Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 5 اپریل، 2022

نمّو اور خدمت خلق

 نمّو  میں  خدمت خلق کا جذبہ ،1957 سے  اُس کی والدہ اور والد کا پیدا کردہ ہے ۔ جو  اُس میں متفقین کوایک رسالہ " ترجمان القرآن" پہنچانے کی ذمہ داری کے سبب بنا ۔ نّمّو کو اچھی طرح یاد ہے کہ اُس کے ابا نے اُسے ایک میرون رنگ کا کوٹ  ٹیلر چاچا سے سلوا کر دیا ، جو نوشہرہ کی  سردیوں میں دن رات پہنا کرتا تھا ۔ ابا،   ہر اتوار کو اُسے  اور آپا کو شہر میں حکیم صاحب کے مطب سائیکل پر  لے جایا کرتے تھے ۔ آپا حکیم صاحب  کے گھر جاکر اُن کی بیٹیوں اور خالہ سے کھیلتی ، نمّو  مطب کی  بنچ پر بیٹھا  دواؤں کی خوشبو سونگھتا  یا بہاار سڑک پر گذرنے والے  ٹانگوں اور سواریوں کو دیکھتا ، ابا اور حکیم صاحب آپس میں گفتگو کرتے ، دوپہر کے وقت نمّو  کو کھانا کھانے کے لئے اوپر بھیجا جاتا جہاں وہ حکیم صاحب کے دو بچیوں  اور آپ کے ساتھ ایک رکابی میں ملکہ مسور اور  سوندھی چپاتیوں  سے کھانا کھاتا   اور نیچے آجاتا ، آتے وقت اخبار میں لپیٹ کرابا  ایک رسالہ لاتے ۔ 

پھر 1958 میں مارشل لاء لگنے کے بعد رسالہ چھپنا بند ہوگیا ۔ نومبر میں چھوٹی بہن رانی  پیدا ہوئی۔ تو نمّو،  چپاتی سکیم کی طرح رسالہ سکیم میں شامل ہو گیا ۔ آپا اور اور نمّو پیدل گھر سے نکلتے  لال کرتی سے گذرتے ، کسی کراس کرتے  جاتے ، بازار میں حکیم صاحب کے مطب پہنچتے ۔ آپا اوپر گھر چلی جاتی پھر ہم دونوں بہن اور بھائی  ملکہ مسور سوندھی چپاتیوں کے ساتھ کھاتے اور پھر حکیم صاحب نمو کے کوٹ کی پیٹھ پر اندر کی طرف امی کی بنائی ہوئی جیب میں ایک رسالہ سلیقے سے رکھتے    نمّوواپس کوٹ پہنتا اور آپا کے ساتھ گھر واپس آجاتا ۔پھر یہ رسالہ نمّو دوسرے چچاؤں کو پہنچاتا اور پڑھنے کے بعد واپس  کوٹ کی جیب میں رکھ کر لے آتا ۔

نمّو کے فہم کے مطابق ، ملت ابراھیم حنیف پراجیکٹ اُس کی امی نے رکھی وہ ساتھ کواٹروں میں رہنے والی ایک خالہ کو کپڑے سینا سکھایا کرتی تھیں ۔ نمّو کی امی  اپنی سنگر مشین سے سلائی ، کروشیا سے خوبصورت ڈیزائن بنانا ، چارسوتی کپڑے پر ڈی ایم سی دھاگے سے پھول بنانا ۔ اون سے سوئیٹر بنانا ۔ کھانے کی کئی چیزوں اور مٹھائیاں بنانے میں  مہارت  رکھتیں ۔اور ہاں نمّو بھی آہستہ آہستہ اِن سب کاموں کا سن سن کر  اور دیکھ ماہر ہوتا گیا ۔
امی نے جب تک عینک نہیں لگی ۔ بہت سی خواتین کو سلائی کڑھائی سکھائی ۔ اُن کے یہ پراجیکٹ نمّو کے تحت الشعور میں بیٹھتے گئے ۔ یہی وجہ ہے کہ نمّو ہر وہ کام کر سکتا ہے ۔ جو دوسرا انسان کر سکتا ہے ۔ چنانچہ نمّو نے YES  کی بنیاد رکھی ۔

 جس کے تحت ، نمّو نے نوجوانوں کے روزگار ۔ تعلیم اور ماحول کو بہتر بنانے کے پروگرام شروع کئے ۔

 یہ سب نمّو نے اپنے اور واجب ہونے والے  خمس  سے کئے جو وہ بلاوقفہ اپنی آسان کمائی(  غنم) یعنی پنشن و متفرقات سے نکالتا  رہتا ہے۔ 

  وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّهِ وَمَا أَنزَلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ[8:41] ‎ 

بوڑھے کے نزدیک خرگوشوں کے وفات پانے سے پروگرام فیل نہیں ہوا بلکہ بوڑھے کو یہ فہم دے گیا کہ کے اشیائے خوردنی کے تمام پراجیکٹس ہر نوجوان نہیں کر سکتا سوائے شوق رکھنے والوں کے ۔ 

قرآن فہمی کے کئی دوستوں سے بوڑھے کا رابطہ ہے جو ، پاکستان کو ریاستِ مدینہ بنانے کے خواب دکھاتے ہیں ، جن کی ابتداء غلام احمد پرویز نے کی ۔ ریاستِ مدینہ کی کشید ملائیت نے ایرانی کُتب لکھنے والوں نے کی - اور اُس کا نشہ اتنا تیز بہدف بنایا کی نوجوان ذہن بھی مسموم ہو گیا ۔یوں غریب غریب تر ہوتے گئے اور ملائیت امیر تر ۔

 ضَرَبَ اللّهُ مَثَلاً عَبْدًا مَّمْلُوكًا لاَّ يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ وَمَن رَّزَقْنَاهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ يُنفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَجَهْرًا هَلْ يَسْتَوُونَ الْحَمْدُ لِلّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ [16:75]

 یوں    اب بھی          کاسہ ءِ گدائی لے کر پھرنے والا  عبد مملوک ہے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

٭ -  گھریلو ملازمین برائے فوجی افسراں 

بوڑھے نے  ایسے کئی پراجیکٹ شروع کئے۔جن میں،   

  چوزہ بانی/مرغ بانی  ۔

باغبان اور کسان ۔

  مقامی خرگوش پالنے کا تربیتی پروگرام تھا ۔  

لیکن اُس سے پہلے مستری بابا مشہور ہوا ۔

 ٭٭٭٭٭٭ ٭٭٭٭٭٭

٭۔ بوڑھے کا ایک اور سوشل ورک  ۔

٭۔ملت ابراہیم پراجیکٹس

٭۔ سلائی مشینوں کی خریداری 

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔