میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 30 مئی، 2020

تاڑ اور تاڑی

ایک نشہ آور مشروب!
جھمپیر کے کھجور کی ٹوڈی کراچی کے باروں میں سرو کی جاتی تھی-
کھجور کی تاڑی اور اس سے تیار شدہ گڑ!
بھارتی فلم سوداگر اور ذکر کچھ موتی اور محجوبی بیگم کا!

تاڑ ایک ناریل کے درخت جیسا اونچا درخت ہے جسے عربی میں طار فارسی میں تال بنگالی میں تال گجراتی میں تاڑ سندھی میں ٹاری ۔
یہ درخت عام طور پر جنوبی بھارت بنگلہ دیش ویتنام اور کمبوڈیا وغیرہ میں بکثرت پایا جاتا ہے- بچپن میں میں نے کراچی کے گاندھی گارڈن یعنی چڑیا گھر میں بھی تاڑی کے درخت لگے دیکھے تھے - اس کے علاوہ کراچی کے پرانے علاقوں گارڈن ، اولڈ کلفٹن وغیرہ کے پرانے بنگلوں کے لان میں کہیں کہیں تاڑی کے درخت نظر آجاتے ہیں-
یہ درخت بیس سے چوبیس گز بلند ہوتاہے۔اس کا تنا نہایت مضبوط ہوتا ہے۔تنے کے آخری حصے کھجور کی مانند پتے ہوتے ہیں۔ہر ایک پتا ایک ایک شاخ پرلگا ہوتا ہے۔پتے بڑے بڑے پنجے کی شکل میں ہوتے ہیں۔اور بالعموم پنکھے بنانے کے کام آتے ہیں۔پھل ناریل کے برابر سخت اور سیاہ ہوتا ہے۔اس پھل کامغز کھایا جاتا ہے۔
اس درخت سے جورطوبت تروش پاتی ہے اسکو تاڑی کہتے ہیں۔

تاڑ کے پکے پھل کا کاٹ کر اس کا مغز نکال لیتے ہیں۔جونہایت شاداب و شیریں اور فالودہ کی مانند منجمد ہوتا ہے۔اس کو چاقو سے تراش کر کھاتے ہیں۔نہایت لذیز ہوتا ہے۔لیکن دیرہضم اور نفاخ ہے تقویت وتفریح اورتسکین حرارت کی غرض سے اس مغز کو باریک باریک قاشوں میں تراش کر عرق گلاب میں تر کرکے مصر ی سے شیریں کرکے کھاتے ہیں۔جن سے پیشاب کی سوزش دور ہوجاتی ہے۔پیاس کو تسکین دینے کیلئے خوب ہےعلاوہ ازیں اس کے استعمال سے بدن کو غذائیت پہنچتی ہے اور کچھ عرصہ تک استعمال کرنے سے بدن فربہ ہوتاہے۔
جنوبی بھارت کے گائوں دیہات کے میلوں ٹھیلوں میں آج بھی تاڑی کا مشروب لوگ بطور تفریح پیتے ہیں - ہولی دیوالی پر اس کو بطور نشہ آور مشروب کے استعمال کیا جاتا ہے-
جنوبی ہند میں اس سے دیسی کھانڈ تیار کی جاتی ہے اس کی چھال کے جوشاندے سے غرغرے دانتوں اور مسوڑھوں کو مضبوط کرتے ہیں۔اس کا سرکہ ہاضم معدہ وطحال کو نافع ہے۔

تاڑی یا تاڑ کا جھاڑ گرم مرطوب ساحلی علاقوں میں بکثرت پایا جاتا ہے - خط استوا کے گرد جتنے بھی ساحلی علاقے ہیں وہاں تاڑ بکثرت پائے جاتے ہیں -
ملائشیا سے لے کر جنوبی امریکہ اور مغربی افریقہ ان درختوں سے بھرے ہوئے ہیں جہاں اس کے پھل کو پام اور اس پھل کے تیل کو پام آئیل کہتے ہیں
یہ مغربی افریقہ میں پکانے کے لئیے استعمال ہوتا ہے
اسکا مزہ اختیاری ہوتا ہے یعنی جس کو بھا جائے اسکو بھا جایے ورنہ اسکی تلخی کریلوں کی طرح کسی کسی کو برداشت ہوتی ہے
مغربی افریقہ کے ممالک گھانا نایجیریا ایوری کوسٹ لائبیریا وغیرہ میں پام کی شراب بہت پی جاتی ہے - یہ عرف عام میں ، پام وائین کہلاتی ہے مزے کی بات امریکہ میں یہ پام وائین ایک مشروب کی طرح ان دکانوں پر بھی ملتی ہے
جہاں شراب فروشی کا لائسنس نہیں ہوتا
شاید ابھی تک امریکیوں کو۔معلوم نہیں کہ یہ۔مشروب نشہ۔انگیز ہے-

 تاڑی (Toddy)
ایک سفیدی مائل رطوبت ہے جو درخت تاڑسے ٹپکتی ہے اس کی بومکروہ ہوتی ہے۔مزہ شیریں ترشی مائل ہوتی ہے۔
تاڑ کے درخت پر پھلوں کو کاٹ کر اس جگہ مٹی کا برتن باندھ کر دیتے ہیں ۔تاکہ اس میں رطوبت ٹپک ٹپک کر جمع ہوتی رہیے۔اس رس کو جمع کرنے والے کو رسیا کہا جاتا ہے-

مزاج اس کا سردوتر درجہ اول۔
مصفیٰ خون ،ملین مقوی باہ ،مقوی ومسمن بدن ،مسکن حرارت ،مدربول قاتل کرم شکم
استعمال۔
تاڑی زیادہ ترشوقیہ پی جاتی ہے۔اگرچہ یہ اپنے سکر کی وجہ سے ناقابل استعمال ہے لیکن فوائد کی بناپر اس کو بکثرت استعمال کیاجاتاہے۔ضعیف اور ناقداشخاص اس کے استعمال سے طاقت ور اورفربہ ہوجاتے ہیں ۔ضعف باہ کےمریض بھی اس سے خاطر خواہ فائدہ حاصل کرتے ہیں ۔غمگین اور رنجیدہ اشخاص اس کو پینے کے بعد تازہ دم ہوجاتے ہیں ۔اور ان کی تھکن دور ہوجاتی ہے۔پیاس کی حالت میں پینے سے پیاس دفع اور قبض کا ازلہ کرتی ہے۔پیشاب کی سوزش کو دور کردیتی ہے۔یہ سوزاک میں نہایت مفید ہے۔کرم شکم اس کے نہارمنہ پینے سے ہلاک ہوجاتے ہیں ۔ حکیم سعید نے اپنی کتاب دیہاتی معالج میں اس کے فوائد و نقصان کا ذکر کیا ہے- حکیم صاحب کہتے ہیں کہ کبھی کبھار بطور تفریح پینے کے لئے اچھا مشروب ہے لیکن اگر اس کو بطور نشہ عادت بنا لیا جائے تو اس سے جسم کو وہی نقصانات پہنچتے ہیں جو کہ کسی بھی نشہ آور مشروب سے ہوسکتے ہیں-
تاڑی کا سرکہ ۔
اس کا مزاج گرم ایک خشک دو بیان کیاجاتاہے۔یہ ہاضم ہوتاہے۔
نفع خاص۔
بھارت ، بنگلہ دیش اور دیگر کچھ ممالک میں تاڑی بطور نشہ آور مشروب کے استعمال کی جاتی ہے-
تھکن دور کرنے کے لئے بجائے چائے کے استعمال کرتے ہیں ۔علاوہ ازیں اس کو نحیف اور کمزورلوگ استعمال کرکے فربہ ہوجاتے ہیں ۔

کھجور کی تاڑی( ٹوڈی)
تاڑی ایک ایسا مشروب ہے جو تاڑ کے درخت کے علاوہ کھجور کے درخت سے بھی تیار کیا جاتا ہے- کسی زمانے میں کراچی کے نزدیک جھمپیر کے کھجور کے باغات ، 'تاڑی' کی وجہ سے خاصی مقبولیت رکھتے تھے۔
کھجور کی تاڑی شراب کی ایک قسم ہے، جو تازہ اور جوان کھجور کے درخت میں چھید کرنے کے بعد اس میں ایک چھوٹا پائپ پیوست کر کے نکالی جاتی تھی۔ درخت کے اوپر حصے میں جہاں سے شاخیں نکلتی ہیں وہاں ایک مخصوص طریقے سے چھیل کر کٹ لگا دیا جاتا ہے - اس کٹ کے ساتھ مٹی کے ایک برتن کو باندھ کر دوسرے دن تک چھوڑ دیا جاتا تھا، جس میں سے قطرہ قطرہ رس ٹپک کر جمع ہوتا تھا۔ سورج ڈھلتے ہی رس کا رنگ تبدیل ہو جاتا تھا۔ یعنی اگر اس کو طلوع آفتاب سے قبل پیا جائے تو مفید ہے لیکن طلوع آفتاب کے بعد یہ نشہ آور مشروب بن جاتا ہے-
سورج کی کرنوں کے نہ پڑنے تک اسے 'نیرو' کہا جاتا تھا مگر جیسے ہی اس پر سورج کی کرنیں پڑنے لگتی تھیں، تو اسے 'تاڑی' کہا جاتا تھا۔ 1970 میں ورجینیا کمپنی جھمپیر سے تاڑی لے کر کراچی کے باروں میں فراہم کرتی تھی، جہاں اسے اور بھی ذائقے دار بنایا جاتا تھا، پھر یہ سلسلہ بند ہو گیا۔ جھمپیر کراچی سے 114 کلو میٹر کے فاصلے پر ضلع ٹھٹھہ میں واقع ہے جہاں کچھ عرصہ پہلے ہوا سے بجلی بنانے والے پنکھے نصب کر کے ونڈ انرجی فارم بنایا گیا ہے-
کھجور کی ٹوڈی یا تاڑی سے گڑ نما شکر بھی بنائ جاتی ہے جو ایک خاص سوغات ہے- اس کو بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ رات یا شام کے وقت کھجور کے درختوں میں پتوں کی جڑ کے قریب ایک کٹ لگا کر اس کے ساتھ چھوٹی چھوٹی مٹکیاں باندھ دی جاتی ہیں- درخت پر لگائے شگاف سے قطرہ قطرہ رس ٹپک کر مٹکیوں میں گرتا رہتا ہے- دوسرے دن صبح یہ مٹکیاں اتار کر ان میں موجود رس کو ایک بڑے کڑھائو میں ہلکی آنچ پر گنے کے رس کی طرح پکایا جاتا ہے جو پانی خشک ہونے پر کھجور کا گڑ بن جاتا ہے-انتہائ لذیذ اور مقوی سوغات ہے-
تاڑی یا تاڑ کا جھاڑ گرم مرطوب ساحلی علاقوں میں بکثرت پایا جاتا ہے
خط استوا کے گرد جتنے بھی ساحلی علاقے ہیں وہاں تاڑ بکثرت پائے جاتے ہیں
ملائشیا سے لے کر جنوبی امریکہ اور مغربی افریقہ ان درختوں سے بھرے ہوئے ہیں
جہاں اس کے پھل کو پام اور اس پھل کے تیل کو پام آئیل کہتے ہیں یہ مغربی افریقہ میں پکانے کے لئیے استعمال ہوتا ہے اسکا مزہ اختیاری ہوتا ہے یعنی جس کو بھا جائے اسکو بھا جایے ورنہ اسکی تلخی کریلوں کی طرح کسی کسی کو برداشت ہوتی ہے
مغربی افریقہ کے ممالک گھانا نایجیریا ایوری کوسٹ لائبیریا وغیرہ میں پام کی شراب بہت پی جاتی ہے ایہ عرف عام میں ، پام وائین کہلاتی ہے - مزے کی بات امریکہ میں یہ پام وائین ایک مشروب کی طرح ان دکانوں پر بھی ملتی ہے جہاں شراب فروشی کا لائسنس نہیں ہوتا شاید ابھی تک امریکیوں کو۔معلوم نہیں کہ یہ۔مشروب نشہ۔انگیز ہے
اگر آپ نے 1973 میں بننے والی امیتابھ بچن اور نوتن کی فلم سوداگر دیکھی ہو تو اس میں امیتابھ گائوں میں یہی کام کیا کرتے تھے- موتی ( امیتابھ بچن) گائوں میں موجود کھجور کے درختوں سے مٹکیاں باندھ کر رس جمع کرتا اور وہ رس گائوں کی ایک بیوہ خاتون محجوبی ( نوتن) کو دے جایا کرتا جو اپنے گھر کے صحن میں لکڑیوں کے بڑے چولہے پر ایک کڑھائو میں یہ رس سہجی سہجی سی آنچ پر پکا کر اس کا بہترین گڑ تیار کردیتی جسے موتی گائوں کے نزدیکی قصبے کے بازار میں لے جا کر فروخت کردیا کرتا تھا- گڑ کے بیوپاری موتی کے گڑ کے بڑے معترف تھے اور منہ مانگے داموں یہ گڑ خرید لیا کرتے تھے- موتی دراصل گائوں کی ایک لڑکی پھول بانو (پدما کھنہ) سے محبت کرتا تھا لیکن پھول بانو کے والد کی طرف سے بطور مہر بہت زیادہ رقم کا مطالبہ موتی پورا نہ کرسکتا تھا- موتی نے محجوبی بیگم سے نکاح کرلیا کیونکہ وہ کھجور کا گڑ بنانے میں ماہر تھی اور اس جیسا گڑ پورے علاقے میں کوئ نہیں بناتا تھا- موتی محجوبی کو جھوٹی محبت کا جھانسہ دے کر اس سے خوب گڑ بنواتا اور اسے بازار میں فروخت کرکے پیسے جمع کرتا رہا تاکہ پھول بانو کے مہر کی رقم جمع کرسکے- محجوبی کا بنایا گڑ پورے بازار میں سب سے زیادہ مہنگا فروخت ہوتا تھا- مطلوبہ رقم جمع ہونے کے بعد موتی نے محجوبی کو بانجھ پنے کا بہانہ بنا کر طلاق دے دی اور نوجوان پھول بانو کو دلہن بنا کر گھر لے آیا- لیکن جب عشق کا نشہ سر سے اترا تو موتی نے گڑ بنانے کا کام پھول بانو کو سونپ دیا مگر پھول بانو جوانی کے نشے میں مست ایک الہڑ دوشیزہ تھی- اسے کھجور کے رس کے گڑ بنانے کا کوئ تجربہ نہ تھا- گڑ بناتے ہوئے وہ بڑا مشہور گانا گاتی ہے
سجنا ہے مجھے سجنا کے لئے
زرا الجھی لٹیں سنوار دوں
ہر انگ کا رنگ نکھار لوں
کہ سجنا ہے مجھے سجنا کے لئے
پھول بانو کی انہی مستیوں اور غسل کے دوران اس کے انگ نکھرتے گئے اور گڑ کا رنگ جل جل کر سیاہ پڑتا گیا جسے بازار میں گڑ کا بیوپاری چکھ کر تھوک دیتا ہے اور موتی سے کہتا ہے کہ میاں یہ کیا اٹھا لائے ہو؟
کئ مرتبہ ایسا ہونے پر موتی کے مالی حالات انتہائ خراب ہوجاتے ہیں اور پھول بانو سے بھی ان بن ہوجاتی ہے-
اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ موتی رس کی مٹکیاں لے کر جھکے سر اور شرمندہ قدموں کے ساتھ ایک بار پھر محجوبی بیگم کے دروازے پر دستک دے رہا ہوتا ہے-
یہ تو ہوگئ موتی اور محجوبی کی کہانی لیکن پاکستان کے صوبہ سندھ میں سکھر اور خیر پور میں بے شمار کھجور کے باغات موجود ہیں لیکن یہ علم نہیں کہ کوئ وہاں بھی ان درختوں سے ٹوڈی اور اس سے گڑ تیار کرتا ہے کہ نہیں؟ اگر آپ کے علم میں ایسی کوئ اطلاع ہو تو ضرور مطلع کیجئے گا-

(مختلف ویب سائٹس، بلاگز، کتب اور انسائیکلو پیڈیا سے مدد لی گئ ہے)  
 Sanaullah Khan Ahsan

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اتوار، 24 مئی، 2020

باؤلی - سیڑھی والے کنویں



 شیر شاہ سوری نے شاہراہ شیر شاہ سوری ( جی ٹی روڈ اور جرنیلی سڑک ) اور دیگر مقامات پر کافی باؤلیاں بنوائیں ان میں ہاتھی اور گھوڑے بھی اتر سکتے تھے بعض باؤلیوں میں زیر زمین کئی کلومیٹر خفیہ راستے بھی ملتے ہیں ۔ جہاں بھی راجپوت اور شیر شاہ سوری کے دور کے قلعے ہیں وہاں یہ باؤلیاں ضرور ملتی ہیں ۔ 
عمومی طور پر تاریخی عمارتوں کے احاطے میں سیڑھیوں والے کنویں " باولیاں " ( stepwell ) ضروری ہوتی تھیں۔ 
شروع شروع میں تو یہ تعمیری کاموں میں استعمال ہوتی تھیں بعد میں تفریح اور آرام گاہ کے بطور مستقل موجود رہتی تھیں۔
 دہلی میں متعدد، لکھنؤ میں ایک، آلہ آباد باندہ روٹ پر کالنجراور چترکوٹ دوجگہ، سہسرام، حیدرآباد، بھوپال وغیرہ کی تاریخی عمارتوں میں باولیاں موجود ہیں ۔
 ابھی پاکستان میں کچھ باولیاں باقی ہیں مثلاً لوسر باؤلی ( واہ کینٹ ) ، ہٹیاں ( چھچھ ) ضلع اٹک اور قلعہ روہتاس (جہلم) میں-
 یہ ایک بڑا سا کنواں ہوتا ہے جس میں پانی کی سطح تک سیڑھیوں کے ذریعے پہنج سکتے ہیں. اس میں ارد گرد راہداریاں اور کمرے بنے ہوتے ہیں جو شدید گرمی میں بھی بہت ٹھنڈے رہتے ہیں. امراء وہاں اپنے دفتر اور آرام کرتے تھے اور یوں تپتی دوپہریں ٹھنڈے پانی کے پہلو میں بیٹھ کر گزار دیتے تھے-
 شیر شاہ سوری نے رعایا کی سہولت کے لیے بہت سی سڑکیں بنوائیں، یہ سڑکیں فوجی نقطہ نگاہ سے بھی بڑی اہم تھیں۔ 
سب سے بڑی سڑک کابل سے شروع ہوکر سنارگاؤں (بنگال) تک چلی گئی ۔ اس شاہراہ کا نام شاہراہ شیر شاہ سوری تھا جیسے برطانوی سامراج کے راج میں اس کا نام گرانٹ روڈ رکھا گیا تھا۔
 اس کے علاوہ بڑی سڑکوں میں آگرہ سے برہان پور، آگرہ سے جودھ پور وچتوڑ اور لاہور سے ملتان تک سڑکیں قابل ذکر ہیں۔ ان کے دو رویہ سایہ دار درخت لگوائے گئے تھے۔ ہر دو کوس کی مسافت پر ایک سرائے تعمیر کی گئی، سلطنت کی مختلف سڑکوں پر کل 1700 سرائیں تھیں ان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے لیے الگ الگ قیام و طعام کا بندوبست تھا۔
 ہر سرائے کے بڑے دروازے پر لب سڑک ٹھنڈے پانی کے مٹکے بھرے رہتے تھے تاکہ مسافر پیاس بجھا سکیں۔ ہر مسافر کو کھانا، چارپائی اور اس کے مویشیوں کو چارہ مفت دیا جاتا، ہر سرائے میں ایک کنواں اور ایک مسجد کی تعمیر ہوئی۔
 مسجد کے لیے امام اور موذن علاوہ ازیں مسافروں کے سامان کی حفاظت کے لیے کئی چوکیدار مقرر تھے۔ 
سرائے کے ناظم اعلیٰ کو ’’شور‘‘ کہا جاتا تھا۔ ان سرائے کے اخراجات کی کفالت کے لیے ملحقہ میر کی آمدنی الگ کردی گئی تھی ۔ 
٭٭٭٭٭

جمعہ، 22 مئی، 2020

فلائیٹ نمبر پی کے - 8303

 خواتین و حضرات 
یہ پی آئی اے کی فلائیٹ ، پی کے - 8303 ہے ۔
ہم چند منٹ بعد قائد اعظم انٹرنیشنل ائرپورٹ پر لینڈ کرنے والے ہیں ،
اپنی کرسی کی پشت سیدھی کر لیں ،
سیٹ بیلٹ باندھ لیں ۔
اور کھانے کی میز بند کر دیں ۔
اپنا اضافی سامان اپنی سیٹ کے نیچے رکھ دیں ۔
اپنے موبائل بند کردیں ، اِس سے فلائیٹ کے کمیونیکیشن سسٹم میں خرابی ہو سکتی ہے ۔
آپ کا پی آئی اے سے سفر کرنے کا شکریہ -
امید ہے کہ آپ کا سفر اچھا گذرا ہو گا ،
اللہ حافظ !
 ائر ہوسٹس کے اِس اعلان کے ساتھ جہاز میں بیٹھ مسافروں نے زیر ِ لب  " اللہ حافظ " کہا ۔
ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔ سب خوش تھے کہ  "کرونا  لاک ڈاؤن" کے بعد  پی آئی اے کی سروس بحال ہونے کے بعد عید گذارنے اپنے گھر والوں کے پاس ,  لاہور سے کراچی جا رہے تھے   جارہے تھے ۔  جہاز 1:00  لاہور سے اُڑا  ۔

کراچی پہنچنے سے پہلے جب جہاز کے  پہیئے نکالنے کی کوشش کی تو وہ نہیں نکلے ، پائلٹ نے ائر ٹریفک کنٹرول کو بتایا ، کنٹرول ٹاور نے پائلٹ کو گو راونڈ  یعنی ایک چکر اور لگانے کا کہا ، پائلٹ نے گو راونڈ  لیا ، لیکن لینڈنگ گیئر  نہیں کھلے تو پائلٹ نے بیلی لینڈنگ کا فیصلہ کیا اور کنٹرول ٹاور کو اطلاع دی ۔
 جہاز کے اندر موجود مسافروں  میں سے بچ جانے والے ، محمد زبیر کے مطابق ، پائلٹ نے جہاز  کو اتار  ایک دو جھٹکے محسوس ہوئے تو پائلٹ نے جہاز کو اوپر اٹھا لیا ۔مسافروں میں خوف و ھراس پھیل گیا سب نے سورتیں وغیرہ اور دعائیں  پڑھنا شروع کر دیں ۔
 پائلٹ نے  جہاز  کو  ، فضا میں اُٹھا لیا  ۔  
 کنٹرول ٹاور نے اُسے  لینڈنگ کی ہدایات دینا شروع کیں ۔ 
جس کی وائس ریکارڈنگ اور جہاز  کی فضا میں مکمل صورتِ حال 


پھر کنٹرول  ٹاور کو فوراً ،
مے ڈے  ، مے ڈے  

کی آواز آئی اور یک دم خاموشی چھا گئی !
 2 بج کر 35 منٹ پر ، فیض آباد کالونی   ملیر کراچی ،  کے جناح گارڈ ن میں ایک خوفناک دھماکہ سنائی دیا ۔ جہاں دھماکہ سنائی دیا تھا لوگوں نے اُس طرف دیکھا  - وہاں سے گردو غبار کا ایک بادل اُٹھ رہا تھا ۔
  اُس کے فوراً بعد  کالا دھواں بلند ہونا شروع ہو گیا -
فلائیٹ پی کے - 8303  گر کر تباہ ہو چکی تھی ۔ موبائل کی گھنٹیاں بجنے لگیں ،  سائرن اور ایمبولینس کی آوازوں سے علاقہ گونجنے لگا-
وٹس ایپ ، فیس بُک ، ٹوٹر  اور یو ٹیوب  نے پوری دنیا میں یہ خبر پھیلا دی کی لاہور سے کراچی جانے والی فلائیٹ حادثے کا شکا ر ہو چکی ہے ۔

جس میں عملے سمیت 100 افراد سوار تھے !
جہاز کے اترنے میں صرف ایک منٹ کا فاصلہ رہ گیا تھا ، کہ جہاز کا ایک انجن بند ہو گیا -



پی آئی اے کی ائر بس ایک انجن بند ہونے کے باوجود ، دوسرے انجن کی وجہ سے باآسانی صرف ایک کلو میٹر دور رن وے پر باآسانی حفاظت سے لینڈ کرسکتی تھی -
پائلٹ نے لینڈنگ ڈائریکشن  لے چکا تھا اور آہستہ آہستہ نیچے آرہا تھا  تاکہ لینڈ کر سکے ۔ لینڈنگ کرتے ہوا  جہاز اچانک   تیزی سے نیچے ہونا شروع ہوا  ۔کیوں کہ جہاز کے دوسرا انجن بھی فیل ہو گیا ۔
اپنے ڈش انٹینا پر نظر رکھنے کے لئے ایک شہری نے  وڈیو -کیم  فکس کروایا ہواتھا -جس نے جہاز کے ٹکرانے کی وڈیو  ٹویٹ کی !
اِس وڈیو کو غور سے  دیکھیں تو دونوں انجن فیل ہونے کی صورت میں جہاز گلائیڈ کر رہاہے ۔کیوں کہ جہاز کو  فارورڈ تھریسٹ ملنا بند ہو چکی تھی ۔اور جہاز کا اترنے کا ریٹ  کم و بیش وہی تھا جو لینڈنگ کے وقت ہوتا ہے ۔جہاز کے پہیئے بھی آپ کو لٹکے نظر آرہے ہوں گے -
 اِس وڈیو کو بھی دیکھیں ، جس میں جہاز کی لینڈنگ اپروچ،  نہایت   بہترین ہے - جہاز پتھر کی طرح نہیں گر رہا -
 اور اگر   نیچے والے دونوں گوگل نقشوں کو دیکھیں جو میں (مہاجرزادہ)  نے کوگل ارتھ سے کاپی پیسٹ کر کے ڈائریکرشن مار ک  کی ہیں ،اگر یہاں مکانات نہ ہوتے تو جہاز  پوائینٹ آف امپیکٹ ، جو لینڈنگ سٹرپ سے 500 میٹر ہے ، سے اپنے  پیٹ ( بیلی)   پر گھسٹتا ہوا  با آسانی لینڈ کر سکتا تھا ۔

جہاز گلائیڈنگ کرتا ہو  ا  مکانوں کی چھت سے ٹکراتا ، ملبے کی صورت  میں   گلیوں میں بکھر گیا ۔


جہاں   لینڈ مافیا نے اضافی رن وے کے عین سامنے  ، زمین پر قبضہ کروا کے، سول ایوی ایشن کی ملی بھگت سے   گھر بنوادئیے  -



 ایک ماہر کے مطابق اگر  وہاں گھر نہ ہوتے تو جہاز بڑی آسانی سے  رن وے پر اتر جاتا ۔ 

محمد زبیر نے بتایا ، کہ پائلٹ کے  لینڈ کرکے کے اعلان کے دو سےتین منٹ بعد  جہاز میں ایک زوردار دھماکہ ہوا مجھے نہیں معلوم کیا ہوا ، جب میری ھوش بحال ہوئے تو جہاز دھویں سے بھرا ہوا تھا ۔ ہر طرف  آگ لگی ہوئی تھی- جہاز میں ہر طرف سے ، بچوں ، بڑوں اور عورتوں کی  چیخ و پکار کی آوازیں آرہی تھیں ، میں نے اپنا سیٹ بیلٹ کھولا ۔ میں نے دائیں بائیں دیکھا تو مجھے ایک طرف روشنی نظر آئی ۔ روشنی کو دیکھتے ہوئے میں باہر نکا اور میں نے 10 فٹ کی بلندی سے جہاز سے زمین پر جمپ لگائی ۔   مجھے  لوگ جناح ہسپتال لے کر آگئے ۔
مجھے بالکل  اندازہ نہیں تھا کی جہاز کریش کر جائے  گا  -کیوں کہ جہاز میں کسی قسم کی کوئی ٹربولینس یا جھٹکا محسوس نہیں ہو رہا تھا ۔

گو کہ میں اتنا ماہر نہیں ، لیکن زبیر کے مطابق اگر جہاز جب لینڈ کر رہا تھا  تو مسافروں کو جھٹکا لگا ، جِس کا مطلب یہ ہے کہ جہاز نے  پچھلے پہیوں پر لینڈ کیا ، لیکن شاید  اگلا پہیہ    ( نوز وہیل)  نہ کھلنے کی وجہ سے پائلٹ نے جہاز دوبارہ اوپر اٹھا لیا ۔جہاز 256 فٹ کی بلندی سے گذرتا ہوا کنٹرول ٹاور کے سامنے سے گذرا اور اگلے چکر میں بیلی لینڈ کی ٹرائی کرتے وقت   جہاز گھروں پر لینڈ کر گیا ۔
پی آئی اے کے چیر مین نے ارشد ملک ، نے   ایس آئی بی کے بعد ہی ایکسیڈنٹ کی حقیقت  بیان کرنے کا کہا ہے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 ایکسیڈنٹ کے بعد  آنے والے جہاز کے مسافر کی بنائی ہوئی وڈیو-
 ایکسیڈنٹ کے بعد  آنے والے جہاز کے مسافر کی بنائی ہوئی وڈیو-
 کراچی ائر پورٹ پر لینڈ کرتے ہوئے جہاز کی پائلٹ کیبن سے لی گئی ، وڈیو سے تصاویر !
  جہاز کے مسافروں کی لِسٹ :

 
 کراچی میں حادثے کا شکار طیارے کے ملبے سے 3 کروڑ روپے سے زائد جلے نوٹ برآمد۔۔ 16 لاکھ روپے سے زائد روپے صحیح حالت میں ملے ہیں۔
 تفصیلات کے مطابق سندھ رینجرز نے طیارہ حادثے میں جاں بحق مسافروں کا سامان پی آئی اے حکام کے حوالے کردیا ہے۔ 
تباہ حال جہاز کے ملبے سے ملنے والے سامان میں سمارٹ فونز، لیپ ٹاپ ، ٹیبلیٹ ، سونے کی جیولری، الیکٹرونکس کا سامان، گھریلو اشیا ، قیمتی ہینڈ بیگز، لیڈیز اور جینٹس پرس ، پاسپورٹس اور دیگر قیمتی اشیاء شامل ہیں۔
 ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق طیارے کے ملبے سے 3 کروڑ 24 ہزار 300 روپے مالیت کے جلے ہوئے نوٹ ملے ہیں جبکہ 16 لاکھ 67 ہزار 692 صحیح حالت میں پاکستانی کرنسی نوٹ ملے ہیں ۔
 سندھ رینجرز کے مطابق اس ملبے سے 70 برطانوی پاؤنڈز اور 625 امریکی ڈالرز بھی ملے ہیں۔
٭٭٭٭

پیر، 18 مئی، 2020

نکما وائرس -

ایک بات تو طے ہے کہ کورونا وائرس خواہ قدرتی ہو یا مصنوعی ۔ لیکن ہے بالکل نکما ۔
اسے وبا کا نام ضرور دیا گیا ہے لیکن اس میں وبا والی کوئی خصوصیت نہیں پائی جاتی ۔
میری جتنی عمر ہو چکی ہے اس میں میں نے کئی وبائی امراض دیکھے ہیں ۔
اس کرونا وائرس سے پہلے کبھی کوئی وبا ایسی نہیں گزری جس سے متعلق جاننے کے لیے ہمیں ٹی وی لگانا پڑے یا کوئی انٹرنیشنل ویب سائٹ کھولنی پڑے ۔

وبا گھر گھر جاتی ہے اور اپنا تعارف خود کرواتی ہے ۔ لوگوں کو اپنے دوست احباب پڑوسی رشتے دار یا اپنے اہل خانہ سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ یہ وبائی مرض پھیلا ہوا ہے ۔
آشوب چشم پھیلتا ہے تو آپ کو بس دو ہی قسم کے لوگ نظر آتے ہیں ۔ یا سوجی ہوئی آنکھ والے یا کالے چشمے والے ۔

ڈینگی کی وبا آئی تھی تو شائد ہی کوئی گھر بچا ہو جسے اس نے متاثر نہ کیا ۔
وبا اسی طرح کام کرتی ہے ۔ وبا اگر باصلاحیت ہو تو اس کو اس بات کی کوئی حاجت نہیں ہوتی کہ اس کی میڈیا پر ایڈورٹائزنگ کی جائے ۔
لیکن کرونا وائرس کا معاملہ ایسا نہیں ہے ۔ یقین کریں اب تو کرونا وائرس کی مسکینیت اور لاچارگی پر ترس آنے لگ گیا ہے ۔
ایک طرف کرونا وائرس کی خطرناکی سے متعلق خبریں چل رہی ہیں ۔ دوسری طرف ڈاکٹروں کے ساتھ لڈیاں ڈالتے، کرونا وائرس کے مریضوں کی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں ۔
عام طور پر جب بندہ بیمار ہو تو وہ ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے ۔ طبیعت زیادہ خراب ہو اور خود جانے کے قابل نہ ہو تو گھر والے لے جاتے ہیں ۔
لیکن کرونا وائرس کا معاملہ اس سے قطعی مختلف ہے ۔ آج اگر کسی کو خدشہ ہو کہ اسے کرونا وائرس ہو گیا ہے تو اس کے گھر والے بجائے اسے ڈاکٹر کے پاس لے جا کر علاج کروانے کے اسے مشورہ دیتے ہیں کہ آپ کچھ عرصے کے لیئے انڈر گراؤنڈ ہو جائیں ۔ معاملہ دبنے کے بعد منظر عام پر آجایئے گا ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ
WHO نے کرونا وائرس کے مریضوں کے سر کی قیمت مقرر کر دی ہے ۔ اور یہ قیمت اتنی زیادہ ہے کہ اگر خذانخواستہ محض 25 فیصد پاکستانیوں کو ہی یہ مرض لاحق ہو جائے تو پاکستان کا سارا قرضہ اتر سکتا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ جنوری کے مہینے سے لے کر مارچ تک ہم اس انتظار میں رہے کہ لکشمی کی یہ دیوی ہمارے گھر کب آئے گی ۔ پھر جب ہمارے انتظار کی اخیر ہو گئی اور
WHOنے ڈالر بانٹنا شروع کر دئے ،تو ہمارے صبر کا پیمانہ چھلک گیا اور ہمیں ایمرجنسی میں ایران سے وائرس متاثرہ زائرین امپورٹ کرنے پڑے ۔
اس کے بعد ہم سکون میں آگئے کہ اب باقی کام یہ وائرس خود کر لے گا ۔ لیکن ہمیں اندازہ نہ تھا کہ یہ وائرس انتہا درجے کا ہڈ حرام ہے ۔
ظاہر ہے وائرس کی یہ شہرت ہے کہ یہ ایک سے دو دو سے چار چار سے آٹھ یعنی روز افزوں دگنا ہوتا چلا جاتا ہے ۔
ہم نے احتیاطاً لاک ڈاؤن بھی کر دیا تاکہ جہاں ہماری مطلوبہ تعداد پوری ہو جائے وہیں وائرس کو بریک ماری جا سکے ۔
لیکن یہ نگوڑ مارا وائرس پاکستان میں اس رفتار سے پھیلا ہی نہیں جس رفتار میں امریکہ چائنا اسپین اور اٹلی میں پھیل رہا تھا ۔
گویا یہ لاٹری صرف انہی ملکوں کی لگی جہاں پہلے ہی مال کی بہتات ہے ۔
پھر مجبوراً ہمیں لوگوں کو پابند کرنا پڑا کہ وہ آٹھ بجے کے بجائے اب پانچ بجے ہی دکانیں بند کر دیا کریں ۔ دکانوں پر جو لوگ سکون سے خرید و فروخت کرتے تھے ان میں ایک بھگدڑ مچ گئی ۔ دکانوں پر چار بجے سے پانچ بجے تک رش لگ گیا ۔ہمیں یقین تھا کہ ہمارے اِس اقدام کی وجہ سے ، رش کھڑکیاں توڑ ہفتہ لے گا اور ہر دُکان سے لدے پھندے لوگ کرونا بغل میں دبائے گھر جائیں گے ۔

اس پالیسی نے  وہ کام  نہ کیا جس کی توقع کی جا رہی تھی ۔
اب انتہائی مجبوری اور بے کسی کے عالم میں یہ فیصلہ لیا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن ختم کر دیا جائے ۔ بازار کھول دیئے جائیں ۔ لیکن اس پابندی کے ساتھ کہ ہفتے میں صرف چار دن یعنی پیر منگل بدھ اور جمعرات کو دکانیں کھلیں گی وہ بھی صرف شام پانچ بجے تک ۔ 
یہ شائد کرونا وائرس کے آرام کے  ایام ہوتے ہیں یا ممکن ہے کہ ان دنوں کرونا وائرس شام کی ڈیوٹی کرتا ہو ۔
بازاروں کے داخلی راستوں پر گیٹ لگا کر راستہ تنگ بھی کیا گیا ہے۔ تاکہ جو خواتین بازاروں میں سوشل ڈسٹینسنگ کی وجہ سے کسی سے ہاتھ بھی نہ ملائیں انہیں اس گیٹ پر پرائے مردوں سے زبردستی گلے ملوایا جا سکے ۔
آپ نے ایسے ناکے لاک ڈاؤن کے دوران سڑکوں پر بھی جگہ جگہ لگے دیکھے ہوں گے ۔ اچھی بھلی کھلی ڈلی سڑک پر بندہ پوری رفتار سے ڈرائیو کرتا جا رہا ہوتا ہے کہ اچانک آگے ٹریفک جام ہو جاتا ہے ۔ بندہ حیران ہوتا ہے کہ اتنے سخت لاک ڈاؤن میں ٹریفک کیوں جام ہے ۔ پتہ چلتا ہے کہ پولیس نے وائرس کے خدشے کے پیش نظر پوری سڑک بلاک کر کے صرف ایک گاڑی کا راستہ کھلا چھوڑا ہے ۔ جہاں سے ایک ایک کر کے صرف گاڑیاں ہی گزر سکتی ہیں ۔ وائرس اتنے تنگ راستے سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو پھنس جائے گا اور اسے پولیس ہتھکڑیاں لگا کر گرفتار کر لے گی ۔
بعض موٹر سائیکل سواروں کر روک کر ان کی جامہ تلاشی بھی لی جاتی رہی ۔ اللہ جانے اس تلاشی کے دوران ان میں سے کسی کی جیب سے کرونا وائرس برامد ہوا یا نہیں ۔
بحرحال حفاظتی انتظامات بہت اعلیٰ نوعیت کے تھے ۔ خصوصاً WHO کی طرف سے امداد کے اعلان کے بعد تو ان میں مزید بہتری آگئی ۔
اس دوران ہمارے محلے میں دو وفاتیں ہوئیں ۔ دونوں کی میتوں کے لئے اہل خانہ کو ہسپتال والوں سے جھگڑا کرنا پڑا ۔ ہسپتال والے چاہتے تھے کہ مرنے والے کی وفات کی وجہ کرونا ڈیکلیئر کر کے میت ہسپتال کو ہی الاٹ کر دی جائے ۔ تاکہ ہسپتال والے اسے کرونا کے روایتی انداز میں دفنا سکیں ۔ اس سے فائدہ یہ ہوتا کہ ایک ہارٹ فیل سے مرنے والا شخص کرونا ڈیکلیئر ہونے سے شہادت کا درجہ پا لیتا ۔ لیکن گھر والوں کو یہ جھوٹی شہادت منظور نہ تھی ۔ پھر ہسپتال والوں نے ایک خطیر رقم کی آفر بھی دی ۔ ساتھ سمجھایا بھی کہ دیکھو ٹھیک ہے وہ تمہارا ابا تھا مگر اب تو مر گیا ۔ تم دفناؤ یا ہم دفنائیں بات تو ایک ہی ہے ۔ تم کون سا اسے نیپال کے جنگل میں  دفنا آؤ گے جہاں سے  وہ زندہ ہو کر ہشاش بشاش  گھر  لوٹ آئے گا ۔ سو ہمیں دے دو ۔ ہم اسے اعزاز کے ساتھ دفنائیں گے ۔
لیکن گھر والے بھی جانے کس مٹی سے بنے تھے ۔ اتنی اچھی   آفرز ٹھکرا دیں ۔
میں نے پہلے عرض کی کہ جتنی رقم
WHO کرونا وائرس متاثرین کے عوض اداروں کو دے رہی ہے اگر پاکستان کے پچیس فیصد لوگوں کو یہ مرض لاحق ہو جائے تو پاکستان کا سارا قرضہ اتر جائے ۔ اور پاکستان کو در در جاکر بھیک نہ مانگنا پڑے ۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ کرونا وائرس سے مرنے والوں کی جو آخری رسومات ویڈیوز کی شکل میں وائرل ہو رہی ہیں وہ کسی بھی شخص کو موت سے تائب کرنے کے لیے کافی ہیں ۔

لوگ جب ایک تابوت میں بند میت کے سامنے ،خلائی لباس پہنے ڈاکٹرز کو اس کی نماز جنازہ پڑھتے دیکھتے ہیں تو مرنے سے تو کیا بیمار ہونے تک سے توبہ کر لیتے ہیں ۔
کئی ایسے عمر رسیدہ بزرگ ہیں جن کا اس سال مرنا طے شدہ تھا ۔لیکن حالات کے پیش نظر انہوں نے ایک سال کی ایکسٹینشن لے لی ہے ۔اب اُن کا مقدمہ شائد ڈاکٹرز لے کر ، بارگاہِ تخلیقانِ کرونا  جائیں ۔
لوگوں کا خیال ہے کہ اس قسم کی آخری رسومات سے اللہ جانے ہماری آتما کو شانتی ملے گی بھی یا نہیں ۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ فی الحال مرنا کینسل کر دیا جائے ۔ آج کل مر صرف وہ رہا ہے جس کی کوئی انتہائی مجبوری ہو ۔
میرے ایک ڈاکٹر دوست بتاتے ہیں کہ ہم ایک مریض کی اوپن ہارٹ سرجری کر رہے تھے ۔ سینہ چاک کیا جا چکا تھا ۔ دل کی دھڑکن مشین کی مدد سے جاری تھی ۔ مریض کے بچنے کے امکانات صفر ہو چکے تھے ۔ مشین کی ٹونٹ ٹونٹ کو ایک لمبی سی ٹونٹ میں بدلنے میں بس چند ہی سیکنڈز باقی تھے ۔ ایسے میں ہمارے ایک سینئر ڈاکٹر آپریشن روم میں داخل ہوئے اور بولے ذرا چیک کر لو اسے کرونا بھی نہ ہو ۔ یہ سننا تھا کہ مریض جو تقریباً مر چکا تھا ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور رونی صورت بنا کر ڈاکٹر سے بولا ۔
ڈاکٹر صاحب خدا دا واسطہ جے ۔ میرے کولوں قسم لے لوو جے کدی مینوں نزلہ زکام وی ہویا ہووے ۔ تسی سدھا ای کرونا پا دتا جے میرے تے ۔
 اس کے بعد کہتے ہیں کہ وہ مریض اتنی جلدی صحتیاب ہوا کہ میڈیکل سائنس بھی حیران رہ گئی ۔
حالانکہ ایسا ہونا نہیں چاہیئے ۔ حب الوطنی بھی کوئی چیز ہوتی ہے ۔ یقین کریں اگر مجھ ناچیز کو بھروسہ ہو کہ میری میت کے عوض ملنے والی رقم کو ہماری حکومت پاکستان کا قرضہ اتارنے میں صرف کرے گی، تو میں اپنی میت اس کارخیر کے لئے وقف کر جاؤں ۔ بے شک میری قسمت میں ٹرک کی ٹکر سے مرنا لکھا ہو ۔ 

مگر مجھے اپنے حکمرانوں کی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ ہے ۔ یہ کسی نہ کسی طرح یہ ثابت کر ہی لیں گے کہ ایکسیڈنٹ سے ایک لمحہ پہلے متوفی کرونا وائرس کا شکار ہوا جس کی وجہ سے اس کی وفات ہو گئی ۔ وفات پا جانے کی وجہ سے متوفی سامنے سے آتے ٹرک کو نہ دیکھ پایا اور  ایکسیڈنٹ ہو گیا اور پھر میت ٹرک کے نیچے آگئی ۔
(منقول)
(نوٹ: محررکا پتہ ہو تو ،اِسمِ گرامی کومنٹس میں لکھ دیں)

اُسے 32 توپوں کی سلامی دینے کو دل کرتا ہے ۔ ہر توپ کے سامنے باندھ کر !
٭٭٭٭٭٭٭

جاہلوں کے فتاویٰ - انجن مدینہ

 خلافت عثمانیہ کے 34ویں خلیفہ عبدالحمید ثانی، کے دورِ خلافت میں استنبول سے مدینہ شریف جانے کے لئے ٹرین شروع کی گئی-

 آج بھی وہ لائن مدینہ شریف میں بچھی ہوئی ہے اور ترکی ریلوے اسٹیشن کے نام سے مشہور ہے-
 اُس زمانے میں ٹرین کا انجن کوئلہ کا ہوا کرتا تھا، مکمل تیاریاں ہونے کے بعد مدینہ شریف میں ترکی اسٹیشن پر سلطان عبدالحمید ثانی کو اوپنگ (افتتاح) کے لیے بلایا گیا تو دیکھا کہ کوئلہ والا انجن بھڑ بھڑ آواز کرنے لگا تو سلطان عبدالحمید غضبناک ہوگئے اور کوڑا اٹھاکر انجن کو مارنا شروع کیے اور کہا شہرِ رسول میں اتنی بلند آواز ؟
  100 سال کا عرصہ ہونے کو آیا، اس وقت سے جو انجن بند ہوا ہے وہ آج تک ایسے ہی مدینہ   میں رکھا ہوا ہے-
اُس کے بعد آدھے یورپ میں پھیلی تُرکی حکومت سمٹنے  لگی  -
یہاں تک کہ شورمچانے والے انجن بنانے والوں نے اِن کے سر پر ہروشلم کا تاج سجا دیا ۔
 ٭٭٭٭٭٭
٭- جاہلوں  کے فتاویٰ - چھاپہ خانہ

جاہلوں کے فتاویٰ - چھاپہ خانہ


  پرنٹنگ مشین جرمنی کے ایک سنار گوتنبرگ نے 1455 میں ایجاد کی۔ اس وقت مسلم تہذیب تاریخی عروج پر تھی۔عثمانی خلافت کی عظیم سلطنت ایشیا میں شام عراق ایران آرمینیا آذربائیجان ‏اردن سعودی عرب یمن مصر تیونس لیبیا مراکو تک اور یورپ میں یونان، روم، بوسنیا ،بلغاریہ ،رومانیہ، اسٹونیا ،ہنگری ،پولینڈ ،آسٹریا، کریمیا ،تک پھیلی ہوئ تھی۔
 مذہبی علما نے فتوی دیدیا کہ پرنٹنگ مشین بدعت ہے اس پر قران اور اسلامی لٹریچر  کا چھاپنا حرام ہے۔
 عثمانی خلیفہ۔ ‏سلطان سلیم اول نے پرنٹنگ مشین کے استعمال پر موت کی سزا کا فرمان جاری کر دیا۔
 مسلم ممالک پر یہ پابندی 362 سال برقرار رہی۔
 ہاتھ سے لکھے نسخے چھاپہ خانہ کا مقابلہ کیسے کرتے؟
 کتابوں رسالوں کی فراوانی نے مغرب کو جدید علوم کا سمندر اور مسلم تہذیب کو بنجر ‏سوچ کے جوہڑ میں تبدیل کر دیا۔
 جاگے تو فکری بینائی کھو چکی تھی۔ آخر 1817 میں فتوی اٹھا لیا گیا۔
 لیکن ان پونے چار سو سال کی پابندی نے مسلم تہذیب کو فتاووں اور  عقیدوں کا ذہنی غلام بنا دیا۔
 از خود سوچنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا۔ یہ فاصلہ آج تک نہ صرف برقرار ہے ‏بلکہ مزید بڑھتا جا رہا ہے۔ 
مقام حیرت ہے کہ مسلمانوں کو اس تہذیبی زیاں پر ملال بھی نہیں۔ نہ ہی یہ تاریخ نصاب میں پڑھائی جاتی ہے کہ نئی نسل سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھ سکے۔
 یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پیر، 11 مئی، 2020

بل گیٹ - ایک خوفناک منصوبے کے ساتھ

اگر آپ نے جدید وڈیو گیمز ، یا سائی بورگ ٹائپ فلمیں دیکھی ہیں ، تو شاید آپ کو کمپیوٹر کی دنیا ایک خوفناک  سازش کی طر ف بڑھتی دکھائی دے ۔ جِس کا بانی بِل گیٹ ہے -
نیچے والا مضمون پڑھنے کے بعد  وڈیو ضرور دیکھیں۔ (مہاجرزادہ)
٭٭٭٭٭٭٭






منگل، 5 مئی، 2020

ایتھوپیا کا نائی، کرو-نائی ماحول میں

جنوری میں  کی 5 تاریخ کو  اسلام آباد سے عدیس ابابا آنا پڑا ۔   
14 مارچ کو چم چم (نواسی) کی سالگرہ تھی ۔ بڑھیا نے  10 مارچ کو وارننگ دی کہ آپ کی بال بہت بڑھ گئے ہیں ، کٹوا لیں  ۔
"نہیں ٹھیک ہیں زیادہ نہیں بڑھے " میں نے جواب دیا ۔
"نہیں بُرے لگ رہے ہیں ، کٹوا لیں لوگ یا کہیں گے " بڑھیا بولی ۔
" کون سے لوگ ؟" میں نے اکتائے ہوئے لہجے میں پوچھا 
" ارے وہی جو سالگرہ پر آئے  گے " بڑھیا بولی '
" وہ کون سا میرے رشتے کے لئے آرہے ہیں " میں نے جواب دیا۔
" کچھ خدا کا خوف کرو ، اِس عمر میں بھی رشتے کا سوجھ رہا ہے ؟" بڑھیا  نے جھاڑا ۔

" جب ، اِس عمر میں  مصطفیٰ کھر اپنی گود میں اپنے ڈیڑھ سال کے بچے کو اُٹھا سکتا ہے ، تو میں نے کیا جرم کیا ہے ؟ ویسے بھی جب میں نے آپ کے کہنے پر  ، ایتھوپیئن نائی سے بال کٹوائے تھے تو اُس نے کون سا ہیرو بنا دیا تھا ؟" میں نے جوابی وار کیا ۔
" اچھے تو بال کاٹے تھے ، ایتھوپیا میں وہی کٹ کاٹیں گے جو یہاں کا رواج ہے " بڑھیا بولی ۔
" پپا ، آپ ہلٹن چلے جائیں وہاں کا باربر اچھا ہے " بیٹی نے رائے دی ۔
" وہاں کیا خوبی ہے ؟ ہے تو وہ بھی ایتھو پیئن " میں نے جواب دیا ۔ 
" آپ انجوائے کریں گے "۔ یہ کہہ کر اُس نے ہلٹن فون ملایا  اور 13 تاریخ شام 3 بجے کی بکنگ کروا دی ۔
" ارے بھئ  آج کیوں نہیں ؟" میں نے پوچھا ۔

" پپا وہاں ، اپائنٹمنٹ لینا پڑتی ہے " بیٹی بولی ۔
" اُنہوں نے بال کاٹنے  ہیں یا دانت نکالنا ہے " میں نے پوچھا ۔
" شکر کریں ، آپ کو تین دن بعد اپائنٹمنٹ مل گئی عورتوں کو ہفتہ پہلے بکنگ کروانا پڑتی ہے " بیٹی بولی ۔ 
13 تاریخ  کو بیٹی کو میسج آیا ،" آپ کی اپائنٹمنٹ منسوخ ہو گئی ہے ، آئیندہ تاریخ آپ کو بتا دی جائے گی ۔
چنانچہ اِس بوڑھے نے سکون کا سانس لیا ، ڈی ایچ اے ، ون میں ٹینکی کے نیچے نائی کی دُکان سے 100 روپے میں بال کٹوانے والا ،  400 ایتھوپیئن   روپوں میں بال کیسے کٹوا سکتا  ؟ 
چلو اب  چھٹی ، واپسی  اپریل میں دبئی جا  کر ، پاکستانی باربر سے بال کٹوائیں گے ۔ 
مارچ گذرا تو معلوم ہوا ایتھوپیا سے باہر نکلنے والے سارے راستے بند !
 اور بال تھے کہ روزانہ کے حساب سے بڑھ رہے تھے ۔ 
صبح سو کر اُٹھتا اور شیشے میں خود کو دیکھتا تو ایسا معلوم ہوتا جیسے رات کو بالوں میں بم پھٹا ہے ۔ 
کبھی دل میں آتا  کہ سر کو خود احتسابی کے عمل سے گذارا جائے ۔ لیکن پھر ڈر لگتا - کہ کہیں نیب کی طرح اگر احتساب کا عمل زیادہ ہو گیا ، تو سر منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا ۔ 
آج کی بات ہے ، کہ بڑھیا نے تھیلا دے کر کہا : "یہ سامان لے آئیں " 
بوڑھا سامان لینے  محلّے کی مارکیٹ چلا گیا ، وہاں باربر کی دُکان پر  دیکھی کھلی ہوئی تھی -
تجسس کے مارے دکان میں گیا ۔ کوئی نہیں تھا ، واپس مڑا تو سامنے کافی شاپ پر بیٹھا نوجوان     تیزی سے میرے طرف بڑھا ۔  اور ٹوٹی پھوٹی انگلش میں پوچھا ۔
" بال کٹوانے ہیں ؟"
" جی ، مگر مجھے کرونا سے ڈر لگتا ہے " میں نے کہا ۔

" نو نو سر ۔ میرے پاس سینیٹائزر ہے ۔ آپ فکر مت کرو ۔ تمام سامان کرونا پروف ہے ۔ کل کمیٹی والے چیک کر کے گئے ہیں" اُس نے کہا ۔
اور بوڑھے کو کرسی پر بیٹھنے کو کہا ۔ 
نوجوان بارباربر سے سامان نکالا ، اُسے ایک ٹرے میں ڈالا اور ایک بوتل سے لکوئڈ اُنڈیلا ، کمرے میں سپرٹ کی بو بھر گئی ۔ پھر اُس نے میرے ہاتھوں پر سینی ٹائزر سے سرے کیا ، میرے بالوں پر سپرے کیا ، خود گلوز پہنے ، ماسک لگایا   ۔ ایک خود ساختہ چولہے میں سپرٹ ڈال کر آگ لگائی اور اپنی بال کاٹنے کی مشین  اور اُس کی لوہے کی گراری کو آگ سے گذارا ۔ 
آگ بند کرنے کے بعد اُس نے سپرے سے ماحول میں اُڑنے والے کرونا کے جراثیم کو نیست و نابود کیا-
بوڑھے نے کرسی کے ہینڈلز پر دو دفعہ سپرے کروایا       اور بوڑھے سے پوچھا ،
" کس قسم کی ہیر کٹ کرنی ہے " 

اور ہیر کٹ کےچارٹ کی طرف اشارہ  کیا ۔


بوڑھے نے غور سے تمام نوجونوں کے ہیر سٹائل کی تصاویر دیکھیں  اور سب سے نیچے بائیں سے دوسرے نوجوان کی طرف اشارہ کر کے کہا ،
" ایسی " اور بوڑھا  آنکھیں بند کرکے کرسی پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔
مشین کی گھر گھر سے  تین ماہ کے بڑھے ہوئے بال گھاس کی طرح کٹ کر گرنے لگے ۔  
اُس نے بعد جو بوڑھے کا سر بنا ۔


وہ ایسا تھا ، نوجوان باربر  سے پوچھا ۔"
کتنے پیسے ؟"
" 50 بر " وہ بولا۔

کہاں 400 بر اور کہاں 50 بر ؟؟
چنانچہ مبلغ 100 ایتھوپئین بر ،  جو پاکستان کے مطابق 500 روپے تقریباً بنتے تھے دے  کر شکریہ ادا کرنے کے بعد سامان خرید کر گھر آیا ۔
بڑھیا نے درہازہ کھولا ، اور حیران ہو کر پوچھا ،
" یہ کیا ؟ کیا  ہیر کٹ کروائی ہے ؟ "
" جی ، بال بڑھ گئے تھے ، سوچا کروالوں" میں بولا ۔
"یہ کیسی کروائی ہے ؟ اِس سے بہتر تھا گنجے ہو جاتے " بڑھیا نے طنز کیا ۔

"اور آپ کو کرونا کا ڈر نہیں لگا "
" کرونا ، گنجا ہونے کے ڈر سے ایتھوپیئن نائی کی دکان میں نہیں گھستا "  میں نے جواب دیا۔
" کتنے بُرے بال کاٹے ہیں بد بخت نے" بڑھیا بولی "اچھا جائیں گرم پانی سے خوب نہائیں "
" ارے بیوی گھر کی کھیتی ہے  مہینے بعد پھر کٹنے کے قابل ہوگی " میں نے مزاحیہ انداز میں کہا 
" ٹھیک ہے اگلی دفعہ میں کاٹوں گی "  بڑھیا بولی 
" چالیس سال ہو گئے ہیں حجامت بناتے ہوئے اب بھی دل نہیں بھرا " یہ کہہ کر باتھ روم کی طرف بڑھ گیا ۔

تیا ر  کے بعد  شیشے میں دیکھا ،"کیوں دوستو !  بال کچھ بُرے نہیں کاٹے؟ "


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔