Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
‏آفاقی سچ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏آفاقی سچ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 22 مارچ، 2025

"اتحاد مذاہب" اور "ابراہیمی ہاؤس"

 

مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَـٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔
ابراہیم یہودی یا نصرانی نہیں ہو سکتا بلکہ وہ تو حنیف مسلم ہے اور نہ ہی وہ المشرکین میں سے ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭   
  سعودی عرب کی مستقل فتویٰ کمیٹی نے "اتحاد مذاہب" اور "ابراہیمی ہاؤس" کے حوالے سے پائے جانے والے اختلافات کو ختم کرتے ہوئے درج ذیل فتویٰ جاری کیا:۔
.* مستقل فتویٰ کمیٹی کا فتویٰ - فتویٰ نمبر 19402 
 تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور درود و سلام ہیں اس نبی پر جن کے بعد کوئی نبی نہیں، اور ان کے اہل و عیال اور صحابہ کرام اور ان کے راستے پر چلنے والوں پر قیامت تک 
سائنسی تحقیق اور افتاء کی مستقل کمیٹی نے میڈیا میں شائع ہونے والے سوالات اور مضامین کا جائزہ لیا جو مذاہب (اسلام، یہودیت اور عیسائیت) کے اتحاد کے حوالے سے پیش کیے گئے، جن میں ایک جگہ مسجد، چرچ اور مندر بنانے یا قرآن، تورات اور انجیل کو ایک جلد میں شائع کرنے کی تجویز دی گئی۔ کمیٹی نے اس مسئلے پر غور کرنے کے بعد مندرجہ ذیل فیصلہ کیا۔فتوی نمبر: 19402 
  پہلا نکتہ:* اسلامی عقیدہ کی بنیاد یہ ہے کہ اسلام کے علاوہ کوئی سچا مذہب نہیں ہے اور یہ وہ آخری دین ہے جس نے تمام سابقہ مذاہب اور شریعتوں کو منسوخ کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: ’’بے شک اللہ کے نزدیک دین اسلام ہے۔
دوسرا نکتہ: قرآن پاک اللہ کی آخری کتاب ہے اور اس نے تورات، زبور، انجیل اور دیگر کتابوں کو منسوخ کر دیا ہے۔
تیسرا نکتہ: تورات اور انجیل کو منسوخ کر دیا گیا ہے اور تحریف بھی کر دی گئی ہے جیسا کہ قرآن کی آیات میں مذکور ہے۔  
چوتھا نکتہ: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
پانچواں نکتہ:جس نے اسلام قبول نہیں کیا، خواہ وہ یہودی ہو، عیسائی یا کوئی اور، وہ کافر اور اللہ کا دشمن ہے، اور اگر اس نے توبہ نہیں کی تو وہ جہنم کا مستحق ہے۔
 چھٹا نکتہ:اتحاد مذاہب کی دعوت ایک فتنہ انگیز اور مکارانہ سازش ہے جس کا مقصد کمزور کرنا ہے۔
 ساتواں نکتہ:اس دعوت کا ایک اثر یہ ہو گا کہ اسلام اور کفر کا فرق ختم ہو جائے گا اور مسلمانوں کی کفار سے بیزاری ختم ہو جائے گی، جس سے جہاد بھی ختم ہو جائے گا اور کلمہ کو بلند کرنے کی جدوجہد بھی۔
آٹھواں نکتہ:اگر کوئی مسلمان اس دعوت کو فروغ دیتا ہے تو وہ دین اسلام سے مرتد ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ دعوت اسلام کے اصولوں کے خلاف ہے۔ 
نواں نکتہ: کسی مسلمان کے لیے اس دعوت کی حمایت کرنا، اس کے سیمینار میں شرکت کرنا یا اس کے نظریات کو پھیلانا جائز نہیں ہے۔ 
  قرآن، تورات اور انجیل کو ایک ہی جلد میں شائع کرنا یا ایک جگہ مسجد، کلیسا اور مندر بنانا جائز نہیں، کیونکہ یہ اسلام کی بالادستی کو رد کرنے کے مترادف ہے۔
 سائنسی تحقیق اور اجراء کے لیے مستقل فتویٰ کمیٹی اللہ اس فیصلے کو کمیٹی کے لیے باعث اجر بنائے، آمین۔
٭٭٭٭٭٭٭٭  

اتوار، 17 مارچ، 2024

أتموا الصيام إلى الليل

 بروز جمعہ 15 مارچ 2024 ، میں نے مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا (جن میں حافظ ، قرآنی فکر، پرویزی فکر، انجینئر فکر اور شیخ فکر سے متاثر ) دوستوں کو افطار پر بلوایا ۔

 مردانہ بیٹھک میں سب بیٹھے ۔ ملازم نے 06:14 کے حساب سے میز پر افطاری لگا دی ۔ افطاری سے پہلے میں نے کہا باہر افطاری لگی ہے ۔ آپ میں سے جو چاھےاذان کے حساب سے افطاری کر سکتا ہے ۔ میں 7:00 کے بعد افطاری کروں گا ۔

 وہ سب میری ساتھ افطاری کے لئے انتظار کرنے لگے ۔

 

 اپنی اپنی فکر کے مطابق افطار پر منادلہ و مجادلہ شروع ہوا ۔ جب سورج غروب ہوچکا تو میں نے دس منزلہ فلیٹ کی کھڑکی سے اُنہیں مغرب کا منظر دکھایا ۔ اور کہا :
ہم
إِلَى اللَّيْلِ کا منظر دیکھیں گے بالکل ایسے جیسے ہمیں الْفَجْرِپر الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ دیکھنے کا حکم ہے جس کی بنیاد پر ہم اپنے الصِّيَامَ کا اتمام کرتے ہیں ۔

 سب دوستوں نے نظارہ دیکھا ۔

 میں نے صرف ایک جملہ کہا ،
" 5:00 سے 6:15 تک تقریباً ، 13 گھنٹے اور 15 منٹ بنتے ہیں ۔ 

اُفق کے پار بسنے والے   يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا دوستو !

مختلف فرقوں کے مطابق آپ نے إِلَى اللَّيْلِ کے فہم پر مختلف اذانیں سنی۔ جو 06:14 ، 06:20 اور 06:30 تک مسلمانوں کا روزہ افطار کرواتی رہیں ۔ آپ نے اللَّيْلِ کو بھی دیکھا ۔ کیا سوا 13 گھنٹوں کے انتظار کے بعد آپ مزید 45 منٹ تک بھوک و پیاس برداشت نہیں کر سکتے ؟

 اگر آپ نے جمہورکے غلط فہم کے مطابق الصوم مکمل نہ کیا ۔ تو اِس کا نقصان کس کو ہوگا ؟

 آپ کی کیا رائے ہے ۔ شکریہ

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اتوار، 10 دسمبر، 2023

انسانی تکبّر۔ قول و فعل کا تضاد

اِس 70 سالہ بوڑھے کے فہم کے مطابق ۔ الکتاب کے تین حصے ہیں ۔
پہلا حصہ ۔ آدم سے نوح تک ۔
دوسرا حصہ ۔ نوح سے ابراہیم تک
تیسرا حصہ ۔ ابراہیم سے احمد تک ۔
القرآن ۔
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سے مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ تک عربی کے الفاظ، میں پہلے حافظ کی مکمل تلاوت ہے ، جس میں تلاوت کئے گئے  تمام سٹینڈرڈ کی مکمل اتباع ، پہلے حافظ  نے خود کی ۔

لہذا  سب انسانوں کو اِسی تلاوت پر ایمان لاتے ہوئے ۔ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْب بن کر  اِس تلاوت کی اتباع کر تے ہوئے ۔ اس تلاوت کے مطابق اپنے اعمال کو درست رکھنا ہے تاکہ اُن کے افعال کو تلاوت سننے والے انسانوں کو  قول رسول کے مطابق دکھائی دیں ۔
یاد رکھیں کہ اعمال کا تعلق انسان کے نفس سے ہوتا ہے اور افعال اُس کا اظہار ہوتے ہیں ۔لہذا قول و فعل میں تضاد نہیں ہونا چاھئیے ۔ کیوں کہ قول و فعل کا تضاد ، تکبّر کی نشانی ہے۔

ہر مذھب کے انسان کا ایک مسئلہ ہے ، کہ میں اپنے گناہوں کے لبادے کو اپنی جلد سے کیسے اتاروں  ۔ چھوٹے گناہ ۔ درمیانے گناہ اور بڑے گناہ ۔
اںسب کی ابتداء چھوٹے گناہ سے ہوتی ہے ۔ جو مذاق میں ، کھیل میں شروع ہوتا ہے اور بچہ ہے کہہ کر اُس کی جلد سے جھاڑ دیا جاتا ہے ، جب وہ اِس کے دھونے کا یعنی لفاظی میں چھپانے کا ماہر ہو جاتا ہے ، تو درمیانے گناہ کی طرف یہ کہہ کر بڑھتا ہے کہ سب کرتے ہیں میں نے کردیا تو کون سا جرم کیا ؟  ۔

 اور یوں بڑے گناہ کو اپنی جلد کے اطراف لپیٹ لیتا ہے  ۔ کہ یہ تو انسانی فطرت ہے ۔ اور فطرت بنانے والا معاف کرنے کا بھی حق رکھتا ہے ۔ جس کے لئے اُس نے مذھب اتارا ہے ۔ جبکہ مذھب تو انسانوں کا بنایا ہوا ہے ۔چنانچہ بڑھاپے میں اپنی جلد سے گناہ جھاڑنے اور جھڑوانے کا عمل انسان شروع کر دیتا ہے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


جمعہ، 10 مارچ، 2023

عیسیٰ ابنِ مریم ، احمد اور رسول الله وخاتم النبيين


 اُفق کے پار بسنے والے میرے نیک دل دوستو ۔
یقین کرو ، نہ میں احمد کے انتظار میں ہوں، نہ مسیح عیسیٰ ابنِ مریم کے ،  اور نہ ہی بنی اسرائیل میں سے ہوں ، کہ ۔
نَحْنُ أَنصَارُ اللَّهِ کا نعرہ مستانہ  ، قول و فعل کے متضاد تکبّر میں مبتلا ہو کر لگاؤں ۔
ہاں میں الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ میں شامل ہونے کے لئے ،  الَّذِينَ آمَنُوا بن کر  أَنصَارِي إِلَى اللَّهِ کی قطار میں أَيَّدْنَا الَّذِينَ آمَنُوا کے لئے  بَنِي إِسْرَائِيلَ  کی عَدُوِّ کی صْبَح کو  ظَاهِرِ کرتا رہتا۔ میرے لئے یہ آیت حتمی ریڈ لائن ہے ۔


مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۚ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا ‎ ۔

 شکریہ (خالد مہاجرزادہ ) 

٭٭٭٭٭٭ جاری ہے ٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ: کل رات مورخہ 10 مارچ 2023 پر ایک وٹس ایپ گروپ پر بحث ہوئی جس کی ابتداء اِس پوسٹ سے شروع ہوئی ۔

لہذا ۔ اب اگلے مضامین۔اِس بحث کے پیچیدگی کی وضاحت میں ۔ ایم نثار علی ، اِن کے معاونین ارشد و دیگران کے فہم اورکمنٹ پر پیسٹنگ ہو گی کیوں کہ وٹس ایپ ویب سے غائب ہو جاتا ہے ۔   

٭٭٭٭واپس  فہرست قادیانیت ٭٭٭٭


   

 

 

پیر، 30 جنوری، 2023

فلا تكونن من الجاهلين

 

تمھیں میں سیدھی راہ بتاتا ہوں ورنہ جہنم میں جاؤ گے ، حدیثیں پڑھو۔ حدیثیں۔ ۔ ۔ جاہل  القرآن تمھیں سمجھ نہیں آئے گا ۔اِس بھاشن کے مقابلے میں آیات  اور خالد مہاجرزادہ کا فہم ۔

٭٭٭٭٭٭٭  

آج کے سبق کا سیاق اور وارننگ ۔ 

٭۔سیاق:۔
قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُ لَيَحْزُنُكَ الَّذِي يَقُولُونَ فَإِنَّهُمْ لاَ يُكَذِّبُونَكَ وَلَكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللّهِ يَجْحَدُونَ[6:33] 

قَدْ ( حقیقت میں)      نَعْلَمُ (ہمیں علم ہے) ۔لَيَحْزُنُكَ(تیرے لئے وہ  حزن کرتا رہتا ہے  ) ۔الَّذِي ( وہ  )۔

٭۔ حقیقت میں ہمیں علم ہے کہ وہ (اللہ)  تیرے لئے حزن کرتا رہتا ہے ۔ 

يَقُولُونَ ( وہ سب قول کرتے رہیں گے  )      فَإِنَّهُمْ (پس صرف وہ سب ) ۔لاَ (نہیں) ۔ يُكَذِّبُونَكَ  (تو کذّب کہے گا )۔

٭۔پس  صرف وہ سب  کہتے ہیں کہ تو کذّب نہیں کہے گا ۔

وَ ( اور)لَكِنَّ (لیکن ) ۔الظَّالِمِينَ (خاص  ظالمین ) ۔ بِآيَاتِ  ( آیات کے ساتھ)۔

اللّهِ ( اور)يَجْحَدُونَ (وہ  جحد کرتے رہیں گے  ) ۔

٭۔اور لیکن  خاص ظالمین    ، اللہ کی آیات کے ساتھ اجتحاد کرتے رہیں گے ۔

٭۔سبق:۔ 

 وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُواْ عَلَى مَا كُذِّبُواْ وَأُوذُواْ حَتَّى أَتَاهُمْ نَصْرُنَا وَلاَ مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللّهِ وَلَقدْ جَاءَكَ مِن نَّبَإِ الْمُرْسَلِينَ[6:34] 


وَلَقَدْ (  اور حقیقت میں)كُذِّبَتْ(کذّب    کیا) ۔رُسُلٌ(رسولوں  (کا)  ) ۔مِّن قَبْلِكَ  ( تجھ سے قبل)۔فَصَبَرُواْ (    پس اُن  سب نے صبر کیا ) عَلَى مَا (اوپر جو ) ۔كُذِّبُواْ (اُن سب سے کذّب  کیا) ۔وَ ( اور) أُوذُواْ ( اُن  سب کو اذیت دی ) ۔حَتَّى  ( حتیٰ)۔أَتَاهُمْ (  اُن سب کے پاس آئی )نَصْرُنَا (ہماری نصر) ۔وَلاَ (اور نہیں) ۔مُبَدِّلَ   ( بدل کیا گیا )۔لِكَلِمَاتِ اللّهِ (      کلمات اللہ کے لئے  ) وَلَقَدْ (  اور حقیقت میں)  ۔جَاءَكَ ( تیر ے پاس  آئی ) ۔مِن ( میں سے )  نَّبَإِ ( نباء ) ۔الْمُرْسَلِينَ  (خاص مرسلین )۔

تیرے پاس الْمُرْسَلِينَکی   نَّبَإِ پہنچ گئی ۔ اورر اللہ کے کلمات کا کوئی بدل نہیں ، تجھ سے قبل بھی سب رسولوں  کا کذّب کیا ، اُن سب کو  اذیت دی ، اُن سب نے اُن کے کذب پر صبر کیا۔ حتی کہ اُن سب کے پاس ہماری نصر آئی ۔

  ٭۔وارننگ (نذیر) :۔   


وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الْأَرْضِ أَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاءِ فَتَأْتِيَهُم بِآيَةٍ وَلَوْ شَاءَ اللّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى فَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْجَاهِلِينَ [6:35]   

اگر تجھے اُن کے اعراض پركَبُرَ  ہوتا ہے ۔ پس یقیناً  تو  استطاعت کر  ، یہ بغاوت  کرکے الارض میں نَفَقً یا   السَّمَاءِمیں سُلَّمً      کر ۔   پس اگر تو اُن کے پاس آیات کے ساتھ آ ئے۔اللہ کی شاء

! اُن سب کو الْهُدَى پر جمع کردے گا ۔   پس تو   الْجَاهِلِينَمیں کبھی نہ ہونا 

خلاصہ:۔

إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ [6:36]

 إِنَّمَا  ( صرف جو )يَسْتَجِيبُ (ضرور جواب دیتے ہیں  / دیتے رہتے ہیں ) ۔الَّذِينَ(وہ سب لوگ ) ۔يَسْمَعُونَ  ( ضرور سنتے رہتے ہیں  )۔وَ  (اور  )۔الْمَوْتَى  (خاص  موت میں)۔

يَبْعَثُهُمُ ( اُن سب کو جگاتا  ہے / رہتا ہے/ رہے گا   ) اللّهُ   (اللہ  )۔

ثُمَّ ( پھر  )۔ إِلَيْهِ ( اُس کی طرف)۔ يُرْجَعُونَ ( وہ سب رجوع کرتے ہیں /  کریں گے /کرتے رہیں گے  )۔

صرف  وہ لوگ   جو سنتے ہیں  اور خاص موت میں ہیں ،ضرور جواب دیتے ہیں/دیں گے، (کیوں کہ)  اللہ اُن سب کو جگاتا رہتا،پھر سب اُس کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

   الْمَوْتَى  (خاص  موت میں) ۔ قبر میں جانے والے سب جگائے جائیں گے ، کوئی نہیں  سوتا رہے گا ۔  

إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ [27:80]

 صرف تو  نہیں سناسکتا      الْمَوْتَى کو    اور نہ تو سنا سکتا ہے   الصُّمَّ  کو ، جب وہ  اگر مُدْبِرِينَ   ہو جائیں ۔    

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

  

رواں ترجماتی فہم (نوٹ یہ عربی کا نعم البدل نہیں)۔

٭۔سیاق:۔

حقیقت میں ہمیں علم ہے کہ وہ (اللہ)  تیرے لئے حزن کرتا رہتا ہے ۔پس  صرف وہ سب   کہتے ہیں کہ تو کذّب نہیں کہے گا ۔اور لیکن  خاص ظالمین    ، اللہ کی آیات کے ساتھ اجتحاد کرتے رہیں گے ۔

٭۔سبق:۔ 

تیرے پاس الْمُرْسَلِينَکی   نَّبَإِ پہنچ گئی ۔ اورر اللہ کے کلمات کا کوئی بدل نہیں ، تجھ سے قبل بھی سب رسولوں  کا کذّب کیا ، اُن سب کو  اذیت دی ، اُن سب نے اُن کے کذب پر صبر کیا۔ حتی کہ اُن سب کے پاس ہماری نصر آئی ۔

  ٭۔وارننگ (نذیر) :۔ 

   

اگر تجھے اُن کے اعراض پركَبُرَ  ہوتا ہے ۔ پس یقیناً  تو  استطاعت کر  ، یہ بغاوت  کرکے الارض میں نَفَقً یا   السَّمَاءِمیں سُلَّمً      کر ۔   پس اگر تو اُن کے پاس آیات کے ساتھ آ ئے۔اللہ کی شاء

! اُن سب کو الْهُدَى پر جمع کردے گا ۔   پس تو   الْجَاهِلِينَمیں کبھی نہ ہونا

خلاصہ:۔

صرف  وہ لوگ   جو سنتے ہیں  اور خاص موت میں ہیں ،ضرور جواب دیتے ہیں/دیں گے، (کیوں کہ)  اللہ اُن سب کو جگاتا رہتا،پھر سب اُس کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔

الْمَوْتَى  (خاص  موت میں) ۔ قبر میں جانے والے سب جگائے جائیں گے ، کوئی نہیں  سوتا رہے گا ۔

لہذا   رحمت للعالمین کی تلاوت کردہ،  آیات سن کر  جاگ جائیں اور مدبّرین میں شامل ہوجائیں 

٭٭٭٭٭٭

رَحْمَةً لِّلْعَالَمِين۔کے قول و فعل میں بالکل تضاد نہیں ہے۔ تو الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ  کے قول و فعل میں کیسے ہو سکتا ہے ؟

ہفتہ، 28 جنوری، 2023

اسوۃ رحمت للعالمین - قسط-5

 

81۔آپﷺ  نے الَّذِينَ آمَنُواْ      کا شک دور کرتے ہوئے  بتایا   کہ    کزن میرج  کی اجازت صرف  النبی کو ہے۔ وہ بھی اِس وجہ سے کہ اُنہوں نے النبی کے ساتھ ہجرت کی ہو ۔ -  (الکتاب :سورۃ 33 آیت 50)
82۔ آپﷺ  نے الَّذِينَ آمَنُواْ      کو بتایا   کہ    ازواج ، بنات النبی اور نساء المومنین  ، اذیت سے بچنے کے لئے ،اپنے آپ کو ڈھانپ کر گھر سے باہر نکلیں   -  (الکتاب :سورۃ 33 آیت 59)
 83۔ آپﷺ  نے الَّذِينَ آمَنُواْ      کو بتایا   کہ    لوگوں سے ٹھوس بات کرو۔ گھما پھرا کر بات کرنا جرم ہے      -  (الکتاب :سورۃ 33 آیت 70)
  84۔تآپﷺ  نے الَّذِينَ آمَنُواْ      کو بتایا   کہ    مھارے گناہوں  کا سارا ریکارڈ ، تمھاری سماعت ، بصارت اور جلد میں محفوظ ہو رہا ہے ۔ (یہاں تک کہ زانی اور زانیہ کی جلد پر پڑنے والے  فی زنا 100 کوڑوں کی ضرب)      -  (الکتاب :سورۃ 41 آیت 20)
85۔آپﷺ  نے الَّذِينَ آمَنُواْ      کو بتایا   کہ    اپنے تمام کام   آپس میں مشورے سے سرانجام دو      تاکہ امن قائم رہے  -  (الکتاب :سورۃ 42آیت 38)
  86۔آپﷺ  نے الَّذِينَ آمَنُواْ      کو بتایا   کہ     اپنے حسد  میں اللہ کا کلام بدلنے کی کوشش مت کرو  ۔ ۔    (الکتاب :سورۃ 48آیت 15) 
87۔آپﷺ  نے الَّذِينَ آمَنُواْ      کو بتایا   کہ کسی جھگڑے کی صورت میں لوگوں کے درمیان صلح کراؤ -  (الکتاب :سورۃ 49آیت 9)
88۔آپﷺ  نے الَّذِينَ آمَنُواْ      کو بتایا   کہلوگوں کو بُرے القاب مت دو  اور نہ  دوسروں کا مذاق  اڑاؤ -  (الکتاب :سورۃ 49آیت 11)
89۔ آپﷺ  نے الَّذِينَ آمَنُواْ      کو بتایا   کہ گمان مت کرو ،ایک دوسرے کے بھید نہ ٹٹولا کرو اور کسی کی غیبت مت کرو۔  یہ سب خرابیاں اپنے مردہ بھائی کے گوشت کھانے کے برابر ہیں   -  (الکتاب :سورۃ 49آیت 12)
90۔آپﷺ  نے الَّذِينَ آمَنُواْ      کو بتایا   کہ  اپنے  قبیلے اور علاقے کو اپنا  وجہ افتخار مت بناؤ   ، کیوں کہ یہ تمھاری پہچان ہیں اور سب انسان برابر ہیں ، لیکن متقی کا درجہ اللہ کے نزدیک اوپر ہے -  (الکتاب :سورۃ 49آیت 13)
91۔آپﷺ  نے الَّذِينَ آمَنُواْ      کو بتایا   کہ منہ سے نکلنے والی ہر بات  ریکارڈ ہو جاتی ہے  -  (الکتاب :سورۃ 50آیت 18) 
92۔آپﷺ  نے الَّذِينَ آمَنُواْ      کو بتایا   کہ میرے أَبِي،  امام الناس ابراہیمﷺ  کی طرح مہمانوں کا احترام کرو  -  (الکتاب :سورۃ 51آیت 24) 
93۔آپﷺ  نے الَّذِينَ آمَنُواْ      کو بتایا   کہ اللہ کی آیت کو نہ جھٹلاؤ اور نہ کفر کرو ۔ پنے مال میں سے خیرات کرو   -  (الکتاب :سورۃ 57آیت 19)
94۔آپﷺ  نے الَّذِينَ آمَنُواْ      کو بتایا   کہ    رہبانیت مت اختیار کرو     -  (الکتاب :سورۃ 57آیت 27)
95۔آپﷺ  نے الَّذِينَ آمَنُواْ      کو بتایا   کہ  مجالس میں ، مجلس کے آداب  رکھو       -  (الکتاب :سورۃ 58آیت 11)
 96۔آپﷺ  نے الَّذِينَ آمَنُواْ      کو بتایا   کہ مؤمنات النبی سے کی گئی بیعت پر قائم رہیں  -  (الکتاب :سورۃ 60 آیت  12)
97۔آپﷺ  نے الَّذِينَ آمَنُواْ      کو بتایا   کہ وہ بات  مت کہو جس پر خود فعل  نہیں کرسکتے ، یہ نہایت برا ہے   -  (الکتاب :سورۃ 61 آیت  2)  
 98۔ آپﷺ  نے الَّذِينَ آمَنُواْ      کو بتایا   کہ مسیح عیسیٰ ابنِ مریم کے حوارین کی طرح، انصار اللہ بن جاؤ  -  (الکتاب :سورۃ 61 آیت  14)   
99۔آپﷺ  نے الَّذِينَ آمَنُواْ      کو بتایا   کہ  اپنے آپ کولالچ سے پاک رکھو  -  (الکتاب :سورۃ 64 آیت  16)  
100۔آپﷺ  نے الَّذِينَ آمَنُواْ      کو بتایا   کہ ،رسول اللہ ، کی اسوہءِ حسنہ  ، اختیار  کرو -  (الکتاب :سورۃ 60آیت 6)
 
 
101۔ آپﷺ  نے الَّذِينَ آمَنُواْ      کو تلاوت میں  بتایا   کہ، محمد (یعنی مجھے)  اپنا  آباء  (دادا  یا نانا  ) مت بناؤ  ، رسول اللہ اور خاتم النبیین سمجھو -  (الکتاب :سورۃ 33 آیت 40)
 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

  اللہ کے احکامات جن کا فہم 100  نکات میں لکھا ہے اُن کی آیات کا حوالہ سامنے دیا ہے ، شائد آپ کا فہم وہ نہ  ہو لیکن کیا:
٭- اِن آیات پر محمدﷺ  نے 100 فیصد عمل نہیں   کیا     (الکتاب :سورۃ 9آیت  33)؟
٭- اللہ محمدﷺ کے اعمال  پر 100 فیصد  گواہ ہے   (الکتاب :سورۃ 6آیت  19)؟؟
 
اُفق کے پار بسنے والے دوستو! 
معلّم القرآن (الرحمٰن)  نے   رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينکی تلاوت کردہ ، ایک آیت  سے میرے فہم کے مطابق الکتاب کی تعلیم  مسیح عیسیٰ ابنِ مریم  نے بنی اسرائیل پر مکمل کردی ۔
 إِذْ قَالَ اللّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِي عَلَيْكَ وَعَلَى وَالِدَتِكَ إِذْ أَيَّدتُّكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلاً وَإِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي وَتُبْرِىءُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوتَى بِإِذْنِي وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَنكَ إِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِنْهُمْ إِنْ هَـذَا إِلاَّ سِحْرٌ مُّبِينٌ ۔ وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ أَنْ آمِنُواْ بِي وَبِرَسُولِي قَالُوَاْ آمَنَّا وَاشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ
  ٭٭٭٭٭ ٭٭٭٭٭

 

 
 
 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔