیا ۔
کہ آپ پی ٹی وی میں سپلائی کے لئے رجسٹر ہوں ، ہم آپ سے سپلائی مانگیں گے آپ یہ سب سامان ہمیں دے دیں ۔ بلکہ مزید بھی ۔ ہم دکان کے پچھلے حصے میں افس بنا کر بیٹھ گئے ۔ پھر کیا ہوا یہ الگ کہانی ہے بلکہ کہانیاں ہیں ۔

سردست بات ہو رہی تھی ۔ ریسکیو 15 کی ۔ ایک دن ایک بوڑھا مجہول سا شخص میرے آفس میں آیا اور مجھ سے اپنا تعارف " اقبال فہیم جوزی " کی حیثیت سے کروایا ۔ " جوزی " علامہ اقبال یونیورسٹی میں 60 سال پورے کر کے بحیثیت ڈائریکٹر ریٹائر ہوا ۔ اب وہ پی ٹی وی میں مارننگ شو کا سکرپٹ لکھتا ہے ۔ میں نے وجہ آمد پوچھی ، تو بتا یا کہ اُسے ناصردرانی کی معرفت معلوم ہوا ہے کہ میں ریسکیو 15 کو ٹی وی پر دکھانے کا خواہشمند ہوں ۔ مجھے " جمیل احمد " نے بھیجا ہے ۔

" بھائی ، میں دلچسپی نہیں رکھتا ہاں اُنہیں رائے ضرور دی تھی " میں نے جواب دیا " اور مجھے ڈرامے دیکھنے میں بھی دلچسپی نہیں "
" میں یہاں سے فون کر سکتا ہوں " جوزی نے پوچھا ، تو میں نے فون آگے کر دیا ۔ اُس نے نمبر ملایا
" یار جمیل صاحب، میجر صاحب تو راضی نہیں ۔ میں درانی کو کیا کہوں ؟" جوزی بولا اور کچھ سن کر میری طرف فون بڑھا دیا ۔
" میجر صاحب ! بس آپ جوزی کے ساتھ میرے آفس آجائیں " 
جمیل صاحب کی آواز آئی ۔ میں جوزی کو لے کر پی ٹی وی پہنچا ۔ وہاں شجاعت علی بھی تھا اور" امجد بخاری " کے آفس میں ہم جمع ہوئے تھے ۔ وہاں امجد بخاری نے مجھے قائل کیا کہ سامنے آپ اور جوزی ہوں گے اور پس پردہ وہ اور جمیل صاحب ، ایک ڈرامہ 40 یا 45 ہزار میں بنے گا بلکہ اِس سے بھی کم کیوں کہ اصلی پولیس والے استعمال ہوں گے اورایک ڈرامہ پی ٹی وی65 ہزار کا خرید لیتا ہے اور اگر آپ خود چلائیں تو آپ کو ٹائم خریدنا پڑتا ہے اور ڈرامے کی کوالٹی پر منحصر ہے کہ وہ پرائم ٹائم میں چلے یا دیگر ٹائم میں ۔ جس کے لئے اشتہارات کے ذریعے پروڈیوسر کو آمدنی ہوتی ہے ۔

لیکن شروع میں کچھ رقم دینا ہو گی اور پھر جب ڈرامہ چلے گا تو وہ اپنی آمدنی سے بنتا ہے گا ۔
" کتنی رقم دینا ہو گی اور کہاں سے آئے گی ؟" میں نے پوچھا
" کوئی 60 یا 65 ھزار دو قسطوں کے لئے چاھئیے کیوں کہ ہم دو دو قسطوں کی کہانے بنائیں گے تاکہ ناظرین کی دلچسپی بھی ہے اور خرچ بھی کم آئے اور یہ بھی یک مشت نہیں ہوگا ۔ پہلے ہم پرومو پی ٹی وی کو دیں گے اپروو ہونے کے بعد پہلی قسط ، سنسر اور منظوری کے لئے دیں گے ، قسط منظور ہونے کے بعد ہم باقی قسطیں بنانا شروع کریں گے ، پرومو بنتے ہی میں دو منٹ کے اشتہارات دلوادوں گا ، جوزی کے پاس بھی ایک کمپنی ہے جو ڈیڑھ منٹ کے اشتہار دے دے گی " امجد بخاری نے تفصیل بتائی ۔
" میں سوچتا ہوں اور آپ کو بتاتا ہوں " میں نے نیم حامی بھری ۔
واپس آیا اور اپنے بزنس کے گرو،" اکرم خورشید " کے پاس پہنچا ۔ بزنس میں مجھے اکرم نے ڈالا تھا، اُسے ساری بات بتائی ، اُس نے منظوری دے دی بلکہ اپنا خوبصورت آفس بھی ریکارڈنگ کے لئے دے دیا ۔
یوں ایک رجسٹرڈ کمپنی " فرینڈس ایسوسی ایٹس " 27 جولائی 2000 میں وجود میں آئی ۔ 
کچھ پرانی تصاویر ڈھونڈنے کے لئے فائلیں دیکھ رہا تھا کہ یہ دو پلیٹیں زمین پر گریں ، اُٹھا کر دیکھا تو ۔۔۔۔۔۔!

 امجد بخاری، جمیل خان ، شجاعت علی ۔ اسلم ناز ، اقبال فہیم جوزی ، غضنفر بخاری اور ہمارے میرپورخاص کے سکول فیلو ، راؤ مختار احمد اور ہاں اپنے ضیاء اللہ خان نیازی کے علاوہ کئی اور نام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !

شِک کر کے دماغ کی سکرین سے ایک دم دمدارستارے کی طرح گذر گئے ۔ لیکن اُس کی چھوڑی ہوئی لکیر نے یادوں کو تازہ کر دیا ۔





خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔