Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
‏بریکنگ نیوز لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏بریکنگ نیوز لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 4 جولائی، 2018

پیرس میں بارش ہوتو سڑکیں پانی میں نہیں ڈوبتیں، عمران خان


 لاہور کو پیرس بنانے چلے تھے ۔ بارشوں نے پرانا لاہور  کی یاد دلا دی ۔عمران خان
نوٹ: 1989 کے لاہور کو بھی میں نے بارشوں میں دیکھا ہے اور 1958 کے لاہور کو بھی ، اب معلوم  نہیں کِس لاہور کی بات ہو رہی ہے ؟  


آئیں عمران کا پیرس دیکھتے ہیں ، بارشوں میں ! 





اللہ کی طرف سے ہونے والی  ایک بارش نے پیرس  کے نکاسیءِ آب کے نظام کی قلعی کھول دی ۔


منگل، 3 جولائی، 2018

چیف جسٹس پاکستان اور خاتون وکیل!


سپریم کورٹ میں ایم ڈی پی ٹی وی تعیناتی کیس میں چیف جسٹس پاکستان اور خاتون وکیل کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی اور عائشہ حامد کیس کی کارروائی چھوڑ کر عدالت سے چلی گئی۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے ایم ڈی پی ٹی وی تعیناتی کیس کی سماعت کی، عطا الحق قاسمی کی وکیل کی چیف جسٹس سے سماعت کے دوران تلخ کلامی اس وقت ہوئی جب انہوں نے قاسمی کی جانب وزیراعظم کو ایم ڈی پی ٹی وی لگانے کیلئے لکھا گیا خط پڑھا،چیف جسٹس نے خط پڑھے جانے کے دوران کہا،
" بلائیں قاسمی کو، کیا وہ اس طرح کا لیٹر لکھ سکتا ہے؟ کیا ایسی انگریزی ڈکٹیٹ کرا سکتا ہے، ابھی دو گھنٹوں میں ان کو یہاں بلا لیں۔"

عائشہ حامد نے کہا،
" میں اٹارنی جنرل نہیں کہ آپکی مرضی کی بات کروں،مجھے اپنے موکل کے دفاع کا پورا حق ہے"
چیف جسٹس نے کہا ،
"  عطا الحق قاسمی کو فوری بلا لیں،
اس پر عائشہ حامد نے کہا،
"میرے موکل نے ایم ڈی کی تقرری کےلئے وزیراعظم کو خط لکھا"
چیف جسٹس نے پوچھا ،
 " کیا عطا الحق قاسمی کو ایسا خط لکھنا آتا ہے،بلا لیتے ہیں عطا الحق قاسمی کو اور دیکھتے ہیں انکو ایسا خط لکھنا آتا ہے؟۔"

اس سے قبل سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ایک موقع پر کہا،"
" آپ دلائل دیں، ویسے بھی آپ خاتون وکیل ہیں"
اس پر عائشہ حامد نے کہا،
" ایسی بات نہ کریں،میرے ساتھ بلا تفریق ایک وکیل کی طرح برتاؤ کیا جائے۔"  عائشہ حامدنے دلائل دیتے ہوئے کہا ،
"  صبا محسن نے عطا الحق قاسمی کی تنخواہ اور مراعات سے متعلق سمری وزیراعظم کو بھجوائی تھی،عطا الحق قاسمی کا انتخاب بطور چیئرمین پی ٹی وی بورڈ آف ڈائریکٹر اجلاس میں ہوا۔"

چیف جسٹس پاکستان نے کہا،
"عطا الحق قاسمی کی تقرری خفیہ طریقے سے کی گئی، کیا ہمیں پتہ نہیں کہ اس کے پیچھے کیا کچھ ہوا ہے۔"
عائشہ حامد نے کہا،
" وفاقی حکومت کو چیئرمین پی ٹی وی تعیناتی کا اختیار ہے"
چیف جسٹس نے کہا،
" ابھی 4 گھنٹوں میں عطا الحق قاسمی کو پیش کریں، عطا الحق قاسمی آکر اس طرز کا خط ہمیں لکھ کر بتائیں؟"
عائشہ حامد نے کہا،
"میرے ساتھ کل بھی ایسے کیا گیا،میں اپنے موکل کے دفاع کیلئے آئی ہوں،میں اٹارنی جنرل نہیں، اپنے دفاع کیلئے یہاں آئی ہوں۔"

عائشہ حامد کیس کی کارروائی چھوڑ کر عدالت سے چلی گئی۔


بدھ، 26 اپریل، 2017

داعش کے حملے کا نیا طریقہ !

اِس پیغام کو ہنگامی بنیادوں پر تمام ، وٹس ایپ اور فیس بُک دوستوں میں پھیلائیں ً
دہشت گردوں کی کمر توڑیں
!

بدھ، 15 فروری، 2017

چلتی بس میں نکاح

لاہور ﺳﮯ ﮐﺮﺍﭼﯽ ﺑﺲ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺐ ﺑﺲ ﺳﭩﯿﺸﻦ ﺳﮯ ﭼﻞ ﭘﮍﯼ ﺗﻮ ﻓﺮﻧﭧ ﺳﯿﭧ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﺟﻮ بہت ﺍﭼﻬﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﺎ ﮐﻬﮍے ﮨﻮ گئے ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﻣﺴﺎﻓﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ " ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻬﺎﺋﯿﻮ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﻨﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻬﮑﺎﺭﯼ ﯾﺎ ﮔﺪﺍﮔﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﺠﻬﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﺯﯼ ﻣﺮﺽ ﺳﮯ اللہ کو پیاری ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮐﭽﻬﮧ ﺩﻥ ﮔﺰﺭے اور ﻣﯿﺮﯼ ﻓﯿﮑﭩﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺁﮒ ﻟﮓ ﮔﺌﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺁﻣﺪ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺁﻣﺪ ﮐﺎ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ..
ﻣﯿﺮﺍ ﺗﯿﺎﺭ ﺷﺪﮦ ﺳﺎﺭﺍ ﻣﺎﻝ ﺟﻞ ﮐﺮ ﺧﺎﮐﺴﺘﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ پھر ﮐﭽﻬﮧ ﻣﺪﺕ ﮔﺬﺭﯼ ﮐﮧ ﻣﺠﻬﮯ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺩﻭﺭﮦ ﭘﮍﺍ  ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ نے ﺟﺐ ﯾﮧ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺮﮮ ﺩﻥ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻨﮯ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﻣﻨﻘﻄﻊ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮈﺍﮐﭩﺮﻭﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﯽ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﮐﻢ ﮨﯽ ﺩﯼ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﮧ ﺟﻮﺍﻥ ﺑﯿﭩﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺍﺭﺙ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻋﺼﻤﺖ ﮐﻮ ﺗﺎﺭ ﺗﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﯾﮩﯽ ﻏﻢ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﻬﺎﺋﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﮨﭽﮑﯽ ﺑﻨﺪﻫﮧ ﮔﺌﯽ ﯾﮧ ﺟﻮﺍﻥ ﺳﺎﻝ ﻟﮍﮐﯽ ﺟﻮ ﭘﺎﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﻬﯽ ﺗﻬﯽ ﺍٹھی ﺍﻭﺭ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ سہارا دے ﮐﺮ ﺳﯿﭧ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺩﯾﺎ...
ﺑﺲ ﮐﯽ ﭘﭽﮭﻠﯽ ﺳﯿﭧ ﺳﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﻬﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ.. " ﻣﯿﺮﮮ 2 ﺑﯿﭩﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﮑﺎﺡ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﯾﮧ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺑﯿﭩﻬﺎ ﮨﻮﺍ ہے، ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ لیے ﺩﻟﮩﻦ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﮨﮯ . ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺰﺭﮒ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﺎ ﻧﮑﺎﺡ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺱ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﮐﺮ ﺩﮮ ﻣﯿﮟ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﭽﯽ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﻭﮞ گا..  " لڑکا کھڑا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﮯ..
بس میں موجود ﺍﯾﮏ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻬﮍﮮ ﮨﻮﮐﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ " ﯾﮧ ﺳﻔﺮ بہت ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺳﻔﺮ ﮨﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﺟﯿﺴﺎ ﻣﻘﺪﺱ ﻋﻤﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ وہ بھی سفر میں اس سے اچھی بات کیا ہو گی؟؟ اگر ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﺎﺡ ﭘﮍﻫا دوں " ﺳﺐ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ .'" ﻣﺎﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ . ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ . ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﮧ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻭﻏﯿﺮﮦ " ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﭘﮍﻫا دیا..
ﺍﯾﮏ اور ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻬﮍﮮ ﮨﻮ گئے ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ.. " ﻣﯿﮟ ﭼﻬﭩﯽ ﭘﮧ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻬﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ لیے ﻟﮉﻭ لے کر مگر ﺍﺱ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻋﻤﻞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﻬﮧ ﮐﺮ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ کہ لڈو ادھر ہی تقسیم کر دیں اس نے دولہن کے باپ سے مخاطب ہوتے ہوے کہا..
دولہن کے باپ نے ڈرائیور سے کہا ڈرئیور میاں 5 منٹ کسی جگہ بس روک دینا تاکہ سب مل کر منہ میٹھا کر لیں، ڈرائیور نے کہا ٹھیک ہے بابا جی... ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﺍﻧﺪﻫﯿﺮﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻮ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺳﮯ ﺑﺲ ﺭﻭﮐﻨﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ..
ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﻣﺴﺎﻓﺮ مل کر لڈو کھانے لگے، ﻟﮉﻭ ﮐﻬﺎﺗﮯ ﮨﯽ ﺳﺐ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﺳﻮ ﮔﺌﮯ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﮐﻨﮉﯾﮑﭩﺮ ﺟﺐ ﻧﯿﻨﺪ سے ﺟﺎگے ﺗﻮ ﺍﮔﻠﯽ ﺻﺒﺢ ﮐﮯ8 ﺑﺠﮯ ﺗﻬﮯ ﻣﮕﺮ ﺩﻟﮩﻦ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻟﮩﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺑﺎﭖ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻭﺭ ﻟﮉﻭ ﺑﺎﻧﭩﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﺲ ﺳﮯ ﻏﺎﺋﺐ ﺗﻬﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﮐﺴﯽ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﮧ ﮔﻬﮍﯼ ﻧﮧ ﭼﯿﻦ ﻧﮧ ﭘﯿﺴﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﮐﭽﻬﮧ ﺑﻬﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻬﺎ ﺍﻥ ﮐﻮ ﯾﮧ 6 ﻣﻤﺒﺮﺯ ﮐﺎ ﮔﺮﻭﭖ ﻣﮑﻤﻞ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻟﻮﭦ ﭼﮑﺎ ﺗﻬﺎ ..

جمعہ، 20 جنوری، 2017

راحیل شریف، زرعی زمین اور شہداء فاونڈیشن ،

 مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب راحیل شریف نے اپنی ریٹائرمنٹ سے کئی مہینے پہلے ریٹائمنٹ کا اعلان کیا تو ، راحیل کا قد  کئی  کرسیوں پر کھڑے ہوکر اپنا قد بلند کرنے والے بونوں سے  بہت اونچا ہوچکا تھا ، ہمیں معلوم تھا کہ میرے ساتھ پاس آؤٹ ہونے والے 54 لانگ کورس میں پاس آؤٹ ہونے والے  284 کیڈٹس  میں وہ بہت سلجھا ہوا اور اپنے خاندان کی امانتوں کی پاس رکھنے والا نہایت نفیس انسان ہے ۔
ایک ملاقات میں مختلف کورس میٹس ، "پاکستان کی بقاء" کے لئے مختلف رائے دے رہے تھے ، تو میں نے ایک جملہ کہا تھا ۔" باس میری نظر میں وحید کاکڑ ایک ہیرو ہے کیانی نہیں "
درمیان میں ، وقت بڑھتا گیا ہماری ، 23 مارچ ، 14 اگست ، عیدین پر ملاقاتیں ہوئیں ، اُس کی باڈی لینگوئج ہمیشہ وہی رہی ، یہاں تک کہ جب کئی ملکی فوج کے سربراہان کی قیادت سنبھالنے کا غلغلہ بلند تھا اور ہماری حکومت جس میں بہت دلچسپی لے رہی تھی ، کیوں کہ شائد 1973 کی طرح سول گونمنٹ کا خیال تھا کہ مسلم امّہ کی قیادت کا تاج اُس کے سر پر رکھا جائے ، جس کے ہما نے 1974 میں صرف پاکستان کا چکر لگایا تھا اور جس کے پیچھے گدھ لگے ہوئے تھے جنہوں نے وزیر اعظم پاکستان  کو اقتدارِ مسلم امّہ کا جھولا جھلوانے کے بجائے پھانسی گھاٹ کے ہی اسلامی جھولے پر سواری کروا کر اُفق کے پار بھجوا دیا ۔
اپنی 63 سالہ زندگی میں ، طالبعلمی میں میری جو پہلی سیاسی جماعت تھی وہ پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن تھی ۔ پھر فوج میں آنے کے بعد ، بھٹو کی محبت اور اُس سے نفرت اور پھر محبت پروان چڑھی وہ پاکستان کے سیاسی اداکاروں کی مرھونِ منت تھی ۔
ریٹائرمنٹ کے بعد ، گوسیاسی نہیں بنا لیکن سیاستی کرداروں کی تریا چلتّروں پر نظر ضرور رکھی ، یہی وجہ تھی ۔ کہ منگلہ میں 54 لانگ کورس کی ایک سالانہ ملن پارٹی کی یاد میں یہ پوسٹ لگائی۔



حکومت کی مثبت پالیسیوں پر چلنا راحیل شریف کا آئینی فرض تھا وہیں آئینِ پاکستان ہی کے سائے میں ہر حکومتی منفی احکامات سے انکار بھی اُس کی شریعت تھی۔ جو اُس نے ایک سچے ، بے باک ، فرمانبردار آئینِ پاکستان کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ کے طور پر نبھائی ۔
اور فوج سے ملنے والی تمام مالی مراعات ، مکان، دو پلاٹ ، کمرشل پلاٹ ، شہداء فاونڈیشن میں دینے کے بعد اور ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان میں کہیں بھی ، الاٹ ہونے والی 80 ایکڑ زمین (یعنی پونے چار مربعے ، جو ہر چیف آف آرمی سٹاف کو ملتی ہے ) دینے کا وعدہ کر کے ، چھڑی نئے چیف آف آرمی سٹاف کو پکڑاتے ہی لاہور اپنے آبائی گھر کو روانہ ہو گیا ۔

 کسی ویرانے میں اور بے آباد جگہ پر زمین لینے کے بجائے اُس نے ، شہداء کے بچوں کے سنہرے مستقبل کی خاطر ڈھائی مربعے یعنی 482 کنال  بیدیاں روڈ پر لینا قبول کیا جو کینٹ کے ساتھ ہندوستان اور پاکستان کے بارڈر پر ہے ، جہاں 1965 کی معرکۃ آراء جنگ لڑی گئی اور جس کی مٹی میں 1971 میں اُس کے سگے بھائی اور ماموں کا خون بھی جذب ہے ۔
وہاں شہداء فاونڈیشن کے پراجیکٹ کی پلاننگ کے تمام کاغذات راحیل شریف منظور کر کے ، سعودی شاہی مہمان بن کر شاہ کے خصوصی جہاز میں روانہ ہو گیا تھا ۔ اب پراجیکٹ کی پلاننگ  شروع ہونے والی ہے ۔
لیکن وہ قلمی طوائفیں اور میڈیا کے زنخے جنہوں نے کسی کے بل بوتے پر پوری کوشش کی کہ وہ راحیل شریف کو ہیرو سے زیرو کی طرف دھکیل دیں پہلے بھی ناکام ہوئے اور انشاء اللہ اب بھی ناکام ہوں گے ،


جمعہ، 13 جنوری، 2017

ہونہار بِروا- بڑھیا زندہ باد !

چھوٹی بیٹی ، کیپٹن عروضہ بنتِ نعیم نے ، ایجوکیشن کور آفیسر - مِڈ کیرئیر کورس میں پہلی پوزیش حاصل کر کے ، بوڑھے اور بڑھیا کو خوشیوں سے بھر دیا ہے ۔

کیا آپ یقین کریں گے، کہ آرمی پبلک سکول کوئیٹہ میں ، عروضہ نے پہلی سے آٹھویں تک پہلی پوزیشن حاصل کی ۔ بلکہ آرمی پبلک سکول اٹک اور ایف جی گرلز سکول میں بھی یہی اعزاز برقرار رکھا ۔ 
تقریروں ، انگلش اور اردو میں پہلی ، دوسری اور تیسری کلاس میں لگاتار پہلی پوزیشن لینے کے بعد ، جونیئر سیکشن میں ، اُسے مزید تقریروں سے روک دیا گیا ، تو اُس نے چوتھی اور پانچویں کلاس میں نعتوں میں پہلی پوزیشن حاصل کیں ۔
چھٹی اور ساتویں کلاس میں اُس نے ، انگلش اور اردو تقریروں میں اپنی پہلی پوزیشن برقرار رکھی ۔ پھر اٹک میں اُس نے اپنی تقریروں ، نغموں ، نعتوں کا لوہا منوایا ۔

نہ صرف وہ بلکہ میرے باقی تینوں بچوں نے بھی ، حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کی پہلی پوزیشنزاپنے پاس رکھیں ، اور تعلیمی میدان میں بھی وہ اول اور دوئم پوزیشن پر رہے ۔

لیکن گھر میں بچپن سے یونیورسٹی تک کی پہلی پوزیشن کا ریکارڈ عروضہ کے ہاتھ میں رہا ۔ 
میں بس یہی کہوں گا کہ ، " بڑھیا زندہ باد " 
 

٭٭٭٭٭٭٭٭
پچھلامضمون ۔ ۔ہونہار برِوا -6 ٭٭٭٭ اگلا مضمون  ۔ فوجی کی بیوی 
  ٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 

بدھ، 11 جنوری، 2017

بھارتی فوجی کی درد بھری فریاد

سنو دوستو اک دکھ کی کہانی
بھارتی فوجی کی درد بھری فریاد
اک دکھی بھارتی فوجی کی زبانی

میں تو ماتا بھاگ آیا ہوں محاذِ جنگ سے

سب کو کہتے دیکھو وہ خوبصورت پہاڑیاں
ایسی  اب جنت  تم کو ملے گی اور کہاں
نوکری روٹی کی خاطر کی مگر روٹی کہاں
دال روٹی کو ترستے تھے ہمارے نوجواں
میں تو ماتا بھاگ آیا ہوں محاذِ جنگ سے


بیچتے تھے راشن ہمارا افسر وہاں
ہم کو دیتے تھے فقط مُنگریاں  
دیش والو تم کھائی ہیں یہ پھلکیاں
پردھان منتری کو دے دو یہ میرا بیاں
  میں تو ماتا بھاگ آیا ہوں محاذِ جنگ سے
دوستو تم دیکھنا سچ بولنے کا  اچھا صلہ
تیج بہادر کو بس  اب  جیل  کا بستر ملا
پلٹون کا لنگر کا کمانڈر تھا میں وہاں بنا 
جیل میں  یادیو کو پلمبر کا عہدہ  اب ملا 
 میں تو ماتا بھاگ آیا ہوں محاذِ جنگ سے
https://youtu.be/smzWu5Xpidw 
شعروں سے مزیّن - وڈیو دیکھنے کے لئے تصویر یا نیچے لنک پر کلک کریں !

https://youtu.be/smzWu5Xpidw


 

جمعہ، 22 جولائی، 2016

ترکی فوجی بغاوت!


15 جولائی 2016 روزِ جمعہ ہم سب کے لیے ایک معمولی دن تھا۔ ترکی کے تمام لوگ اپنے اپنے روزمرہ کے کاموں سے فارغ ہوکر اپنے اپنے گھروں میں واپس آئے۔ گھروں میں کچھ گھر بار کی بات ہوئی، کچھ مسائل کا حل ہوا اور شاید گلی کوچوں میں جوانوں کے بیچ جھگڑا لڑائی بھی ہوا۔ یعنی 15جولائی ترکی کے ہم سب لوگوں کے لیے ایک عام سا دن تھا اور ہم میں سے کسی کو ایک شبہ کا احساس تک نہیں تھا کہ اُس شام کو فوج کے ایک ٹولے کی غداری کی وجہ سے ترکی میں کس قدر دردناک واقعات ہونے والے ہیں۔ 
اُس رات ترکی کی جمہوریت پر غداروں نے جو شب خون مارنا تھا اور ترک عوام نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے اپنی حکومت، اپنے ملک بلکہ اپنی عزت بچانی تھی یہ ترکی جمہوریت کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جانے والی ایک کم نظیر داستان تھی مگر اِس کااندازہ شام ڈھلنے تک کسی کو نہ تھا ویسے بھی کس طرح ہوتا جن باغیوں نے ترکی کو خون خرابہ کا میدان بنایا اُن لوگوں نے اپنی اِس مہم کو بہت ہی خفیہ انداز میں چھپائے رکھا تھا۔
اُس شام اچانک خبر آئی کہ فوجیوں نے باسفورس برج کو ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں سے بند کر دیاہے۔ اِسی طرح استنبول میں آتاترک ائیرپورٹ پر بھی فوجیوں کے قبضہ کی خبر ملی ۔
 پھر شام آٹھ نو بجے سے اگلے دن شام تک حوادثات کا جو خونین سلسلہ شروع ہوا اِس کو اگر بندہ بذات خود نہ دیکھے تو یقین ہی نہیں کرے گا بلکہ غلط فہمی کا بھی شکار ہوگا۔ خیر یہ تو ہوا بھی ہے اور کچھ لوگ اپنی غلط فہمیوں کی وجہ سے گمراہ ہوئے اور کچھ لوگ امریکہ، یورپ اور خود پاکستان میں مختلف بامقصد گروہوں کی پھیلائی ہوئی با مقصد افواہوں کی آڑ میں آکر اِس بغاوت کو ’’خلیفہ اردوگان کا تیار کردہ ڈرامہ‘‘ کہنے تک کی بے شرمی کا رویہ اختیار کرنے لگے۔ میں اِسی جھوٹی خبروں کو پھیلانے والوں کے لیے ’’بے شرمی‘‘ کا لفظ اِس لیے استعمال کرتا ہوں کہ اُن کی باتیں سن سن کر میں غصے میں آرہا ہوں۔میں غصے میں اِس لیے نہیں آرہا ہوں کہ وہ لوگ ہمارے صدر کے خلاف جھوٹی افواہیں پھیلا رہے ہیں، میں غصے میں اِس لیے آرہا ہوں کہ وہ لوگ اِس قوم کی قربانیوں کا اور ہمارے سینکڑوں شہیدوں جن کی نماز جنازہ پانچ دن سے ہم مسلسل پڑھ رہے ہیں۔ وہ اُن کے خون کا مذاق اُڑارہے ہیں۔
اُن کو کیا پتہ کہ ترکی میں اُس رات کیا کیا ہوا؟
اور اِس قوم نے اُن ملک و ملت دشمن باغیوں کوروکنے کے لیے کتنی عظیم قربانیاں دیں۔؟
کیونکہ اِس خونی بغاوت کو ’’ڈرامہ‘‘ کہنے والے وہ حقیقت ناشناس لوگ یہ بات سمجھ ہی نہیں پارہے ہیں کہ نہتے عوام ایک مسلح فوج کو کس طرح روک سکتے ہیں ؟ وہ بھی چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر!
اب میں تمام قارئین کرام کے لیے اُس رات کے کچھ واقعات پیش کروں گا جس سے ترکی میں 15 جولائی 2016 کی رات حقیقت میں کیا ہوا ہے؟اور ترکی مملکت اور ترکی میں جمہوریت غداروں کی گرفت سے کس طرح بال بال بچ گئی ؟
وہ سمجھ آجائے:

1) اُس شام کثیر تعداد میں باغی فوجیوں پر مشتمل ایک ٹولہ اسلحہ سے لیس ترکی کے دارلحکومت انقرہ میں آرمی ہیڈکواٹرزمیں آکر آرمی چیف آف اسٹاف "حلوسی آکر-
Hulusi Akar" کے آفس میں زبردستی داخل ہوا۔ جب آرمی چیف کے گارڈز نے باغیوں کو روکنے کی کوشش کی تو باغیوں نے اُن پر گولی چلاکر آرمی چیف آف اسٹاف کے گارڈز کو شہید کردیا۔ اُن باغیوں نے "حلوسی آکر" صاحب سے یہ مطالبہ کیا کہ اُن کا ساتھ دے کر حکومت کی برطرفی کے الٹی میٹم پر دستخط کریں تو چیف آف آرمی اسٹاف ، نے اِس مطالبے سے صاف انکار کردیا۔ اِس پر اُن لوگوں نے "حلوسی آکر" صاحب کے ماتھے پر پستول لگاکر اُنھیں زبردستی اپنے گھٹنوں پر بیٹھنے پر مجبور کیا اور ایک باغی آفسر نے اپنی بیلٹ نکال کر اُن کا گلادبایا تاکہ وہ مجبور ہوکر اُلٹی میٹم پر دستخط کریں مگر اُنھوں نے اِس کے باوجود نہیں مانا تو اُن کو اور آرمی ہیڈکوارٹرز میں موجود دوسرے فورس کمانڈروں کو گرفتار کرکے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کسی اور چھاؤنی میں لے گئے۔آرمی ہیڈکوارٹرز میں باغی فوجی ٹولے اور چیف آف آرمی اسٹاف کے حامی فوجیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ اگلے دن دوپہر تک جاری رہا۔ اُس رات چیف آف اسٹاف "حلوسی آکر" کو موت کی دھمکی کے باوجود اُن کے مطالبے سے انکار اِن باغیوں کی شکست کا پہلا قدم تھا۔ جب "خلوصی آکارلر" صاحب بغاوت کے خاتمہ کے بعد ٹی وی پر دکھائی دیئے تو اُن کے گردن پر اُس بیلٹ کا نشان واضح طور پر نمایاں تھا۔

2) اُس وقت باغی فوجیوں کے ایک اور ٹولے نے ایک باغی جنرل کی قیادت میں آرمی اسپیشل فارسز کے ہیڈکوارٹر میں اسپیشل فورسزکے کمانڈر میجر جنرل "ذکائی آق صاقاللی" کو گرفتار کرکے ہیڈکوارٹر پر قبضہ کرنا چاہا، تاکہ وہ لوگ اسپیشل فورسز کو اِس بغاوت میں استعمال کرسکیں۔ مگر میجر جنرل ذکائی آق صاقاللی کے ایڈجوٹنٹ نے یہ سن کر ایک پل بھی تامل کئے بغیر اپنا پستول نکالا اور باغی جنرل کے ماتھے پر گولی چلائی اور اُسے ڈھیر کردیا ۔ یہ دیکھ کر باغی جنرل کے ساتھیوں نے بھی اُن پر گولیاں چلاکر اُنھیں شہید کردیا۔ یہ دوسرا قدم تھا جو اُس رات بغاوت کو ناکامی کی طرف لے جائے۔

3) مارشل لاء اور بغاوت کی خبریں آنے پر ترکی پارلیمنٹ کے تمام پارٹیوں کے ممبران جو اُس وقت انقرہ میں تھے پارلیمنٹ میں جمع ہوئے تاکہ بغاوت کے خلاف ایک قرارداد پاس کرسکیں۔ اُس وقت رات کے اُس پہر میں ڈیڑھ سو سے زائد پارلیمنٹ کے ممبر مذاکرات کے ہال میں اکھٹے ہوئے جن میں ترکی کے سیکولر خیالات و تصورات کے علم بردار او ر رجب طیب ایردوغان کے سخت مخالف جمہوری خلق پارٹی کے ممبر بھی شامل تھے۔ اِس کی اطلاع ملتے ہی باغی فوج نے ایف 16 بھیج کر ترکی کی پارلیمنٹ پر بمباری کرادی۔

4) اِس اثناء میں صدر جناب "رجب طیب ایردوغان" چھٹیوں کے لیے ترکی کے مارماریس شہر کے ایک ہوٹل میں مقیم تھے اُس ہوٹل سے ذرا جلدی نکلے۔ اُن کے ہوٹل سے الگ ہونے کے پندرہ منٹ بعد باغی فوج کے اسپیشل فورسز کے چالیس سپاہیوں نے ہوٹل میں بم بھی پھینکا اور فائرنگ بھی کی۔ بغاوت کی ناکامی کے بعد اِس سپیشل فورس کے چالیس سپاہی جنگل کی طرف بھاگ نکلے اور ابھی تک ترکی فوج اُن لوگوں کی تلاش میں ہے۔ صدر کی حفاظت پر مامورجنرل، جو اُس دوران انقرہ میں تھا،نے بار بار صدر مملکت کے ساتھیوں کو فون کرکے صدر کے ہوائی جہاز کا روٹ دریافت کرنا چاہا مگر اُن لوگوں نے معلومات دینے سے انکار کیا۔ پھر معلوم ہوا کہ وہ جنرل بھی اِس بغاوت کا حصہ ہے اور اب وہ گرفتار ہوا ہے۔

5) اُسی رات آرمی ہیڈ کوارٹرز اور آرمی اسپیشل فورسز کے ہیڈکوارٹرز کے ساتھ ساتھ باغیوں نے ترکی کے خفیہ سروس کے ہیڈکوارٹر میں ہیلی کاپٹرکے ذریعے اپنے فوجیوں کو اتارا اور باغیوں نے اترتے ہی خفیہ سروس کے اہلکاروں پر فائرنگ شروع کردی تو پولیس اہلکار بھی جوابی فائرنگ کرنے لگے۔ باغیوں کی پہلی فائرنگ میں کافی تعداد میں خفیہ سروس کے پولیس شہید ہوگئے مگر پھر بھی پولیس فورسز نے باغیوں کو گرفتار کرنے تک لڑائی جاری رکھی۔ مزید بر آن باغیوں نے پولیس اسپیشل فورسز کے ہیڈکوارٹر پر ایف 16سے بمباری کی جس کی وجہ سے پولیس کے  47 اہلکار جن میں خواتین بھی ہیں ایک ہی دم میں شہید ہوگئے۔

6) فوج کی کچھ چھاؤنیوں میں باغی آفسروں نے بغاوت کے حکم سے انکار کی وجہ سے دوسرے سپاہیوں کو سبق سکھانے کی نیت سے انکار کرنے والے اپنے ہی سپاہیوں کے سروں کو گولیوں سے اڑادیا جن میں سے تین ہمارے ہمسائے کے بیٹے کی چھاؤنی میں تھے جہاں اُس کے سپاہی دوست اپنے کمانڈر کی گولیوں سے شہید ہوئے ہیں۔
خوشی کی بات ہے کہ اِس کے بر عکس کچھ آفسروں اور فوجی سپاہیوں نے باغی فوج کی نقل و حرکت کی اطلاع ملنے پر اُن پر چھاپہ مارا اور اُن سب کو گرفتار کرکے چھاؤنیوں سے نکلنے نہیں دیا۔

یہ چند ایک نمونے ہیں جو ترکی کے حق شناش فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے باغیوں کو روکنے کے لیے کیے جن کی وجہ سے فوجی بغاوت کو ناکامی کا سامنا ہوا۔
دوسری طرف ترکی کے عوام ہیں جنھوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے اِس بغاوت کو ناکام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اُس رات جب ہمارے صدر نے ٹی وی پر ترکی کے عوام کو سڑکوں پر آنے کی دعوت دی تو میں نے اپنی اہلیہ ثمینہ جو پاکستان کی بیٹی ہے سے کہا کہ ثمینہ میں نکل رہا ہوں، پہلے وہ کچھ شش و پنچ میں پڑی اور پھر اُس نے یہ کہہ کر مجھے روکنے کی کوشش کی کہ وہ لوگ بہت خطرناک ہیں براہ کرم آپ باہر نہ جائیں ۔ اِس پر میں نے کہا آج جو بھی ہونا ہے وہ ہوجائے مگر ہمیں 1980 کا خوفناک منظر دیکھنا پسند نہیں۔

واضح رہے کہ اُ1980 کے مارشل لاء کے بعد فوجی حکومت نے سینکڑوں بے گناہوں کو پھانسیوں میں لٹکایا تھا اور مجھے ابھی تک یاد ہے ایک لڑکا جو سترہ سال کا تھا اور قانون کی رو سے اُس کو پھانسی نہیں دی جاسکتی تھی تو اُن لوگوں نے اُس بے چارے کی عمر ایک سال بڑا کرکے اُسے دار میں چڑھایا۔ یہ سب کچھ میرے ذہن میں تھا۔ ثمینہ نے جب مجھے اس حالت میں دیکھا تو کہنے لگی کہ آپ جارہے ہیں تو میں بھی آرہی ہوں جو ہونا ہے تو ہم دونوں کو ہوجائے۔ اتنے میں ہماری ہمسائی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ جب ہم نے دروازہ کھول کر دیکھا تو وہ اپنی دونوں جوان سال بیٹیوں کو ساتھ لے کر باہر جارہی ہیں۔ اُس نے کہا کہ یہ گھر میں رکنے کا وقت نہیں چلو باہر۔ حالانکہ ہماری ہمسائی اور اُس کی بیٹیاں بالکل سیکولر قسم کی آزاد خیال لوگ ہیں۔ وہ چلی گئیں تو ہم بھی باہر نکلنے لگے تب ہمارے بیٹے محمد نے ڈر کے مارے ثمینہ سے چمٹ کر رونا شروع کیا کہ ہمیں نہ چھوڑیں ۔ پھر میں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ تم گھر میں رہو اگر ہمیں کچھ ہوا تو بچوں کا کون خیال رکھے گا۔ کیونکہ چند ایک دور کے رشتہ دارکے علاوہ میرے رشتہ دار بھی نہیں ہیں۔ پھر میں گھر سے نکلا۔اُس وقت ثمینہ گھر میں تو رہی مگر محمد کو تسکین دے کر اُسے اپنی باجی کے پاس چھوڑ تے ہوئے میرے گھر سے نکلنے کے کچھ منٹ بعد وہ بھی اپنی کچھ سہیلیوں کے ساتھ میرے پاس پہنچ گئی۔
ہمارے صدر کی دعوت سے میرے نکلنے تک پندرہ منٹ گزرگئے تھے مگر ہمارے گھر سے باسفورس برج تک کا گاڑی سے جو بیس منٹ کا راستہ ہے وہ انسانوں سے بھرا ہوا تھا اور آگے بڑھنا بہت مشکل تھا۔ اِس فاصلے کو بھرنے کے لیے تقریباً دس لاکھ انسان کی ضرورت ہوگی اور واقعی اُس وقت صرف ہمارے علاقے میں اِس تعداد میں لوگ جمع تھے اور باقی علاقوں کو آپ سوچئے۔
اِس مجمع میں مرد بھی تھے خواتین بھی تھیں، جوان بھی تھے اور بوڑھے بھی۔ کچھ خواتین کے ساتھ اُن کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے۔ سیکولر لوگ بھی تھے، مذہبی لوگ بھی تھے اور حکومت کے مخالف قوم پرست پارٹی کے کارکن بھی تھے۔ترک بھی تھے، کُرد بھی تھے اور عرب بھی تھے۔ میں کہتا ہوں کہ وہاں تمام ترکی کے لوگ تھے بلکہ یہ کہئے تو بہتر ہوگا وہاں بذات خود ترکی موجود تھا۔
آگے بڑھتے ہوئے پیغامات ملنے لگے کہ باغی فوجیوں نے لوگوں کے اوپر فائرنگ شروع کردی ہے اور کافی تعداد میں شہید اور زخمی ہیں۔ مگر اِس خبر کے ملنے کے باوجود کسی نے بھی تامل نہیں کی نہ ہی واپس لوٹنے کے لیے سوچا۔ پھر خبریں آنے لگیں کہ باغی فوجیوں نے ٹینکوں کو لوگوں پر چلاکر بہت سے لوگوں کو کچل دیا ہے اور فوجی ہیلی کوپٹروں سے لوگوں پر فائرنگ کررہے ہیں۔ مگر نہ کوئی مرد نہ کوئی زن پیچھے ہٹی اور سب لوگ آگے بڑھتے چلے گئے۔

دوسری طرف تمام مساجد سے صلوٰۃ الشریفہ کی آوازیں بلند ہونے لگیں تاکہ لوگوں کو سڑکوں پر بلایا جائے۔صلوٰۃ شریفہ ، جمعہ کی
صلوٰۃ یا جنازہ کی صلوٰۃ کی دعوت دینے کے لیے مساجد سے بلند ہوتی ہے۔ اِس طرح سے مساجد سے یہ پیغام مل رہا تھا کہ آپ مرنے پر تیار ہوکر سڑکوں پر نکلیں۔
اُس رات ترکی عوام ، باغی فوجیوں کو روکنے کی خاطر گولیوں کے سامنے سینہ سپر ہوگئے، اُس رات ٹینکوں کو روکنے کی خاطر لوگ ٹینکوں کے نیچے لیٹ گئے۔

اُس رات لوگوں نے باغی فوجیوں کو ناکام بنانے کی خاطر ٹرکوں، بسوں اور گاڑیوں کو لے کر چھاؤنیوں کے دروازے بند کئے۔ اُس رات ٹرک ڈرائیوروں نے فوجی لڑاکا طیاروں کو روکنے کے لیے فوجی ہوائی اڈوں میں اپنے ٹرکوں کو گھساکر فلائٹ ٹریکوں کو لاک کیا۔ اُس رات لوگوں نے دھواں پیدا کرکے  لڑاکا طیاروں کو ٹیک آف کرنے سے روکنے کے لیے فوجی ہوائی اڈوں کے آس پاس موجود اپنے کھیتوں کو آگ لگا دی۔اُس رات ترکی کے عوام نے نہ صرف اپنی منتخب حکومت کو بچانے کے لیے بلکہ اپنے ملک کو اور اپنی عزت کو بچانے کے لیے شہید ہوئے، بہت سے بچے یتیم ہوئے اور خواتین بیوہ ہوئیں۔ اُس رات ترکی میں شہیدوں کے خون نے جمہوریت کو بچایاگیا۔ اگر اُس رات ترکی میں کوئی جمہوریت پسند شش و پنج میں پڑتا یا اپنی جان و مال کی فکر میں تامل کرتا توآج ترکی میں باغیوں کی حکمرانی ہوتی اور وہ لوگ ہمارے صدر کو پھانسی دینے کے لیے قانونی تیاری کرتے جس طرح 1960 کے مارشل لاء کے بعد ترکی کے ہر دل عزیز صدر عدنان مندیرس اور اُن کے ساتھیوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔
ہم یہاں پانچ دنوں سے شہیدوں کی نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں۔ لہٰذا وہ لوگ جو اِس خونی بغاوت کو ڈرامہ کہہ کر صورتحال کو کسی اور رنگ میں رنگانا چاہتے ہیں اُن سب سے میری گزارش ہے کہ اگر اُن لوگوں کے دلوں میں انسانیت کے نام سے کچھ باقی ہے اور اگر اُن کے دلوں میں انصاف کے نام کا کوئی احساس ہے تو کم از کم اپنی رجب طیب ایردوغان دشمنی کی وجہ سے ترکی پر حملہ کرکے ہمارے شہیدوں کے خون کا مذاق نہ اُڑائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مصنف : ڈاکٹر خلیل طوقار

ڈاکٹر خلیل طوقار نسلاً ترک ہیں۔ ان کی پیدائش استنبول (ترکی) میں ہوئی۔ ترکی میں ہی انھوں نے ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ فی الوقت وہ استنبول یونیورسٹی کے صدر شعبۂ اردو ہیں۔ڈاکٹر طوقار کی تقریباً دو درجن کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔وہ ترکی سے شائع ہونے والے اردو کے واحد ادبی مجلہ”ارتباط” کے مدیر بھی ہیں۔ یورپین اردو رائٹرس سوسائٹی ، لندن نے سن 2000ء میں انھیں ”علامہ اقبال” ایوارڈ سے نوازا۔اس کے علاوہ عالمی اردو مرکز، لاس انجلس اور دیگر قومی وبین الاقوامی اداروں کی جانب سے انھیں اعزاز سے نوازا جا چکا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ہفتہ، 16 جولائی، 2016

ایک خاتون کا ۔ میڈیا کے ہاتھوں قتل


اِس سے پہلے بھائی کی غیرت نہیں جاگی ؟
جب وہ یو ٹیوب پر ، اپنے جسمانی فن کا اظہار کر رہی تھی ۔
کیوں کہ کسی کو اُس کے ماضی کا نہیں پتا تھا ۔
جب قندیل بلوچ ، کے ماضی سے پردہ اٹھا اور فوزیہ عظیم کا روپ سامنے آیا ، تو شاہ صدر دین کے نوجوان، جوان ، ادھیڑ عمروں اور بوڑھوں میں غیرت جاگ اُٹھی ۔
یوں شاہ صدر دین کی فوزیہ عظیم ملک، میڈیا کے ہاتھوں قتل ہو گئی ۔
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔