Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
ہربل-غذائیں یا دوائیں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
ہربل-غذائیں یا دوائیں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 7 مارچ، 2024

انگلیوں کے نشانات

 انسانی انگلیوں کے نشانات ، اُس کی پہچان ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بائیومیٹرک   ریڈر سے اب انسانوں کی پہچان ہوتی ہے   ۔ گو کہ قانونی کاغذات پر  عرصے سے انگوٹھا لگایا جاتا تھا اور دستخط بھی کئے جاتے تھے لیکن شاطر لوگوں نے اُس سے فراڈ کرنے کے طریقے ڈھونڈھ لئے۔ 

بڑھاپے میں انسان کے دستخط  تبدیل نہیں ہوتے لیکن ۔انگلیوں کے نشانات بھ مدھم پڑ جاتے ہیں خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں کے کیوں کہ انگلیوں میں سوئی چبھو کر   شوگر ٹیسٹ کے لئے خون نکلوانا۔  جس کی وجہ سے  بائومیٹرک ریڈر اُنہیں پہچان نہیں پاتا   اور یوں 60 سال سے اوپر کے لوگوں کو مشکل پیش آتی ہے ۔
جس کا ایک حل تو یہ ہے کہ وہ ہر سال  NADRA میں جاکر اپنے بائیومیٹرک  کو اپ ڈیٹ کروائیں اور

 دوسرا حل یہ ہے کہ سفید پھٹکڑی ایک چمچ لے کر اُسے ایک کپ مقدار کے برابر پانی میں حل کریں اور ابالیں ۔ جب ٹھنڈا ہوجائے تو 5 منٹ اپنی انگلیاں ڈبوئے رکھیں ، یہ کام دس دن کریں  انگلیوں کے نشانات ابھر آئیں گے ۔

 

٭٭٭٭٭٭٭٭

 

 

 

بدھ، 10 مارچ، 2021

ارنڈی ۔ Castor

  ارنڈی کا تیل سبزیوں کا تیل ہے جو ارنڈیوں سے نکالا جاتا ہے۔ اس کے متعدد فوائد ہیں اور یہ صابن ، چکنا کرنے والے مادے ، بریک سیال ، پینٹ ، رنگ ، رنگ سازی ، سیاہی وغیرہ کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک الگ ذائقہ اور بدبو اور بے رنگ ظاہری شکل کے ساتھ ، ارنڈی کے تیل میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ طب میں ، ارنڈی کا تیل اس کی جلاب خصوصیات کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ، جبکہ کاسمیٹکس میں ، اس کو نمی بخش کرنے والی پرورش کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ارنڈی کا تیل دوسرے مرکبات میں توڑا جاسکتا ہے جس کی وجہ سے اسے صنعتی کیمیکل استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ارنڈی کا سائنسی نام- ریکنس کمیونس

ارنڈی کا تیل انسان کے مدافعتی نظام کومضبوط بناتا اور انسانی جسم میں موجود جال نما لیمف نوڈز 'Lymphatic Function' کو متحرک کرتا ہے، یہ دل سے پورے جسم تک خون کی روانگی کو متحرک کرنے کا سبب بنتا ہے۔ کاسٹر آئل مختلف شکایات میں سستا ترین اور قدرتی علاج ہے لیکن اکثر و بیشتر افراد اس کی خصوصیات اور فوائد سے نا واقف ہیں۔
٭٭٭٭واپس  ٭٭٭٭ 



بدھ، 6 جنوری، 2021

ڈینڈیلین (Dandelion) کی جڑیں

 کبھی موسمِ بہار میں یہ کھیل کھیلا ہے؟
ہم نے تو بچپن میں سکول سے آتے وقت دوڑ کر یہ روئی کےگولے توڑتے   اورانہیں پھونک سے سب سے دور اُڑانے کا مقابلہ کرتے ۔ 
سب سے پہلے اِس کے پودے زمین سے سر نکالتے جن پر   پیلے پھول نکلتے۔ جب پھول کی پتیاں    ہوا سے گر جاتیں ، اِس کے پکنے پر یہ گول  گول  گالے پورے میدان میں  نظر آتے ۔
جن علاقوں میں پانی کی بہتات ہوتی ہے ۔ وہاں یہ ایک سے ڈیڑھ فٹ بلند ہوتے ہیں اور لمبی اور موٹی جڑوں  کے ساتھ اُگتے ہیں ۔ راولپنڈی میں یہ زیادہ سے زیادہ چھ انچ اونے ہوتے ہیں اور اِسی طرح اں کی جڑیں زیادہ لمبی نہیں ہوتیں ہیں۔
کیا ڈینڈیلین کھانے کے قابل ہے؟ یہ ان سوالات میں سے ایک ہے جو لوگ اس پودے کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ڈینڈیلین کے پتے اکثر سلاد میں استعمال ہوتے ہیں، ان کا تھوڑا سا کڑوا ذائقہ ایک منفرد ذائقہ ڈالتا ہے۔ پکے ہوئے پتے: ڈینڈیلین کو کیسے کھایا جائے یہ بھی اکثر پوچھے جانے والا سوال ہے۔ سلاد کی شکل میں کھائے جانے کے علاوہ، پتوں کو پکایا جا سکتا ہے، بھونا جا سکتا ہے، ابالا جا سکتا ہے یا سوپ اور سٹو جیسے پالک یا دیگر پتوں والی سبزیاں میں شامل کیا جا سکتا ہے۔  

ڈینڈیلین اپنی غذائیت کی ساخت اور جڑی بوٹیوں کی خصوصیات کی بدولت متعدد ممکنہ صحت کے فوائد پیش کرتا ہے۔ ڈینڈیلین پلانٹ کے فوائد میں شامل ہیں: ڈینڈیلین کے پتے وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور ہوتے ہیں، خاص طور پر وٹامن A، C اور K کے علاوہ کیلشیم، پوٹاشیم اور آئرن۔ ڈینڈیلین کا استعمال  انسانی  تاریخ میں جگر کے کام کو سپورٹ کرنے اور  جسم کو نقصان دہ مادوں سے صاف کر نے میں  یہ جگر کے زہریلے مادوں کی صفائی  کے عمل میں مدد کر سکتا ہے اور جگر کی مجموعی صحت کو فروغ دیتا ہے۔
ڈینڈیلین بھوک بڑھا سکتا ہے اور قبض اور اپھارہ جیسی علامات کو دور کر سکتا ہے، اس طرح صحت مند ہاضمہ کو فروغ دیتا ہے۔ ڈینڈیلین میں طاقتور اینٹی آکسیڈینٹ ہوتے ہیں جو آکسیڈیٹیو تناؤ سے لڑنے میں مدد کرسکتے ہیں اور دائمی بیماریوں کے خطرے کو کم کرسکتے ہیں۔
ڈینڈیلین  کی جڑیں قدرتی طور پر بہت سے طبی فوائد رکھتی ہیں اور انہیں روایتی طب میں صدیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے چند اہم فوائد درج ذیل ہیں:۔
جگر کی صفائی۔ ڈینڈیلین کی جڑ جگر کی صفائی کے لیے بہت مفید سمجھی جاتی ہے۔ یہ جگر کے افعال کو بہتر بناتی ہے اور زہریلے مادوں کو جسم سے نکالنے میں مدد دیتی ہے۔
ہاضمے کی بہتری: یہ جڑ معدے اور آنتوں کے لیے مفید ہے۔ یہ ہاضمے کو بہتر بنانے، قبض کو دور کرنے، اور پیٹ کی گیس کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
بلڈ شوگر کنٹرول :ڈینڈیلین کی جڑ انسولین کے اثرات کو بہتر بنا کر بلڈ شوگر لیول کو متوازن رکھنے میں مدد دے سکتی ہے، خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے۔
مدافعتی نظام کی مضبوطی: اس میں اینٹی آکسیڈنٹس اور دیگر مفید مرکبات موجود ہوتے ہیں جو مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں اور جسم کو بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔
موٹاپے میں کمی :ڈینڈیلین کی جڑ پیشاب آور  خصوصیات رکھتی ہے، جس سے اضافی پانی اور زہریلے مواد جسم سے خارج ہو جاتے ہیں، جو وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
جلد کے مسائل کا علاج :ڈینڈیلین کی جڑ سے بنی چائے  جلد کے مسائل جیسے مہاسے اور ایگزیما کے علاج میں مددگار ہو سکتی ہے۔ڈینڈیلین کا عرق یا تیل جلد کی حالتوں جیسے کہ ایکنی، ایگزیما اور چنبل کو سکون دینے کے لیے  استعمال کیا جا سکتا ہے۔
  ڈینڈیلین کی جڑ کو عام طور پر خشک کر کے چائے یا قہوہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔آپ روزانہ ایک کپ چائے پی سکتے ہیں ۔ چائےکا ذائقہ ہلکا تلخ اور مٹی جیسا ہوتا ہے ۔ اس کا پاؤڈر سپلیمنٹ کے طور پر بھی دستیاب ہوتا ہے۔یہ خاص طور پر ہاضمہ کی خرابیوں جیسے اپھارہ یا بدہضمی کے لیے اچھا رہے گا۔
احتیاط حاملہ خواتین یا دودھ پلانے والی ماؤں کو اس کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہیں کرنا چاہیے۔ اگر آپ کو کسی قسم کی الرجی یا طبی مسائل ہیں تو استعمال سے پہلے ماہر طب سے مشورہ کریں۔ ڈینڈیلین کی جڑ قدرت کا انمول تحفہ ہے، لیکن اسے مناسب مقدار اور صحیح طریقے سے استعمال کرنا ضروری ہے۔
 اگر آپ کو ڈینڈیلین چائے پینے کے دوران کوئی منفی اثرات یا تکلیف محسوس ہوتی ہے، تو بہتر ہے کہ استعمال بند کر دیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

جمعہ، 28 اگست، 2020

ذیابیطس کے لئے گڑمار بوٹی

گڑمار بوٹی : Gymnema Sylvestre
دیگر علاقائی نام
✅ اردو/ہندی: گڑمار بوٹی.
✅ سندھی: مٹھا کھو.
✅ پشتو: دوبند، شیرین شکن
✅ پنجابی: گڑمار
✅ گجراتی: گورمارو

✅ انگریزی: Gymnema, Sugar Destroyer
جمنیما سلویسٹر ایک چوبی چڑھنے والا جھاڑی ہے ۔
جم نما سلویسٹریس کا عرق؛ جم نما سلویسٹریس (75% جم نما سلویسٹریس ایسڈ)؛ جم نما سلویسٹریس پتے کا عرق؛ جم نما سلویسٹریس کی جڑ کا عرق؛ جم نما سلویسٹریس کا عرق 25% 75% جم نما سلویسٹریس ایسڈ استعمال: جم نما سلویسٹریس اسکلیپیڈیاسس فیملی کا ایک پودا ہے،
حو 8 میٹر تک لمباہوتا ہے اِس شاخیں باریک روئیں دار، عمر کے ساتھ گنجی ہو جاتی ہیں؛ پتے: موٹے کاغذی، الٹے انڈے کے شکل کے یا بیضوی، 3-8.5 سم لمبے، سرا اچانک چھوٹے نوکیلے، بیس پر وسیع پچر نما، اوپر کی سطح پر چھوٹے روئیں دار یا درمیانی رگ پر روئیں دار، نیچے کی سطح پر روئیں دار یا صرف رگوں پر روئیں دار؛ جانبی رگیں 4-5 جوڑے؛ پتی کا ڈنٹھ 0.3-1.2 سم لمبا؛ پھول: سایہ دار پھول چھوٹے روئیں دار، پھولوں کا گچھا 2-5 ملی میٹر لمبا؛ پھولوں کے ڈنٹھ 2-3 ملی میٹر لمبے؛ کاسہ گلوبی نما، اوپر والے؛ گلپھول سبز سفید، گلوبی نما، گنجے، باہر نکلے ہوئے اضافی حصے؛ سٹگما چھوٹا مخروطی، باہر نکلا ہوا؛ پھل: پھلیاں عام طور پر انفرادی، انڈے کے شکل کے لمبوتری، 5-9 سم لمبی، تقریبا 2 سم قطر، گنجے؛ بیج: بیج انڈے کے شکل کے، تقریبا 8 ملی میٹر لمبے، بیج کے روئیں دار 3.5 سم لمبے۔ہوتے ہیں 
 جو بنیادی طور پر ہندوستان، افریقہ، ویتنام، اور چین کے گوانگشی اور یونان میں پایا جاتا ہے۔ اس کا اثر خون میں شکر کو کم کرنے، خون کی چربی کو کم کرنے، ضد کیریز اور میٹھے ذائقہ کے رد عمل کو روکنے کا اثر ہے۔ اسے کئی طرح کے غذائی اور صحت بخش مصنوعات جیسے کپسول، مشروبات، اور چائے میں تیار کیا گیا ہے۔
جو پاکستان ہندوستان، افریقہ اور آسٹریلیا کے اشنکٹبندیی جنگلات کا مقامی ہے۔ اس کے پتے ہزاروں سالوں سے قدیم ہندوستانی دواؤں کی مشق آیوروید میں استعمال ہوتے رہے ہیں۔ یہ ذیابیطس، ملیریا اور سانپ کے کاٹنے سمیت مختلف بیماریوں کا روایتی علاج رہا ہے۔ جمنیما ذیابیطس، میٹابولک سنڈروم، وزن میں کمی اور کھانسی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ ملیریا کے لیے اور سانپ کے کاٹنے کے تریاق، ہاضمہ کو محرک، جلاب، بھوک کو دبانے والے، اور مدربول (پیشاب لانے زیادہ کچرہ باہر نکالتی) کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

گڑمار ایک پودا ہے جو زیادہ تر بھارت، پاکستان، نیپال، سری لنکا، افریقہ اور آسٹریلیا میں پایا جاتا ہے۔ یہ گرم مرطوب علاقوں کے جنگلوں میں قدرتی طور پر اُگتا ہے۔ پاکستان میں سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخواہ کے علاقوں میں بھی اس کے پودے پائے جاتے ہیں۔

آیوروید میں گڑمار کو ذیابیطس کے علاج کے لیے "مدھو ناسینی" یعنی چینی کو ختم کرنے والی جڑی بوٹی کہا جاتا ہے۔ اس کے پتے خاص طور پر انسولین کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور خون میں شوگر لیول کو کم کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
فوائد:

✅ شوگر لیول کو کنٹرول کرتی ہے – انسولین کی پیداوار کو بڑھاتی ہے اور خون میں گلوکوز کی سطح کو کم کرتی ہے۔
✅ میٹھے کی طلب کم کرتی ہے – زبان کے میٹھے محسوس کرنے والے ذائقہ رسیپٹرز کو متاثر کرکے شوگر کی خواہش کو کم کرتی ہے۔
✅ جگر کو ڈیٹوکس کرتی ہے – زہریلے مادوں کو نکال کر جگر کی صحت کو بہتر بناتی ہے۔
✅ موٹاپا کم کرتی ہے – میٹابولزم کو بہتر کرکے وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
✅ کولیسٹرول کو نارمل رکھتی ہے – خراب کولیسٹرول (LDL) کو کم اور اچھے کولیسٹرول (HDL) کو بڑھاتی ہے۔
طبی فوائد
1. ذیابیطس میں مفید:
شوگر کی سطح کو متوازن کرتی ہے اور انسولین کے اثر کو بڑھاتی ہے۔
جمنیمک ایسڈ (Gymnemic Acid)
شوگر جذب ہونے کے عمل کو کم کرتا ہے۔
2. موٹاپے اور وزن کم کرنے میں مددگار:
جسم میں چربی کے ذخیرے کو کم کرتی ہے۔
بھوک کی خواہش کو متوازن رکھتی ہے اور زیادہ کھانے کی عادت کو روکتی ہے۔
3. کولیسٹرول اور دل کی بیماریوں کے لیے فائدہ مند:
خراب کولیسٹرول (LDL) کو کم اور اچھے کولیسٹرول (HDL) کو بڑھاتی ہے۔
بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
4. گردوں اور جگر کے لیے مفید:
زہریلے مادوں کو خارج کرکے جگر اور گردوں کی صحت کو بہتر بناتی ہے۔
گردے کی پتھری میں بھی مفید ثابت ہوتی ہے۔
5. جلدی بیماریوں میں مددگار:
ایگزیما، چنبل، اور خارش جیسی بیماریوں کے خلاف فائدہ مند ہے۔
ہومیوپیتھی میں گڑمار

ہومیوپیتھک میڈیسن میں Gymnema Sylvestre Q
بنیادی طور پر ذیابیطس اور میٹابولک بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
ہومیوپیتھک فوائد:
✅ ذیابیطس:
خون میں گلوکوز کی سطح کو کم کرکے شوگر کنٹرول میں مدد دیتی ہے۔
انسولین کے اثر کو بڑھاتی ہے اور پینکریاس کے بیٹا سیلز کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے۔
✅ موٹاپا اور وزن کم کرنے میں مفید:
چربی کے ذخیرے کو کم کرتی ہے اور میٹابولزم کو تیز کرتی ہے۔
زیادہ کھانے کی عادت کو کم کرتی ہے اور بھوک کو متوازن رکھتی ہے۔
✅ میٹھے کی طلب کم کرتی ہے:
زبان کے ذائقے کے رسیپٹرز پر اثر ڈال کر میٹھے کی خواہش کو کم کرتی ہے، جو خاص طور پر شوگر کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے۔
✅ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کنٹرول کرتی ہے:
خراب کولیسٹرول (LDL) کو کم کرتی ہے اور دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔
✅ گردوں کے لیے فائدہ مند:
پیشاب کی نالی کی بیماریوں میں مدد دیتی ہے اور زہریلے مادے خارج کرنے میں معاون ہے۔
✅ جلدی بیماریوں میں مفید:
ایگزیما، خارش، چنبل جیسی بیماریوں میں استعمال ہوتی ہے۔
ہومیوپیتھک خوراک:Gymnema Sylvestre Q
10 سے 20 قطرے، دن میں 2 سے 3 بار نیم گرم پانی میں لے سکتے ہیں۔
ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق خوراک لیں، خاص طور پر اگر آپ پہلے سے کوئی دوسری دوا لے رہے ہیں۔
احتیاطی تدابیر:
❌ اگر آپ انسولین یا شوگر کنٹرول کی کوئی اور دوا لے رہے ہیں، تو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر گڑمار کا استعمال نہ کریں، کیونکہ یہ شوگر لیول کو بہت زیادہ کم کر سکتی ہے۔
❌ حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کو استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
👈 گڑمار ایک قدرتی اور مؤثر جڑی بوٹی ہے جو خاص طور پر ذیابیطس، موٹاپا، کولیسٹرول، جگر، گردے اور جلد کی بیماریوں میں مدد دیتی ہے۔ ہومیوپیتھک دوا Gymnema Sylvestre Q شوگر کے مریضوں کے لیے ایک بہترین قدرتی علاج ہے، جو میٹھے کی طلب کو کم کرکے شوگر لیول کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

جمناسلوسٹر200چند سیکنڈز میں شوگر کی کمی کو پورا کردیتی ہے لہذا اس کو استعمال کریں۔
٭٭٭٭٭٭٭

جمعہ، 14 اگست، 2020

جوڑوں کا درد - بیل گری کا مربہ

  بیل گری  کا مربہ بنانے  کی ترکیب :
جوڑوں۔ خاص کر گھٹنوں کے درد کے لئے ، مہاجر زادہ نے ، اِسے آزمایا اور فائدہ مند پایا -
 طریقہ ـ
اپنے قریبی    پنسار سے پاؤ   بیل گری لیں- جو 200 روپے کی ملتی ہے ۔ یہ خشک اور بد رنگت ہوتی ہے ۔ 
 ٭- اِس  کے چار   ٹکڑے  منتخب کریں اور اُنہیں رات بھر پانی میں رہنے دیں ۔ صبح  چاروں ٹکڑے نکال لیں ، ٹوتھ برش سے اُن پر لگے  خشک کالے نشانات اتاریں ۔ اور صاف پانی سے دھو لیں ۔
٭-ایک  دیگچے یا پین میں اِنہیں ڈالیں اور ایک گلاس صاف  پانی ملائیں - اور ہاتھوں سے اِس کا ملیدہ بنائیں اور سخت ٹکڑے ایک پلیٹ میں رکھتے جائیں - بعد میں چھری سے سخت حصوں کو چھوٹا چھوٹا کاٹ لیں  اور ملیدے میں ملادیں-
 ٭- اب اِسے  آگ پر چڑھادیں اور  خوب پکنے دیں -چمچ سے پلاتے رہیں ، تاکہ پیندے میں لگ کر یہ جل نہ جائے -جب  یہ گاڑھا ہو جائے  تو اِسےا اتار کر ٹھنڈا کریں - 
٭- ٹھنڈا ہونے پر حسبِ  ذائقہ شہد ، چینی یا شکر ڈال  کر خوب ملائیں ، بیل گری کا مربہ تیار ہے- اِسے کر فریج یا ٹھنڈی جگہ رکھ دیں -
٭- اب  ایک ہفتے تک ، روزانہ  خالی پیٹ ایک چمچ دن میں تین بار کھائیں ۔
٭- اگلے دو ہفتے ،  صبح شام ایک چمچ کھائیں -
٭-اور پھر  ایک چمچ روزانہ نہار منہ کھائیں ۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 

بدھ، 12 اگست، 2020

جنگل جلیبی


  نوجوان نسل کے بے شمار افراد کے لئے یہ پھل اور اس کا نام اجنبی ہوگا۔ ایک پھل ہے جو دیکھنے میں جلیبی کی طرح لگتا ہے۔ اسی لئے اسے جنگل جلیبی کہتے ہیں۔جنگل جلیبی کادوسرانام گنگا املی بھی ہے۔ اسے انگلش میں
Manila Tamarind) کہتے ہیں۔


کراچی میں یہ پھل ستر اور اسی کی دھائ میں ٹھیلے والے متوسط اور غریب آبادیوں میں گلی گلی پھیری لگا کر فروخت کیا کرتے تھے۔ عام طور پر ان کے پاس جنگل جلیبی۔ املی کٹارے، امرود اور کھٹے لال بادام ہوا کرتے تھے۔ اب تو عرصہ دراز سے کوئ ان کو فروخت کرنے والا نظر نہیں آتا۔البتہ کبھی کبھار ھفتہ بازاروں میں نظر آجایا کرتی ہے۔ اسی دور میں ایک چھوٹے سے ڈبہ نما ٹھیلے پر چورن چٹنی فروخت کرنے والے بھی ہوتے تھے جن کے ٹھیلے پر پانی بھری شیشے کی برنیوں میں ننھی ننھی مچھلیاں بھی ہوا کرتی تھی۔ اس چورن کی ایک خاص بات یہ ہوتی تھی کہ وہ کچھ مختلف سفوف کو کاغز پر رکھ کر ایک سلائ کسی محلول میں ڈبو کر اس سفوف پر رکھتا تو ایک شعلہ سا اٹھتا تھا جس کو بچے بڑی دلچسپی اور شوق سے دیکھتے تھے بلکہ بعضے تو اس شعلے کو دیکھنے کی خاطر ہی یہ چورن لیا کرتے تھے۔ ان کے پاس ایک لال کھٹی میٹھی چٹنی بھی ہوا کرتی تھی۔ بچے اکثر شوق میں مچھلیاں بھی خرید لیا کرتے تھے اور گھر میں ان کو کسی شیشے کے جگ یا بوتل وغیرہ میں پانی بھر کر پالا کرتے تھے۔ ہمارے ایک جاننے والوں کے بچے نے ایک مچھلی چپکے سے گھر کے زیر زمین واٹر ٹینک میں ڈال دی تھی اور وہ مچھلی جب ایک سال بعد گھر والوں کو ٹینک کی صفائ کے دوران نظر آئ تو کوئ بالشت بھر کی ہوچکی تھی۔ اب یہ سب متروک ہوچکے ہیں۔ کراچی کے بچے اب گلی گلی پھرنے والے ٹرائ سائیکل سے اگلو، والز، اور اومور کی آئسکریم خرید کر کھاتے ہیں یا لیز کے چپس اور کیڈبریز کی ڈیری ملک چاکلیٹ۔۔۔
کراچی کے مضافاتی علاقوں ملیر کورنگی وغیرہ میں اب بھی جنگل جلیبی کے درخت نظر آجاتے ہیں۔
جنگل جلیبی ایک سایہ دار درخت ہے اور دوسرا فائدہ پرندے اس کا پھل بڑے شوق سے کھاتے ہیں تو ہم کو اس کی شجر کاری کو فروغ دینا چاہئے۔
یہ قد بڑھانے کے لئے بہت بہترین ہے۔ آئیے اس کے کچھ فوائد کا جائزہ لیتے ہیں۔

1۔قد لمباکرنے کے لئے
جنگلجلیبی ،دوانجیر،پودینے کے چند پتے،شہدایک چمچ،کلونجی ایک چٹکی ،آلوبخار ایک سے دو الے کرتھوڑا پانی ملاکربلینڈ کرکے پی لیں۔
2۔کالی کھانسی
دیسی گھی دوچمچ لے کرجنگل جلیبی کے مغزکاسفید حصہ سات عدد جلاکر چھان کررکھ لیں۔ٹھنڈاکرکے دوچمچ شہد میں ملاکراس آمیزے کاایک چمچ قہوے میں ملاکر پی لیں۔
3۔گھبراہٹ اوربے چینی
ایک گلاس پانی میں ایک چمچ جنگل جلیبی کاپیسٹ ملاکر دوگھنٹے کے لئے رکھ دیں اسکے بعد پی لیں۔
4۔متلی اورقے
ایک کپ پانی میں ایک چمچ جنگلجلیبی پسی ہوئی اورپودینہ کی دس پتیاں ڈال کرایک سے دوابال آنے پر چھان کر پی لیں۔
5۔بالوں میں آئل کاآنا
دہی میں جنگل جلیبی کاپیسٹ اورچند قطرے لیموں کارس ملاکربالوں میں لگائیں۔
6۔چہرے کاماسک
جنگلجلیبی اورگڑ پیس کردونوں کوساتھ ملاکرچہرے پرماسک کے طورپرلگائیں۔
7۔پین کلر آئل
جنگل جلیبی ،سرسوں کاتیل دوسوملی لیٹر،رتن جوت ایک ٹکڑا،آمبہ ہلدی بیس گرام،جائفل تین دانے،لونگ آدھاچمچ تمام اجزاء کوپکاکر ٹھنڈاہونے پرچھان کراستعمال کریں۔
8۔مہروں کادرد
جنگل جلیبی کامغز دس سے بارہ دانے،زیتون کے تیل میں کڑکڑالیں۔پھراسمیں اسگندناگوری،سرنجان شیریں،اجوائن خراسانی ملالیں۔تمام اجزاء کوپیس کر صبح وشام آدھاچمچ لیں۔


اس مضمون میں جنگل جلیبی کے فوائد HTV سے لئے گئے ہیں۔
تحریر
Sanaullah Khan Ahsan
٭٭٭صحت  پر  مضامین پڑھنے کے لئے کلک کریں   ٭واپس٭٭٭٭

اتوار، 21 جون، 2020

انسانی جسم -خودکار حفاظتی نظام(امیون سسٹم) کی ناکامی

میں خود تھا اپنے جسم  کے پیچھے پڑا ہوا 
میرا شمار بھی میرے دشمنوں میں تھا  

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کیاآپ کو معلوم ہے کہ انسانی جسم  کے خودکار حفاظتی نظام(امیون سسٹم) کی ناکامی  کا سبب ہم خود ہیں -

  بوڑھے نے  یہ پکچر پوسٹ لگائی ، تو ایک نیک اور ہمدرد دوست  شجاعت علی خان نے لکھا:
 جسم میں تلی کا کام خون کو فلٹر کرنا اور انسان جو بیماریوں سے دور رکھنا یے یعنی امیون سسٹم کو چلانا مگر چند ماہ پہلے اوپن سرجری کے بعد میری تلی جسم سے الگ کردی گئی یعنی اب میرا امیون سسٹم ختم ہو چکا ہے عام بیماریوں سے بچنے کےلیے ویکسینیشن پر چل
رہا ہوں اور خود کو آئسولیٹ کیا ہوا ہے-
 پڑھ کر افسوس ہوا - جواباً  کمنٹ لکھا :
 گوگل آنٹی کا کہنا ہے کہ : نہایت ٹھنڈی چیزیں، سیچوریٹڈ شوگر اور تیل بھرے کھانے تلّی یعنی spleen کی عمر کم کر دیتے ہیں !  
جس کا انجام  ٹرے میں پڑی انسانی تلی ہوتی ہے ۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 1974 میں جب ہم اکیڈمی گئے تھے اور ہمارا کام  ہر جگہ دوڑ کر جانا تھا ،  پہلے ہفتے میں پی ٹی کے پیریڈ میں  اکثر    کیڈٹس  اپنے دل کے نیچے  پیٹ پر ہاتھ رکھ کر ہائے اور اُوئی چلاتا  ۔
" سٹاف  بہت درد ہو رہا ہے "وہ درد بھرے چہرے سے فریاد کرتا  ۔ " ریسٹ دے دیں "۔ 

" درد ہو رہا ہے تو ، ڈاکٹر کو دکھاؤ " سٹاف چلاتا   " شامل ہو جاؤ پلٹون میں - آجاتے ہیں کھا کھا کر"
کیڈٹ  ایم آئی روم  جاتا جہاں ڈاکٹر کا سوال ہوتا،" یہاں درد ہوتا ہے ؟" اور ڈاکٹر زور سے دباتا ۔

" ہائے ، جی سر " کیڈٹ تکلیف سے جواب دیتا -
" میں دوائی دے رہا ہوں کھاؤ ، ٹھیک ہو جائے گا "

اور کیڈٹ  ڈاکٹرسے ایم اینڈ ڈی  ( میڈیسن اور ڈیوٹی ) لے کر واپس آتا۔  15 دن بعد  کیڈٹ -  درد سے آزاد ، گھوڑے کی طرح دوڑ رہا ہوتا ۔ کیوں کہ اُس کی تلی قدرتی حالت میں آجاتی ۔
انسانی جسم   میں  خودکار حفاظتی نظام(امیون سسٹم) کے محافظ کون ہیں ؟
آئیں دیکھیں یہ کیسے تباہ ہوتے ہیں:

1- تلی-   جسم میں ایک سے زیادہ معاون کردار ادا کرتی ہے۔ یہ مدافعتی نظام کے حصے کے طور پر خون کے فلٹر کا کام کرتا ہے۔ پرانے سرخ خون کے خلیوں کو تلی میں ری سائیکل کیا جاتا ہے ، اور پلیٹلیٹ اور سفید خون کے خلیے وہاں محفوظ ہوتے ہیں۔ تلی بعض قسم کے بیکٹیریا سے لڑنے میں بھی مدد کرتا ہے جو نمونیہ اورگردن توڑ بخار  کا سبب بنتا ہے۔


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 
کیاآپ کو معلوم ہے کہ انسانی جسم  کے خودکار حفاظتی نظام(امیون سسٹم) کی ناکامی  کا سبب ہم خود ہیں - 
٭٭٭صحت  پر  مضامین پڑھنے کے لئے  ٭واپس٭٭٭٭ 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔