Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 24 فروری، 2021

وزیر اعظم پاکستان کے نام ایک خط

 آل پاکستان پنشنرز کے لئے بنائی گئی ایسوسی ایشن کی جہد و جہد ۔ 

٭٭٭٭وزیر اعظم کے نام ایک خط ٭٭٭٭٭

 



٭٭٭٭٭٭٭ ٭٭

آل پاکستان پنشنرز کے لئے بنائی گئی ایسوسی ایشن کی جہد و جہد ۔ 

٭- پہلی میٹنگ

٭- دوسری میٹنگ

٭۔تیسری میٹنگ

٭۔آل پاکستان پنشنرز ملکی خزانے پر بوجھ ہیں ۔  

جمعرات، 18 فروری، 2021

میٹنگ 19 فروری 2021

آل پاکستان پنشنرز کے لئے بنائی گئی ایسوسی ایشن کی جہد و جہد ۔ 

٭- پہلی میٹنگ

٭-دوسری میٹنگ

  ٭٭٭٭تیسری میٹنگ  کی کاروائی ٭٭٭٭٭

 19 فروری 2021  کو شام  3 بجے رانا محمد اسلم خان نے میٹنگ کا اہتمام کیا ۔ جس میں 35 ممبران نے شرکت کی ۔ میٹنگ کا باقاعدہ آغاز  نامزد چیئرمین    جناب سید  حفیظ سبزواری  کی اجازت سے ہوا ۔جناب رانا صفدراقبال نے تلاوتِ کلام پاک  سنائی اوردعا کی کہ اِس میٹنگ میں ہونے والے فیصلے اتحاد کی برکت سے کامیابی کی منزل چھوئیں ۔
نامزد  جنرل سیکریٹری   نے   مورخہ 15 فروری 2021 کو ہونے والی میٹنگ کی کاروائی پڑھ کر سنائی  اور میٹنگ میں ہونے والے فیصلوں سے ممبران کو آگاہ کیا  -
اِن فیصلوں کی تائید سید قائم عباس نے کی اوردوسری تائید   راناصفدر اقبال  نے کی جو کثرتِ رائے سے منظور کی ۔
ممبران نے مختلف آراء دیں جو کم و بیش وہی تھیں جو 15 فروری 2021 کی میٹنگ میں دی گئیں ۔ جو نئی تھیں وہ درج ذیل ہیں :
اِس میٹنگ میں درج ذیل نکات پنشنرز کی ویلفیئر کے لئے پیش کئے گئے ۔
1- سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے 25 فیصد اضافے کے ساتھ ہی پنشنرز کی  پنشن میں بھی 25 فیصد پنشن کا اعلان کیا جائے ۔
2- تمام پنشنرز کو بناویلنٹ فنڈ اور گروپ انشورنش کی رقم فوراً اداکی جائے ۔
3- جن محکموں نے اپنے ملازمین کو ابھی تک پنشن نہیں دی ، اُن کو فوراً پنشن ادا کرنے کا پابند کروایا جائے ۔
4-اِس کے باوجود کہ تمام ملازمین نے ایک جیسی ملازمت پر تندہی اور جانفشانی سے ملازمت کی ہے ،لیکن ایک ہی گریڈ کے مختلف سالوں میں ریٹائر ہونے والے ملازموں کی پنشنز میں  بہت زیادہ فرق ہے ، یہ فرق دور ہونا چاھیئے ۔  
5- مختلف محکموں کے پنشن کے قوانین میں فرق ہے ، گو کہ اِن قوانین کو ایک جیسا نہیں بنایا جاسکتا ، لیکن مہنگائی تو سب پنشنرز پر یکساں  دباؤ ڈالتی لہذا اِس تفریق کو دور کیا جائے ۔
6-مختلف کارپورشنوں کے پنشنرز کے پنشن کے معاملات پر بھی غور کیا جائے ۔
7-ایک فوجی اپنے ٹریننگ سنٹروں اوربعد دی جانے والی تربیت سے بہترین  منتظم ، ٹیکنیشن ، انجنیئرنگ سپروائزر ، میڈیکل سٹاف ، استاد  بنتے ہیں لیکن 70 فیصد   40 سال سے 50 سال کی عمر میں کلر سروس کی مدت پوری کرنے کے  بعد ریٹائر ہوجاتے ہیں – اور پنشن کی مد میں ملنے والی رقم کسی نوسر باز کے ہاتھوں گنوا بیٹھتے ہیں اور اُس کے بعد ، ملازمت کی تلاش میں دھکے کھاتے ہیں ۔ اِس کا  حل یہ تجویز کیا جاتا  ہے کہ مختلف آفات کے وقت سول انتظامیہ فوج سے مدد لیتی ہے ۔ اگرحکومت نیشل سروس کوربنائے اوراُس میں یہ تربیت  یافتہ سپاہی شامل کر دیئے جائیں اور اُنہیں اپنے اپنے علاقوں کی سول انتظامیہ کے ساتھ منسلک کردیا جائے  ۔تو اِس سے پاکستان کی تربیت یافتہ  افرادی قوت بڑھ سکتی ہے اور ہمیں ہنگامی صورتِ حال سے نپٹنے کے لئے ضلعی سطح پر بہترین  ملٹری قوانین کے تابع  تربیت یافتہ، منتظم ، ٹیکنیشن ، سول ورکس کے ماہر، میڈیکل سٹاف  اور ٹیچرز مل سکتے ہیں ۔جو پاکستان کے تباہ حال انفرا سٹرکچر کو دوبارہ بحال کرسکتے ہیں کیوں کہ وہ حاضر سروس سول آرمڈ   فورسز کے جوانوں کی طرح ملٹری قوانین کے تابع ہوں گے ۔
8- جناب راجہ غلام جیلانی نے بتایا کہ اُن کا تعلق پی آئی اے کے شعبے سے ہے ۔ پی آئی اے میں پنشن کے بارے کافی قانونی سقم موجود ہیں ، جن کے لئے وہ بذاتِ خودایک پٹیشنر ہیں ۔ خیر آمدن بر سر مقصد اسوقت DGM پینشن کو 6لاکھ پچاس ہزار روپے پر پینشن فنڈ سے ملازم رکھا ہوا ہے.جو ایک ماہ کی پینشن گول کرنے پر تلا ہوا. اپنے کہتے ہیں کہاں لکھا ہوا ہے کہ پینشن پہلی تاریخ کو ملے گی جبکہ PIA رولز کے مطابق پنشن پہلی تاریخ کو ہی ملنا چاھیئے ۔18000 پنشنرز اور بیوائیں شدت سے پہلی تاریخ کو پنشن کا انتظار کرتی ہیں ۔ آل پاکستان پنشنر ایسوسی ایشن کے عہدیداران کو ہماری مدد کرنا چاھئیے ۔
9-صوبیدار شمس چترالی کے بتایا کہ فوج کے ہم رکاب بارڈر پر ڈیوٹی کرنے  اور مینوئل آف ملٹری لاء کی تلوار نیچے حکومتِ پاکستان کے استحکام کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے باوجود اُن کی پنشن اور فوج میں کام کرنے والی کی پنشن میں دُگنا فرق ہے ۔ یہاں تک کہ فوج میں جوانوں کا کھانا پکانے پر  بھرتی کئے گئے لانگری کی تنخواہ و پنشن  ، سول آرمڈ فورسز کے سپاہی سے زیادہ ہوتی ہے ۔اِس فرق کو تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ ختم کیا جائے ۔  جب ہم فوجیوں کے ساتھ نادیدہ دشمنوں کے مقابلے میں زخمی ہوتے ہیں تو ہمارا ملٹری ہسپتال میں علاج نہیں ہوتا-ہمارا بھی ملٹری ہسپتالوں میں علاج کروایا جائے نیز ہم 2017 سے ضرب حزب میں پاکستان آرمی کے شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں ہمیں یکم جولائی 2017 سے الاؤنس دیا جائے ۔
10- ہمیں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ایک ملک گیرہڑتال کرنا چاھئیے تا کہ حکومت کے ایوانوں میں پنشنرز کی گونج بھی سنی جاسکے ۔
11-ممبران نے تجویز پیش کی کہ 22 فروری کو 12 بجے دن  پریس کانفرنس میں شریک ہونے والے ممبران ایک علامتی ہڑتال ضرور کریں ۔
12- جناب صفدر اقبال اوررانا محمد اسلم نے تجویز پیش کی کہ  ایسوسی ایشن کو چلانے کے لئے فنڈ کی ضرورت پیش آئے گی جس کے لئے رضاکارانہ طور پر ممبران اپنی حیثیت کے مطابق فنڈ دیں  کیوں کے پریس کانفرنس کےلئے فیس اورعلامتی  ہڑتال کے لئے ہمیں بینر بنوانے پڑیں گے ۔
13-آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے جناب سید حفیظ سبزواری کو بطور چیرمین نامزد کریں اورایک متفقہ پینل  نامزد کیا جائے   تاکہ صحافیوں کے سوالات و جوابات کو احسن طریقے سے اور وضاحت سے دیئے جاسکیں – لیکن اُس سے پہلے آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن  میں زیادہ سے زیادہ ممبر بنائے جائیں ۔ اور اِس کے لئے کوئی علامتی فیس کم از کم 100 روپے مقرر کی جائے اور اگر کوئی ممبراپنی مالی حیثیت کے مطابق کوئی ڈونیشن دینا چاھتا ہو وہ بھی قبول کیا جائے ۔
14- صفدراقبال صاحب نے تجویز دی کہ جب تک  آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن  کا رجسٹر ہونے کے بعد اکاؤنٹ نہیں کھلتا تو رقم کِس اکاؤنٹ میں رکھی جائے گی اور کو ن رقوم کی بطور امانت  وصولی کی ذمہ  داری قبول کرے گا ، جس کے لئے عارضی طور پر بنک اکاؤنٹ ، ایزی  پیسہ اکاونٹ اور جاز اکاونٹ کی ضرورت ہوگی تاکہ ، ممبر شپ فیس  مبلغ 100 روپے ممبران آسانی سے بھجواسکیں – جو ایک جانگسل کام ہوگا

 15- میجر(ر) نعیم الدین خالد نے تجویز پیش کی چونکہ اُن کی پنشن کے علاوہ  کوئی آمدن نہیں ، لہذا اُن کے نیشنل بنک آف پاکستان کے علاوہ ، دیگر بنکوں میں بچوں کی طرف سے فیملی سپورٹ کے لئے بھجوائی جانے والے میزان  بنک اورالائیڈ بنک کے اکاونٹ کے علاوہ اُن کے ذاتی خرچے کا اکاؤنٹ سمٹ بنک میں موجود ہے ۔ جس میں 15563 روپے اور 91 پیسے موجود ہیں – یہ رقم وہ ایسوسی ایشن کو بطور ڈونیشن دینے کے لئے تیار ہیں ۔ نیز اُن کا ایک ایزی پیسہ اکاونٹ   03365500208موجود ہے جس  کو اُنہوں نے ضرورت مند  فوج سے منسلک افراد کی مدد کےلئے بنایاہے ، اُس میں ممبران اپنی رقوم بھیج سکتے ہیں ، نیز وہ اپنے جاز کے موبائل نمبرپر جاز کیش اکاؤنٹ بھی کھول لیں گے ۔

میٹنگ کے اختتام پر  نامزد چیئرمین سید حفیظ سبزواری نے   مندرجہ ذیل فیصلے کئے  :

1-  پروفیسر قاسم مسعود ۔سید قائم عباس ۔ مصطفیٰ حسین ، چیف وارنٹ آفیسر (ر) محمد توقیر ہاشمی   ۔ رانا محمد اسلم ،راناصفدر اقبال  ،رانا اشفاق احمد   اور     میجر ریٹائرڈ نعیم الدین خالد  ، پر مشتمل نامزد پینل بنایا گیا اور اِنہی ممبران کو سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی / کونسل کا رکن  نامزد کیا گیا ۔

 میجر(ر) نعیم الدین خالد کی ، اُن کے سمٹ بنک ، ایزی پیسہ اکاؤنٹ اور جاز کیش اکاؤنٹ  کے عارضی استعمال کی  تجویز ،و سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی  نے منظور کر لی گئی ۔
3- چیئرمین سید حفیظ سبزواری نے  ممبران سے وصول کی گئی رقم کے حساب کی ذمہ دار ی کے لئے ، چیف اکاؤنٹنٹ صفدراقبال اوررانا محمد اسلم  اورمیجر(ر) نعیم الدین خالد   کو اکاؤنٹ مینیجمنٹ کمیٹی کا ممبر بھی نامزد کیا ۔


4- بنیادی مہم ،” تنخواہوں کو پنشن کے ساتھ بڑھاؤ “ کی سلوگن  کی منظوری کی حتمی ڈیڈ لائن 5 مارچ 2021 رکھی گئی ۔
5-پریس  کانفرنس سے پہلے عارضی علامتی ہڑتال کے لئے ، بینر بنوانے کی ذمہ  داری  مصطفیٰ حسین ممبر  سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کو تفویض کی گئی ۔
6-   آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن کے لوگو ، لیٹر پیڈ کی  ڈیزائینگ ، چھپائی اور مہریں بنوانے کی اجازت دی گئی ۔ جو ممبر  اپنے تعارف کے لئے  وزٹنگ کارڈ چھپوانا چاہتا ہے وہ یہ کام ذاتی رقومات سے کرے گا ۔
7-   آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن کے ممبران و متفقین سے وصول ہونے والی رقومات  کسی بھی صورت میں  ، چائے پانی و دیگر غیر ضروری لوازمات پر استعمال نہیں کی جائیں گی -
8- ممبر  ان سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی  و     آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن کے  عہدے داران رضاکارانہ بنیاد پر منتخب کئے جائیں اُنہیں کسی قسم کا محنتانہ یا سفری اخراجات و رہائش فراہم نہیں کی جائے گی -
9-  آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن کی رجسٹریشن کی ذمہ داری   ، میجر(ر) نعیم الدین خالد   اور صفدر اقبال کو سونپی گئی ۔

 10-  آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن  کے ممبران کی پنشن  میں حکومتِ پاکستان  سے اضافے کی منظوری کے بعد ، پاکستان کے پنشنر کے تمام مسائل کے لئے  ،  حکومت پاکستان کے تمام اداروں ، بشمو ل پاکستان ڈیفنس فورسز  اور  وزارتِ دفاع کے ماتحت    قائم سول آرمڈ فورسز  ، اور وہ تمام  ادارے جو اپنے  ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن ،گریجوئیٹی ، گروپ  انشورنس   اور بناولنٹ     جیسی سہولت دیتے ہیں ، اُن کے قوانین  کو ریٹائر ڈ ملازمین کے لئے  بہتر بنانے کے لئے تمام مساعی بروئے کار لائی جائیں گی -

میٹنگ میں شامل ہونے والے تمام ممبران نے کثرت رائے سے تمام تجاویز قبول کیں اور دعائیہ کلمات کے بعد ، ایک بھرپور عزم کے ساتھ میٹنگ اختتام پذیر ہوئی ۔   جناب اسلم رانا صاحب نے  میٹنگ میں شامل تمام حاضرین کی چائے اور دیگر لوازمات سے تواضع کی ۔ جس کا تمام ممبران اور حاضرین نے خوش دلی اور بھرپور مسرت سے شکریہ ادا کیا اور اُن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے رزق میں برکت کی دُعائیں دیں ۔

سیکریٹری جنرل نے قلم بند کیا ۔

٭٭٭٭٭٭٭ ٭٭

آل پاکستان پنشنرز کے لئے بنائی گئی ایسوسی ایشن کی جہد و جہد ۔ 

٭- پہلی میٹنگ

٭- دوسری میٹنگ

٭۔تیسری میٹنگ  


 

 

منگل، 16 فروری، 2021

میٹنگ 15 فروری 2021


آل پاکستان پنشنرز کے لئے بنائی گئی ایسوسی ایشن کی جہد و جہد ۔ 

٭- پہلی میٹنگ

  ٭٭٭٭دوسری میٹنگ  کی کاروائی ٭٭٭٭٭

مختلف اداروں کے ریٹائرڈ پنشنرز کے ساتھ کوارڈی نیشنز اور اُنہیں موجودہ وقت میں اتحاد کی ضرورت سے روشناس کروانے کے بعد کوآرڈینیٹرز نے 12 فروری 2021 کو میٹنگ بلانے کا عندیہ دیا ، جس پرسید حفیظ سبزواری نے وٹس ایپ گروپ جو 12 فروری کو بنادیا گیا تھا   - جس پر تمام  ممبران کو اطلاع دے دی گئی  چنانچہ 15 فروری 2021  کو شام  3 بجے رانا محمد اسلم خان نے میٹنگ کا اہتمام کیا ۔ جس میں مندرجہ ذیل ممبران نے شمولیت کی :
سید حفیظ سبزواری - وفیسر قاسم مسعود ۔سید قائم عباس ۔چیف وارنٹ آفیسر (ر) محمد توقیر ہاشمی   ۔ سید حفیظ سبزواری ، میجر ریٹائرڈ نعیم الدین خالد  ،  راناصفدر اقبال  ،رانا اشفاق احمد  ،  پیٹی آفیسر (ر) محمد زمان خان ، حوالدار(ر)  شہزاد بلوچ، تنویر حسن ، ظفر اقبال ، احسان خان  ۔ مصطفیٰ حسین  اور
اِس میٹنگ میں درج ذیل نکات پنشنرز کی ویلفیئر کے لئے پیش کئے گئے ۔
1- سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے 25 فیصد اضافے کے ساتھ ہی پنشنرز کی  پنشن میں بھی 25 فیصد پنشن کا اعلان کیا جائے ۔
2- تمام پنشنرز کو بناویلنٹ فنڈ اور گروپ انشورنش کی رقم فوراً اداکی جائے ۔
3- جن محکموں نے اپنے ملازمین کو ابھی تک پنشن نہیں دی ، اُن کو فوراً پنشن ادا کرنے کا پابند کروایا جائے ۔
4-اِس کے باوجود کہ تمام ملازمین نے ایک جیسی ملازمت پر تندہی اور جانفشانی سے ملازمت کی ہے ،لیکن ایک ہی گریڈ کے مختلف سالوں میں ریٹائر ہونے والے ملازموں کی پنشنز میں  بہت زیادہ فرق ہے ، یہ فرق دور ہونا چاھیئے ۔  
5- مختلف محکموں کے پنشن کے قوانین میں فرق ہے ، گو کہ اِن قوانین کو ایک جیسا نہیں بنایا جاسکتا ، لیکن مہنگائی تو سب پنشنرز پر یکساں  دباؤ ڈالتی لہذا اِس تفریق کو دور کیا جائے ۔
6-مختلف کارپورشنوں کے پنشنرز کے پنشن کے معاملات پر بھی غور کیا جائے ۔
7-ایک فوجی اپنے ٹریننگ سنٹروں اوربعد دی جانے والی تربیت سے بہترین  منتظم ، ٹیکنیشن ، انجنیئرنگ سپروائزر ، میڈیکل سٹاف ، استاد  بنتے ہیں لیکن 70 فیصد   40 سال سے 50 سال کی عمر میں کلر سروس کی مدت پوری کرنے کے  بعد ریٹائر ہوجاتے ہیں – اور پنشن کی مد میں ملنے والی رقم کسی نوسر باز کے ہاتھوں گنوا بیٹھتے ہیں اور اُس کے بعد ، ملازمت کی تلاش میں دھکے کھاتے ہیں ۔ اِس کا  حل یہ تجویز کیا جاتا  ہے کہ مختلف آفات کے وقت سول انتظامیہ فوج سے مدد لیتی ہے ۔ اگرحکومت نیشل سروس کوربنائے اوراُس میں یہ تربیت  یافتہ سپاہی شامل کر دیئے جائیں اور اُنہیں اپنے اپنے علاقوں کی سول انتظامیہ کے ساتھ منسلک کردیا جائے  ۔تو اِس سے پاکستان کی تربیت یافتہ  افرادی قوت بڑھ سکتی ہے اور ہمیں ہنگامی صورتِ حال سے نپٹنے کے لئے ضلعی سطح پر بہترین  ملٹری قوانین کے تابع  تربیت یافتہ، منتظم ، ٹیکنیشن ، سول ورکس کے ماہر، میڈیکل سٹاف  اور ٹیچرز مل سکتے ہیں ۔جو پاکستان کے تباہ حال انفرا سٹرکچر کو دوبارہ بحال کرسکتے ہیں کیوں کہ وہ حاضر سروس سول آرمڈ   فورسز کے جوانوں کی طرح ملٹری قوانین کے تابع ہوں گے ۔
8- ہمیں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ایک ملک گیرہڑتال کرنا چاھئیے تا کہ حکومت کے ایوانوں میں پنشنرز کی گونج بھی سنی جاسکے ۔

میٹنگ کے اختتام پر مندرجہ ذیل فیصلے کئے گئے :
1- ہمارا بنیادی اورپہلا مقصد ، 25 فیصد پنشن کے اضافے کا تنخواہوں کے ساتھ منسلک کروانا ہے -
2- ہم اَمن پسند ، بالغ نظر ، سنجیدہ ، بردبار اور اپنے مقاصد کے حصول کے لئے گُفت و شنید پر یقین رکھنے والے پنشنرز ہیں ۔ لہذا حکومت کے ایونوں تک اپنی آواز پہنچانے کا واحد ذریعہ علامتی ہڑتال اورپریس کانفرنس ہے ۔ کیوں نہ ہم پریس کانفرنس کی ایک متفقہ تاریخ منتخب کرلیں  اورمصطفیٰ حسین صاحب کو اِس کی کوآرڈینشن کا پریس کلب انتظامیہ سے مورخہ 22 فروری 2021  کو کہیں ۔
3- آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے جناب سید حفیظ سبزواری کو بطور چیرمین نامزد کریں اورایک متفقہ پینل بنایا جائے تاکہ صحافیوں کے سوالات و جوابات کو احسن طریقے سے اور وضاحت سے دیئے جاسکیں – لیکن اُس سے پہلے آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن  میں زیادہ سے زیادہ ممبر بنائے جائیں ۔
4- آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے  میجر  (ر) محمد نعیم الدین خالد کو جنرل سیکریٹری کی ذمہ دار سونپی گئی ۔
5-پریس کانفرنس کے انقاد سے پہلے ، سوشل میڈیا پر ملک گیر معلومات پھیلائی جائے جس کی پوسٹ بنانے کی ذمہ داری صرف اورصرف  سید حفیظ سبزواری کی ہوگی جو بطور چیئرمین اِسے قانونی نکتہ نظر سے بنائیں گے اور ہر قسم کی غلط معلومات پھیلانے والے اور آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن کے مقصد کو سبوتاژ کرنے والے ممبر کو وٹس ایپ سے فوراً نکالیں اور بلاک کریں ۔
میٹنگ میں حاضر ممبران نے اِن تینوں فیصلوں کی بھرپور تائید کی اوراگلی میٹنگ  کے لئے  جو 19 فروری 2021 کو ہونا طے پائی کہ زیادہ سے زیادہ ممبران لانے کی  ہامی بھری ۔
دعائیہ کلمات کے بعد ، ایک بھرپور عزم کے ساتھ میٹنگ اختتام پذیر ہوئی ۔

سیکریٹری جنرل نے قلم بند کیا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

آل پاکستان پنشنرز کے لئے بنائی گئی ایسوسی ایشن کی جہد و جہد ۔ 

٭- پہلی میٹنگ

٭ -دوسری میٹنگ
٭۔تیسری میٹنگ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 

ہفتہ، 13 فروری، 2021

بیٹی کے ساتھ بندھن ختم نہیں ہوتا۔

ایک حاملہ خاتون نے اپنے شوہر سے پوچھا ! ہم اگلے دو مہینوں میں ماں باپ بننے والے ہیں
بولی ،  اگر بیٹا ہوا، تو کیا منصوبہ ہوگا؟
شوہر نے جواب دیا۔

 میں اس کو تمام روزمرہ زندگی کی روایات سکھاؤں گا، کھیل، ریاضی، لوگوں کی عزت اور وغیرہ وغیرہ۔
خاتون نے پھر پوچھا۔
اگر بیٹی ہوئی تو؟
شوہر نے جواب دیا۔

میں اسے کچھ نہیں سکھاؤں گا، بلکہ میں اس سے خود سیکھوں گا۔
میں غیرمشروط محبت سیکھوں گا، میری بیٹی یہ کوشش کرے گی کہ وہ میری پرورش اپنے ایک مخصوص زاویہ نگاہ سے کرے۔
بالوں کی کنگھی کرنے سے لیکر ڈریسنگ تک 

ابتداءِ گفتگو سے لیکر انتہاءِ گفتگو تک 
نیز کہ وہ میرے ہر کام کو اپنی زاویہ نظر سے تربیت کرے گی۔
وہ میرے لیے دوسروں سے لڑے گی، مباحثہ کرے گی، اس کی خوشی اور غم میری طبیعت پہ منحصر ہوں گے۔

خاتون نے پھر پوچھا ۔

کیا بیٹا یہ سب کچھ نہیں سکھائے گا آپ کو؟
شوہر نے جواب دیا۔

بیٹے میں یہ ساری خصوصیات ڈالی جاتی ہے، لیکن بیٹی ان خصوصیات کیساتھ پیدا ہوتی ہے۔
خاتون نے پوچھا۔

لیکن بیٹی تو ہمارے ساتھ ہمیشہ نہیں رہے گی؟
شوہر نے جواب دیا۔

 بیٹی ہمارے ساتھ جسمانی طور پر نہیں رہے گی، لیکن روحانی طور پروہ ہرلمحہ ہمارے ساتھ ہوگی۔
یہ بات کہہ کر شوہر نے اپنے مکالمے کو ختم کیا۔

 بیٹی کے ساتھ بندھن ختم نہیں ہوتا۔

٭٭٭٭

جمعہ، 12 فروری، 2021

میٹنگ 12 فروری 2021

آل پاکستان پنشنرز کے لئے بنائی گئی ایسوسی ایشن کی جہد و جہد ۔ 

  ٭٭٭٭پہلی  میٹنگ  کی کاروائی ٭٭٭٭٭

ہر روز کی بڑھتی ھوئی مہنگائی ، جس نے پاکستان کے سارے شہریوں بلخصوص  تنخواہ دار طبقوں  کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے جس وجہ سے  مورخہ 10 فروری 2021  کو فیڈرل اور صوبائی ملازمین سمیت ریٹائرڈ ملازمین نے ڈی چوک پر احتجاج کیا ۔جس میں حکومت پاکستان کی طرف سے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی گئی ۔ پوری دنیا نے نیشنل براڈ کاسٹ میڈیا پی یہ منظر دیکھے  ۔ لیکن جس  بے دردی سے حکومتی نمائیندوں نے اپنے حقوق مانگنے والے  بوڑھے اور جوان شہریوں  پر آنسو گیس پھینکی  جس نے علاقے کو دھویں کے بادلوں سے بھر دیا  جو کسی جنگ کا منظر پیش کررہا تھا اور کچھ لوگوں کو پولیس نے گرفتار بھی  کیا – اپنے حقوق مانگنے    پر حکومت کی اِس غیر اخلاقی کوششوں سے پریشان ہوگئے ۔ کیوں کہ جلاؤ ، گھیراؤ، ماردو ، تباہ کردو ، کچل دو  کی سیاست کرنے والے عوامی منتخب نمائیندوں نے پر اَمن احتجاج کو پوری دنیا کے لئے ایک سوالیئہ   نشان بنا دیا ۔پاکستان بھر سے پرنٹ میڈیا ، ٹیلیویژن اور عوام کے ردعمل نے گورنمنٹ کو قائل کیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر اپنے حقوق مانگنے والوں کی شکایت سنے اور اُن کی تنخواہیں بڑھانے کا اعلان کرے ۔
11 فروری کو وفاقی وزرا اور سرکاری ملازمین کے نمائندوں کے مابین مذاکرات ہوئے ۔ جس میں ریٹائرڈ ملازمین کے نمائندوں کو سہواً یا جان بوجھ کر نظر انداز کیا اور اُنہیں   شامل نہیں کیا گیا ۔  سرکاری ملازمین کے جن نمائندوں نے مذاکرات کیے انہوں نے اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیے ریٹائرڈ ملازمین کا ذکر تک نہ کیا اور نہ ہی مذاکراتی کمیٹی میں ریٹائرڈ ملازمین کا کوئی نمائندہ شامل کیا گیا ۔جس پر جڑواں شہروں   ( راولپنڈی اوراسلام آباد ) کے ریٹائر ڈ ملازمین نے چیدہ چیدہ لوگوں  سے مشورے کئے  اور قائل کیا کہ ہمیں بھی اپنے مطالبات حکومت کے سامنے پیش کرنے چاھئیں  ورنہ  تمام پنشنرز  کو ر بجٹ میں کسی نہ کسی بہانے نظرانداز کر دیا جائے گا  ، چنانچہ سب کے مشورے سے یہ طے پایا کہ  ملک بھر میں ریٹائرڈ ملازمین کی بڑی تعداد موجود ہے  اور اُنہوں نے اپنی ایسوسی ایشنز اور سوسائیٹیز بھی بنائی اوررجسٹر کی ہوئی ہیں تو کیوں نہ اِن سب کو  ایک پلیٹ فارم پر متحدہ کرنے کے لئے کوئی تنظیم بنائی جائے  اور حکومت کو قائل کیا جائے کہ پنشنرز کو بھی  تنخواہ دار سرکاری ملازمین کے ساتھ شامل کیا جائے ۔ لہذا  اگلے دن تمام محکموں بشمول   بشمول ڈیفنس فورسز کے  ہم خیال ریٹائرڈ ملازمین کو دعوت دی گئی  تاکہ تمام پنشنرز کو اپنے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے ۔
  12 فروری 2021   کو ، تمام ریٹارئرڈ ملازمین  بشمول ڈیفنس فورسز کو اکٹھا کیا گیا اور اتفاقِ رائے سے  ، آل پاکستان پنشنرز ایسوی ایشن کی بنیاد رکھی گئی ۔جس میں شامل مندرجہ ذیل افراد نے رضاکارانہ افراد نے  اپنے طور پر زیادہ سے زیادہ افراد کو قائل کرنے اور ایک پلیٹ فارم پر لانے کی ذمہ داری سنبھالی ۔
پروفیسر قاسم مسعود ۔سید قائم عباس ۔چیف وارنٹ آفیسر (ر) محمد توقیر ہاشمی   ۔صوبیدار شمس چترالی ، پیٹی آفیسر (ر) محمد زمان خان ، رانا محمد اسلم خان ۔سید حفیظ سبزواری ، میجر ریٹائرڈ نعیم الدین خالد ،میجر (ر) حبیب خان ایڈوکیٹ ،  راناصفدر اقبال  ،رانا اشفاق احمد  ، حوالدار(ر)  شہزاد بلوچ، تنویر حسن ، ظفر اقبال ، احسان خان  ۔ مصطفیٰ حسین  اورسید حفیظ سبزواری کو بطور چیف کوارڈی نیٹر   اسلام آباد و راولپنڈی چنا گیا ۔  میٹنگ کی کاروائی کو ضابطہءِ تحریر میں لانے کی ذمہ داری کے   میجر  (ر) محمد نعیم الدین   خالد نے خود کو والنٹیئر کیا  ۔
پہلی میٹنگ کے خاتمے کا اعلان ون پوائینٹ ایجنڈا 

  تنخواہوںاور پنشنوں کے 74 سالہ اشتراک کو کسی بھی طریقے سے ختم نہ کیا جائے اور تنخواہوں کے ساتھ پنشن بڑھانے کا  اعلان ہمیشہ اکٹھا کیا جائے ۔ 

اور اِس عہد کے ساتھ ، آل پاکستان پنشنرز ایسوی ایشن  کے  تمام پنشنرز  ممبرا ن اور نامزد افرانے کہ   کسی بھی صورت میں آل پاکستان پنشنرز ایسوی ایشن  کو سیاست ، تخریبی سرگرمیوں میں ملوث نہیں کریں گے  اور  پاکستان کے استحکام میں تندہی سے مشغول کسی بھی ادارے کی  آنچ پرحرف نہیں آنے دیں گے ۔ اور نہ ہی کسی ایسے کام میں ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم یا اُس کا نام استعمال کریں گے جو پاکستان کے  قوانین اور آئین کے خلاف ہو ۔
اللہ ہم سب پنشنرز کا حامی و ناصر ہو اور ہم سب کو شیطانی ، فسادی اور شری   خیالات  سے افراد سے بچائے ۔ آمین و ثم آمین
سیکریٹری جنرل نے قلم بند کیا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

آل پاکستان پنشنرز کے لئے بنائی گئی ایسوسی ایشن کی جہد و جہد ۔ 

٭- پہلی میٹنگ

٭ -دوسری میٹنگ
٭۔تیسری میٹنگ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 

 

 

 

 

 

 

منگل، 9 فروری، 2021

گنگناہٹ سے بیماریوں کی تشخیص

 انسانی عارضے ، رازداریاں ، مختلف گنگناہٹ سے سمجھنے والوں کے لئے اظہار اور معالجانِ ظرف کے لئے تشخیص: ۔
جیا جلے، جان جلے ،رات بھر دھواں چلے۔
بیماری: بخار ۔
من ڈولے میرا تن ڈولے ۔

 بیماری: چکر آنا 

بیڑی جلائی لے جگر سے پیا،جگر میں بڑی آگ ہے

 بیماری: ایسیڈیٹی ۔

تجھے یاد نہ میری آئی ،کسی سے اب کیا کہنا

 بیماری: یادداشت کمزور 

ٹپ ٹپ برسا پانی، پانی نے آگ لگائی۔

 بیماری: پیشاب میں جلن۔

 ہائے رے ہائے نیند نہیں آئے۔

 بیماری: بے خوابی ۔

جیا دھڑک دھڑک جائے۔

 بیماری: ہائی بلڈپریشر۔

 تڑپ تڑپ کے اس دل سے آہ نکلتی رہی۔

 بیماری: ہارٹ اٹیک ۔

بتانا بھی نہیں آتا چھپانا بھی نہیں آتا۔

 بیماری: بواسیر۔

 سہانی رات ڈھل چکی ہے نہ جانے تم کب آؤ گے۔

 بیماری: قبض

 اور آخر میں ۔ ۔ ۔ ۔ 

 

لگی آج ساون کی پھر وہ جھڑی ہے۔

 بیماری: ۔ پیچس۔

٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔