Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 25 مئی، 2021

31 مئی پاکستان کے تمام پنشنرز کا دن

 وفاقی بجٹ 2021/2022 میں پنشنرز کے لئے کوئی اضافی رقم نہیں رکھی گئی ۔ 

نیز ایک سیاست دان کی طرف سے مالیاتی بِل میں سب پنشنرز پر 10 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز نے وفاقی گورنمنٹ اور صوبائی گورنمنٹ کے ملازمین بشمول ڈیفنس فورسز و سول آرمڈ فورسز اور دیگر ریٹائرڈ ملازمین جو پنشن لیتے ہیں میں خوف و ھراس کی لہر دوڑا دی ہے ۔

 کم تنخواہ یافتہ ملازمین بشمو ل تمام پنشرز پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اُن کا بلبلا اُٹھنا بلا سبب نہیں ۔ 18 ویں ترمیم کے مطابق اگر وفاقی حکومت نے اپنے ریٹائرڈ فیڈرل ملازمین کے پنشن میں اضافہ بجٹ 2021/2022 میں نہیں کیا تو صوبائی حکومتیں، اِس کی آڑ میں اپنے بجٹ میں پنشز میں اضافہ نہیں کریں گی ۔ 

لہذا صوبائی ملازمین اپنے دھرنوں اور ہڑتالوں سے پنشن میں اضافے کے خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔

 چنانچہ اسلام آباد میں رہائش پذیر فیڈرل گورنمنٹ اور صوبائی گورنمنٹ کے تمام ریٹائرڈ ایمپلائز کو ،30 مئی کو اسلام آباد میں دھرنا دینا ہوگا !

 جس کے لئے متفقہ رائے سے اتوار 30 مئی کی تاریخ رکھی گئی ہے ۔

 اتوار اِس لئے کہ بوڑھے پنشنر نہیں چاہتے کہ اُن کے احتجاج اور درھرنے سے اسلام آباد کے رہائشیوں کو پریشانی ہو اور نہ ہی وہ حکومت کو آزمائش میں ڈالنا چاھتے ہیں ۔

وہ تو بس یہی چاہتے ہیں کہ حکومت وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کی طرح اُن کی پنشن میں بھی 25 فیصداضافہ کردے ۔

لیکن بعد میں اتوار کے بجائے سوموار 31 مئی یعنی ورکنگ ڈے میں  احتجا ہونا  قرار پایا  ۔

 

تو مجھے یہ بتایا جائے کہ پنشزز کا اپنے حق کے لئے آواز بلند کرنا غیر قانونی کیسے ہو سکتا ہے ؟ 

محمدﷺ نے بھی تو اللہ کا حکم بتایا ہے ۔

 لَّا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ ۚ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا - سورۃ النساء48

اللہ، برائی کے ساتھ کہے جانے والے بلند اقوال سے محبت نہیں کرتا ۔ سوائے اِس کے جس پر ظلم ہو ۔ اور اللہ تو سمیع اور علیم ہے۔

 اسلام آباد کی حدود کے 4 گھنٹوں کی مسافت پر رہنے والے جفاکش بوڑھے پنشنرز جو تبلیغ کے سلسلے میں 40 روز اپنے گھروں سے دور رہتے ہیں ، اُنہوں نے پہنچنے کا عندیہ دے دیا ہے ۔

 دھرنا طویل ہونے کی صورت میں اسلام آباد کے صاحب ثروت پنشنرز نے اُن کی میزبانی کے لئے پنشنرز تنظیموں کے عہدیداران سے انتظامات کے سلسلے میں رابطے کر لئے ہیں ۔ اسلام آبادآنے والے نیشنل پریس کلب ایف 6 ون کے سامنے ہائیڈ پارک میں جمع ہوں گے ۔


جہاں تمام پنشنرز کے سربراہ اور دیگر غیر سیاسی ، مگر فلاحی عمائدین پنشنرز کی تکا لیف اور اُن سے ملازمت اور ملازمت کے دوران کئے گئے حکومتی وعدوں اور اُن کی خلاف ورزی کو اجاگر کرنے کے لئے تقاریر کریں گے - ہمیں یقین ہے کہ پے اینڈ پنشن کمیٹی کی سفارشات جس میں پنشن کے اضافے کا نوٹیفکیشن شامل کروانے کا وعدہ کریں گے -

 یوں ہمارے پروگرام کے مطابق یہ دھرنا انشاء اللہ مغرب تک ختم ہوجائے گا وگرنہ دھرنے والے سہ روزہ اور ہفت روزہ حکومت کو تبلیغ کرنے کا پروگرام بنالیں گے ۔

 پنشنرز کو معلوم ہے کہ اُن کی یہ کوشش 25 فیصد پنشن بڑھوانے کے لئے آخری کوشش ہو گی ورنہ 6 جون کو ڈرافٹ بجٹ تیار ہونے کے بعد وہ آئیندہ ساری عمر روتے رہیں گے تاوقتِ کہ کوئی پنشنر ہمدرد حکومت زمامِ اقتدار نہیں سنبھال لیتی ۔ 

لیکن آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن کے تمام عہدیداران اور پنشنرز یہ امید کرتے ہیں کہ ریاستِ مدینہ کے اصولوں پر نئے پاکستا ن میں قائم ہونے والی حکومت بجٹ 2021/2022 میں پنشنرز کی اشک سوئی کرتے ہوئے ۔ پنشن میں اضافے کا اعلان کرے گی 

٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔