میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 18 فروری، 2019

ماں ایک رحمت

گھر میں داخل ہوا تو دیکھا ، بیوی بیٹھی رو رہی ہے ۔۔
" کیا ہوا " ۔ میں نے پوچھا ۔" یہ آنکھیں کیوں لال کر رکھیں ہیں ؟۔ سب خیریت تو ہے نا ؟ " ۔
" آج ، اس کمینے نے ، بیوی کے کہنے پہ اس بڑھیا کو پھر مارا ہے " ۔ وہ پھر ہچکیوں سے رونے لگی ۔
" تمہیں کیا ۔ وہ اس کی ماں ہے ، تمہاری نہیں اور پھر بڑھیا ، زبان چلاتی ہو گی ۔ بہو کے معاملے میں دخل دیتی ہوگی " ۔ میں نے اس کا غم غلط کرنے کے لیے کہا ۔
" زبان چلاتی ہو گی ۔۔؟ معاملات میں دخل دیتی ہوگی ۔۔؟
 آپ کو کچھ پتا بھی ہے ، اس بیچاری کو فالج ہے ۔ اٹھنے بیٹھنے کے لیے سہارے کی محتاج ہے ۔ اٹک اٹک کر اپنی بات پوری کرتی ہے " ۔ بیوی نے تلخی سے جواب دیا ۔۔
" پہلے تم نے کبھی بتایا نہیں کہ اس کو فالج ہے" ۔ میں نے انجان بنتے ہوئے  کہا ۔۔
"ہزار دفعہ تو بتایا ہے ۔ مگر آپ کو کپڑوں کے علاوہ کچھ یاد رہے نا " ۔  بیوی بولی
" اچھا چھوڑو ۔۔ ہم کر بھی کیا سکتے ہیں ؟ " میں نے موضوع بدلنے کی کوشش کی ۔۔
" میرا دل کرتا ہے کہ بڑھیا کو اپنے گھر لے آؤں کچھ دنوں کے لیے" ۔میری بیوی نے کہا
"کیا ۔۔ کیا کہا ۔؟ ۔۔ پاگل ہو گئی ہو ۔۔ پرائی مصیبت اپنے گلے ڈالو گی" ۔  مجھے اس کی سوچ پہ غصہ آگیا ۔۔
" صرف ہفتے بھر کے لیے " ۔ اس نے میرے غصے کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا ۔۔ شاید وہ پہلے سے ہی سب پلان بنا کے بیٹھی تھی ۔۔
" نہیں ، نہیں ۔۔ یہ ناممکن ہے ۔۔ اور پھر وہ کیوں دینے لگا اپنی ماں ہم کو" ۔ میں نے کہا ۔
" اس کی بیوی کئی مرتبہ کہہ چکی ہے کہ بڑھیا ، کہیں دفع توہو نہیں سکتی ، کتے کی سی جان ہے ، مرتی بھی نہیں " ۔ بیوی نے کہا
" اچھا ، یہ کہتی ہے وہ "۔ میں نے بیوی کا دل رکھنے کے لیے کہا ۔۔
" بس اب آپ مان جائیں اور اس کو اپنے گھر لے آئیں " ۔ یہ کہتی ہوئے  وہ میرے پہلو میں آ بیٹھی ۔۔ اور یہی اس کا خطرناک حملہ ہوتا ہے ، اپنی بات منوانے کا ۔۔۔
" اچھا جی!  اب اس بڑھیا کو گھر لانے کی ذمہ داری بھی مجھ پر ڈال رہی ہو ۔ اور یہ تو سوچو کہ تم اس کوسنبھال بھی لو گی ؟" ۔ میں نے کہا
" اپنے بچے تو ہیں نہیں ، میں بھی گھر میں سوائے  ٹی وی دیکھنے کے اور کیا کرتی ہوں ۔۔ چلو وہ آ جائے گی تو میرا دل بھی بہلا رہے گا " ۔ اس نے اداسی سے کہا۔

ہم دونوں کے ماں باپ نہیں تھے ، مجھے بیوہ  پھوپی نے پالا تھا اُن کے اپنے بھی دو بیٹے تھے ۔ وہ  سکول میں ٹیچر تھیں ، بتاتی تھیں  کہ ماں مجھے جنم دے کر فوت ہوگئی تھیں ۔  میں نے میٹرک کیا تو  کپڑوں کی ایک دکان پر ملازمت کرنے لگا ،     میری محنت اور ایمانداری دیکھ کر  ، دکان کے مالک نے اپنی بن ماں کی بیٹی سے شادی کر دی  ،  کچھ عرصہ تو میں پھوپی کے گھر رہا ، پھر اپنے سسرکے گھر شفٹ ہو گیا ۔
شادی کے نو سال بعد   سسر کا ہارٹ اٹیک میں انتقال ہو گیا ۔ بیوی کو تنہائی کاٹتی تھی ۔ کیوں کہ
ہماری شادی کو دس سال ہو گئے تھے ۔۔ مگر اولاد سے محرومی تھی ۔۔
میں نے سوچا -- چلو بات کر کے دیکھنے میں حرج نہیں ہے ۔
کونسا ، وہ اپنی ماں ، ہمیں دینے پہ راضی ہو جائے  گا ۔۔
اگر راضی ہو گیا تو ۔۔؟ میں نے سوچا
پھر بھی ایک ہفتے کی ہی تو بات ہے ۔۔۔
اگر بعد میں اپنے ہی گلے پڑ گئی  تو ۔۔ اچانک مجھے خیال آیا ۔۔۔
" اگر وہ بڑھیا مستقل گلے پڑ گئی تو؟ " ۔  میں نے اپنے خدشے کا اظہار ، بیوی سے کیا ۔۔
" یہ تو اور اچھی بات ہے " ۔ اس نے خوش ہوتے ہوئے  کہا ۔۔
سچ کہتے ہیں ۔۔ عورت بے وقوف ہوتی ہے ۔۔ میں نے دل میں سوچا ۔۔

اگلے دن شام کو کافی سوچ بچار کے بعد میں ان کے گھر گیا ۔ کچھ بات کرنے کے بہانے ، ڈرائنگ روم میں بیٹھا ۔ اس نے جھوٹے مونہہ بھی چائے  کا نہیں پوچھا، تو میں نے اپنے پلان کے مطابق اس سے کہا ،
" میری بیوی ، فالج کا علاج قران پاک سے کرنا جانتی ہے ۔ اور وہ آپکی والدہ کا علاج کرنا چاھتی ہے "  ۔
یہ سن کر اس نے کسی خوشی کا اظہار نہ کیا ۔ تو میں نے بات جاری رکھی ۔۔
"   اس میں مسئلہ یہ ہے کہ آپ کی والدہ کوہفتہ بھر ہمارےہی گھر پر رہنا ہو گا ۔۔ آپ فکر نہ کریں ، ہم ان کا اچھے سے خیال رکھیں گے" ۔ یہ سن کر اس کے چہرے پہ شرمندگی اور خوشی کے ملے جلے اثرات پیدا ہوئے ۔
اس نے تھوڑی سی بحث کے بعد اجازت دے دی ۔ میں نے اٹھتےہوئے  کہا،
"  علاج میں پندرہ بیس دن بھی لگ سکتےہیں" ۔ اس نے اور بھی خوشی محسوس کی ۔
کہنے لگا ،" سلیم صاحب ، میں تو چاھتا ہوں کہ میری ماں ٹھیک ہو جائے  ، بھلے مہینہ لگ جائے"  ۔
اور یوں ، اس طرح ، اماں ، مستقل ہماری ہو کے رہ گئی۔  اگلے دن ، وہ بڑھیا ہمارے گھر منتقل ہو گئی ۔ بس وہ بڑھیا کیا تھی ۔۔ سفید روئی کا گالہ سی تھی ۔ نور کا اک ڈھیر سا تھا ۔ لاغر سی ، کمزور سی ۔ جیسے زمانے بھر کے غم ، اس کے نورانی جھریوں بھرے چہرے پہ تحریر تھے ۔ آنکھوں کے بجھتے چراغ ۔ کپکپاتے ھونٹ ۔
مناسب خوراک اور دیکھ بھال نہہونے کی وجہہ سے حالت اور زیادہ خراب تھی ۔۔
میری بیوی تو تن ، من ،دھن سے اس کی سیوا میں جٹ گئی۔ اس کے لیے ہر چیز نئی خریدی گئی۔ بستر ، کمبل ، چادریں ، کپڑے ۔۔
اچھی خوراک ، اور خدمت سے اماں کے چہرے پہ رونق آنے لگی ۔۔
پتا ہی نہ چلا ،مہینہ گزر گیا ۔ 
 پہلے اس کی بہو ہر دو دن بعد آتی رہی ۔ پھر چار دن کا وقفہ ہوا ، پھر ہفتہ ہونے لگا ۔ اماں کو واپس لے جانے کی بات نہ اس نے کی ، نہ ہم نے ۔۔
دوسرا مہینے میں وہ ایک ہی دفعہ آئی ۔ گھر کی مصروفیت کا رونا روتی رہی ۔ 
تیسرے مہینے کے بعد ، اس نے آنا بند کر دیا ۔۔
 میں نے بیوی سے کہا،"  اب اماں ، تمہاری ذمہ داری بن گئی ہے ، اب تم سنبھالو " ۔ بیوی نے خوشی کا اظہار کیا ۔
یہ غالباًساتواں مہینہ تھا کہ اس آدمی کو، اس کی بیوی نے قتل کردیا اور بعد میں وہ خود بھی پکڑی گئی۔
اور یوں ، اماں ، صرف ہماری ہی ہو کے رہ گئیں ۔
ادھر جیسے جیسے اماں کی توانائی بحال ہورہی تھی اور چہرے پہ رونق ، مسکان آنے لگی تھی ۔ ویسے ویسے ، میرا کاروبار ترقی کرنے لگا ۔ ایسے لگتا تھا جیسے مجھ پر دھن برسنے لگا ہو ۔ 
سال بھر میں میری تین دکانیں ہو چکیں تھیں ۔ تیسرے سال ہم تینوں ، میں ، بیوی اور اماں نے حج کی سعادت حاصل کی ۔ گلستان جوھر میں پانچ سو گز کا بنگلہ خرید کر وھاں شفٹ ہو گئے ۔
اماں ، ہمارے ساتھ سات سال رہیں ، ہر پل ان کاہمیں دعائیں دیتے گزرتا ۔اور ہم میاں بیوی ، خوشی سے پھولے نہ سماتے ۔
۔ عجیب کرامت یہ ہوئی کہ اماں کی برکت اور دعاؤں سے ، اللہ رب العزت نے مجھے اولاد سے نوازا ۔۔
آج وہ ہمارے درمیان نہیں ، مگر ان کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے ۔ جیسے کوئی اپنا کہیں کھو گیا ہو ۔
ہم نے بھی کبھی ان سے ان کا نام تک نہ پوچھا ۔ بس ان سے اک خلوص کا رشتہ تھا ۔۔
پچھلے دنوں ، میری بیوی بہت خوش تھی ۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگی ۔ 
"میں نے ایک خواب دیکھا ہے "۔
"کیسا خواب ۔۔؟" میں نے پوچھا
" میں نے دیکھا ۔ کہ محشر کا دن ہے ۔ اور سب حیران و پریشان کھڑے ہیں ۔ ان میں ، میں بھی کھڑیہوں کہ اتنے میں ، اماں آئیں اور میرا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگیں ۔ منیرہ ، ادھر آ ، میرے ساتھ ، تجھے پل صراط پار کرا دوں ۔ میں ان کے ساتھ چلی ، ہم ایک باغ سے گزرے ، تھوڑی دیر میں باغ ختم ہوا تو ایک بڑا سا میدان آگیا ۔تو اماں کہنے لگیں ، بس ہو گیا پل صراط پار ۔۔ میں حیران ہوئی ۔ تو وہ بھی زور سے ہنسنے لگیں ۔ پھر میری آنکھ کھل گئی" ۔
" مبارک ہو بھئ ۔۔ بہت اچھا خواب ہے مگر تمہیں میرا خیال نہ آیا ۔ ؟" میں نے پوچھا
" قسم سے میں اتنی پریشان تھی کہ ۔خیال ہی نہیں رہا " وہ شرمندہ ہوتے ہوئے بولی ۔
" چلو ۔ خیر ہمیں بھی کوئ نہ کوئ ملہی جائے گا جو پل صراط پار کرا دے" میں نے کہا ۔
" آمین " ۔ بیوی نے جیسے دل کی گہرائیوں سے کہا ۔۔
" ارے ہاں ،  اس کو میں نے یہ نہیں بتایا کہ ایسا خواب میں بھی دیکھ چکا ہوں۔ بس فرق یہ تھا کہ اماں نے میرا  ہاتھ پکڑتے وقت کہا تھا ، چلو ، تمہیں منیرہ کے پاس لے چلوں وہ پل صراط کے پار ، تمہارا انتظار کر رہی  ہے..!!
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منگل، 12 فروری، 2019

انسانی مذہبی ظنّی افعال ، الحق کے متضاد اور کذب ہیں !

 روح القدّس نے محمد ﷺ کو اللہ کا انسانوں کا اللہ کی آیات میں موضوع " ظن" کی بابت یہ پیرا گراف اور اِس سے متعلقہ آیات بتائیں ۔
1- اللہ کے علاوہ کائینات  او ر اِس میں موجود اشیاء کی تخلیق  یا اُس کو ری پروڈیوس نہیں کر سکتا نہیں کر سکتا :
قُلْ هَلْ مِن شُرَكَائِكُم مَّن يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ۚ قُلِ اللَّـهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ ﴿10:34﴾




2- الحق بھی اللہ کی تخلیق ہے ، لہذا اللہ کا کوئی شریک  اللہ کی آیات کے علاوہ  انسانی ہدایت کے لئے الحق  نہیں گھڑ سکتا اور نہ اُس کی طرف ہدایت  پر لا سکتا  ہے -
 قُلْ هَلْ مِن شُرَكَائِكُم مَّن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ ۚ قُلِ اللَّـهُ يَهْدِي لِلْحَقِّ ۗ أَفَمَن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّا يَهِدِّي إِلَّا أَن يُهْدَىٰ ۖ فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ ﴿10:35﴾

3- تمام انسانی ہدایات ، انسانی ظنّی افعال ہیں ، یہ ظنّی افعال الحق میں کسی بھی چیز کا اضافہ نہیں کر سکتے ۔
 وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا ۚ إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ ﴿10:36﴾

4- انسان کو ہدایت صرف الحق ہی سے مل سکتی ہے ، جو عربی  میں تفصیل الکتاب ، ربّ العالمین کی طرف سے صرف القرآن میں ہے ۔ انسانی کُتُب میں نہیں ۔ اُن سے بچو !!!!
 وَمَا كَانَ هَـٰذَا الْقُرْآنُ أَن يُفْتَرَىٰ مِن دُونِ اللَّـهِ وَلَـٰكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ الْعَالَمِينَ ﴿10:37﴾

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّثْلِهِ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿10:38﴾


  انسان ، اللہ کی آیات کے جُز بنا کر اللہ کی آیات کے موضوع انسانوں کو کذب بول کر بھٹکانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اور اللہ کے مقابلے میں اپنی آیات اپنی زبان میں تفسیر کی آڑ لے کر گھڑتے ہیں ۔دعاؤں اور بدعاؤں کی بہت سی آیات اپنے ظن سے  گھڑ لیں ہیں اور اُنہیں اپنے متبعین میں یہ کہہ کر پھیلا دی ہیں کہ یہ  ہمیں " صحاح تسع  عشر " سے ملی ہیں ۔ 

5- جب انسان کا علم اللہ کی آیات کا احاطہ نہیں کر سکتا یا اُس کے فہم و ادراک میں نہیں آتیں تو وہ اللہ پر کذب بولتا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ، یہ تو اُن  کے سلف   کا  صدیوں سے وطیرہ رہاہے ۔
  بَلْ كَذَّبُوا بِمَا لَمْ يُحِيطُوا بِعِلْمِهِ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُ ۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۖ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظَّالِمِينَ ﴿10:39﴾

6-جو الحق پر ایمان لایا  وہ مؤمن اور جو ظن پر ایمان لایا وہ مفسد ۔ 
 وَمِنْهُم مَّن يُؤْمِنُ بِهِ وَمِنْهُم مَّن لَّا يُؤْمِنُ بِهِ ۚ وَرَبُّكَ أَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِينَ ﴿10:40﴾

 
7- ظن کی اتباع کے لئے کذب بولنے والوں سے دور ہٹ جاؤ اور اللہ کی عربی میں آیات پر عمل کرو !
وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۖ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ ﴿10:41﴾


 وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ ۚ أَفَأَنتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْ كَانُوا لَا يَعْقِلُونَ ﴿10:42﴾
٭٭٭٭٭٭٭٭

اتوار، 10 فروری، 2019

ایہے بچیاں نوں لفظ ضرور دسیو

 ٭۔۔ایہہ بچیاں نوں لفظ ضرور دسیو۔۔ ٭

تارا میرا کِنّوں تے رسونت کیہنوں کہندے نیں،
لاناں کیہنوں آکھدے تے اؤنت کیہنوں کہندے نیں!
ہندی کی نموشی تے فتور دسیو،
ایہے بچیاں نوں لفظ ضرور دسیو! 


ڈوکا کینہوں آکھدے  تے بولی کیہنوں کہندے نیں
ہندا کی اے بروو تے پوہلی کیہنوں کہندے نیں،
ہندی کی سڑنگھ تے سلامبھا کیہنوں کہندے نیں،
وڈیائی کی ہوندی تے الانبھا کیہنوں کہندے نیں!
نھیرناں،گندھوئی تے زمور دسیو،
ایہے بچیاں نوں لفظ ضرور دسیو!




دادے، نانکے، پتیئس ، پتیوئرے دسیو
کُڑم، شریکے، پیکے ، سوہرے دسیو
دنداسا، نتھّ، سرمہ تے متھے لٹ دسیو
پھاٹھ، ڈنگوترے، مراسی جاٹ نٹّ دسیو
چھمبھ، ٹوبھا کھوہ تے سانبھ کے تلاب رکھیو
آؤندی پیڑھی جوگا
سانبھ کے پنجاب رکھیو


 
پٹنا، چمکور، سرہند، ماچھیواڑا دسیو
چھنجھ، کشتی، بازی تے اکھاڑا دسیو


ہساؤنی، کہانی، ساکھیاں بات دسیو
ترکالاں، لوہڈھا، منہ نیہرا، پربھات دسیو
کہی، رمبی، تنگلی، جندرا، سلنگھ دسیو
پیڑھی ، منجا، موہڑا تے پلنگھ دسیو


سبھراؤ، مدکی، چیتے کھدرانا ڈھاب رکھیو
آؤندی پیڑھی جوگاسانبھ کے پنجاب رکھیو




 ٹھکّا پچّھوں تے پُرے دی پونڈ دسیو

 دُلّا جگا جیونا سانو کون دسیو 
گلوٹا چھکّو پونی کھڈی تانی دسیو
 جپ رہ راس سوھیلا انند بانی دسیو 
لیھا پَکھڑا سونڑاں سانبھ کے گلاب رکھیو
آؤندی پیڑھی جوگاسانبھ کے پنجاب رکھیو

رُگ تھبّی ستھری  تے پنڈ دسیو 
 نکھٹٗا چھڑا دھاجّو تے نالے رنڈ دسیو
 ٹپے سِٹھنی گھوڑیاں  سہاگ دسیو
 ڈپٹہ چنی پھلکاریاں تے باگ دسیو 
تہاڈ اک تارا تے سانبھ کے رباب رکھیو 
آؤندی پیڑھی جوگاسانبھ کے پنجاب رکھیو

 پیچون کھدو بارہ ٹہنی کھیڈ دسیو 

 دھوڑ جپّھہ کینچی پنڈی ریڈ دسیو
گپّھا بُک مُٹھ  نالے اوک دسیو
پٹھ لیلا بلونگڑا تے بوک دسیو
وِگھے مربعے تے کلّے دا حساب رکھیو
 آؤندی پیڑھی جوگاسانبھ کے پنجاب رکھیو


کلکاری، چیک، دہاڑ تے بڑک دسیو
چوز، اڑکھ، نخرہ تے مڑھک دسیو
پیہلاں، توتیاں ، نمولیاں ،بیر دسیو
پنسیری ، اَدھ پا، پائیا نالے سیر دسیو
لگام، کاٹھی پیراں 'چ رکاب رکھیو
آؤندی پیڑھی جوگا
سانبھ کے پنجاب رکھیو

 
لٹھا ، ڈھبی، کھدر تے ململ دسیو
پر ، پرسوں ،بھلک تے نالے کل دسیو
پنجہ، جیتو، ننکانہ، نیلا تارہ دسیو
توی، چرکھڑی، دیگ دا نظارہ دسیو
چیتے پھولا، نلوآ، کپور تےنواب رکھیو
آؤندی پیڑھی جوگا
سانبھ کے پنجاب رکھیو

جنڈ ، ون، شریں تے ساگوان دسیو
لوک تتھّ، محاورے تے اَکھان دسیو
ساہل، گنیاں، رندا، کرنڈی، تیسی دسیو
بھورا، کمبل ، لوئی نالے کھیسی دسیو
مٹھے بول ویر، بھاجی تے جناب دسیو
آؤندی پیڑھی جوگا سانبھ کے پنجاب رکھیو


پورن کنہیا جیتا بدّھو شاد دسیو 
بیہی گلی ڈندا کچا راہ دسیو 
پیلو وارث ہاشم تے قادر یار دسیو 
لال تیجے گنگو کرپال جہے گدار دسیو
ڈیرے سادھ بابے بے نقاب رکھیو 
آؤندی پیڑھی جوگا سانبھ کے پنجاب رکھیو۔۔!



دھریک،لسوڑا تے دھتور دسیو،
ایہے بچیاں نوں لفظ ضرور دسیو! 

لانگا کیہنوں آکھدے تے کھوری کیہنوں کہندے نیں،
چوبر کیہنوں آکھدے تے گھوری کیہنوں کہندے نیں!
ہندا کی جوانی دا سرور دسیو،
ایہے بچیاں نوں لفظ ضرور دسیو!

سانبھ چوری، تیر ،گھڑا ،پٹّ دا کباب رکھیو

آؤندی پیڑھی جوگا سانبھ کے پنجاب رکھیو۔۔!  
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہفتہ، 9 فروری، 2019

شگُفتہ نثر کی چھٹی محفل مزاح نگارانِ قہقہہ آور

9 فروری 2019
۔۔
روداد چھٹی ماہانہ نشست بزم مناثرین
بروز ہفتہ، مورخہ 9 فروری 2019 ۔۔۔
بمقام۔۔۔ نسٹ اسلام اباد
از قلم: حبیبہ طلعت
 
زندگی  کے مصروف روز و شب گزارنے والے بھی شگفتگی سے جینے کا ہنرخوب جانتے ہیں۔۔۔۔۔ بزم مناثرین کے شگفتہ مزاج نثار حضرات۔۔۔۔
ذکر ہے بزم مناثرہ کی باقاعدہ نشست کے انعقاد کا۔۔۔  آج کی بزم سینٹرل لائبریری نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی مین کیمپس اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔۔۔ جس کے میزبان رہے عاطف مرزا صاحب۔۔۔۔
دیگر شرکائے بزم میں آصف اکبر صاحب، عزیز فیصل صاحب اور حبیبہ طلعت شامل تھے۔  جو احباب شریک نہ ہو سکے ان کے لیے ہلکی پھلکی تفصیلی روداد قلم بند اور منظر بند کی گئی ہے۔۔۔

پروگرام حسب سابق وقت پر شروع ہوا۔۔۔۔ جس کی ابتداء میں میزبان عاطف مرزا صاحب نے اپنا انشائیہ "تیل" کے عنوان سے پیش کیا۔۔۔ جس میں تیل سے متلعق محاورات اور ضرب الامثال کو خوبی سے استعمال کرتے ہوئے پھلجھڑیاں چھوڑیں۔
کہتے ہیں کہ:
 
تیل ۔۔۔ چکناہٹ کا ضامن ہے ۔اِس کا نام سنتے یا پڑھتے ہی عجیب قسم کی چِپ چِپاہٹ اور جانے کیا کیا تصور میں آتا ہے۔اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ عموماً تیل کی دو اقسام ہوتی ہیں، خوردنی تیل اور معدنی تیل مگر کچھ اور اقسام بھی سننے اور دیکھنے میں آئی ہیں۔ یہ اقسام اردو کے اکثر محاورات اور ضرب الامثال میں دیکھی جا سکتی ہیں۔فرہنگِ عاطفیہ کے مطابق تیل بیک وقت اِسم، فعل اور صفَت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔کسی جگہ اسے بہ طور کیفیت بھی برتا جاتا ہے اور بسا اوقات تو یہ کیفیات بدلنے یا اُنہیں ’’رواں دواں‘‘ رکھنے کے کام بھی آتاہے۔
تیل ہونا ایک مشہور فعل ہے، یہ عموماً غریب کا ہوتا ہے، وہ بھی اِس صورت میں کہ اگر غربت کا عرصہ اُس کی عمر سے زیادہ ہو جائے۔ تیل دیا بھی جاتا ہے، مشینوں کو دینے کے علاوہ ہمارے ہاں اپنے محسنوں کو ، وطن کو ، اپنے اداروں وغیرہ کواچھی طرح تیل دیا جاتا ہے۔ ویسے مفت کی عیاشی کو تیل دینا کہا جاتا ہے۔ پی ایس او ایک عرصے سے پاکستان کو تیل دے رہا تھا، مگر پچھلے پندرہ بیس سال کے دوران کچھ سرکاری اداروں نے مفت تیل لے کر پی ایس او کا تیل کر دیا ہے۔"
اسکے بعد آصف اکبر صاحب نے اپنی خود نوشت کا نام ہے 'بس ٹھیک ہے'، سےظرافت اور قدرے شرارت کے ساتھ تاریخی تناظر میں ملکی تاریخ کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا۔ لکھتے ہیں کہ
"پھر کوچہ سپہ سالاراں سے ایک درویش صورت شخص آکھڑا ہوا۔ اس نے کشتی کو مسجد میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا۔ اس کا رخ مکّہ کی طرف موڑ دیا مگر پتوار چلانے والے پتوار واشنگٹن کی طرف چلاتے رہے۔ یہ بادشاہ نقاب پوش بادشاہ تھا۔ اس کے تمام تر نائیبین یک چشم قزّاق تھے۔ اس نے ایک مجلس مشورہ بھی بنائی تھی، جو اسکے مشورے سے مشورے دیا کرتی تھی۔"

 اس دلچسپ تاریخی تجزیے کے بعد اب باری تھی ڈاکٹر عزیز فیصل صاحب کی۔۔۔ جو سادہ انداز میں چھوٹے فقروں سے مزاح ڈھالنے کا فن بخوبی نبھاتے ہیں ۔۔۔"بدپرہیزی کے صارفین کے نام سے"
لکھتے ہیں کہ؛

"خرابی بسیار برطرف، بدپرہیزی ایک" گناہ بالذت "ہونے کے ساته ساته مسیحانہ حکم عدولی کی ایک تفریحی سرگرمی بهی ہے.  یہ بیماری کے دوران حملہ  آور جراثیم کے تواضع کی مساعی جمیلہ بهی ہے اور  معصوم معدے سے اظہار یک جہتی اور لذت کام و دہن کے ساته شانہ نشانہ کهڑے ہونے کی ایک حقیرانہ کوشش بهی ہے. حاذق مریض گونا گوں بد پرہیزیوں کا تشفی بخش جواز بهی پلو سے باندهے ہوئے بلکہ اس پر سٹیپلر سے پنیں بهی لگائے ہوئے ہیں. اسی سکول آف تهاٹ کے ایک فعال مریض نے ہمیں بتایا تها کہ وہ بیماری کے دوران عام روٹین کے برعکس زیاده کهاتا پیتا ہے تاکہ جراثیم  کے پیدا کرده نقصانات کا موقع پر ہی فوری ازالہ ہوتا رہے۔"
آخر میں ناچیز نے حسب سابق حالات حاضرہ اور سماجی رویوں پر اپنے مشاہدات سے حاضرین کو محفوظ کیا۔ ہمارے انشایئے کا عنوان "بہن بھائی چارہ" تھا۔۔۔اقتباس پیش خدمت ہے کہ؛
"بہن بھائی چارہ ایک اہم چیز ہے جسے مرد بھی نبھاتے ہیں اور خواتین بھی۔ خواتین خاص طور سے بہن بھائی چارے پر مبنی رشتے قائم کرتی ہیں اور ان کے تقدس کی قسمیں بھی کھاتی ہیں۔ سرحد پار تو 'راکھی بندھن' سے بہن بھائی چارہ اعلانیہ نبھایا جاتا ہے۔شاید اسکی وجہ یہ ہے کہ ہندووں کے بچے کم کم ہوتے ہیں اور ذاتی بہن بھائی کم کم دستیاب ہوتے ہیں۔مگر ہم لوگ بھی کسی سے کم نہیں۔گھر میں چار پانچ بہنوں کے ہوتے ہوئے بھی مزید بہنیں بنائی جاتی ہیں۔"
بزم کی خاص بات یہ رہی کہ روایت شکنی کرتے ہوئے فرہنگ عاطفیہ کے تحت  موسم کا لطف دوبالا کرتے لوازمات نے دلچسپ جملوں اور مسکراہٹوں کے ساتھ ساتھ لطف اندوز ہونے کا موقع دیا۔ یوں گرما گرم شامی کباب، سموسوں اور فرائی فش کے ساتھ بھاپ اڑاتی کافی نے بزم کا لطف انگیخت کیا۔۔۔

پرسکون ماحول کی اس یادگار بزم کے بعد عاطف مرزا صاحب نے ہم سب کو نسٹ کیمپس کے مختصر تعارف مگر مکمل سیر کے بعد مرکزی گیٹ پر رخصت کیا۔۔۔۔

(مبصّر -  حبیبہ طلعت )
٭٭٭٭٭٭واپس جائیں٭٭٭٭٭٭

منگل، 5 فروری، 2019

مرد کہانی

  مرد کى ہینڈلر صرف عورت ہے۔
 عورت ہی اس کو پیدا کرتی ہے۔
 زنانہ وارڈ میں اس کا نزول ہوتا ہے۔
عورتیں ہی اس کو خوش آمدید کہتی ہیں۔
 عورت ہی اسے پالتی اور اس کی تربیت کرتی ہے اچھی ہو یا بری۔
پھر ہار سنگھار کر کے اسے دوسری عورت کو سونپ دیتی ہے۔
عورت کے بگاڑے کو عورت ہی سدھار سکتی ہے۔
 ماں کے بگاڑے ہوئے کو بیوی ہی سدھار سکتی ہے اور ماں کے سدہارے ہوئے کو بیوی ہی بگاڑ سکتی ہے۔
 اس کا پاس ورڈ (Password) ازل سے عورت کے پاس ہے اور۔ ۔  ۔!
 یہ ہمیشہ ماں بہنوں اور بیوی کے درمیان فٹ بال بنا رہتا ہے جو اپنی اپنی مرضی کا گیم اس پر کھیلتی اور اس کی سیٹنگز تبدیل کرتی رہتی ہیں۔
 ماں کی سیٹنگز  رات کو چپکے سے بیوی تبدیل کر دیتی ہے۔
 مگر صبح اماں چہرے کے رنگوں سے پہچان کر ،  ایک پھونک سے  دوبارہ فیکٹری سیٹنگز ری سٹور کر لیتی ہے۔

بس اتنی ساری مرد کہانی ہے۔
(منقول)
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پیر، 4 فروری، 2019

بچپنا ۔ بچپن کے کھیل مڈ سلائیڈ

آج چم چم کو سکول لے جاتے وقت اُس کے سوال پر ۔
 "آوا" آپ بچپن میں کیسے کھیل کھیلتے تھے ؟ " یہ وڈیو دکھائی ۔

 " واٹر سلائیڈ" وہ بولی " لیکن یہ تو مٹی پر کر رہے ہیں " 
جب میں نے بتایا کہ ہمارے وقت ، سلائیڈ ہوتی تھی مڈ سلائیڈ ہم بناتے تھے ۔
  تو پوچھا ۔" آپ کی ماما کپڑے گندے کرنے پر نہیں مارتی تھیں؟ "۔
" جب ہم گھر جاتے تو نہ ہم گندے ہوتے اور نہ ہمارے کپڑے ! 
" وہ کیسے ؟ " اُس نے پوچھا ۔
" وہ اِس طرح کہ اس طرح کے تالاب میں ہم اپنے ملیشیا کپڑے دھوتے اور نہا کر گیلے پہن لیتے وہ سوکھ جاتے تو ہم گھر جاتے تھے۔ "
 " ھاؤ امیزنگ " وہ بولی ۔ 
" اینڈ ایڈونچرس ٹو " میں بولا ۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔