میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 14 اگست، 2020

جوڑوں کا درد - بیل گری کا مربہ

  بیل گری  کا مربہ بنانے  کی ترکیب :
جوڑوں۔ خاص کر گھٹنوں کے درد کے لئے ، مہاجر زادہ نے ، اِسے آزمایا اور فائدہ مند پایا -
 طریقہ ـ
اپنے قریبی    پنسار سے پاؤ   بیل گری لیں- جو 200 روپے کی ملتی ہے ۔ یہ خشک اور بد رنگت ہوتی ہے ۔ 
 ٭- اِس  کے چار   ٹکڑے  منتخب کریں اور اُنہیں رات بھر پانی میں رہنے دیں ۔ صبح  چاروں ٹکڑے نکال لیں ، ٹوتھ برش سے اُن پر لگے  خشک کالے نشانات اتاریں ۔ اور صاف پانی سے دھو لیں ۔
٭-ایک  دیگچے یا پین میں اِنہیں ڈالیں اور ایک گلاس صاف  پانی ملائیں - اور ہاتھوں سے اِس کا ملیدہ بنائیں اور سخت ٹکڑے ایک پلیٹ میں رکھتے جائیں - بعد میں چھری سے سخت حصوں کو چھوٹا چھوٹا کاٹ لیں  اور ملیدے میں ملادیں-
 ٭- اب اِسے  آگ پر چڑھادیں اور  خوب پکنے دیں -چمچ سے پلاتے رہیں ، تاکہ پیندے میں لگ کر یہ جل نہ جائے -جب  یہ گاڑھا ہو جائے  تو اِسےا اتار کر ٹھنڈا کریں - 
٭- ٹھنڈا ہونے پر حسبِ  ذائقہ شہد ، چینی یا شکر ڈال  کر خوب ملائیں ، بیل گری کا مربہ تیار ہے- اِسے کر فریج یا ٹھنڈی جگہ رکھ دیں -
٭- اب  ایک ہفتے تک ، روزانہ  خالی پیٹ ایک چمچ دن میں تین بار کھائیں ۔
٭- اگلے دو ہفتے ،  صبح شام ایک چمچ کھائیں -
٭-اور پھر  ایک چمچ روزانہ نہار منہ کھائیں ۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 

جمعرات، 13 اگست، 2020

زنانہ خراٹے اور مردانہ غراٹے

آصف اکبر سے فون پر خیرو خیریت  کے لئے رابطہ کیا  حالاتِ حاضر ہ  و ناظرہ کے بعد  طبیعاتِ عمر رسیدگی و بوسیدگی کا باب کھولا ، اُنہوں نے مشورہ دیا  کہ بہتر ہے الگ کمروں میں سویا جائے ۔  تاکہ طعنے  اور غراہٹ نہ سننی پڑیں :
کیا بچوں کی طرح کان میں  ہیڈفون لگائے سن رہے ہیں ؟
آپ کے لیپ ٹاپ کی روشنی ، سے نیند خراب ہوتی ہے!
کیا آپ خاموشی سے ٹائپ نہیں  کر سکتے جو ٹائپ رائٹر کی طرح کھڑ کھڑ ا رہے ہیں ؟
یہ آدھی رات کو کِس  سے گپیں لگ رہی ہیں ؟ 
بھائی کیوں دشمنی کرنے پر تلے ہو ؟ اِس عمر میں الگ کمرے  میں سونے کا مطلب تو یہ ہے کہ صبح ہی معلوم ہو کہ بوڑھا ، دارِ فانی سے کوچ کر گیا ہے   یا بڑھیا   -
رات کو کم از کم ، ایک دوسرے پر نظر تو ڈال لیتے ہیں کہ سانس چل رہی ہے یا نہیں !
ویسے بھی اِس عمر  میں ویسے ہی سانس سے زیادہ خراٹے زندگی کا ثبوت دیتے ہیں ۔ 
ایک دفعہ چم چم کو عدیس ابابا میں بوڑھے اور بڑھیا کے ساتھ سونے کا شوق چُرایا ۔ بڑھیا نے اپنے ساتھ سُلانے سے انکار کر دیا ۔کہ تم رات کو سوتے میں بہت اچھلتی ہو ۔ بوڑھے نے اپنے بیڈ کے ساتھ نیچے میٹرس بچھا لیا  تاکہ اگر بوڑھا گرے تو زیادہ چوٹ نہ آئے ، ویسے بھی اِس عمر میں ہڈیاں گورنمنٹ کے منصوبوں کی طرح جڑتی ہیں اور پائداری بھی نہیں ہوتی -
خیر چم چم بوڑھے سے نمو کے   بچپن کے قصے سنتے سنتے سوگئی اور بوڑھا چپکے سے میٹرس پر اتر کر سو گیا۔
صبح چم چم اُٹھی ، تو شکوہ کیا کہ وہ بہت ڈسٹرب نیند سوئی ، کیوں کہ  آپ دونوں بہت زور سے سنورنگ کرتے ہیں -
ویسے آوا ، آپ نانو سے زیادہ سنورنگ کرتے ہیں  اور بابا  بہت  زو ر سے سنونگ کرتے ہیں ، کیوں؟ - چم چم نے پوچھا 
" بات یہ  مردوں کے زور سے سنورنگ کرنے کی خاص وجہ ہے " بوڑھا بولا
وہ کیا ؟ - چم چم نے پوچھا 
" آہ یہ ایک لمبی ، مزاحیہ اور درد بھری کہانی ہے ، کبھی وقت ملا تو سناؤں گا"۔ بوڑھے نے سسپنس پیدا کرتے ہوئے کہا ۔
"نہیں ابھی سنائیں " چم چم بولی ۔
" دن کو کہانی نہیں سناتے ، مسافر راستہ بھول جاتے ہیں " بوڑھا بولا
" آوا، آپ  کون سا مسافر کو کہانی سنا رہے ہیں ؟" چم چم نے جواب دیا 
" سنا دیں نا کیوں تنگ کر رہے ہیں ؟" بڑھیا بولی 
"اوکے " بوڑھابولا ۔
مائی سوئیٹ ھارٹ ، میرے جو سُپر گریٹ گرینڈ فادر تھے وہ غاروں میں رہتے تھےاور غار بھی خوفناک جنگلوں میں تھے  اور وہاں ہر قسم کے خوفناک جانور بھی تھے " 
" آر یو شیور ؟ " چم چم بے یقینی سے بولی " آپ سچ کہہ رہے ہیں ؟"
" سو فیصد " بوڑھا بولا ۔
"تو چم چم ، میری جو سُپر گریٹ گرینڈمدر تھیں وہ  بہت ڈرتی تھیں - آپ کی نانو کی طرح "
" اچھا پھر؟" چم چم بولی 
" تو ہوتا یہ تھا ، کہ رات کو غار کے دروازے کے باہر کوئی ، آواز آتی تو  میری  سُپر گریٹ گرینڈ مدر ، ڈر کرآواز نکالتیں ، آ آ آ آ ،  تو میرے  سُپر گریٹ گرینڈفادر اپنا ڈنڈا اُٹھا کر شور مچاتے باہر نکلتے اور کوئی بھی جانور وہاں ہوتا وہ ڈر کر بھاگ جاتا- " بوڑھا بولا ۔

"ان پر وہ جانور حملہ نہیں کرتا؟" چم چم بولی 
" ارے نہیں ، پہلے تو وہ جانور سُپر گریٹ گرینڈ مدر کی آواز سے دبک جاتا اور پھر  سُپر گریٹ گرینڈفادر کے شور مچانے  اور ڈنڈے کے خوف سے بھاگ جاتا " بوڑھا بولا ۔
" اُس کے بعد وہ پھر آتا " چم چم نے پوچھا ۔
" بالکل " بوڑھا بولا " ساری رات  یہ تماشا جاری رہتا " 
" لیکن اِس کا آپ کے سنورنگ سے کیا تعلق ؟؟" چم چم نے پوچھا 
"بتاتا ہوں ، بتاتا ہوں "  بوڑھا بو لا -" اِسی لئے تو میں نے کہا تھا -یہ ایک لمبی ، مزاحیہ اور درد بھری کہانی ہے "
 " اچھا ، آگے سنائیں؟" چم چم بولی
" ہاں ، تو چم چم ۔ سُپر گریٹ گرینڈ مدر اور فادر کے بچے بڑے ہوتے گئے ، اُنہوں نے بھی رات کو یہ شور مچانا جاری رکھا -پھر اُن بچوں کے بچے ہوئے ،اُنہوں نے بھی رات کو یہ شور مچانا جاری رکھا -"
" یہ کتنے سال پہلے کی بات ہے ؟" چم چم نے پوچھا -
" تقریباً دس ہزار، چھ سوپینتیس سال ، آٹھ مہینے اور 15 دن پہلے  " بوڑھے نے بتایا -
" آوا ، آپ جوک کر رہے ہیں " چم چم بولی " میں نے آپ کے سنورنگ کا پوچھا ہے ۔ آپ کے سپر گریٹ گرینڈ فادر کی شاوٹنگ کا نہیں ، اُس سے کیا تعلق ہے ؟ "
" چم چم میں نے کہا ہے نا کہ یہ بہت لمبی ، مزاحیہ اور درد بھری کہانی ہے "بوڑھا بولا " اگر یہ کہانی سننا ہے تو صبر سے بیٹھنا ہوگا- ورنہ میں بوڑھا آدمی ہوں اور دماغ کمزور ہے کہانی بھول جاؤں گا  "
 " اوکے اب نہیں بولوں گی آپ سنائیں "چم چم بولی
" ہاں تو میں کیا کہہ رہا تھا؟ " بوڑھے نے چم چم سے پوچھا ۔
" آپ کے  گرینڈ فادر، شاوٹنگ کرتے تھے ؟" چم چم بولی
" میں نے ایسا تو نہیں کہا " بوڑھا بولا " میرے   گرینڈ فادر بالکل شور نہی ںکرتے تھے "
" اوہ سوری  سپر گریٹ گرینڈ فادر" چم چم بولی
" نہیں ، چم چم  میں نے شاید کہا تھا، سُپر گریٹ گرینڈ مدر اور فادر کے بچے بڑے ہوتے گئے ، اُنہوں نے بھی رات کو یہ شور مچانا جاری رکھا -پھر اُن بچوں کے بچے ہوئے ،اُنہوں نے بھی رات کو یہ شور مچانا جاری رکھا -"
" اوہ ، یس " چم چم بولی -
" ہاں تو پھر اُن کے بچوں ، کے بچوں ، پھر اُن بچوں کے بچوں   نے بھی رات کو شور مچانا شروع کیا اور یہ اُن کی عادت بن گئی۔  غاروں سے وہ درختوں پر سونے لگے ، لیکن  جب بھی رات کو گریٹ گرینڈ مدر ڈر کر شور مچاتی اور گریٹ گرینڈ فادر  نیند سے شور مچاتے اٹھتے  اور بعض دفعہ زمین پر گر جاتے اور ٹانگ ، ہاتھ ، بازو اور کبھی تو، اگر زیادہ اونچے درخت پر سوتے تو گردن تڑوا لیتے"
" اوہ مائی گاڈ ، وہ اپنے آپ کو باندھ کیوں نہیں لیتے ، تاکہ گریں نہیں" چم چم بولی 
" سو انٹیلیجنٹ آئیڈیا چم چم  سو انٹیلیجنٹ"بوڑھا بولا " مجھے معلوم ہے کہ آپ جینئیس ہو ، شاباش ۔ تو گریٹ گر ینڈفادر  کی گریٹ گرینڈ ڈاٹر نے یہی مشورہ دیا - اُس کے بعد  ۔ گریٹ گر ینڈفادر نے یہ مشورہ سب قبیلے کو بتایا اور سب مردوں نے خود کو  رات کو درختوں سے خود کو باندھنا  شروع کر دیا -لیکن ایک پرابلم پیدا ہو گئی "
" وہ کیا ؟" چم چم نے پوچھا ۔

" صبح کے وقت کوئی گریٹ گر ینڈفادر ،   درخت سے الٹا لٹکا ملتا ، اور کبھی کمر کے بل بندھا لٹکا ہوتا "  بوڑھا  بولا -
" امیزنگ ، پھر تو بچے خوب ہنستے ہوں گے " چم چم ہنستے ہوئے بولی  " بڑا مزہ آتا ہوگا "
" وہ تو ٹھیک ہے " بوڑھا بولا " لیکن سب روتے بھی تھے ، جب کوئی گریٹ گر ینڈفادرگردن سے لٹکا ملتا"
" اوہ ، سو سیڈ ، تو وہ درخت پر گھر کیوں نہیں بنا لیتے " چم چم بولی " تاکہ ایکسیڈنٹس نہ ہوں " 

" ایسا ہی ہوا " بوڑھا بولا " اُنہوں نے درختوں پر اپنی ہٹس بنانا شروع کر دیں "
" گریٹ ، اب تو وہ سیف ہو گئے ، تو پھر بھی شور مچاتے ؟" چم چم بولی 
" یقیناً کیوں کہ ، پینتھرز اور چیتا تو درخت پرچڑھ سکتے ہیں " بوڑھا بولا " لہذا اِن درندوں کو ڈرانے کے لئے شور کا سلسلہ جاری رہا ۔ یعنی عورتیں ڈر کر چلاتیں اور مرد شور مچاتے "
" آوا ، جب لوگوں نے زمین پر گھر بنائے ، تو پھر اُنہوں نے درندوں کو بھگانے کے لئے شور مچانے کا سلسلہ ختم کر دیا ؟" چم چم نے پوچھا -
" چم چم، یہ بتاؤ کہ کیا یہاں کوئی شیر یا چیتا ہے " بوڑھے نے پوچھا -
" نہیں ، وہ تو  زو میں ہوتے ہیں " چم چم بولی
" تو تمھاری نانو ، ڈر کر کیوں چینختی ہیں ؟"بوڑھے نے پوچھا 
" وہ تو ، کسی بھی چیز سے ڈر کرچینختی ہیں ؟ چم چم بولی " لیکن اِس کا سنورنگ سے کیا تعلق ؟" 
" بہت گہرا تعلق ہے ، میری   جینئیس چم چم " بوڑھا بولا " آپ سوچو ؟" 
" کیا ڈرنا ، نانو کی عادت بن چکی ہے ؟ " چم چم بولی 
" نہیں رات کو سوتے میں ڈر کر شور مچانا " بوڑھا بولا -
" آپ کا مطلب رات کو سنورنگ کرنا " چم چم بولی 
" ایگزیکٹلی ، یہ سنورنگ ہی  وہ عادت ہے جو تمھاری نانو کی گریٹ گر ینڈمدر سے آرہی ہے" بوڑھے نے جواب دیا

" لیکن آپ کے خراٹے ، نانو سے زیادہ  لاؤڈ ہوتے ہیں " چم چم بولی ۔
" مائی سوئیٹ ہارٹ، مردوں خراٹے نہیں ، بلکہ غراٹے  ہوتے ہیں " بوڑھا بولا -
" اوہ تھینکس گاڈ ،  میں رات کو سنورنگ نہیں کرتی ، مجھ پر یہ ٹریڈیشن ختم ہو گئی ہے " چم چم  بولی -
اور پھر بوڑھے نے چم چم کو اُس کے غراٹے لینے کی وڈیو دکھائی تو اُسے یقین ہو گیا ، کہ خراٹوں اور غراٹوں کی یہ ٹریڈیشن کبھی ختم نہیں ہوسکتی -
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔