Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
‏تاریخ کا قبرستان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏تاریخ کا قبرستان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 14 نومبر، 2023

اسرائیل کے لئے عرب بغاوت

 سلطنت عثمانیہ قائم تھی توالقدس مسلمانوں کے پاس تھا۔ ہنستا بستا شہر تھا، جس میں مسلمان عزت اور آبرو سے جی رہے تھے۔ ان کے بچے بھی محفوظ تھے اور ان کی مائیں بہنیں اور بیٹیاں بھی سکون سے زندگی گزار رہی تھیں۔ پھر عربوں  نے  دوسری جنگ عظیم کی اتحادی فوجیوں  کے ساتھ مل کر  شہنشاہ جارج پنجم    کی سر براہی میں  سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کی ا ور نتیجہ یہ نکلا کہ   یروشلم میں کنگ سلومن کا  تعمیر کردہ  ہیکل سلیمانی  دیوار گریہ سمیت  ،یہودیوں   کی ملکیت بن گیا ۔جس کے لئے  ایک کہانی تخلیق کی گئی ۔ درد اور دکھوں میں لپٹی کہانی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

یہ 10 جون 1916 کی بات ہے۔برٹش مہم جو فوج کی قیادت میں جنرل آرچی بالڈ مرے اورشریف مکہ   شاہ حسین ابن علی کے درمیان ، عثمانیہ  ترکوںکو خطہ عرب  سے نکالنے کا ایک معاہد ہوا ۔    جس پر ۔بولی اماں محمد علی کی، جان بیٹا خلافت پہ دے دو۔

اُس بغاوت کو ’الثورۃ العربیہ الکبری‘ کا نام دیا گیا۔  ثَوْرٌعربی  میں میں  بھینسے  کو کہتے ہیں اورثَوْرَة بغاوت کو ۔

باغی بھینسے 1919 میں حسین ابن علی شاہ اردن کی قیادت میں اپنا ترنگا پرچم  لہراتے  دمشق پر قابض ہوگئے۔ 

    برطانیہ کے لیفٹیننٹ کرنل ہنری  میک موہن کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس کے نتیجے میں عربوں نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کر دی، 
ہنری میک موہن معلوم ہے کہ کس رائل  انڈین انفنٹری رجمنٹ کے کمانڈنگ آفیسر تھا؟

   پنجاب فرنٹئیر فورس (1843) ۔میں 1885  میں جائن کیا  اور فرسٹ سکھ رجمنٹ جو 1901 میں پنجاب کے سکھوں اور پٹھانوں سے مل کر بنائی گئی تھی میں پوسٹ ہوا ۔پھر وہاں سے  پنجاب سول سروس کمیشن پنجاب میں ٹرانسفر ہوا ۔میجر ہنری میک موہن ،بہترین اردو ، پنجابی اور پشتو جانتا تھا  پھر اِس نے عربی میں مہارت حاصل کی۔

   جب بغاوت کا فیصلہ ہو چکا  اور اس کی جزئیات طے ہو چکیں تو اگلا مرحلہ اس عرب بغاوت اور مزاحمت کا پرچم تیارکرنا تھا۔ کتنی عجب بات ہے کہ بغاوت مسلمان کر رہے تھے لیکن اس بغاوت کا پرچم برطانوی سفارت کار تیار کر رہے تھے۔  
یہ پرچم ایک برطانوی   انٹیلیجنس آ فیسر   کرنل مارک سائیکس (سفارت کار)  نے تیار کیا۔ مارک سائیکس صیہونیوں کے بہت قریب تھے اور جس اعلان بالفور کے نتیجے میں اسرائیل قائم کیا گیا اس اعلان کو حقیقت بنانے میں کرنل صاحب کا بڑا اہم کردار تھا۔
 مارک سکائیس نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف عرب بغاوت کا جو پرچم تیار کیا اس میں چار رنگ شامل تھے۔ اس میں سیاہ، سفید اور سبز یعنی تین رنگوں کی تین افقی پٹیاں تھیں اور ایک تکون تھی جس کا رنگ رخ تھا۔
سیاہ رنگ عباسی سلطنت کی یادگار کے طور پر لیا گیا، سفید رنگ کو اموی سلطنت سے نسبت دی گئی  اور سبز رکنگ فاطمی خلافت کی یادگار کے طور پر رکھا گیا۔ تکون کا سرخ رنگ ہاشمی خاندان یعنی اشراف مکہ کی نسبت سے لیا گیا یو ں سمجھ لیجیے کہ یہ رنگ شریف مکہ شاہ  حسین بن علی کی ممکنہ سلطنت کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور  پر چناگیا جو جو شریف مکہ اور مک موہن معاہدے کی روشنی میں سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد وجود میں آنا تھی۔

 

پرچم بھی تیار ہو گیا اور بغاوت بھی شروع ہو گئی۔ یہاں تک کہ ایک وقت وہ آیا کہ یروشلم کا محاصرہ کر لیا گیا۔ عثمانی افواج لڑیں اور یروشلم کے اطراف میں شہید ہونے والے فوجیوں کی تعداد ایک روایت کے مطابق 25 ہزار تھی۔ لیکن یہ افواج بے بس ہو گئیں۔ اس کی بہت ساری وجوہات تھیں مگر ان میں سے دو بہت نمایاں تھیں۔
پہلی وجہ عرب بغاوت تھی۔ ایک طرف برطانوی اور اس کی اتحادی افواج یروشلم پر حملہ آور تھیں۔ دوسری جانب عرب بغاوت نے ترکوں کی سپلائی لائن کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔سلطنت عثمانیہ باہر کے دشمنوں سے تو شاید نمٹ لیتی لیکن جب اپنے ہی اپنوں کے خلاف ہو گئے تو سلطنت عثمانیہ بے بس ہو گئی۔
 دوسری وجہ ہندوستان سے گئے فوجی تھے جو اتنی وافر تعداد میں تھے کہ اس نے اتحادی افواج کو افرادی قوت سے بے نیاز کر دیا تھا۔ فیلڈ مارشل  کلاڈ اچنلک نے بعد میں اعتراف بھی کیا کہ ہندوستان کے فوجی ہمیں میسر نہ ہوتے تو ہم دونوں جنگ عظیم ہار گئے ہوتے۔ جب یروشلم میں مسلمانوں کو شکست ہو رہی تھی ۔تو پنجاب کے پیروں کی گدیاں سرکار انگلشیہ کی فتح کا جشن منا رہی تھیں۔
یہاں اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہندوستان سے جانے والے صرف ہندو اور سکھ فوجی تھے تو اس غلط فہمی کو دور کر لیجیے۔ اس کام میں مسلمان فوجی بھی پیش پیش تھے کیونکہ ہندوستان میں یہ فتوی آ چکا تھا کہ مسلم دنیا کی قیادت پر ترکوں کا کوئی حق نہیں۔ یہ حق تو شریف مکہ کا ہے۔
آج شاید ہی کسی کو معلوم ہو کہ جب القدس مسلمانوں سے چھن گیا اور سلطنت عثمانیہ کو یہاں شکست ہو گئی تو برطانوی فوج کا جو پہلا دستہ شہر میں داخل ہوا وہ   ”نعرہ تکبیر“ بلند کرتے ہوے داخل ہوا۔
 11 دسمبر 1917 کو جب یروشلم مسلمانوں سے چھن گیا اور جنرل ایلن بے ایک فاتح کی حیثیت سے داخل ہوا تو فاتحین کے ساتھ کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو ہندوستان سے تشریف لے گئے تھے اور نعرہ تکبیر بلند فرما رہے تھے  اور کچھ وہ تھے جو ہندوستان سے تشریف نہیں لے گئے تھے وہیں آس پاس کے علاقوں کے  عرب تھے اور ’الثورۃ العربیہ الکبری‘ کا پرچم تھامے ہوئے تھے۔ وہی چار رنگوں والا پرچم جس کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے۔ جزوی تبدیلیوں کے ساتھ عرب بغاوت کا یہی پرچم،آج بھی مصر، اردن، سوڈان، کویت، امارات، شام، لیبیا اور یمن کا  قومی پرچم ہے۔فلسطین کا پرچم بھی اسی پرچم کی ایک شکل ہے۔
اسی پرچم تلے خود مسلمانوں نے مسلمانوں کی سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ کیا۔ اسی پرچم تلے خود مسلمانوں نے القدس مسلمانوں سے چھین کر برطانوی فوج کے حولے کیا۔ اسی پرچم تلے خود مسلمانوں نے دشمن کو یروشلم میں گھسنے کا موقع دیا  اور آج اسی پرچم تلے مسلمان صہیونیوں کے مظالم کے خلاف بے بسی سے سراپا احتجاج ہیں۔
بغاوت کرنے والوں کے ساتھ کیا ہوا؟ شریف مکہ اردن کے  شاہ حسین ابن علی  نے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو خود کو خلیفہ قرار دے ڈالا۔ پورے چاؤ سے’الثورۃ العربیہ الکبری‘  چلانے والے شریف مکہ چند ماہ ہی حکومت کر سکے پھر جلاوطن ہوئے اور مر گئے۔
ان کا اقتدار بعد میں سمٹ کر اردن تک رہ گیا گیا۔ ان کی اولاد میں سے ایک بادشاہ سلامت ایک دن مسجد اقصی میں داخل ہوئے اور کسی مسلمان کے ہاتھوں قتل ہو گئے۔ کچھ عرصہ مسجد اقصی ان کے زیر انتظام رہی بعد میں اسرائیل نے یروشلم شہر پر بھی قبضہ کر لیا اورب اب صرف کاغذی طور پر مسجد اقصی اردن کے شاہی خاندان کے زیر انتظام ہے۔
غلطیاں یقینا سلطنت عثمانیہ سے بھی ہوئی ہوں گی، تبھی تو بغاوت ہوئی لیکن سلطنت عثمانیہ جیسی بھی تھی، اسرائیل جیسی سفاک تو نہ تھی۔القدس کے مسلمانوں پر یوں ظلم تو نہ کرتی تھی۔
اسی بغاوت کے پرچم تلے خود مسلمانوں نے سلطنت عثمانیہ کو اسی یروشلم میں شکست دی اور تب سے اب تک انہیں سُکھ کا ایک دن نہیں ملا۔ وہی پرچم اٹھا کر اب وہ اپنے معصوم بچوں کے لاشوں پر سوگوار کھڑے احتجاج کر رہے ہیں۔

٭٭٭٭٭

Britain in Palestine 1917-1948

 https://www.youtube.com/watch?v=hOJqLTc6RkU 


Six days that changed the Middle East: The '67 Arab-Israeli War | Featured Documentary

 https://www.youtube.com/watch?v=cn3RUZsaPmg

The War In October: who claimed victory in 1973?

 https://www.youtube.com/watch?v=icxos9sVrYY

جمعہ، 29 ستمبر، 2023

نیلسن کا گیراج اور شہنشاہِ ہند بہادر شاہ ظفر

لکھاری ۔ صبغت اللہ :۔

    ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥکا    ﺁﺧﺮﯼ ﺷﮩﻨﺸﺎﮦ ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺷﺎﮦ ﻇﻔﺮ ﮐﻮ ﻣﯿﮑﻨﻦ ﻣﯿﮑﻨﺰﯼ ﺑﺤﺮﯼ ﺟﮩﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﭩﮭﺎ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ‘ ﯾﮧ ﺟﮩﺎﺯ 17 ﺍﮐﺘﻮﺑﺮ 1858 ﺀ ﮐﻮ ﺭﻧﮕﻮﻥ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ‘ ﺷﺎﮨﯽ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﮯ 35 ﻣﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺑﮭﯽ ﺗﺎﺝ ﺩﺍﺭ ﮨﻨﺪ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﮭﯿﮟ ‘ ﮐﯿﭙﭩﻦ ﻧﯿﻠﺴﻦ ﮈﯾﻮﺱ ﺭﻧﮕﻮﻥ ﮐﺎ ﺍﻧﭽﺎﺭﺝ ﺗﮭﺎ ‘ ﻭﮦ ﺑﻨﺪﺭ ﮔﺎﮦ ﭘﮩﻨﭽﺎ ‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﺭﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﯿﺎ ‘ ﺭﺳﯿﺪ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺑﮍﯼ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﻓﺮﻣﺎﻧﺮﻭﺍ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﮨﺎﺋﺶ ﮔﺎﮦ ﭘﺮ ﺁ ﮔﯿﺎ ۔

ﻧﯿﻠﺴﻦ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺗﮭﺎ ‘ ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺷﺎﮦ ﻇﻔﺮ ﻗﯿﺪﯼ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﻠﺴﻦ ﮐﺎ ﺿﻤﯿﺮ ﮔﻮﺍﺭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﮮ ﻣﮕﺮ ﺭﻧﮕﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻘﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺷﺎﮦ ﻇﻔﺮ ﮐﻮ ﺭﮐﮭﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ‘ ﻭﮦ ﺭﻧﮕﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻼ ﺟﻼ ﻭﻃﻦ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﮭﺎ ‘ ﻧﯿﻠﺴﻦ ﮈﯾﻮﺱ ﻧﮯ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﮐﺎ ﺩﻟﭽﺴﭗ ﺣﻞ ﻧﮑﺎﻝ ﻟﯿﺎ ‘ ﻧﯿﻠﺴﻦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﮔﯿﺮﺍﺝ ﺧﺎﻟﯽ ﮐﺮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺟﺪﺍﺭ ﮨﻨﺪ ‘ ﻇﻞ ﺳﺒﺤﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻤﻮﺭﯼ ﻟﮩﻮ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﭼﺸﻢ ﻭ ﭼﺮﺍﻍ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﯿﺮﺍﺝ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ۔

 ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺷﺎﮦ ﻇﻔﺮ 17 ﺍﮐﺘﻮﺑﺮ 1858 ﺀ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮔﯿﺮﺍﺝ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ 7 ﻧﻮﻣﺒﺮ 1862 ﺀ ﺗﮏ ﭼﺎﺭ ﺳﺎﻝ ﻭﮨﺎﮞ ﺭﮨﺎ ‘ ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺷﺎﮦ ﻇﻔﺮ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻏﺰﻝ ﻟﮕﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﺟﮍﮮ ﺩﯾﺎﺭ ﻣﯿﮟ ‘ ﮐﺲ ﮐﯽ ﺑﻨﯽ ﮨﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻧﺎﭘﺎﺋﯿﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭﮐﺘﻨﺎ ﺑﺪﻧﺼﯿﺐ ﮨﮯ ﻇﻔﺮﺩﻓﻦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ‘ ﺩﻭ ﮔﺰ ﺯﻣﯿﻦ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﻣﻠﯽ ﮐﻮﺋﮯ ﯾﺎﺭ ﻣﯿﮟ ‘ ﺍﺳﯽ ﮔﯿﺮﺍﺝ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﯽ ﺗﮭﯽ ‘ 

  ﺁﺝ 7 ﻧﻮﻣﺒﺮ ﮐﺎ ﺧﻨﮏ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻦ ﺗﮭﺎ 1862 ﺀ۔ ﺑﺪﻧﺼﯿﺐ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯ ﺷﺪﯾﺪ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﭙﭩﻦ ﻧﯿﻠﺴﻦ ﮈﯾﻮﺱ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺩﺳﺘﮏ ﺩﯼ ‘ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺍﺭﺩﻟﯽ ﻧﮯ ﺑﺮﻣﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺪﺗﻤﯿﺰﯼ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﭘﻮﭼﮭﯽ ‘ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯ ﭨﻮﭨﯽ ﭘﮭﻮﭨﯽ ﺑﺮﻣﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ‘ ﻇﻞ ﺳﺒﺤﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺳﺎﻧﺲ ﺍﮐﮭﮍ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ‘ ﺍﺭﺩﻟﯽ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ‘ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺘﮯ ﮐﻮ ﮐﻨﮕﮭﯽ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﮈﺳﭩﺮﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ‘ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ‘ ﺍﺭﺩﻟﯽ ﺍﺳﮯ ﭼﭗ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﻣﮕﺮ ﺁﻭﺍﺯ ﻧﯿﻠﺴﻦ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﯽ ‘ ﻭﮦ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻼ ۔

 ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯ ﻧﯿﻠﺴﻦ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﮔﺌﯽ ‘ ﻭﮦ ﻣﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮔﯿﺮﺍﺝ ﮐﯽ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﮐﮭﻠﻮﺍﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ ‘ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﻠﯽ ﮨﻮﺍ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﻮﻧﭧ ﺑﮭﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﻧﯿﻠﺴﻦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﭘﺴﭩﻞ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ‘ ﮔﺎﺭﮈﺯ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﯿﺎ ‘ ﮔﯿﺮﺍﺝ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﺁﺭﺍﻡ ﮔﺎﮦ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﻮ ‘ ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﺳﮑﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﺗﮭﺎ ‘ ﺍﺭﺩﻟﯽ ﻟﯿﻤﭗ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺳﺮﮨﺎﻧﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ‘ ﻧﯿﻠﺴﻦ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎ ‘ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﮐﻤﺒﻞ ﺁﺩﮬﺎ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺩﮬﺎ ﻓﺮﺵ ﭘﺮ ‘ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﻨﮕﺎ ﺳﺮ ﺗﮑﯿﮯ ﭘﺮ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﮔﺮﺩﻥ ﮈﮬﻠﮑﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ‘ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﮈﮬﯿﻠﮯ ﭘﭙﻮﭨﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺍﺑﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﮔﺮﺩﻥ ﮐﯽ ﺭﮔﯿﮟ ﭘﮭﻮﻟﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﺸﮏ ﺯﺭﺩ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﮑﮭﯿﺎﮞ ﺑﮭﻨﺒﮭﻨﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ‘ ﻧﯿﻠﺴﻦ ﻧﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﭼﮩﺮﮮ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﮔﯽ ‘ ﺍﺗﻨﯽ ﻏﺮﯾﺐ ﺍﻟﻮﻃﻨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔

 ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ‘ ﻭﮦ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺑﮭﮑﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺁﺯﺍﺩ ﺳﺎﻧﺲ ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺁﺯﺍﺩ ﺳﺎﻧﺲ ﮐﯽ ﺍﭘﯿﻞ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﭘﯿﻞ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﮐﻨﻮﺋﯿﮟ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺳﮯ ﻟﭙﭩﯽ ﮐﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽآنکھ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﺮﻓﺖ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺘﯽ ﺗﮭﯽ ‘ ﮐﯿﭙﭩﻦ ﻧﯿﻠﺴﻦ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮭﺎ ‘ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻗﺎﻓﻠﮯ ﮐﻮ ﺭﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻨﮕﻞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﮮ ﻣﺪﺕ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ‘ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﺎ ﺁﺧﺮﯼ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺣﺪ ﻋﺒﻮﺭ ﮐﺮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔

ﻧﯿﻠﺴﻦ ﻧﮯ ﻟﻮﺍﺣﻘﯿﻦ ﮐﻮ ﺑﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ‘ ﻟﻮﺍﺣﻘﯿﻦ ﺗﮭﮯ ﮨﯽ ﮐﺘﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﺟﻮﺍﻥ ﺑﺨﺖ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺣﺎﻓﻆ  ﻣﺤﻤﺪ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﺩﮨﻠﻮﯼ ‘ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺁﺋﮯ۔ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﻏﺴﻞ ﺩﯾﺎ ‘ ﮐﻔﻦ ﭘﮩﻨﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﺴﮯ ﺗﯿﺴﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮬﯽ ‘ ﻗﺒﺮ ﮐﺎ ﻣﺮﺣﻠﮧ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﭘﻮﺭﮮ ﺭﻧﮕﻮﻥ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﺧﺮﯼ ﺗﺎﺟﺪﺍﺭ ﮨﻨﺪ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻭﮔﺰ ﺯﻣﯿﻦ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔

 ﻧﯿﻠﺴﻦ ﻧﮯ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﺭﮨﺎﺋﺶ ﮔﺎﮦ ﮐﮯ ﺍﺣﺎﻃﮯ ﻣﯿﮟ ﻗﺒﺮ ﮐﮭﺪﻭﺍﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ‘ ﻗﺒﺮ ﭘﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﭼﮭﮍﮐﺎﺅ ﮨﻮﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﮔﻼﺏ ﮐﯽ ﭘﺘﯿﺎﮞ ﺑﮑﮭﯿﺮﯼ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﺩﮨﻠﻮﯼ ﮐﮯ ﺧﺰﺍﮞ ﺭﺳﯿﺪﮦ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ 30 ﺳﺘﻤﺒﺮ 1837 ﺀ ﮐﮯ ﻭﮦ ﻣﻨﺎﻇﺮ ﺩﻭﮌﻧﮯ ﺑﮭﺎﮔﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺟﺐ ﺩﮨﻠﯽ ﮐﮯ ﻻﻝ ﻗﻠﻌﮯ ﻣﯿﮟ 62 ﺑﺮﺱ ﮐﮯ ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺷﺎﮦ ﻇﻔﺮ ﮐﻮ ﺗﺎﺝ ﭘﮩﻨﺎﯾﺎﮔﯿﺎ ‘ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﻧﺌﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺳﻼﻣﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﻣﻠﮏ ﺳﮯ ﻻﮐﮫ ﻟﻮﮒ ﺩﻟﯽ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺟﺐ ﻟﺒﺎﺱ ﻓﺎﺧﺮﮦ ﭘﮩﻦ ﮐﺮ ‘ ﺗﺎﺝ ﺷﺎﮨﯽ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﺩﺭ ﺷﺎﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﺎﻧﮕﯿﺮﯼ ﺗﻠﻮﺍﺭﯾﮟ ﻟﭩﮑﺎ ﮐﺮ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻋﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﺩﻟﯽ ﺗﺤﺴﯿﻦ ﺗﺤﺴﯿﻦ ﮐﮯ ﻧﻌﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﮔﻮﻧﺞ ﺍﭨﮭﺎ ‘ ﻧﻘﺎﺭﭼﯽ ﻧﻘﺎﺭﮮ ﺑﺠﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ‘ ﮔﻮﯾﮯ ﮨﻮﺍﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﻧﯿﮟ ﺍﮌﺍﻧﮯ ﻟﮕﮯ ‘ ﻓﻮﺟﯽ ﺳﺎﻻﺭ ﺗﻠﻮﺍﺭﯾﮟ ﺑﺠﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﻗﺎﺻﺎﺋﯿﮟ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ ‘ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺣﺎﻓﻆ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﺑﺮﮨﯿﻢ ﺩﮨﻠﻮﯼ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﺗﮭﺎ ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺷﺎﮦ ﻇﻔﺮ ﮐﯽ ﺗﺎﺝ ﭘﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﺟﺸﻦ ﺳﺎﺕ ﺩﻥ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﺎﺕ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻟﯽ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺷﺎﮨﯽ ﻣﺤﻞ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﻼﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﺳﺎﺕ ﻧﻮﻣﺒﺮ 1862 ﺀ ﮐﯽ ﺍﺱ ﭨﮭﻨﮉﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﻣﮩﺮ ﺻﺒﺢ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺵ ﺍﻟﺤﺎﻥ ﻗﺎﺭﯼ ﺗﮏ ﻧﺼﯿﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺣﺎﻓﻆ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﺩﮨﻠﻮﯼ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺁ ﮔﺌﮯ ‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺗﮯ ﺍﺗﺎﺭﮮ ‘ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﮐﯽ ﭘﺎﺋﯿﻨﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺭۃ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﯽ ﺗﻼﻭﺕ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯼ ‘ ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﺩﮨﻠﻮﯼ ﮐﮯ ﮔﻠﮯ ﺳﮯ ﺳﻮﺯ ﮐﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﺑﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ‘ ﯾﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﮐﯽ ﺗﻼﻭﺕ ﮐﺎ ﺍﻋﺠﺎﺯ ﺗﮭﺎ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﺩﮨﻠﻮﯼ ﮐﮯ ﮔﻠﮯ ﮐﺎ ﺳﻮﺯ ﮐﯿﭙﭩﻦ ﻧﯿﻠﺴﻦ ﮈﯾﻮﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺁ ﮔﺌﮯ ‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻏﺮﯾﺐ ﺍﻟﻮﻃﻦ ﻗﺒﺮ ﮐﻮ ﺳﯿﻠﻮﭦ ﭘﯿﺶ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﯿﻠﻮﭦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﻣﻐﻞ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﮐﺎ ﺳﻮﺭﺝ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻏﺮﻭﺏ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ‘ ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺭﻧﮕﻮﻥ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮈﯾﮕﻦ ﭨﺎﺅﻥ ﺷﭗ ﮐﯽ ﮐﭽﯽ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮﺩﺍﺭ ﺟﮭﮕﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺷﺎﮦ ﻇﻔﺮ ﮐﯽ ﻧﺴﻞ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ‘ ﯾﮧ ﺁﺧﺮﯼ ﻣﻐﻞ ﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺍﺻﻞ ﺍﻭﻻﺩ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺍﻭﻻﺩ ﺁﺝ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﮐﮯ ﻭﻇﯿﻔﮯ ﭘﺮ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ‘ ﯾﮧ ﮐﭽﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺳﻮﺗﯽ ﮨﮯ ‘ ﻧﻨﮕﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﭘﮭﺮﺗﯽ ﮨﮯ ‘ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭨﯿﻦ ﮐﮯ ﮐﻨﺴﺘﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻧﻞ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮭﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﮐﺴﻤﭙﺮﺳﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺰﺍﺩﯾﺎﮞ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﯾﮧ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻋﮩﺪ ﺭﻓﺘﮧ ﮐﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻧﯿﮟ ﺳﻨﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮒ ﻗﮩﻘﮩﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺭﻧﮕﻮﻥ ﮐﯽ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ‘ ﯾﮧ ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺰﺍﺩﯾﺎﮞ ﮐﻮﻥ ﮨﯿﮟ؟ ﯾﮧ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﻏﻠﻄﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ ‘ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﺮﺩ ﻧﺎﺍﮨﻞ ‘ ﺧﻮﺷﺎﻣﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﭘﭧ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﻟﺸﮑﺮ ﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ ‘ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺿﻤﯿﺮ ﺑﮭﯽ ‘ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺮ ﻟﯽ ﺗﮭﯽ ‘ ﺍﯾﮏ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﺩﺍﺧﻠﯽ ﺍﻣﻮﺭ ﮐﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺧﺎﺭﺟﯽ ﺍﻣﻮﺭ ﮐﺎ ﻣﺨﺘﺎﺭ ‘ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﭼﻠﺘﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻏﻠﻄﯽ ‘ ﮨﺮ ﮐﻮﺗﺎﮨﯽ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻧﺎﮔﻔﺘﮧ ﺑﮧ ﺗﮭﯽ ‘ ﻣﮩﻨﮕﺎﺋﯽ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﭼﮭﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ‘ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﻣﻨﮉﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﭩﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻤﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ‘ ﺳﻮﺩﺍﮔﺮ ﻣﻨﮧ ﻣﺎﻧﮕﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﭘﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮔﻨﺪﻡ ‘ ﮔﮍ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﮐﺎﺭﯼ ﺑﯿﭽﺘﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﭨﯿﮑﺴﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺯ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﺷﮩﺰﺍﺩﻭﮞ ﻧﮯ ﺩﻟﯽ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﻮﺗﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﺍﻧﮯ ﺗﮏ ﭘﺮ ﭨﯿﮑﺲ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﻃﻮﺍﺋﻔﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻤﺎﺋﯽ ﺗﮏ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺣﺼﮧ ﺷﮩﺰﺍﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺟﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺷﺎﮨﯽ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﻗﺘﻞ ﺑﮭﯽ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﺷﺎﮨﯽ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ‘ ﻧﻮﺍﺏ ‘ ﺻﻮﺑﯿﺪﺍﺭ ‘ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺁﺯﺍﺩ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻣﻐﻞ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﺗﮏ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭﯼ ﺗﮭﮯ ‘ ﻓﻮﺝ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﮐﯽ ﻧﻮﮎ ﭘﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﺟﻮ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﻨﻮﺍ ﻟﯿﺘﯽ ﺗﮭﯽ ‘ ﻋﻮﺍﻡ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﯿﺰﺍﺭ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﯾﮧ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺯﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﻧﻨﮕﯽ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺗﻮﺍﻝ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﺐ ﮐﮧ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮨﻮﺗﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﯾﮧ ﺭﻭﺯ ﻣﻌﺎﮨﺪﮦ ﺗﻮﮌﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﮨﯽ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻭﺳﯿﻊ ﺗﺮ ﻗﻮﻣﯽ ﻣﻔﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﯿﺎ ﻣﻌﺎﮨﺪﮦ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔

 ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﻭﻓﺎﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﮨﯽ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺟﺐ ﺍﺣﺘﺠﺎﺝ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﺘﺎ ﮐﺮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ ’’ ﻇﻞ ﺍﻟٰﮩﯽ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻭﻓﺎﺩﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ‘ ﻭﮦ ﻧﻨﮓ ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺳﺎﺯﺵ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ‘‘ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﺱ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻃﻮﯾﻞ ﻋﺮﺻﮯ ﺗﮏ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﻮﺝ ﺑﮭﯽ ﭨﯿﺴﭧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺟﺐ ﻟﮍﻧﮯ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﻓﻮﺟﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻠﻮﺍﺭﯾﮟ ﺗﮏ ﻧﮧ ﺍﭨﮭﺎﺋﯽ ﮔﺌﯿﮟ ‘ ﺍﻥ ﺣﺎﻻﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮔﺮﺗﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﺷﺎﮨﯽ ﮨﺎﺗﮭﯽ ﭘﺮ ﭼﮍﮬﺎ ﺗﻮ ﻋﻮﺍﻡ ﻧﮯ ﻻﺗﻌﻠﻖ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ‘ ﻟﻮﮒ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺷﺎﮦ ﻇﻔﺮ ﯾﺎ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭاورﮐﭩﻮﺭﯾﺎ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﯿﮟ ‘ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﺟﺬﺑﮯ ﺳﮯ ﻟﺒﺮﯾﺰ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮈﺑﻞ ﻣﺎﺋﯿﻨﮉﮈ ﺗﮭﺎ ‘ ﯾﮧ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺳﮯ ﻟﮍﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺪﺕ ﺷﺎﮨﯽ ﺑﮭﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺱ ﺟﻨﮓ ﮐﺎ ﻭﮨﯽ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﻧﮑﻼ ﺟﻮ ﮈﺑﻞ ﻣﺎﺋﯿﻨﮉ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻟﮍﯼ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺟﻨﮕﻮﮞ ﮐﺎ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﮨﮯ ‘ ﺷﺎﮨﯽ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﺫﺑﺢ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﺐ ﮐﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺟﻼﻭﻃﻦ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ‘ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯿﭙﭩﻦ ﻧﯿﻠﺴﻦ ﮈﯾﻮﺱ ﮐﮯ ﮔﯿﺮﺍﺝ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﺭﮨﺎ ‘ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺍﺣﺎﻃﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﺁﺝ ﺗﮏ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻈﻤﺖ ﺭﻓﺘﮧ ﮐﺎ ﭨﻮﮐﺮﺍ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺭﻧﮕﻮﻥ ﮐﯽ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ‘ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﺻﺎﻑ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ‘ ﺟﻮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﻠﻄﻨﺖ ‘ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﯿﻨﮉﯾﭧ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ‘ ﺟﻮ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﺎ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﮐﮭﻮ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩﯾﮟ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺭ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ‘ ﯾﮧ ﻋﺒﺮﺕ ﮐﺎ ﮐﺸﮑﻮﻝ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﭼﻮﮎ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﮏ ﻣﺎﻧﮕﺘﯽ ﮨﯿﮞ۔ﻠﯿﮑﻦ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ‘ ﯾﮧ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺷﺎﮦ ﻇﻔﺮ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

٭٭٭٭٭

مجھے علم نہیں لیکن شاید صبغت اللہ نے یہ تحریر برٹش لائبریری سے نیلسن کی رپورٹس سے پڑھی ہوگی یا پھر ایک صحافی کا  تصوراتی فہم ہے ۔ جو اُس نے بادشاہ کو نیلسن کے حوالے کرنے کے بعد اُس کی موت  کے تصور میں لکھا ۔ باغی جب بغاوت پر ابھارے جائیں تو 9 مئی جیسے واقعات جنم لیتے ہیں (خالد مہاجرزادہ)

٭٭٭٭٭٭٭٭

بہادر شاہ ظفر پر  پہلے  مضامین:۔

٭۔ شہنشاہ ہند بہادر شاہ ظفر ۔1775 ۔ 1860

٭۔تو کتنا بدنصیب ظفر دفن کے لئے 


 

ہفتہ، 6 نومبر، 2021

تو کتنا بد نصیب ظفر دفن کے لئے

 بہادر شاہ ظفر کی غیر معمولی شہرت کی وجہ 1857 کا انقلاب ہے، تاہم ان کی ہمہ گیر شخصیت میں اس بات کا بڑا دخل ہے کہ وہ اودھ کے ایک اہم شاعر تھے۔ بہادر شاہ ظفر جس طرح بادشاہ کی حیثیت سے انگریزوں کی چالوں کا شکار ہوئے۔ اسی طرح ایک شاعر کی حیثیت سے بھی ان کے سر سے سخن وری کا تاج چھیننے کی کوشش کی گئی اور کہا گیا کہ ظفر کی شاعری میں جو خوبیاں ہیں وہ ان کے استاد ذوقؔ کی دین ہیں۔ 

سرسید کے سامنے جب اس خیال کا اظہار کیا گیا تووہ بھڑک اٹھے تھے اور کہا تھا کہ، ’’ذوق ان کو لکھ کر کیا دیتے اس نے تو خود زبان قلعہ معلیٰ سے سیکھی تھی۔‘‘ اس میں شک نہیں کہ ظفر ان شاعروں میں ہیں جنہوں نے شعری اظہار میں اردو پن کو فروغ دیا اور یہی اردو پن ظفر کے ساتھ ذو قؔ اور داغؔ کے وسیلے سے بیسویں صدی کے عام شاعروں تک پہچا۔

 مولانا حالیؔ نے کہا کہ ’’ظفر کا تمام دیوان زبان کی صفائی اور روزمرہ کی خوبی ہیں، اول تا آخر یکساں ہے‘‘ 

آب بقا کے مصنف خواجہ عبد الرؤف عشرت کا کہنا ہے کہ ’’اگر ظفر کے کلام پر اس اعتبار سے نظر ڈالی جائے کہ اس میں محاورہ کس طرح ادا ہوا ہے، روزمرہ کیسا ہے، اثر کتنا ہے اور زبان کس قدر مستند ہے تو ان کا مثل و نظیر آپ کو نہ ملے گا۔ ظفر بطور شاعر اپنے زمانہ میں مشہور اور مقبول تھے۔‘‘  

منشی کریم الدین’’طبقات شعرائے ہند‘‘ میں لکھتے ہیں، ’’شعر ایسا کہتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں ان کے برابر کوئی نہیں کہہ سکتا۔ تمام ہندوستان میں اکثر قوالی اور رنڈیاں ان کی غزلیں، گیت اور ٹھمریاں گاتے ہیں۔‘‘

جب7 نومبر 1862 کو بہادر شاہ ظفر نے میانمار کے شہر رنگون (حالیہ نام ینگون) کے ایک خستہ حال چوبی مکان میں آخری سانس لی تو ان کے خاندان کے گنے چنے افراد ہی ان کے سرہانے موجود تھے۔ 

اسی دن برطانوی افسران نے انھیں رنگون کے مشہور شویداگون پیگوڈا کے قریب ایک بےنشان قبر میں دفن کر دیا۔ یہ ایک ایسے شہنشاہ کا تلخ، حوصلہ شکن اور خجالت آمیز انجام تھا جس کے پرکھوں نے آج کے انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے وسیع علاقوں پر صدیوں تک شان و شوکت سے راج کیا تھا۔ یہ بات درست ہے کہ بہادر شاہ ظفر کے پاس وہ سلطنت نہیں رہی تھی جو ان کے آبا اکبرِ اعظم یا اورنگ زیب عالمگیر کے پاس تھی، لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ 1857 کی جنگِ آزادی میں ان کی پکار پر ہندوستان کے طول و عرض سے لوگ انگریزوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔

اس جنگ میں شکست کے بعد مغل شہنشاہ پر غداری کا مقدمہ چلایا گیا، اور انھیں قید کر کے برما جلاوطن کر دیا گیا۔

  19 مارچ 1858 کو عدالت نے بہادر شاہ ظفر کو ان تمام جرائم کا مرتکب ٹھہرایا جن کا ان پر الزام لگایا گیا تھا۔ 7 اکتوبر 1858 کو سابق شہنشاہ دہلی اور مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار ابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ثانی نے دہلی کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ دیا اور رنگون میں جلا وطنی کے دن گزارتے ہوئے 7 نومبر 1882 کو صبح پانچ بجے قید حیات و بند غم سے چھوٹ گئے۔

  ان کی موت کے ساتھ ہی دنیا کے عظیم شاہی خاندانوں میں سے ایک کا اختتام ہو گیا۔ لیکن ان کا نام اور ان کی تحریر کردہ اردو شاعری زندہ رہی۔

شمع جلتی ہے پر اس طرح کہاں جلتی ہے

 ہڈی ہڈی مری اے سوز نہاں چلتی ہے۔

 1837 میں جب ظفر نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت عظیم مغلیہ سلطنت سکڑ کر دہلی کے گرد و نواح تک محدود ہو گئی تھی۔ لیکن اس کے باوجود وہ ہمیشہ اپنی رعایا کے لیے شہنشاہ ہی رہے۔ انگریزوں نے پیروکاروں کے اٹھ کھڑے ہونے کے خطرے کے پیشِ نظر ان کی قبر کو بےنشان رکھا تھا۔ حتیٰ کہ ان کے مرنے کی خبر کو بھی ہندوستان پہنچتے پہنچتے دو ہفتے لگ گئے۔ 

اس کے بعد ایک سو برس تک ان کی قبر کا کسی کو پتہ نہیں تھا۔ لوگ ان کا نام بھی بھولنے لگے، لیکن پھر رفتہ رفتہ ان کا دوبارہ ذکر ہونے لگا۔ دہلی اور کراچی میں ان کے نام پر سڑکوں کے نام رکھے گئے اور ڈھاکہ میں ایک پارک ان سے موسوم کیا گیا۔ 'دا لاسٹ مغل' نامی کتاب کے مصنف اور مشہور تاریخ دان ولیم ڈیلرمپل نے بی بی سی کو بتایا: 

وہ خطاط، نامور شاعر اور صوفی پیر ہونے کے ساتھ ساتھ ایسے شخص تھے جو ہندوؤں اور مسلمانوں کے اتحاد میں یقین رکھتا تھا۔ وہ کوئی ہیرو یا انقلابی رہنما نہیں تھے، لیکن وہ اپنے جدِ امجد اکبرِ اعظم کی طرح مسلم ہندوستانی تہذیب کی برداشت اور کثیر القومیت کی علامت ہیں۔

 ہندوستان کے دو بڑے مذاہب کے اتحاد کی طرف ظفر کے جھکاؤ کی ایک وجہ خود ان کا خاندان تھا۔ ان کے والد اکبر شاہ ثانی مسلمان جب کہ والدہ لال بائی ہندو راجپوت شہزادی تھیں۔ 

رنگون کے ایک پرسکون علاقے میں واقع بہادر شاہ ظفر کا مقبرہ ہندوستانی تاریخ کے ایک جذباتی اور متلاطم دور کی یاد دلاتا ہے۔ رنگون کے باسیوں کو یہ تو معلوم تھا کہ آخری مغل شہنشاہ ان کے شہر میں واقع چھاؤنی کے اندر کہیں نہ کہیں دفن ہیں، لیکن درست جگہ کا کسی کا علم نہیں تھا۔

 آخر 1991 میں مزدوروں کو ایک نالی کھودتے کھودتے اینٹوں کا چبوترہ ملا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ دراصل بہادر شاہ ظفر کی قبر ہے۔ بعد میں عطیات کی مدد سے یہاں مقبرہ تعمیر کیا گیا۔ ہندوستان میں قائم دوسرے مغل بادشاہوں کے عالی شان مقبروں کی نسبت یہ مقبرہ بہت معمولی ہے۔ ایک آہنی محراب پر ان کا نام اور خطاب رقم ہے۔ نچلی منزل پر ان کی ملکہ زینت محل اور پوتی رونق زمانی کی قبر ہے۔

  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پہلا مضمون ۔

٭۔شہنشاہِ ہند بہادر شاہ ظفر 

اگلے مضامین ۔
٭- کالا پانی اور شہنشاہ ہند بہادر شاہ ظفر 


پیر، 27 ستمبر، 2021

شہنشاہ ہند بہادر شاہ ظفر 1775۔1860

آج سے ٹھیک 184 برس قبل یعنی 28 ستمبر 1837 کو آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی تاجپوشی 62 سال کی عمر میں  ہوئی تھی۔ایک صدی سے زیادہ عرصے تک ہندوستان کے آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کی قبر کا نام و نشان نہیں ملتا تھا، لیکن اب اس کی حادثاتی دریافت نے اس صوفی بزرگ، عمدہ اردو شاعر اور تاریخ کے بدنصیب بادشاہوں میں سے ایک کی یاد دوبارہ تازہ کر دی ہے۔

 بہادر شاہ ظفر کا نام ابو ظفر سراج الدین محمد تھا۔ ان کی ولادت اکبر شاہ ثانی کے زمانۂ ولی عہدی میں ان کی ہندو بیوی لال بائی کے بطن سے 14 اکتوبر 1775 میں ہوئی۔ ابو ظفر تاریخی نام ہے۔ اسی مطابقت سے انہوں اپنا تخلص ظفر رکھا۔ چونکہ بہادر شاہ کے جد امجد اورنگ زیب کے بیٹے کا لقب بھی بہادر شاہ تھا لہٰذا وہ بہادر شاہ ثانی کہلائے۔ ان کی تعلیم قلعۂ معلی میں پورے اہتمام کے ساتھ ہوئی اور انہوں نے مختلف علوم و فنون میں مہارت حاصل کی۔ لال قلعہ کی تہذیبی زندگی اور اس کے مشاغل میں بھی انہوں نے گہری دلچسپی لی۔ 

شاہ عالم ثانی کا انتقال اس وقت ہوا جب ظفر کی عمر 31 سال تھی لہٰذا انہیں دادا کی صحبت سے فائدہ اٹھانے کا پورا موقع ملا۔ ان ہی کی صحبت کے نتیجہ میں بہادر شاہ ظفر کو مختلف زبانوں پر قدرت حاصل ہوئی۔ اردو اور فارسی کے ساتھ ساتھ برج بھاشا اور پنجابی میں بھی ان کا کلام موجود ہے۔ ظفر منکسر المزاج اور خلیق انسان تھے۔ ان کے اندر حلم و ترحم تھا اور غرور و نخوت ان کو چھو کر نہیں گیا تھا۔ شاہانہ عیش و آرام کی زندگی گزارنے کے باوجود انہوں نے شراب کو کبھی ہاتھ نہیں لگایا۔ شہزادگی کے زمانہ سے ہی مذہب کی طرف جھکاؤ تھا اور کالے صاحب کے مرید تھے۔ اپنے والد اکبر شاہ ثانی کے گیارہ لڑکوں میں وہ سب سے بڑے تھے۔ لیکن اکبر شاہ نے اپنے دوسرے چہیتے بیٹے مرزا سلیم کو ولی عہد بنانا چاہا۔ انگریز اس کے لئے راضی نہیں ہوئے۔

 پھر اکبر شاہ ثانی کی چہیتی بیوی ممتاز محل نے اپنے بیٹے مرزا جہانگیر کو ولی عہد بنانے کی کوشش کی بلکہ ان کی ولی عہدی کا اعلان بھی کر دیا گیا اور گورنر جنرل کو اس کی اطلاع کر دی گئی جس پر گورنر جنرل نے سخت تنبیہ کی کہ اگر انہوں نے انگریزوں کی ہدایات پر عمل نہ کیا تو ان کی پنشن بند کر دی جائے گی۔ 

مرزا جہانگیر نے ایک مرتبہ ظفر کو زہر دینے کی بھی کوشش کی اور ان پر غیر فطری حرکات کا الزام بھی لگایا گیا لیکن انگریز ظفر کی عزت کرتے تھے اور ان کے خلاف محل کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوئی۔ 1837میں اکبر شاہ ثانی کے انتقال کے بعد بہادر شاہ کی تاجپوشی ہوئی۔

 قلعہ کے دستور کے مطابق بہادر شاہ ظفر کی شادی نو عمری میں ہی کر دی گئی تھی اور تاجپوشی کے وقت وہ پوتے پوتیوں والے تھے۔ ظفر کی بیگمات کی صحیح تعداد نہیں معلوم لیکن مختلف ذرائع سے شرافت محل بیگم، زینت محل بیگم، تاج محل بیگم، شاہ آبادی بیگم، اختری محل بیگم، سرداری بیگم کے نام ملتے ہیں۔

 ان میں زینت محل سب سے زیادہ چہیتی تھیں اور ان سے ظفر نے اس وقت 1840 میں شادی کی تھی جب ان کی عمر 65 سال تھی۔ جب کہ زینت محل 19 سال کی تھیں۔ تاج محل بیگم بھی بادشاہ کی چہیتی بیویوں میں تھیں۔ شاہ آبادی بیگم کا اصل نام ہندی بائی تھا۔ اختری محل بیگم ایک گانے والی تھیں، سرداری بیگم ایک غریب گھریلو ملازمہ تھیں جن کو ظفر نے رانی بنا لیا۔ ظفر کے 16 بیٹے اور 31 بیٹیاں تھیں۔ بارہ شہزادے 1857 تک زندہ تھے۔

 بہادر شاہ ایک وسیع المشرب انسان تھے۔ وہ ہندؤں کے جذبات کی بھی قدر کرتے تھے اور ان کی بعض رسوم بھی ادا کرتے تھے۔ انہوں نے شاہ عباس کی درگاہ پر چڑھانے کے لئے ایک علم لکھنؤ بھیجا تھا جس کے نتیجہ میں افواہ پھیل گئی تھی کہ وہ شیعہ ہو گئے ہیں لیکن ظفر نے اس کی تردید کی۔ 

انگریزوں کی طرف سے ظفر کو ایک لاکھ روپئے پنشن ملتی تھی جو ان کے شاہانہ اخراجات کے لئے کافی نہیں تھی لہٰذا وہ ہمیشہ مالی تنگی کا شکار اور قرض مند رہتے تھے۔ ساہوکاروں کے تقاضے ان کو فکر مند رکھتے تھے اور وہ نذرانے وصول کرکے نوکریاں اور عہدے تقسیم کر تھے تھے۔

 لال قلعہ کے اندر چوریوں اور غبن کے واقعات شروع ہو گئے تھے۔ بہادر شاہ کی عمر بڑھنے کے ساتھ انگریزوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ دہلی کی بادشاہت ختم کر دی جائے گی اور لال قلعہ خالی کرا کے شہزادوں کا وظیفہ مقرر کر دیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں انہوں نے شہزادہ مرزا فخرو سے جو ولی عہدی کے امیدوار تھے، ایک معاہدہ بھی کرلیا تھا لیکن کچھ ہی دنوں بعد 1857 کا ہنگامہ برپا ہو گیا، جس کی قیادت دہلی میں شہزادہ مغل نے کی۔ کچھ دنوں کے لئے دہلی باغیوں کے قبضہ میں آ گئی تھی۔ بہادر شاہ شروع میں اس ہنگامے سے بالکل بے تعلق رہے۔ وہ سمجھ ہی نہیں پائے کہ ہو کیا رہا ہے۔ جب ان کو پتہ چلا کہ ہندوستانی سپاہیوں نے انگریزوں کے خلاف بغاوت کردی ہے تو ان کی پریشانی بڑھ گئی۔ انہوں نے کوشش کی کہ باغی اپنے ارادے سے باز آ جائیں اور باغیوں سے کہا کہ وہ انگریزوں سے ان کی صلح کرا دیں گے لیکن جب باغیوں نے پوری طرح دہلی پر قبضہ کر لیا تو ان کو زبردستی مجبور کیا کہ وہ تحریک کی قیادت اپنے ہاتھ میں لیں۔ شروع میں انہوں نے بادل ناخواستہ اس زبردستی کو قبول کیا تھا لیکن جب تحریک زور پکڑی گئی تو وہ اس میں پھنستے چلے گئے اور آخر تک تحریک کے ساتھ چار مہینے آٹھ دن  رہے۔ اور 21 ستمبر  1857 کو کیپٹن ہڈسن نے   شہنشاہ ہند بہادر شاہ  ظفر کو  زینت محل اور ملازم خاص پنہ لال  کی مخبری پر محل سے گرفتار کر لیا گیا۔ 

 چار مہینے گرفتار رکھنے کے بعد 7 جنوری 1858 کو مقدمے کی کاروائی شروع ہوئی ، جو لگاتار 21 دن جاری رہی ۔ ملکہ وکٹوریہ کی ملٹری کورٹ نے مندرجہ ذیل چارجز بادشاہ پر لگائے ۔

 1-کمپنی سرکار سے پنشن لینے کے باوجود  کمپنی کے ہندوستانی افسران اور سپاہیوں کو بغاوت کے لئے اُکسایا ۔

2۔10 مئی سے مغل شہزادوں نے دلّی صوبے کے لوگوں کو بغاوت کے لئے  اُکسایا ۔

3۔سرکار سے پنشن لینے کے باوجود ، سرکار کا حق ادا نہ کرکے اپنے فوجوں کو سرکاری فوجوں سے لڑوایا   اور بغاوت کا مرتکب ہوا۔

4۔ قلعے میں موجود انگریز افسروں اور سپاہوں کو قتل کروایا نیز نزدیکی ریاستوں کے حاکموں کو پیغام بھجوا کر بغاوت پر اُکسایا اور وہاں موجود انگریز افسروں اور سپاہیوں کو قتل کروایا ۔

بہادر شاہ ظفر نے یہ کہہ کر  الزام قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ میں بے خبر اور معصوم ہوں ۔میرے تمام فرامین پر دستخط باغیوں نے  مجھے مجبور کرکے لگا کر شاہی مہر ثبت کی ۔

 بہادر شاہ ظفر جس کی بادشاہت کا اعلان باغی سپاہیوں نے کردیا تھا۔ بادشاہ نے اعلان کیا :نہ تو میں بادشاہ ہوں اور نہ بادشاہوں کی طرح تمہیں کچھ دے سکتا ہوں ۔ بادشاہت تو عرصہ ہوا میرے گھر سے جا چکی ۔ میں تو ایک فقیر ہوں جو اپنی اولاد کو لے کر ایک تکیہ میں بیٹھا ہوں۔ مگر باغیوں کا اصرار تھا کہ وہ ان کا بادشاہ بنے۔ بہادرشاہ ظفر نہ بادشاہت کی صلاحیت رکھتا تھا اور نہ باغیوں کی مخالفت کرنے کی طاقت۔ 

بادشاہ   ملٹری کورٹ کی تمام کاروائی کے دوران اونگھتا رہتا ۔ یہاں تک کے اُس کے ملازم خاص  پنہ لال نے گواہی دی کہ بادشاہ نے ایرانی حکومت کو انگریزوں کے خلاف اکسانے کے خطوط بھیجے  ۔ بادشاہ کے خلاف گواہیاں دینے والوں میں ۔ ماکھن چند۔ بسنت خواجہ ۔حکیم احسن اللہ خان ۔ محبوب علی خان اور بیگم زینت محل شامل تھے۔چنانچہ  سارے الزام درست ثابت ہوئے اور شہنشاہِ ھند بہادرشاہ ظفر کو 17 اکتوبر 1858 کو کلکتہ بھیج دیا ۔ جہاں سے بادشاہ کو کالا پانی (رنگون کا جزیرہ) بھجوادیا اور اِس کے ساتھ بادشاہ کا نام جمعہ کے خطبے میں لینے کی ممانعت کردی ۔

گرفتاری کے بعد مقدمہ کی سماعت کے دوران بہادر شاہ نے انتہائی بے چارگی کے دن گزارے۔ قید میں ان سے ملنے گئی ایک خاتون نے ان کی حالت اس طرح بیان کی ہے،

’’ ہم نہایت تنگ و تاریک چھوٹے سے کمرہ میں داخل ہوئے۔ یہاں میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے اک کمزور، دبلا پتلا، پستہ قد بڈھا سردی کے سبب گندی رضائیوں میں لپٹا ایک نیچی سی چارپائی پر پڑا تھا۔ 

ہمارے داخل ہوتے ہی وہ حقہ جو وہ پی رہا تھا، ایک طرف رکھ دیا اور پھر وہ شخص جو کبھی کسی کو اپنے دربار میں بیٹھا ہوا دیکھتا، اپنی توہین سمجھتا تھا، کھڑے ہو کر ہم کو نہایت عاجزی سے سلام کرتا جا رہا تھا کہ اسے ہم سے مل کر بڑی خوشی ہوئی۔‘‘

  19 مارچ 1858 کو عدالت نے بہادر شاہ ظفر کو ان تمام جرائم کا مرتکب ٹھہرایا جن کا ان پر الزام لگایا گیا تھا۔ 7 اکتوبر 1858 کو سابق شہنشاہ دہلی اور مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار ابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ثانی نے دہلی کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ دیا اور رنگون میں جلا وطنی کے دن گزارتے ہوئے 7 نومبر 1860 کو صبح پانچ بچے قید حیات و بند غم سے چھوٹ گئے۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

٭ ۔اگلا مضمون۔

٭۔تو کتنا بد نصیب ظفر 

٭- کالا پانی اور شہنشاہ ہند بہادر شاہ ظفر 


ہفتہ، 14 دسمبر، 2019

تورے باز خان حیدر آباد دکّن

 ریاستِ حیدرآباد دکن کا نواب، جو ’نظام دکن‘ کہلاتا ہے، برطانیہ کا اتحادی ہے اور ان کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ کوئی بغاوت کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ لیکن جب انگریز کے خلاف تحریک آزادی کے نعرے ہندوستان کے گلی کوچوں تک پہنچ جاتے ہیں تو اس کی بازگشت نظام حیدر آباد کے درو دیوار کو بھی متاثر کرتی ہے۔ 

یہاں بیگم بازار کا ایک عام سپاہی تورے باز خان نہ صرف باغیوں کی قیادت کرتا ہے بلکہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب وہ چھ ہزار مظاہرین کو لے کر حیدر آباد میں برٹش ریذیڈنسی پر حملہ کر دیتا ہے۔تورے باز خان اور مولوی اللہ الدین کے ساتھیوں نے انگریز ریزیڈنسی کی دیوار گرا دی اور دروازے کو توڑتے ہوئے اندر داخل ہو گئے۔ اندر داخل ہوتے ہی دو طرفہ لڑائی شروع ہو گئی لیکن تورےخان کے ساتھیوں کے پاس ہلکے ہتھیار تھے جو انگریز کی تربیت یافتہ مدراس آرٹلری کے سپاہیوں کے مقابلے پر ناکارہ تھے۔ پھر بھی تمام رات گولیاں چلتی رہیں مقابلہ ہوتا رہا۔ بالآخر صبح کے چار بجے باغی پسپا ہو گئے لیکن انہیں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ 

تورے باز خان اس نیت سے فرار ہوا کہ وہ زیادہ بڑی طاقت کے ساتھ پھر حملہ کرے گا۔ 22 جولائی کو تراب علی خان کو خبر ملی کہ تورے باز خان ایک بار پھر انگریز ریزیڈنسی پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس نے تورے باز خان کو ہر قیمت پر گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ تورے باز خان بھیس بدل کر روپوش ہو چکا تھا۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ تورے باز خان کی ایک پیدائشی شناختی علامت تھی کہ اس کی آنکھ کے قریب ایک تل تھا جس کی وجہ سے نظام کے کھوجیوں نے اشورخانہ کے قریبی جنگلات میں اسے ڈھونڈ نکالا۔ 

اس پر حیدر آباد کی عدالت میں مقدمہ چلا۔ اس دوران اس سے مولوی اللہ الدین اور دیگر باغیوں کے ٹھکانے پوچھے گئے اور نہ بتانے پر طرح طرح کی صعوبتیں دی گئیں مگر تورے باز خان نے کوئی راز نہ اگلا۔ اسے سزا دے کر عمر بھر کے لیے جزائر انڈیمان (کالا پانی) بدر کر نے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔ مگر اس سے پہلے کہ اسے کالا پانی بھیجا جاتا وہ 18جنوری1857 کو جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ خبر پا کر انگریز انتظامیہ میں ہل چل مچ گئی انہوں نے طرے باز خان کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنے پر پانچ ہزار کے خطیرانعام کا اعلان کر دیا۔ نظام کے فوجی جگہ جگہ پھیل گئے۔

 آخر کار 24 جنوری کو توپران کے جنگل میں تعلقدار مرزا قربان علی بیگ کی قیادت میں ایک فوجی دستے نے تورے باز خان کو ڈھونڈ کر مار دیا۔ اس کی لاش کو شہر میں لایا گیا اور انگریز ریذیڈنسی کے سامنے برہنہ کرکے درخت سے لٹکا دیا گیا۔ اس طرح تورے باز خان ولد رستم خان آف بیگم بازار کی کہانی کا اختتام ہو گیا۔

لیکن اپنے پیچھے شجاعت و بہادری کی وہ مثال چھوڑ گیا جو آج بھی محاورہ بن کر تاریخ کے ابواب پر زندہ ہے۔ حیدر آباد میں بغاوت کو کچلنے کے بارے میں بمبئی کے انگریز گورنر نے گورنر جنرل کو لکھا کہ ’اگر نظام کی مدد حاصل نہ ہوتی تو انگریز جنوبی ریاستوں میں شکست کھا جاتا۔‘ حیدرآباد میں طرے باز خان کی بغاوت کو کچلنے میں 94 فوجی مارے گئے۔تورے باز خان کو مارنے پر تعلق دار مرزا قربان علی کو پانچ ہزار روپے انعام دیا گیا اور اس کی تنخواہ میں دو سو روپے کا اضافہ کیا گیا، جبکہ اسے ترقی دے کر صدر تعلق دار بنا دیا گیا۔

 نظام کو ’سٹار آف انڈیا‘ کے اعزاز سے نوازا گیا جبکہ ریاست کے ذمہ 50 لاکھ سے زائد کے واجبات معاف کر دیے گئے۔ نظام کواپنا سکہ جاری کرنے کا اختیار دیا گیا۔ میر تراب علی کو سالار جنگ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ 

پشتومیں کالے رنگ کو تور کہا جاتا ہے  اور سفید کو سپین ۔ لہذا پٹھانوں میں جو بچہ سانولا یا گیری رنگت والا  پیدا ہوتا تو اُسے تور خان کہا جاتا ۔ اور پکارنے پر اوئے تورے خان سے مخاطب کیا جاتا  یا وہ جو تلوار کا دھنیّ ہوتا اُسے تورہ خان کہتے ۔


 طرّم خان یا طرّم خانخانی  ۔ یہ اردو  میں بطور محاوہ مستعمل ہے اِس کا تورے باز خان کی شجاعت اور بہادری سے کوئی تعلق نہیں 

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔