Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 20 جون، 2014

خواب جزیرے

"کائینات  کا وجود اور لاوجود" ، کے مصنف ،   بوآغا چنگوژی ، بغدادی  المعروف ابودوسامہ ،باب "تاویل الخواب" میں  رقم طراز ہیں ۔

خواب ، انسانی" کاش " کا حصول ۔
خوابوں کا تعلق  دو اقسام کی آوازوں سے ہوتا ہے ، جنھیں ہم پیغامات  سے موسوم کرتے ہیں ، یہ پیغامات اِ س کائینات میں آواز کی طرح  گردش کرتے ہیں ، ہماری آوازیں ، جونہی ہمارے دماغ میں پیدا ہوتی ہیں ، اُن کا خارجی سفر شروع ہوجاتا ہے ،  یہ سفر دو اطراف میں ہوتا ہے ، ایک  کائینات کے اطراف میں اور دوسرا انسانی جسم کے اطراف میں ، گو اِس کا ظہور ہماری لسان کی حرکت کا مظہر ہے ،لیکن ہمارا جسم بھی اِس کے سفر میں ساتھ دیتا ہے ۔  
ہمارے دماغ سے پیدا ہونے والی ، اِن آوازوں میں ہماری تمام زندگی کا حسن بنتا ہے ، اور اِن کی راہنمائی میں کام کرتے ہیں ، مثلاً ایک شخص نے عمدہ خوراک سے لطف اندوز ہونا ہے  ، لیکن اُس کی ایسا کرنے کی بساط نہیں ۔ اُس کے دماغ سے نکلنے والی یہ آواز ، یقیناً اُسے اِس عمدہ کھانے کی لذت سے لطف و اندوز کروا سکتی ہے ، اور وہ اتنا ہی لطف اُٹھا سکتا ہے ۔ کیسے ؟ خوابوں کی دنیا میں جاکر  ، اچھا کھانا ، اچھا پہنا ، اچھے گھوڑے کی سواری کرنا ، ماہر تیر انداز بننا  اور سب سے حسین عورت کی قربت سے لطف اُٹھانا ۔اُن آوازوں کی وجہ سے ہوتا ہے جو اُس کے دماغ سے کسی "حاضر و موجود "شئے  کو دیکھ کر پیدا ہوتی ہیں اور  کاش بن کر اِس کائینات میں پھیل جاتی ہیں اور پھر یہ کاش خواب میں ڈھل کر  اُسے حاصل ہوجاتی ہے ۔ یہ کاش کسی گذرے ہوئے  یا آنے والے  کی محفل سے بھی لطف اندوز کروا سکتی ہے ۔ لیکن اِس کاش میں وہ پوری قوت ہونا چاہئیے ، جو کسی "حاضر   و موجود" کے لئے اتنی درکار نہیں ۔

دوسری آواز کو ، کائینات کے مرکز ِ واحد ،  حتمی مرکز ، آواز کے نقطہ ء آغاز سے اول ،  جو لا مکاں ہے لا زوال ہے ، جو وجود نہیں اور لاوجود بھی نہیں ، لیکن ظاہر بھی ہے اور باطن بھی ، اُسے لفظوں سے حتمی طور پر سمجھا نہیں جاسکتا  لیکن الفاظ اُس کی  آواز (کُن)کو اپنے اوپر سوار کرکے  چہار  سو مہمیز کر دیتی ہے اور جہاں بھی کاش کی شدت موجود ہوتی ہے اُس میں جذب ہو کر  اُس کے خمیر کو لا مکاں  سے مکاں  میں لے آتی ہے ، اور ضروری نہیں کہ یہ مکاں ہماری آنکھوں کے سامنے ہو یہ اوجھل بھی ہوسکتا ہے ۔ لیکن اِس کا ظہور  حتمی ہے ۔

بشری زندگی میں ، اِس ماوائی آواز  کے اِس دنیا کے لئے دو اہم نقاط ہیں نقطہ ء آغاز اور نقطہ ءاختتام ، روح موجود ہے جو مرکز واحد کی کل  آواز  کا حصہ ہے ، اُس کا "سفر  ِ کُن " ( اِس دنیا میں خالد نعیم الدین ، کے لئے ایک معین وقت پر شروع ہوا اور ایک معین وقت پر، اِ س دنیا سے اُس کی واپسی ہے یعنی  جسم کی پیدائش و موت، روح کی نہیں  ) یعنی  " جا اور آ "     ۔
"جا "تو نہیں لیکن   "آ"  ، اُن سب ارواح کو معلوم تھا  جو کُن سےوجود ( لامکاں سے مکاں)  میں آئیں ۔ 

خواب اور تعبیریں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔
خواب میں یہ دیکھنا کہ میں فلاں وقت اِس دنیا سے واپس چلا جاؤں گا :
اِس دنیا سے واپسی کے لئے دماغ  میں  پیدا ہونے والی ، آوازِ کاش  کی شدت ، جب اِسے کائینات کے چاروں اطراف میں پھیلا دیتی ہے تو وہ  بشری زندگی میں کہیں  نہ کہیں اُس   آفاقی آواز کی ہم رکاب ہو کر ، اُس بشر کو اُ س آواز "کُن "کے دوسرے حصے  آگاہ کرتی ہے جو روح کو واپسی کا پیغام ہے ۔ ایسے بہت سے اِنسان ہیں جنھیں اپنی روح کی معین واپسی کی اطلاع ، بذریعہ خواب ہوجاتی ہے اور وہ لازماً واپس جاتی ہے ۔ لیکن اگر وہ واپس نہ جائے تو  ، پھر کیا ہوگا ؟ 
جس طرح جن شیاطین ہوتے ہیں اِسی طرح اِنس شیاطین بھی ہوتے ہیں۔
 
"جن شیاطین" ، اُن انسانوں کو منتخب کرتے ہیں جن سے اُنہوں نے اِنسانوں کو بہکانے کا کام لینا ہوتا ہے ، وہ اُن کی کاش میں اپنی آواز یعنی " وسوس"   شامل کر دیتے ہیں ،  اُن کو یقین دلاتے ہیں کہ ، اُن کی روح کی واپسی کا یہ وقت معین ہے ، لیکن جب اُن کی روح واپس نہیں ہوتی تو پھر وہ ،  ایک اور آواز اُن کے ہم رکاب کرتے ہیں ،

" تمھیں منتخب  کیا جاتا ہے ، اِس دنیا میں انسانوں کی ہدایت  کے لئے ,  جاؤ دنیا کے اِنسانوں کے دکھوں کے بوجھ کو اُن کے کندھوں سے اتارو ۔"

   اور پھر خوابوں میں  اُن کی  تربیت کروائی جاتی ہے ۔  



 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔