Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
أَفَلَا يَتَدَبَّرُ‌ونَ الْقُرْ‌آنَ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
أَفَلَا يَتَدَبَّرُ‌ونَ الْقُرْ‌آنَ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 6 اپریل، 2024

ربّ کی آیات کے ساتھ ایمان

صرف ہم اپنے ربّ کی آیات کے ساتھ ایمان لاتے ہیں جو ہمارے پاس آئی ہیں ۔

۔ ۔ ۔ ۔  ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ [2:127]

۔    رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَآ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ [2:128]

۔ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنتَ العَزِيزُ الحَكِيمُ  [2:129]

۔ ۔ ۔ ۔۔ قُل اللّهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ وَلَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ [2:139]

-۔ ۔ ۔ ۔  رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ  [2:201]

۔۔ ۔ ۔  ۔رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ [2:250]

۔ ۔ ۔  ۔ ۔ آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللّهِ وَمَلَآئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لاَ نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ وَقَالُواْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ   [2:285]

۔ لاَ يُكَلِّفُ اللّهُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَآ أَنتَ مَوْلاَنَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ   [2:286]

۔ رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ  [3:8]

۔ رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لاَّ رَيْبَ فِيهِ إِنَّ اللّهَ لاَ يُخْلِفُ الْمِيعَادَ [3:9]

۔ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ [3:16]

۔ رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ [3:53]

۔  وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ ربَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ [3:147]

۔ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ [3:191]

۔ رَبَّنَا إِنَّكَ مَن تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ [3:192]

۔   رَّبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ آمِنُواْ بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ   [3:193]

۔ رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلاَ تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لاَ تُخْلِفُ الْمِيعَادَ [3:194]

۔ وَمَا لَكُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَـذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا [4:75]

۔   وَإِذَا سَمِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُواْ مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ [5:83]

 

۔ وَمَا لَنَا لاَ نُؤْمِنُ بِاللّهِ وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن يُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِينَ ۔ [5:84]

۔  وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا أَيْنَ شُرَكَاؤُكُمُ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ  [6:23]

۔ وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ  [6:27]

۔ قَالاَ رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ [7:23]

۔ وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَى الْأَعْرَافِ رِجَالٌ يَعْرِفُونَ كُلًّا بِسِيمَاهُمْ ۚ وَنَادَوْا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَن سَلَامٌ عَلَيْكُمْ ۚ لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ ۔ وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَارُهُمْ تِلْقَاءَ أَصْحَابِ النَّارِ قَالُوا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ [7:47]

۔ أُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ ۔ قَالُوا إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ وَمَا تَنقِمُ مِنَّا إِلَّا أَنْ آمَنَّا بِآيَاتِ رَبِّنَا لَمَّا جَاءَتْنَا ۚ رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ  [7:125]

۔ وَلَمَّا سُقِطَ فَي أَيْدِيهِمْ وَرَأَوْاْ أَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّواْ قَالُواْ لَئِن لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ [7:149]

٭

٭

٭

٭

٭۔

 

 


ہفتہ، 30 مارچ، 2024

قصص الانبیاء ۔ موسی ﷺ کا گھونسے سے قتل !

کیا موسیﷺ کا گھونسےکی ضرب سے دشمن کا قتل ، قتل عمد تھا یا قتلِ خطاء ؟

٭٭٭٭٭٭

القرآن کے پہلے حافظﷺ  کی تلاوت کردہ آیات ۔کے مطابق قصص القران میں پہلے حافظ ﷺ کی تلاوت کے مطابق
۔
*طسم  تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ نَتْلُو عَلَيْكَ مِن نَّبَإِ مُوسَىٰ وَفِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ    سے  وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاسْتَوَىٰ آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (سورۃ القصص)   

 تک موسیٰﷺ کی بلوغت کے وقت ایک جذباتی فعل نے اپنے
*شِيعَتِ*  کے اُس کے
*عَدُوٌّ* کے خلاف واحد *اسْتَغَاثَ* کی شھادت کی بنیاد پر  صرف مکّہ مارنے  کی وجہ سے ایک شیطانی عمل کردیا ۔  
۔
* وَدَخَلَ الْمَدِينَةَ عَلَىٰ حِينِ غَفْلَةٍ مِّنْ أَهْلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ هَٰذَا مِن شِيعَتِهِ وَهَٰذَا مِنْ عَدُوِّهِ ۖ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِي مِن شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ فَوَكَزَهُ مُوسَىٰ فَقَضَىٰ عَلَيْهِ ۖ قَالَ هَٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ ۖ إِنَّهُ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِينٌ قَالَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَغَفَرَ لَهُ ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (سورۃ القصص)
لیکن  مکّے کی ضرب سے وہ
*عَدُوٌّ*قتل ہو گیا ۔ جو یقیناً قتلِ خطا تھی قتل عمد نہیں تھا ۔ لیکن جب اپنے نفس پر  اپنے ہی ظلم کا احساس ہوا تو *بَلَغَ أَشُدّ* کے باوجود کسی بھی مجرم کی پشت پناہی نہ کرنے کا پختہ عہد کیا ۔
*قَالَ رَبِّ بِمَا أَنْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيرًا لِّلْمُجْرِمِينَ*

۔*امْرَأَتُ فِرْعَوْنَ* کی کفالت میں بلوغت تک رہنے کے باوجودموسیٰﷺ  کو حکومت کے قانون کے خلاف کی جانے والی کی جانے والی اپنی نفسی غلطی  پر خوف کا احساس ہوا۔اور اپنے 
*شِيعَتِ*  کو جس کی موسیﷺ نے مدد کی پکڑنا چاہا ۔  

۔*۔ فَأَصْبَحَ فِي الْمَدِينَةِ خَائِفًا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا الَّذِي اسْتَنصَرَهُ بِالْأَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُ قَالَ لَهُ مُوسَى إِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِينٌ۔*۔

تو اُس *عَبَدَ الطَّاغُوتَ*  نے الٹا    موسیﷺ کوجبار اور غیر صالح  ہونے کا الزام لگا دیا ۔

۔*۔ فَلَمَّا أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ يَا مُوسَى أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ إِن تُرِيدُ إِلَّا أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ۔*۔

اِس الزام نے موسیٰ   کو مزید خوفزدہ کردیا ۔ جس کی خبر حکومت تک پہنچ چکی تھی ، اور ایک عبداللہ نے موسیٰ ﷺ کو اِس بات کی خبر دی ۔ کہ اُن کے خلاف ایکشن لینے کی تیاری ہو رہی ہے ۔ 

۔*۔ وَجَاءَ رَجُلٌ مِّنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَسْعَى قَالَ يَا مُوسَى إِنَّ الْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَاخْرُجْ إِنِّي لَكَ مِنَ النَّاصِحِينَ۔*۔

لہذا موسیﷺ نے ، ریاست کے قانونِ  قصاص  یعنی   خوفزدہ ہوکر ،  اِس  ریاست کے قانون   کی حدود سے  باہر دوسری ریاست    *مَدْيَنَ*   کی طرف ھجرت کا ارادہ کیا ہے ۔


۔*۔ فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ قَالَ رَبِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ۔
وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَاءَ
مَدْيَنَ قَالَ عَسَى رَبِّي أَن يَهْدِيَنِي سَوَاءَ السَّبِيلِ
۔*۔

اور  مَدْيَنَ  کی طرف ،موسیٰ ﷺ  کی یہ آنکھیں بند کرکے کی جانے والی ھجرت نہیں  ،بلکہ اللہ کی طرف سے تھی ۔ 

۔*۔ وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ وَلَا تَنقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ ۚ إِنِّي أَرَاكُم بِخَيْرٍ وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيطٍ وَيَا قَوْمِ أَوْفُواْ الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ وَلاَ تَبْخَسُواْ النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلاَ تَعْثَوْاْ فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ بَقِيَّةُ اللّهِ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ وَمَا أَنَاْ عَلَيْكُم بِحَفِيظٍ (سورة هود) ۔*۔
ھجرت کا یہ سفر جب مکمل ہو ا ۔
 

 ۔*۔وَلَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِن دُونِهِمُ امْرَأَتَيْنِ تَذُودَانِ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا قَالَتَا لَا نَسْقِي حَتَّى يُصْدِرَ الرِّعَاءُ وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ۔*۔
اور موسیٰ ﷺ نے اپنا القصص شیخ کبیر (شعیب ﷺ) کو سنایا ۔توشعیب ﷺ کے اُن کا خوف دور کرتے ہوئے  *الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ* سے  قانون سے نجات حاصل کرنے کا بتایا ۔

۔*۔فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ قَالَتْ إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا فَلَمَّا جَاءَهُ وَقَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ۔*۔

  شعیبﷺ کی بیٹی سے شادی کے بعد  ایک معین مدت   گذارنے کے بعد  جب موسیٰ ﷺ آبائی ریاست  کے قوم فاسقین کی کی طرف جانے کا حکم ہوا ۔تو ڈر کر بولے میرے ہاتھ صاف نہیں۔

۔*۔ قَالَ رَبِّ إِنِّي قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ  ۔*۔

لیکن اللہ کے قانون ، قانون قتل خطا کے مطابق اُن کے ہاتھ صاف تھے ۔یہی حقیقت موسیٰﷺ نے  فرعون   کو بنی اسرائیل  کے مجمع  میں بتائی۔

۔*۔وَنَزَعَ يَدَهُ فَإِذَا هِيَ بَيْضَاءُ لِلنَّاظِرِينَ قَالَ الْمَلَأُ مِن قَوْمِ فِرْعَوْنَ إِنَّ هَـذَا لَسَاحِرٌ عَلِيمٌ۔*۔ 

جیسا کہ پہلے آیت میں ہے کہ  أَقْصَى الْمَدِينَةِ سے   عبداللہ نے  آکر موسیٰﷺ کو نبا دی کہ آپ کے خلاف قتل کا قصاص لینے کی تیاری کی جاچکی ، جس نباء کی وجہ سے موسیٰ ﷺ نے ہجرت کی ۔پھر رجل مومن نے موسیﷺ کا ساتھ اور     يَوْمِ الْأَحْزَابِ سے خوف دلایا ۔


وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيْمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُم بِالْبَيِّنَاتِ مِن رَّبِّكُمْ وَإِن يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِن يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُم بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ يَا قَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظَاهِرِينَ فِي الْأَرْضِ فَمَن يَنصُرُنَا مِن بَأْسِ اللَّهِ إِنْ جَاءَنَا قَالَ فِرْعَوْنُ مَا أُرِيكُمْ إِلَّا مَا أَرَى وَمَا أَهْدِيكُمْ إِلَّا سَبِيلَ الرَّشَادِ ۔ وَقَالَ الَّذِي آمَنَ يَا قَوْمِ
إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُم مِّثْلَ يَوْمِ الْأَحْزَابِ (سورۃ غافر) 

       

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

 

اتوار، 10 دسمبر، 2023

انسانی تکبّر۔ قول و فعل کا تضاد

اِس 70 سالہ بوڑھے کے فہم کے مطابق ۔ الکتاب کے تین حصے ہیں ۔
پہلا حصہ ۔ آدم سے نوح تک ۔
دوسرا حصہ ۔ نوح سے ابراہیم تک
تیسرا حصہ ۔ ابراہیم سے احمد تک ۔
القرآن ۔
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سے مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ تک عربی کے الفاظ، میں پہلے حافظ کی مکمل تلاوت ہے ، جس میں تلاوت کئے گئے  تمام سٹینڈرڈ کی مکمل اتباع ، پہلے حافظ  نے خود کی ۔

لہذا  سب انسانوں کو اِسی تلاوت پر ایمان لاتے ہوئے ۔ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْب بن کر  اِس تلاوت کی اتباع کر تے ہوئے ۔ اس تلاوت کے مطابق اپنے اعمال کو درست رکھنا ہے تاکہ اُن کے افعال کو تلاوت سننے والے انسانوں کو  قول رسول کے مطابق دکھائی دیں ۔
یاد رکھیں کہ اعمال کا تعلق انسان کے نفس سے ہوتا ہے اور افعال اُس کا اظہار ہوتے ہیں ۔لہذا قول و فعل میں تضاد نہیں ہونا چاھئیے ۔ کیوں کہ قول و فعل کا تضاد ، تکبّر کی نشانی ہے۔

ہر مذھب کے انسان کا ایک مسئلہ ہے ، کہ میں اپنے گناہوں کے لبادے کو اپنی جلد سے کیسے اتاروں  ۔ چھوٹے گناہ ۔ درمیانے گناہ اور بڑے گناہ ۔
اںسب کی ابتداء چھوٹے گناہ سے ہوتی ہے ۔ جو مذاق میں ، کھیل میں شروع ہوتا ہے اور بچہ ہے کہہ کر اُس کی جلد سے جھاڑ دیا جاتا ہے ، جب وہ اِس کے دھونے کا یعنی لفاظی میں چھپانے کا ماہر ہو جاتا ہے ، تو درمیانے گناہ کی طرف یہ کہہ کر بڑھتا ہے کہ سب کرتے ہیں میں نے کردیا تو کون سا جرم کیا ؟  ۔

 اور یوں بڑے گناہ کو اپنی جلد کے اطراف لپیٹ لیتا ہے  ۔ کہ یہ تو انسانی فطرت ہے ۔ اور فطرت بنانے والا معاف کرنے کا بھی حق رکھتا ہے ۔ جس کے لئے اُس نے مذھب اتارا ہے ۔ جبکہ مذھب تو انسانوں کا بنایا ہوا ہے ۔چنانچہ بڑھاپے میں اپنی جلد سے گناہ جھاڑنے اور جھڑوانے کا عمل انسان شروع کر دیتا ہے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


جمعہ، 10 مارچ، 2023

عیسیٰ ابنِ مریم ، احمد اور رسول الله وخاتم النبيين


 اُفق کے پار بسنے والے میرے نیک دل دوستو ۔
یقین کرو ، نہ میں احمد کے انتظار میں ہوں، نہ مسیح عیسیٰ ابنِ مریم کے ،  اور نہ ہی بنی اسرائیل میں سے ہوں ، کہ ۔
نَحْنُ أَنصَارُ اللَّهِ کا نعرہ مستانہ  ، قول و فعل کے متضاد تکبّر میں مبتلا ہو کر لگاؤں ۔
ہاں میں الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ میں شامل ہونے کے لئے ،  الَّذِينَ آمَنُوا بن کر  أَنصَارِي إِلَى اللَّهِ کی قطار میں أَيَّدْنَا الَّذِينَ آمَنُوا کے لئے  بَنِي إِسْرَائِيلَ  کی عَدُوِّ کی صْبَح کو  ظَاهِرِ کرتا رہتا۔ میرے لئے یہ آیت حتمی ریڈ لائن ہے ۔


مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۚ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا ‎ ۔

 شکریہ (خالد مہاجرزادہ ) 

٭٭٭٭٭٭ جاری ہے ٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ: کل رات مورخہ 10 مارچ 2023 پر ایک وٹس ایپ گروپ پر بحث ہوئی جس کی ابتداء اِس پوسٹ سے شروع ہوئی ۔

لہذا ۔ اب اگلے مضامین۔اِس بحث کے پیچیدگی کی وضاحت میں ۔ ایم نثار علی ، اِن کے معاونین ارشد و دیگران کے فہم اورکمنٹ پر پیسٹنگ ہو گی کیوں کہ وٹس ایپ ویب سے غائب ہو جاتا ہے ۔   

٭٭٭٭واپس  فہرست قادیانیت ٭٭٭٭


   

 

 

منگل، 24 مئی، 2022

باغ والوں کا قصہ ۔

٭بلوچستان میں ژوب کے مقام پر شیرانی چلغوزے کے جنگلات میں خوفناک آگ نے تباہی مچارکھی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ دنیا کے سب سے بڑے چلغوزے کے جنگلات ہیں۔ 

ذرا سوچئے کہ ایک طرف دنیا کے سب سے بڑی چلغوزے کے جنگلات تو دوسری طرف پاکستانیوں کو چلغوزے کے ایک ایک دانے کو ترسا دیا گیا۔ 7 ہزار روپے کلو چلغوزہ اور ان جنگلات میں چلغوزوں کی فصل کی ایسے حفاظت و نگرانی کی جاتی ہے کہ ایک چلغوزہ بھی باہر نہ نکلنے پائے۔ جیسے سونے اور ہیروں کی کان میں نگرانی کی جاتی ہے۔ ( بشکریہ ثنا اللہ احسن ) 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“میرا نظریہ آگ کے معاملے میں ذرا جدا ہے یہ مسئلہ کیا ہے ؟
آپ کی سمجھ میں نہیں آرہی!
القرآن الکریم میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ،
 کچھ بھائیوں کو وراثت میں ایک ہرا بھرا میوں سے لدا باغ ملا۔ انکا باپ اس باغ سے میوہ اتارنے کے بعد سب سے پہلے ناداروں اور ضرورت مندوں کو میوہ دیتا تھا ۔۔ جب ان بھائیوں کے پاس باغ آیا تو یہ آپس میں کہنے ہمارا باپ تو بے وقوفی کرتا تھا کہ آدھا باغ خیرات کردیتا تھا تو بھائیوں ہم صبح سے پہلے حاجت مندوں کے آنے سے پہلے ہی تمام میوہ اتار لیں گیں اور زیادہ منافع کمائیں گیں ۔۔۔ مگر جب وہ صبح باغ میں پہنچے تو کہنے لگے کہ شاید ہم راستہ بھول گئے ہیں یا ہمارے نصیب ہی خراب ہوگئے کہ جہاں باغ تھا اب وہاں راکھ اور مٹی اڑ رہی ہے ۔۔ اللّٰہ تعالٰی ایسے نصیحت کرتا ہے تاکہ تم لوگ سمجھو ۔۔۔
 اپنے ملک میں بلکہ اپنے ہی قوم اور علاقے کے غرباء کو تم جنگل سے لکڑی بھی نہ اٹھانے دو اور تمہارے سردار اور ظالم لوگ دس ہزار روپے کلو چلغوزہ ایکسپورٹ کرکے اربوں روپے بناو؟
 تو اللّٰہ  کا نظام عدل کچھ تو سمجھائے گا تمہیں؟
۔ مگر ابھی بھی نہیں سمجھ رہے اور ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کررہے ہو ۔۔ یعنی آپس میں پھوٹ پڑ گئی ۔۔ یعنی عذاب پر عذاب ۔۔ توبہ استغفر اللہ العظیم وبحمدہ”
٭٭٭٭
کیا ہم یہ دعا مانگ سکتے ہیں  ۔
صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ
دوسرے وہ جن پر تیرا خصوصی غضب  (بطور آزمائش )  ہوا اور وہ  خصوصی طور پر نہیں بھٹکے   ( توبہ کرکے واپس  صراط المستقیم پر آگئے  ، کیوں کہ اُن میں اوسط فہم کا عبداللہ تھا )
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بدھ، 6 اپریل، 2022

ربّ العالمین کون ہے ؟

ربّ العالمین کون ہے ؟  اُس کا ہماری زندگی سے کیا تعلق ہے ؟     
ایسے کئی سوالات ہیں جن کے جوابات ، ہر 
صاحبِ عقل و دانش ، فہم و فکر ، شعور و تدبّر ۔کے ذہن میں مچلتے ہیں ۔
موجودہ سائینس نے کائینات کی ہر شئے ، بشمول انسان سب کو آٹومیٹڈ نظام میں ڈال دیا ہے اور ایسا ہی ہے ۔ انسان کے سامنے ہر شئے خودکار طریقے سے وجود میں آرہی ہے ۔ اور یہ  انسانی فہم 100 فیصد درست ہے ۔ 

اِس آٹومیٹڈ نظام  کی ابتداء کیسے ہوئی ؟
سائینس  یہ بتانے سے قاصر ہے ۔ اُس کے نزدیک  یہ سب غالباً کسی بِگ بینگ کا نتیجہ ہے جو ارب ھا سال پہلے  ہوا   اور یہ کائینات وجود میں آئی ۔ اور خودکار طریقے سے  آتی چلی جارہی ہے ۔
اِس خود کار طریقے کا  مؤجد کون ہے ؟
سائینس  یہ بھی  بتانے سے قاصر ہے ۔لیکن وہ اصولِ واحد  (Single Principle) کو مانتی ہے ، جس کی بنیاد    کائینات کی تمام تخلیقات ہیں ۔وہ اصول واحد، سائنس کے مطابق ، ایک یا ایک سے زیادہ اشیاء کے ملاپ کے کائینات کی چیزوں کو تخلیق کئے جارہا ہے ۔اور انسانی نظروں سے اوجھل(غائب) ہے   اور ابھی تک کسی انسانی آنکھ نے اُسے دیکھنے کا دعویٰ نہیں کیا ۔

لہذا تمام سائنس پر  یقین کرنے والے لوگ   ، غیبی قوتِ تخلیق پر ایمان رکھتے ہیں ۔ اور وہ تمام جدید ترین انسانی تخلیق کردہ اشیاء جو اُن کی زندگی میں صدیوں سے شامل ہو رہی ہیں وہ اُن کے خالق سے نا آشنا ء ہیں ۔ لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ کسی انسان کی تخلیق نہیں ، بلکہ مشینوں کی ہے ۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں  کہ یہ مشین بھی کسی انسانی ہاتھ کی ایجاد ہے ۔ 

انسان کی زندگی کو آسان بنانے کے لئے جو بھی ایجادات ہوئی ہیں وہ سب ، ایجاد کرنے والے انسان نے ، اپنے ارد گرد کی اشیاء  کی مشاہدے کے بعد  اتفاقاً نئی شئے  غیب سے ظہور میں آنے کے بعد عقل و دانش ، فہم و فکر ، شعور و تدبّر کے بعد اُس کی مشابہ چیز اپنے تخیّل میں اَخذکی اور اِسے انسانوں کو بتایا  کہ ، انسانی بھلائی کے لئے ،ایسا بھی ہو سکتا ہے ۔ اُسے عملاً ڈھالا جسے اُس کے ارد گرد موجود انسانوں نے دیکھا ۔

اگلے دانشمند انسان نے اپنے صلاحیتوں کی بنیاد پر اُسے ایجاد کر لیا ۔اِس طرح کئی اشیاء ہیں جو انسان نے حادثاتی طور پر دریافت کیں ۔ جس کو سن کر ہم سب خوشی سے کہتے ہیں ۔

  واہ 

 صدیوں پہلے ایک ہماری طرح کے انسان نے  ، کلمہءِ تحسین بلند کیا ۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۔ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔

او ر خود کو  رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ  کالقب  یہ کہہ کر  دیا  ۔ 

 إِنَّ فِي هَذَا لَبَلَاغًا لِّقَوْمٍ عَابِدِينَ ۔ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ۔ قُلْ إِنَّمَا يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَهَلْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ ۔ ۔  ۔

جس کو الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ    نے  صدق دل سے قبول کر لیا  کہ یہ انسانی نہیں بلکہ

  إِلَهٌ وَاحِدٌ۔ کی طرف سے وحی ہے ۔ جس سے اُن کا پہلے سے کوئی تعارف نہیں ہے ۔  چنانچہ  الَّذِينَ ،    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سےمِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ   تک يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ     بن گئے   ۔  

کیا آپ بھی اِن میں شامل ہیں ؟؟ 

 

پڑھیں : آٹومیٹڈ نظام   نظامِ فطرت-

 ٭٭٭٭

 
 


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔