Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 30 جون، 2016

آم کا اچار گھر میں بنائیں مزے سے کھائیں


  گھر میں  اچار بنانے کے لئے کیریوں (کچا آم)  کا انتخاب نہایت ضروری ہے ۔ 
جن کیریوں میں گٹھلیوں   پر رواں نہ آیا ہو اور وہ کچی نہ ہوں اور سخت  ہوں وہ اچار کے لئے
بہتر ہوتی ہیں ۔ اگر کیریاں کاٹنے پر  پکی ہوئی یعنی اندر کے گودے میں سفیدی پیلاہٹ میں تبدیل ہوجائے ، اُنہیں علیحدہ کر لیں ، اور اُس سے مربہ بنائیں ۔

کیریوں   کو کاٹیں اور اُن کے بیج   نہ پھینکیں ، کیوں کہ ہر پھل کے بیج میں  وٹامن بی-17  ہوتا ہے ، جو کینسر سے بچاتا ہے ۔
کیریاں کاٹ کر پہلے اچھی طرح دھو لیں ۔ پھر دھوپ میں خشک کر لیں ۔ خشک ہونے کے بعد نمک لگا کرمرتبان (گھڑے)   میں ڈالیں اور منہ صرف کپڑے سے بند کرکے تین دن تک کے لئے رکھ دیں ۔ اورمرتبان (گھڑے) کو  ہلاتی رہیں ۔ 
یاد رہے کہ اگر اچھا اچار بنانا ہے تو  پہلے گھڑے میں ایک ماہ  تک  سرسوں کا تیل گرم کرکے ڈالیں اور گھڑے کو ڈھک دیں ، تیل گھڑے کے مساموں   میں بَس جائے گا ، جب تیل گھڑے کے بار نظر آنے لگے تو گھڑا، اچار بنانے کے لئے تیار  ہوچکا ہے ۔ 
آپ سرامک جار بھی استعمال کر سکتی  ہیں ، لیکن جب اچار تیار ہوجائے تو بھر اِس میں ڈالا جاتا ہے تاکہ  تیل رِس کر کم نہ ہوجائے ۔
جب کٹی ہوئی کیریاں  اپنا پانی چھوڑ دے تو سارا پانی نکال کر کیریوں کو خشک کر لیں ۔ اب اچار کے مرتبان کے کے مطابق سرسوں کا تیل لیں اور اُسے گرم کریں ۔ تاکہ اُس میں موجود جو پانی کے بخارات ہیں وہ نکل جائیں ۔ 
تیل کو کڑھائی میں ہی ٹھنڈا کریں ، مرتبان میں کیریاں اتنی ڈالیں کہ وہ مرتبان کے منہ سے تقریباً چوتھائی خالی ہوں اب مصالحہ حسبِ پسند ڈالیں اور مرتبان کو اچھی طرح ہلائیں ۔
اُس کے بعد ٹھنڈا تیل ڈال دیں ۔ اور مرتبان کا منہ مضبوطی سے بند کر کے ہفتے تک دھوپ میں رکھ دیں ۔ اور روزانہ اچھی طرح ہلاتی رہیں تاکہ مصالحہ کیریوں میں رچ جائے ۔
ہفتے بعد آپ کا اچار تیار ، اچار جتنا پرانا ہوگا اتنا ہی مزیدار ہو گا ۔

احتیاط:  
٭-  جب اچار بن جائے ، تو کھانے کے لئے کسی چھوٹی بوتل میں نکال لیں ،
٭-  یاد رہے کہ تیل کو ہمیشہ اچار سے اوپر رھنا چاھئیے ۔
 تیل کو کبھی کیریوں سے نیچے نہیں جانا جاہیئے ورنہ پھپھوندی لگ کر سارا اچار خراب ہو جائے گا ۔ وہ علاقے ، جہاں پھپھوندی کے ذرات اُڑتے رہتے ہیں وہاں ، اچار خشک کمرے میں بنائیں ۔ 
 اچار کے مصالحہ میں :
نمک ، مرچ ،  ہلدی ، کلونجی ، رائی ، میتھی دانہ ،  سونف ہینگ  کے علاوہ   لہسن ، ادرک  بھی ڈالی جاتی ہیں ۔ 
آم کا انسانی صحت  پر اثر:
آم کو بلا شبہ پھلوں کا بادشاہ  کہا جاتا ہے اور اِس کے اچار کوذائقوں  میں سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔  
آم میں سب سے زیادہ غدائیت پائی جاتی ہے ،۔ دیگر پھولوں سے زیادہ وٹامن   A موجود ہے ، وٹامن     B1 اور   B2 بھی ہیں ، اِس میں وٹامن سی بھی دیگر پھلوں سے کم نہیں ، اِس کے بیج میں وٹامن  B17 موجود ہے جو کینسر کے دفاع کے لئے بہترین ہے ۔ اِس کے فعال اجزا میں منگیفرن  ، گالک ایسڈ (GALLIC ACID)  اور  مٹھاس   15%  سے   19%  تک موجود ہے۔
 ٭ - ہاضمے کو درست کرتا ہے ۔
٭-عمر رسیدگی کے نشانات ختم کرتا ہے ۔
٭- ذہنی  صحت  کا ضامن ہے ۔
٭- انسانی امیون سسٹم کو مضبوط کرتا ہے ۔
٭- جلد کو تازگی بخشتا ہے ۔
٭- جسم میں انسولین کو ریگولیٹ کرتا ہے ۔
٭- ہیٹ سٹروک سے بچاتا ہے ۔
٭- بینائی کو تیز کرتا ہے ۔
٭- جسم میں الکلی کا توازن رکھتا ہے ۔
٭- کینسر کے خلاف مؤثر دفاعی صلاحیت رکھتا ہے ۔
٭-انسانوں  کے لئے قوت و فرحت بخش پھل ہے ۔

٭٭٭صحت  پر  مضامین پڑھنے کے لئے کلک کریں   ٭واپس٭٭٭٭

جمعرات، 23 جون، 2016

سکینڈل کوئین قندیل بلوچ کون ہے؟


 پہلا رُخ قندیل بلوچ کے مطابق !
فیس بک  کی مدد سے  اپنے متنازعہ کردار کی وجہ سے شہرت حاصل کرنے والی قندیل بلوچ کا حقیقی نام فوزیہ عظیم ہے, ان کے والد کا نام ملک عظیم ہے۔
فوزیہ عظیم یکم مارچ 1990 میں   جنوبی پنجاب کے پسماندہ ترین ضلع ڈیرہ غازیخان کے علاقے شاہ صدر دین میں  ، ماہڑہ  قوم کے  ملک عظیم   کے گھر پیدا ہوئی ۔ 
 گورنمنٹ گرلز ہائی سکول شاہ صدر دین میں  13 سال کی عمر میں جب وہ آٹھویں جماعت میں پڑھ رہی، اُسے احساس ہوا کہ وہ بالغ ہوچکی ہے ، اُس کی نظریں کسی " مرد " کو تلاش کرنے لگیں ، جو اُس کا رکھوالا بنے ، اُس کے مستقبل کو تحفّظ دے اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ خوشگوار ازدواجی زندگی گذارے ۔ ٹی وی ڈرامے دیکھ کر اور محبت کی افسانوی کہانیاں سن کر ، اُس کا دل کبھی نہیں چاہا کہ پرستان کا کوئی شہزادہ اُس کے لئے آئے ، بس اپنے یا دوسرے گاؤں کا کوئی غیرت مند  ، نوجوان ہو ۔
یوں اُس کی زندگی میں وہ " مرد" آگیا  ۔ جو 
شادن لُنڈ کا رہنے والا تھا ، دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوگئے ۔ اور اُنہوں نے خاندانی رواج  کو توڑتے ہوئے ، کسی دوسرے شہر جاکر شادی کا پروگرام بنایا ۔  ملتان  اور اِس کے گرو نواح سے جتنے پنچھی اُڑے ، انہوں نے آسٹریلیا کی مرغابیوں کی طرح ، کراچی کے سمندر کے کنارے اپنی اُڑان توڑی ۔
ایک رات پروگرام کے مطابق ، جب سب گھر والے سو رہے تھے تو فوزیہ عظیم ، گھر سے نکلی ، گلیوں سے چھپتی چھپاتی ، شہر جانے والے سڑک کے نزدیک ٹبّے والے جھنڈ کے نزدیک  ، اپنے محبو ب  سے ملنے کا پروگرام بنایا ، تاکہ وہاں  سے آگے وہ دونوں ، اکھٹے زندگی کے سفر پر روانہ ہوں-

 لیکن شادن لُنڈ کا  " مرد " نامرد نکلا ،  آگے اندیکھی منزل اور پیچھے کھائی ،  یہی وقت فوزیہ عظیم کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا کیونکہ اب فوزیہ عظیم (قندیل بلوچ)کے پاس دو ہی راستے تھے ایک یہ کہ وہ واپس اپنے گھر چلی جائے اور گاؤں والوں کی شرمندگی کا سامنا کرے دوسرا زندگی کے سفر کی بیکراں کھائی میں چھلانگ لگادے -
باہمت ، اپنی منزل خود ڈھونڈھنے والی ایک دیہاتی لڑکی نے ،  اپنی زندگی کا اہم ترین فیصلہ کیا اور نئی منزل کی طرف روانہ ہوگئی ، کم پڑھی لکھی اور خوبصورت لڑکی کے پا س    سوائے اِس کے اور کوئی راستہ نہ تھا کہ وہ ، ملتان ہی میں کسی کے ڈیرے پر بیٹھ جائے اور یا  فلم انڈسٹری کا دروازہ کھٹکھٹائے ، جہاں اُس کا جسمانی سفر بہت ہی کٹھن ہوتا ، وہ جس بس میں سفر کر رہی تھی اُس کی ہوسٹس سے ، اُس نے بات چیت کی اور اپنے بارے میں بتایا ، اُس خدا ترس کے اُسے ایک بہترین راہ دکھائی، جو
فوزیہ عظیم    کو نہایت پسند آئی -
یوں اُن نے اولیا ؤں ، درویشوں  اور مزاروں کے علاقے میں پناہ لی   ،    کہا جاتا ہے ، کہ عرب فوجیوں  نے ملتان کو ایک نئے کلچر سے روشناس کروایا ، جہاں خصوصی طور پر کہا جاتا ہے کہ اگر ملتان کی اخلاقی  قدروں کو کسی نے پامال کیا ، تو  وہ یہی عرب تھے ، جنہوں نے شادیاں تو خیر کیں ، مگر  ایک شادی کے علاوہ نکاحوں کا انبار لگا دیا ، پھر ایران سے آنے والے ، فارس  والے سرخ  و سپید  نو مسلم ایرانیوں نے ،  ملتان کی دھوپ کی تمازش سے تپتے ہوئے حسن کو رنگ کا ایک نیا امتزاج دیا ،  افغانیوں کا تو یہ ہندوستان جانے والا چوراہا تھا  ، 
غرض  کہ اِن تمام سپاہیان  ماضی کے بے انتہا کاوشوں کی وجہ سے ، ملتان کی راتیں جاگتی تھیں ،  مشہور تھا کہ ملتانیوں کی اِس اخلاقی کایا پلٹ کی وجہ سے ، نجانے کب کا آسمان اُس پر ٹوٹ گرتا ، مگر  ملتان شہر   پرآسمان گرنے سے بچانے کے ، دن کو مزار اُسے سہارا دیتے اور رات کو  ۔ ۔ ۔ ۔ سینسر ۔ ۔ ۔ ۔   !
فوزیہ عظیم  نے  ملتان میں ، ایک نجی بس کمپنی میں بطور بس ہوسٹس فرائض سرانجام دینا  ، شروع  کر دی، اس نوکری کے دوران فوزیہ عظیم کو تلخ حقائق کا سامنا کرنا پڑا۔بس کے ہر ٹرپ کے 36  مسلمان مسافر ، اُسے  کہنیاں مارتے ، کندھے ٹکراتے اترتے ، آنکھوں آنکھوں میں سمجھاتے کہ اُن سے زیادہ مخلص اور محبت کرنے والا ، " مرد" پورے پاکستان تو کیا دنیا میں بھی ڈھونڈے سے نہیں ملے گا ، لیکن اُس کی  نوخیز جوان زندگی کا پہلا  " شادن لُنڈ کا مرد " ہی نامرد نکلا  ۔ تو اُسے یوں لگتا تھا کہ یہ سب بھی " نامرد" ہیں اور ملتان کی اخلاقی قدروں کو تباہ کرنے والے ، عرب ، افغانی اور ایرانی بھی ، "نامرد" ہی تھے ، اُسے یوں لگتا تھا کی دنیا ، مسلمان نامردوں سے بھری ہوئی ہے ۔  اُسے  بھی کئی ، نامردوں نے ایک رات کا سہارا دینے کی کوشش کی ، لیکن اُس  نے  ملتانی مسلمانوں کے سامنے  ھار نہ مانی ۔ مسلمانوں ، درویش صفت انسانوں نے ملتانی زندگی ، کی اونچ نیچ اور نشیب وفراز سمجھانے کی کوششیں کی ، ترقی کی منزلوں ، پر آگے بڑھنے کا فلسفہ ، اُس ملتان میں معلوم ہوا کہ آگے بڑھنے کے لئے ، پرانی شناخت مٹانا پڑتی ہے  ۔ جیسے سنتوش کمار ، دلیپ کمار ، زیبا ، رانی  وغیرہ
چنانچہ فوزیہ عظیم  سے اُس نے اپنی شناخت ، قندیل بلوچ میں تبدیل کر نے کا سوچا -
بس کی نوکری چھوڑی اور ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھ دیا ۔  جہاں عزت ہی عزت ہے ، اُسے معلوم تھا ، کہ وہ بھی وینا ملک  کی طرح شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے کے بعد ، پاکستانی مسلمان نامردوں کو ، اُنہی کے اسلام کی تربیت دے گے ، اور ٹی وی  کی رینکنگ بڑھائے گی ۔ کیوں کہ پاکستانی عورت کے منہ سے اللہ ، رسول ، ازواجِ مطہرات کی باتیں سننا زیادہ پسند کرتے ہیں ، اور جب جالی والے کالے کپڑے پہن کر ، عرس پر یا مجلس پر وہ آئے گی تو ، یہی ملتانی اُس کے گُن گائیں گے ،۔
شاہ صدر دین کی بستی ماہڑہ کے رہائشی جو  اب رات کو تاروں کی روشنی میں بیٹھ کر اُس کے والدین کو کوستے ہیں اور دن میں نفرت سے دیکھ کر گذرتے ہیں  ۔ اُس کی راہ میں  پھول بچھائیں گے ، اُس کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب ہوں گے ، جوان تو کیا ادھیڑ عمر  بھی اُس کی حسن کی خیرات لینے کے لئے ، اپنا کشکول ہر وقت ہاتھ میں اُٹھائے رکھیں گے ۔
شاعروں کی توجہ کا وہ خصوصی مرکز بنے گی اور شائد  ، اِس سب جدو جہد کے اختتام پر اُسے ویسا ہی " مرد" مل جائے جیسا ناہید اختر کو ملا ۔
لیکن اِس کے لئے ،  ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد پاکستان چھوڑ کر بیرون ملک چلی گئی۔صرف3سال بعد یعنی2007-08ء میں جنوبی افریقہ چلی گئی۔جہاں اس نے صرف سرمایہ بنانے پر زور لگایا۔مشرق وسطی اور مغربی ممالک اس کی منزل ٹھہرے-






پھر اچانک  قندیل بلوچ پاکستانی ماڈلنگ کے اُفق سے زیادہ   ، فیس بک کی سکرین پر  پاکستانی مسلمان نوجوانوں کی منظورِ نظر بن گئی ۔ اُس نے  پاکستانی  مسلمان نوجوانوں  کی خواہش کے مطابق، اُن کے دماغ میں رہنے والی  جل پری دو شیزہ کا روپ دھار لیا ۔ جو ہر قسم کے لباس میں ، اُن کے سامنے نمودار ہوتی ، 20 کروڑ پاکستانیوں میں اگر یہ کہا جائے ، کہ ایک کروڑ انٹر نیٹ  و موبائل یافتگان کے سامنے ، اُس کا کوئی نہ کوئی مارکیٹنگ سٹنٹ  ، روزانہ نظروں کے سامنے سے گذرتا ہے ، تو جھوٹ نہ ہوگا ۔
اب تو مفتیانِ وقت بھی کمر کس کر میدان میں کود چکے ہیں ، کہ قندیل بلوچ کو سمجھائیں کہ اُس کے نروم و نازک جسم کو دوزخ کی آگ سے بچانے کا واحد راستہ ، اُن کے کمرہ ءِ نکاح سے گذرتا ہے ۔
لیک ایک واحد نامرد ہے جو ، شاہ صدر دین کی بستی ماہڑہ   سے ملتان آنے والی سڑک پر بنی پٗلیا پر بیٹھ کر اپنے دوستوں کو موبائل پر ،
فوزیہ عظیم  کے سکول کے کپڑوں میں وہ  سیلفیاں دکھاتا ہے ، جو اُس نے بنائیں تھیں ۔    فوزیہ عظیم کی بے باکیوں کے قصے  سناتا ہے کہ ، رات کو وہ کیسے اُس سے ملنے آیا کرتی تھی ، لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!
اُس کا کردار اچھا نہیں تھا ، جبھی تو اُس کے ساتھ بھاگ جانے کو تیار ہو گئی ، وہ تو اچھا ہوا کے اُس نے ، بروقت قدم اُٹھا کر اپنے ماں باپ کی عزت کو مٹی میں ملنے سے بچا لیا ۔

دوسرا   رُخ فوزیہ عظیم  ملک  کے شوہر  مطابق !




16 جولائی 2016 ، 11:15  بجے :

تیسرا     رُخ
فوزیہ عظیم  ملک  کو اُس کے بھائی نے ، غیرت کے نام پر گلا دبا کر قتل کر دیا ۔ 





بدھ، 22 جون، 2016

امجد صابری کا قاتل!

https://www.facebook.com/video.php?v=10206664027376461

پولیس رپورٹ کے مطابق ، امجد صابری کے قاتل نے بعینہی یہی طریقہ اختیار کیا، لیکن اُس نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا اور سامنے وائزر تھا-
وہاں موجود چشم دید گواہوں میں سے کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ اُسے روکنے یا پکڑنے کی کوشش کرے ۔
یہ تصویر، مجھے وٹس ایپ پر موصول ہوئی ، لیکن دوستوں نے بتایا کہ، یہ تصویر، بہت پہلے کے واقعہ کی ہے، جو کسی ، پلازے میں لگے  CCTV کیمرے نے کھینچی تھی ۔ 


کراچی میں پولیس نے کئی ایسے کیمرے خطیر رقم سے لگوائے ہیں ، مگر وہ زیادہ تر خراب ہیں ۔
کراچی میں امن کے لئے ضروری ہے کہ نہ صرف ہر گھر بلکہ ہر دکان و بلڈنگ پر ایسے کیمرے ، عوام خود اپنے پیسوں سے اپنی حفاظت کے لئے لگائے، جس میں کسی بھی واردات کے وقت ، دہشت گردوں اور دیگر جرائم کرنے والوں کے چہرے صاف نظر آئیں- 


اِس کے علاوہ ، وہ افراد جنھیں ، اغواء یا قتل کی دھمکی ملی ہو ، وہ اپنی کاروں میں بھی وائی فائی 
CCTV کیمرے لگوائیں، جن کا لنک کار کی خفیہ جگہ پڑے ہوئے موبائل سے ہو اور اِن میں 10 سے 20 منٹ کی ، ری ریکارڈنگ کا نظام ہو(یعنی 10 منٹ ریکارڈنگ کے بعد ، پہلی رکارڈنگ کے اوپر دوسری ریکارڈنگ شروع کر دیں، اور ایمر جنسی یا حادثے کی صورت میں یہ کار میں موجود بٹن دبانے سے آدھا وقت چل کر بند ہوجائیں، اِس قسم کے یہ موبائل گھر میں موجود ماسٹر موبائل پرڈاٹاکے لئے بذریعہ سافٹ ویئرری ڈائریکٹ بھی ہوں ۔

ایک صارف کو 5 سمز رکھنے کی اجازت ہے ۔ اگر ہر گھر کے فرد ، اِن پانچوں سمز کو صرف سیکیورٹی مقصد کے لئے لوپ سسٹم پر استعمال کریں ، تو کوئی بھی موبائل کمپنی ، ایسا نظام وضع کر سکتی ہے ۔ 


جس سے ، حادثے کے متعلق ، فوراً معلوم ہو سکتا ہے اور GPS سسٹم کے ذریعے ، جگہ کی بھی نشاندھی ، ماسٹر موبائل پر ایمر جنسی کی اطلاع دیں -

یاد رہے کہ کسی قسم کی دہشت گردی کے خلاف جنگ عوام نے ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بہترین کارکردگی والے مواصلاتی سسٹم سے مل کر لڑنا ہے ۔

شرک - بدعت - حلال - حرام - جنت اور جھنم کی تکراروں نے دو بیٹیوں سے ایک مہربان چھین لیا - تف لعنت ھے تمھاری اس سوچ پر جو صرف انسانی لہو اور لاشے مانگتی ھے ـ


امجد صابری کی آخری خواہش 








اتوار، 19 جون، 2016

BALANCE SHEET Of LIFE:


🔺Birth is your
          Opening Stock.
                 
🔺What comes to you is
                  Credit.
                 
🔺What goes from you is
                   Debit.

🔺Death is your
            Closing Stock.

🔺Your ideas are your
               Assets.

🔺Your views are your
              Liabilities.

🔺Your happiness is your
                   Profit.

🔺Your sorrow is your
                  Loss. 
🔺Your soul is your
               Goodwill.

🔺Your heart is your fixed
                   Assets.

🔺Your duties are your
   outstanding Expenses.

🔺Your friendship is your
        hidden Adjustment.

🔺Your character is your
                  Capital.

🔺Your knowledge is your
               Investment.

🔺Your patience is your
            Bank Balance.

🔺Your thinking is your
         current Account.

🔺Your behaviour is your
              journal Entry.

🔺Bad things is your
          Depreciation.

Have a nice balance sheet.

      Always Remember
               GOD
              is your
             Auditor

منگل، 14 جون، 2016

تاریخ میں جھوٹ کِس نے بھرا ؟

 الکتاب کی اِس آیت کی روشنی میں !



والدہ نے سات دن دودھ پلایا‘ آٹھویں دن چچا ابو لہب کی کنیز ثوبیہ کو یہ اعزاز حاصل ہوا‘ ثوبیہ نے دودھ بھی پلایا اور رضاعی ماں بن کرچند دن دیکھ بھال کی، یہ چند دن کا دودھ تھا ، لیکن محمد بن عبداللہ نے اس احسان کو پوری زندگی یاد رکھا‘ 
مکہ میں رہتے ہوئے رضائی ماں ثوبیہ کو میری ماں ! میری ماں! کہہ کر پکارتے تھےاور ہر طرح کا معاشی خیال رکھتے ۔
مدینہ ہجرت کی تو مدینہ سے، ابولہب کی کنیز اپنی رضاعی ماں ثوبیہ ، کیلئے کپڑے اور رقم بھجواتے تھے‘
رضاعی ماں ثوبیہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔   
یہ ہے انسانی حسنِ سلوک ۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
دوسری رضاعی ماں حلیمہ سعدیہ تھیں - یہ ملاقات کےلئے آئیں‘ دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے اور میری ماں! میری ماں!  پکارتے ہوئے ان کی طرف دوڑ پڑے‘
وہ قریب آئیں تو اپنے جسم سے چادر اتار کر زمین پر بچھا دی اور  اپنی رضاعی ماں کو اس پر بٹھایا‘
غور سے ان کی بات سنی اور ان کی تمام حاجتیں پوری فرما دیں‘ یہ بھی ذہن میں رہے- حلیمہ سعدیہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا‘ وہ اپنے پرانے مذہب پر ہی قائم رہی تھیں -

یہ ہے مذہبی رواداری !

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
فتح مکہ کے وقت حلیمہ سعدیہ کی بہن خدمت میں حاضر ہوئی
‘ماں کے بارے میں پوچھا‘ بتایا گیا‘ وہ انتقال فرما چکی ہیں
‘ رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘
روتے جاتے تھے
اور
حلیمہ سعدیہ کو یاد کرتے جاتے تھے‘ رضاعی خالہ کو لباس‘ سواری اور سو درہم عنایت کئے‘
رضاعی بہن شیما غزوہ حنین کے قیدیوں میں شریک تھی‘ پتہ چلا تو انہیں بلایا‘ اپنی چادر بچھا کر بٹھایا‘
اپنے ہاں قیام کی دعوت دی‘ حضرت شیما نے اپنے قبیلے میں واپس جانے کی خواہش ظاہر کی‘ رضاعی بہن کو غلام‘ لونڈی اور بکریاں دے کر رخصت کر دیا ‘
یہ بعد ازاں اسلام لے آئیں‘
 
یہ ہے انسانیت ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جنگ بدر کے قیدیوں میں پڑھے لکھے کفار
بھی شامل تھے‘ ان کافروں کو مسلمانوں کو پڑھانے‘ لکھانے اور سکھانے کے عوض رہا کیا گیا‘

حضرت زید بن ثابتؓ کو عبرانی سیکھنے کا
حکم دیا‘ آپؓ نے عبرانی زبان سیکھی اور یہ اس زبان میں یہودیوں سے خط و کتابت کرتے رہے‘
 یہ ہے علم کا حصول و استعمال  ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

حضرت حذیفہ بن یمانؓ سفر کر رہے تھے‘ کفار جنگ بدر کیلئے مکہ سے نکلے‘ کفار نے راستے میں حضرت حذیفہؓ کو گرفتار کر لیا‘ آپ سے پوچھا گیا‘ آپ کہاں جا رہے ہیں‘ حضرت حذیفہؓ نے عرض کیا
 ’’مدینہ‘‘
کفار نے ان سے کہا ’’ آپ اگر وعدہ کرو‘ آپ جنگ میں شریک نہیں ہو گے تو ہم آپ کو چھوڑ دیتے ہیں‘‘
حضرت حذیفہؓ نے وعدہ کر لیا
‘ یہ اس کے بعد سیدھے مسلمانوں کے لشکر میں پہنچ گئے
‘ مسلمانوں کو اس وقت مجاہدین کی ضرورت بھی تھی‘ جانوروں کی بھی اور ہتھیاروں کی بھی
لیکن جب حضرت حذیفہؓ کے وعدے کے بارے میں علم ہوا تومدینہ بھجوا دیا گیا
 اور فرمایا 
’’ہم کافروں سے معاہدے پورے کرتے ہیں اور ان کے مقابلے میں صرف اللہ تعالیٰ سے مدد چاہتے ہیں ‘‘  
یہ ہے عہد کی پاسداری  ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 کافروں کا ایک شاعر تھا‘ سہیل بن عمرو۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں بھی کرتا تھا اور توہین آمیز شعر بھی کہتا تھا‘ یہ جنگ بدر میں گرفتار ہوا‘ سہیل بن عمرو کو بارگاہ رسالت میں پیش کیا گیا
‘ حضرت عمرؓ نے تجویز دی‘ میں اس کے دو نچلے دانت نکال دیتا ہوں‘ یہ اس کے بعد شعر نہیں پڑھ سکے گا‘
تڑپ کر فرمایا
’’ میں اگر اس کے اعضاء بگاڑوں گا تو اللہ میرے اعضاء بگاڑ دے گا‘‘
سہیل بن عمرو نے نرمی کا دریا بہتے دیکھا تو عرض کیا
 ’’ مجھے فدیہ کے بغیر رہا کر دیا جائے گا‘‘
اس سے پوچھا گیا
’’کیوں؟‘‘
سہیل بن عمرو نے جواب دیا
’’ میری پانچ بیٹیاں ہیں۔ میرے علاوہ ان کا کوئی سہارا نہیں"

 رسول اللہ ﷺ نے سہیل بن عمرو کو اسی وقت رہا کر دیا
‘ یہاں آپ یہ بھی ذہن میں رکھیئے‘ سہیل بن عمرو شاعر بھی تھا اور گستاخِ رسول اور توھینِ رسالت کا الزام بھی تھا ۔
 لیکن رحمت اللعالمینؐ کی غیرت نے گوارہ نہ کیا
‘ یہ پانچ بچیوں کے کفیل کو قید میں رکھیں
یا
پھر اس کے دو دانت توڑ دیں!

 یہ ہے انسانیت ۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
عمرو بن عبدود مشرک بھی تھا،  ظالم بھی اور کفار کی طرف سے مدینہ پر حملہ آور ہوا ۔
جنگ خندق کے دوران عمرو بن عبدود مارا گیا‘ اس کی لاش تڑپ کر خندق میں گر گئی‘
کفار اس کی لاش نکالنا چاہتے تھے لیکن انہیں خطرہ تھا‘ مسلمان ان پر تیر برسادیں گے‘
کفار نے اپنا سفیر بھجوایا‘
سفیر نے لاش نکالنے کے عوض
دس ہزار دینار دینے کی پیش کش کی

‘ رحمت اللعالمینؐ نے فرمایا
 ’’میں مردہ فروش نہیں ہوں‘ ہم لاشوں کا سودا نہیں کرتے‘
یہ ہمارے لئے جائز نہیں‘

کفار کو عمرو بن عبدود کی لاش اٹھانے کی اجازت دے دی

 یہ ہے انسانیت ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
‘ خیبر کا قلعہ فتح ہوا تو یہودیوں کی عبادت گاہوں میں تورات کے نسخے پڑے تھے‘ تورات کے سارے نسخے اکٹھے کروائے اور نہایت ادب کے ساتھ یہ نسخے یہودیوں کو پہنچا دیئے -
 یہ ہے انسانیت اور مذہبی رواداری  ۔
( باقی سب کہانیاں و یاوہ گوئیاں ہیں ، جو لذتِ سمع کے لئے افتراء کی گئیں )


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اور خیبر سے واپسی پر فجر کی نماز کیلئے جگانے کی ذمہ داری حضرت بلالؓ کو سونپی گئی
‘حضرت بلالؓ کی آنکھ لگ گئی‘ سورج نکل آیا تو قافلے کی آنکھ کھلی‘ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلالؓ سے فرمایا
’’بلال آپ نے یہ کیا کیا؟"
‘‘ حضرت بلالؓ نے عرض کیا :
’’ یا رسول اللہ ﷺ جس ذات نے آپؐ کو سلایا‘ اس نے مجھے بھی سلا دیا‘‘
تبسم فرمایا اور حکم دیا
 ’’تم اذان دو‘‘ اذان دی گئی:
آپؐ نے سورج نکلنے کے باوجود جماعت کر وائی اور نماز ادا کروائی ۔
( سورج نہ نکلنے کا شعری قصہ ، یاوہ گوئی ہے اور کذب و افتراء ہے )
 اور پھر فرمایا
 ’’تم جب نماز بھول جاؤ تو پھر جس وقت یاد آئے اسی وقت پڑھ لو‘‘

 یہ ہےالدین میں آسانی  ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نجران کے عیسائیوں کا چودہ رکنی وفد مدینہ منورہ آیا‘ رسول اللہ ﷺ نے عیسائی پادریوں کو نہ صرف ان کے روایتی لباس میں قبول فرمایا بلکہ انہیں مسجد نبویؐ میں بھی ٹھہرایا اور انہیں ان کے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت بھی تھی‘

یہ عیسائی وفد جتنا عرصہ مدینہ میں رہا‘ یہ مسجد نبویؐ میں مقیم رہا اور مشرق کی طرف منہ کر کے عبادت کرتا رہا‘ ایک مسلمان نے کسی عیسائی کو قتل کر دیا‘ آپؐ نے مسلمان کے خلاف فیصلہ دیا اور یہ مسلمان قتل کے جرم میں قتل کر دیا گیا-

 یہ ہےانصاف  ۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
‘ حضرت سعد بن عبادہؓ نے فتح مکہ کے وقت مدنی ریاست کا جھنڈا اٹھا رکھا تھا‘ یہ مکہ میں داخل ہوتے وقت جذباتی ہو گئے  - انہوں نے حضرت ابو سفیانؓ سے فرمایا
’’ آج لڑائی کا دن ہے‘ آج کفار سے جی بھر کر انتقام لیا جائے گا‘‘
رحمت اللعالمینؐ نے سنا تو ناراض ہو گئے‘ ان کے ہاتھ سے جھنڈا لیا‘ ان کے بیٹے قیسؓ کے سپرد کیا -  اور فرمایا
 ’’نہیں آج لڑائی نہیں‘ رحمت اور معاف کرنا کا دن ہے‘‘۔

 یہ ہےعفو و درگذر   ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
فتح مکّہ سے پہلے، مکہ میں قحط پڑ گیا - مدینہ سے رقم جمع کی‘ خوراک اور کپڑے اکٹھے کئے اور یہ سامان مکّہ بھجوادیا-  اور ساتھ ہی اپنے اتحادی قبائل کو ہدایت کی
’’مکہ کے لوگوں پر برا وقت ہے - آپ لوگ ان سے تجارت ختم نہ کریں "

 یہ ہےنظام الصدقات ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 مدینہ کے یہودی اکثر مسلمانوں سے یہ بحث چھیڑ دیتے تھے
’’نبی اکرم ﷺ فضیلت میں بلند ہیں یا حضرت موسیٰ ؑ ‘‘
یہ معاملہ جب بھی دربار رسالت میں پیش ہوتا‘ رسول اللہ ﷺ مسلمانوں سے فرماتے
’’آپ لوگ اس بحث سے پرہیز کیا کریں‘‘۔
کیوں کہ فضیلت دینا اللہ کا حق ہے ، انسانوں کا نہیں !

 یہ ہےاحکام الہی پر عمل ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ثماثہ بن اثال نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کا اعلان کر رکھا تھا‘ اور توھینِ رسالت کا مرتکب ہوا ، یہ گرفتار ہوگیا‘ اسلام قبول کرنے کی دعوت دی‘ اس نے انکار کر دیا‘ یہ تین دن قید میں رہا‘ اسے تین دن دعوت دی جاتی رہی‘ یہ مذہب بدلنے پر تیار نہ ہوا تو اسے چھوڑ دیا گیا‘ اس نے راستے میں غسل کیا‘ نیا لباس پہنا‘ واپس آیا اور دست مبارک پر بیعت کر لی
 یہ ہے عفو و درگذر ۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔ ابو العاص بن ربیع رحمت اللعالمین ؐکے داماد تھے‘ رسول اللہ ﷺکی صاحبزادی حضرت زینبؓ ان کے عقد میں تھیں‘ یہ کافر تھے‘ یہ تجارتی قافلے کے ساتھ شام سے واپس مکّہ جا رہے تھے‘ مسلمانوں نے قافلے کا مال چھین لیا‘ یہ فرار ہو کر مدینہ آگئے اور حضرت زینبؓ کے گھر پناہ لے لی‘
صاحبزادی مشورے کیلئے بارگاہ رسالت میں پیش ہو گئیں‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا -
’’ابوالعاص کی رہائش کا اچھا بندوبست کرومگر وہ تمہارے قریب نہ آئے کیونکہ تم اس کیلئے حلال نہیں ہو‘‘
حضرت زینبؓ نے عرض کیا
’’ابوالعاص اپنا مال واپس لینے آیا ہے‘‘
مال چھیننے والوں کو بلایا اور فرمایا گیا
’’یہ مال غنیمت ہے اور تم اس کے حق دار ہو لیکن اگر تم مہربانی کر کے ابوالعاص کا مال واپس کردو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اجر دے گا‘‘
 صحابہؓ نے مال فوراً واپس کر دیا‘
حضرت زینبؓ قبول اسلام کی وجہ سے مشرک خاوند کیلئے حلال نہیں تھیں لیکن رسول اللہ ﷺنے داماد کو صاحبزادی کے گھر سے نہیں نکالا-

 یہ ہےفہم الدین اور صلہ رحمی  ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت عائشہؓ نے ایک دن رسول اللہ ﷺ سے پوچھا
’’ زندگی کا مشکل ترین دن کون سا تھا‘‘
فرمایا۔
"وہ دن جب میں طائف گیا اور عبدالیل نے شہر کے بچے جمع کر کے مجھ پر پتھر برسائے‘ میں اس دن کی سختی نہیں بھول سکتا "
عبدالیل طائف کا سردار تھا‘ اس نے رسول اللہ ﷺ پرظلم ڈھائے -
عبدالیل ایک بار طائف کے لوگوں کا وفد لے کر مدینہ منورہ آیا
‘ رسول اللہ ﷺ نے مسجد نبویؐ میں اس کا خیمہ لگایا  اور عبد الیل جتنے دن مدینہ میں رہا‘ رسول اللہ ﷺ ہر روز نماز عشاء کے بعد اس کے پاس جاتے‘ اس کا حال احوال پوچھتے‘ اس کے ساتھ گفتگو کرتے اور اس کی دل جوئی کرتے-

 یہ ہےدشمنوں کے ساتھ احسن سلوک  ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 ایک صحابیؓ نے عرض کیا
’’یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی نصیحت فرمائیں‘‘
جواب دیا ’’غصہ نہ کرو‘‘
وہ بار بار پوچھتا رہا‘ آپؐ ہر بار جواب دیتے!
’’غصہ نہ کرو‘‘

 یہ ہےانسانیت ۔

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
میں حیران ہوں کہ تاریخ میں جھوٹ کِس نے بھرا ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔